إِنَّ الْأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِن كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا
Indeed the pious will drink from a cup seasoned with Kafur,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 76:5
[Pooya/Ali Commentary 76:5] (see commentary for verse 4)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 76:5-11
اہل بیت، پیغمبر کی فضیلت پر ایک عظیم سند
شانِ نزول اہل بیت پیغمبر کی فضیلت پر ایک عظیم سند ابن عباس کہتے ہیں کہ حسن و حسین بیمار ہوۓ تو پیغمبرؐ صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ ان کی عبادت کے لیے آئے اور علیؑ سے کہا اے ابوالحسن بہتر یہ ہے کہ تم اپنے بچوں کی شفا کے لیے نزر مانو، تو علیؑ اور فاطمہؑ اور فضہ نے ــــــــــ جو ان کی خادمہ تھیں ، نزر مانی ، کہ اگر انھوں نے شفاء پائی تو وہ تین دن روزہ رکھیں گے۔(بعض روایات کے مطابق حسنؑ و حسینؑ نے بھی کہا کہ ہم بھی نزر مانتے ہیں کہ ہم بھی روزہ رکھیں گے)۔ زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ دونوں شفایاب ہوگئے لیکن حالت یہ تھی کہ ان کے پاس کھانے کا کوئی سامان موجود نہ تھا۔ علیؑ نے تین صاع جو قرض لیے اور فاطمہؑ نے اس میں سے ایک تہائی کا آٹا پیسا اور روٹیاں پکائیں، ایک سائل گھر کے دروازے پر آیا اور اس نے کہا: اسلام علیکم اہلِ بیت محمدؐ ! اے اہلِ بیتِ محمد تم پر سلام ہو! میں ایک مسلمان فقیر ہوں، مجھے کھانا دو، خدا تمھیں بہشتی کھانے دے، ان سب نے مسکین کو اپنے اوپر ترجیح دی اور اپنا اپنا حصہ اس کودے دیا اور اس رات انھوں نے صرف پانی سے افطار کیا۔ دوسرے دن اسی طرح روزہ رکھا اور افطار کے وقت جب (اسی نانِ جویں کا) کھانا تیار ہوگیا تو ایک یتیم گھر کے دروزے پر آیا، تو اس دن بھی ایثار کیا اور اپنا کھانا اسے دےدیا (دوبارہ پھر پانی سے ہی افطار کیا اور تیسرا روزہ بھی رکھا)۔ تیسرے دن غروب آفتاب کے وقت ایک اسیر (قیدی) گھر کے دروازے پر آیا، پھر سب نے اپنے اپنے کھانے کا حصہ اسے دے دیا، جب صبح ہوئی تو علیؑ نے حسن و حسینؑ کا ہاتھ پکڑا اور پیغمبرؐ کی خدمت میں آئے، جب پیغمبرؐ نے مشاہدہ کیا تو دیکھا کہ وہ بھوک کی شدت سے سے کانپ رہے تھے، آپ نے فرمایا: تمھاری یہ حالت جو میں دیکھ رہا ہوں میرے لیے بہت ہی گراں ہے۔ پھر آپ کھڑے ہوگئے اور ان کے ساتھ چل پڑے جب آپ فاطمہؑ کے گھر میں داخل ہوۓ تو دیکھا کہ وہ محزومہ محرابِ عبادت میں کھڑی ہیں اور بھوک کی شدت سے ان کا پیٹ پشت سے لگا ہوا ہے اور آنکھیں دھنسی ہوئی ہیں، پیغمبرؐ کو بہت دکھ ہوا۔ اسی وقت جبرئیل نازل ہوۓ اور کہا اے محمدؐ! یہ سورہ لیجیے، خدا ایسے اہل بیت کے لیے آپ کو مبارک باد دیتا ہے۔ اس کت بعد سورہ "ہل اتٰی" کی تلاوت کی، (بعض نے کہا ہے کہ آیہ "ان الابرار" سے لے کر "کان سعیکم مشکورًا" کی آیت تک ، جو مجموعی طور پر اٹھارہ آیات ہیں اسی موقع پر نازل ہوئی ہیں)۔ ہم نے جو کچھ اوپر بیان کیا ہے، یہ اس حدیث کی نص ہے جو کتاب "لغدیر" میں اسی سلسلہ کی بہت سی روایات میں "قدر مشترک" کے عنوان سے، تھوڑے سے اختصار کے ساتھ بیان کی گئی ہیں اور اسی کتاب میں اہل سنت کے مشہور علماء میں سے 34 افراد کے نام لکھے ہیں، جنھوں نے اس حدیث کو اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے(کتاب کے نام اور اس کے صفحہ کے ذکر کے ساتھ)۔ اس طرح سے اوہر والی روایت ان روایات میں سے ہے اہلِ سنت میں مشہور بلکہ متوتر ہے۔ ؎1 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 "الغدیر" جلد 3 ص 107 تا 111 اور کتاب "احقاق الحق" جلد 3 ص 157 تا 171 ، میں اوپر والی حدیث اہل سنت کے 32 علماء سے راغز کے ساتھنقل ہوئی ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ باقی رہے شیعہ علماء تو وہ سب کے سب اس بات پر متفق ہیں کہ یہ اٹھارہ آیات، یا یہ سارے کا سارا سورہ، اوپر والے واقعہ میں نازل ہوا ہے اور سب نے بلا استثناء ، تفسیر یا حدیث کی کتابوں میں ، اس واقعہ سے مربوط روایت کو ، علیؑ و فاطمہؑ اور ان کے بیٹوں کے افتخارات اور اہم فضائل میں سے سے ایک کے عنوان سے نقل کیا ہے۔ یہاں تک کہ ـــــــــ جیسا کہ ہم نے سورہ کے آغاز میں بیان کیا تھا ــــــــ یہ مطلب اتنا مشہور و معروف ہے کہ شعراء اشعار اور حتیٰ کہ "امام شافعی" کے مشہور اشعار میں آیا ہے۔ یہاں بہانہ جوئی کرنے والے لوگوں نے ــــــــ جو علیؑ کے فضائل تک پہنچتے ہی حد سے زیادہ حساس ہوجاتے ہیں ــــــــــ اس شان نزول کے سلسلہ میں انتہائی محنت کے ساتھ اعتراض گھڑے ہیں اور بہت زیادہ نکتہ چینیاں کی ہیں ، منجملہ ان کے یہ ہیں :- 1- یہ سورہ "مکی" ہے ، جبکہ شانِ نزول کی داستان امام حسینؑ اور امام حسنؑ کی ولادت کے بعد سے مربوط ہے ، جو یقینی طور پر مدینہ میں ہوئی ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم نے اس سورہ کے آغاز میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے کہ ہمارے پاس ایسے واضح اور روشن دلائل موجود ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سارے کا سارا سورہ "ہل اتٰی" یا کم ازکم اس کی اٹھارہ آیات مدینہ میں نازل ہوئی ہیں۔ 2- آیت کے الفاظ عام ہیں، انھیں معین افراد کے ساتھ کس طرح تخصیص دی جاسکتی ہے۔ لیکن یہ بات کہے بغیر واضح ہے کہ آیت کے مفہوم کا عام ہونا، اس کے خاص محل میں نازل ہونے کے ساتھ منافات نہیں رکھتا، قرآن کی بہت سی آیات عام اور وسیع مفہوم رکھتی ہیں، لیکن اس کی شانِ نزول جو اس کا کامل اور اعلٰی مصداق ہے۔ وہ ایک خاص محل کے لیے ہوتا ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ کوئی شخص آیت کے مفہوم کو شانِ نزول کی نفی پر دلیل قرار دے۔ 3- بعض نے کچھ اور دوسرے شانِ نزول نقل کیے ہیں جو اوپر والے شان نزول کے ساتھ سازگار نہیں ہیں، منجملہ ان کے "سیوطی" نے "درالمنشور" میں یہ نقل کیا ہے کہ ایک سیاہ فام آدمی پیغمبر کی خدمت میں آیا، اور اس نے "تسبیح" و "تہلیل" کے بارے میں سوال کیا، تو عمر نے کہا بس کرو۔ رسولِ خدا سے زیادہ سوالات نہ کرو، پیغمبرؐ نے فرمایا: اے عمر خاموش رہ ، تو اس موقع پر "سورہ ہل اتٰی" پیغمبرؐ پر نازل ہوئی۔ ؎1 ایک اوردوسری حدیث میں اسی کتاب سے آیا ہے کہ حبشہ کا ایک شخص رسولِ خداؐ کی خدمت میں آیا، وہ آپ سے کچھ سوال کرنا چاہتا تھا۔ پیغمبر نے فرمایا: کہ سوال کرو اور اس کا جواب لو، اس نے عرض کیا : اے رسول خداؐ آپ کا گروہ رنگ، صورت اور نبوت کے لحاظ سے ہم پر برتری رکھتا ہے۔ لیکن اگر میں اس چیز پر ایمان لے آؤں جس پر آپ ایمان لاۓ ہیں اور جو عمل آپ کرتے ہیں میں بھی وہی عمل کروں، تو کیا میں جنت میں آپؐ کے ساتھ ہوں گا؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں ! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، جنت میں سیاہ رنگ والون کی سفیدی ہزار سال کی راہ سے نظر آۓ گی اور پھر پیغمبرؐ نے لاالٰہ الا اللہ اور سبحان اللہ و بحمدہ کہنے کے لیے بہت سے اہم ثواب بیان فرماۓ اور اس موقع پر سورہ "ہل اتٰی" نازل ہوئی۔ ؎2 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 "درالمنشور" جلد 6 ص 297 ؎ 2 گزشتہ ماخز ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوۓ کہ یہ روایات تقریباً کسی قسم کی مناسبت، سورہ "ہل اتٰی" کی آیات کے مضمون کے ساتھ نہیں رکھتیں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سابقہ شانِ نزول کو پائمال کرنے کے لیے ، بنی امیہ کے کاندوں یا ان ہی جیعے لوگوں کی طرف سے گھڑی گئی ہے۔ 4- ایک اور بہانہ جو ممکن ہے یہاں پیس کیا جاۓ، یہ ہے کہ انسان تین دن تک کس طرح بھوکا رہ سکتا ہے کہ صرف پانی پر یہ افطار کرے؟ لیکن یہ ایک عجیب اعتراض ہے، کیونکہ ہم خود کئی ایسے افراد کو دیکھا ہے کہ انھوں نے بعض طبی علاجون کے لیے ـــــــــ تین دن تو بہت ہی آسان ہیں ــــــــــ مشہور "چالیس دن" کا چلہ کاٹا ہے، یعنی مکمل چالیس دن تک پانی پیا ہے اور بالکل کوئی کھانا نہیں کھایا اور یہی چیز ان کو بہت سی بیماریوں کا شفا کا با عث بن گئی ۔ یہاں تک کہ ایک غیر مسلم مشہور طبیب "الکسی سوفورین" نے ایک کتاب اس قسم کے صبر کرنے سے علاج کے اہم اثرات کے سلسلہ میں ، اس کے دقیق پروگرام کے ذکر کے ساتھ لکھی ہے۔ ؎1 5- بعض دوسرے افراد اس بناء پر کہ آسانی کے ساتھ اس فضیلت کے قریب سے گزر جائیں، ایک اور طریقہ سے وارد ہوۓ ہیں مثلاً "آلوسی" کہتا ہے کہ اگر ہم یہ کہیں کہ یہ سورہ علیؑ و فاطمہؑ کے بارے میں نازل ہوا تو ان کی قدرومنزلت میں کسی چیز کی کمی نہیں ہوگی، کیونکہ ان کا "ابرار" کے عنوان میں داخل ہونا ایک واضح و آشکار مطلب ہے، جسے ہر شخص جانتا ہے، اس کے بعد ان کے بعض فضائل پیش کرکے کہتا ہے، ان دو بزرگ ہستیوں کے بارے میں انسان کیا کہہ سکتا ہے، سواۓ اس کے کہ علیؑ مومنین کے مولا اور پیغمبرؐ کے وصی ہیں، اور فاطمہ پیغمبر کے بدن کا حصہ اور وجودِ محمدیؐ کاجز ہیں اور حسنین روح و ریحان اور جوانانِ جنت کے سردار ہیں، لیکن اس بات کا مفہوم دوسروں کو چھوڑ دینااور انھیں ترک کرنا نہیں ہے، بلکہ جو شخص اس راستہ کے علاوہ کوئی اور راہ اختیار کرے وہ گمراہ ہے۔ ؎2 لیکن ہم کہتے ہیں کہ اگر بناء یہ ہو کہ اس فضیلت کو باوجود اس شہرت کے نظر انداز کردیں ، تو باقی فضائل بھی آہستہ آہستہ اس قسم کی سرنوشت سے دوچار ہو جائیں گے اور ایک دن ایسا آجاۓ گا کہ بعض لوگ علیؑ اور خاتون اسلام اور حسنین علیہماالسلام کی اصل فضیلت کا ہی انکار کردیں گے۔ قابل توجہ بات یہ کہ بعض روایات میں خود علیؑ سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے متعدد موارد میں ، ان آیات کے اپنے اور اپنے شہزادوں کے بارے میں نزول سے مخالفین کے مقابلہ میں استدلال کیا ہے۔ ؎3 یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ "اسیر" عام طور پر "مدینہ" میں ہی موجود تھے اور مکہ میں اس بناء پر کہ ابھی اسلامی جنگیں شروع ہی نہیں ہوئی تھیں، لہزا کسی اسیر کا وجود ہی نہیں تھا، اور یہ اس سورہ کے مدنی ہونے کی ایک اور گواہی ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 یہ کتاب "روزہ، روش نویں براۓ درمان بیمار مہیا" کے نام سے فارسی میں ترجمہ و نشر ہوچکی ہے۔ ؎2 "روح المعانی" جلد 29 ص 158 ؎3 "احتجاج طبرسئ" و "خصال صدوق" (مطابق المیزان جلد 20 ص 224) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ آخری نکتہ کہ جس کا ذکر کرنا یہاں ضروری ہے سمجھتے ہیں یہ ہے کہ علماء اسلام کی ایک جماعت کے قول کے مطابق ، جن میں اہلِ سنت کے مشہور مفسر "آلوسی" بھی ہیں، اس سورہ میں جنت کی بہت سی نعمتوں کو شمار کیا گیا ہے۔ لیکن حورالعین کے بارے میں ـــــــــ جنھیںعام طور پر قرآن مجید میں جنت کی نعمتوں کا شمار کرتے وقت بیان کیا جاتا ہے ــــــــــ بالکل گفتگو نہیں کی گئی ہےممکن ہے کہ یہ امر اس بناء پر ہو کہ چونکہ اس سورہ کا نزول فاطمہ زہرا، ان کے شوہرنا مدار اور ان کے فرزندانِ عالی قدر کے بارے میں ہے، لہزا بانواۓ اسلام کے احترام کو مدنظر رکھتے ہوۓ "حور" کا کوئی ذکر درمیان میں نہیں آیا۔ ؎1 اگرچہ ہماری بحث اس شانِ نزول کے سلسلہ میں طویل ہوگئی ہے، لیکن بہانہ گھڑنے والے لوگوں کی اعتراض تراشیوں کے مقابہ میں اسکے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ ــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 روح المعانی جلد 29 ص 158
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 76:5-11
آیت 5 تا 11
5- اِنَّ الْاَبْـرَارَ يَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًا 6- عَيْنًا يَّشْرَبُ بِـهَا عِبَادُ اللّـٰهِ يُفَجِّرُوْنَـهَا تَفْجِيْـرًا 7- يُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُوْنَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهٝ مُسْتَطِيْـرًا 8- وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِـيْنًا وَّيَتِيْمًا وَّاَسِيْـرًا 9- اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّـٰهِ لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّلَا شُكُـوْرًا 10- اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِيْـرًا 11- فَوَقَاهُـمُ اللّـٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاهُـمْ نَضْرَةً وَّّسُرُوْرًا ترجمہ 5- ابرار (نیک لوگ) ایسے پیالے سے پیئیں گے، جس میں عمدہ عطر کی آمیزش ہوگی۔ 6- وہ ایسا چشمہ ہوگا جس سے خدا کے خاص بندے پیئں گے اور وہ اسے جہاں چاہیں گے جاری کرلیں گے۔ 7- وہ اپنی نزر کو پورا کرتے ہیں، اور اس دن سے کہ جس کا عزاب وسیع ہوگا، ڈرتے رہتے ہیں۔ 8- اور "اپنا" کھانا، اس کی خواہش اور احتیاج رکھنے کے باوجود ، مسکین و یتیم و اسیر کو دے دیتے ہیں۔ 9- (اور وہ یہ کہتے ہیں:)ہم تو تمیں خدا کے لیے کھانا کھلاتے ہیں ، اور ہم تم سے نہ تو کسی قسم کا کوئی اجر مانگتے ہیں اور نہ ہی ہم تم سے کسی شکریہ کے طلبگار ہیں۔ 10- ہم تو اپنے پروردگار سے اس دن سے ڈرتے ہیں جو بہت ہی سخت اور شدید ہوگا۔ 11- اسی وجہ سے خدا انھیں اس دن کے شر سے بچالے گا اور ان کا اس حال میں استقبال کرے گا کہ وہ شادمان اور مسرور ہوں گے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 76:5-11
ابرار کے لیے عظیم اجر
