وَنَادَى أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ
The inmates of the Fire will call out to the inhabitants of paradise, ‘Pour on us some water, or something of what Allah has provided you.’ They will say, ‘Allah has indeed forbidden these two to the faithless!’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:50
[Pooya/Ali Commentary 7:50] The dwellers of paradise will have Allah's mercy and His pleasure. They will enjoy the bliss of Allah's nearness. The provision, Allah gives to the believers in return of their true faith (belief in Allah, the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt) and the good deeds they did in accordance with their teachings are not transferable. The inmates of hell shall remain deprived of these provisions.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:50-51
جنت کی نعمتیں دو زخیوں پر حرام ہیں
جب جنتی اور دوزخی لوگ سب کے سب اپنے اپنے ٹھکانوں پر پہنچ جائیں گے تو ان کے درمیان گفتگو شروع ہوگی جس کا مقصد یہ ہوگا کہ اہلِ دوزخ کو ان کے اعمال کی وجہ سے روحانی اور معنوی سزا دی جائے ۔ پہلے دوزخی لوگ جو بہت بُری حالت میں ہوں گے جنت والوں سے پکارکر جنت ک پانی اور کھانے کی تمنّا کریں گے تاکہ جلادینے والی تشنگی اور دیگر آلام میں کچھ کمی واقع ہو ( وَنَادیٰ اٴَصْحَابُ النَّارِ اٴَصْحَابَ الْجَنَّةِ اٴَنْ اٴَفِیضُوا عَلَیْنَا مِنَ الْمَاءِ اٴَوْ مِمَّا رَزَقَکُمْ اللهُ) ۔ لیکن فوراً اہلِ بہشت ان کے اس سوال کو یہ کہہ کر ردّ کردیں گے کہ: یہ چیزیں الله نے کافروں پر حرام کردی ہیں(قَالُوا إِنَّ اللهَ حَرَّمَھُمَا عَلَی الْکَافِرِینَ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:50-51
تفسیر
پہلی آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کفار کی محرومیت اور ان کا انجامِ بَد، خود انہی کی کوتاہیوں اور ان کی فلطیوں کا نتیجہ ہے، ورنہ خداوندکریم کی جانب سے ان کی ہدایت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی، اس بناپر خدا فرماتا ہے: ہم نے ان کی ہدایت کے لئے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی، ان کے لئے ایک ایسی کتاب بھیجی جس کے تمام اسرار و رموز کی پوری آگاہی کے ساتھ تشریح کردی (وَلَقَدْ جِئْنَاھُمْ بِکِتَابٍ فَصَّلْنَاہُ عَلیٰ عِلْمٍ) ۔ ایسی کتاب جو ”سرمایہ ہدایت اور جوجب رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لئے، اگرچہ ہٹ دھرم اور ضدی انسان اس سے بے بہرہ رہ گئے (ھُدًی وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ) ۔ اس کے بعد کی آیت میں تباہ کاروں اور بے راہ رووں کی ہدایت الٰہی کے بارے میں غلط طرزِفکر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: گویا ان لوگوں کو اس بات کا انتظار ہے کہ خدا کے دعووں اور تہدیدوں کو اپنی اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں (جنتیوں کو جنت میں اور دوزخیوں کو دوزخ میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں) تاکہ اس وقت ایمان قبول کریں (ھَلْ یَنظُرُونَ إِلاَّ تَاٴْوِیلَہُ) ۔ لیکن یہ کیسا غلط انتظار اور کیسی بے جا توقع ہے کیونکہ جب وہ وقت آپہنچے گا کہ وہ اپنی آنکھوں سے ان الٰہی وعدوںکے نتیجوں کو دیکھیں گے تو فرصت کا موقع ہاتھ سے نکل چکا ہوگا اور پلٹنے کا راستہ بند ہوچکا ہوگا، یہ وہ وقت ہوگا کہوہ لوگ جنھوں نے کتاب خدا اور آسمانی قوانین کو دُنیا میں پس پشت ڈال دیا تھا اعتراف کریں گے ک خدا کے تمام فرستادہ بندے (رسول) حق کے ساتھ مبعوث ہوئے تھے اور ان کی تمام باتیں بھی برحق تھیں (یَوْمَ یَاٴْتِی تَاٴْوِیلُہُ یَقُولُ الَّذِینَ نَسُوہُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَائَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ) ۔ لیکن اس وقت وہ خوف اور اضطراب کے دریا میں ڈوب جائیں گے اور اپنی نجات کی فکر میں پڑھائیں گے اور کہیں گے: آیا کچھ شفاعت کرنے والے ہیں جو ہماری شفاعت کریں (فَھَلْ لَنَا مِنْ شُفَعَاءَ فَیَشْفَعُوا لَنَا) ۔ یا اگر ہماری قسمت میں شفیع (بخشوانے والے ) نہیں اور اصولی طور سے ہم قابل شفاعت نہیں ہیں تو کیا یہ ممکن ہے کہ ہم دنیا میں دوبارہ پلٹ دیئے جائیں اور جو اعمال ہم بجالائے ہیں ان سے مختلف دوسرے اعمال بجالائیں اور حق وحقیقت کے سامنے سرِتسلیم خم کرلیں (اٴَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِی کُنَّا نَعْمَلُ) ۔ لیکن افسوس کہ یہ بیداری دیر میں اور بعد از وقت ہوگی ، نہ تواس وقت کوئی لوٹ آنے کی راہ ہوگی اور نہ کوئی شفاعت کرنے والا ہوگا کیونکہ انھوں نے اپنی ہستی کا سرمایہ اپنے ہاتھ کھودیا ہوگا اور وہ گھاٹا اٹھانے والوں میں ہوںگے، ایسا گھاٹا جو ان کے وجود کو ہر طرف سے گھیرلے گا (قَدْ خَسِرُوا اٴَنفُسَھُمْ) ۔ اس وقت انھیں پتہ چلے گا کہ بُت اور ان کے خود ساختہ معبود اس عالم میں ان کے کچھ کام نہ آئیں گے اور درحقیقت ”سب کے سب ان کی نظروں سے گم ہوجائیں گے“ (وَضَلَّ عَنْھُمْ مَا کَانُوا یَفْتَرُونَ) ۔ گویا آخر آیت کے دوجملے ان کی درخواست کا جواب ہے، یعنی اگر وہ شفاعت چاہتے ہیں تو انہی بتوں کے دامن کو تھامیں جن کے آگے دنیا سجدہ کرتے تھے یہ اس صورت میں دُنیا میں پلٹ سکتے تھے کہ ان کے سرمایہ وجود ہو لیکن اسے تو انھوں نے دنیا میں تلف کردیا ۔ اس آیت سے پہلے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے اعمال میں ازاد وخود مختار ہے ورنہ دوبارہ دنیا میں جانے کی تمنّا نہ کرتا تاکہ اپنے اعمالِ بَد کی تلافی اور تدارک کرے ۔ دوسری یہ بات معلوم ہوئی کہ جہانِ آخرت جائے عمل اور فضیلت حاصل کرنے کا مقام نہیں ہے ۔ ۵۴ إِنَّ رَبَّکُمْ اللهُ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ فِی سِتَّةِ اٴَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ یُغْشِی اللَّیْلَ النَّھَارَ یَطْلُبُہُ حَثِیثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِاٴَمْرِہِ اٴَلَالَہُ الْخَلْقُ وَالْاٴَمْرُ تَبَارَکَ اللهُ رَبُّ الْعَالَمِینَ- ترجمہ ۵۴۔ تمھارا پروردگار وہ خدا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو جو کچھ (چھ دروں)میں پیدا کیا، اس کے بعد وہ جہان کے انتظام کی طرف متوجہ ہوا، وہ رات (کے تاریک پردہ) سے دن کو ڈھانپ لیتا ہے اور رات دن کے پیچھے پیچھے رواں دواں ہے اور اس نے سورج، چاند اور ستاروں کو پیدا کیا اس حال میں کہ یہ سب اس کے تابع فرمان ہیں، آگاہ ہوجاؤکہ (جہان کا) پیدا کرنا اور اس کا انتظام کرنا الله کے لئے اور اسی کے حکم سے ہے، برکت والا (اور لازوال) ہے، وہ خدا جو اسارے جہانوں کا پروردگار ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:50-51
