قُلْ إِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ مَّا تُوعَدُونَ أَمْ يَجْعَلُ لَهُ رَبِّي أَمَدًا
Say, ‘I do not know if what you are promised is near, or if my Lord has set a [long] term for it.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 72:25
[Pooya/Ali Commentary 72:25] (see commentary for verse 19)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 72:25-28
2: آئمہ کے علم غیب کو ثابت کرنے کی ایک اور راہ
2- ائمہ کے علمِ غیب کو ثابت کرنے کی ایک اور راہ یہاں اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے کہ پیغمبرؐ اور آئمہ معصومین اجمالی طور پر اسرارِ غیب سے آگاہ تھے دو اور راستے بھی ہیں : پہلا یہ کہ ان کی ماموریت کسی خاص مکان و زمان میں محدود نہیں تھی، بلکہ پیغمبر کی رسالت اور آئمہ کی امامت جہانی اور جادوانی ہے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص اس قسم کی وسیع ماموریت اور ذمہداری رکھتا ہو ، اور وہ اپنے محدود زمانہ اور ماحول کے سوا کسی قسم کی آگاہی نہ رکھتا ہو؟ کیا وہ شخص ، جو مثلاً کسی ملک ایک بہت بڑے حصہ کی امارت اور گورنری پر مامور ہو، اس علاقہ سے بے خبر ہوسکات ہے اور پھر یوں وہ اپنی ماموریت کو اچھی طرح انجام دے سکتا ہے ؟ دوسرے الفاظ میں : پیغمبرؐ اور امام کو اپنی مدتِ حیات میں، احکامِالٰی کو اس طرح بیان و اجراء کرنا چاہیے کہ وہ ہر زمانہ اور مکان کے تمام انسانون کی ضروریات کے لیے جواب دہ ہوں اور یہ ممکن نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اسرارِ غیب کے ایک حصہ کو جانتے ہوں۔ دوسرا یہ کہ: قرآن مجید میں تین آیات ایسی ہیں کہ اگر ہم انھیں ایک دوسری کے ساتھ رکھ دیں تو اس سے پیغمبرؐ اور آئمہ کے علم کا مسئلہ واضح ہوجاتا ہے۔پہلی یہ قرآن اس زخص کے بارے میں جو "ملکہ سبا" کا تخت آنکھ جھپکنے میں سلیمانؑ کے پاس لے آیا (یعنی آصف بن برخیا) کہتا ہے: قال الذی عندہ علم من الکتاب ان اٰتیک بہ قبل ان یرتدالیک طرفک فلما راٰہ مستورًا عندہ قال ھٰذا من فضل ربی "اس شخص نے ، جو کتاب میں سے کچھ علم رکھتا تھا، کہا میں اس کو آنکھ جھپکنے پہلے ےیرے پاس لے آؤںگا، جب سلیمان نے اسے اپنے پاس رکھا ہو دیکھا تو کہا : یہ میرے پروردگار کے فضل سے ہے"۔ (نمل ـــــــــ 40) دوسری آیت میں ہے قُلْ كَفٰى بِاللّـٰهِ شَهِيْدًا بَيْنِىْ وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهٝ عِلْمُ الْكِتَابِ "کہہ دیجیے میرے اور تمھارے درمیان گواہی کے لیے خدا اور وہ شخص جس کے پاس علمِ کتاب ہے کافی ہے"۔ (رعد ــــــــ 43) دوسری طرف بہت سی احادیث میں ، جو اہل سنت اور شیعہ کتابوں میں نقل ہوئی ہیں ، اس طرح آیا ہے کہ ابو سعیدخدری کہتے ہیں کہ میں نے رسولِ خدا سے "الذی عندہ علم من الکتاب" مے معنی پوچھے ، تو آپ نے فرمایا : وہ میرے بھائی سلیمان بن داؤد کا وصی تھ، تو میں نے کہا"ومن عندہ علم الکتاب" کون ہے، تو آپ نے فرمایا : ذاک اخی علی بن ابی طالب "وہ میرے بھائی علی ابی طالب ہیں"۔ ؎ 1 اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "علم من الکتاب" جو "آصف" کے بارے میں آیا ہے، علمِ جزئی کو بیان کرتا ہے ، اور "علم الکتاب" جو علی کے بارے میں آیا ہے ، وہ علمِ کلی کو بیان کرتا ہے، اس سے "آصف " اور علیؑ کے مقام علمی کے درمیان فرق واضح ہوجاتا ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 "احقاق الحق" جلد 3 ص 280-281 اور "نورالثقلین" جلد 2 ص 523 کی طرف رجوع کریں۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ تیسری طرف سورہ نحل کی آیہ 89 میں آیا ہے : وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَىْءٍ: "ہم نے قرآن کو تجھ پر نازل ہے، جو ہر چیز کو بیان کرتا ہے"۔ واضح رہے کہ جو شخص اس قسم کی کتاب کے اسرارِ کا عالم ہو اسے غیب کے اسرار کو جاننا چاہیے اور اس چیز پر ایک واضح اور آشکار دلیل ہے کہ اولیاء خدا میں سے کوئی انسان حکمِ خدا سے اسرارِ غیب پر آگاہ ہوسکتا ہے۔ علمِ غیب کے سلسلہ میں ہم نے سورہ انعام کی آیہ 50 ، 59 (جلد 5 ص 245 ، 268) اور آیہ 188 سورہ اعراف (جلد 7 ص 46) کے ذیل میں بھی بحث کی ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 72:25-28
3: جن کی خلقت کے بارے میں تحقیق
