فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا
telling [them]: ‘‘Plead to your Lord for forgiveness. Indeed, He is all-forgiving.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 71:10
[Pooya/Ali Commentary 71:10] (see commentary for verse 1)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 71:10-14
ایمان کی دنیاوی جزا
تفسیر ایمان کی دنیاوی جزا نوح اس ہٹ دھرم اور سرکش قوم کی ہدایت کہ لیے ، اپنے مئوثر بیانات کو جاری رکھتے ہوئے ، اس مرتبہ بشارت و تشویق پر تکیہ کرتے ہیں اور انھیں تاکید کے ساتھ یہ وعید دیتے ہیں کہ اگر وہ شرک و گناہ سے توبہ کرلیں، تو خدا ان پر اپنی رحمت کے دروازے ہر طرف سے کھول دے گا، ارشاد ہوتا ہے : "خداوندا! میں ان سے کہا کہ تم اپنے پروردگار سے بخشش طلب کرو وہ بہت ہی بخشنے والا ہے"۔(فقلت استغفرط ربکم انہ کان غفارًا)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ نہ صرف یہ کہ وہ تمھیں گناہوں سے پاک کردے گا ، بلکہ" اگر تم ایسا کرو تو وہ تم پر آسمان سے برکتوں والی بارشیں پےدرپے نازل کرے گا"۔ (یرسل السماء علیکم مدرارًا)۔ ؎1 خلاصہ یہ کہ اس کی معنوی رحمت کی بارش بھی ، اور مادی برکت پر برکت بارش بھی نازل ہوگی۔ص قابل توجہ بات یہ کے کہ کہتا ہے: "آسمان کو تم پر بھیجے گا" یعنی اس قدر بارش ہوگی گویا آسمان بس رہا ہے: لیکن چونکہ وہ رحمت کی بارش ہوگی ، لہذا نہ تو اس کوئی ویرانی اور تبائی ہوگی، اور نہ ہی کوئی تکلیف پہنچھے گی، بلکہ وہ ہر جگہ خوشی و خرمی اور سر سبز و شادابی کا باعث ہوگی۔ _________________ اس کے بعد مزید کہتا ہے :" اور تمھارے مال والاد میں زیادتی کریگا"۔(ویمد دکم باموال و بنین)۔ "اور تمھارے لیے سرسبز و شاداب باغ ، اور رواں پانی کی نہریں قرار دےگا"(ویجعل لکم جنات و یجعل لکم انھارًا)۔ اس طرح سے انھیں ایک عظیم معنوی نعمت، اور پانچ عظیم مادی نعمتوں کی وعید دی ہے، معنوی عظیم نعمت تو گناہوں کی بخشش اور کفر و عصیان کی آلودگی سے پاک ہونا ہے۔ باقی رہی مادی نعمتیں تو مفید ، برموقع اور پُر برکت بارشوں کا نازل ہونا ، مال کی زیادتی ، اولاد کی فراوانی ، (انسانی سرمایہ) پر برکت باغات اور جاری پانی کی نہریں۔ ہاں قرآن مجید کی گواہی کے مطابق ، ایمان و تقوٰی ، دنیا کی آبادی کا سبب بھی ہے اور آخرت کی آبادی کا موجب بھی۔ بعض ورایات میں آیا ہے کہ جب اس ہٹ دھرم قوم نے نوح کی دعوت کو قبول کرنے سے منہ پھیر لیا، تو خشک سالی اور قحط نے انھیں گھیر لیا، اور ان کے بہت سے اموال واولاد تباہ و ہلاک ہوگئے، عورتیں بانجھ ہوگیئں اور ان کے کوئی بچہ پیدا نہ ہوا تو نوحؑ نے ان سے کہا: اگر تم ایمان لے ائو تو یہ تمام مصیبتیں اور بلائیں تم سے دور ہوجائیں گی۔ لیکن انھوں نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اور اسی طرح سے سختی پر قائم رہے یہاں تک کہ آخری عزاب آ پہنچا جس نے سب کا خاتمہ کردیا۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد پھر دوبارہ ڈرانے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور کہتے ہیں: "تم خدا سے ڈرتے کیوں نہیں اور خدا کی عظمت کے قائل کیوں نہیں ہوتے"۔(مالکم لا ترجون للہ و قارًا)۔ ؎ 2 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ "حا لانکہ خدا نے تمھیں گوناگوں طریقے کی خلقتیں دی ہیں" (وقد خلقکم اطوارًا)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 "مدرار" "در" (بروزن جر) کے مادہ سے اصل میں پستان مادر سے "دودھ" کے گرنے کے معنی میں ہے اور پھر بارش برسنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ "مدرار" مبالغہ کا صیغہ ہے۔ ؎ 2 "وقار" وزن اور عظمت معنی میں ہے اور "ترجون""رجاء" کے مادہ سے، امید کے معنی میں ہے جو بعض اوقات خوف سے تو اُم ہوتا ہے۔ اور سارے جملہ کا معنی یہ ہے کہ تم عظمت خدا کے مقابلہ میں خضوع کیوں نہیں کرتے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ پہلے تم ایک بے قدر و قیمت "نطفہ" تھے زیادہی وقت نہ گزرا تھا کہ تمھیں "علقہ" بنادیا اور اس کے بعد "مضغہ" کی صورت میں لے آیا، اس کے بعد اس نے تمھیں انسانی شکل وصورت اور جسم کو لباس حیات پہنایا اور تمھیں روح اور حس وحرکت دی، اسی طرح سے تم نے یکے بعد دیگرے مختلف جنینی مراحل طے کیے، یہاں تک کہ تم ایک مکمل انسان کی شکل و صورت میں ، ماں سے پیدا ہوگئے ، اس کے بعد زندگی کے مختلف اطوار اور زندگی کی مختلف شکلیں شروع ہوگیئں۔ تم ہمیشہ اس کی ربوبیت کے ماتحت رہے ہو اور ہمیشہ نئی سے نئی حالت اختیار کرتے ہو اور ایک جدید خلقت حاصل کرتے ہو، تو پھر تم اپنے خالق کے با عظمت آستانے پر سر تعظیم کیوں نہیں جھکاتے۔ نہ صرف جسمانی لحاظ سے تم مختلف شکلیں بدلتے ہو بلکہ تمھاری روح اور جان بھی ہمیشہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ تم میں سے ہر ایک ، ایک نئی استعداد رکھتا ہے ، اور ہر سر میں ایک نیا ذوق اور ہر دل میں نی شوق ہے اور تم سب کے سب ہمیشہ بدلتے رہتے ہو، بچپنے کے احساسات اپنی جگہ، جونی کو دے دیتے ہیں اور جوانی اپنے احساسات ادھیڑ عمر اور بڑھاپے کے احساسات کے حوالے کردیتی ہے ۔ اس طرح سے وہ جگہ تمھارے ساتھ ہے اور ہر قدم پر تمھاری رہبری اور ہدایت کرتا ہے اور اس کے سارے لطف و عنایت کے باوجود یہ کفران اور بے حرمتی کس بناء پر ہے۔ ؟ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 71:10-14
آیت 10 تا 14
10- فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ اِنَّهٝ كَانَ غَفَّارًا 11- يُـرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًا 12- وَيُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّّبَنِيْنَ وَيَجْعَلْ لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَّّيَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهَارًا 13- مَّا لَكُمْ لَا تَـرْجُوْنَ لِلّـٰهِ وَقَارًا 14- وَقَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا ترجمہ 10- میں نے ان سے کہا : اپنے پروردگار سے بخشش طلب کرو ، وہ بہت بخشنے والا ہے۔ 11- تاکہ وہ آسمان کی پر برکت بارشیں ہےدرہے تم پر بیجھے۔ 12- اور تمھاری فراواں مال و دولت سے مدد کرے، اور تمھارے لیے سرسبز باغات اور نہریں جاری کرے۔ 13- تم خدا کی عظمت کے قائل کیوں نہیں ہوتے؟ 14- حالانکہ اس نے تمھیں مختلف مرحلوں میں پیدا کیا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 71:10-14
تقوی اور عمران و آبادی میں ربط
ایک نکتہ "تقوٰی" اور "عمران و آبادی" میں ربط : قرآن کی مختلف آیات سے ، منجملہ ان کے اوپر والی آیات سے یہ نکتہ اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے، کہ ایمان و عدالت ، معاشروں کی آبادی کا باعث ہیں اور کفر ، ظلم اور گناہ ویرانی و تبائی کا سبب ہیں۔ سورہ اعراف کی آیہ 96 میں آیا ہے: وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓى اٰمَنُـوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْـهِـمْ بَـرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ" اگرشہروں اور بستیوں رہنے والے ایمان لے آتے اور تقوٰی اختیار کرتے تو ہم آسمان و ذمین کی برکتوں کے دروازے ان پر کھول دیتے۔" اور سورہ روم کی آیہ 41 میں آیا ہے:ظَهَرَ الْفَسَادُ فِى الْبَـرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِى النَّاسِ۔ خشکی اور سمندر میں، لوگوں کے اعمال کی وجہ سے فساد برپا ہوگیا ہے۔ اور سورہ شورٰی کی آیت 30 میں آیا ہے : وَمَآ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ "جو مصیبت بھی تمھیں پہنچتی ہے ، وہ تمھارے اعمال کی وجہ سے ہوتی ہے"۔ اور سورہ مائدہ کی آیہ 66 میں آیا ہے : وَلَوْ اَنَّـهُـمْ اَقَامُوا التَّوْرَاةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْـهِـمْ مِّنْ رَّبِّـهِـمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِـمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِـمْ۔"اگر وہ توریت اور انجیل کو اور کو کچھ تمھارے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوا ہے اسے قائم رکھتے، تو وہ آسمان و زمین سے روزی کھاتے"۔ (اور آسمان اور زمین کی برکتیں انھیں گھیرلیتیں)، اور اسی قسم کی دوسری آیات مزید ہیں۔ یہ "رابطہ" صرف ایک باطنی و معنوی رابطہ ہی نہیں ہے ، بلکہ معنوی رابطہ کے علاوہ ـــــــــ جس کہ آثار اچھی طرح دکھائی دیتے ہیں ـــــــــــــ ایک واضح مادی رابطہ بھی ہے۔ کفر و بے ایمانی: مسئولیت کے عدم احساس ، قانون شکنی اور اخلاقی اقدار کو فراموش کرنے کا سرچشمہ بھی ہے اور یہ امور معاشروں کی وحدت کے ختم ہونے، اعتماد و اطمینان کے پایوں کے متزلزل ہونے، اقتصاد و انسانی قوتوں کے ضائع ہونے، اور اجتماعی اعتدال کے درہم برہم ہونے کاسبب بھی ہیں۔ واضح رہے کہ وہ معاشرہ جس پر ان امور کی حکمرانی ہو وہ بہت جلد پیچھے چلا جاتا ہے، اور سقوط و نابودی کی راہ پر چل پڑتا ہے اور اگر ہم کچھ معاشروں کو دیکھتے ہیں، کہ وہ ایمان و تقوٰی کے نہ ہونے کے باوجود ، مادی حالت کے سلسلہ میں ، پیش رفت کر رہے ہیں تواسے بھی بعض اخلاقی اصولوں کی رعایت کا مرہون منت سمجھنا چاہیے ، جو گزشتہ انبیاء کی میراث اور خدائی رہبروں ، علماء اور دانش مندوں کی صدیوں کی طویل زحمتوں کا نتیجہ ہے۔ اوپر والی آیات کے علاوہ اسلامی روایات میں بھی اس معنی پر بہت زیادہ تکیہ ہوا ہے کہ استغفار اور ترکِ گناہ، روزی کی کثرت اور زندگی کی بہبود کا سبب ہیں، منجملہ ان کے: ایک حدیث میں علیؑ سے آیا ہے ، کہ آپ نے فرمایا : اکثر الاستغفار تجلب الرزق۔ زیادہ استغفار کر، تاکہ تو روزی کو جلب کرے۔ ؎ 1 ایک اور حدیث میں پیغمبراکرمؐ سے اس طرح نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا : من انعم اللہ علیہ نعمۃ فلیحمد اللہ تعالٰی، ومن استبطا الرزق فلیستغفراللہ ، ومن حزنہ امر فلیقل، لا حول ولا قوۃ الا باللہ "جسے خدا نے نعمت بخشی ہے ، وہ خدا شکر بجا لائے، اور جس کی روزی میں کچھ تاخیر ہو تو وہ استغفار اور طلب بطخشش کرے ، اور جو کسی حادثہ کی وجہ سے غمگین ہو تو وہ "" لا حول ولا قوۃ الا باللہ" کہے۔ ؎ 2 وقد جعل اللہ سبحانہ الاستغفار سببًا لدرورالرزق و رحمۃ الخق، فقال سبحانہ استغفار وا ربکم انہ کان غفارًا یرسل السماء علیکم مدرارًا..........." ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 تفسیر نورالثقلین جلد 5 ص 426 ؎2 ایضاً ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ "خداوند سبحان نے استغفار کو روزی کی زیادتی ، اور مخلوق کے لیے رحمت قرار دیا ہے، اور فرمایا ہے کہ اپنے پروردگار سے بخشش طلب کرو، کہ وہ بہت بخشنے والا ہے، اور وہ آسمانوں کی برکتوں والی بارش تم پر برساتاہے"؎1 حقیقت یہ ہے کہ بہت سے گناہوں کی سزا ، اسی جہان کی محرومیاں ہیں اور جب انسان اس سے توبہ کرکے پاکیزگی اور تقوٰی کی راہ اختیار کرلیتا ہے تو خدا اس عزاب اور سزا کو اس سے بر طرف کر دیتا ہے۔ ؎ 2 ــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 "نہج البلاغہ" خطبہ 142 ؎2 ہم نے اس سلسلہ میں "گناہ اور معاشروں کی تبائی" کے عنوان کے تحت ، سورہ کی آیہ 52 کے ذیل میں، ایک دوسری تشریح بھی کی ہے تفسیر نمونہ جلد 9 ص 121