چند اہم نکات
۱۔ قرآن نے پر لفظ ”نادیٰ“ استعمال کیا ہے دُور سے پکارنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اہلِ جنت اور اہلِ دوزخ کے درمیان کافی فاصلہ ہوگا، ساتھ ہی یہ بات بھی بعید نہیں ہے کہ یہ فاصلہ لاکھوں میل دُوری کا ہولیکن بقدرتِ الٰہی دونوں گروہ ایک دوسرے کی بات سن سکیںگے بلکہ بعض اوقات ایک دوسرے کو اتنے فاصلہ کے باوجود دیکھ سکیں، اگرچہ یہ بات گذشتہ زمانے میں بعض لوگوں کے لئے قابل قبول نہیں ہوسکتی تھیں لیکن اب وہ زمانہ آگیا ہے جس میں دُور کی صدا یا دور سے کسی کو دیکھنا ممکن ہوگیا ہے لہٰذا اس زمانہ میں اس بات پر کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے ۔ ۲۔ اہلِ دوزخ کی سب سے پہلی تمنّا یہ بیان کی گئی ہے کہ انھیں نے پانی طلب کیا، یہ ایک فطری امر ہے کہ جو شخص بھی آگ میں جلتا ہے اسے سب سے پہلے پانی کی طلب ہوتی ہے تاکہ اپنی سوزش کو تسکین پہنچاسکے ۔ ۳۔ ”مِمَّا رَزَقَکُمْ اللهُ“ (جو کچھ الله نے تم کو روزی دی ہے اس میں سے) یہ جملہ ایک سربستہ جملہ ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دوزخیوں کو یہ تک پتہ نہ چلے گا کہ اہلِ جنت کو کیا کیا نعمتیں ملی ہیں اور ان کی ماہیت کیا ہے، یہ مطلب بعض احادیث کے بالکل مطابق وارد ہوا ہے کہ جنّت میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہوگا اور نہ کسی کان نے سنا ہوگا، بلکہ کسی کے ذہن میں بھی ایسی نعمتیں نہ آئی ہوں گی ۔ ضمنی طور سے ایک مطلب اور بھی لفظ ”اٴو“ میں مضمر ہے اور وہ یہ ہے کہ جنت کی دیگر نعمتیں خاص طور پر جنت کے میوے پانی کا بدل ہوسکتے ہیں اور ان سے انسان کی بھڑکتی ہوئی پیاس بجھ سکتی ہے ۔ ۴۔ ”إِنَّ اللهَ حَرَّمَھُمَا عَلَی الْکَافِرِینَ“ (خدا نے انھیں کافروں کے لئے حرام قرار دیا ہے) یہ جملہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اہل بہشت کو یہ چیزیں دینے میں تو کوئی کمی واقع ہوگی اور نہ ہی ان کے دلوں میں کسی کی طرف سے کینہ ہوگا یہاں تک کہ اپنے دشمنوں سے بھی وہ کوئی بغض وحسد نہ رکھتے ہوں گے لیکن دوزخیوں کی وضعیت کچھ ایسی ہے کہ وہ ان نعماتِ الٰہی سے بہرہ ور نہیں ہوسکتے یہ تحریم فی الحقیقت ایک طرح کی ”تحریم تکوینی“ ہے جیسے بہت سے بیمار لذیذ اور رنگاررنگ کھانوں سے محروم ہوجاتے ہیں ۔ اس کے بعد کی آیت ان کی محرومی کا سبب بیان کررہی ہے اور اہلِ دوزخ کے صفات کو بیان کرنے کے ساتھ ہی اس امر کی وضاحت کررہی ہے کہ ان لوگوں نے یہ اپنا انجام بَد خود اپنے ہاتھوں فراہم کیا ہے پہلے فرمایا گیا ہے: یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے دین و مذہب کو کھیل تماشا بنارکھا تھا (الَّذِینَ اتَّخَذُوا دِینَھُمْ لَھْوًا وَلَعِبًا) ۔ اور دنیا کی زندگی نے انھیں دھوکا دیا تھا (وَغَرَّتْھُمَ الْحَیَاةُ الدُّنْیَا) ۔ یہ امور اس بات کا سبب بنے کہ وہ اپنی خواہشات کی دلدل میں اترجائیں اور تمام چیزوں کو یہاں تک کہ روزِ معاد کو بھی بھلا بیٹھیں اور انبیاء کے فرامین اور الله کی آیتوں کا انکار کردیں لہٰذا اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: آج ہم بھی انھیں بھلادیں گے جس طرح انھوں نے آج کے دن کو بھلادیا تھا اور جس طرح انھوں نے ہماری آیتوں کا انکار کردیا تھا (فَالْیَوْمَ نَنسَاھُمْ کَمَا نَسُوا لِقَاءَ یَوْمِھِمْ ھٰذَا وَمَا کَانُوا بِآیَاتِنَا یَجْحَدُونَ) ۔ یہ بات بدیہی ہے کہ یہاں پر ”نسیان اور فراموشی“ کی نسبت جو الله کی طرف دی گئی ہے اس سے اس کے حقیقی معنی مراد نہیں ہیں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ خدا ان کے ساتھ ایسا معاملہ کرے گا جیسا معاملہ کوئی فراموش کردینے والا کرتا ہے، یہ ایسی ہی ہے جیسے کوئی نہ بھولنے والا شخص اپنے بھول جانے والے دوست سے یہ کہتا ہے کہ اب جبکہ تم نے مجھے بھلادیا ہے تو میں تمھیں بھلادوں گا، مطلب یہ ے ہ تمھارے ساتھ وہ طرزِ عمل اختیار کروں گا جو بھول جانے والا کرتا ہے ۔ ضمنی طور سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گمراہی اور بھٹکنے کا پہلا مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنی قیمت بنانے والے مسائل کو کوئی اہمیت نہ دے اور نہیں کھیل تماشہ سمجھ کر ٹال دے، یہ حرکت اس بات کا سبب بنتی ہے کہ آخر کار اس سے کفرِ مطلق سرزد ہوتا ہے اور وہ تمام حقائق کا انکار کربیٹھتا ہے ۔ ۵۲ وَلَقَدْ جِئْنَاھُمْ بِکِتَابٍ فَصَّلْنَاہُ عَلیٰ عِلْمٍ ھُدًی وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ- ۵۳ ھَلْ یَنظُرُونَ إِلاَّ تَاٴْوِیلَہُ یَوْمَ یَاٴْتِی تَاٴْوِیلُہُ یَقُولُ الَّذِینَ نَسُوہُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَائَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ فَھَلْ لَنَا مِنْ شُفَعَاءَ فَیَشْفَعُوا لَنَا اٴَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِی کُنَّا نَعْمَلُ قَدْ خَسِرُوا اٴَنفُسَھُمْ وَضَلَّ عَنْھُمْ مَا کَانُوا یَفْتَرُونَ- ترجمہ ۵۲۔ ہم ان کے لئے ایک ایسی کتاب لائے جس کی ہم نے علم کے ساتھ شرح کی (ایک ایس کتاب) جو ان لوگوں کے لئے سرمایہَ ہدایت ورحمت ہے جو ایمان لاتے ہیں ۔ ۵۳۔ کیا انھیں اس بات کا انتظار ہے کہ وہ آخر میں الله کی تہدیدوں کو دیکھیں گے(۱) جب یہ امر ظاہر ہوگا تو اس وقت (عبرت حاصل کرنے کا وقت گزرچکا ہوگا) وہ لوگ جو اس سے قبل اسے بھول چکے ہوں گے کہ ہمارے رب کے فرستادہ رسول برحق آئے تھے، آیا آج کے روز ہمارے لئے کچھ ایسے شفاعت کرنے والے ہیں جو ہماری شفاعت کریںگے؟ یا (یا اس بات کا امکان ہے کہ) ہم دوبارہ پلٹادیئے جائیں؟ اور وہ اعمال بجالائیں جو ہم بجا نہ لائے تھے (لیکن) انھوں نے اپنے وجود کا سرمایہ اپنے ہاتھ سے کھودیا ہے اور جو جھوٹے معبود انھوں نے بنائے تھے وہ سب گم ہوگئے ہیں (اب نہ تو ان کے لئے پلٹنے کی کوئی راہ ہے اور نہ کوئی ان کی شفاعت کرنے والا موجود ہے) ۱۔ یہاں پر تاویل کے معنی مترجم نے ”تہدید“ سے کئے ہیں ،حالانکہ ”تاویل“ کے معنی ، ”معنائے عام“ کے ہیں، یہ لفظ ”تنزیل“ کے مقابلہ میں ہے جس کے معنی معنائے خاص کے ہیں، اسی سے حضرت رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ہے کہ اے علی! تم نے قرآن کی تاویل پر جنگ کروگے جس طرح مَیں نے اس کی تنزیل پر جنگ کی ہے، یہاں پر مراد یہ ہے کہ ایک روز ایسا آئے گا جب قرآن کا مفہوم عام ظاہر ہوگا، تفسیر قمی میں ہے کہ ایسا حضرت حجّت(علیه السلام) کے ظہور کے وقت اور قیامت کے روز ہوگا ۔(مترجم)