وَٱذۡكُرُوٓاْ إِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢ بَعۡدِ عَادٖ وَبَوَّأَكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ تَتَّخِذُونَ مِن سُهُولِهَا قُصُورٗا وَتَنۡحِتُونَ ٱلۡجِبَالَ بُيُوتٗاۖ فَٱذۡكُرُوٓاْ ءَالَآءَ ٱللَّهِ وَلَا تَعۡثَوۡاْ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُفۡسِدِينَ
Remember when He made you successors after [the people of] ‘Ad, and settled you in the land: you build palaces in its plains, and hew houses out of the mountains. So remember Allah’s bounties, and do not act wickedly on the earth, causing corruption.’
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 7:59-84
Note: This is a paragraph on knowledge of Divine Lights, whose sound and real and useful advice is referred to the public, as against those of their enemies, yielding hardly beneficial results. Put logically (79) it is: 1. If you loved me, you would have accepted my Divine Message. 2. But you denied it. 3. And, therefore, you did not love Me, hence, your destruction is certain. Thus love of Divine Light is the test of salvation.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:73-79
قوم ثمود کی عبرت انگیز سرگزشت
ان آیات میں خدا کے بزرگ پیغمبر حضرت صالح (علیه السلام)کے اس جہاد کا ذکر کیا گیا ہے جو انھوں نے اپنی قوم ثمود کے خلاف کیا، قوم ثمود شام اور حجاز کے درمیان ایک کوہستانی علاقے میں رہتی تھی، اس سلسلے میں قرآن میں جو عبرت انگیز واقعات نوح (علیه السلام) اور ہود (علیه السلام) کی قوموں کے متعلق بیان کئے ہیں ان آیات میں بھی انہی کا تذکرہ ہوا ہے اور حضرت صالح(علیه السلام) کا قصہ بیان کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ سورہ ہائے ”ہود“،”شعراء“،”قمر“ اور ”شمس“ میں بھی اس سرگزشت کاذکر ہے، لیکن سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ سورہٴ ہود مین اس واقعہ کا ذکر ہے، ان آیات میں حضرت صالح(علیه السلام) اور ان کی قوم کے درمیان جو گفتگو ہوئی ہے اس کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے اور ان کے انجام بد کا ذکر ہے ۔ پہلے فرمایا گیا ہے”ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا(وَإِلیٰ ثَمُودَ اٴَخَاھُمْ صَالِحًا ) ۔ ان پیغمبروں کو بھائی کیوں کہا گیا اس کی وجہ اسی سورہ کی آیت ۶۵ میں ہم حضرت ہود (علیه السلام) کے واقعے میں بیان کر آئے ہیں ۔ اس قوم کے پیغمبر حضرت صالح(علیه السلام) نے بھی دیگر پیغمبرون کی طرح اپنی قوم کے اصلاح کے لئے پہلا قدم مسئلہ توحید اور یکتا پرستی سے اٹھایا اور ان سے کہا: اے میری قوم ! خدائے یگانہ کی پرستش کرو کیوں کہ اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ہے (قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَکُمْ مِنْ إِلَہٍ غَیْرُہُ) ۔ اس کے بعد اس جملے کا اضافہ فرمایا کہ میں بغیر کسی دلیل کے کوئی بات نہیں کہتا، بینہ اور روشن دلیل تمھارے پروردگار کی جانب سے تمھارے لئے آچکی ہے اور یہ وہی اونٹنی ہے جس کو خدا نے تمھارے لئے معجزہ قرار دیا ہے (قَدْ جَائَتْکُمْ بَیِّنَةٌ مِنْ رَبِّکُمْ ھٰذِہِ نَاقَةُ اللهِ لَکُمْ آیَةً) ۔ ”ناقہ“ کے اصلی معنی لغت میں اونٹنی کے ہیں، قرآن میں سات جگہ ناقہ صالح کا زکر آیاہے،(۱)یہ اونٹنی کیسی تھی؟ اور کس طرح اللہ نے اسے قوم صالح (علیه السلام) کے لئے معجزہ اور دندان شکن دلیل قرار دیا ؟ ان تمام باتوں کی تفصیل انشاء اللہ ہم سورہٴ ہود کی تفسیر میں پیش کریں گے ۔ ضمنی طور سے یہ وضاحت بھی کردینا چاہئے کہ ناقہ کی اضافت اللہ کی طرف ”اضافت تشریعی “ ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ یہ اونٹنی کوئی معمولی اونٹنی نہ تھی بلکہ اس میں امتیاز پایا جاتا تھا ۔ بعد ازاںان سے فرمایا: اس ناقہ کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچانا، اس کو خدا کی زمین میں چرنے دینا اوراسے اذیت نہ دینا ورن دردناک عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے ( فَذَرُوھَا تَاٴْکُلْ فِی اٴَرْضِ اللهِ وَلَاتَمَسُّوھَا بِسُوءٍ فَیَاٴْخُذَکُمْ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ) ۔ ”ارض“ پر لفظ ”اللہ“ کا اضافہ اس وجہ سے ہے کہ یہ اونٹنی کسی کو نقصان نہیں پہنچاتی ہے کیوں کہ اس کی غذا جنگل کی گھاس پھوس ہے ، لہٰذا تم اسے کیوں نقصان پہنچاؤ۔ اس کے بعد والی آیت میں فرما یا گیا ہے: یہ دھیان میں رہے کہ خدا نے قوم ”عاد“ کے بعد تمھیں ان کا جانشین اور خلیفہ قرار دیا ہے اور زمین میں تمھیں جگہ دی ہے، یعنی ایک طرف تو تم کو اللہ کی نعمتوں کا خیال رہنا چاہئے،دوسرے یہ بھی یاد رہے کہ تم سے پہلے جو قوم تھی وہ اپنی سرکشی اور طغیان کے باعث عذاب الٰہی سے تباہ وبرباد ہوچکی ہے (وَاذْکُرُوا إِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ عَادٍ وَبَوَّاٴَکُمْ فِی الْاٴَرْضِ) ۔ پھر اس کے بعد انھیں عطا کی گئی کچھ نعمتوں کا تذکرہ فرمایا گیا ہے: تم ایک ایسی سرزمین میں زندگی بسر کرتے ہو جس میں ہموار میدان بھی ہیں جن کے اوپر تم عالیشان قصر اور آرام دہ مکانات بنا سکتے ہو، نیز اس میں پہاڑی علاقے بھی ہیں جن کے دامن میں تم مضبوط مکانات تراش سکتے ہو (جو سخت موسم میںسردیوں کے زمانے میں تمھارے کام آسکتے ہیں)( تَتَّخِذُونَ مِنْ سُھُولِھَا قُصُورًا وَتَنْحِتُونَ الْجِبَالَ بُیُوتًا ) اس تعبیر سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ لوگ (قوم عاد) سردی اور گرمی میں اپنی سکونت کی جگہ بدل دیتے تھے، فصل بہار اور گرمیوں میں وسیع اور بربرکت میدانوں زراعت کرتے تھے اور پرندے اور چوپائے پالنے مین مشغول رہا کرتے تھے اس وجہ سے وہاں خوبصورت اور آرام دہ مکانات بناتے تھے اور جب موسم سرما آجاتا تھا اور اناج کاٹ لیتے تھے، تو اپنے ان گھروں میں چلے جاتے تھے جو انھوں نے پہاڑوں پر تراش کر بنائے تھے اور یہ مکانات انھیں سیلابوں اور طوفانوں سے محفوظ رکھتے تھے، یہاں وہ اطمینان سے سردی کے دن گزاردیتے تھے ۔