وَيَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ
[Then He said to Adam,] ‘O Adam, dwell with your mate in paradise, and eat thereof whence you wish; but do not approach this tree, lest you should be among the wrongdoers.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:19
[Pooya/Ali Commentary 7:19] (see commentary for verse 10)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:19-22
۱۔ شیطانی وسوسے اور انسانی آزادی
”وسوس الہ“ (کہ جس میں کلمہ لام بھی استعمال ہوا ہے جو عام طور سے فائدے اور نفع کے لئے آتا ہے ) سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے وسوسہ ڈالنے میں آدم کی خیر خواہی اور دوستی کا روپ بھرا تھا، جبکہ ”وسوس الیہ“ سے یہ معنی برآمد نہیں ہوتا بلکہ اس کے معنی صرف کسی کے دل میں مخفی طور سے اثر ڈالنے کے ہیں ۔ لیکن ہر حال میں، یہ تصوّر نہ ہو کہ شیطانی وسوسے چاہے وہ جتنے بھی قوی اورمضبوط کیوں نہ ہوں انسان سے اس کی خود مختاری اور ارادہ سلب کرلیتے ہیں، بلکہ اس کے بعد بھی انسان اپنی عقل اور ایمان کی طاقت سے اس کا مقابلہ کرسکتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھنا چاہیے کہ شیطانی وسوسے کو بُرے کاموں پر مجبور نہیں کر دیتے بلکہ اختیار و ارادہ کی قوت اپنے حال پر باقی رہتی ہے، تا ہم ان کا مقابلہ کرنے کے لئے پامردی و استقامت کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ اس میں کبھی بڑے رنج و الم کا بھی سامنا ہوتا ہے لیکن ان تمام حالات میں اس طرح کے وسوسے کسی کی ذمہ داری اور مسئولیت ختم نہیں کردیتے، جس طرح آدم سے نہیں کی جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ ان تمام تحریکوں اور ترغیبوں کے باوجود جو آدم کے بہکانے کے لئے شیطان نے انجام دیں، خدا تعالیٰ نے آدم کو ان کے عمل کا ذمہ دار ٹھہرایا اور اسی بناء پر جیسا کہ آگے آئے گا انھیں اس کی پاداش بھی دی ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:19-22
دلفریب انداز میں شیطانی وسوسے
ان آیات میں سرگزشتِ آدم کا ایک اور حصّہ بیان کیا گیا ہے ۔ پہلے فرماتا ہے: خدا نے آدم اور ان کی زوجہ (حوّا) کو یہ حکم دیا کہ بہشت میں سکونت اختیار کریں ( وَیَاآدَمُ اسْکُنْ اٴَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّةَ) ۔ اسی جملے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آدم و حوّا اپنی پیدائش کے وقت بہشت میں نہ تھے، خلقت کے بعد انھیں بہشت کی طرف بھیجا گیا ۔ ہم نے سورہٴ بقرہ کی ان آیات میں بھی جو پیدائش آدم سے متعلق ہیں توجہ دلائی ہے، کہ قرائن بتلاتے ہیں کہ یہ بہشت وہ جنت نہ تھی جس کا قیامت میں وعدہ کیا گیا ہے بلکہ جیسا کہ احادیث اہل بیت طاہرین علیہم السلام میں بھی وارد ہوا ہے یہ اسی دنیا کا ایک سرسبز و شاداب باغ تھا، جس میں خدا کی طرح طرح کی نعمتیں مہیا کی گئی تھیں ۔