أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَٱتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِ
Worship Allah and be wary of Him, and obey me,
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 71:1-4
آیت 1 تا 4
سورہ نوح بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ 1- اِنَّـآ اَرْسَلْنَا نُـوْحًا اِلٰى قَوْمِهٓ ٖ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِـيَـهُـمْ عَذَابٌ اَلِـيْـمٌ 2- قَالَ يَا قَوْمِ اِنِّىْ لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ 3- اَنِ اعْبُدُوا اللّـٰهَ وَاتَّقُوْهُ وَاَطِيْعُوْنِ 4- يَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُـوْبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ اِنَّ اَجَلَ اللّـٰهِ اِذَا جَآءَ لَا يُؤَخَّرُ ۖ لَوْ كُنْـتُـمْ تَعْلَمُوْنَ ترجمہ رحمٰن و رحیم خدا کے نام سے 1- ہم نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا، اور ہم نے ان سے کہا : اس سے پہلے کہ درد ناک عذاب ان کی طرف آئے، اپنی قوم کو ڈرائو۔ 2- انھوں نے کہا: اے قوم ! تمھارے لیے ایک واضح ڈرانے والا ہوں۔ 3- کہ تم خدا کی عبادت کرو اور اس کی مخالفت سے پرہیز کرو اور میری اطاعت کرو۔ 4- اگر تم ایسا کرو گے تو خدا تمھارے گناہوں کو بخش دے گا اور ایک معین وقت تک کیلیے تھیں زندہ رکھے گا،الیکن جب خدائی اجل آگئی تو پھر تاخیر نہیں ہوگی ، اگر تم سمجو :
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 71:1-4
عمر کی زیادتی اور کمی کے معنوی اسباب
ایک نکتہ عمر کی زیادتی اور کمی کے معنوی اسباب ایک دوسرا نکتہ جو اس آیت سے بخوبی معلوم ہوتا ہے ، وہ عمر کے کم ہونے میں گناہوں کی تاثیر ہے، کیونکہ ارشاد ہوتا ہے: اگر تم ایمان لے ائو اور تقوٰی اختیار کرو ، تو خدا تمھاری موت کو تاخیر میں ڈال دے گا ۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہتا ہے گناہ ہمیشہ انسان کے جسم اور روح پر ہولناک ضربیں وارد کرتے ہیں ، اس مطلب کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔ روایات اسلامی میں بھی اس کے معنی پر بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے، ان میں سے ایک پرمعنی حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے: من یموت بالذنوب کثر ممن یموت بالا جال، ومن یعیش بلاحسان اکثر ممن یعیش بلا عمار: "وہ لوگ جو گناہ کے اثر سے مرتے ہیں وہ ان سے بہت زیادہ ہیں ، جو خدائی موت سے دنیا سے رخصت ہوتے ہیں، اور وہ لوگ جو نیکوکار کی بناء پر لاطونی عمر پاتے ہیں ، ان سے بہت زیادہ ہیں، جن کی عمر طبیعی عوامل کی بناء پر زیادہ ہوتی ہے"۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 71:1-4
نوح کا پہلا پیغام
تفسیر ںوح کا پہلا پیغام ہم بیان کرچکے ہیں کہ یہ سورہ ںوح کے حالات کے اس حصہ کو بیان کرتا ہے، جو ان کی دعوت سے مربوط ہے، اور وہ راہ حق کے تمام راہ روئوں کو ، خصوصاً ہٹ دھرم قوموں کے مقبالہ میں ، حق کی طرف دعوت کے سلسلہ میں ، بہت سے عمدہ نکات سکھاتی ہے۔ سب سے پہلے ان کی بعثت کے مسئلہ کو شروع کرتے ہوئے فرماتا ہے : "ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا ، اور پم نے اس سے کہا : اس سے پہلے کہ دردناک عذاب ان کی طرف آئے تم اپنی قوم کو ڈرائو"۔(انا ارسلنا نوحاً الٰی قومہ ان انذرقومک من قبل ان یاتیھم عذاب الیم)۔ یہ درد ناک عذاب، ممکن ہے دنیا کا عذاب ہو، یا آخرت کا عذاب ہو، زیادہ مناسب یہ پے کہ دونوں مراد ہوں، اگرچہ اس سورہ کی آخری آیات کے قرینہ سے زیادہ تر مراد دنیا کا عذاب ہے۔ "انذار"(اور ڈرانے) پر تکیہ ہے، باوجود یہ کہ انبیاء ڈرانے والے بھی تھے، اور بشارت دینےوالے بھی، اس کی بناء پر ہے کہ انذار اور ڈرانا: غالباً زیادہ قوی تاثیر رکھتا ہے، جیسا کہ تمام دنیا میں قوانین کے اجراء کے لیے انذار اور سزا پر تکیہ ہوتا ہے۔ ۤ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ نوح ایک "اولوالعزم" پیغمبر، جو پہلی شریعت اور دین الٰہی کے حامل تھے ، عالمی دعوت تکھتے تھے، یہ فرمان حاصل کرنے کے بعد اپنی قوم کی طرف آئے اور ان سے کہا : "اے میری قوم !میں تنھارے لیے ایک واضح ڈرانے والا ہوں"۔(قال یا قوم انی لکم نذیر مبین)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ہدف و مقصد یہ ہے کہ تم خدائے یکتا و یگانہ کی پرستش کرو، اور جو کچھ اس کے علاوہ ہے اسے دور پھینک دو ، تقوٰی اختیار کرو اور میرے احکام کی جو خدا کے احکام ہیں اطاعت کرو (ان اعبدوا اللہ واتقوہ واطیعون)۔ حقیقت میں نوح نے اپنی دعوت کے مضمون کا تین جملوں خلاصہ بیان کیا ً خدائے یکتا کی پرستش، تقوٰی کی رعایت اور قوانین و احکام کی، جو وہ خدا کی طرف سے لائے تھے اور جو عقائد و اخلاق و احکام کا مجموعہ تھے ، اطاعت۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد انھیں شوق دلاتے ہوئے، اور اس دعوت کو قبول کرنے کے اہم نتائج کو دو مختصر سے جملوں میں بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے:اگر تم میری دعوت کو قبول کرلو تو خدا تمھارے گناہوں کو بخش دےگا۔(یغفرلکم من زنوبکم)- ؎1 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 "من" اس جملہ میں زائدہ اور تاکید کےلیے ہے، کیونکہ خدا پر ایمان تمام گزیشتہ گناہوں کے بخشے جانے کا(بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر دیکھیں)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ حقیقت میں مشہور قائدہ کلیہ "الاسلام یجب ما قبلہ" (اسلام اپنے سے پہلے کی چیزوں پر پردہ ڈال دیتا ہےاور انھیں ختم کردیتا ہے)ایک ایسا قانون ہے جو تمام توحیدی اور الٰہی دینوں میں ہے اور اسلام پر ہی منحصر نیہں ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: اور تمھیں ایک معین زمانہ کت تاخیر میں ڈالتا ہے اور تمھاری عمر کو طولانی کرکے تم سے عذاب کو دور رکھتا ہے۔ (ویئو خرکم الی اجل مسمًی)۔ "کیونکہ جب خدا کی طرف سے اصلی اور آخری اجل آجاتی ہے، تو اس میں تاخیر نہیں ہوتی ، اگر تم جانتے ہو (ان اجل اللہ اذا جاء لایئوخرلوکنتم یعلمون)۔ اس آیت سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ "اجل" اور انسانی عمر کی مدت دو قسم کی ہے، "اجل مسمی"اور"اجل نہائی یا آخری" یا دوسرے لفظوں میں "اجل ادٰنی" (نزدیک کی مدت والی)اور "اجل اقصی" (دور کی مدت والی)یا "اجل معلق" (مشروط)اور "اجل ختمی" (مطلق) پہلی قسم کی عمر کی مدت تو وہ ہے جو قابلِ تغیر ہے اور وہ انسان کے غلط اعمال کے نتیجے میں ممکن ہے کہ بہ جلدی آجائے جن میں ایک خدائی عزاب بھی ہے اور اس کے برعکس تقوٰی نیکوکاری اورتدبیر کی وجہ سے ممکن ہے کہ وہ بہت پیچھے اور تاخیر میں پڑجائے
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 71:1-20
1. True repentence has a doubleaspect. It looks upon the past with a weeping eye and upon the future with a watchful eye. It is relinquishment of every practice, from the conviction which it has offended God. Sorrow, fear, and anxiety are properly not parts but adjucts of repentence, yet are too closely connected with it to be separated. 2. It is greatest and dearest blessing which ever God gave man in which they may repent andtherefore to deny or delay is to refuse health when brought by the skill of the physician, to refuse liberty offered to us by our Gracious Lord.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 71:3
[Pooya/Ali Commentary 71:3] (see commentary for verse 1)