(2) آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: خدا وند کریم کی ان سب نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد نہ کرو اور کفران نعمت نہ کرو(فاذْکُرُوا آلَاءَ اللهِ وَلَاتَعْثَوْا فِی الْاٴَرْضِ مُفْسِدِینَ) ۔(4) یہاں پر ہمیںپھر یہ ملتا ہے کہ سردار اور ثروت مند، خوش ظاہر اور بدباطن لوگ جنھیں لفظ”ملاء“ (آنکھوں میں سماجانے والے) سے تعبیر کیا گیا ہے، انھوں نے اس عظیم پیغمبر کی مخالفت شروع کردی، ان کے خلاف ایک اچھا خاصہ گروہ ان لوگوں کا تھا جو خوش فکر وپاک دل تھے اور ہمیشہ مذکورہ سرداروں کی اسیری میں تھے (یعنی ان کے مزدور تھے) اور انھوں نے حضرت ”صالح“ کی دعوت کو قبول کرلیا تھا اور وہ ان کے گرد جمع ہوگئے تھے، انھوں نے سرداروں کی مخالفت شروع کردی لہٰذا جیسا کہ قرآن کہتا ہے ان سرداروں اور متکبر افراد نے ان غریب لوگوں (مستضعفین) سے جو ایمان لاچکے تھے یہ کہا:آیا واقعاً تمھیں یہ علم ہے کہ صالح خدا کی جانب سے ہماری ہدایت کے لئے بھیجے گئے ہیں (قَالَ الْمَلَاٴُ الَّذِینَ اسْتَکْبَرُوا مِنْ قَوْمِہِ لِلَّذِینَ اسْتُضْعِفُوا لِمَنْ آمَنَ مِنْھُمْ اٴَتَعْلَمُونَ اٴَنَّ صَالِحًا مُرْسَلٌ مِنْ رَبِّہِ) ۔ اس سوال سے ان کا منشا کوئی حق کی جستجو نہ تھا بلکہ دراصل وہ اس طرح مومنین کے دلوں میں شک وشبہ ڈالنا چاہتے تھے اوران کی قوت ارادی کو کمزور کرنا چاہتے تھے اور چاہتے تھے کہ جس طرح وہ پہلے سرمایہ داروں کے مطیع اور فرمانبردار تھے اسی طرح رہیں اور حضرت صالح (علیه السلام) کی حمایت سے ہاتھ اٹھا لیں ۔ لیکن جلد ہی ایسا قطعی جواب ملا جو تابعین حضرت صالح (علیه السلام) کے قوی ارادہ کی حکایت کرتا ہے، انھوں نے کہا: صرف یہی نہیں کہ ہم کو اس بات کا یقین ہے کہ صالح خدا کے فرستادہ ہیں بلکہ ہم تو ان کی پیغمبری پر ایمان بھی لاچکے ہیں ( قَالُوا إِنَّا بِمَا اٴُرْسِلَ بِہِ مُؤْمِنُونَ) ۔ یہ جواب سن کر بھی متکبر اور مغرور افراد خاموش نہ ہوئے بلکہ مومنین کے ارادے کو متزلزل کرنے کے لئے انھوں نے دوبارہ کہا: ہم تو اس چیز کے منکر ہیں جس پر تم ایمان لائے ہو( قَالَ الَّذِینَ اسْتَکْبَرُوا إِنَّا بِالَّذِی آمَنتُمْ بِہِ کَافِرُونَ) ۔ چونکہ وہ لوگ (متکبرین) اپنی ظاہری قوت وشوکت کی وجہ سے عام لوگوں میں قدر کی نگاہ دیکھے جاتے تھے اور لوگوں کے لئے نمونہ عمل تھے، لہٰذا انھوں نے خیال کیا کہ اس مرتبہ بھی لوگ ان کی پیروی کریں گے اور اظہار کفر وبے ایمانی میں ان کا ساتھ دے گے، مگر جلد ہی ان کو پتہ چل گیا کہ وہ کس خام خیالی میں مبتلا ہیں انھوں نے دیکھا کہ خدا پر ایمان لانے کی وجہ لوگوں کی شخصیت میں انقلاب آگیا ہے اور اب وہ استقلال فکری اور قوی ارادہ کے مالک بن گئے ہیں ۔ یہاں پر یہ بات قابل توجہ ہے مذکورہ آیات میں بے ایمان لوگوں کو ”متکبرین“ کے عنوان سے اور زحمت کش ،محنتی اور با ایمان طبقہ کو ”مستضعفین“ کے نام سے ذکر کیا گیا ہے، اس سے یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ پہلی قسم کے لوگ اپنے کو سب سے بہتر خیال کرتے تھے اور اپنے زیر دست افراد کے انھوں نے حقوق غصب کرلئے تھے، ان کی صلاحتوں کا استحصال کرکے وہ اس مقام پر پہنچ گئے تھے کہ ان کو آج کی اصطلاح میں طبقہ ”استثمارگر“ (وسائل لوٹنے والا) کہاجاسکتا ہے، جب کہ دوسرے طبقہ کو ”استثمار شوندہ “(جس کے وسائل اور صلاحتوں کا استحصال کیا گیا ہو ) کہا جاسکتا ہے ۔ جب خود خواہ متکبر ثروتمند لوگ مومن افراد کے پائے استقلال کو نہ ڈگمگاسکے اور ان کو اس معاملہ میں مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا، دوسری طرف انھوں نے دیکھا کہ اس اونٹنی کی وجہ سے جو حضرت صالح (علیه السلام) کا معجزہ شمار ہوتی تھی، ان کی سم پاشیاں بے اثر ہوکر رہ گئی ہے ، تو انھوں نے اس ناقہ کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرلیا اور اسی قتل کرنے سے پہلے ”انھوں نے اس کو پے کردیا اس کے بعد اسے جان سے مارڈالا اس طرح انھوں نے خدا کے فرمان سے سرکشی کی “(فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَعَتَوْا عَنْ اٴَمْرِ رَبِّھِمْ) ۔(3) انھوں نے صرف اسی پر اکتفا نہ کی بلکہ اس کے بعد وہ حضرت ”صالح(علیه السلام)“ کے پاس آئے اور اعلانیہ ان سے کہنے لگے :اگر تم واقعاً خدا کے فرستادہ ہو تو جتنی جلدی ہوسکے عذاب الٰہی لے آؤ( وَقَالُوا یَاصَالِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ کُنتَ مِنَ الْمُرْسَلِینَ) ۔ یعنی ہم کو ذرا بھی تمھارے ڈرانے سے خوف لاحق نہیں ہوا ہے کیوں کہ تمھاری یہ سب دھمکیاں بے بنیاد ہیں ان باتوں سے ان کا مقصد یہ تھا کہ حضرت صالح (علیه السلام) اور دیگر مومنین کی قوت ارادی کمزور پڑ جائے ۔ جب انھوں نے اپنی سرکشی اور نافرمانی کو آخری حد تک پہنچادیا اور ایمان قبول کرنے کی آخری کرن بھی ان کے وجود میں خاموش ہوگئی تو اللہ نے اس قانون کے مطابق وہ ہمیشہ انتخاب کرتا رہتا ہے اور فاسد ومفسد کو فنا کرکے ان کی جگہ بہتر افراد کودیتا ہے، اللہ کی سزا نے ان کو آلیا اور ” ایک ایسا زلزلہ رونما ہوا جس نے ان کے تمام قصروں اور پتھر کے بنے ہوئے مکانوں کو ہلا کر مسمار کردیا، چشم زدن میں ان کی زرق و برق زندگی کے چراغ بجھ گئے، صبح کے وقت ان کے بے جان جسم ان کے مکانوں میں باقی رہ گئے تھے (فَاٴَخَذَتْھُمْ الرَّجْفَةُ فَاٴَصْبَحُوا فِی دَارِھِمْ جَاثِمِینَ) ۔ ”جاثم“ دراصل مادہ ”جثم“ (بروزن خشم) سے ہے، جس کے معنی دوزانو بیٹھنا اور ایک ہی جگہ کھڑے رہنے کے ہیں، بعید نہیں کہ اس سے اشارہ اس بات کی طرف ہو کہ وہ لوگ زلزلہ کے وقت خواب شیریں کے مزے لے رہے تھے، زلزلہ کا پہلا جھٹکا محسوس کرتے ہی اٹھ کر بیٹھ گئے پھر اس کے بعد حادثے نے انھیں اٹھنے کی بھی مہلت نہ دی اور خوف کی وجہ سے یادیواروں کے گرنے کی وجہ سے ، یا بجلی گرنے سے جیسے بیٹھے تھے ویسے ہی بیٹھے کے بیٹھے رہ گئے ۔ ۱۔ علامہ طبرسی نے مجمع البیان میں فرما یا ہے : ناقہ دراصل ہر اس چیز کو کہتے ہین جو خدمت کے لئے مطیع اور آمادہ ہو، اس کا اطلاق شتر مادہ پر شاید اسی وجہ سے ہوتا کہ یہ بہ نشبت نر اونٹ کے بہتر طور سے سواری کا کام دیتی ہے ۔ 2۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ پہاڑی علاقوں میں گرمیوں کے زمانہ میںجایا جاتا ہے، سیلاب بھی زیادہ تر گرمیوں میں ہی آتے ہیں، معلوم نہیں اس تقسیم بندی کی کیا ضرورت درپیش ہوئی کہ گرمیوں میں وہ میدانوں میں اور سردیوں میں وہ پہاڑوں پر رہیں جب کہ آیت میں اس کا کوئی اشارہ بھی نہیں ہے، آیت کا مفاد تو یہ ہے کہ وہ دونوں طرح کے مکانات رکھتے تھے جب چاہتے میدانی قصر وں میں رہتے تھے اور جب چاہتے تھے پہاڑوں میں چلے جاتے تھے، (مترجم) 3۔ اونٹ یا گھوڑے کو پے کرنے سے مطلب یہ ہے کہ اس کے پیر کے پیچھے جو پٹھا ہوتا ہے اس کو کاٹ دیا جائے جس کی وجہ سے وہ اپنے پیروں پر کھڑا نہیں رہ سکتااور زمین پر گرجاتاہے، پھر کسی قسم کی حرکت نہیں کرسکتا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:73-79
قوم ثمود کو کس طرح موت آئی؟
یہاں پر ایک سوال یہ پیش ہوتا ہے کہ زیر نظر آیت میں ہے کہ ان کی فنا کا سبب زلزلہ تھا لیکن سورہٴ حم السجدہ کی آیت ۱۳ میں ہے کہ بجلی کی وجہ سے وہ نابود ہوئے، جب کہ سورہٴ حاقہ کی آیت ۵ میں ہم پڑھتے ہیں کہ: <فَاٴَمَّا ثَمُودُ فَاٴُھْلِکُوا بِالطَّاغِیَةِ یعنی قوم ثمود ایک تباہ کن آفت کی وجہ سے ہلاک ہوئی ۔ کیا ان تعبیروں میں کوئی تنافی یا تضاد پایا جاتا ہے؟ اس سوال کا جواب ایک جملہ میں دیا جاسکتا ہے اور وہ یہ کہ تینوں اسباب کی بازگشت ایک چیز کی طرف ہے،یا یہ کہا جائے کہ تینوں آپس میں لازم ملزوم ہیں، کیوں کہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک خطہ میں زلزلہ بجلی گرنے کی وجہ سے آتا ہے، یعنی بجلی گرجاتی ہے اس کے بعد زلزلہ آجاتا ہے، لیکن ”طاغیة “ اس موجود کے معنی میں ہے جو اپنی حد سے تجاوز کرے، یہ زلزلہ کے لئے بھی صحیح ہے اور بجلی کے لئے بھی، بنابریں ان آیات کے درمیان کوئی تضاد نہیں پایا جاتا ۔ زیر بحث آیت کے آخر میں فرمایاگیا ہے:اس کے بعد صالح (علیه السلام) نے ان سے منہ پھیر لیااور ان سے کہا: میں نے اپنے پروردگار کی رسالت (پیغام رسانی) کا حق ادا کردیا، اور جو کہنے چاہئے تھا وہ تم سے کہہ دیا، میں نے تمھاری نصیحت اور خیر خواہی میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی، لیکن (بات یہ ہے کہ) تم نصیحت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے ( فَتَوَلَّی عَنْھُمْ وَقَالَ یَاقَوْمِ لَقَدْ اٴَبْلَغْتُکُمْ رِسَالَةَ رَبِّی وَنَصَحْتُ لَکُمْ وَلَکِنْ لَاتُحِبُّونَ النَّاصِحِین) ۔ یہاں پھر ایک سوال پیش آتا ہے ، وہ یہ کہ حضرت صالح (علیه السلام) نے یہ گفتگو جو کی ہے وہ ان (قوم ثمود) کی نابودی کے بعد تھی یا یہ گفتگو ان کے انجام سے قبل اتمام حجت کے طور پر تھی، اگر چہ قرآن میں اس کا ذکر ان کے مرنے کو بیان کرنے کے بعد کیا گیا ؟ دوسرا احتمال اس خطاب کے ظاہر سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے، کیوں کہ ان کے ساتھ گفتگو کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اس وقت زندہ تھے لیکن پہلا احتمال بھی زیادہ بعید نہیں ہے، کیوں کہ ایسا ہوتا ہے کہ دوسرے افرا د کی عبرت کے لئے اس قسم کی گفتگو مرنے والوں کی روح کو مخاطب کر کے کی جاتی ہے، جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام کے واقعات میںہے کہ آپ (علیه السلام) نے جنگ جمل کے بعد طلحہ کے لاشہ کے پاس کھڑے ہوکر فرمایا: اے طلحہ! تم نے اسلام میں قابل قدر خدمات انجام دیں لیکن افسوس یہ کہ تم نے ان کو اپنے لئے محفوظ نہ کیا ۔ نیز نہج البلاغہ کے آخر میں ہے کہ حضرت علی علیہ السلام جب جنگ صفین سے پلٹ رہے تھے تو آپ (علیه السلام) نے دروازہ کوفہ کی پشت پر قبرستان کی طرف منہ کرکے ارواح رفتہ گان پر سلام کیا بعد ازاں ان سے فرمایا: تم اس قافلہ کے آگے آگے چلے گئے ہم بھی تمھارے پیچھے پیچھے آتے ہیں ۔ ۸۰ وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِہِ اٴَتَاٴْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَکُمْ بِھَا مِنْ اٴَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِینَ- ۸۱ إِنَّکُمْ لَتَاٴْتُونَ الرِّجَالَ شَھْوَةً مِنْ دُونِ النِّسَاءِ بَلْ اٴَنْتُمْ قَوْمٌ مُسْرِفُونَ- ۸۲ وَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہِ إِلاَّ اٴَنْ قَالُوا اٴَخْرِجُوھُمْ مِنْ قَرْیَتِکُمْ إِنَّھُمْ اٴُنَاسٌ یَتَطَھَّرُونَ- ۸۳ فَاٴَنجَیْنَاہُ وَاٴَھْلَہُ إِلاَّ امْرَاٴَتَہُ کَانَتْ مِنَ الْغَابِرِینَ- ۸۴ وَاٴَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ مَطَرًا فَانظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِینَ- ترجمہ ۸۰۔اور (یاد کر و کہ) جب لوط نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایسی بری بات کرتے ہو جس کو تمام جہانوں میں سے کسی نے نہیں کیا ۔ ۸۱۔کیا تم تسکین شہوت کے لئے مردوں کی طرف جاتے ہو، نہ کہ عورتوں کی طرف ؟ تم تجاوز کرنے والے لوگ ہو ۔ ۸۲۔لیکن ان کی قوم کا جواب سوائے اس کے اور کچھ نہ تھا کہ انھوں نے کہا کہ ان(لوط اور ان کے ماننے والوں ) کو اپنی آبادی سے باہر نکال دو، یہ لوگ اپنے کو پاک ظاہر کرنے والے ہیں ۔ ۸۳۔ (جب بات یہاں تک پہنچی تو) ہم نے ان(لوط) کو اور ان کے خاندان کو نجات دی سوائے ان کی زوجہ کہ کہ وہ باقی ماندہ افراد میں سے تھی ۔ ۸۴۔ (پھر اس کے بعد) ہم نے ان پر خوب بارش کی (پتھروں کی بارش تاکہ وہ ان کو نیست ونابود کردے) اب دیکھو مجرموں کا انجام کیا ہوا ۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:74
[Pooya/Ali Commentary 7:74] (see commentary for verse 73)