تفسیر ابرار کے لیے عظیم اجر گزشتہ آیات میں، انسانوں کو دو گروہوں "شکور" و "کفور" یا "شکرگزار" اور "کفران کرنے والوں" میں تقسیم کرنے کے بعد ، کفران کرنے والوں کے لیے سخت سزا اور عزاب کا ایک مختصر سا اشارہ ہوا تھا۔ زیر بحث آیات میں شکر کرنے والوں اور ابرار (نیک و پاک) لوگوں کی جزا کو بیان کرتا ہے ، اور اس سلسلہ میں بہت ہی عمدہ نکات پیش کرتا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "نیک لوگ ایسے جام سے نوش کریں گے، جس میں بہت ہی اچھے عطر کی آمیزش ہوگی"۔(اِنَّ الْاَبْـرَارَ يَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًا )۔ "ابرار" جمع ہے "بر" (بروزن رب) کی جو اصل میں وسعت اور پھیلاؤ کے معنی میں ہے اور اسی بناء پر وسیع وعریض صحراؤں کو "بر" کہتے ہیں اور چونکہ نیکو کار افراد کے اعمال معاشرے کی سطح وسیع نتائج رکھتے ہیں ، لہزا اس لفظ کا ان پر اطلاق ہوتا ہے اور "بر" اس نیکی کے معنی میں ہے جو توجہ کے ساتھ ملی ہوئی ہو، جبکہ خیر اس سے عام معنی رکھتا ہے۔ "کافور" کے لغت میں متعدد معنی ہیں، اس کے مشہور معانی میں سے ایک اچھی خوشبو ہے اسی طرح سے ایک خوشبودار گھاس ہوتی ہے اور اس کے معانی میں سے ایک وہی عام "کافور" ہے جس کی بو تیز ہوتی ہے اور طبی مصارف کے لیے، منجملہ ان کے عفونت کے توڑ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ بہرحال اوہر والی آیت بتاتی ہے کہ جنت کی یہ شراب طہور بہت ہی معطر اور خشبودار ہے، جس سے قوتِ ذائقہ بھی لذت حصل کرتی ہےاور قوتِ شامہ بھی۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ کافور "جنت کے ایک چشمہ کا نام ہے، لیکن یہ تفسیر" کان مزا جھا کافورًا" کی تعبیر کے ساتھ جو کہتی ہے کہ کافور کی اس میں آمیزش ہوگی، سازگار نہیں ہے۔ دوسری طرف اس بات پر توجہ کرتے ہوۓ کہ "کافور" "کفر" کے مادہ سے "ڈھانپنے" کے معنی میں ہے۔ بعض اربابِ لغت کا نظریہ ، جیسا کہ "راغب" نے "مفردات" میں لکھا ہے ، یہ ہے کہ "کافور" کے لیے اس نام کا انتخاب اس وجہ سے کیا گیا ہے کہ اس درخت کا پھل ــــــــ جس سے یہ مادہ لیا جاتا ہے ـــــــــــ فلا فوں کے درمیان پوشیدہ ہوتا ہے۔ بعض نے "کافور" کی تعبیر کو اس کی حد سے زیادہ سفیدی اور ٹھنڈک کی طرف اشارہ سمجھا ہے، کیونکہ عام کافور بھی "ٹھنڈک" اور "سفیدی" کے لحاظ سے ضرب المثل ہے۔ لیکن مجموعی طور پر اگر دیکھا جاۓ تو پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب نظر آتی ہے، خصوصًا اس بناء پر کہ بعض اوقات تعبیروں میں کافور کو مشک و عنبر کا ہم پلہ شمار کرتے ہیں جو بہترین خوشبوؤں میں سے ہیں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد اس سر چشمہ کی طرف جس سے شراب طہور کا یہ جام پر ہوتا ہے، اشارہ کرتے ہوۓ مزید کہتا ہے :"یہ ایک خاص چشمہ ہے جس سے خدا کے خاص بندے پیئں گے اور وہ اسے جہاں چاہیں گے، جاری کرلیں گے"۔(عَيْنًا يَّشْرَبُ بِـهَا عِبَادُ اللّـٰهِ يُفَجِّرُوْنَـهَا تَفْجِيْـرًا )۔ ؎2،1 ہاں! یہ شرابِ طہور کاچشمہ کچھ اس طرح سے ابرار اور عباداللہ کے اختیار میں ہے کہ وہ جہاں کہیں سے ارادہ کریں گے وہیں سے پھوٹ پڑے گا اور قابل توجہ بات یہ کہ ایک حدیث میں امام باقرؑ سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے اس کی تعریف و توصیف میں فرمایا : ھی عین فی دارالنبی (ص) تفجر الی دورالانبیاء والمؤمنین "یہ ایک ایسا چشمہ ہے جو پیغمبر اسلامؐ کے گھر میں ہے اور وہاں سے تمام انبیاء اور مومنین کے گھروں میں جاری ہوگا"۔ ؎3 ہاں!جس طرح دنیامیں علم ورحمت کےچشمےپیغمبراکرامؐ کےگھرسےخداکےبندوں اورنیک لوگوں کی طرف جاتےہیں،آخرت میں بھی جو اس ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 اس بارے میں کہ "عیناً" کی نصب کس بناء پر پے بہت سے احتمال دئیے گئے ہیں، شاید سب سے زیادہ مناسب یہ ہے کہ "عینا" "منصوب بہ نزع خافض" ہے اور تقدیر میں "من عین" تھا اور بعض نے یہ بھی کہا کہ "کافورًا" سے "بدل" ہے، یا اختصاص یا مدح کی بناء پر منصوب ہے، یا ایک مقدر فعل کا مفعول ہے اور تقدیر میں "یشربون عینا" ہے لیکن جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، پہلا معنی زیادہ مناسب ہے۔ ؎2 "یشرب" "باء" کے ساتھ بھی متعدی ہوتا ہے اور اس کے بغیر بھی، اور "بھا" کی "باء" ممکن ہے کہ "من" کے معنی میں ہو۔ ؎3 تفسیر نورالثقلین ، جلد 5 ص 477 اور روح المعانی جلد ص 155 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ پروگرام کا ایک عظمیم تجسم ہے۔ خدا کی شراب طہور کا چشمہ اسی بیتِ وحی سے پھوٹے گا، اور اس کی شاخیں مومنین کے گھروں تک جائیں گی ۔ "یفجرون" "تفجیر" کے مادہ سے اصل میں "فجر" سے لیا گیا ہے، جو وسیع پیمانہ پر شگاف کرنے کے معنی میں ہے، چاہے زمین میں شگاف کرنا ہو، یا کسی دوسری چیز میں اور چونکہ صبح کی رسشنی گویا رات کے پردے کو پھاڑ دیتی ہے ، اس لیے اس کو فجر کہا جاتا ہے اور فاسق شخص کو اس لیے "فاجر" کہتے ہیں، کیونکہ اس نے حیاء و شرم اور پاکیزگی کے پردہ کو چاک کردیا ہے، اور حق کے راستہ سے باہر ہوگیا ہے۔ لیکن زیرِ بحث آیت میں زمین میں شگاف کرنے کے معنی میں ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ جنت کے فراواں نعمتوں میں سے جو اس سورہ میں بیان کی گئی ہیں ، پہلی نعمت "خص قسم کی معطر شراب طہور" کا ذکر ہوا ہے ۔، اور یہ شاید اس بناء پر ہے کہ مشحر کے حساب سے فارغ ہونے کے بعد ، پہلے ہی قدم میں وہ جنت میں رکھیں گے، تو اس شراب کے پیتے ہی ہر قسم کے غم و اندوہ پرہشانی اور الائش کو اپنی جان سے دھوڈالیں گے، اور حق تعالٰی کے عشق سے سر مست ہوکر جنت کے باقی مواجبن اور نعمتوں سے فائدہ اٹھائیں گے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بعد والی آیت میں ان اعمال و اوصاف کا ذکر کرتا ہے جو "ابرار" اور "عباداللہ" میں پاۓ جاتے ہیں، پانچ صفات کا ذکر کرنے کے ساتھ ان بے مثل و بے نظیر نعمتوں کے لیے ان کے استحقاق کی وضاحت کرتے ہوۓ فرماتا ہے:"وہ اپنی نزر کو پورا کرتے ہیں"۔(يُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ)۔ "اور اس دن سے کہ جس کا شر اور عزاب پھیلا ہوا ہوگا، ڈرتے ہیں"۔(وَيَخَافُوْنَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهٝ مُسْتَطِيْـرًا )۔ "یوفون" و "یخافون" اور اس کے بعد والے جملے، جو سب کے سب "فعل مضارب" کی صورت میں آۓ ہیں اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ ان کا دائمی اور ہمیشہ کا پروگرام ہے، البتہ جیسا کہ ہم نے شان نزول میں بیان کیا ہے۔ ان آیات کےاتم و اکمل مصداق امیرالمونین علیؑ و فاطمہ زہرؑا اور ان کے فرزند حسنؑ و حسینؑ "سلام اللہ علیہم اجمعین" ہیں ، جنھوں نے تین دن روزہ رکھنے کے سلسلہ میں اپنی نزر پوری کی، اور انھوں نے پانی کے علاوہ اور کسی چیز سے افطار نہیں کیا اور ان کے دل خوف خدا اور خوف قیامت سے ملامال تھا۔ "مستطیر" وسیع اور پھیلے ہوۓ کے معنی ہے اور اس دن کے گوناگوں اور وسیع عذابوں کی طرف اشارہ ہے ۔ بہرحال جب وہ ان نزروں کو جو انھوں نے اپنے اوپر واجب کرلی ہیں، پورا کرتے ہیں ،تو واجباتِ الٰہی کو تو بطریقِ اولٰی احترام کے ساتھ پورا کرتے ہیں ، یعنی ان کو بخوبی انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس عظیم دن کے شر سے ان کاخوف، مسئلہ مواد کے بارے میں ان کے ایمان، اور حکم خدا کے مقابلہ میں شدید احساس مسئولیت کی طرف اشارہ ہے۔ وہ معاد پر اچھی طرح یقنین رکھتے ہیں اور بدکاروں کی تمام سزاؤں پران کا ایمان ہے اس ایمان کا اثر ان کے عوامل میں پورے طور نمایاں ہے، اس کے بعد ان کے تیسرے اچھے عمل کا ذکر کہتاہے "اور اپناکھانا، اس کی ضرورت واحتیاج ہونے کے باوجود ، مسکین ، یتیم اور اسیر کو دے دیتے ہیں".(وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِـيْنًا وَّيَتِيْمًا وَّاَسِيْـرًا ). ان کا کھانا کھلانا کوئی آسان بات نہیں ہے بلکہ، شدید ضرورت مندوں ، مسکین ، یتیم و اسیر کو شامل ہے، تو اس طرح ان کی رحمت عام اور ام کی خدمت وسیع ہے۔ "علٰی حبہ" کی ضمیر "طعام" کی طرف لوٹتی ہے، یعنی باوجود اس کے کہ انھیں کھانے کی خود ضرورت ہے، پھر بھی وہ اتفاق کردیتے ہیں اس طرح یہ اسی چیز سے مشابہ ہے جو سورہ آلِ عمران کی آیہ 92 میں آئی ہے، (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّـٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ) تم ہرگز بھی نیکوکاری کی حقیقت کو نہ پہنچو گے ، جب تک کہ تم اس میں سے خرچ نہ کرو، جسے تم دوست رکھتے ہو۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ مزکورہ ضمیر "اللہ" کی طرف لوٹتی ہے، جو گزشتہ آیات میں آیا ہے ، یعنی وہ پروردگار کے عشق میں کھانا کھلاتے ہیں، لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوۓ کہ یہ معنی بعد والی آیت میں آرہا ہے ، پہلا معنی زیادہ صحیح نظر آتا ہے۔ "مسکین" و "یتیم" و "اسیر" کے معنی واضح ہیں۔ لیکن اس بارے میں کہ اسیر سے مراد کون سا اسیر ہے؟ مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بہت سوں نے یہ کہا کہ اس سے مراد وہ اسیر ہیں جنھیں مشرکین و کفار میں سے پکڑ کر حکومت اسلامی کے قلمرد، مدینہ میں لے آتے تھے ، بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ اس سے مراد وہ غلام ہیں جو اپنے مالک کے ہاتھوں میں اسیر ہوتے ہیں اور بعض نے اس کی زندان کے قیدیوں کے ساتھ تفسیر کی ہے ، لیکن پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب اور مشہور ہے۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ شانِ نزول کے مطابق وہ اسیر شخص علیؑ کے دروازے پر افطار کے وقت آیا، تو کیا قیدی زنداں میں نہیں ہوتے تھے؟ لیکن ایک نکتہ کی طرف توجہ کرتے ہوۓ یہ سوال واضح ہو جاتا ہے کہ تواریخ کی نقل کے مطابق پیغمبرؐ کے زمانہ میں کوئی قید خانہ نہیں تھا، اور آنحضرتؐ اسیروں کو تقسیم کرکے مسلمانوں کے سپرد کردیا کرتے تھے، اور انھیں یہ حکم دیا کرتے تھے کہ تم ان کی نگرانی کرو ، اور ان کے ساتھ اطھا سلوک کرو، مگر جب وہ ان کو کھانا دینے کی توانائی نہیں رکھتے تھے، تو وہ دوسرے مسلمانوں سے قیدیوں کے کھانے کے سلسلہ میں مدد لیتے تھے ، اور انھیں اپمے ہمراہ لے جا کر یا کبھی اپنے ہمراہی کے بغیر بھی دوسرے مسلمانوں کی طرف بھیج دیتے تھے، تاکہ وہ ان کی مدد کریں ، کیونکہ اس وقت مسلمان انتہائی تنگی میں تھے۔ البتہ بعد میں جب سلطنت اسلامی منیں وسعت پیدا کوگئی اور اسیروں کی تعداد بڑھ گئی، اور حکومت کے دامن کی وسعت کی بناء پر مجرمین کی تعداد میں اضافہ ہوگیا تو پھر قید خانے بناۓ گئے اور اسیروں اور مجرموں کے کھانے پینے کا انتظام بیت المال کے ذریعہ ہونے لگا۔ ؎1 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 مزید وضاحت کے لیے کتاب "احکام زندان دارلسلام" کی طرف رجوع کریں۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بہرحال اوپر والی آیت سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ بہترین اعمال میں سے ایک عمل محروم اور ضرورت مندوں کو کھانا کھلانا ہے، نہ صرف مسلمان ضرورت مند بلکہ بلا و شرک کے اسیر بھی اسلام کے اس حکم کے ماتحت آتے ہیں ۔ یہاں تک کہ ان کو کھانا کھلانا "ابرار" کے عمدہ کاموں میں سے ایک عمدہ کام شمار ہوا ہے۔ ایک حدیث میں رسول خداؐ سے آیا پے: استو صوابالاسرٰی خیرًاوکان احدھم یؤ ثر اسیرہ بطعامہ اسیروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، مسلمانوں نے جب یہ بات سنی تو بعض اوقات اپنا کھانا بھی قیدی کو دے دیتے تھے، اور اسے اپنے اوپر ترجیح دیتے تھے۔ ؎1 ــــــــــــــــــــــــــــــ ابرار کا چوتھا عمدہ عمل اخلاص کو شمار کرتے ہوۓ فرماتا پے:"وہ کہتے ہیں ہم تو تمیں صرف خدا کے لیے کھانا کھلاتے ہیں ، ہم تم سے نہ تواس کا کوئی اجر مانگتے ہیں اور نہ ہی ہم تم سے کسی شکریہ کے طالب ہیں"۔(اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّـٰهِ لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّلَا شُكُـوْرًا )۔ یہ پروگرام مسئلہ اطعام پر ہی منحصر نہیں ہے، بلکہ ان کے کے تمام اعمال مخ؛صانہ اور خدا کی پاک ذات کے لیے ہوتے تھے۔ اور وہ لوگوں کی طرف سے کسی اجر کی امید ، بلکہ ان کی طرف سے کسی قدردانی اور تشکر کی تمنا بھی نہیں کرتے ، اور اسلام میں اصولی طور پر عمل کی قدر و قیمت خلوصِ نیت پر ہے، ورنہ وہ اعمال جو غیراللہ کے لیے کئے جائیں ، چاہے وہ ریاکارانہ ہوں یا ہواۓ نفس کی بناء پر ہوں ، یا لوگوں کے تشکر اور قدردانی کی وجہ سے یا مادی اجرو پاداش کی بناء پر، ان کی کوئی معنوی اور خدائی قدروقیمت نہیں ہے، اور پیغمبر اکرمؐ کی مشور حدیث : "لا عمل الا بالنیۃ و انما الا عمال بالنیات" بھی اسی معنی کی طرف اشرہ ہے۔ "وجہ اللہ" سے مراد ، وہی خدا کی ذات ہی ہے، ورنہ کوئی جسمانی چہرہ نہیں رکھتا، اور یہ وہی چیز ہے، جس پر قرآن کی تمام آیات تکیہ و تاکید ہوئی ہے ، سورہ بقرہ کی آیہ 272 میں آیا ہے : ( وَمَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّـٰهِ ) تم خدا کے علاوہ اور کسی کے لیے انفاق نہ کرو ، اور سورہ کہف کی آیہ 28 میں پیغمبر کے شائستہ اصحاب کی توصیف میں اس طرح آیا ہے: (وَاصْبِـرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّـذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّـهُـمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٝ)۔ "ایسے لوگوں کے ساتھ رہ کو اپنے پروردگار کو صبح و شام پکارتے ہیں اور صرف اسی کی ذات کو چاہتے ہیں۔" ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اور "ابرار" کی آخری توصیف میں فرماتا پے: "وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے پروردگار سے اس دن کے لیے خائف ہیں جو بہت ہی سخت اور شدید ہوگا"۔(اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِيْـرًا )۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 "کامل ابن ایثر" جلد 2 ص 131 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ یہ بات "ابرار" کی زبانِ حال بھی ہوسکتی ہے اور زبانِ قال بھی۔ روز قیامت کی "عبوس" اور "سخت" دن کے ساتھ تعبیر، جبکہ عبوس انسان کی ایک صفت ہے اور افراد کو کہتے ہیں، جن کے چہرے بگڑ جائیں، یہ اس دن کی وحشت ناک وضع و کیفیت کی تاکید کے لیے ہے ، یعنی اس دن کے حوادث اس قدر سخت اور تکلیف دہ ہیں کہ نہ صرف انسان اس دن عبوس اور تر شرد ہوں گے، بلکہ گویا خود وہ دن بھی عبوس اور بگڑے ہوۓ چہرے والا ہوگا۔ اس بارے میں کہ "قمطریر" کس مادہ سے لیا گیا ہے، مفسرین اور اربابِ لغت کے درمیان اختلاف ہے، بعض اس کو "قمطر" سے سمجھتے ہیں اور بعض اس کو "قطر" (بروزن مرغ) سے مشتق اور اس کی میم کو زائد سمجھتے ہیں۔ لیکن مشہور وہی پہلا ہے جو شدید اور عبوس کے معنی میں ہے۔ ؎1 یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر "ابرار" صرف خدا ہی کی پاک ذات کے لیے کام کرتے ہیں تو پھر وہ یہ کیوں کہتے ہیں کہ ہم قیمت کے دن کے عذاب سے ڈرتے ہیں ، کیا خدائی محرک ، قیامت کے عذاب کے خوف کے محرک کے ساتھ سازگار ہے؟: یلکن ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہوجاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ بہرحال خدا کے لیے قدم اٹھاتے ہیں، اور اگر وہ قیامت کے عذاب سے ڈرتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خدا کا عذاب ہے، اور اگر وہ جنت کی تعنتوں کو چاہتے ہیں تو اس بناء پر کہ وہ تعمتیں اللہ کی طرف سے ہیں ، اور یہ وہی چیز ہے جو فقہ میں "نیت عبادت" کے باب میں بیان ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ : عبادت میں قصدِ قربت، ثواب کی آرزو، عذاب کے خوف، یہاں تک کہ خدا سے اس دنیا کی مادی نعمتوں کے طلب کرنے (مثلاً بارش کے طلب کرنے کے لیے نماز استسقاء) کے محرکات کے ساتھ کوئی منافات نہیں رکھتا، کیونکہ ان سب کی بازگشت خدا کی طرف سے ہے اور اصطلاح کے مطابق "داعی پر داعی" کی قسم سے ہے، اگرچہ عبادت کا علٰی ترین مرحلہ یہ ہے کہ جنت کی نعمےوں کی خواہش اور دوزخ کے عذاب کا خوف بھی اس کا محرک نہ ہو بلکہ وہ سراسر "حباللہ" کے عنوان سے انجام پاۓ۔ "انا نخاف من ربنا یومًا عبوسًا قمطریرًا" کی تعبیر بھی اس بات پر شاہد ہے کہ یہ خوف بھی پروردگار کے خوف میں سے ہے۔ قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ ان پانچوں اوصاف میں سے دوسرا وصف اور پانچواں وصف ، دونوں خوف کا مسئلہ ہیں، اس فرق کے ساتھ کہ پہلی میں صرف قیامت کے دن کے خوف کے متعلق گفتگو ہے اور دوسری میں قیامت کے دن پروردگار کا خوف ہے، ایک موقع پر روز قیامت کی اس طرح سے توصیف ہوئی ہے کہ اس کا شر اور عذاب وسیع اور پھیلا ہوا ہے اور دوسرے موقع پر عبوس اور شدید ہے، جو حقیقت میں ایک تو اس کی وسعت کا بتاتی ہے اور دوسری اس کی کیفیت کی وسعت کو۔ ـــــــــــــــــــــــــــــ آخری زیر بحث آیت میں "ابرار" کے نیک اعمال اور پاک نیتوں کے اجمالی نتیجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ فرماتا ہے: "انھیں امورکی بناء پر خدا انھیں اس دن کے شر سے بچالے گا اور ان کا مسرت و شادمانی کی حالت میں استقبال کرےگا"۔(فَوَقَاهُـمُ اللّـٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاهُـمْ نَضْرَةً وَّّسُرُوْرًا )۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 "مفردات" "راغب" "لسان العرب" "المنجد" "قرطبی" و "مجمع البیان" ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ "نضرۃ" طراوت ، خرمی اور ایک خاس قسم کی شادابی کے معنی میں ہے جو وفورِ نعمت اور آسودگی کے زیر آسودگی کے زیر اثر انسان کو حاصل ہوتی ہے، ہاں! اس دن ان کے رخساروں کا رنگ ان کے سکون و آرام اور اندرونی سرور و نشاط کی خبر دے گا۔ اس بناء پر اگر وہ دنیا میں اس دن کے احساس مسئولیت سے خوف زدہ تھے ، تو خدا اس کے بدلے میں انھیں قیامت کے دن سرور و شادمانی میں غرق کردے گا۔ "لقاھم" کی تعبیر بہت ہی عمدہ تعبیروں میں سے ہے ، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خداوندِعالم ان گرامی قدر مہمانوں کا اپنے خاص لطف سے استقبال کرےگا اور انھیں جو خوشی و سرور میں غرق ہوں گے، اپنی رحمت کے سایہ میں جگہ دےگا ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 76:5-11
بھوکوں کو سیر کرنا بہترین حسنات میں ہے
