يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ
‘O Children of Adam! We have certainly sent down to you garments to cover your nakedness, and for adornment. Yet the garment of Godwariness—that is the best.’ That is [one] of Allah’s signs, so that they may take admonition.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:26
[Pooya/Ali Commentary 7:26] Allah created man "bare and alone" (An-am: 94). The soul in its naked purity knew no shame because there was no guilt, but after it was touched by guilt, covering (garment) became necessary. The best clothing and adornment is righteousness which covers the nakedness of sin and adorns man with virtue.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 7:26-39
Pious creatures of God bore worldly and eternal benefits for they participated the worldly in their worldly avocations, attending to religious duty, whereas the worldly people did not share with the religious in their religious duties. The pious lived in the world with piety and ate pure and lawful, thus deriving worldly pleasures with the worldly who were too arrogant to attend to religious duty. The pious thus got the world and eternal bliss, the latter of which was lost to the worldly.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:26-28
بنی آدم کے لئے خطرے کی گھنٹی
جیسا کہ ہم نے آیات گذشتہ کی آخری بحث میں بیان کیا کہ آدم کی سرگزشت اور ان کی شیطان سے کشمکش روئے زمین پر آنے والے تمام انسانوں کی زندگی میں پیش آنے والے واقعات کاایک عکس ہے یہی وجہ ہے کہ خدا نے ان آیات کے بعد تمام بنی آدم کے لئے کچھ ایسے تعمیری فرامین بیان کیے گئے در حقیقت بہشت میں آدم کو دیئے جانے والے احکام کا تتمہ ہیں ۔ سب سے پہلے اسی مسئلہ لباس اور جسم ڈھانپنے کی بات کا ذکر کیا ہے جو واقعہٴ آدم میں بھی اہمیت کا حامل ہے فرماتا ہے: اے اولاد آدم! ہم نے تم پر لباس اتارا تاکہ (تمھارے اندام کو ڈھانپ لے اور ) تمھارے بدنما حصّوں کو چھپالے ( یَابَنِی آدَمَ قَدْ اٴَنزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا یُوَارِی سَوْآتِکُمْ) ۔ لیکن اس لباس کا یہی فائدہ نہیں ہے کہ تمھارے بدن کو چھپالے اور اس کی برائی کو پوشیدہ کردے بلکہ ہم نے اسے تمھارے بدن کی زینت کے لئے بھی بھیجا ہے تاکہ یہ جیسا ہے اسے اس سے خوش نماتر دکھائے (وَرِیشًا) ۔ عربی میں ”ریش“در اصل پرندے کے پر کو کہتے ہیں، چونکہ پرندوں کے لئے پربھی لباس کاکام انجا م دیتے ہیں اس بناپر ہر لباس کو ”ریش“کہا جانے لگا، علاوہ بر این پرندوں کے پر خوبصورت بھی ہوتے ہیں اس لئے لفظ ”ریش“ میں زینت کا مفہوم بھی شامل ہوگیا، نیز جو کپڑا گھوڑے کی زین سریا اونٹ کی پشت پر ڈالا جاتا ہے اسے بھی ”ریش“ کہا جاتا ہے ۔ بعض مفسرین اور اہل لغت نے ”ریش“کے اس سے بھی وسیع معنی بیان کیے ہیں، یعنی ہر وہ سامان جس کی انسان کو ضرورت ہو ۔ لیکن اس آیت میں مناسب معنی لباس اور زینت کے ہیں ۔ اس جملے میں لباس ظاہری کے بیان کرنے کے فوراً بعد قرآن نے لباس معنوی کی بحث کو بھی چھیڑا ہے جیسا کہ دیگر مواقع پر قرآن کا طریقہ ہے، اگر کسی چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں تو دونوں کو بیان فرماتا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: پرہیزگاری اور تقویٰ کا لباس اس سے بہتر ہے (وَلِبَاسُ التَّقْوَی ذٰلِکَ خَیْرٌ) ۔ تقویٰ اور پرہیزگاری کے لئے لباس کی تشبیہ نہایت بلیغ اور معنی خیز ہے ۔ کیونکہ جس طرح لباس انسان کے بدن کو سردی اور گرمی سے بچاتا ہے، بہت سے خطروں میں ڈھال کا کام بھی کرتا ہے، جسمانی عیوب کو پوشیدہ رکھتا ہے اور انسان کے لئے ایک قسم کی زینت بھی ہے، اسی طرح تقویٰ و پرہیزگاری کا جذبہ علاوہ اس کے کہ وہ انسان کو گناہوں کے بُرے اثرات سے بچاتا ہے، اور بہت سی انفرادی و اجتماعی خطروں سے محفوظ رکھتا ہے بلکہ انسان کے لئے ایک بڑی زینت بھی بن جاتاہے ۔ تقویٰ ایک ایسی جاذب نظر زینت ہے جو انسان کی شخصیت میں اہمیت پیدا کردیتی ہے ۔ ”لباس تقویٰ“ سے کیا مراد ہے؟ اس امر میں بھی مفسّرین کے درمیان بڑی گفتگو ہوئی ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کا معنی ”عمل صالح“ ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد ”حیا“ ہے ۔ بعض نے اس سے”لباس عبادت“ مراد لیا ہے ۔ کچھ کا خیال ہے کہ اس سے مراد ”لباس جنگ“ ہے جیسے زرّہ، خود اور سپر وغیرہ کیونکہ ”تقویٰ “کی اصل ”وقایة“ ہے جس کا معنی ہے” مخالفت“ قرآن کریم میں بھی ”تقویٰ“ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ سورہٴ نحل کی آیت ۸۱ میں ہے: ( وَجَعَلَ لَکُمْ سَرَابِیلَ تَقِیکُمْ الْحَرَّ وَسَرَابِیلَ تَقِیکُمْ بَاٴْسَکُمْ ---) ۔ تمھارے لئے ایسے پیراہن بنائے گئے ہیں جو تمھیں گرمی سے محافظت کرتے ہیں اور کچھ پیراہن وہ ہیں جو میدان جنگ میں تمہاری حفاظت کرتے ہیں ۔ لیکن جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے کہ آیات قرآنی غالباً وسیع معنی کی حامل ہوتی ہیں جن کے مختلف مصداق ہوتے ہیں ۔ لہٰذا آیت مورد بحث میں بھی یہ تمام معنی مراد لئے جاسکتے ہیں ۔ اور چونکہ ”لباس تقویٰ “ کا لباس جسمانی کے مقابلے میں ذکر کیا گیا ہے لہٰذا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد وہی ”“روح تقویٰ و پرہیزگاری ہے جس کی وجہ سے انسان کی جان محفوظ رہتی ہے اور ”حیا“ و عمل صالح بھی اس میں داخل ہیں ۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: یہ لباس جو خدانے تمھیں عطا کیے ہیں، چاہے وہ مادی ہوں یا معنوی، لباس جسمانی ہوں یا لباس تقویٰ، یہ سب خدا کی آیات و نشانیاں ہیں تاکہ بندگان خدا، خدا کی نعمتوں کو یاد کریں ( ذٰلِکَ مِنْ آیَاتِ اللهِ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُونَ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:26-28
لباس کا نازل ہونا
قرآن کریم کی متعدد آیات میں لفظ ”انزلنا“ (ہم نے اتارا) ملتا ہے، جو بظاہر اوپر سے نیچے کی طرف بھیجنے کی مفہوم سے مطابقت نہیں رکھتا، جیسے زیر بحث آیت میں ہے ۔ کیونکہ خدا اس آیت میں فرماتا ہے: ہم نے تمھارے لئے لباس اتاراتاکہ تمھارے اندام کو چھپالے ۔ باوجود اس کے کہ ہمیں معلوم ہے کہ عام طور سے جو لباس تیار ہوتا ہے وہ یا تو جانوروں کی اون سے بنتا ہے ۔ یا نباتات سے، یہ سب چیزیں زمین سے متعلق رکھتی ہیں ۔ سورہٴ زمر کی آیت ۶ میں بھی ہے: ” وَ اَنْزَلَ لَکُمْ مِنَ الْاَنْعَامِ ثَمَانِیَةَ اَزْوَاجِ “ ” اللہ نے تمھارے لئے نازل کیے چو پایوں میں سے آٹھ جوڑے“۔ اور سورہٴ حدید آیت ۲۵میں ہے: ” واَنْزَلُنَا الْحَدِیْدَ---“ ” اور ہم نے لوہا اتار--- “ بہت سے مفسروں کو اس بات پر اصرار ہے کہ اس قسم کی آیات سے ”نزول مکانی“ یعنی اوپر سے نیچے کی طرف آنا مراد لیا جائے اور اسی طرح ان کی تفسیر بھی کی جائے ۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ چونکہ بارش اوپر سے نازل ہوتی ہے جس سے نباتات روئیدہ ہوتے ہیں، حیوانات سیراب ہوتے ہیں بنابریں لباس کا مواد اس معنی سے آسمان سے نازل ہوتا ہے، لوہے کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ آسمان سے جو پتھر برستے ہیں (شہابئے) ان کے اجزاء میں لوہے کی آمیزش ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اس بات کی طرف توجہ کی جائے کہ لفظ ”نزول“ سے کبھی ”نزول مقامی“ مراد ہوتا ہے جس کا استعمال روز مرہ میں داخل ہے جیسے کہتے ہیں کہ ”مقام بالا سے یہ حکم صادر ہوا ہے“ یا یہ کہ ”رفعت شکوای الی القاضی“ (میں نے اپنی شکایت قاضی کی طرف اٹھائی) تو اس بات کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ ان آیات کی تفسیر میں نزول مکانی پر اصرار کیا جائے ۔ کیونکہ اللہ تمام نعمتیں اس کی بلند و بالا بارگاہ سے بندوں کے لئے آتی ہیں ۔ لہٰذا ان کے لئے لفظ ”نزول“ کا استعمال حسب حال اور عین مناسب ہے ۔ اس موضوع کی نظیر و مثال ان الفاظ میں بھی ملتی ہے جن سے قریب اور دور کے لئے شارہ کیا جاتا ہے ۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کوئی چیز مکانی حیثیت سے ہم سے بالکل قریب ہوتی ہے، لیکن اپنے مقام و درجہ کے لحاظ سے ہم سے بلند ہوتی ہے تو ایسی چیز کے لئے اشارہ کرنے کے لئے ہم وہ لفظ استعمال کرتے ہیں جو دور کے لئے وضع ہوئی ہے ۔ جیسے بجائے ”آپ“ کے کہتے ہیں: آنجناب کی خدمت میں عرض ہے (حالانکہ بسااوقات”آنجناب“ بالکل پہلو میں بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں) قرآن میں بھی ہم پڑھتے ہیں ”ذٰلک الکتاب لاریب فیہ “(وہ کتاب پُر عظمت و بلند پایہ(یعنی قرآن) ایسی ہے کہ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:26-28
گذشتہ اور موجودہ زمانے میں لباس
جہاں تک تاریخ کی دسترس ہے ہمیں انسان ہمیشہ لباس میں ملتا ہے ہاں یہ ضرور ہے کہ تاریخ جتنی دور ہوتی جاتی ہے اور مقامات بدلتے جاتے ہیں تو لباسوں میں بھی بڑا فرق ہوتا جاتا ہے ۔ گذشتہ زمانے میں لباس صرف جاڑے اور گرمی سے بچنے کے لئے یا بدن کی زینت کے لئے پہنا جاتا ہے ۔ لیکن بدن کی حفاظت کے پہلو سے غفلت تھی ۔ آج کی زندگی میں یہ پہلو بھی سامنے آگیا ہے جیسا کہ بعض شعبوں میں اس کی طرف خاص نظر ہے ۔ جیسے فضا نوردوں، آگ بجھانے والوں ، کان کنوں، سمندر میں غوطہ لگانے والوں اور اسی طرح کے دیگر کام کرنے والوں کے خصوصی لباس جو ان کی جانو بدن کی حفاظت کے لئے ہوتے ہیں ۔ عصر حاضر میں صنعت لباس بافی کے مواد خام میں اتنی کثرت ہوگئی ہے کہ جس کا گزشتہ دور میں تصور نہیں کیا جاسکتا ۔ تفسیر ”المنار“ کا موٴلف آٹھویں جلد میں اس آیت کے ذیل میں اس طرح رقمطراز ہے: ایک دن کا واقعہ ہے کہ جرمنی کا صدر ایک کپڑے کی ہل کا معائنہ کررہا تھا ۔ جب وہ اس عظیم کارخانے میں داخل ہوا تو شروع میں اس نے کچھ بھیڑوں کو دیکھا جن سے اون اتاری جارہی تھی ۔ اس کے بعد جب وہ اس کارخانے سے بہار نکلنے لگا تو کارخانے کے مہتمم نے اسے ایک خوبصورت کپڑا پیش کیا اور کہا کہ یہ اسی اون سے تیار ہوا ہے جو ابھی تھوڑی دیر پیشتر آپ کے سامنے بھیڑوں سے حاصل کی جارہی تھی یعنی دوگھنٹے سے بھی کم کی مدت میں بھیڑ کے بدن سے اتری ہوئی اون صدر مملکت کے پہننے کے لئے ایک خوبصورت کپڑا بن گیا ۔ لیکن ہمارے دور میں کپڑے کے استعمال کا ایک ناپسندیدہ اور افسوسناک پہلو اس طرح سامنے آیا ہے کہ اس کا اصلی فائدہ تحت الشعاع ہوگیا ہے، اور وہ پہلو یہ کہ لباس حسن پرستی ، فساد، شہوت انگیزی، خودنمائی اور تکبرّ، اسراف اور فضول خرچی وغیرہ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ حتیٰ کہ بعض افراد کے بدن پر ایسا لباس دیکھا گیا ہے (خاص کر مغرب زدہ جوانوں کے بدن پر) جس کا جنونی پہلو عقلی پہلو پر غالب نظر آتا ہے ۔ وہ لباس ایسا ہے جو دنیا کی ہر چیز ہوسکتا ہے لیکن اسے لباس نہیں کہا جاسکتا ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں میں جو ذہنی نقص ہے اس کا اظہار وہ اس طرح کے عجیب و غریب لباس پہن کر کرتے ہیں ۔ جو لوگ اپنے کسی کارنمایاں سے لوگوں کی نظر اپنی طرف نہیں موڑ سکتے وہ عجیب و غریب اور حیران کن لباس کے ذریعے معاشرے میں اپنے وجود کا اظہار چاہتے ہیں ۔ اسی وجہ سے ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو بردبار ہیں اور ان میں کسی قسم کا نقص یا احساس کمتری نہیں ہے وہ ایسے لباس سے اجتناب کرتے ہیں ۔ علاوہ بریں کتنا کثیر مال اور سرمایہ ان گوناں گوں لباسوں، فیشن پرستوں اور لباس پہننے کے مقابلوں میں خرچ ہوجاتا ہے ۔ اگر اس مبلغ کثیر کو ان فضول خرچیوں سے بچالیا جائے تو اس سے نہ معلوم کتنی اجتماعی اور معاشرتی مشکلیں حل ہوسکتی ہیں اور اس کے ذریعے اس دکھی معاشرے کے کتنے زخموں پر موٴثر طور پر مرہم رکھا جاسکتا ہے ۔ لباس کے بارے میں فیشن پرستی سے صف یہی نہیں ہوتا کہ زر کثیر بیکار خرچ ہوجاتا ہے بلکہ اس سے وقت اور انسانی توانائی بھی بہت تلف ہوتی ہے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کے حالات پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت اور دیگر آئمہ طاہرین علیہم السلام لباس کے معاملہ میں تجمل پرستی کے مخالف تھے ۔ جیسا کہ روایات میں ملتا ہے کہ نصاری بنی نجران کا ایک وفد آنحضرت سے ملنے آیا ۔ وہ لوگ اپنے بدنوں پر ریشم سے بنا ہوا ایسا خوب صورت لباس پہنے ہوئے تھے جو اس وقت عرب عام طور پر نہیں پہنتے تھے ۔ جب یہ لوگ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے او ر انھوں نے سلام کیا تو آنحضرت نے انھیں سلام کا جواب نہیں دیا ۔ حتیٰ کہ ان سے بات ک کرنے کے روا دارنہ ہوئے ۔ جب حضرت علی علیہ السلام سے اس مشکل کا حل پوچھا گیا تو آپ(علیه السلام) نے فرمایاکہ میرا خیال ہے کہ یہ لوگ یہ لباس فاخرہ اتاردیں اور قیمتی انگوٹھیاں بھی اپنی انگلیوں سے اتاردیں اس کے بعد پیغمبر کی خدمت میں جائیں تو انھیں شرف ملاقات حاصل ہوجائے گا ۔ چنانچہ ان لوگوں نے حضرت علی علیہ السلام کی ہدایت پر عمل کیا تو آنحضرت نے ان کے سلام کا جواب بھی دیا اور ان سے بات بھی کی بعد ازان جناب رسالت مآب نے فرمایا: ”والّذی بعثنی بالحق لقد اٴتونی المرة الاولٰی و ان ابلیس لمعہم“ اس ہستی کی قسم جس نے مجھے مبعوث برسالت کیا، جب یہ لوگ پہلی دفعہ آئے تھے تو ان کے ساتھ شیطان بھی آیا تھا ۔(۱) اس کے بعد والی آیت میں خدا وند کریم تمام افراد بشر اور اولاد آدم کو خبردار کرتا ہے کہ شیطان کے ہتھکنڈوں سے ہوشیار رہیں ۔ کیونکہ شیطان نے اپنی پرانی دشمنی کا اظہار انسانوں کے پدر و مادر اول سے کر دیا ہے کہ انھیں فریب دے کر ان کا لباس جنت ان کے بدنوں سے اتر وا دیا ۔ اسی طرح ممکن ہے کہ وہ انسانوں کے لباس تقویٰ کوبھی اتر وائے، اس لئے فرمایا گیا: اے آدم کی اولاد! شیطان تمھیں دھوکا نہ دے جیسا کہ اس نے تمھارے باپ آدم اور ماں حوّا کو (دھوکا دے کر) بہشت سے نکال دیا اور ان کا لباس ان کے تن سے الگ کردیا تاکہ ان کی شرمگاہ ان کو دکھلا دے (یَابَنِی آدَمَ لَایَفْتِنَنَّکُمْ الشَّیْطَانُ کَمَا اٴَخْرَجَ اٴَبَوَیْکُمْ مِنَ الْجَنَّةِ یَنزِعُ عَنْھُمَا لِبَاسَھُمَا لِیُرِیَھُمَا سَوْآتِھِمَا ) ۔ در حقیقت جو چیز اس آیت کو گذشتہ آیت سے مربوط کرتی ہے وہ یہ ہے کہ وہاں ظاہری اور معنوی لباس (لباسِ تقویٰ) کا تذکرہ تھا اور اس آیت میں خبردار کیا جارہا ہے کہ ہوشیار رہنا کہیں شیطان تمھارے اس لباس تقویٰ کو بھی نہ اتروادے ۔ بیشک ظاہری عبارت میں تو یہ نہی کا حکم شیطان کے لئے ہے، لیکن اس طرح کی عبادتوں میں ایک لطیف کنایہ مخاطب کو نہی کرنے کے لئے مضمر ہوتا ہے ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم اپنے کسی دوست سے کہیں کہ خبردار فلاں دشمن تم کو نقصان نہ پہنچادے ۔ مقصد یہ ہے کہ تم ہشیار رہنا اور اس سے مارنہ کھانا ۔ اس کے بعد تاکید فرماتا ہے کہ شیطان اور اس کے کارندوں کا حساب کتاب دیگر دشمنوں سے بالکل الگ ہے کیونکہ وہ اور اس کے کارندے تمھیں دیکھتے ہیں اس عالم میں کہ تم انھیں نہیں دیکھتے لہٰذا ایسے دشمن سے بہت ہشیار رہنے کی ضرورت ہے (إِنَّہُ یَرَاکُمْ ھُوَ وَقَبِیلُہُ مِنْ حَیْثُ لَاتَرَوْنَھُمْ) ۔ در حقیقت جس مقام پر تمھیں یہ گمان گزرے کہ یہاں پر بس تم ہی تم ہو، ممکن ہے کہ شیطان اور اس کا گروہ بھی وہاں موجود ہو ۔ سچّی بات یہ ہے کہ دشمن اگر ایسا چھپا ہوا ہو کہ اس کے متعلق ہر آن یہ خطرہ ہو کہ نہ معلوم کب حملہ کر بیٹھے، ایسے خطرناک دشمن کے مقابلے میں ہمیشہ آمادہ جنگ رہنا چاہیے ۔ آیت کے آخر میں ایک جملہ ہے در حقیقت ایک اہم اعتراض کا جواب ہے ۔ اگر کوئی یہ کہہ کہ : خدائے مہربان دعادل نے کس لئے ایسے موذی اور قوی دشمن کو انسان پر مسلط کردیا، دشمن ایسا جو اپنی طاقتوں میں انسان سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا، جہاں چاہے چلا جائے بغیر اس کے کہ کوئی اس کے پاؤں کی آہٹ سن سکے، بلکہ بعض روایات میں ہے کہ وہ انسان کے اندر اس طرح دوڑ جاتا ہے جس طرح خون بدن کی رگوں کے اندر دوڑتا ہے، آیا یہ عمل عدالت الٰہی سے مطابقت رکھتا ہے؟! مذکورہ آیت اس احتمالی سوال کے جواب میں کہتی ہے: ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا ولی و سرپرست قرا دیا ہے جو بے ایمان ہیں ( إِنَّا جَعَلْنَا الشَّیَاطِینَ اٴَوْلِیَاءَ لِلَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ) ۔ یعنی ان شیاطین کو اس کی اجازت نہیں دی گئی کہ ان بندوں کی جان و روح میں داخل ہوسکیں جنھوں نے ان شیاطین کو قبول کرنے کا اعلان نہیں کیا، اور وہ صاحبان ایمان ہیں دوسرے لفظوں میں یوں کہناکہ شیطان کی طرف ابتدائی قدم خود انسان کی طرف سے اٹھتے ہیں اور خود اس کی جانب سے شیطان کو یہ اجازت ملتی ہے کہ سلطنت بدن میں داخل ہوجائے ۔ لہٰذا انسان کی اجازت سے شیطان اس کے بدن میں داخل ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کی روح کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے بنابریں جو افراد اپنے بدن کی کھڑکیاں بند رکھتے ہیں، شیطان کو بھی یہ جراٴت نہیں کہ ان کے بدن کی قلمرد میں داخل ہوسکے ۔ قرآن کریم کی بعض دیگر آیات یہی اس حقیقت کی شہادت دیتی میںجیسا کہ سورہٴ نحل کی آیت ۱۰۰میں ہے: <إِنَّمَا سُلْطَانُہُ عَلَی الَّذِینَ یَتَوَلَّوْنَہُ وَالَّذِینَ ھُمْ بِہِ مُشْرِکُونَ شیطان کا قبضہ ان لوگوں پر ہے جو اسے چاہتے ہیں اور اس کی پرستش کرتے ہیں ۔ نیز سورہٴ حجرہ آیت ۴۲ میں ہے: <إِنَّ عِبَادِی لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطَانٌ إِلاَّ مَنْ اتَّبَعَکَ مِنَ الْغَاوِینَ۔ میرے بندوں پر تیرا قبضہ نہ ہوسکے گا سوا ان گمراہوں کے جو تیری اتباع کریں گے ۔ دیگر لفظوں میں یوں سمجھنا چاہیے کہ ہم ان ظاہری آنکھوں سے خود شیطان اور اس کے ساتھیوں کو نہیں دیکھتے لیکن اتنا ضرور ہے کہ ان کے نقشِ پا کو تو دیکھتے ہیں ۔ جس جگہ محفل گناہ برپا ہو، اسباب معصیّت فراہم ہوں ۔ دنیا اپنے زرق برق لباس میں محو رقص ہو، تجمل پرستی موجزن ہوااور جس وقت غرائز طبعی میں طوفان بھی اٹھ رہا ہو، یا آتش غیظ و غضب بھڑک رہی ہو، یہ سمجھو کہ یہ سب شیطان کے نقش پا ہیں کیونکہ ان خطر ناک مواقع پر شیطان کی موجود لازمی ہے گویا ان مقامات پر انسان شیطانی وسوسوں کو اپنے دل کے کانوں سے سن رہا ہوتا ہے اور اس کے منحوس قدموں کے نشانوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوتا ہے ۔ اس بارے میں ایک جاذبِ نظر حدیث امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے آپ(علیه السلام) نے فرمایا: لمادعا نوح ربہ عزوجل علٰی قومہ اتاہ ابلیس لعنہ اللّٰہ فقال یا نوح ان لک عندی یدًا ارید ان اکا فیک علیہا، فقال نوح انہ لیبغض الی ان یکون لک عندی ید فماہی؟ قال بلٰی دعوت اللّٰہ علٰی قومک فاغرقتہم فلم یبق احد اغویہ، فانا مستریح حتیٰ ینسق قرن آخر و اغویہم، فقال لہ نوح ما الذی ترید ان تکافئنی بہ؟ قال اذکر نی فی ثلاث مواطن فانی آقرب مآ اکون الی العبد، اذاکان فیٓ احدا ہن: اذکرنی اذا غضبت؟ واذکرنی اذا حکمت بین اثنین! واذکرنی اذا کنت مع امراٴة خالیاً لیس معکما احد! (۱) جس وقت حضرت نوح نے اپنی قوم کے لئے بدعا کی اور خدا سے یہ چاہا کہ وہ اسے ہلاک کردے(اور ان سب کو غرق کردے) تو طوفان کے بعد ابلیس ان کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے نوح ! میری گردن پر تمہارا ایک حق ہے میں چاہتا ہوں کہ اس کا بدلہ چکادوں! یہ سن کر نوح کو تعجب ہوا کہ کیا احسان! کہایہ امر مجھے بہت شاق ہے میرا کوئی حق تیرے ذمہ ہو ذرا بتلا کہ وہ حق کیا ہے؟ ابلیس نے کہا وہی بددعا جو تم نے اپنی قوم کے لئے کی ہے جس کی وجہ سے سب ہلاک ہو گئے اور کوئی ایسا شخص نہ بچا جس کو میں گمراہ کرنے کی زحمت گوارا کروں اس وجہ سے مجھے ایک عرصہ تک کے لئے چھُٹی مل گئی کہ آرام کروں یہاں تک کہ دوسری نسل بڑی ہو اور میں نئے سرے سے انہیں گمراہ کرنے میں مشغول ہوں ۔ نوح نے اگر چہ اپنی قوم کی ہدایت کی بڑی کوشش کی تھی اور جب کسی طرح وہ ٹھیک نہ ہوئی اس وقت انھوں نے بددعا کی تھی اس لئے شیطان کا یہ طعنہ درست نہ تھا لیکن اس کے بوجود وہ ناراحت ہوئے، انھوں نے ابلیس سے کہا: اب تو کس طرح تلافی کرنا چاہتا ہے؟ اس نے کہا: تین مواقع ایسے ہیں جہاں مجھے یاد کرلینا ! کیونکہ ان مواقع پر میں بندگان خدا سے سب سے زیادہ نزدیک ہوجاتا ہوں ۔ یاد رکھو مجھے، جب تم غصّہ میں ہو ۔ اور یاد رکھو مجھے، جب تم دوشخصوں کے درمیان فیصلہ کرو ۔ اور یاد رکھو مجھے اس وقت جب تم کسی نامحرم عورت کے ساتھ اکیلے ہو! ایک اور قابل توجہ نکتہ یہاں پر یہ ہے کہ کچھ مفسرین نے آیہ مذکورہ سے یہ استفادہ کیا ہے کہ شیطان کسی حال میں انسان کے لئے قابل دید نہیں ہے جبکہ بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا ہوسکتا ہے ۔ لیکن بظاہر ان دونوں باتوں میں اختلاف نہیں ہے کیونکہ بمقتضائے اصل شیطان قابل روٴیت نہیں ہے لیکن مثل دیگر کلیات کے یہ کلیہ بھی قابلِ استثناء ہے لہٰذا وہ بعض مواقع پر دیکھا جاسکتا ہے ۔ اس کے بعد کی آیت میں شیطان کے ایک اہم وسوسہ کا ذکر کیا گیا ہے جو بعض شیطان صفت انسانوں کی زبان پر ہی جاری ہوتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ جب بھی وہ کوئی عمل قبیح بجالاتے ہیں اور ان سے اس کے متعلق جواب طلب کیا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں : یہ طریقہ ہے جس پر ہم نے اپنے بزرگوں کو گامزن پایا ہے ( وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَیْھَا آبَائَنَا ) ۔ اس کے بعد وہ مزید کہتے ہیں: خدانے بھی ہمیں اس طریقہ پر چلنے کا حکم دیا ہے (وَاللهُ اٴَمَرَنَا بِھَا ) ۔ بزرگوں کی کورانہ تقلید اور بارگاہ خداوندی کو کسی بارے میں متہم کرنا یہ دو نا قابل قبول عذر ہیں جو بعض شیطان صفت افراد پیش کرتے ہیں ۔ یہاں پر ایک جاذب نظر بات یہ ہے کہ خدانے ان کی پہلی دلیل کا کوئی جواب نہیں دیا گویا ایسی پوچ اور کمزور ہے جس کے جواب کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس دلیل کے بطلان کو ہر عقل سلیم سمجھ سکتی ہے، علاوہ بریں قرآن کریم میں متعدد بار اس کا جواب دہرایا گیا ہے،لہٰذا صرف دوسرے جواب پر اکتفاء کی ہے، فرمایا گیا ہے: خدا کبھی بُرے کاموں کا حکم نہیں دیتا ،کیونکہ اس کا حکم عقل کے حکم سے جدا نہیں ہے (قُلْ إِنَّ اللهَ لَایَاٴْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ ) ۔ برے کاموں کا حکم دینا نصّ قرآنی کے مطابق ایک شیطانی کام ہے نہ کہ خدا کا کام ، خدا تو صرف نیکی اور اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے ۔(۱) بعد ازاں اس جملہ پرآیت کا خاتمہ ہے:کیا تم خدا کی جانب ایسی باتوں کی نسبت دیتے ہو جنھیں تم نہیں جانتے ( اٴَتَقُولُونَ عَلَی اللهِ مَا لَاتَعْلَمُونَ) ۔ اگر بظاہر زیادہ مناسب تو یہ تھا کہ فرمایا جاتا: تم کیوں اس بات کی خدا کی طرف نسبت دیتے ہو جو جھوٹ ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے؟ لیکن اس کی بجائے فرمایا: جس چیز کو تم نہیں جانتے اس کی نسبت خدا کی طرف کیوں دیتے ہو؟ یہ در اصل اس وجہ سے ہے کہ وہ مطالب جو طرفین کے لئے قابل قبول اور مسلم ہیں ان کا سہارا لیا جائے ۔ گویا ان سے کہا جارہا ہے کہ تمھیں اگر ان باتوں کے جھوٹ ہونے کا یقین نہیں ہے تو کم از کم اتنا تو ہے کہ ان کے صحیح ہونے پر بھی تمھارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، لہٰذا بغیر دلیل کے کیوں تہمت لگاتے ہو اور جس چیز کو نہیں جانتے اسے خدا کی طرف کیوں منسوب کرتے ہو ۔ ۱۔ بحار الانوار طبع جدید جلد ۱۱ ص ۳۱۸۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:26-28
تفسیر
چونکہ گزشتہ آیت میں لفظ ”فحشاء“(جس کے معنی ہر قسم کے بُرے کام کے ہیں) سے بحث کی گئی تھی اور یہ تاکید کی گئی تھی کہ خدا ہرگز بُرے کام کا حکم نہیں دیتا لہٰذا اب اس آیت میں ایک مختصر جملے کے ذریعے پروردگار عالم کے ان فرامینِ بنیادی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن کا تعلق عملی ذمہ داری سے ہے ۔ اس کے بعد اصول عقائد کی دو بنیادوں یعنی مبدا و معاد کو مختصراً بیان کیا گیا ہے ۔ ابتداء میں فرمایا گیا ہے: اے پیغمبر! ان سے کہہ دو کہ میرے پروردگار نے مجھے عدالت کا حکم دیا ہے ( قُلْ اٴَمَرَ رَبِّی بِالْقِسْطِ) ۔ ہم جانتے ہیں کہ عدالت کا ایک وسیع مفہوم ہے جس میں تمام اعمال نیک آجاتے ہیں ۔ کیونکہ عدالت کے حقیقی معنی یہ ہیں کہ ہر چیز کو اس کے محل و مقام پر رکھا جائے اور وہ جس لئے ہے اسے وہاں استعمال کیا جائے اگر چہ لفظ ”عدالت“ اور لفظ ”قسط“ میں فرق ہے ۔ عدالت اسے کہتے ہیں کہ انسان ہر ایک کا حق ادا کر دے اس کے مدِّ مقابل دوسروں پر ظلم و ستم کرنا اور ان کے حقوق کا غضب کرنا ہے، لیکن ”قسط“ کے معنی یہ ہیں کہ کسی کا حق دوسرے کو نہ دے، یعنی تقسیم کرنے میں ایک دوسرے پر ترجیح نہ دے اور کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ برتے، اس کے مد مقابل یہ ہے کہ ایک کا حق دوسرے کو دے دے ۔ لیکن ان دونوں کلموں کا وسیع مفہوم،خصوصاً جبکہ یہ الگ الگ استعمال کیے جائیں ، تقریباً بالکل مساوی ہے جس کے معنی ہر چیز اور ہر کام میں اعتدلال برتنے اور ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھنے کے ہیں ۔ اس کے بعد توحید پرستی اختیار کرنے اور ہر طرح کے شرک کے خلاف جنگ کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے: اپنے دل کو ہر عبادت میں اس کی طرف متوجہ رکھنا اور اس کی ذات پاک سے منہ موڑ کر اور کسی طرف نہ مڑنا (وَاٴَقِیمُوا وُجُوھَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ ) ۔ اسے پکارو، اور اپنے دین و آئین کو اس کے لئے خالص اور مخصوص کردو (وَادْعُوہُ مُخْلِصع ِینَ لَہُ الدِّینَ ) ۔ توحید کے ستون کو مستحکم کرنے کے بعد مسئلہ معاد و محشر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: جس طرح تمھیں آغاز میں پیدا کیا، اسی طرح دوبارہ بروز قیامت تم پلٹ کر آؤ گے (کَمَا بَدَاٴَکُمْ تَعُودُونَ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:26-28
”فحشآء“ سے کیا مراد ہے؟
لفظ ”فاحشہ“(عمل قبیح) کے متعلق بہت سے مفسّرین کا قول ہے کہ اس سے زمانہ جاہلیت میں عربوں کی اس رسم کی طرف اشارہ ہے کہ وہ خانہ کعبہ کے گرو مادر زاد برہنہ طواف کرتے تھے، اس میں مرد و عورت کا بھی کوئی فرق نہ تھا، اس بارے میں ان کی دلیل یہ تھی کہ جن کپڑوں سے خدا کا گناہ کیا ہے انھیں وقت طواف بدن سے الگ کردینا چاہیئے ۔ بے شک یہ تفسیر ان آیات سے ضرور مناسبت رکھتی ہے جو اس سے قبل گذر چکی ہیں اور ان میں لباس اور اس کے پہننے کے متعلق گفتگو کی گئی ہے ۔ لیکن متعدد روایات میں ملتا ہے کہ ”فاحشہ“ سے مراد یہاں پر ظالم پیشواوٴں کا لوگوں سے یہ کہنا ہے کہ وہ ان کی پیروی کریں کیونکہ(بقول ان کے) خدانے ان کی اطاعت کو لوگوں پر فرض کیا ہے ۔ لیکن بعض مفسرین جیسے ”المنار“ اور ”المیزان“ کے موٴلف نے اس کے ایک وسیع معنی بیان کیے ہیں جس کے دائرے میں ہر بُرا کام آجاتا ہے ۔ اگر آیت کے وسیع معنی پر نظر کی جائے تو معلوم ہوگا کہ ”فاحشہ“ کے معنی میں وسیع و عام ہونا چاہئے برہنگی کے عالم میں طواف کرنا اور پیشوایان ظلم و ستم کی پیروی اس کے واضح مصداقوں میں سے ہوگا، اور یہ روایات کے خلاف بھی نہیں ہوگا ۔ تفسیر نمونہ کی جلد اول سورہ ٴبقرہ آیت ۱۷۰ کے ذیل میں بزرگوں کے طریقہ اور رسوم پر بغیر کسی قید و شرط کے عمل کرنے کے بارے میں مفصل بحث کی گئی ہے ملاحظہ ہو ۔ ۲۹ قُلْ اٴَمَرَ رَبِّی بِالْقِسْطِ وَاٴَقِیمُوا وُجُوھَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوہُ مُخْلِصع ِینَ لَہُ الدِّینَ کَمَا بَدَاٴَکُمْ تَعُودُونَ- ۳۰ فَرِیقًا ھَدیٰ وَفَرِیقًا حَقَّ عَلَیْھِمْ الضَّلَالَةُ إِنَّھُمْ اتَّخَذُوا الشَّیَاطِینَ اٴَوْلِیَاءَ مِنْ دُونِ اللهِ وَیَحْسَبُونَ اٴَنَّھُمْ مُھْتَدُونَ- ترجمہ ۲۹۔ (اے میرے رسول!)کہہ دو کہ میرے پرورگار نے عدالت کا حکم دیا ہے، اور ہر مسجد میں (اور وقتِ عبادت)اپنی توجہ اس کی طرف رکھو، اسے پکارو اور اپنے دین کو اس کے لئے خالص کرو (اور یہ جان لوکہ )جس طرح اس نے تم کو آغاز میں پیدا کیا ہے (اسی طرح) تم حشر کے روز اس کی طرف پلٹو گے ۔ ۳۰۔ (خدا نے )کچھ لو گو ں کی ہدایت کی اور کچھ لوگ (جن میں لیاقت نہیں ہے) ان کی گمراہی مسلم الثبوت ہے، (یہ وہ لوگ ہیں کہ) انھوں نے بجائے خدا کے شیطانوں کو اپنا ولی و سرپرست بنایا ہے، اور وہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں ۔ ۱۔ سورہ بقہ آیت ۲۶۸۔ ۲۶۹ ملاحظہ و ۔