عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ
What is it that they are questioning each other about?!
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 78:1
[Pooya/Ali Commentary 78:1] Aqa Mahdi Puya says: Naba-il azim (the great news) here and in verse 67 of Sad, refers to the vicegerency of man to represent Allah on the earth in order to exercise authority on His behalf, i.e. imamah or wilayah. According to many commentators it may refer to the day of resurrection, or the prophethood of the Holy Prophet, or the Quran. Refer to my arguments given in the commentary of Sad: 67. Although all of them are great and fundamental yet discussion, opposition or disagreement among the human beings concerning their actuality is a regular exercise. So far as the angelical realm is concerned we find no trace of any such behaviour save at the time of the appointment of Adam (man) as the vicegerent (khalifah) of Allah. The angels expressed their disapproval, but yielded to reason when it was proved to them that they were inferior to Adam in knowledge and wisdom because of which Adam was appointed as the vicegerent of Allah. So it was the beginning of controversy regarding the vicegerency of Allah. In every age imamah or wilayah is the most bitterly disputed issue. Even those who believe in Allah, the revealed scriptures, the angels, the resurrection and the prophets of Allah refuse to accept the fact that there is always a divinely chosen representative of Allah on the earth who by his absolute submission to Allah (abdiyat) and total control over human shortcomings reaches the stage of fanafiallah (absolute absorption of divine attributes) and baqiya-billah (acting on behalf of Allah as His instrument) as explained in the commentary of Ma-idah: 54 to 58 and Anam: 17. Hafiz Abu Nu-aym in Hilyatul Awliya says that the Holy Prophet told his companions: "Naba-il-azim (the great news) refers to the wilayah of Ali ibn abi Talib." Refer to the commentary of Ma-idah: 67 for the wilayah of Ali ibn abi Talib. Therefore wilayah of Imam Ali is the decisive test of man's submission to Allah's authority. Man shall not be able to avoid or escape from acceptance of Ali's wilayah as verses 4 and 5 assert. In subsequent verses the process of creation demonstrates the evidence of divine plan and purpose which shall culminate in resurrection after which a new world will come into being. The process of developing matter from its lowest form to the highest form, which is human form, has to be carried out by the help of a pivotal entity to function as a medium between the finite and the infinite. Not only in the human society functioning in this world but also in the greater society which will come into being after the day of judgement the pivotal agency is indispensable. In fact the centre of gravitation of any collective existence has to be created before its formation. On this basis imamah or khilafat was bestowed on man and then the human race began to spread over the world and it shall continue to function till the human society reaches its final destination. Ibn Arabi has rightly observed: "The day of resurrection and wilayah of Ali ibn abi Talib are the two sides of one reality." Ali is "the great news". He is the ark of Nuh. In him and in every Imam in his progeny is confined all that which has been created (Ya Sin: 12). Khawja Muinuddin Chishti, a great saint of India, has said: "Those who sought protection through "Ya Sin" killed the imamun mabin". So he clearly says that "imamum mabin" in verse 12 of Ya Sin refers to Imam Husayn son of Ali ibn abi Talib. It refers to all the Imams of the Ahl ul Bayt. Also see commentary of Baqarah: 2 and Ya Sin: 12. Imam Muhammad bin Ali al Baqir said: "Naba-il azim refers to Ali ibn abi Talib". Alqama says that in the battle of Siffin a soldier came out from the army of Mu-awiyah and recited Ya Sin in front of Imam Ali. He asked him: "Do you know what is naba-il-azim ?" He did not know. Ali said: "I am the naba-il azim." A similar event also took place in the battle of Jamal. Amr ibn As, an avowed enemy of Ali, once said: "Ali is the naba-il azim. He is the babullah (the door through which one enters into the realm of the realisation of Allah)." Refer to the commentary of Ma-arij: 1 to know about the fate of those who did not accept the wilayah of Ali ibn abi Talib. Also refer to the commentary of Ma-idah: 67 and 3.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 78:1-30
Enough is in body. Mightiest Sign is Ali.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 78:1-5
اھم خبر
تفسیر اھم خبر سورہ کی پہلی آیت میں تعجب آمیز استفہام کے عنوان سے فرماتا ہے: "وہ ایک دوسرے سے کس چیز کے متعلق سوال کرتے ہیں"۔(عَمَّ يَتَسَآءَلُوْنَ )۔ ؎1 اس کے بعد بغیر اس کے جواب میں مزید فرماتا پے :"وہ ایک عظیم اور اہم خبر کے بارے میں سوال کرتے ہیں"۔(عَنِ النَّـبَاِ الْعَظِـيْمِ )۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 مفردات راغب ، مادہ نباء ۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ "وہی خبر جس میں ہمیشہ اختلاف رکھتے ہیں"۔(اَلَّذِىْ هُـمْ فِيْهِ مُخْتَلِفُوْنَ ) ۔ اس خبر عظیم سے مراد کیا ہے، مفسرین نے اس سوال کے کئی جواب دیئے ہیں۔ ایک گروہ نے اسے قیامت کے دن کی طرف ، بعض نے قرآن مجید کے نزول کی طرف اور بعض نت توحید سے لے کر قیامت تک کے تمام اصولِ دین کی طرف اشارہ سمجھا ہے اور چند رویات میں اس کی تفسیر مسئلہ امامت و ولایت کے ساتھ ہوئی ہے جس کی طرف آئندہ نکات کی بحث میں اشارہ ہوگا۔ اس سورہ کی تمام آیات میں غور و فکر کرنے سے اور ان تعبیروں کو پیش نظر رکھنے سے جو بعد والی آیات میں آئی ہیں مثلاً (ان یوم الفصل کان میقاتاً) کا جملہ جو زمین و آسمان میں خدا کی قدرت کی نشانیوں کے ذکر کے بعد آیا ہے اور اس حقیقت کی طرف توجہ کہ مشرکین کی شدید مخالفت مسئلہ معاد میں تھی، یہ سب امور پہلی تفسیر یعنی ،عاد و قیامت کی تائید کرتے ہیں۔ "نباء" بقول راغب مفردات میں اس خبر کے معنی میں ہے جو اہمیت رکھتی ہو اور فائدہ کی حامل ہو اور انسان اس کی نسبت علم و ظن غالب رکھے ۔ یہ تینوں باتیں نباء کے معنی کی شرائط ہیں۔ ؎1 اس بنا پر عظیم لا لفظ بہت زیادہ تاکید کا اظہار کرتا ہے اور بحیثیت مجموعی اس امر کی نشادہی کرتا ہے کہ یہ خبر جس میں ایک گروہ شک کرتا تھا، ایک جانی پہچانی اہم اور باعظمت حقیقت تھی اور جیسا کہ ہم نے کہا اس سے مراد قیامت تھی (یتساءلون) "ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں" کا جملہ ہوسکتا ہے کہ صرف کفار ہی کی طرف اشارہ ہو کہ وہ ہمیشہ قیامت کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کرتے تھے۔ لیکن یہ سوال تحقیق اور ادراک کی غرض سے نہیں ہوتا تھا۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اگر "نباء عظیم" سے مراد قیامت ہے تو اس سے ظاہر بظاہر سب کافر انکار کرتے تھے ، تو پھر یہ کیوں فرماتا ہے کہ وہ اس میں اختلا ف کرتے ہیں، تو جواب میں ہم کہتے ہیں کہ معاد کا انکار مطلق طور پر قطعی و یقینی نہیں ہے، اس لیے کہ کافروں میں سے بہت سے فناۓ جسم کے بعد روح کی بقاء کے قائل تھے، دوسرے لفظوں میں معادِ روحانی کو اجمالاً تسلیم کرتے تھے۔ جہاں تک معاد جسمانی کا تعلق ہے تو بعض اس میں شک کا اظہار کرتے تھے ۔ اس بات کو قرآنی لب و لہجہ واضح کرتا ہے (نمل /66) کافروں میں سے بعض افراد شدت سے انکار کرتے تھے ، یہاں تک کہ پیغمبر اسلامؐ کو معاد جسمانی کا دعوٰی کرنے کی بناء پر معاذاللہ دیوانہ یا خدا سے جھوٹ منسوب ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 مفردات راغب ، مادہ نباء ۔ ؎2 توجہ کرنی چاہیے کہ باب تفاعل اگرچہ عام طور پر ایسے کام کے معنی میں آتا ہے جو بصورتِ متقابل انجام پوۓ، لیکن بعض موارد میں ثلاثی مجرد کے معنی رکھتا ہے ۔ اس کے علاوہ دوسرے معنی بھی رکھتا ہے (بعض اہل لغت نے تفاعل کے پانچ معانی بیان کیے ہیں )1۔ کسی کام کے انجام دینے میں دو یادو سے زیادہ افراد کی مشارکت۔ 2۔ مطاوعت مثلاً تباعد۔ 3۔ واقعیت کے بغیر کسی چیز کا اظہار مثلاً تمارض(اپنے آپ کو مریض ظاہر کرنا)۔ ۔4 کسی چیز کا بتدریج وقوع مثلاً تحاور۔ 5۔ ثلاثی مجرد کے معنی میں مثلاً "تعالٰی" جو "علا" "بلند ہُوا" کے معنی میں ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کرنے والا سمجھتے تھے "اور عنقریب انہیں معلوم ہو جاۓ گا"۔(كَلَّا سَيَعْلَمُوْنَ )۔ ؎1 "پھر بھی ایسا نہیں ہے جیسا وہ گمان کرتے ہیں اور عنقریب وہ آگاہ ھوجائیں گے"۔(ثُـمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُوْنَ )۔اس دن باخبر ہوں گے جس دن ان کی واحسرتا کی فریاد بلند ہوگی، وہ اپنی کوتاہی اور کمی سے سخت پیشمان ہوں گے ۔(اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ يَّا حَسْرَتَا عَلٰى مَا فَرَّطْتُ فِىْ جَنْبِ اللّـٰهِ )(زمر/56)۔ وہ دن جس میں عذاب کی لہریں ان کو چاروں طرف سے گھیر لیں گی اور وہ دینا کی طرف واپس لوٹنے کا تقاضا کریں گے(ھل الٰی مرد من سبیل) کیا واپس لوٹنے کی کوئی راہ ہے؟ (شورٰی/44) یہاں تک کہ موت کے وقت جب انسان کی آنکھوں سے پردے اٹھ جائیں گے اور دوسری دنیا کے حقائق اس کے سامنے ظاہر ہوں گے اور اسے برزخ اور معاد کا یقین ہوجاۓ گا تو اس وقت اس کی فریاد بلند ہوگی مجھے واپس لوٹاؤ تکہ میں عملِ صالح انجام دوں۔ ( رَبِّ ارْجِعُوْنِ لَعَلِّـىٓ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَـرَكْـتُ) (مؤمنون/ 99، 100) سیعلمون کی تعبیر (اس لیے کہ عام طور پر مستقبل قریب کے لیے آتی ہے)۔ اس طرف اشارہ ہے کہ قیامتکا مرحہ نزدیک ہے اور دنیا کی ساری زندگی اس کے مقابلہ میں ایک لمحے سے زیادہ نہیں رکھتی ۔ یہ ہے کہ اوہر والی دو آیتیں ، جو بصورت تکرار آئی ہیں، ان سے ایک واقعیت کی (ان کی مستقبل قریب میں قیامت کے باعے میں آگاہی) تاکید مراد ہے یا دو الگ مطالب کا بیان ہے(پہلا اشارہ اس طرف ہے کہ مستقبل قیریب میں دنیاوی عذاب دیکھیں گے اور دوسرا اشارہ اس طرف ہے کہ اس کے بعد آخرت کے عذاب کو دیکھیں گے) اس سلسلہ میں مفسرین نے دو احتمال پیش کییے ہیں ، لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے، یہ احتمال بھی تجویز کیا گیا ہے کہ اس مراد یہ ہے کہ انسان کے علم و دانش کی ترقی کے استھاستھ قیامت کے وجود کے دلائل و شواہد اس قدر زیادہ ہو جائیں گے کہ اس کا انکار کرنے والے بھی اقرار لیے بغیر نہ رہ سکیں گے، یلکن اس تفسیر میں مشکل یہ ہے کہ اس قسم کی آگاہی نوعِ بشر کے آئندہ کے لوگوں کے لیے ہوگی نہ کہ اس گروہ کے لیے جو زمانہ پیغمبر میں ماجاد تھا اور قیامت کے معاملہ میں اختلاف رکھتا تھا، جبکہ آیت اسی گروہ کے بارے میں گفتگو کر رہی ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 علماۓ ادبِ عربی اور مفسرین کے درمیان مشہور ہے کہ "کلا" حرف روع ہے اور اس کے معنی گزشتہ مطالب کی نفی بانہی ہوتا ہے لیکن بعض نے کہا ہے کہ نادر طور پر دوسرے معانی میں بھی استعمال ہوتا ہے جن میں سے انھوں نے تین معانی کا نام لیا ہے، تاکید اور الا استفہامیہ اور حرفِ جواب۔ جو نعم کی منزلت رکھتا ہو، ان میں سے بعض نے ہر ایک کو منتخب کیا ہے، مجمع البحرین اور دوسری کتب۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 78:1-5
