وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا
And Noah said, ‘My Lord! ‘Do not leave on the earth any inhabitant from among the faithless.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 71:26
[Pooya/Ali Commentary 71:26] (see commentary for verse 1)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 71:26-28
نوح پہلے اولوالعزم پیغمبر
چند نکات نوحؑ پہلے اولوالعزم پیغمبر قرآن مجید بہت سی آیات میں نوحؑ کے بارے میں گفتگو کرتا ہے اور مجموعی طور قرآن کی انتیس سورتوں میں اس عظیم پیغمبر کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے۔ اور ان کا نام 43 مرتبہ قرآن میں آیا ہے۔ قرآن مجید نے ان کی زندگی ک مختلف حصوں کی باریک بینی کے ساتھ تفصیل بیان کی ہے ایسے حصے جو زیادہ تر تعلیم و تربیت اور پندو نصیحت حاصل کرنے کے پہلوؤں سے مربوط ہیں۔ مورخین و مفسرین نے لکھا ہے کہ نوحؑ کا نام "عبدالغفار" یا "عبدالملک" یا "عبدالاعلٰی" تھا اور "نوح" کا لقب انھیں اس لیے دیا گیا ہے، کیونکہ وہ سالہا سال اپنے اوپر یا اپنی قوم پر نوحہ گری کرتے رہے۔ آپ کے والد کا نام "لمک" یا "لامک" تھا۔ اور آپ کی عمر ک مدت میں اختلاف ہے، بعض روایات میں 1490 اور بعض میں 2500 سال بیان کی گئی ہے اور ان کی قوم کے بارے میں بھی طولانی عمریں تقریبًا 300 سال تک لکھی ہیں، جو بات مسلم ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے بہت طولانی عمر پائی ہے، اور قرآن کی صراحت کے مطابق آپ 950 سال اپنی قوم کے درمیان رہے (اور تبیلغ میں مشغول رہے)۔ نوحؑ کے تین بیٹے تھے "حام" "سام" "یافث" اور مؤرخین کا نظریہ یہ ہے کہ کرہ زمین کی اس وقت کی تمام نسل انسانی کی باز گشت انھیں تینوں فرزندوں کی طرف ہے۔ ایک گروہ "حامی" نسل ہے۔ جو افریقہ کے علاقہ میں رہتے ہیں۔دوسرا گروہ "سامی" نسل جو شرق اوسط اور مشرق قریب کے علاقوں میں رہتے ہیں اور "یافث" کی نسل کو چین کے سا کنین سمجھتے ہیں۔ اس بارے میں بھی ، کہ نوحؑ طوفان کے کتنے سال زندہ رہے، اختلاف ہے ، بعض نے 50 سال لکھے ہیں اور بعض نے 60 سال - یہود کے منابع (موجودہ تورات میں بھی نوح کی زندگی کے بارے میں تفصیلی بحث آئی ہے، جو لحاظ سے قرآن سے مختلف ہے ، اور تورات کی تحریف کی نشانیوں میں سے ہے۔) یہ مباحث تورات کے سفر "تکوین" میں فصل 6،7،8،9،اور 10 میں بیان ہوئے ہیں۔ نوحؑ کا ایک اور بیٹا بھی تھا، جس کا نام "کنعان" تھا۔ جس نے باپ سے اختلاف کیا، یہاں تک کہکشتی نجات میں ان کے ساتھ بیٹھنے کے لیے بھی تیار نہ ہوا ، اس نے برے لوگوں کے ساتھ صحبت رکھی اور خاندانِ نبوت کی قدر و قیمت کو ضائع کردیا اور قرآن کی صراحت کے مطابق آخر کار وہ بھی باقی کفار کے مانند طوفان میں غرق ہوگیا۔ اس بارے میں کہ اس طویل مدت میں کتنے افراد نوحؑ پر ایمان لائے، اور ان کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے، اس میں بھی اختلاف ہے بعض نے 80 اور بعض نے 7 افراد لکھے ہیں۔ نوحؑ کی داستان عربی اور فارسی ادبیات میں بہت زیادہ بیان ہوئی ہے ، اور زیادہ تر طوفان اور آپ کی کشتی نجات پر تکیہ ہوا ہے۔ ؎1 نوحؑ صبر و شکر اور استقامت کی ایک داستان تھے اور محققین کا کہنا ہے کہ وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے انسانوں کی ہدایت کےلیے وحی منطق کے عقل و استدلال کی منطق سے بھی مددلی (جیسا کہ اس سورہ کی آیات سے اچھی طرح ظاہر ہے) اور اسی بناء پر آپ اس جہان کے تمام خدا پرستوں پر ایک عظیم حق رکھتے تھے ۔ ہم نوحؑ کے حالات کی تشریح کو امام باقرؑ کی ایک حدیث پر ختم کرتے ہیں ، آپ نے فرمایا: نوحؑ غروبِ آفتاب اور صبح کے وقت یہ دعا اور مناجات پڑھا کرتے تھے۔ ! امسیت اشھدانہ ماامسی بی من نعمۃ فی دین او دنیا فانھا من اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الحمد بھا علی واشکرکثیرًا فانزل اللہ "انہ کان عبدًا شکورًا" فھذا کان شکرہ؛ میں نے اس حالت میں شام کی ہے کہ اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ دین و دنیا کی جو نعمت میں رکھتا ہوں، وہ اس خدائے یگانہ کی طرف سے ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور میں اس کی نعمتوں پر پر اس کی حمد و ثناء کرتا ہوں اور اس کا بہت بہت شکر کرتا ہوں۔ اسی بناء پر خدا نے قرآن میں یہ نازل فرمایا ہے کہ وہ شکر گزار بندہ تھا اور نوحؑ کا شکر اسی طرح کا تھا۔ ؎ 2 ــــــــــــــــــــــــــــــــ 2- "رب اغفرلی الوالدی ولمن دخل بیتی مؤمنًا" پروردگارا!مجھے میرے ماں باپ کو اور جو شحص میرے گھر میں مومن وارد ہو بخش دے"۔ کے جملہ میں لفظ "بیت" کے معنی میں اختلاف ہے مجموعی طور پر اس کے چار معانی بیانکیے گئے ہیں بعض نے اسے شخصی اور ذاتی گھر کے معنی میں لیا ہے ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 "اعلام القرآن" ، "فرہنگ قصص قرآن" ، "دائرۃ المعارف و ھحزا" مادہ "نوح" و "بحارالانور جلد" ؎ 2 بحارالانوار جلد 11 ص 291 حدیث ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بعض مسجد کے معنی میں لیتے ہیں۔ بعض کشتی کے معنی میں لیتے ہیں اور بعض ان کے دین و آئین و شریعت کے معنی میں جانتے ہیں۔ ایک حدیث میں امام صادقؑ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا : "یہاں بیت سے مراد ولایت ہے، جو شخص ولایت میں داخل ہوا وہ انبیاء کے میں داخل ہوا ہے"۔ "من دخل فی الولایۃ دخل فی بیت الا نبیاء علیھم السلام" ـــــــــــــــــــــــــــــــ خداندا! ہمیں توفیق مرحمت فرما کہ ہم ولایت آئمہ اہل بیت کو قبول کرنے کے طریق سے بیت انبیاء میں داخل ہوں۔ پروردگارا! ہمیں ایسی استقامت عطا فرما کہ ہم نوحؑ ایسے بزرگ انبیاء کے مانند تیرے دین و آئین کی طرف دعوت کی راہ میں خستہ نہ ہوں، اور ہر گز تھک ہار کر نہ بیٹھ جائیں۔ بارالٰہا! جس وقت تیرے خشم و غضب کا طوفان آئے تو ہمیں اپنے لطف و رحمت کی نجات کی کشتی کے ذریعہ رہائی بخش دے۔ آمین یارب العالمیبن اختتام سورہ نوح اول ماہ محرم الحرام 1407ھ ـــــــــــــ اختتام ترجمہ بوقت تقریبًا پونے سات بجے صبح 21 محرم الحرام 1408ھ مطابق 15 ستمبر 1987ء 81- ای ماڈل ٹاؤن - لاہور صفدر حسین نجفی
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 71:26-28
آیت 26 تا 28