(۱) اس موقع پر پہلی ذمہ داری اور امر و نہی الٰہی اس شکل میں ظاہر ہوئی : تم بہشت کے ہر درخت سے کھاسکتے ہو، لیکن خبردار امخصوص درخت کے پاس بھی نہ جانا ورنہ ستم کرنے والوں میں سے ہوجاؤ گے (فَکُلَامِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَلَاتَقْرَبَا ھٰذِہِ الشَّجَرَةَ فَتَکُونَا مِنَ الظَّالِمِینَ) ۔ اس کے بعد شیطان، جو سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے مردود بارگاہ الٰہی ہوگیا تھا اور اس نے یہ پکّا ارادہ کرلیا تھا کہ جس طرح بھی ہوگ آدم اور ان کی اولاد سے اس شکست کا انتقام لے گا اور انھیں راہ راست سے بہکانے کی کوشش کرے گا، نیز اس کو یہ بھی علم تھا کہ اگر آدم نے اس ممنوع درخت سے کھایا تو وہ بہشت سے نکال دیئے جائیں گے ۔ اس نے آدم کے دل میں وسوسہ ڈالنا چاہا اور اپنے اس ناپاک مقصد تک پہنچنے کے لئے اس نے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے ۔ اس نے سب سے پہلے جیسا کہ قرآن کہتا ہے: انھیں پھسلاناشروع کیا، تاکہ اطاعت و بندگی کی خلعت ان کے بدن سے اتار دے اور ان کی شرمگاہ کو جو پوشیدہ تھی ظاہر کردے (فَوَسْوَسَ لَھُمَا الشَّیْطَانُ لِیُبْدِیَ لَھُمَا مَا وُورِیَ عَنْھُمَا مِنْ سَوْآتِھِمَا) ۔ مقصد تک پہنچنے کے لئے اس نے بہترین طریقہ یہ پایا کہ انسان میں تکامل و ترقی کا جو جذبہ پوشیدہ ہے جس کی وجہ سے وہ زندگی جاودانی حاصل کرنا چاہتا ہے، اس سے استفادہ کرے، اور اسے مخالفت خدا کا ایک عذر و بہانہ بتلائے ۔ لہٰذا اس نے سب سے پہلے آدم و حوّا سے یہ کہا : خدانے تمھیں اس درخت سے صرف اس لئے روکا ہے کہ اگرتم اس سے کھالو گے تو یا فرشتے بن جاؤگے اور یا عمر جاودانی حاصل کرلو گے! (وَقَالَ مَا نَھَاکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَةِ إِلاَّ اٴَنْ تَکُونَا مَلَکَیْنِ اٴَوْ تَکُونَا مِنَ الْخَالِدِینَ) ۔ اس طرح اس نے فرمان خدا کو ان کی نظر میں ایک دوسرے رنگ میں پیش کیا اور انھیں یہ تصوّر دلانے کی کوشش کی کہا اس شجرئہ ممنوعہ سے کھالینا نہ صرف یہ کہ ضرر رسان نہیں بلکہ عمر جاودان یا ملائکہ کا مقام و مرتبہ پالینے کا موجب ہے ۔ اس بات کی تائید اس جملے میں بھی ہوتی ہے جو سورہٴ طٰہٰ کی آیت ۱۲۰ میں شیطان کی زبانی وارد ہوا ہے: یَاآدَمُ ھَلْ اٴَدُلُّکَ عَلیٰ شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْکٍ لَایَبْلَی اے آدم! کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمیں زندگانی جاودانی اور ایسی سلطنت کی رہنمائی کروں جو کہنہ نہ ہوگی؟! ایک روایت جو ”تفسیر قمی“ میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے اور ”عیون اخبار الرضا“ میں امام علی بن موسیٰ ضا علیہ السلام سے مردی ہے میں وارد ہوا ہے: شیطان نے آدم سے کہا کہ اگر تم نے اس شجرہٴ ممنوعہ سے کھالیا تو تم دونوں فرشتے بن جاؤ گے اور پھر ہمیشہ کے لئے بہشت میں رہو گے ، ورنہ تمھیں بہشت سے باہر نکال دیا جائے گا ۔