سورہ نباء آیہ 1 تا 5
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ (1) عَمَّ يَتَسَآءَلُوْنَ (2) عَنِ النَّـبَاِ الْعَظِـيْمِ (3) اَلَّذِىْ هُـمْ فِيْهِ مُخْتَلِفُوْنَ (4) كَلَّا سَيَعْلَمُوْنَ (5) ثُـمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُوْنَ ترجمہ اس خدا کے نام سے جو مہربان اور بخشنے والا ہے۔ (1) وہ ایک دوسرے سے کس چیز کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ (2) عظیم اور اہم خبر (قیامت) کے بارے میں۔ (3) وہی خبر جس کے بارے میں وہ ہمیشہ اختلاف رکھتے ہیں۔ (4) ایسا نہیں ہے جیسا وہ سوچتے ہیں۔ انہیں عنقریب معلوم ہوجاۓ گا۔ (5) پھر بھی ویسا نہیں ہے جو وہ خیال کرتے ہیں انہیں عنقریب معلوم ھوجاۓ گا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 78:1-5
معاد و قیامت پر اتنا زور کیوں دیا گیا ہے
2- معاد و قیامت پر اتنا زور کیوں دیا گیا ہے ہم کہہ چکے ہیں کہ اہم ترین مسئلہ جس پر قرآن کے تیسویں پارہ کی بشتر آیات میں ، بااتفاق مفسرین ، زور دیا گیا ہے وہ مسئلہ معاد و قیامت ہے اور مزکورہ سب آیتیں مکی ہیں۔ ان آیتوں میں قیامت کے دن سے متعلق انسان کے حالات کی تشریح و تفصیل ہے۔ یہ اس بناء پر ہے کہ انسان کی اصلاح کے سلالہ کا پہلا قدم ہے تاکہ اسے معلوم ہو کہ حساب کا سامنا کرنا ہے ۔ ایسی عدالت میں پیش ہونا ہے جس کے حاکم سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی صورت ہے جس میں نہ ظلم و جور کی کوئی گنجائش ہے نہ وہاں خطا و اشتباہ کا کوئی امکان ہے، نہ اس میں سفارش و رشوت کام آسکتی ہے ، نہ جھوٹ بولنے سے کام چل سکتا ہے اور نہ انکار کرنے کی گنجائش ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ وہاں عذاب و سزا کے چنگل سے بچنے کی کوئی تدبیر نہیں ہے ، صرف ایک ہی راستہ ہے کہ یہاں دنیا میں رہتے ہوۓ گناہ کو ترک کر دیا جاۓ ۔ تو اس قسم کے محکمے اور عدالت کے وجود پر ایمان رکھنا انسان کے دل کو ہلا کر رکھ دیتا ہے اور سوئی ہوئی روحوں کو بیدار کر دیتا ہے۔ تقوٰی کی روح، عہد کی پاسداری، جوابدہی اور ذمہداری کا احساس انسان میں پیدا کرتا ہے اور اسے فرض شناسی کے عرفان کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ جس ماحول میں فساد ہو اور وہاں تخریبی عناصر رخنہ اندزی کریں ، اصولی طور پر دو اسباب میں سے ایک اس کا سبب ضرور ہوتا ہے ۔ ایک تو نگرانی و نگہبانی کی قوت کی کمزوری، دوسرے نظامِ عدالت کا ضعف، اگر تیز نگاہ رکھنے والے انسانوں کے اعمال پر نظر رکھیں اور عدالتیں گہری نظر کے ساتھ جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کی سزا پر علمدرآمد کریں اور کوئی مجرم سزا سے نہ بچے تو اس قسم کے ماحول میں یقینًا فساد، گناہ، تجاوزعین الحدود، ظلم اور سرکشی کا تقیبًا خاتمہ ہوجاۓ گا۔ چنانچہ جہاں مادی زندگی نگہبانوں اور عدالتوں کے اس طرح زیر سایہ ہو وہاں معنوی زندگی جو اللہ کے لیے ہو اس کا معاملہ واضح ہے۔ لہزا ایسے مبداء پر ایمان رکھنا جو ہر جگہ انسان کے ساتھ ہو (لا یعزب عنہ مشقال ذرۃ) "ایک ذرہ کی مقدار کا بوجھ بھی اس کے علم سے مخفی نہیں ہے"۔(سبا/3)۔ اور قیامت کے وجود پر ایمان جو (فمن یعمل مشقال ذرۃ خیرًا یرہ ومن یعمل مشقال ذرۃ شرًایرہ)(زلزال/7-8)۔ "اچھے اور برے کام ایک ذرہ بھی فراموشی کے سپرد نہیں ہوگا"۔ اور وہاں اس کے سامنے موجود ہوگا ، انسان میں ایسا تقوٰی پیدا کرتا ہے جو زندگی بھر راہ خیر میں اس کا راہنما ہوسکتا ہے۔