26- وَقَالَ نُـوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكَافِـرِيْنَ دَيَّارًا 27- اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُـمْ يُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَلَا يَلِـدُوٓا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا 28- رَّبِّ اغْفِرْ لِىْ وَلِوَالِـدَىَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِىَ مُؤْمِنًا وَّلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ؕ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِيْنَ اِلَّا تَبَارًا ترجمہ 26- نوح نے کہا: پروردگارا ! روئے زمین پر کفار میں سے کسی ایک کہ بھی زندہ نہ رہنے دے۔ 27- کیونکہ اگر تو انھیں رہنے دے گا ، تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کر دیں گے اور ایک فاجر و کافر نسل کے سوا کچھ وجود میں نہیں لائیں گے۔ 29- پروردگارا ! مھجے بخش دے ، اور اسی طرح میرے ماں باپ کو اور ان تمام لوگوں کو ، جو میرے گھر میں ایمان کے ساتھ وارد ہوئے ، اور مومن مرد اور مومن عورتوں کو بخش دے ، اور ظالموں میں ہلاکت کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ فرما۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 71:26-28
اس فاسد و مفسد قوم کو چلے جانا چاہیے
تفسیر اس فاسد و مفسد قوم کو چلے جانا چاہیے! یہ آیات اسی طرح سے ، نوح کی گفتگو اور خدا کی بارگاہ میں قوم کی شکایت اور ان کے بارے میں بدعا اور نفرین کو جاری رکھے ہوئے ہیں ، فرماتا ہے: "پروردگارا ! کفار میں کسی کو روئے زمین پر زندہ نہ رہنے دے"(وَقَالَ نُـوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكَافِـرِيْنَ دَيَّارًا)۔ یہ انھوں نے اس وقت کی جب وہ مکمل طور پر ان کی ہدایت سے مایوس ہوگئے تھے اور اپنی آخری کوشش ان کے ایمان لانے کے سلسلہ میں کر چکے تھے ، لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلا ، اور صرف تھوڑے سے لوگ ان پر ایمان لائے، "علی الارض" (صفحہ زمین پر) کی تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نوحؑ بھی عالمی اور جہانی تھی اور اور وہ طوفان اور عذاب بھی جو بعد میں آیا عالمی تھا۔ "دیار" (بروزن سیار) "دار" کے مادہ سے ہے، اس شخص کے معنی میں ہے جو گھر میں رہائش رکھتا ہو : یہ لفظ عام طور پر نفی عموم کے مواررد میں استعمال ہوتا پے، مثلاً کہا جاتا ہے (ما فی الدار دیار) (گھر میں کوئی نہی رہتا)۔ ؎ 1 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد نوحؑ اپنی نفرین اور بد دعا کرنے کے بارے میں استدلال کرتے ہیں اور مزید کہتے یں : "کیونکہ اگر تو انھیں چھوڑ دے گا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کر دیں گے اور فجر و کافر نسل کے سوا اور کچھ وجود میں نہیں لائیں گے"۔(اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُـمْ يُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَلَا يَلِـدُوٓا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا)۔ یہ گفتگو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انبطیاء کی نفرین و بددعا ، جن میں نوح بھی ہیں ، غیض و غضب ، انتقام جوئی اور کینہ پروری کی بناء پر نہیں ہوتی تھی ، بلکہ وہ ایک منطقی حساب کی صورت میں ہوتی تھی اور نوحؑ کم حوصلہ افراد کی طرح نہیں تھے کہ تھوڑی سی بات کےلیے آپے سے باہر ہوجائیں اور نفرین و بددعا کرنے لگ جائیں، بلکہ آپ نے نوسو پچاس (950) سال کی دعوت ، صبر ؤ شکیبائی اور خون دل پینے اور مکمل مایوسی کے بعد نفرین کے لیے زبان کھولی تھی۔ اس بارے میں کہ نوحؑ نے کسے سمجھ لی کہ اب یہ ایمان نہیں لائیں گے اور اس کے ساتھ وہ ان بندگانِ خدا کو اس ماحول میں رہتے تھے گمراہ کریں گے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ان کی آنے والی نسل بھی فاسد و مفسد ہوگی۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اس غیب پر اطلاع و آگاہی کی بناء پر تھا جو خدا نے انھیں دیا تھا ۔ یہ احتمال بھی دیاگیا ہے کہ نوحؑ نے اس مطلب کا وحی الٰہی سے استفادہ کیا تھا، جہاں فرماتا ہے: واوحی الٰی نوح انہ لن یؤمن من قومک الامن قداٰ من۔ نوحؑ کی طرف احی کی گئی تعری قوم میں سے کوئی شخص سوائے ان کے جو ایمان لاچکے ہیں ، اایمان نہیں لائیں گے " (سورہ ہود آیہ 32)۔ ؎ 2 لیکن یہ احتمال بھی قابلِ قبول ہے کہ نوحؑ نے ، فطری عادت اور عمومی حساب سے اس حقیقت کو معلوم کرلیا تھا، کیونکہ وہ قوم جسے ساڑھے نو سو سال تک موثر ترین بیانات کے ساتھ تبلیغ کی گئی ہو، اور وہ پھر بھی ایمان نہ لائے ہوں ، اس کی ہدایت کی امید نہ تھی اور چونکہ یہ کافر گروہ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 بعض کا کہنا ہے کہ اصل میں "دیوار" (بروزن حیوان) تھا، اس کے بعد "واؤ" "یاء" میں بدل گئی، اور یاء کا یاء میں ادغام ہوگیا (البیان فی غرائب القرآن جلد 6 ص 465 و تفسیر فخر رازی ، ) زیر بحث آیات کے ذیل میں ہیں۔ ؎2 اس معنی کی طرف بہت سی روایات میں اشارہ ہوا ہے (نور الثقلین جلد 5 ص 428)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ معاشرے میں قطعی اکثریت رکھتا تھا اور تمام وسائل و امکانات ان کے اختیار میں تھے۔ لہزا طبعاً وہ دوسروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے تھے اور اس قسم کی قوم کی آئیدہ نسل قطعی طور پر فاسد اور خراب ہوتی، ان تینون احتمالات کے درمیان جمع بھی ممکن ہے۔ "فاجر" اس شخص کے معنی میں ہے جو برے اور قبیح گناہ کا مرتکب ہوتا ہے اور "کفار" "کفر" میں مبالغہ ہے ، اس بناء پر ان دو الفاظ کے درمیان فرق یہ ہے کہ ان میں سے ایک عملی کاموں سے مربوط ہے اور دوسرا اعتقادی پہلوؤں سے۔ ان آیات کے مجموعہ سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ خدا کے عذاب "حکمت" کی بنیاد پر ہوتا ہیں ۔ وہ جمیعت جو فاسد و مفسد ہو اور ان کی آئیدہ آنے والی نسلیں بھی فساد و گمراہی کے خطرے سے دوچار ہوں، وہ خدا کی حکمت میں زندگی اور حیات کا حق نہیں رکھتیں، طوفان یا صاعقہ (بجلی) یا زلزلہ یا کوئی اور دوسری بلا نازل ہوگی اور انھیں صفحہ ہستی سے مٹا دے گی، جیسا کہ طوفانِ نوح نے زمین کو اس بری قوم کے وجود کی گندگی سے پاک کردیا۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ قانونِ الٰہی کسی خاص زمانہ اور مکان کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ ہمیں متوجہ رہنا چاہیے کہ اگر اس وقت بھی کوئی فسد و مفسد قوم اور اس کی الاد "فاجر" "کفار" ہو تو انھیں بھی عذاب الٰہی کا منتظر رہنا چاہیے، کیونکہ ان امور میں کوئی تبعض نہیں پے اور یہ ایک سنت الٰہی ہے۔ "یضلواعبادک" (تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے) کی تعبر ممکن ہے اس چھوٹے سے مومنین کے گروہ کی طرف اشارہ ہو، جو اس طویل مدت میں نوحؑ پر ایمان لایا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ عامۃالناس میں سے مستضعف لوگوں کی طرف اشارہ ہو جو گمراہ رہبروں کے دباؤ اور فشار سے ان کے دین و مذہب کی پیروی کرتے ہیں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ آخر میں نوحؑ اپنے لیے اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے تھے اس طرح دعا کرتے ہیں:"پروردگارا ! مھجے بخش دے ، اور اسی طرح میرے ماں باپ کو اور ان تمام لوگوں کو ، جوایمان کے ساتھ میرے گھر میں داخل ہوئے تھے، اور مومنین و مومنات کوبھی بخش دے ، اور ظالموں کے لیے ہلاکت کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ کر"۔(رَّبِّ اغْفِرْ لِىْ وَلِوَالِـدَىَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِىَ مُؤْمِنًا وَّلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ؕ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِيْنَ اِلَّا تَبَارًا)۔ ؎ 1 یہ طلب مغفرت اس لیے ہے کہ نوحؑ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگرچہ میں نے صدہا سال مسلسل تبلیغ کی ہے ، اور اس راہ میں ہر قسم کی تکلیف اور مصیبت جھیلی ہے، لیکن چونکہ ممکن ہے کہ اس مدت میں مجھ سے کوئی ترک اولٰی سرزد ہوگیا ہو، تو میں اس کے بارے میں بھی عفو و بخشش کا تقاضا کرتا ہوں، اور تیری بارگاہ مقدس میں ہرگز خود کو بری قرار نہیں دیتا۔ اور "اولیاء اللہ" کی حالت اسی طرح ہے کہ وہ راہ خدا میں ہر قسم کی زحمت و تکلیف اور سعی و کاشش کے بعد بھی اپنے آپ کو مقصر سمجھتے ہیں اور ہرگز غرور و تکبر اور خود کو بڑا سمجھنے میں گرفتار نہیں ہوتے۔ نوحؑ حقیقت میں چند افراد کے لیے طلبِ مغفرت کرتے ہیں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 "تبار" ہلاکت کے معنی میں ہے اور "زبان اور خسارے" کے معنی میں بھی اس کی تفسیر ہوئی ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اول: اپنے لیے ، کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی قصور یا ترک اولٰی ان سے سرزد ہوگیا ہو۔ دوم: اپنے ماں باپ کے لیے ، ان کی زحمتوں کی قدردانی کے باعث اور حق شناسی کے پیش نظر۔ سوم: تمام ان لوگوں کے لیے جو ان پر ایمان لائے، اگرچہ وہ بہت تھوڑے تھے اور پھر وہ آپ کے ساتھ کشتی پر سوار ہوئے کہ وہ کشتی بھی نوحؑ کا گھر تھی۔ چہارم: تمام جہان اور طول تاریخ میں ایمان لانے والے مردوں اور عورتوں کے لیے اور یہاں سے اپنا رابطہ سارے عالم کے مومنین سے برقرار کر رہے ہیں ۔ لیکن آخر میں پھر ظالموں کی نابودی کی تاکید کرتے ہیں ، جو اس بات کیطرف اشارہ ہے کہ وہ اپنے ظلم کی بناء پر اسی قسم کے بارے عذاب کے مستحق ہیں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــ