وَكَم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا فَجَاءَهَا بَأْسُنَا بَيَاتًا أَوْ هُمْ قَائِلُونَ
How many a town We have destroyed! Our punishment came to it at night, or while they were taking a midday nap.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:4
[Pooya/Ali Commentary 7:4] Ruined civilisations, found buried under lands and seas, prove the divine declaration made in verse 4. Expert archaeologists, by the help of science and technology, not only determine the exact time of existence of each civilisation but also almost write its history as if they witnessed what actually took place in the destroyed cities. Verse 5 says that they were destroyed because they were unjust, evil and wicked.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:4-5
چند اہم نکات
اردو ۱۔” قریہ“ در اصل مادّہٴ ”قُریٰ“ (بروزن ”نّھیٰ“) سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں”اکٹھا ہونا“ چونکہ ”قریہ“ (آبادی) لوگوں کے اکھٹا ہونے کی جگہ ہے اس لئے یہ لفظ اس پر بولا جاتا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ”قریہ“ صرف دیہات ہی کو نہیں کہتے بلکہ یہ ہر قسم کی آبادی اور انسانوں کے اجتماع کے مرکز پر بولا جاتا ہے چاہے کوئی دیہات ہویا شہر نیز قرآن کریم میں بھی یہ لفظ دیہات اور شہر دونوں کے معنوں میں استعمال ہوا ہے ۔ ”قائلون “مادّہٴ ”قیلولہ“ سے مشق ہے، جس کے معنی ہیں ”خواب نیم روز“ (دوپہر کی نیند) یا ”دوپہر کی استراحت“۔ اس کے اصلی معنی ہیں ”راحت“ اسی لئے بِکنے کے بعد کسی جنس کو ”واپس لے لینا“ بھی اس کے معنی میں داخل ہوجاتا ہے کیونکہ اس سے طرفین معاملہ کو راحت ہوجاتی ہے ۔ ”بیات“ کے معنی ”وقت شب“ کے ہیں ۔ ۲۔ یہ جو ہم نے مذکورہ آیت میں پڑھا ہے کہ اللہ کا عذاب رات کے درمیانی حصّے میں یا دوپہر کے آرام کے وقت ان لوگوں کے دامنگیر ہوا یہ اس لئے تھا تاکہ وہ اپنے عمل بد کی پاداش کا مزہ اچھی طرح سے چکھیں اور ان کی آسائش و آرام بالکل درہم برہم ہوکر رہ جائے، جس طرح ان ظالموں نے دوسرے لوگوں کے آرام و آسائش کو ملیامیٹ کردیا تھا، اس طرح ان کا کیفرِ کرداران کے عمل بد کے حسب حال تھا ۔ ۳۔ اس آیت سے یہ بات بھی بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ تمام مجرم اور گنہگار قوموں کی یہ حالت تھی کہ جب ان کے افراد عذاب الٰہی کے پنجے میں جکڑ جاتے اور غفلت و غرور کے پردے ان کے گناہوں سے اٹھ جاتے تو سب کے سب اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے لگ جاتے لیکن ایسا اعتراف ان کے لئے کسی طرح فائدہ بخش نہ تھا کیونکہ یہ تو ایک طرح کا”اجباری و اضطراری“ اعتراف تھا ۔ اس وقت حالت ہی ایسی ہوجاتی تھی کہ متکبّر سے متکبّر تر انسان کے لئے بھی اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا ۔ دوسرے لفظوں میں اس طرح کی بیداری، ایک جھوٹی بیداری تھی جو زود گزر اور بے اثر ہوتی ہے، جس میں کسی روحانی انقلاب کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا اور نہ اس کا ان کے اوپر کوئی اثر مرتب ہوتا ہے ہاں اگر یہی اعتراف گناہ بحالت اختیار عذاب آنے سے پہلے ہوتا تو ان کے روحانی انقلاب کی دلیل بن کر ان کی نجات کا باعث بن جاتا ۔ ۴۔ یہاں پر مفسّرین کے درمیان ایک بحث یہ بھی ہے کہ قرآن نے پہلے ”اھلکناھا“ (ہم نے انھیں ہلاک کردیا) فرمایا، اس کے بعد ۔ف۔ کے ذریعے جسے فائے تفریع کہتے ہیں اور یہ ترتیب زمانی کے لئے آتی ہے، دوسرا جملہ فرمایا ”فجآء ہا باٴسنا بیاتا“ (یعنی پھر رات کے وقت ہمارے عذاب نے انھیں آلیا) حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ عذاب تو ان کی ہلاکت سے قبل آیا تھا نہ کہ بعد میں؟ اس امر کی طرف توجہ کرنا چاہیے کہ ”ف“ ہمیشہ ترتیب زمانی ہی کے لئے نہیں آتی بلکہ اس سے کبھی پہلے مختصر جملے کی تفصیل بیان کرنا مقصود ہوتی ہے چنانچہ یہاں پر بھی پہلے تو ”اہلکنا ہا“کہہ کر مختصراً اس کا انجام بیان کیا گیا اس کے بعد اس طرح سے بیان کی:۔ ہمارے عذاب نے رات کے وقت یا دوپہر کو جبکہ وہ محو استراحت تھے ان کا دامن تھام لیا، اور جس گھڑی انھوں نے خود کو ہلاکت کے دروازے پر دیکھا تب انھوں نے اپنے ظلم و ستم کا اعتراف کیا ۔اس طرح کا کلام ، کلام عرب میں کم نہیں ہے ۔ ۵۔ اس طرح کی آیتوں کو، اقوام گذشتہ کی تاریخ ہی نہیں سمجھنا چاہیٴے اور نہ اسے اقوام گذشتہ سے مخصوص کرنا چاہیے کہ یہ بات آئی گئی ہوگئی بلکہ یہ آیتیں آج کے انسانوں کے لئے اور آئندہ آنے والوں کے لئے زبردست تنبیہیں اور خطرے کے الارم ہیں، یہ ہمارے لئے بھی ہیں اور تمام آئندہ آنے والی قوموں کے لئے بھی کیونکہ سنت الٰہیہ میں تبعیض و ترجیح کے کوئی معنی نہیں ہیں ۔ آج کا انسان جسے ایک صنعتی و میکانیکی انسان کہا جاتا ہے اپنی تمام قدرتوں اور قوموں کے باوجود جو اس نے بڑی کدو کاوش کے بعد حاصل کر رکھی ہیں ، زلزلے کے ایک جھٹکے، طوفان کے ایک جھونکے، بارش کے ایک پھپیڑے اور اسی طرح کی دیگر آسمانی بلاؤں کے آگے اس طرح کمزور وناتواں ہے جس طرح ماقبل تاریخ کے دَورمیں تھا، بنابریں وہ دردناک عذاب اور انجام بد کا سامنا گذشتہ امتوں کے ستمگاروں اور غرور ور ہوس رانی میں مست انسانوں کوکرنا پڑتا تھا، آج کے انسان سے بھی بعید نہیں ہے بلکہ اس وقت انسان کوجو قدرت وطاقت حاصل ہوگئی ہے اس کی بناء پر وہ خود اپنی تباہی وعذاب کا سبب بن سکتا ہے اور یہی علم اور طاقت اُسے آخر کار ایک عظیم جنگ کی طرف لے جارہی ہے جس کی وجہ سے نسل انسانی کے نابود ہونے کا اندیشہ ہے، آیا انسان کو ان حوادث سے عبرت نہیں لینا چاہیے؟۔ ۶فَلَنَسْاٴَلَنَّ الَّذِینَ اٴُرْسِلَ إِلَیْھِمْ وَلَنَسْاٴَلَنَّ الْمُرْسَلِینَ - ۷فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْھِمْ بِعِلْمٍ وَمَا کُنَّا غَائِبِینَ - ۸وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِینُہُ فَاٴُوْلٰئِکَ ھُمَ الْمُفْلِحُونَ- ۹وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِینُہُ فَاٴُوْلٰئِکَ الَّذِینَ خَسِرُوا اٴَنفُسَھُمْ بِمَا کَانُوا بِآیَاتِنَا یَظْلِمُونَ - ترجمہ ۶۔ یقینا ہم ان لوگوں سے سوال کریں گے جن کی طرف ہم نے رسول بھیجے تھے نیز ان پیغمبروں سے بھی سوال کریں گے ۔ ۷۔ اور یقینا (سب کے اعمال کو حرف بہ حرف) ان کے سامنے اپنے (وسیع) علم کی رُو سے بیان کریں گے، اور ہم( اصولی طور پر) غائب نہ تھے( بلکہ ہم ہر جگہ حاضر و ناظر تھے) ۔ ۸۔اور اس روز( اعمال کا) وزن کرنابرحق ہے، (اور ان کی قیمت معین کرنا) برحق ہے ، وہ لوگ جن کی میزان (عمل) بھاری ہے وہ فلاح یافتہ ہیں ۔ ۹۔ اور وہ لوگ جن کی میزان (عمل) سبک ہے وہ ہیں جنھوں نے اپنے اُس ظلم و ستم کی وجہ سے جو وہ ہماری آیتوں پر روا رکھتے تھے، اپنے سرمایہٴ وجود سے ہاتھ دھولیا ہے ۔ تفسیر
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:4-5
وہ قومیں جو نابود ہوگئیں
اردو ان دونوں آیتوں میں ان عبرت ناک سزاؤں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو سابقہ آیات میں مذکورہ فرمانوں کی مخالفت کی وجہ سے دی گئیں ۔ نیز یہ فی الواقع متعدد قوموں کی سرگذشت کی ایک اجمالی فہرست ہے جسے قوم نوح، قوم فرعون، قوم عاد، قوم ثمود اور قوم لوط جن کا تذکرہ بعد میں آنے والا ہے ۔ اس مقام پر قرآن ان لوگوں کو جو انبیائے الٰہی کی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہیں اور بجائے اپنی اور دوسرے افراد کی اصلاح کے، فساد کے بیج بوتے ہیں، انھیں شدّت سے تنبیہ کرتا ہے کہ وہ ذرا پچھلی قوموں کی زندگی پر نگاہ ڈالیں اور دیکھیں: ہم نے کس قدر شہر اور آبادیاں تباہ و برباد کردیں اور ان میں رہنے والے لوگوں کو نابود کردیا (وَکَمْ مِنْ قَرْیَةٍ اٴَھْلَکْنَاھَا) ۔ اس کے بعد ان کی ہلاکت کی کیفیت کو اس طرح بیان کرتا ہے : ہمارا درناک عذاب، رات (کی تاریکی) میں جبکہ وہ خواب راحت میں ڈوبے ہوئے تھے یا دن کے درمیانی حصہ میں اس وقت جبکہ وہ دن کے کاموں کے بعد استراحت کررہے تھے انھیں آپہنچا ( فَجَائَھَا بَاٴْسُنَا بَیَاتًا اٴَوْ ھُمْ قَائِلُون) ۔ اس کے بعد کی آیت میں بات کو آگے یوں بڑھاتا ہے: وہ لوگ جب گردابِ بلا میں گرفتار ہوتے تھے اور پاداش عمل کا طوفان ان کی زندگی کے آشیانہ کو اجاڑرہا ہوتا تھا تو وہ نخوت و غرور کی بلندی سے نیچے آتے تھے اور یوں کہتے تھے: ہم ستمگر تھے اور اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ ظلم و ستم نے ان کا دامن تھام رکھا تھا ( فَمَا کَانَ دَعْوَاھُمْ إِذْ جَائَھُمْ بَاٴْسُنَا إِلاَّ اٴَنْ قَالُوا إِنَّا کُنَّا ظَالِمِینَ) ۔