(2) آدم نے جب یہ سنا تو فکر میں ڈوب گئے، لیکن شیطان نے اپنا حربہ مزید کار گر کرنے کے لئے ”سخت قسم کھائی کہ میں تم دونوں کا بہی خواہ ہوں“ ! (وَقَاسَمَھُمَا إِنِّی لَکُمَا لَمِنَ النَّاصِحِینَ) ۔ آدم، جنہیں زندگی کا ابھی کافی تجربہ نہ تھا، نہ ہی وہ ابھی تک شیطان کے دھو کے، جھوٹ اور نیرنگ میں گرفتار ہوئے تھے، انھیں یہ یقین نہیں ہوسکتا تھا کہ کوئی اتنی بڑی جھوٹی قسم بھی کھاسکتا ہے اور اس طرح کے جال دوسرے کو گرفتار کرنے کے لئے پھیلا سکتا ہے،آخر کار وہ شیطان کے فریب میں آگئے اور آبِ حیات و سلطنت جاودانی حاصل کرنے کے شوق میں مکرِ ابلیسی کی بوسیدہ رسی کو پکڑکے اس کے وسوسہ کے کنویں میں اتر گئے، رسی ٹوٹ گئی اور انھیں نہ صرف آب حیات ہاتھ نہ آیا بلکہ خدا کی نافرمانی کے گرداب میں گرفتار ہوگئے ۔اس تمام مطلب کو قرآن کریم نے اپنے رسی سے انھیں کنویں میں اتار دیا (فَدَلاَّھُمَا بِغُرُورٍ) ۔(3) شیطان کی سابقہ دشمنی اور خدا کی وسیع حکمت و رحمت اور اس کی محبت و مہربانی سے آگاہ ہوتے ہوئے آدم کو چاہیے تو یہ تھا کہ شیطان کے تمام فریب وسوسہ کے جال کو پارہ پارہ کردیتے اور اس کے کہنے میں نہ آتے لیکن جو کچھ نہ ہونا چاہیے تھا وہ ہوگیا ۔ بس جیسے ہی آدم و حوا نے اس ممنوعہ درخت سے چکھا، فوراً ہی ان کے کپڑے ان کے بدنوں سے نیچے گرگئے اور ان کے اندام ظاہر ہوگئے(فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَھُمَا سَوْآتُھُمَا) ۔ مذکورہ بالا جملے سے یہ بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ درخت ممنوع سے چکھنے کے ساتھ فوراً اس کا اثر بَد ظاہر ہوگیا اور وہ اپنے بہشتی لباس سے جوفی الحقیقت خدا کی کرامت و احترام کا لباس تھا، محروم ہو کر برہنہ ہوگئے ۔ اس آیت سے اچھی طرح ظاہر ہوتا ہے کہ آدم و حوا یہ مخالفت کرنے سے پہلے برہنہ نہ تھے بلکہ کپڑے پہنے ہوئے تھے، اگر چہ قرآن میں ان کپڑوں کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی لیکن جو کچھ بھی تھا وہ آدم و حوا کے و قار کے مطابق اور ان کے احترام کے لئے تھاجو اُن کی نافرمانی کے باعث ان سے واپس لے لیا گیا ۔ لیکن خود ساختہ توریت میں اس طرح سے ہے: آدم و حوا اس موقع پر بالکل برہنہ تھے لیکن اس برہنگی کی زشتی کو نہیں سمجھے تھے، لیکن جس وقت انھوں نے اس درخت سے کھایا جو درحقیقت ”علم و دانش“ کا درخت تھا تو اُن کی عقل کی آنکھیں کھل گئیں اور اب وہ اپنے کو برہنہ محسوس کرنے لگے اور اس حالت کی زشتی سے آگاہ ہوگئے ۔ جس ”آدم“کا حال اس خود ساختہ توریت میں بیان کیا گیا، وہ فی الحقیقت آدم واقعی نہ تھا جو علم و دانش سے اس قدر دور تھا کہ اسے اپنے ننگا ہونے کا بھی احساس نہ تھا لیکن جس ”آدم“ کا قرآن تعارف کراتا ہے وہ نہ صرف یہ کہ اپنی حالت سے یاخبر تھا بلکہ اسرار آفرینش (علم اسماء) سے بھی آگاہ تھا اور اس کا شمار معلم ملکوت میں ہوتا تھا، اگر شیطان اس کا شمار معلم ملکوت میں ہوتا تھا، اگر شیطان اس پر اثر انداز بھی ہوا تو یہ اس کی نادانی کی وجہ سے نہ تھا، بلکہ اس نے ان کی پاکی اور صفائے نیت سے سوئے استفادہ کیا ۔ اس بات کی تائید اسی سورہٴ اعراف کی آیت ۲۷ سے بھی ہوتی ہے جہاں ارشاد ہوتا ہے: ” یَابَنِی آدَمَ لَایَفْتِنَنَّکُمْ الشَّیْطَانُ کَمَا اٴَخْرَجَ اٴَبَوَیْکُمْ مِنَ الْجَنَّةِ یَنزِعُ عَنْھُمَا لِبَاسَھُمَا“ اے اولاد آدم! کہیں شیطان تمھیں اس طرح فریب نہ دے جس طرح تمھارے والدین (آدم و حوا) کو دھوکا دے کر بہشت سے باہر نکال دیا اور ان کا لباس ان سے جدا کردیا ۔ اگر بعض مفسرین اسلام نے یہ لکھاہے کہ آغاز میں حضرت آدم برہنہ تھے تو واقعاً یہ ایک واضح اشتباہ ہے جو توریت کی تحریر کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ۔ بہرحال اس کے بعد قرآن کہتا ہے: جس وقت آدم و حوّا نے یہ دیکھا تو فوراً بہشت کے درختوں کے پتوں سے اپنی شرم گاہ چھپانے لگے(وَطَفِقَا یَخْصِفَانِ عَلَیْھِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ) ۔(4) اس موقع پر خدا کی طرف سے یہ نداآئی: ”کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے منع نہیں کیا تھا، کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہ تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے، تم نے کس لئے میرے حکم کو بھلا دیا اور اس پست گرداب میں گھِر گئے؟!“(وَنَادَاھُمَا رَبُّھُمَا اٴَلَمْ اٴَنْھَکُمَا عَنْ تِلْکُمَا الشَّجَرَةِ وَاٴَقُلْ لَکُمَا إِنَّ الشَّیْطَانَ لَکُمَا عَدُوٌّ مُبِینٌ) ۔ یہ آیت اور وہ پہلی آیت جس میں آدم و حوا کو بہشت میں سکونت اختیار کرنے کی اجازت دی گئی تھی دونوں سے بخوبی اندازہ ہوتاہے کہ وہ دونوں اس نافرمانی کے بعد مقام قرب الٰہی سے کس قدر دور ہوگئے تھے حتیٰ کہ بہشت کے درختوں سے بھی دور ہوگئے کیونکہ اس سے قبل کی آیت میں ”ہٰذہ الشجرة“(یہ درخت)کہا گیا ہے جو نزدیک کے لئے اشارہ ہے ۔ اس کے بعد اس آیت میں جملہ ”نادیٰ“ (ندا کی)آیا ہے جو دور کے لئے خطاب ہے، نیز کلمہ ”تلکما“ بھی دوری کے لئے ہے ۔ ۱۔ تفسیر نمونہ جلد اول ص ۱۶۳۔ اردو ترجمہ کی طرف رجوع فرمائیں- 2۔ تفسیر ”نور الثقلین“ جلد دوم ص ۱۳۔ 3۔ ”ولی”مادّہ“تدلیہ“ سے ہے جس کے معنی ہیں کنویں میں ڈول ڈالنا جسے رسی میں باندھ کر تدریجاً کنویں میں اتار جائے، یہ درحقیقت اس لطیف معنی سے کنایہ ہے کہ شیطان نے اپنے مکر و فریب کی رسی سے انھیں باندھ کر ان کے بلند مرتبے سے نیچے اتار دیا اور یوں مشکلات اور رحمتِ خداوندی سے دوری کے کنویں میں گرادیا ۔ 4۔ ”یخصفان“”مادّہ“ ”خصف“ (بروزن خشم) سے ہے جس کے معنی ہیں ایک شے کو دوسری شے سے ملانا اور جمع کرنا، بعد میں یہ لفظ جوتا یا کپڑا سینے کے لئے بھی استعمال کیا جانے لگا، کیونکہ سینے میں مختلف ٹکڑوں کو ایک دوسرے سے ملا دیا جاتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:19-22
۲۔ شجرئہ ممنوعہ کونسا درخت تھا؟
قرآن کریم میں بلاتفصیل اور بغیر نام کے چھ مقام پر ”شجرئہ ممنوعہ“ کا ذکر ہوا ہے لیکن کتب اسلامی میں اس کی تفسیر دو قسم کی ملتی ہے ۔ ایک تو اس کی تفسیر مادّی ہے جو حسب روایات ”گندم “ہے ۔(۱) اس بات کی طرف توجہ رہنا چاہیےٴ کہ عرب لفظ ”شجرہ“ کا اطلاق صرف درخت پر نہیں کرتے ، بلکہ مختلف نباتات کو بھی ”شجرہ“ کہتے ہیں، چاہے وہ جھاڑی کی شکل میں ہوں یا بیل کی صورت میں اسی بناپر قرآن میں ”کدّو“ کی بیل کو بھی شجرہ کہا گیا ہے ۔ <وَاٴَنْبَتْنَا عَلَیْہِ شَجَرَةً مِنْ یَقْطِینٍ (صافات ۔۱۴۶) دوسری تفسیر معنوی ہے جس کی تعبیر روایات اہلبیت علیہم السلام میں ”شجرئہ حسد“ سے کی گئی ہے ۔ ان روایات کا مفہوم یہ ہے کہ آدم نے جب اپنا مقام بلند و درجہ رفیع دیکھا تو یہ تصوّر کیا کہ ان کا مقام بہت بلند ہے اس سے بلند کوئی مخلوق اللہ نے نہیں پیدا کی ۔ اس پر اللہ نے انھیں بتلایا کہ ان کی اولاد میں کچھ ایسے اولیاء الٰہی (پیغمبر اسلام اور ان کے اہلبیت کرام علیہم السلام) بھی ہیں جن کا درجہ ان سے بھی بلند و بالا ہے ۔ اس وقت آدم میں ایک حالت حسد سے مشابہ پیدا ہوئی ۔(2) اور یہی وہ ”شجرہ ممنوعہ“ تھا جس کے نزدیک جانے سے آدم کو روکا گیا تھا ۔(3) حقیقت امر یہ ہے کہ آدم نے (روایات کی بناپر) دو درختوں سے تناول کیا ۔ ایک درخت تو وہ تھا جو اُن کے مقام سے نیچے تھا ، اور انھیں مادّی دنیا میں لے جاتا تھا اور وہ ”گندم“ کا پودا تھا ۔ دوسرا درخت معنوی تھا، جو مخصوص اولیا ئے الٰہی کا درجہ تھا اور یہ آدم کے مقام و مرتبہ سے بالا تر تھا ۔ آدم نے دونوں پہلوؤں سے اپنی حد سے تجاوز کیا اس لئے ایسے انجام میں گرفتار ہوئے ۔ لیکن اس بات کی طرف توجہ رہے کہ یہ ”حسد“ حسد حرام کی قسم سے نہ تھا، یہ صرف ایک ، نفسانی احساس تھا جبکہ انھوں نے اس طرف قطعاً کوئی اقدام نہیں کیا تھا جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے آیاتِ قرآنی چونکہ متعدد معانی کی حامل ہیں لہٰذا اس امر میں کوئی مانع نہیں کہ ”شجرہ“ سے دونوں معنی مراد لے لئے جائیں ۔ اتفا قاً کلمہ ”شجرہ“ قرآن مجید میں دونوں معنی میں آیا ہے، کبھی تو انہی عام درختوں کے معنی میں، جیسے: <وَشَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُورِ سَیْنَاءَ تَنْبُتُ بِالدُّھْنِ (موٴمنون۔ ۲۰) ۔ جس سے مراد زیتون کا درخت ہے، اور کبھی شجرئہ معنوی کے معنی میں استعمال ہوا ہے جیسے: <وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِی الْقُرْآنِ (اسراء۔ ۶۰) ۔ جس سے مراد مشرکین یا یہودی یا دوسری باغی قومیں (جیسے بنی امیہ) ہیں ۔ اگر چہ بعض مفّسرین نے اس کے اور معنی بھی بیان کیے ہیں مگر سب کی طرف توجہ دلانا مناسب ہے (اگر چہ جلد اول میں بھی اس کا ذکر کیا ۔یا ہے) اور وہ یہ ہے کہ موجودہ خود ساختہ توریت میں، جو اس وقت کے تمام یہود و نصاری کی قبول شدہ ہے اس شجرہٴ ممنوعہ کی تفسیر ”شجرہٴ حیات و زندگی“ کی گئی ہے توریت کہتی ہے: ”قبل اس کے کہ آدم شجرئہ علم و دانش سے تناول کریں، وہ علم و دانش سے بے بہرہ تھے، حتیٰ کہ انھیں اپنی برہنگی کا بھی احساس نہ تھا ۔ جب انھوں نے اس درخت سے کھایا اس وقت وہ واقعی آدم بنے اور بہشت سے نکال دیئے گئے، کہ مبادا درخت حیات و زندگی سے بھی کھالیں اور خداؤں کی طرح حیات جاوانی حاصل کرلیں ۔“(4) یہ عبارت اس بات کی کھلی ہوئی دلیل ہے کہ موجودہ توریت آسمانی کتاب نہیں بلکہ کسی ایسے کم اطلاع انسان کی ساختہ ہے جو علم ودانش کو آدم لے لئے معیوب سمجھتا تھا اور آدم کو علم ودانش حاصل کرنے کے جرم میں خدا کی بہشت سے نکالے جانے کا مستحق سمجھتا تھا ، گویا بہشت فہمیدہ انسانوں کے لئے نہیں ہے ۔ قال توجہ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر و لیم میلر (جسے عہدین خصوصاً انجیل کا ایک مقتدر مفسّر مانا گیا ہے) اپنی کتاب ”مسیحیت چیست“ (مسیحیت کیا ہے؟) میں رقمطراز ہے: شیطان ایک سانپ کی شکل میں باغ کے اندر داخل ہوا اور اس نے حوا کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ اس درخت کے میوہ میں سے کھالیں چنانچہ حوا نے خود بھی کھایا اور آدم کو کھانے کو دیا اور انھوں نے بھی کھایا، ہمارے اولین والدین کا یہ عمل ایک معمولی اشتباہ پر مبنی نہ تھا یا ایک بے سوچی سمجھی خطا بھی نہ تھی بلکہ اپنے خالق کے برخلاف ایک جانا بوجھا عصیان تھا، دوسرے لفظوں میں وہ یہ چاہتے تھے کہ وہ خود ”خدا“ بن جائیں، وہ اس بات کے لئے آمادہ نہ تھے کہ خدا کے ارادہ کے مطیع بنیں بلکہ یہ چاہتے تھے کہ اپنی خواہش کو پایہٴ تکمیل تک پہنچائیں ۔ نتیجہ کیا ہوا؟خدا نے ان کی شدت سے سرزنش کی اور باغ (فردوس) سے باہر نکال دیا تاکہ درد و رنج سے بھری دنیا میں زندگی بسر کریں ۔