ایک نکتہ بھوکوں کو سیر کرنا بہترین حسنات میں سے نہ صرف زیر بحث آیات مین، کھانا کھلانے کو ابرار اور عباداللہ کے عمدہ کاموں میں سے ایک شمار کرتا ہے، بلکہ قرآن کی بہت سی آیاتت میں اس معنی پر تکیہ اور تاکید ہوئی ہے ، اور یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ کام خدا کی بارگاہ میں ایک خاص قسم کی محوبیت رکھتا ہے۔ اور اگر ہم آج کی دنیا پر نگاہ جریں تو منتشر ہونے والی خبروں کے مطابق ، ہر سال کئی ملین افراد بھوک سے مر جاتے ہیں ، جبکہ دنیا کے دوسرے امیر علاقوں میں ، اس قدر زیادہ بچے ہوۓ کھانے کوڑے میں پھینک دیئے جاتے ہیں کہ جس کا کوئی حساب نہیں ہے، اس سے ایک طرف تو اس اسلامی حکم کی اہمیت اور دوسری طرف سے آج کی دنیا کا اخلاقی اقدار و موازین سے دور ہوجانے واضح ہوجاتاہے۔ اسلامی روایات میں بھی اس سلسلہ میں بہت زیادہ تاجید نظر آتی ہے، ہم نمونہ کے طور پر یہاں چند احادیث نقل کرتے ہیں۔ 1- ایک حدیث میں پیغمبراکرمؐ سے آیا ہے: من اطعم ثلاثۃ نفرمن المسلمین اطعمہ اللہ من ثلاث جنان فی ملکوت السماوات "جو شخص مسلمانوں میں سے تین افراد کو کھانا کھلاۓ گا تو خدا اسے آسمانوں کے ملکوت میں جنت کے تین باغوں سے کھانا کھلاۓ گا"۔ ؎1 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 "اصولی کافی" جلد دوم باب "اطعام المومن" حدیث 3 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 2- ایک اور حدیث میں امام صادق سے آیا ہے: من اطعم مؤمنًا حتٰی یشبسہ لہ یدر احد من خلق اللہ مالہ من الاجر فی آخرۃ، لا ملک مقرب ولا نبی مرسل الااللہ رب العالمین "جو شخص کسی مومن کو کھانا کھلاۓ گا، یہاں تک کہ وہ سیر ہوجاۓ، تو مخلوقِ خدا میں سے کوئی شخص بھی نہیں جانتا کہ اسے آخرت میں کس قدر اجروثواب ملے گا، نہ کوئی خدا کا مقرب فرشتہ اور نہ ہی کوئی نبی مرسل، سواۓ خدا کے جو عالمین کا پروردگار ہے"۔ ؎1 3- ایک اور حدیث میں اسی امام سے آیا ہے کہ آپ نے فرمایا: لان اطعم مؤمنًا محتاجًا احب الی من ان ازورہ ، ولان ازورہ احب لان من ان اعتق عشررقاب "اگر میں کسی محتاج مومن کو کھانا کھلاؤں، تو یہ بات میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں صرف اس کےدیدراراورزیارت کےلیےجاؤں،اوراگرمیں اس کےدیداراورزیارت کےلیے جاؤں تو یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں دس غلاموں کو آزاد کروں"۔ ؎2 قابل توجہ بات یہ کہ روایات میں صرف محتاجوں اور بھوکوں پر تکیہ نہیں ہوا ہے، بلکہ بعض روایات میں تو صراحت کے ساتھ آیا ہے، کہ مومنین کو کھانا کھلانا، اگرچہ وہ بےنیازی ہی کیوں نہ ہوں ، غلام آزاد کرنے کے مانند ہے، اور یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس کام کا مقصد احتئاجات کو دور کرنے اور ضروریات کو پورا کرنے کے علاوہ ، جلب محبت اور دوستی و الفت کے رشتوں کی مضبوطی بھی ہے، اس کے برعکس کہ جو کچھ آج کی مادی دنیا میں معمول ہوچکا ہے کہ بعض اوقات دو قریبی دوست یا دورشتہ دار کسی ہوٹل یا مہمان خانے میں جاتے ہیں، تو ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے حصہ کی رقم ادا کرتا ہے، گویا مہمان بنانے کا مسئلہ خصوصًا زیادہ افراد کو مہمان بنانا گویا ان کے لیے بہت ہی تعجب کا باعث ہے۔ 4- بعض روایات میں یہ تصریح بھی ہوئی ہے کہ بھوکون کو مطلق طور پر کھانا کھلانا (چاہے وہ مومن اور مسلمان نہ بھی ہوں) افضل اعمال میں سے ہے۔ جیسا کہ ایک روایت میں پیغمبر گرامی اسلامؐ سے آیا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: من افضل الاعمال عنداللہ ابراد الکباد الحارۃ واشباع الکباد الجائعۃ والذی نفس محمد صلی اللہ علیہ والٰہ ، بیدہ لا یؤمن بی عبد یبیت شبعان وا خواہ ــــــ اوقال جارہ ــــــ المسلم جائع "خدا کے نزدیک افضل اعمال میں سے ایک عمل پیاسون کو ٹھنڈا پانی پلانا ، اور بھوے شکموں کو ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 اصولی کافی جلد دوم باب "اطعام المومن" حدیث 6- ؎2 مدرک بالا، حدیث 18 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ سیر کرنا ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂِ میں محمدؐ کی جان ہے، جو بندہ رات کو سیر ہوکرسوجاۓاوراس کا بھائی ــــــ یا یہ فرمایا کہ اس کامسلمان ہمسایہ ـــــ بھوکاہو تو وہ مجھ پر ایمان نہیں لایا۔" ؎1 اوہر والی حدیث کا آخری حصہ اگرچہ مسلمان کو سیر کرنے کے بارے میں ہے ، لیکن اس کا آگاز ہر پیاسے اور بھوکے سے ہوا ہے اور بعید نہیں ہے کہ اس کے مفہوم کی وسعت جانوروں تک کوبھی شامل ہو۔ اور اس سلسلہ میں روایات بہت ہیں۔ ؎2 ــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 "بحارالانوار" جلد 74 ص 369 ، قابل توجہ بات یہ ہے کہ مرحوم علامہ مجلسی نے اس سلسلہ میں ایک باب عنوان کیا ہے جس میں 113 ، احادیث نقل کی ہیں جو مومن کو کھانا کھلانے ، سیراب کرنے ، لباس پہنانے اور اس کا قرض ادا کرنے کے بارے میں ہیں اور ان میں سے بعض عمومیت بھی رکھتی ہیں۔ ؎2 مدرک بالا