3- "جن" کی خلقت کے بارے میں تحقیق "جن" جیسا کہ اس لفظ کے لغوی مفہوم سے معلوم ہوتا ہے ایک ایسا نظر نہ آنے والا موجود ہے جس کے بہت سے مشخصات قرآن میں ذکر ہوئے ہیں، ان میں سے کچھ یہ ہیں : 1- ایک ایسا وجود ہے جو آگ کے شعلہ سے پیدا ہوا ہے، انسان کے برخلاف جو مٹی سے پیدا ہوا ہے(و خلق الجان من مارچ من نار) (الرحمٰن ــــــــــ 15) 2- وہ علم و ادراک اور حق واباطل کی پہچان ، اور منطق و استعدلال کا حامل ہے (سورہ جن کی مختلف آیات) 3- وہ تکلیف و مسئولیت (فرائض و وظائف) رکھتا ہے۔ (سور جن اور سورہ رحمٰن کی آیات) 4- ان میں سے ایک گروہ مومن و صالح اور ایک گروہ کافر ہے۔(و انا منا الصالحون و منا دون ذالک) (جن ـــــــ 11) 5- وہ حشر و نشر اور معاد و قیامت رکھتے ہیں (واما القاچطون فکانوا الجھنم حطبًا) (جن ــــــ 15) 6- وہ آسمانوں میں نفوذ کرنے ، اور وہاں سے خبریں لینے اور چوری چھپے سننے کی قدرت رکھتے تھے، لیکن پھر انھیں دیا گیا۔ (وانا کنا نقعد منھا مقاعدللسمع فمن یستمع الاٰن یجدلہ شھابًا رصدًا) (جن ـــــــــــ 9) 7- وہ بعض انسانوں کے ساتھ رابط پیدا کرلیا کرتے تھے، اور اس محدود آگاہی کے ذریعہ جو وہ بعض پوشیدہ اسرار کے بارے میں رکھتے تھے، انسانوں کو گمراہ کرتے تھے۔ (وانہ کان رجال من الانس یعوذون برحال من الجن فزادوھم رھقًا) (جن ـــــــــ 6) 8- ان میں کچھ ایسے افراد بھی پاۓ جاتے ہیں، جو بہت زیادہ طاقت رکھتے ہیں، جیسا کہ انسانوں میں بھی ایسے افراد ہیں (قال عفریت من الجن انا اٰتیک یہ قبل ان تقوم من مقا مک) ایک سرکش جن نے سلیمان سے کہا : "میں ملکہ سباء کا تخت ، اس سے پہلے کہ تو اپنی جگہ سے اٹھے (دربار برخواست کرکے)اس کی سر زمین سے یہاں آؤں گا" (نمل ــــــ 39) 9- وہ انسانوں کے بعض ضروری کاموں کے انجام دینے کی قدرت رکھتے ہیں (ومن الجن من یعمل بین یدیہ باذن ربہ ۔۔۔۔ یعملون لہ ما یشاء من من محاریب و تماشیل و جفان کالجواب) "جنات کا ایک گروہ خدا کے حکم سے سلیمان کے سامنے کام کیا کرتا تھا اور اس کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔ عبادت خانے، تصویریں اور بڑے بڑے برتن تیار کیا کرتے تھا"۔ (سبا ـــــــــــــ 12- 13) 10- ان کی خلقت روۓ زمین پر انسانوں کی خلقت سے پہلے تھی (والجان خلقناہ من قبل) ( حجرـــــــــ27) اور کچھ دوسری خصوصیات۔ اس کے علاوہ قرآنی آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ عام لوگوں میں مشہور ہے اور وہ انھیں "پم سے بہتر" سمجھتے ہیں، اس کے برخلاف انسان ایک ایسی نوع ہے جو ان سے بہتر اور برتر ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ تمام خدائی پیغمبر انسانوں میں سے انتخاب ہوۓ، اور وہ پیغمبر اسلام پر جو نوع بشر میں سے تھے، ایمنان لاۓ اور آپ کی جمیعت اور پیروی کی، اور اصولی طور پر شیطان پر آدم کے سامنے سجدہ کا واجب ہونا جو قرآن کی تصریح کے مطابق اس وقت گروہ جن (کے بزرگوں) میں سے تھا۔ (کہف ـــــــــ 50) نوع انسان کی جن پر فضیلت پر دلیل ہے۔ یہاں تک تو ان مطالب سے گفتگو تھی۔ جو قرآن مجید سے، اس نظر نہ آنے والے موجود کے بارے میں معلوم ہوتے ہیں، جو ہر قسم کی بے ہودگی اور غیر علمی مسائل سے خالی ہیں، لیکن ہم جانتے ہیں کہ عامتہ الناس نے بہت سی خرافات اس موجود کے بارے میں گھڑی ہوئی ہیں جو عقل و منطق کے ساتھ سازگار نہیں ہیں اور اسی بناء پر ایک خرافاتی اور غیر منطقی چہرہ اس موجود کو دیا گیا ہے کہ جونہی لفظ "جن" بولا جاتا ہے تو چند ایک خرافات بھی اس کے سامنے آجاتے ہیں۔ منجملہ ان کے یہ ہے کہ انھیں عجیب و غریب اور وحشت ناک شکلوں اور دمدار و سم وار و موذی و پرآزار ، کینہ پرور و بد رفتار سمجھتے ہیں جو گرم پانی کے ایک برتن کو کسی خالی جگہ میں انڈیلنے سے گھروں کو آگ لگاسکتے ہیں۔ اور اسی قسم کےدوسرےموہومات۔ حالانکہ اگر وجود جن کو ان خرافات سے الگ کیا جاۓ تو اصل مطلب مکمل طور پر قابلِ قبول ہے، کیونکہ زندہ موجودات کے صرف ان ہی چیزوں میں منحصر ہونے پر، جنھیں ہم دیکھتے ہیں ، کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ بلکہ علماء اور علوم طبیعی کے ماہرین کہتے ہیں کہ وہ موجودات ، جنھیں انسان اپنے حواس کے ساتھ روک کرسکتا ہے، ان موجودات کے مقابلہ میں، جو اس کے ساتھ قابلِ ادراک نہیں کچھ بھی نہیں ہیں۔ ان آخری آیام تک جب تک کہ خوردبین سے زندہ موجودات کا انکشاف نہیں ہوا تھا، کوئی شخص یہ یقین نہیں کرتا تھا کہ پانی ایک قطرہ میں ، یا خون کے ایک قطرہ میں ہزارہا زندہ جاندار موجود ہیں، جن کو دیکھنے کی انسان میں قدرت نہیں ہے۔ نیز ماہرین کہتے ہیں: ہماری آنکھ نہ صرف محدود رنگوں کو ہی دیکھتی ہے، اور ہمارا کان محدود و صوتی امواج کو ہی سنتا ہے، وہ رنگ اوت آواز جو ہماری آنکھ اور کان سے قابل ادراک نہیں ہیں، ان سے بہت ہی زیادہ ہیں جو قابل ادراک ہیں۔ جب عالم کی وضع و کیفیت اس طرح کی ہو، تو پھر کون سی تعجب کی بات ہے ، کہ انواع و اقسام کے زندہ موجودات اس عالم موجود ہوں، جنھیں ہم اپنے حواس کےساتھ درک نہ کرسکتے ہوں ، اور جب پیغمبراسلامؐ جیسا مخبر صادق ان کے متعلق خبر دے ، توہم اسے قبول کیوں نہ کریں؟ بہرحال ایک طرف تو قرآن نے ، جو کلام ناطقِ صادق ہے، جنات کے وجود کی ان خصوصیات کے ساتھ، جو اوپر ذکر ہوئی ہیں، خبر دی ہے، اور دوسری طرف کوئی عقلی دلیل اس کی نفی پر موجود نہیں ہے، لہذا اس کو قبول کرلینا چاہیے اور غلط و ناروا توجہیات سے بچنا چاہیے، اور اسی طرح سے عوام کے خرافات سے اس سلسلہ میں اجتناب کرنا چاہیے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ "جن" کبھی ایک زیادہ وسیع مفہوم پر بولا جاتا ہے، جو نظر نہ آنے والے کئی موجودات کے انواع کو شامل ہے۔ عام طور پر گھونسلوں میں چھپا رہتا ہے، اس وسیع معنی داخل ہے۔ اس بات کی شاہد وہ روایت جو پیغمبرؐ سے نقل ہوئی ہے، آپ نے فرمایا: خلق اللہ الجن خمسۃ اصناف: صنف کالریح فی الھواء، و صنف حیات و صنف عقارب، و صنف حشرات الارض ، و صنف کبنی اٰدم علیھم الحساب والعقاب "خدا نے جنوں کو پانچ اقسام میں پیدا کیا ہے: ایک صنف تو ہوا کی طرح فضا میں ہے(جو نظر نہیں آتی)۔ایک صنف سانپوں کی صورت میں ہے، ایک صنف بچھوؤں کی صورت میں ہے، ایک صنف زمین ہیں اور ایک صنف ان میں سے انسان کی مانند ہے ، جس پر حساب و عتاب ہے"۔ ؎ 1 اس روایات اور اس کے وسیع مفہوم کی طرف توجہ کرتے ہوئے بہت سی مشکلات، جو روایات و حکایات ہیں، جنات کے بارے میں بیان کی جاتی ہیں، حل ہوجائیں گی۔ مثلاً بعض روایات میں امیرالمومنین علیؑ سے آیا ہے کہ آپ نے فرمایا: لا تشرب الماء من ثلمۃ الاناء الا من عروتہ فان الشیطان یقعد علی العروۃ والثلمۃ برتن کے ٹوٹے ہوۓ حصہ اور اس کے دستے والی طرف سے پانی نہ پئو، کیونکہ شیطان اس کے دستہ اور ٹوٹے ہوۓ حصہ پر بیٹھا ہوا ہوتا ہے۔ ؎ 2 اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوۓ کہ "شیطان" "جنوں" میں سے ہے، اور اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوۓ کہ برتن کی ٹوتی ہوئی جگہ، اور اسی طرح اس کا دستہ ، انوع و اقسام کے جراثیم کی اجتماع کی جگہ ہوتا ہے۔ یہ بعید نظر نہیں آتا کہ "جن و شیطان" "عام مفہوم " کے لحاظ سے اس قسم کے موجودات کو بھی شامل ہوں، اگرچہ اس کا ایک خاص معنی ہے، جو ایک ایسا موجود ہے جو فہم و شعور اور مسئولیت و ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 "سفینۃ المجار" جلد اول ص 186 (مادہ جن) ؎ 2 "کتاب کافی" جلد 6 ص 385 کتاب الا شربہ باب الاوانی حدیث 5 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ تکلیف (فرائض و وظائف) رکھتا ہے، اور اس سلسلہ میں روایات بہت زیادہ ہیں۔ ؎ 1 پروردگارا! اس دن جس میں جن وانس تیری دادگاہ عدل میں حاضر ہوں گے، اور سب بدکار اپنے کیے پر پیشمان ہوں گے، تو ہمٰن اپنے سایہ لطف میں قرار دے۔ خداوندا ! تیرہ مکل کا دامن واسیع اور کشادہ ہے اور ہماری معلومات اور معرفت محدود ہے، ہمیں لغزیشوں ، خطاؤن اور غیر حق فیصلے کرنے سے مصنون و محفوظ رکھ۔ بارِالہا ! تیرے پیغمبر کا مقام اتنا بلند ہے کہ اس کی دعوت کو انسانوں کے عکاوہ جن و پری نے بھی قبول کیا ہے، ہمیں اس دعوت پر ایمان لانے والوں میں سے قرار دے ۔ آمین یاربالعالمین اختتام سورہ جن روز جمعہ 21 محرالحرام 1407 ھ 1365/7/4 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اختتام ترجمہ بروز جمعہ یکم صفر 1408ھ بمطابق 25 ستمبر 1987 ء بوقت تقریباً ساڑے پانچ بجے صبح 18 ای ماڈل ٹاؤن۔ لاہور _______________________________________________________________ ؎ 1 کتاب "اولین دانش گاہ و آخرین پیغمبر" کی پہلی جلد میں اس سلسلہ میں تقریباً تیس ورایات جمع کی گئی ہیں
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 72:25-28
1: علم غیب کے بارے میں ایک وسیع تحقیق
چند نکات علمِ غیب کے بارے میں ایک وسیع تحقیق قرآن کی مختلف آیات میں غور کرنے سے اچھی طرح واخح ہوجاتا ہےکہ علم غیب کے سلسلہ میں دو قسم کی آیات موجود ہیں ، پہلی قسم کی آیات تو وہ ہیں جو علمِ غیب کو خدا کے ساتھ مخصوص کرتی ہیں ، اور اس کے غیر سے اس کی نفی کرتی ہیں مثلًا سورہ انعام کی آیہ 59، وَعِنْدَهٝ مَفَاتِـحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ : غیب کی چابیاں خدا ہی کے پاس ہیں ، اسکے سوا کوئی شخص انھیں نہیں جانتا اور سورہ نمل کی آیہ 45 ، قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّـٰهُ ، کہہ دیجیے کہ آسمانوں اور زمین میں سے کوئی شخص بھی غیب کو نہیں جانتا ، سوائے خدا کے۔ اور پیغمبرؐ کے بارے میں سورہ انعام کی آیہ 50 میں جو کچھ آیا ہے، مثلًا :قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِىْ خَزَآئِنُ اللّـٰهِ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ : کہہ دیجیے میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ خدا کے خزانے میرے پاس ہیں ، اور میں غیب کو نہیں جانتا۔ سورہ اعراف کی آیہ 188 میں آیا ہے : وَلَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْـثَرْتُ مِنَ الْخَيْـرِۚ " اگر میں غیب کو جانتا ہوتا تو میں بہت سی خیر فراہم کرلیتا"۔ اور آخر میں سورہ یونس کی آیہ 20 میں آیا ہے : فَقُلْ اِنَّمَا الْغَيْبُ لِلّـٰهِ : "کہہ دیجے کہ غیب رو خدا ہی کے ساتھ مخصوص ہے" اور اسی قسم کی دوسری آیات ۔ دوسرا حصہ ان آیات کا ہے جو وضاحت کے ساتھ بتاتی ہیں کہ اولیاء خدا "اجمالی طور پر" علمِ غیب سے اغاہی رکھتے ہیں ، جیسا کہ آل عمران کی آیہ 179 میں آیا ہے : وَمَا كَانَ اللّـٰهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلٰكِنَّ اللّـٰهَ يَجْتَبِىْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ يَّشَآءُ :"اور خدا تم کو اپنے غیب سے آگاہ نہیں کرے گا لیکن خدا اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے (غیب کے لیے) منتخب کر لیتا ہے (اور اسرارِ غیب کا ایک حصہ انھیں عظا کر دیتا ہے)"۔ اور حضرت عیسٰے عکیہ السلام کے معجزات میں بیان ہوا ہے کہ انھوں نے فرمایا : وَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ فِىْ بُيُوْتِكُمْ ۚ : "میں تمھیں اس جو تم کھاتے ہو یا اپنے گھروں میں ذخیرہ کرت ہو، خبر دیتا ہوں"، (آل عمران ـــــــــــــ 49) زیرِ بحث آیت بھی، اس استثناء کی طرف توجہ کرتے ہوئے، جو اس میں آیا ہے ، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خدا علمِ غیب کا ایک حصہ اپنے برگزیدہ رسولوں کو عطا فرماتا ہے (کیونکہ نفی سے استثناء ہمیشہ اثبات میں ہوتا ہے)۔ دوسری طرف قرآن کی وہ آیات جو غیب کی خبروں پر مشتمل ہیں ، وہ بھی کم نہیں ۔ مثلاً سورہ روم کی دوسری آیت سے لے کر چوتھی تک غُلِبَتِ الرُّوْمُ فِىٓ اَدْنَى الْاَرْضِ وَهُـمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِهِـمْ سَيَغْلِبُوْنَ فِىْ بِضْعِ سِنِيْنَ : "رومی مغلوب ہوگئے ہیں، اور یہ شکست نزدیک کی سرزمین میں واقع ہوئی ہے، لیکن وہ اس مغلوبیت بعد عنقریب غالب ہوں گے ، چند ہی سالوں کے اندر اندر"۔ اور سورہ قصص کی آیت 85 جو کہتی ہے: اِنَّ الَّـذِىْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ ۚ : "وہ ہستی جس نے قرآن کو تجھ پر فرض کیا ہے، وہ تجھے تیری جگہ (مکہ) کی طرف پلٹائےگا"۔ اور سورہ فتح کی آیہ 27 کہتی ہے : لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّـٰهُ اٰمِنِيْنَ : "انشاءاللہ تم مسجدالحرام میں انتہائی امن و امان کے ساتھ داخل ہوگئے" ۔ اور اسی قسم کی دوسری آیات۔ اصولی طور پر آسمانی وحی جو پیغمبرون پر نازل ہوتی ہے، ایک قسم کا غیب ہی ہے جو انھیں عطا کیا جاتا ہے۔ یہ کیسے کہا جاسکاتا ہے کہ وہ غیب سے آگاہی نہیں رکھتے جبکہ ان کے اوپر وحی نازل ہوتی ہے۔ اب سب بتوں سے قطعِ نظر ہمارے پاس بہے سی ایسی روایات موجود ہیں جو اس کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پیغمبر اکرامؐ اور آئمہ معصومین اجمالی طور پر غیب کا علم رکھتے تھے اور بعض اوقات اس کی خبر دیا کرتے تھے۔ مثلاً فتح مکہ کی داستان اور "حاطب بن ابی بلتعہ" کے وقعہ میں جس میں مکہ کے لوگوں کو خط لکھا تھااور وہ خط مشرکینِ مکہ کے پاس پہنچانے کے لیے "سارہ" نامی عورت کے حوالے کیا گیا تھا، تاکہ وہ انھیں لشکرَاسلام کے قریب الوقوع حملہ سے آگاہ کردے۔ٓ اور وہ عورت اس خط کو اپنے گیسوؤں کے درمیان چھپا کر مکہ کی طرف چل پڑی تھی۔ پیغمبرؐ نے علیؑ اور کچھ دوسرے مسلمانوں کو اس کے پیچھے بھیجا، اور فرمایا: تمھیں ایک منزل گاہ پر جس کا نام روضۂ "خاج" ہے ایک عورت ملے گی اس کے پاس "حاطب" کا خط ہے، جو مشرکینِ مکہ کے نام ہے، تم اس سے وہ خط لےلو، جب وہ سب کے سب وہاں پہنچھے تو انھیں وہ عورت مل گئی، شروع میں اس نے سختی کے ساتھ انکار کیا، لیکن آخر کار اس نے اعتراف کرلیا اور انھوں نے وہ خط اس سے لے لیا۔ ؎ 1 اس کے علاوہ جھنگَ "موتہ" کا واقعہ اور جعفر اور لشکرِ اسلام کے بعض دوسرے کماندروں کی شہادت کی خبر دینا۔ جسکی پیغمبرؐ نے ، مدینہ میں مسلمانوں کو ، اسی لحمہ میں، جبکہ یہ واقعہ رونما ہوا تھا، خبر دیتھی۔ ؎ 2 اور اس قسم کے اخبارِ غیب کی مثالیں پیغبرؐ کی زندگی میں کم نہیں ہیں۔ نہج البلاغہ میں بھی آئندہ کے واقعات کی بہت سی پیشین گوئیاں نظر آتی ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ علیؑ ان اسرارِ غیب کو جانتے تھے۔ مثلاً وہ باتیں جو خطبہ 13 میں اہلِ بصرہ کی مزمت میں بیان ہوئی ہیں ۔ جس میں آپ فرماتے ہیں : کانی بمسجد کم کجؤ جؤ سفینۃ قد بعث اللہ علیھا الوذاب من فوقھا و من تحتھا و غرق من فی ضمنھا "گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ آسمان و زمین سے خدا کا عذاب تم پر نازل ہورہا ہے اور تم سب کے سب اس میں غرق ہوئے ہو، صرف تمھاری مسجد کی چوٹی کشتی کے سینہ کی طرح پانی کے اوپر نمایاں ہے" اور دوسری رویات میں بھی جو علمئے اہل سنت اور شعہ کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں، آئندہ کے واقعات کے بارے میں آنحضرتؐ سے بہت سی پیشین گوئیاں آئی ہیں ، جیسا کہ "ہجر بن قیس" کے بارے میں ہے کہ آپ نے فرمایا : تجھے میرے بعد لعنت کرنے پر مجبور کریں گے ۔ ؎ 3 اور جو کچھ آپؐ نے "مروان" کے بارے میں فرمایا کہ وہ بڑھاپے کے بعد ضلالت و گمراہی کا پرچم کندھے پر اٹھائے گا ۔ ؎ 4 اور جو کچھ "کمیل بن زیاد" نے حجاج سے کہا تھا کہ امیرالمومنین نے مجھے خبر دی ہے کہ تو میرا قاتل ہے۔ ؎ 5 اور جو کچھ آپنے خوارج نہروان کے بارے میں فرمایا تھا ، کہ ان کی جنگ میں ہمارے گروہ کے سد آدمی بھی نہیں مارے جائیں گے، اور ان میں سے دس آدمی بھی نجات نہیں پائیں گے اور حقیقتاً اسی طرح واقع ہوا۔ ؎ 6 اور جو کچھ امام حسینؐ کی قبر کی جگہ کے بارے میں سرزمینِ کربلا کے قریب سے عبور کے وقت "اصبغ بن بناتہ سے فرمایا"۔ ؎ 7 کتاب فضائل الخمسہ میں، اہل سنت کی کتابوں سے، علیؑ کے علم کی حد سے زیادہ وسعت کے بارے میں، بہت زیادہ روایات نقل ہوئی ہیں، ان سب کا یہاں بیان طول کا باعث ہوگا۔ ؎ 8 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 اس واقعہ کی تفصیل حوالہ کے ساتھ اسی جلد میں سورہ ممتحنہ کی تفسیر میں ہے۔ ؎ 2 "کامل ابن اثیر" جلد 2 ص 237 (واقعہ غزوہ موتہ)۔ ؎ 3 مستدرک الصححین جلد 2 ص 358 ؎ 4 طبقات ابن سعد جلد 5 ص 30 ؎ 5 الاصابہ ابن حجر، جلد 5 قسم 3 ص 325 ؎ 6 "ہیثمی" نے "مجمع" جلد 6 ص 241 پر ؎ 7 "الریاض النظرہ" جلد 2 ص 222 ؎ 8 "فضائل الخمسہ" جلد 2 ص 231 تا 253 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اہل بیت کی روایات میں بھی متعدد حدیثوں میں معصومین کے لیے علمِ غیب کا اشارہ ہوا ہے۔ منجملہ ان کے کتاب کافی جلد اول متعدد ابواب میں اس بارے میں تصریح یا اشارے نظر آتے ہیں۔ مرحوم علامہ مجلسی نے بحارالانور کی جلد 26 میں ، اس سلسلہ میں بہت سی احادیث جو 22 حدیثوں تک پہنچتی ہیں نقل کی ہیں۔ مجموعی طور پر پیغمبر اکرامؐ اور آئمہ معصومین کے لیے اسرارِ غیب سے آگاہی کے سلسلہ میں روایات حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں۔ اب بحث صرف یہ ہے کہ ان روایات و آیات کے درمیان، جن میں سے بعض غیر خدا سے علمِ غیب کی نفی کرتی ہیں بعض اثبات کرتی ہیں کس طرح جمع کی جائے؟ یہاں جمع کے لیے مختلف طریقے موجود ہیں۔ جمع کے طریقوں میں سے مشہور ترین طریقہ یہ ہے کہ علمِ غیب کے خدا کے ساتھ اختصاص سے مراد علمِ ذاتی واستقلالی ہے اس بناء پر اس کا غیر مستقل طور پر ہرگز علمِ غیب سے آگاہی حاصل نہیں کرسکتا، اور ان کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ خدا کی طرف سے ہے اور اس کے الطاف و عنایت سے ہے اور تبعی جنبہ رکھتا ہے۔ اس مجع کا شاہد یہی زیرِ بحث آیت ہے، جو کہتی ہے : خدا کسی کو بھی اپنے اسرارِ غیب سے آگاہ نہیں کرتا ، مگر وہ رسول جس سے وہ راضی ہے ۔ "نہج البلاغہ" میں بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ جب علیؑ آیندہ کے واقعات کی خبر دے رہے تھے (اور اسلامی ممالک پر مغلوں کے حملہ کی پیشین گوئی کررہے تھے) اور آپ کے اصحاب میں سے ایک نے عرض کیا : اے امیرالمومین کیا آپ علمِ غیب جانتے ہیں ؟ حضرت ہنسے اور فرمایا : لیس ھو بعلم غیب، وانما ھو تعلم من ذی علم "یہ علمِ غیب نہیں ہے، یہ ایک ایسا علم ہے جو صاحبِ علم (پیغمبرؐ) سے میں نے حاصل کیا ہے"۔ ؎ 1 اس جمع کو بہت علماء و محقیقن نے قبول کیا ہے۔ 2- اسرارِ غیب دو قسم کے ہیں ، ایک قسم تو خدا کے ساتھ مخصوص ہے اور اس کے علاوہ اسے کوئی نہیں جانتا۔ مثلاً قیامِ ﷺیامت اور اسی قسم کے دوسرے امور، اور ایک قسم وہ ہے کہ جس کی وہ انبیاء واولیاء کو تعلیم دیتا ہے۔ جیسا کہ نہج البلاغہ میں اسی خطبہ کے ذیل میں جس کی طرف اوپر اشارہ ہوا ہے ، آیا ہے کہ : وانما علم الغیب علم الساعۃ وما عددہ اللاہ سبحانہ بقولہ : ان اللہ عندہ علم الساعۃ ، وینزل الغیث و یعلم ما فی الاوحام وما تدری نفس ماذا تکسب غدًا و ما تدری نفس بای ارض تموت "علمِ غیب تو صرف قیامت کا علم ہے اور وہ ہے جسے خدا نے اس آیت میں شمار کیا ہے، جیسا کہ فرماتا ہے : قیامت کے وقت سے آگاہی خدا کے ساتھ مخصوص ہے، ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 نہج البلاغہ ، خطبہ 128 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اور وہی بارش کو نازل کرتا ہے ، اور جو کچھ ماؤں کے رِحم میں ہے، اسے جانتا ہے اور کوئی بھی شخص یہ نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کرےگا، اور کس سرزمین میں مرے گا"۔ اس کے بعد امام نے اس معنی کی تشیح میں مزید فرمایا: "خداوند اس سے جو رحموں میں برقرارہے، آگاہ ہے کہ لڑکا ہے یا لڑکی ، بدصورت ہے یا خوبصورت، سخی ہے یا بخیل، سعادت مند ہے یا شقی و بد ﷽خت ، اہل دوذخ ہے یا اہلِ جنت؟.......... یہ سب علوم غیب ہیں۔ جنھیں خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور ان کے علاوہ وہ علوم ہیں جن کی خدا نے اپنے پیغمبر کو تعلیم دی ہے اور انھوں نے ان کی تعلیم مجھے دی ہے ۔ ؎ 1 " 3- ان دونوں قسم کی آیات و روایات کے درمیان جمع کرنے کا ایک دوسرا راستہ یہ ہے کہ اسرارِغیب دو جگہ ثبت ہیں "لوح محفوظ" (علم خدا کے مخصوص خزانہ ) میں، جس میں کسی قسم کی تبدیلی اور تغیر رونما نہیں ہوتا، اور اس سے کوئی بھی شخص آگاہ نہیں ہے اور (لوح محو و اثبات) جو مقتضیات کا علم ہے نہ کہ علت تامہ کا، اور اسی بناء پر وہ تغیر اور تبدیلی کے قابل ہے اور جسے دوسرے نہیں جانتے وہ اسی حصہ سے مربوط ہے۔ اسی لیے ایک حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے : ان اللہ علمًا لم یعلمہ الاھو، وعلمًا اعلمہ ملائکتہ و رسولہ فما اعلمہ ملائکتہ و انبیاءہ و رسلہ فنحن نعلمہ "خدا کا ایک علم تو ایسا ہے جسے اس کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا، اور ایک علم ایسا ہے ، جس سے اس نے فرشتوں اور انبیاء کو آگاہ کیا ہے، جو کچھ اس نے فرشتوں ، انبیاء اور رسولوں کو دیا ہے ، ہم بھی جانتے ہیں"۔ ؎ 2 امام علیؑ بن حسینؑ سے بھی نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: لولا اٰیۃ کتاب اللہ لحدثتکم بما کان وما یکون الٰی یوم القیامۃ ! فقلت لہ ایۃ اٰیۃ ؟ فقال قول اللہ : یمحوا اللہ مایشاء و یثبت و عندہ ام الکتاب "اگر قرآنِ مجید میں ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمھیں اس سے بھی جو کہ پہلے گزر چکا ہے ، اور ان واقعات کی بھی جو قیامت تک ہونے والے ہیں خبر دیتا، راوی کہتا ہے ، میں نے کہا : وہ کون سی آیت ہے؟ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 نہج البلاغہ ، خطبہ 128 ؎ 2 بحارالانوار جلد 26 ص 120 (حدیث 5) اس سلسلہ میں دوسری متعدد روایات بھی اس ماخز میں نقل ہوئی ہیں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ فرمایا: خدا فرماتا ہے : یمحوااللہ مایشاء (خدا جس چیز کو چاہتا ہے محو کر دیتا ہے، اور جس چیز کو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے)، ام الکتاب (اور لوحِ محفوظ ) اسی کے پاس ہے "۔ ؎ 1 4- ایک دوسرا راستہ یہ ہے کہ خدا تو تمام اسرارِ غیب سے بالفعل آگاہ ہے، لیکن انبیاء و اولیاء ممکن ہے بہت سے اسرارِغیب کو بافعل نہ جانتے ہوں ، لیکن جب وہ ارادہ کرتے ہیں تو خدا انھیں ان کی تعلیم دے دیتا ہے، اور یقیقنًا یہ ارادہ بھی خدا کے اذان و رضا سے ہی انجام پاتا ہے۔ اسی بناء پر ان آیات و روایات میں جمع ، جو یہ بتلاتی ہیں کہ وہ نہیں جانتے ، تو وہ بالفعل نہ جاننے کی طرف اشارہ ہے، اور جو یہ کہتی ہیں کہ وہ جانتے ہیں وہ ان کے جاننے کی طرف اشارہ ہے۔ اس کی مثال ٹھیک اس طرح ہے کہ کقئی شخص ایک خط کسی آدمی کو دے کہ وہ دوسرے تک پہنچادے، تو یہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اسے خط کے مضمون کا کوئی علم نہیں ہے ، حالانکہ وہ خط کو کھول کر پڑھ سکتا ہے ، کبھی تو صاحبِ خط نے اسے مطالعہ کی اجازت دی ہوئی ہوتی ہے ۔ اس صورت میں اسے ایک لحاظ سے خط کے مضمون کا عالم سمجھا جاسکتا ہے اور لبھی اسے اجازت دی ہوئی نہیں ہوتی۔ اس مجع کی شاہد وہ ورایات ہیں جو کتاب کانی کے ایک باب میں ہے ان الائمۃ اذا شاء وا ان یعلموا علموا :"آئمہ جب کسی چیز کو جاننا چاہتے ہیں تو انھیں اس کا علم دے دیا جاتا ہے"کے عنوان کے تحت وارد ہوئی ہیں"۔ منجملہ ان کے ایک حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے : اذا ارادالامام ان یعلم شیئا اعلمہ اللہ بذالک "جب امام کسی چیز کو جاننا چاہتا ہے تو خدا اسے اس کی تعلیم دے دیتا ہے"۔ مجع کی یہ وجہ ، پیغمبرؐ اور اور امام کے علم کے سلسلہ میں بہت سی مشکلات کو حل کردیتی ہے۔ منجملہ ان کے یہ ہے کہ وہ اس پانی اور کھانے کو جس میں ذہر ملا ہوا ہوتا ہے، کس طرح کھا لیتے ہیں ، حالانکہ یہ بات جائز نہیں ہے کہ انسان کوئی ایسا کام کرے جو اس کے لیے خطرے کا موجب ہو، ایسے موقع کے لیے یہ کہنا پڑے گا کہ پیغمبر یا امام کو اس بات کی اجازت نہیں تھی کہ وہ اس کا ارادہ کریں کہ اسرارِ غیب ان پر آشکار ہوں ۔ اسی طرح بعض اوقات مڈلحت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ پیغمبر یا امام کسی مطلب پر آگاہ نہ ہوں ، یا کوئی امتحان اور آزمائش ایسی صورت پزیر ہو جو ان کے تکامل وارتقاء کا موجب بنے ، جیسا کہ "لیلۃ المبیت" کی داستان میں آیا ہے کہ علیؑ پیغمبرؐ کے بستر پر سوۓ، حالانکہ خود آنجناب سے نقل سے نقل ہوا ہے کہ آپ یہ نہیں جانتے تھے، کہ صبح کے وقت جب مشریکنِ قریش اس بستر پر حمہ کریں گے تو شہید ہوجائیں گے یا جان سلامت رہے گی۔ یہاں مصلحت یہ ہے کہ امام اس کام کے انجام سے آگاہ نہ ہو ، تاکہ خدائی آزمائش اور امتحان پورا ہوجاۓ اور اگر امام جانتے کہ وہ پیغمبر کے بستر پر سوئیں گے ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 نورالثقلہن جلد 2 ص 512 (حدیث 160) ؎ 2 "کتاب کانی" باب ان الائمۃ اذآ شاء وا ان یعلموا علموا (حدیث 3) اسی مضمون کی دوسری روایات بھی اسی باب میں نقل ہوئی ہیں۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اور صبح کو صحیح و سالم اٹھیں گے، تو یہ کوئی فخر کی بات نہیں تھی اور آیات قرآنی اور دیگر روایات میں اس ایثار و قربانی کی اہمیت کے سلسلہ میں جو کچھ وارد ہوا ہے کچھ قابلِ توجہ نظر نہیں آتا۔ ہاں علمِ اردی کا مسئلہ ، اس قسم کے تمام اشکالات و اعتراضات کا جواب۔ 5- علمِ غیب کے سلسلہ میں مختلف رویات کے لیے جمع کی ایک اوت صرت بھی موجود ہے (اگرچہ یہ راہ ان روایات کے ایک حصہ پر صادق آتی ہے) اور وہ یہ ہے کہ ان روایات میں مخاطب مختلف تھے، وہ لوگ جو آئمہ کے بارے میں علمِ غیب کے مسئلہ کی قبولیت کی استعداد اور قابلیت رکھتے ہیں، انھیں تو حق مطلب بیان کر دیا جاتا تھا لیکن مخالف یا ضعیف و کم استعداد افراد کے لیے ، سننے والے کی سمجھ کے مطابق بات کی جاتی ہے۔ مثلاً ایک حدیث میں آیا ہے کہ ابوالبصیر اور امام صادقؑ کے بزرگ اصحاب میں سے کچھ اور افراد ایک مجلس میں بیٹھے ہوۓ تھے کہ امام غصہ میں بھرے ہوۓ مضلس میں داخل ہوۓ ، جب آپ بیٹھ گئے تو حاضرین مجلس سے فرمایا: یاعجبا لا قوام یزعمون انا نعلم الغیب ! ما یعلم الغیب الااللہ عزوجل، لقد ھممت بضرب جاریتی فلانۃ، فھربت منی فما علمت فی ای بیوت الدارھی "تعجب ہے کہ بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم علمِ غیب جانتے ہیں (حالانکہ) خدا کے کوئی بھی علم غیب نہیں جانتا۔ میں اپنی ایک کنیز کو تادیب کرنا چاہتاتھا، وہ میرے آگے سے بھاگ گئی اور مجھے یہ علم نہ ہوا کہ وہ گھر کے کس کمرے میں ہے"۔ ؎ 1 حدیث کا راوی کہتا ہے کہ جس وقت امام اس مجلس سے اٹھے، تو میں اور کچھ دوسرے اصحاب آپ کی منزل میں داخل ہوئے اور ہم نئ کہا: ہم آپ پر قربان ہوں ، آپ نے اپنی کنیز کے بارے میں اس طرح فرمایا، حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ آپ کے پاس بہت سے علوم ہیں ، اور ہم علمِ غیب کا تو کوئی نام نہیں لیتے ؟ امام نے اس سلسلہ میں تشریح کی جس کا مفہوم اسرارِ غیب پر آپ کی آگاہی تھا۔ واضح رہے اس مجلس میں کچھ ایسے افراد تھے ، جو ان معانی کے ادراک اور مقامِ امام کی معرفت کے لیے ضروری استعداد نہیں رکھتے تھے۔ اس بات پر توجہ رکھنا چاہیے کہ ان پانچوں طریقوں میں آپس میں کوئی منافات نہیں ہے اور سب ہی صادق ہوسکتے ہیں۔ (غور کیجیے) ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 اصولِ کافی جلد 1 باب نادر فیہ ذکر الغیب حدیث 3
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 72:25-28
عالم الغیب خدا ہے
تفسیر عالم الغیب خدا ہے چونکہ گزشتی آیات میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہوا تھا کہ اس گروہ کا استہزاء اور سر کشی اسی طرح سے جاری رہے گی ، جب تک کہ عذاب کا خدائی وعدہ نہیں آپہنچتا اور اس سے یہ سوال ابھرتا ہے کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟ جیسا کہ مفسرین نے اس آیت کے شانِ نزول میں بیان کیا ہے ، کہ بعض مشرکین نے "نضر بن حارث" کے مانند، گزشتہ آیات کے نزول کے بعد اسی سوال کو پیش کیا تھا، قرآنِ مجید اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے۔ "کہہ دیجیے کہ میں نہیں جانتا، وہ چیز کا تم سے واعدہ کیا گیا ہے (دنیا کا عذاب اور قیام قیامت) قریب ہے، یا میرا پروردگار اس کے لیے کوئی زمانہ قرار دے گا۔" (قُلْ اِنْ اَدْرِىٓ اَقَرِيْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ يَجْعَلُ لَـهٝ رَبِّىٓ اَمَدًا)۔ یہ علم خدا کی پاک ذات ساتھ مخصوص ہے، اور اس نے یہ چاہا ہے کہ یہ اس کے بندوں سے پوشیدہ رہے ۔ تاکہ مخلوق کے امتحان اور آزمائش کا موضوع مکمل ہو، کیونکہ اگر وہ یہ جان لیں کہ وہ دور ہے یا نزدیک ہے تو دونوں صورتوں میں امتحان کا اثر کم ہوجائے گا۔ "امد" (بروزن صمد)زمانہ کے معنی میں ہے، اس فرق کے ساتھ کہ "مفردات" میں "راغب" کے قول کے مطابق کہ "زمان" تو ابتداء اور انتہاء دونوں کو شامل ہوتا ہے، لیکن "امد" صرف کسی چیز کی انتہاء کے زمانہ کو کہتے ہیں۔ اہلِ لغت نے یہ بھی کہا ہے کہ "امد" اور "ابد" معنی کے لحاظ سے ایک دوسرے کے نزدیک ہیں۔ اس فرق کے ساتھ کہ "زمان" تو ابتداء اور انتہاء دونوں کو شامل ہوتا ہے، لیکن "امد" صرف محدود مدت چاہے وہ جتنی بھی طولانی ہو۔ بہرحال ، قرآن مجید کی آیات میں بارہا یہ مطلب ہمارے سامنے آتا ہے کہ جب بھی قیامت کے زمانہ کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو پیغمبراکرمؐ اس سے بے اطلاع ہونے کا اظہار فرمایا کرتے تھے کہ "اس کا علم خدا کے ساتھ مخصوص ہے"۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک دن "جبرئیل" ایک بدو عرب کی صورت میں پیغمبرؐ کے سامنے ظاہر ہوئے، اور ان سوالات میں سے جو انھوں نے آنحضرتؐ سے کیے ، ایک یہ تھا کہ : اخبرنی عن الساعۃ " بتلائیے قیامت کب برپا ہوگی"؟ پیغمبرؐ نے فرمایا : ماالمسئول عنھا باعلم من السائل " جس سے سوال کر رہے ہو وہ (اس مسئلہ میں)سوال کرنے والے سے زیادہ آگاہ نہیں ہے"۔ اس مرد ِعرب نے دوبارہ بلند آواز میں کہا: یامحمدؐ متی الساعۃ؟ " اے محمدؐ ! قیامت کب آئے گی"؟ پیغمبرؐ نے فرمایا : ویحک انھا کائنۃ فمااعددت لھا ؟ " وائے ہو تجھ پر قیامت تو آ کر رہے گی، یہ تو بتا کہ تونے اس کے لیے کون سی چیز تیار کر رکھی ہے"۔ اعرابی نے کہا : " میں نے نماز و روزہ تو کوئی زیادہ فراہم نہیں کیا لیکن خدا اور اس کے رسول کو دوست رکھتا ہوں"۔ پیغمبرؐ نے فرمایا : فانت مع من احببت " پس تو اس کے ساتھ رہے گا جسے تو دوست رکھتا ہے"۔ اصحابِ پیغمبرؐ میں سے ایک صحابی "انس" کہتے ہیں: فما فرح المسلمون بشیء فرحھم بھذا الحدیث " مسلمان کسی حدیث پر اتنا خوش نہیں ہوئے ، جتنا کہ اس حدیث پر خوش ہوئے"۔ ؎ 1 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد بحث کو جاری رکھتے ہوئے، علمِ غیب کے بارے میں ایک قاعدہ کلیہ بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "عالم الغیب خدا ہے وہ کسی کو بھی اپنے غیب کے اسرار سے آگاہ نہیں کرتا"(عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٓ ٖ اَحَدًا) ۔ ؎2 ــــــــــــــــــــ اس کے بعد اس کلی مسئلہ سے استثناء کے عنوان سے مزید کہتا ہے : "مگر وہ رسول کہ جسے اس نے برگزیدہ کیا ہے اور اس سے وہ راضی ہے"۔ (الامن ارتضٰی من رسول)۔ وہ اسے جتنا چاہتا ہے علمِ غیب کی تعلیم دیتا ہے اور وحی کے ذریعہ اس تک پہنچاتا ہے۔ " پھر اس کے آگے اور پیچھے نگرانی کرنے والے نگہبان بھیجتا ہے"۔(فانہ یسلک من بین یدیہ ومن خلقہ رصدًا)۔ " رصد" اصل میں "مصدری" معنی رکھتا ہے اور کسی چیز کی نگرانی اور نگہبانی کے لیے آمادگی کے معنی میں ہے اور "اسم فاعل" اور "مفعول" پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اور یہ مفرد و جمع دونوں استعمال ہوتا ہے۔ ص یعنی ایک نگرانی کرنے والا اور نگہبان فرد، یا نگرانی کرنے والے اور نگہبانوں کی ایک جماعت، دونوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے اور یہاں اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جھنیں خدا نزولِ وحی کے بعد حکم دیتا ہے کہ وہ اس کے پیغمبر کا ہر طرف سے احاطہ کیے رہیں ۔ اور شیاطین ، جن و انس اور ان کے وسوسوں سے، اور ان چیزوں سے، جو وحی کی اصالت کو خدشہ وار کرتی ہیں، محافظت اور پاسداری کریں، تاکہ اللہ کا پیغام کمی و زیادتی اور کسی معمولی سے معمولی خدشہ کے بغیر بندوں تک پہنچ جائے۔ اور یہ بات خود پیغمبرؐ کے معصوم ہونے کی دلیل ہے کہ وہ غیبی قوتوں اور خدائی امدادوں اور اس کے فرشتوں کی نگرانی کے ذریعہ لغزیشوں اور خطاؤں سے مومون و محفوظ ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 تفسیر "مرافی" جلد 29 ص 105 ؎ 2 "عالم الغیب" ایک مبتدائے محذوف کی خبر ہے اور تقدیر "ھو العلم الغیب" ہے اور بعض نے اسے "ربی" کی صفت یا بدل قرار دیا ہے، جو گزشتہ آیت میں ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــ آخری زیرِ بحث آیت میں جو اس سورہ کی آخری آیت ہے، ان نگرانی کرنے والے نگہبانوں کے وجود کی دلیل کو اس طرح بیان کرتا ہے "مقصد یہ ہے کہ خدا جان لے کے پیغمبروں نے اپنے پروردگار کے پیغامات بے کم و کاست پہنچا دیئے ہیں، اور جو کچھ ان کے پاس ہے ، خدا اس پر احاطہ رکھتا ہے، اور اس نے ہر ایک چیز کا باریکی کے ساتھ شمار کیا ہے"۔(لِّيَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسَالَاتِ رَبِّـهِـمْ وَاَحَاطَ بِمَا لَـدَيْهِـمْ وَاَحْصٰى كُلَّ شَىْءٍ عَدَدًا)۔ ؎ 1 یہاں "علم" سے مراد علم فعلی ہے اور دوسرے لفظوں میں آیت کا معنی یہ نہیں ہے کہ خدا اپنے پیغمبر کے بارے میں کسی چیز کو نہیں جانتا تھا اور بعد میں اس نے جانا ہے۔ کیونکہ خدا کا علم ازلی و ابدی اور بےپایاں ہے،بلکہ مراد یہ ہے کہ یہ علم الٰہی خارج میں تحقق پائے اور عینی صورت اختیار کرے۔ یعنی پیغمبراس کی رسالت کی عملی طور پر تبلیغ کریں اور اتمام حجت کریں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــ _____________________________________________________________________________ ؎ 1 بہت سے مفسرین نے "لیعلم" کی ضمیر کو پیغمبراسلامؐ کی طرف لوٹایا ہے اور انھوں نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ خدا اسرارِ وحی و رسالت کے لیے محافظ اور نگہبان قرار دیتا ہے ، تاکہ پیغمبرؐ جان لیں کہ انھوں نے وقت کے ساتھ، وحیِ الٰہی کو اس کے پاس پہنچا دیا اور کسی قسم ک شک اور تردد وحیِ الٰہی کی اصالت میں نہ کرے لیکن یہ تفسیر اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ رسالت تو پیغمبر کا کام ہے ، نہ کہ فرشتوں کا ، اور "رسول" کی تعبیر گزشتہ آیت میں اور "رسالات" کی تعبیر چند گزشتہ آیات میں، خود پیغمبرؐ کی ذات کے بارے میں آئی ہے۔ بعید نظر آتی ہے اور حق وہی پہلی تفسیر ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 72:25-28
آیت 25 تا 28
25- قُلْ اِنْ اَدْرِىٓ اَقَرِيْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ يَجْعَلُ لَـهٝ رَبِّىٓ اَمَدًا 26- عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٓ ٖ اَحَدًا 27- اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٝ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًا 28- لِّيَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسَالَاتِ رَبِّـهِـمْ وَاَحَاطَ بِمَا لَـدَيْهِـمْ وَاَحْصٰى كُلَّ شَىْءٍ عَدَدًا ترجمہ 25- کہہ دیجیے کہ میں نہیں جانتا، جس چیز کا تم سے واعدہ کیا گیا ہے وہ قریب ہے، یا میرا پروردگار اس کے لیے کوئی وقت قرار دے گا۔ 26- عالم الغیب وہی ہے اور وہ کسی شخص کو بھی اپنے غیب کے اسرار پر آگاہ نہیں کرتا 27- مگر ان رسولوں کو ، جنھیں اس نے منتخب کرلیا ہے، اور وہ ان کے لیے ، ان کے آگے بھی اور پیچھے بھی نگران مقرر کردیتا ہے 28- تاکہ وہ جان لے کہ اس کے پیغمبروں نے اپنے پروردگار کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے اور جو کچھ ان کے پاس ہے وہ اس پر احاطہ رکھتا ہے اور اس نے ہر چیز کا حساب کر رکھا ہے۔