(5) توریت و انجیل کے اس مفسّر نے در حقیقت یہ چاہا ہے کہ ”شجرئہ ممنوعہ“ کی توجیہ کرے لیکن اس کی بجائے عظیم ترین گناہ یعنی خدا سے جنگ کی نسبت آدم کی طرف دے دی ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ بجائے اس طرح کی پوچ تفسیروں کے کم از کم اپنی ”کتب مقدسہ“ میں نحریف کے قائل ہوجاتے ۔ ۱۔ تفسیر ”نورالثقلین“ جلد اول ص ۵۹۔۶۰ و جلد دوم ص ۱۱ تفسیر سورہ بقرہ و اعراف۔ 2۔ یہاں پر حسد سے مراد رشک ہے جو مستحسن ہے، لیکن درباب محمد و آل محمد محمد علیم السلام رشک بھی ممنوع ہے، جیسا کہ قصّہ آدم سے ظاہر ہے، عربی میں حسد کا اطلاق رشک پر بھی ہوا ہے ۔ (مترجم) 3۔ تفسیر” نورالثقلین“ جلد اول ص ۵۹۔۶۰ و جلد دوم ص ۱۱ تفسیر سورئہ بقرہ و اعراف۔ 4۔سفر تکوین صل دوم نمبر ۱۷۔ 5۔ کتاب ”مسیحیت چیست؟“ ص ۱۶-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:19-22
۳۔ آیا آدم نے گناہ کیا تھا؟
یہود و نصاریٰ کی کتب مقدسہ سے ہم نے جو مذکورہ بالا عبارت پیش کی اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف اس بات کے معتقد ہیں کہ آدم گناہ و معصیت کے مرتکب ہوئے تھے بلکہ ان کا گناہ کوئی معمولی گناہ نہیں تھا ۔ ان سے ایک سنگین گناہ سرزد ہوا تھا ۔ حتیٰ کہ انھوں نے مقام ربوبیت سے جنگ کی ٹھان لی لیکن مدارک ِ اسلامی چاہے وہ عقل کی رو سے ہوں یا آیات و روایات ہوں، ہمیں یہ بتلاتے ہی کہ کوئی پیغمبر گناہ کا مرتکب نہیں ہوتا اور نہ ہی پیشوائی خلق کا منصب کسی گناہگار کو سونپا جاتا ہے ۔ ہمیں معلوم ہے کہ حضرت آدم (علیه السلام) انبیائے الٰہی میں سے مراد ”عصیان نسبی“ اور ”ترک اولیٰ“ ہے نہ کہ مطلق گناہ۔ جاننا چاہیے کہ گناہ دو طرح کے ہوتے ہیں ایک ”گناہ مطلق“ دوسرے ”گناہ نسبی“ گناہ مطلق کے مفہوم میں نہی تحریمی کی مخالفت اور خدا کے فرمان قطعی اور ہر طرح کے واجب کو ترک کرنا یا کوئی حرام کام انجام دینا شامل ہے ۔ لیکن گناہ نسبی یہ ہے کہ کسی بلند پا یہ شخص سے کوئی ایسا غیر حرام عمل انجام پائے جو اس کی شان اور مقام کے مناسب نہ ہو کیونکہ کبھی ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی عمل مباح و جائز، بلکہ عمل مستحب ایک بڑے درجہ کے انسان کے مناسب نہ ہو، ایسی صورت میں اس عمل کو ”گناہ نسبی“ کہا جائے گا، مثلاً اگر کوئی با ایمان اور ثروتمند شخص کسی فقیر کو فقر و افلاس کے پنچے سے نجات دینے کے لئے اس کی بہت معمولی سی مدد کرے ۔ بلا شبہ یہ مدد چاہے کتنی بھی کم ہو حرام تو نہیں ہے، بلکہ مستحب ہے، لیکن جو بھی سنے گا، گویا اس نے کوئی گناہ کیا ہے ۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ اس صاحب ایمان ثروت مند سے زیادہ مدد کی توقع کی جاتی تھی ۔ اسی نسبت سے جو اعمال مقربان بارگاہ الٰہی سے سر زد ہوتے ہیں، وہ ان کے مقام کے لحاظ سے پر کھے جاتے ہیں اگر وہ ان کے معیار پر پورے نہ اتریں تو اس کے لئے بھی کبھی عصیان یا ذنب (گناہ) کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے ۔