فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ
We will surely question those to whom the apostles were sent, and We will surely question the apostles.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:6
[Pooya/Ali Commentary 7:6] As has been said in al Hadid: 25 and Ibrahim: 4 messengers of Allah were sent to every people to show them the right path, therefore, all people will be questioned as to how they treated the messengers of Allah and followed their teachings. The messengers of Allah will bear witness over their followers when they will be asked to give their report about them. The Holy Prophet (see commentary of an Nisa: 41) will be a witness over all the witnesses, which means he was present in the times of all the prophets. It is obvious that the omniscient creator, all-aware of everything that took place, will lay bare before them what they used to do. (see Ya Sin: 65-"We will put a seal upon their mouths, and their hands will speak to Us and their feet will bear witness as to what they used to do"). In verse 8 wazn literally means weight, but verse 9 implies that the deeds will be examined in the light of the mental attitude unto the signs of Allah. Imam Jafar bin Muhammad as Sadiq said: Deeds are not material substance to be weighed, therefore "heavy weighing" means good deeds outbalance the bad deeds. Even if a man prays the whole night and fasts throughout his life, his deeds will not benefit him if he does not regulate his life in the light of the teachings and guidance of the guide-leaders appointed by Allah. Yazlimuna refers to those who treated the signs of Allah with injustice. The Holy Prophet and his Ahl ul Bayt are the signs of Allah, so those who persecuted and killed them are referred to as zalimin and kafirin.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:6-9
وہ آیات جن میں سوال کیا گیا ہے
اردو ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ آیت موردِ بحث میں جس صراحت کے ساتھ اور بڑی تاکید وقسم کے ساتھ یہ کہا گیا ہے کہ قیامت کے روز سب سے سوال کیا جائے گا، یہ دوسری بعض آیات سے اختلاف رکھتا ہے، مثلاً سورہٴ رحمان میں یہ آیت ہے: ”فَیَوْمَئِذٍ لَایُسْاٴَلُ عَنْ ذَنْبِہِ إِنسٌ وَلَاجَانٌّ، فَبِاٴَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ، یُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِیمَاھُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِی وَالْاٴَقْدَامِ“- ”اس روز کسی شخص سے نہ انسانوں سے نہ جنوں سے کوئی سوال کیا جائے گا بلکہ گنہگاروں کو ان کی علامتوں سے پہچان لیا جائے گا(۱) اسی طرح کی دیگر ایات بھی ہیں جو بروز قیامت سوال کی نفی کرتی ہیں، سوال یہ ہے کہ اس طرح کی آیات سوال کا اثبات کرنے والی آیات مثلاً زیر نظر آیت سے کیسے میل کھاتی ہیں ۔ لیکن اگر ہم ان آیات میں غورو فکر سے کام لیں تو ہر طرح کا ابہام دُور ہوجائے گا کیونکہ جن آیتوں میں بروزِ قیامت سوال وجواب کا ذکر ہے اگر ہم ان سب کو ملاکر دیکھیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس روز لوگ چند مرحلوں کو طے کریں گے، ان میں سے کچھ مرحلے تو ایسے ہوں گے جہاں ان سے کسی قسم کا سوال نہیں کیا جائے گا، حتّیٰ کہ ان کے منھ پر مہر لگادی جائے گی، صرف ان کے اعضاء وجوارح، جنھوں نے ان کے اعمال کے اثرات کو اپنے میں محفوظ کرلیا ہے، ایک بولنے والے اور ناقابلِ تردید گواہ کی حیثیت سے ان کے تمام اعمال کی تفاصیل بیان کریں گے ۔ اس کے بعد والے مرحلے میں ان کے منھ سے مُہر ہٹادی جائے گی جس کی وجہ سے وہ دوبارہ بول سکیں گے اور ان سے سوال کیا جائے گا، چونکہ وہ اپنے اعضاء کی گواہی دیکھ چکے ہوں گے لہٰذا انھیں اپنے اعمال کا اعتراف کرنا پڑے گا، بالکل ان مجرموں کی طرح جن کو اپنے جرائم کے چشم دید آثار کو دیکھنے کے بعد سوائے اعتراف کرلینے کے کوئی چارہ باقی نہیں رہتا ۔ بعض مفسّرین نے ان آیات میں یہ بھی احتمال دیا ہے کہ جن آیات میں سوال کی نفی کی گئی ہے اس سے مراد زبانی سوال وجواب ہے، جن آیات میں سوال وجواب کا اثبات کیا گیا ہے اس سے مراد اعضاء وجوراح سے سوال کیا جانا ہے، چنانچہ جیسے رنگ رخسار راز دل کو آشکار کردیتا ہے انسانی اعضاء وجوارح حقائق کو ظاہر کردیں گے ۔ ان میں سے کسی صورت میں ان دو طرح کی آیتوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ اس کے بعد والی آیت میں بحثِ حشر و نشر کی تکمیل کے لئے مسئلہ ”اچھّے بُرے اعمال کی پرکھ“ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کی مثال قرآن کی دوسری سورتوں میں بھی موجود ہے جیسے سورہٴ مومنون آیات ۱۰۲۔۱۰۳ اور سورہ قارعہ آیات ۶۔۸۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے کہ: اعمال کے تو لے جانے کا مسئلہ اس روز برحق ہے (وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ ) ۔(2) ۱- سورہٴ رحمان، آیت۳۹۔۴۱- 2۔ بنابرین ”وزن“ بہ معنائے مصدری ہے، یعنی وزن کرنا اور یہ کلمہ مبتدا ہے ۔ ”الحق“ اس کی خبر ہے اگر چہ اس میں دیگر احتمالات بھی ہیں مگر جو ہم نے کہا ہے سب سے زیادہ قرینِ عقل ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:6-9
سوال کس لئے؟
اردو پہلی بحث جو ہمیں درپیش ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ خدا ہر چیز کو جانتا ہے اور اصولی طور سے ہر جگہ حاضر وناظر بھی ہے اس صورت میں اس بات کی کیا ضرورت ہے کہ وہ تمام انبیاء اور امّتوں سے بغیر کسی استثناء کے بازپرس کرے؟ اس سوال کا جواب واضح ہے کیونکہ اگر سوال کرنا اطلاع حاصل کرنے کے لئے اور واقعہ معلوم کرنے کے لئے ہو تو جسے معلوم ہے اس کے لئے ایسا سوال کرنا بے فائدہ ہوگا لیکن اگر سوال کا مقصد یہ ہو کہ مخاطب ہو متوجہ کیاجائے یا اس سے اتمام حجت کی جائے یا اس کے علاوہ کوئی اور غرض ہو تو اس موقع پر سوال بے جا نہیں ہے، اس کی ٹھیک مثال اس طرح ہے کہ ایک شخص کثیر النسیان ہو اور ہم نے بہت زیادہ اس کی خدمت کی ہو پھر اس نے بجائے خدمت کے طرح طرح کی خیانتوں سے بدلہ دیا ہو، یہ تمام باتیں ہم پر روشن ہیں لیکن اس کے باوجود ہم اس شخص سے بازپرس کرتے ہوئے اس سے پوچھتے ہیں کہ آیا ہم نے تمھاری طرح طرح کی خدمتیں نہیں کیں؟ کیا تم نے ان خدمتوں کا حق ادا کیا؟ اس طرح کے سوالات تحصیل علم کے لئے نہیں ہوا کرتے بلکہ دوسرے کی تفہیم کے لئے ہوتے ہیں یا یہ کہ کسی خدمت گزار شخص کی قدر دانی اور تشویق کے لئے اس سے پوچھتے ہیں: اس سفر میں جو ڈیوٹی تمھارے سپرد کی گئی تھی اس کی بابت تم نے کیا کیا؟ درحالیکہ ہمیں اس کی تمام جزئیات معلوم ہوتی ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:6-9
