إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ
Indeed your Lord is Allah, who created the heavens and the earth in six days, and then settled on the Throne. He draws the night’s cover over the day, which pursues it swiftly, and [He created] the sun, the moon, and the stars, [all of them] disposed by His command. Look! All creation and command belong to Him. Blessed is Allah, the Lord of all the worlds.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:54
[Pooya/Ali Commentary 7:54] Refer to the commentary of al Baqarah: 255 for arsh or kursi; and refer to al Fatihah: 4 for yawm (day), on page 22. Aqa Mahdi Puya says: From the lowest form of creation to the highest level of intellectual and spiritual existence, there are finite beings, but the latter control the former, and the infinite supreme being, through His omnipotence (arsh or kursi) encompasses and controls the entire mass of finite beings, low or high. This hold and domination of the infinite over the finite is implied in the word istawa. It does not mean "Allah sitting on any throne" as some anthropomorphic schools of thought imagine. Istawa alal arsh means that the process of creation, its operation and administration belong to Allah.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:54
الله نے دنیا کو ایک لحظہ میں کیوں پیدا نہ کیا ؟
یہاں پر ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے ، وہ یہ کہ خداوندکریم اپنی انتہا قدرت کی وجہ سے سارے آسمانوں اور زمینوں کو ایک لحظہ میں پیدا کرسکتا تھا، اس کی کیا وجہ ہے کہ اس نے اس جہان کو ایک طولانی مدت میں پیدا کیا ؟ اس سوال کا جواب صرف ایک نکتہ کے سمجھنے سے مل جاتا ہے اور وہ یہ کہ خلقت جہاں اگر ایک لحظہ میں ہوجاتی تو پروردگار کی عظمت، قدرت اور علم کی کمتر حکایت کرتی لیکن اگر یہ خلقت مختلف مرحلوں میں، مختلف شکلوں میں جچے تُلے حساب شدہ پروگرام کے ماتحت عمل میں آئی ہے تواس طرح پر خالقِ اکبر کے وجود کی واضح تر دلیل بنتی ہے، مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ اگر انسان کا نطفہ ایک سیکنڈ میں ایک مکمل بچہ بن جاتا، تووہ اس قدر اس کی خلقت کی عظمت کا مظہر نہ بنتا لیکن جس وقت اس کی خلقت نومہینوں میں ہوئی ہر دن اس نے ایک ایک مرحلہ طے کیا اور ہر مہینہ ایک نئی شکل اختیار کی تو اس طرح ان مراحل کی تعداد کے مطابق پیدا کرنے والے کی عظمت وقدرت کی تازہ بہ تازہ نو بہ نو نشانیاں ملتی چلی گئیں ۔ اس کے بعد قرآن کہتا ہے کہ خداتعالےٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا کرنے کے بعد ان کی رہبری اپنے دستِ قدرت میں سنبھالی، یعنی یہ کہ صرف سارے جہانوں کی خلقت اس نے کی بلکہ ان کا نظام اور ان کی رہبری بھی الله ہی کے ہاتھ میں (ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ) ۔ یہ فی الحقیقت ان لوگوں کا جواب ہے جو الله کو صرف خلقتِ کائنات کی علّت جانتے ہیں اوراس کی بقاء کی علّت نہیں جانتے ۔ عرش کیا ہے؟ لغت میں ”عرش“ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس میں چھت لگی ہوئی ہو اور بعض اوقات خود چھت کو بھی عرش کہتے ہیں: جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: <اٴَوْ کَالَّذِی مَرَّ عَلیٰ قَرْیَةٍ وَھِیَ خَاوِیَةٌ عَلیٰ عُرُوشِھَا یا اس شخص کی طرح جو ایک آبادی کے پاس سے گزرا جبکہ وہ آبادی برباد پڑی تھی اپنی چھتوں کے بل (بقرہ/۲۵۹) کبھی یہ لفظ اونچے تخت پر بھی بولا جاتا ہے جس طرح ہم حضرت سلیمان(علیه السلام) کے قصّے میں پڑھتے ہیں: <اٴَیُّکُمْ یَاٴْتِینِی بِعَرْشِھَا تم میں سے کون اس (بلقیس) کا تخت یہاں لاسکتا ہے (نمل/۳۸) نیز ان پاڑوں کو بھی ”عرش“ کہتے ہیں جو درختوں کی بیلوں کو اوپر چڑھانے کے لئے باندھی جاتی ہیں، قرآن کریم میں، ”عرش“ کا یہ استعمال بھی موجود ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: <وَھُوَ الَّذِی اٴَنْشَاٴَ جَنَّاتٍ مَعْرُوشَاتٍ وَغَیْرَ مَعْرُوشَاتٍ وہ خدا وہ ہے جس نے پاڑوں پر چڑھنے والے اور نہ چڑھنے والے درختوں کے باغ پیدا کئے (انعام/۱۴۱) لیکن جس وقت یہ لفظ خداوندکریم کی نسبت بولا جائے اور یہ کہا جائے کہ ”عرش خدا“ تو اس سے اس جہان ہستی کا سارا مجموعہ مراد ہے جو فی الحقیقت تختِ حکومت الٰہی ہے ۔ اگر یہ جملہ ”اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ“ بولا جائے تو یہ اس امر کے لئے کنایہ ہے کہ ”ایک حکمران اور زماندار اپنی سلطنت کے امور پر مسلط وغالب ہوگیا“ اس کے برعکس یہ جملہ ”ثل عرشہ“ (اس کا تخت برباد ہوگیا) اس وقت بولا جاتا ہے جب کسی بادشاہ کی حکومت الٹ جائے، فارسی(۱) میں بھی یہ تعبیر کنائی بہت استعمال ہوتی ہے مثلاً ہم کہتے ہیں کہ فلاں ملک میں لوگوں نے بغاوت کردی اور انھوں نے وہاں کے حکمران کو تخت سے نیچے اتارلیا، حالانکہ ممکن ہے کہ وہاں کسی تخت کا سرے سے وجود نہ ہو، یا یہ محاورہ کہ کچھ لوگ فلاں شخص کی حمایت میں کھڑے ہوگئے اور انھوں نے اس کو تخت پر بٹھایا دیا، یہ سب محاورے قدرت وحکومت پانے یا اس کے جانے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں ۔ بنابریں زیرِ بحث آیت ”اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ“ کا جملہ اس بات کا کنایہ ہے کہ پروردگار عالم آسمانوں اور زمین کی خلقت کے بعد ان پر ہر حیثیت سے مسلط وغالب ہوا اور اس نے نظم ونسق اپنے دست قدرت میں سنبھالا ۔ یہیں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ: جن لوگوں نے مذکورہ بالا آیت کو ”تجسم خدا ‘ ‘ دلیل بنایا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اس کنائی معنی کی طرف توجہ نہیں کی جو ہم نے یہاں پر بیان کئے ہیں ۔ ”عرش“ کے ایک معنی اور بھی ہیں، یہ معنی اس جگہ لئے جاتے ہیں جہاں یہ لفظ ’کرسی“ کے مقابلے میں بولا جائے، اس طرح کے مواقع پر لفظ ”کرسی“ (جس کے معنی غالباً اس چھوٹے تخت کے ہیں جس کے چھوٹے پائے ہوتے ہیں) سے ممکن ہے ”مادی دنیا“ مراد ہو اور ”عرش“ سے مراد وہ جہان مراد ہو جو ”ماورائے مادّہ“ ہے جیسے عالمِ ارواح اور ملائکہ، جیسا کہ آیت ”وَسِعَ کُرْسِیَہُ السَّمَوٰاتِ وَالارضِ“ کی تفسیر میں سورہٴ بقرہ میں ہم تفصیل سے بیان کرآئے ہیں اس کے بعد فرماتا ہے کہ (وہ خدا) وہ ہے جو رات کو مثل ایک پردہ اور پوشش کے دن کے اوپر ڈال دیتا ہے اور دن کی روشنی کو رات کی تاریک پردوں سے ڈھانپ دیتا ہے (یُغْشِی اللَّیْلَ النَّھَارَ) ۔ یہاں پر قابلِ توجہ یہ بات ہے کہ تعبیر مذکورہ بالا صرف رات کے لئے استعمال ہوتی ہے، یہ نہیں فرمایا کہ ”دن کے ذریعے رات کو ڈھانپ لیتا ہے“ کیونکہ پوشش صرف تاریکی کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے نہ کہ روشنی کے ساتھ۔ اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے : ”رات تیزی کے ساتھ دن کے پیچھے پیچھے رواں دواں ہے جیسے ایک قرضخواہ اپنے قرضدار کے پیچھے بھاگتا ہے (یَطْلُبُہُ حَثِیثًا) ۔ کرہٴ زمین میں دن اور رات کی جو کیفیت ہے یہ تعبیر اس کے عین مناسب ہے، کیونکہ اگر کوئی شخص کرہٴ زمین سے باہر جاکر یہ دیکھے کہ کس طرح زمین اپنے محور پر تیزی سے محوِ گردش ہے (تقریباً ۳۰ کلومیٹر فی کی رفتار سے) اور آفتاب کی جہت اور آفتاب کی جہت مخالف میں ایک مخروطی الشکل سایہ ایک پُر اسرار دیوپیکر ہیولے کی طرح روشنی کے پیچھے پیچھے گھوم رہا ہے تو اسے (یَطْلُبُہُ حَثِیثًا) کی تعبیر کا صحیح لطف حال ہوگا اور یہ سمجھ میں آئے گا کہ دن کے متعلق یہ نہ کہا کیونکہ سورج کا نور تو نصف کرہٴ زمین پر پھیلا ہوا ہے اور اس کی کوئی شکل نہیں بنتی ۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: وہ ہے جس نے سورج، چاند اور ستاروں کو پیدا کیا، اس حال میں کہ سب اس کے فرمانبردار ہیں (وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِاٴَمْرِہِ) ۔ (شمس وقمر اور ستاروں کی تسخیر کے بارے میں متعلق آیات کے ذیل میں انشاء ہم آئندہ گفتگو کریں گے) جہانِ ہستی اور نظامِ شب روز کی پیدائش اور چاند، سورج اور ستاروں کی خلقت کے ذکر کے بعد مزید تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے: آگاہ ہوجاؤ کہ پیدا کرنا اور جہانِ ہستی کا انتظام کرنا صرف اس کے ہاتھ میں ہے (اٴَلَالَہُ الْخَلْقُ وَالْاٴَمْرُ) ۔ ۱۔اردومیں بھی اس طرح کے جملے استعمال ہوتے ہیں (مترجم)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:54
کیا جہاں چھ روز میں پیدا ہوا ہے؟
یہ بحث کہ جہان کو الله نے چھ روز میں خلق کیا، قرآن کریم میں سات جگہ پر آئی ہے(۱) لیکن ان میں سے تین مقامات پر ”آسمانوں اور زمین“ کے علاوہ ”مابینھما“ بھی ہے (جس کے معنی یہ ہیں: ”اور جو کچھ بھی ان دونوں کے درمیان ہے“یہ اضافہ فی الحقیقت مزید توضیح کے لئے ہے ورنہ فی الحقیقت زمین اور آسمان کے درمیان جو کچھ بھی ہے وہ اگر اوپر کی جہت میں ہے تو لفظ ”آسمان“ میں داخل ہے اور اگر نیچے کی جہت میں ہے تو ”زمین“ کے مفہوم میں داخل ہے ۔ یہاں پر سب سے پہلے جو سوال ذہن انسان میں آسکتا ہے وہ یہ ہے کہ زمین وآسمان کی خلقت سے پہلے دن اور رات کا تو کوئی وجود نہ تھا لہٰذا چھ روز کیسے بنے؟ کیونکہ دن رات تو اپنے محور پر زمین کی گردش کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں ۔ علاوہ بریں تمام کائنات میں چھ روز میں یعنی ایک ہفتہ سے بھی کم عرصے میں پیدا ہونا بھی قرین قیاس نہیں معلوم ہوتا کیونکہ آج کا علم یہ کہتا ہے کہ: لاکھوں سال گزرے جب جاکے زمین وآسمان نے یہ موجودہ شکل اختیار کی ۔ ان دونوں سوالوں کا جواب اس وقت ظاہر ہوگا جب لفظ ”یوم“ اور اس کے ہم معنی الفاظ جو دوسری زبانوں میں رائج ہیں، پر توجہ کی جائے، کیونکہ بسا اوقات ”یوم“ ایک دوران اور زمانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، چاہے یہ دوران ایک سال کا ہو، ایک ملین سال کا، یا کئی کروڑ سال کا، اس امر کے کئی شواہد ہیں کہ ”یوم“ دوران کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے ملاحظہ ہوں: ۱۔ قرآن میں لفظ ”یوم“ بارہا استعمال ہوا ہے، اس میں سے بہت سے مقامات پر عام شب وروز کے معنی میں نہیں آیا مثلاً عالمِ محشر کو ”یوم القیامة“ سے تعبیر کیا گیا ہے حالانکہ روزِ قیامت ایک طولانی مدت ہوگی جو بنصِ قرآنی پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی (سورہٴ معارج، آیت۴) ۲۔ کتب لغت میں بھی اس کی تائید ملتی ہے کہ یوم کبھی تو آفتاب کے طلوع اور غروب کی درمیان مدت کو کہتے ہیں اور کبھی زمانے کے ایک حصّے کو کہتے ہیں، اس کی مقدار جتنی بھی ہو(2) ۳۔ روایات اور ہادیان دین کے ارشادات میں بھی لفظ ”یوم“ دوران کے معنی میں بہت آیا ہے، جیسا کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام ”نہج البلاغہ“ میں ارشاد فرماتے ہیں: ”الدھر یومان یوم لک ویوم علیک“ تیری دنیا کے دور وز ہیں ایک روزہ وہ جو تیرے لئے فائدہ بخش ہے، دوسرا روز وہ جو تیرے لئے زیان بخش ہے ۔ تفسیر برہان میں بھی اسی آیت کے ذیل میں تفسیر علی بن ابراہیم قمی سے نقل کیا گیا ہے کہ امام(علیه السلام) نے فرمایا: ”فی ستة ایام یعنی فی ستة اوقات“ چھ روز یعنی چھ دوران ۴۔ روز مرّہ کی گفتگو اور شعراء کے اشعار میں بھی لفظ ”یوم“ دوران کے معنی میں بولا جاتا ہے مثلاً ہم کہتے ہیں کہ ایک روز وہ تھا جب کرہٴ زمین آگ کا ایک گولہ تھا پھر ایک روز وہ آیا جب وہ ٹھنڈا ہوگیا اور اس میں زندگی کے آثار پیدا ہوئے جبکہ زمین کی شعلہ ورحالت کئی کروڑ سالوں تک باقی رہی ۔ یا یہ کہ ہم کہتے ہیں کہ ایک روز بنی امیہ نے خلافتِ اسلام کو غصب کیا دوسرے روز بنی عباس نے بھی یہی عمل کیا، حالانکہ ان دونوں کا دورانِ حکومت بیسوں یا سیکڑوں سال کا تھا ۔ یہاں پر کلیم کاشانی کے دو پُر لطف اور پُر معنی شعر بھی ملاحظہ ہوں: بدنامی حیات دو روزی نبود بیش آن ہم کلیم با تو یگویم چسان گذشت یک روز صرف بستن دل شد بن این وآن روز گریہ کندن دل زین وآن گذشت یعنی زندگی کی بدنامی صرف دو روز کےلئے تھی، وہ بھی اے کلیم تجھ سے کیا بیان ہو کہ کس طرح گذرے ایک دن تودنیا کی لذّتوں کے ساتھ باندھے میں گزر گیا اور دوسرا دن دنیا کی لذّتوں سے دل توڑنے میں گٹ گیا ۔ اس تمام بحث کا یہ نتیجہ نکلا کہ خداوندعالم نے زمین وآسمان کو چھ ادوار میں پیدا کیا، ہوسکتا ہے کہ ان ادوار میں سے ہر دور کئی ملین سال کا ہو اور اس طرح سے ہونا آج کے علم سے کسی طرح نہیں ٹکراتا ۔ یہ چھ ادوار ہوسکتا ہے کہ اس طرح پر ہوں: ۱۔ و ہ روز جس میں سارا جہان گیس کے ایک مجموعہ کی شکل میں تھا، سُرعت کے ساتھ گھومنے کے سبب سرگردان ہوگیا اور اس سے یہ الگ الگ کُرّے وجود میں آئے ۔ ۲۔ یہ کُرّے تدریجی طور پر پگھلے ہوئے اور نورانی یا ٹھنڈے اور قابلِ سکونت کُرّوں کی شکل میں بن گئے ۔ ۳۔ پھر ایک دن نظام شمسی بنا اور زمین سورج سے الگ ہوگئی ۔ ۴۔ پھر ایک دن زمین ٹھنڈی ہوکر قابلِ سکونت بنی اور اس لائق ہوئی کہ اس میں جاندار رہ سکیں ۔ ۵۔ پھر ایک دن سبزہ اور درخت اس میں نمودار ہوئے ۔ ۶۔ پھر ایک دن وہ آیا کہ حیوان اور حضرت انسان بھی اس میں نمودار ہوئے ۔ یہاں پر جو کچھ اس جہان کے چھ ادوار کے متعلق بیان کیا گیا ہے وہ سورہٴ فصلت کی آیات ۸تا۱۱ سے قابلِ تطبیق ہے جس کی مفصّل شرح انشاء الله انہی آیات کے ذیل میں پیش کی جائے گی ۔ ۱۔ ایک تو یہی آیت، اس کے علاوہ سورہٴ یونس/ ۳، ہود/۷، فرقان/۵۹، سجدہ/۴، ق/۳۸، اور حدید/۴ میں اس بات کا تذکرہ ہے ۔ 2۔ راغب نے اپنی کتاب مفردات میں کہا ہے کہ لفظ ”یوم“ کا اطلاق کبھی تو طلوع آفتاب کی ردمیانی مدت پر ہوتا ہے اور کبھی زمانہ کی ایک مدت پر یہ لفظ بولا جاتا ہے، وہ مدت جتنی بھی ہو ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:54
”خلق“ و ”امر“ سے کیا مراد ہے؟
”خلق“ و ”امر“ سے کیا مراد ہے؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیان کافی بحث ہوئی ہے لیکن اس آیت میں جو قرائن ہیں نیز دیگر آیات کے قرائن اگر نظر کی جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ”خلق“ سے مراد آفرینش اوّل ہے اور ”امر“ سے مراد وہ قوانین ونظام ہے جو عالم ہستی پر حکومت کرتا ہے اور جس کی وجہ سے سارا نظام جہانِ چل رہا ہے ۔ یہ تعبیر درحقیقت ان لوگوں کا جواب ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ خدا نے اس جہان کو پیدا کرنے کے بعد اپنے حال پر چھوڑدیا اور خود کنارے بیٹھ گیا اور اب وہ کچھ نہیں کررہا ہے، دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عالمِ ہستی اپنی ایجاد میں تو خدا کا محتاج ہے لیکن اپنی بقا میں اسے خدا کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ آیت کہتی ہے: جس وقت کائنات اپنی آفرینش میں اس کی محتاج ہے اسی طرح تدبیر، دوام حیات اور اس کے چلانے میں بھی اس کی ذات سے وابستہ ہے، ایگ ایک لحظہ کے لئے لطفِ خدا اس کا ساتھ چھوڑدے تو پورا نظامِ عالمِ تباہ وبرباد ہوجائے ۔ بعض فلاسفہ کا یہ خیال ہے کہ عالم ”خلق“ سے عالم ”مادہ“ اور عالم ”امر“ سے عالمِ ارواح مقصود ہے کیونکہ عالم خلق تدریجی پہلو رکھتا ہے اور یہ جہان مادّہ کی خصوصیت ہے اور عالم امر فوری ودفعةً پہلو رکھتا ہے اور یہ ماوراء مادّہ کی خصوصیت ہے جیسا کہ قرآن میں ہے: <إِنَّمَا اٴَمْرُہُ إِذَا اٴَرَادَ شَیْئًا اٴَنْ یَقُولَ لَہُ کُنْ فَیَکُونُ جب خدا کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو حکم دیتا ہے کہ تُو ہوجا! تب وہ ہوجاتی ہے (یٰسین/۸۲) لیکن اگر لفظ ”امر“ کے قرآن میں مواردِ استعمال پر نظر کی جائے یہاں تک کہ اگر جملہٴ ”والشمس والقمر والنجوم مسخرات باٴمرہ“ پر نظر کی جائے جو زیر بحث آیت آیت میں ہے، تو اس سے سے معلوم ہوتا ہے کہ ”امر“ کے معنی ہر طرح کے فرمانِ الٰہی کے ہیں، چاہے وہ مادّی دنیا سے متعلق ہو یا ماورائے مادّہ سے (غور کریں) آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا گیا ہے: برکت کرنے والا ہے وہ خدا جوسارے جہانوں کا پالنے والا ہے (تَبَارَکَ اللهُ رَبُّ الْعَالَمِینَ) در حقیقت یہ جملہ ارض وسماء، ماہ وخورشید اور ستاروں کی خلقت اور ان کی تدبیر کے ذکر کے بعد مقام مقدّسِ الٰہی کی ایک طرح کی ستائش ہے، جو بندوں کو تعلیم دینے کی غرض سے کی گئی ہے ۔ ”تَبَارَکَ “ برکت کے مصدر سے ہے، اس کی بھی اصل ”برک ’“(بروزن درک)ہے، جس کے معنی اونٹ کے سینہ کے ہیں اور چونکہ اونٹ جب یہ چاہتا ہے کہ کسی جگہ جم کر بیٹھے، اپنا سینہ زمین سے چسپاں کردیتا ہے، اس بناپر اس لفظ کے معنی میں ”ثابت رہنا “ شامل ہوگیا، پھر اس کے بعد جو نعمت بھی پائیدار اور ثابت رہنے والی ہوئی اسے برکت کہا جانے لگا، بعد ازاں ہر اس موجود کو جو عمر طولانی رکھتی ہو یا اس کے آثار مستمر ومسلسل ہوں ”موجود مبارک“ یا ”پُربرکت“ کہا گیا، اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی ملتا ہے کہ تالاب کو بھی ”برکة“ کہتے ہیں یہ بھی اسی وجہ سے ہے کہ اس میں پانی دیر تک ٹھہرا رہتا ہے ۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ ایک ”پُربرکت“ سرمایہ وہ ہے جو جلدی زمال پذیر نہ ہو، اسی طرح ایک ”مبارک“ موجود وہ ہے جس کے فیض کے آثار ایک طولانی مدّت تک برقرار رہیں، لہٰذا یہ بات بدیہی ہے کہ اس مفہوم کا بہترین مصداق خداوندعالم کی ذات بابرکت ہے، وہ ایک وجود مبارک ازلی وابدی ہے جو تمام برکتوں اور نیکیوں کا سرچشمہ ہے جس خیر وبرکت ہمیشہ جاری وساری رہنے والی ہے <تَبَارَکَ اللهُ رَبُّ الْعَالَمِینَ (سورہٴ انعام کی آیت۹۲ کے ذیل میں بھی ہم اسی موضوع پر گفتگو کر آئے ہیں ملاحظہ ہو) ۔ ۵۵ ادْعُوا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْیَةً إِنَّہُ لَایُحِبُّ الْمُعْتَدِینَ- ۵۶ وَلَاتُفْسِدُوا فِی الْاٴَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِھَا وَادْعُوہُ خَوْفًا وَطَمَعًا إِنَّ رَحْمَةَ اللهِ قَرِیبٌ مِنَ الْمُحْسِنِینَ- ترجمہ ۵۵۔ اپنے پروردگار کو گڑگڑا کر اور تنہائی میں پکارو اور (زیادتی سے ہاتھ اٹھالو کیونکہ) وہ زیادتی کرنے والوں کو دوستی نہیں رکھتا ۔ ۵۶۔ اور زمین میں فساد نہ کرو جبکہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے، اور خدا کو خوف وامید کی حالت میں پکارو (خوف ذمہ داریوں کا؛ امید اس کی رحمت کی) کیونکہ الله کی رحمت نیکوکاروں سے نزدیک ہے ۔