(۱) مثال کے طور پر ایک نماز (جس میں حضور قلب نہ ہو) ایک عام شخص کے لحاض سے ایک ممتازنماز محسوب کی جائے گی لیکن یہی نماز اولیائے حق کے لحاظ سے ”گناہ“ شمار ہوگی، کیونکہ ان کے مقام کے لحاظ سے حالت نماز میں ایک لحظہ کی غفلت مناسب و شائستہ نہیں ہے بلکہ انھیں اپنے علم و تقویٰ کی بناء پر ہنگام عبادت میں اس کے جمال و جلال میں غرق ہوجانا چاہیے ۔ عبادت کے علاوہ ان کے دیگر اعمال کا حال بھی یہی ہے ۔ انھیں بھی ان کے مقام کے لحاظ سے جانچا جاتا ہے ۔ اسی وجہ سے اگر ایک ”ترکِ اولیٰ“ ان سے سرزد ہوجائے تو وہ پروردگارِ عالم کے عتاب و سرزنش کا باعث بنے گا (ترکِ اولیٰ سے مراد یہ ہے کہ انسان کسی بہتر کام کو ترک کرکے کار خوب یا عمل مباح بجالائے) ۔ روایاتِ اسلامی میں ہم پڑھتے ہیں کہ حضرت یعقوب(علیه السلام) کے مصائب اورفراق فرزندکے سلسلے میں انھیںجو زحمتیں اٹھانا پڑیں اس وجہ سے تھیں کہ ایک محتاج روزہ دار مغرب کے وقت ان کے دروازہ پر آیا اور انھوں نے اس کی مدد سے غفلت کی جس کی وجہ سے وہ فقیر بھوکا اور دلشکستہ واپس چلاگیا یہ عمل اگر ایک عام فرد سے سرزد ہوا ہوتا تو شاید اس کی اس قدر اہمیت نہ ہوتی لیکن خدا کے ایک عظیم پیغمبر اور رہبر امت سے جب یہ عمل ظاہر ہوا تو خدانے اسے اتنی اہمیت دی کہ ان کیلئے نہایت شدید پاداش مقرر کی ۔(۲)۲۳ قَالَارَبَّنَا ظَلَمْنَا اٴَنفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِینَ- ۲۴ قَالَ اھْبِطُوا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَکُمْ فِی الْاٴَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلیٰ حِینٍ- ۲۵ قَالَ فِیھَا تَحْیَوْنَ وَفِیھَا تَمُوتُونَ وَمِنْھَا تُخْرَجُونَ- ترجمہ ۲۳۔ان دونوں نے کہا: پروردگارا! ہم نے اپنی جانوں پر ستم کیا، اکر تو ہم کو نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم گھاٹا اٹھانے والوں میں سے جائیں گے ۔ ۲۴۔(خدانے)فرمایا: (اپنے مقام سے) نیچے اتر جاؤ اس حال میں کہ ایک دوسرے کے دشمن ہوگے (شیطان تم دونوں کا دشمن اور تم دونوں) اور تمھارے لئے زمین میں ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک مدت تک کے لئے وسائل زندگی مہیا ہیں ۔ ۲۵۔(خدانے) فرمایا: اسی (زمین )میں جیو گے، اسی میں مروگے، اور اسی سے (بروز محشر) باہر نکلو گے ۔ تفسیر ۱۔ جیسا کہ کہا گیا ہے کہ ”حسنات الابرار سیئات المقربین “ یعنی کبھی نیک افراد کے لحاظ سے جو عمل حسنہ شمار ہوتا ہے، وہی عمل مقربان بارگاہِ الٰہی کے لحاظ سے گناہ شمار ہوتا ہے ۔ (مترجم) ۲۔ تفسیر ”نورالثقلین“ جلد دوم ص ۴۱۱ نقل از کتاب”علل الشرایع“۔