ایک عام باز پرس
اردو گذشتہ آیات میں خدا شناسی اور نزولِ قرآن کی طرف اشارہ کیا گیا تھا لیکن زیرِ نظر آیات جن میں معاد کی بابت گفتگو کی گئی ہے، فی الواقع یہ ان آیات کی تکمیل کنندہ ہیں ۔ علاوہ ازیں گذشتہ آیات میں دنیا میں ظالموں کے ظلم کے نتائج کے بارے میں گفتگو تھی اور ان آیات میں ان لوگوں کی اُخروی سزاؤں کو بیان کیا گیا ہے ۔ اس طرح سے ان تمام آیات کے درمیان واضح ربط موجود ہے ۔ ابتداء میں ایک عام قانون کے طور سے فرماتا ہے: ان تمام لوگوں سے جن کی طرف رسولوں کو بھیجا گیا ہے ہم یقینی طور سے بروزِ قیامت سوال کریں گے ( فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِینَ اٴُرْسِلَ إِلَیْھِمْ ) ۔ صرف ان سے ہی سوال نہیں کریں گے بلکہ ان کے رسولوں سے بھی سوال کریں گے تم نے ہمارا پیغام ان تک کس طرح پہنچایا ( وَلَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِینَ ) ۔ بنابریں رہبر بھی مسئول ہیں اور پیرو بھی پیشوا بھی جوابدہ ہیں مرید بھی اگر چہ ان دونوں گروہوں کی مسئولیت جداگانہ ہے اس سلسلے میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے ایک حدیث منقول ہے جو اس مطلب کی تائید کرتی ہے حضرت(علیه السلام) فرماتے ہیں: فیقام الرسل فیسئلون عن تاٴدیة الرسالات التی حملوہا الیٰ اممہم فاخبر وآ انہم قد ادوا ذٰلک الٰٓی اممہم--- پیغمبروں کو بروز قیامت رو کا جائے گا اور ان سے سوال کیا جائے گا کہ آیا تم نے اللہ کا پیغام اپنی امتوں کو پہنچایا تھا یا نہیں؟ وہ جواب دیں گے کہ ہاں ہم نے پیغام پہنچادیا تھا ۔(۱) ایک اور روایت جو تفسیر علی بن ابراہیم میں مذکور ہے وہ بھی اس کی موٴید ہے ۔ (۲) شاید کسی کو یہ خیال ہو کہ خدا کے علم سے کچھ چیزیں مخفی ہیں اسی لئے وہ بروز قیامت اس طرح کے سوالات کرے گا اس توہّم کو دور کرنے کے لئے بعد والی آیت میں خدا یقینی طور پر، قسمیہ تاکید کے ساتھ فرماتا ہے: ہم اپنے علم و آگاہی کی بناء پر ان کے تمام اعمال کی شرح ان سے بیان کریں گے، کیونکہ ہرگزان سے غائب نہ تھے ہر جگہ ان کے ساتھ تھے اور ہر حال میں ان کے ہمراہ تھے (فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْھِمْ بِعِلْمٍ وَمَا کُنَّا غَائِبِینَ) ۔ ”فلنقصن“ جو مادّہ ”قصہ“سے ماخوذ ہے، اس کے اصلی معنی ہیں ۔ ایک دوسرے کے پیچھے قطار کی طرح کھڑے ہونا ۔ اور چونکہ سر گذشت بیان کر نے میں مطالب و مضامین ایک دو سرے کے پیچھے مسلسل طورپر آتے جاتے ہیں اس لئے اسے ”قصہ“ کہتے ہیں، اسی طرح وہ تعزیرات جو جرائم کے بعد مرتب ہوتی ہیں انھیں ”قصاص“ کہا جاتا ہے، اسی لئے قینچی کو بھی ”مقص“ (بروزن ”پسر“) کہتے ہیں کیونکہ وہ پے درپے بالوں کو کانٹی ہے نیز کسی چیز کی جستجو کو ”قص“ (بر وزن ”مس“) کہتے ہیں کیونکہ جستجو اور تفتیش کرنے والا شخص حوادث کی مسلسل تعقیب کرتا ہے ۔ چونکہ آیت میں چار قسم کی تاکید ہے (لامِ قسم، نون تاکید، کلمہ علم جو نکرہ کی صورت میں ذکر ہوا ہے اور اس سے بیان عظمت مقام ہے اور جملہٴ ”ساکناً غائبین“ ہم کبھی بھی غائب نہ تھے) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقصد یہ ہے کہ ہم تمھارے اعمال کی تمام جزئیات کو ”حرف بہ حرف“ اور ”سلسلہ وار“ ان سے بیان کریں گے تاکہ انھیں معلوم ہو کہ چھوٹی سے چھوٹی نیت یا عمل ہمارے علم سے پوشیدہ نہیں ہے ۔(3) ۱۔و ۔۲۔ تفسیر نوالثقلین ج دوم ص ۴- 3۔ تفسیر ”مجمع البیان“ و ”تبیان“ میں بحث مذکورہ بالا کو ”قصہ“ کے عنوان کے تحت ایت کے ذیل میں بیان کیا گیا ہے-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:6-9
قیامت کے روز اچھے بُرے اعمال کی پرکھ کیلئے ترازو سے کیا مراد ہے
اردو بروز محشر اعمال کے تولے جانے کی کیفیت کے بارے میں مفسرین و متکلمین کے درمیان بڑی بحث ہے چونکہ بعض افراد نے یہ خیال کیا ہے کہ وزن و ترازو اُس جہان میں بالکل اِس جہاں کے وزن و ترازو کی طرح ہے، دوسری طرف یہ بھی ہے کہ انسانوں کے اعمال کا کوئی وزن نہیں ہوتا، اس طرح ناچار ہوکر انھوں نے تجسّم اعمال کے ذریعے یا یہ اس روز خود انسانوں کا وزن کیا جائے گا اس مشکل کا حل ڈھونڈا ہے ۔ یہاں تک کہ انھوں نے عبید بن عمیر سے ایک عبارت نقل کی ہے جس میں وہ کہتے ہیں: ”یوٴتی بالرجل الطویل العظیم فلا یزن جناح بعوضة “ یعنی بروز قیامت طویل القامت عظیم الجثہّ افراد لائے جائیں گے جو ترازو میں مچھر کے پر جتنا وزن بھی نہ رکھتے ہوں گے ۔ (1) اس سے اس بات کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ وہ لوگ اگر چہ بظاہر بڑے لوگ ہوں گے لیکن فی الحقیقت ان کی کوئی قیمت نہ ہوگی ۔ اگر ہم اُس جہاں کی زندگی کا اِس دنیا کی زندگی سے موازنہ کریں اور یہ دیکھیں کہ وہاں کی ہر چیز اِس دنیا سے بالکل الگ ہے جیسے ایک جنین کی شکم مادر کے اندر کی زندگی دنیاوی زندگی سے مختلف ہے، نیز اس بات کی طرف بھی توجہ رکھیں کہ کسی لفظ کے معنی سمجھنے کے لئے ہمیشہ مصداق موجود کے پیچھے نہیں جانا چاہیے بلکہ نتیجہ کی رد سے مفہوم کو پرکھنا چاہیے ، تو قیامت کے روز جو میزان نصب کی جائے گی اس کے معنی بالکل سمجھ میں آجائیں گے ۔ اس کی توضیح اس طرح پر ہے کہ سابقہ زمانے میں جبکہ کبھی ”چراغ“ کا نام لیا جاتا تھا، تو ایک برتن سمجھ میں آتا تھا جس میں تھوڑا تیل پڑا ہو اور ایک فتیلہ (بتّی) اس میں موجود ہو، نیز اس بات کا بھی احتمال ہوتا تھا کہ شاید اس پر ایک چمنی بھی موجود ہو جو چراغ کی ہوا سے حفاظت کرے گی جبکہ فی زمانہ اس لفظ ”چراغ“ سے دوسری چیز سمجھ میں آتی ہے، ایک ایسی شے جس میں نہ تو تیل کا کوئی برتن ہے نہ فتیلہ ہے، نہ ہوا کو روکنے کے لئے پہلے کی طرح کا فانوس ہے، لیکن اس کے باوجود جو چیز آج کے چراغ کو قدیمی چراغ سے ملاتی ہے وہ اس کا نتیجہ ہے یعنی ایک ایسی شے جو تاریکی کو دور کردے ۔ مسئلہ ”میزان“ بھی بالکل اسی طرح ہے، اسی جہاں میں ہم دیکھتے ہیں کہ جتنا زمانہ آگے بڑھتا جاتا ہے ترازو کی شکلیں کس طرح بدلتی جاتی ہیں، یہاں تک کہ لفظ ”میزان“ دوسری چیزوں کے جانچنے کے آلات کے لئے بھی استعمال ہونے لگا ہے، جیسے ”میزان الحرارة“ (گرمی جانچنے کا آلہ)، ”میزان الھوا“ (ہوا جانچنے کا آلہ) وغیرہ وغیرہ۔ اس بناپر جو چیز مسلّم ہے وہ یہ ہے کہ بروز قیامت لوگوں کے اعمال ایک خاص وسیلے سے جانچے جائیں گے، یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ وسیلہ دنیا کے ترازو کی طرح ہو ممکن ہے کہ وہ وسیلہ انبیاء، آئمہ اور افراد صالح کا وجود ہو، اس مطلب کی تائید ان روایات سے بھی ہوتی ہے جو اہل بیت طاہرین علیہم السلام سے ہم تک پہنچی ہیں ۔ چنانچہ ”بحارالانوار“ میں ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے جب آیت ”ونضع الموازین القسط“ (2) کے متعلق پوچھا گیا تو آپ(علیه السلام) نے فرمایا: ”والموازین الانبیاء والاوصیاء ومن الخلق من یدخل الجنة بغیر حساب“ ”بروز قیامت میزان سے مراد پیغمبران کرام اور ان کے اوصیائے عظام ہیں اور لوگوں میں سے وہ افراد ہیں جو جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے (یعنی وہ لوگ جن کے نامہٴ اعمال میں تاریکی کا کوئی گوشہ نہ ہوگا“(3) اور دوسری حدیث میں اس طرح وارد ہوا ہے: ”انّ امیر المومنین والاٴئمة من ذریتہ ہم الموازین“ ”یعنی امیرالمومنین علیہ السلام اور ان کے فرزند آئمہ طاہرین علیہم السلام میزانِ عمل ہیں“(4) نیز حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی زیارتِ مطلقہ میں وارد ہوا ہے: ”السلام علی میزان الاعمال“ ”سلام ہو اس پر جو اعمال کی میزان ہے“ واقعہ یہ ہے کہ اس جہاں میں جو مرد اور عورت کی رُو سے دوسروں کے لئے نمونہ ہیں وہ فی الحقیقت دوسروں کے اعمال ایک ترازو ہیں اور جو شخص جس قدر بھی ان سے مشابہت رکھتا ہے وہ اتنا ہی وزن رکھتا ہے اور وہ افراد جو ان سے کم مشابہت رکھتے ہیں یا بالکل مشابہ نہیں ہیں وہ ”کم وزن“ یا بالکل ”بے وزن“ اور ہلکے افراد ہیں ۔ یہاں تک کہ اس جہاں میں بھی دوستانِ خدا دوسروں کے اعمال کی مقیاس ہیں، لیکن چونکہ اس دنیا میں بہت سے حقائق پردہٴ خفاء میں رہ جاتے ہیں اور بروز قیامت بمقتضائے آیہٴ شریفہ ”وبرزوا للّٰہ الواحد القہار“ (ابراہیم/۴۸) روزِ انکشاف وظہور ہے اس لئے کہ اُس دن یہ واقعیت ظاہر وآشکار ہوجائے گی ۔ اور یہیں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ”موازین“ جمع کا صیغہ کیوں آیا ہے، کیونکہ اولیائے حق جو ترازوٴے اعمال ہیں وہ متعددد ہیں ۔ نیز یہ احتمال بھی پایا جاتا ہے کہ ان میںسے ہر ایک کسی نہ کسی صفت میں ممتاز تھا، بنابریں ان میں سے ہر ایک انسانوں کی کسی ایک صفت کی مقیاس ہے اور انسانوں کے اعمال وصفات مختلف ہیں لہٰذا کسوٹی اور ترازو مختلف ہونا چاہئے ۔ اسی سے یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ بعض روایات میں اس کا مفہوم ”عدل“ کیوں بیان کیا گیا ہے، جیسے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ کسی نے حضرت(علیه السلام) سے پوچھا: ”ما معنی المیزان؟ قال: العدل“ میزان کے کیا معنی ہیں؟ حضرت(علیه السلام) نے فرمایا: عدل(5) جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے اس کا مفہوم ا س کے منافی نہیں ہے، کیونکہ دوستانِ خدا اور وہ مرد اور عورتیں جو نمونہٴ عمل ہیں وہ عدل کا مظہر ہیں، یعنی عدل از روئے فکر، عدل اور روئے عقیدہ، عدل از روئے صفات واعمال (ذرا غور کیجئے) اس کے بعد کے جملے میں ارشاد ہوتا ہے: وہ لوگ جن کا پلہ میزان عمل سے بھاری ہے نجات یافتہ ہیں اور وہ لوگ جن کا پلہ ہلکا ہے وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس ظلم و ستم کی وجہ سے جو انہوں نے ہماری آیات کے بارے میں کیا ہے ۔ اپنے سرمایہ وجود کو کھودیا ہے ( فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِینُہُ فَاٴُوْلٰئِکَ ھُمَ الْمُفْلِحُونَ، وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِینُہُ فَاٴُوْلٰئِکَ الَّذِینَ خَسِرُوا اٴَنفُسَھُمْ بِمَا کَانُوا بِآیَاتِنَا یَظْلِمُونَ) ۔ یہ بات بھی بدیہی ہے کہ میزان کے بھاری اور ہلکے پلّے سے خود ترازو کے پلّہ کا بھاری اور ہلکا ہونا مراد نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ اعمال ہیں جو ان ترازؤوں میں تولے جائیں گے ۔ اسی ضمن میں ” خَسِرُوا اٴَنفُسَھُمْ“ (انھوںنے اپنے سرمایہ وجود کو کھودیا) سے اس حقیقت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہوتا ہے کہ اس طرح کے افراد بہت بڑے خسارے اور گھاٹے میں مبتلا ہوں گے، کیونکہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان یوں گھاٹا اٹھاتا ہے کہ اس کا مال یا مقام ہاتھ سے چلا جاتا ہے، لیکن کبھی ایسا گھاٹا اٹھاتا ہے کہ وہ اپنے سرمایہٴ ہستی کو کھو بیٹھتا ہے اس طرح کہ اس کے بدلے میں اسے کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا ۔ یقینا یہ سب سے بڑا خسارہ ہے ۔ آخر آیت میں جو یہ آیا ہے کہ ” کَانُوا بِآیَاتِنَا یَظْلِمُونَ“ ہماری آیتوں کے بارے میں ظلم کرتے تھے، اس تعبیر سے اس بات کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ اس طرح کے لوگ صرف اپنی ہی جانوں پر ظلم نہیں کرتے بلکہ خدانے ہدایت خلق کے لئے جو نظام قائم کیے ہیں ان پر بھی ستم کرتے ہیں کیونکہ چاہیے تو یہ تھا کہ اللہ کے بنائے ہوئے یہ نظام خلق کی ہدایت و نجات کا وسیلہ بنیں، لیکن جب ان سے بے اعتنائی برتی جائے گی تو ان سے خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوسکے گا اور اس طرح ان پر ظلم ہوگا ۔ بعض روایات میں یہ بھی وارد ہوا ہے کہ اس مقام پر ”آیات“ سے مراددین کے عظیم رہبر اور آئمہ ہدیٰ ہیں، لیکن جیسا کہ ہم نے کئی بار کہا ہے کہ اس طرح کی تفسیروں کا یہ منشا نہیں ہے کہ آیت صرف اسی تفسیر کے ساتھ مخصوص ہوکر رہ جائے بلکہ یہ معنی آیت کے ایک روشن مصداق کی حیثیت رکھتا ہے ۔ بعض مفسّرین نے اس آیت میں آیت پر ظلم کے معنی یہ لئے ہیں کہ آیت کا انکار کیا جائے یا اس کے ساتھ کفر کیا جائے، یقینا یہ معنی بھی ظلم کے مفہوم سے بعید نہیں، قرآن کی بعض دیگر آیات میں بھی ”ظلم“اس معنی میں آیا ہے ۔ ۱۰ وَلَقَدْ مَکَّنَّاکُمْ فِی الْاٴَرْضِ وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیھَا مَعَایِشَ قَلِیلًا مَا تَشْکُرُونَ- ترجمہ ۱۰۔ ہم نے زمین پر تسلّط، مالکیّت اور حکومت تمھارے لئے قراردی ہے اور زندگی کے لئے طرح طرح کے وسائل تمھارے لئے فراہم کیے ہیں لیکن تم بہت کم شُکر کرتے ہو (اور خدا کی ان تمام نعمتوں کو بر محل صرف نہیں کرتے) ۔ 1۔اس روایت کو تفسیر ”مجمع البیان“ اور تفسیر ”طبری“ میں عبید بن عمیر سے نقل کیا گیا ہے ظاہر عبارت یہ ہے کہ یہ خود عبید کے الفاظ ہیں نہ کہ پیغمبر کے ۔ 2۔ سورہٴ انبیاء، آیت۴۷- 3، 4۔ بحارالانوار، طبع جدید، ج۷، ص۲۵۱۔۲۵۲- 5۔ تفسیر ”نورالثقلین“ جلد۲۔ص۵۔