إِنَّ الَّذِينَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِينَ
Indeed those who took up the calf [for worship] shall be overtaken by their Lord’s wrath and abasement in the life of the world.’ Thus do We requite the fabricators [of lies].
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:152
[Pooya/Ali Commentary 7:152] (see commentary for verse 148)
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 7:152-157
1. Worshipping as God anything besides Him without penance leads to degradation in this world and hell (permanent after death). 2. Penance is cure for all sins: like a soap washing filth. 3. Guidance, if duly followed under dictates of Divine Lights leads to Divine Mercy, i.e. admission to Paradise. 4. Evil acts of society are likely to affect others, too. Avoid evil society; virtues will bring reward of their won. 5. Divine wrath is for sinners, who do not even do timely penance. 6. Jews and Christians, if they believe in the Prophet of Islam as is stated in their gospels and follow Ali as a Divine Light (being infallible as a guide) will attain salvation, on Divine awe, payment of tithe and faith in text.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:152-154
دوسوالوں کا جواب
دوسوالوں کا جواب ۱۔ آیا مذکورہ بالا دو نوں آیتیں ایک جملہ معترضہ ہیں جو داستان بنی اسرائیل کے درمیان تذکر کے طور پر پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم پر نازل ہوئیں، یا یہ دونوں آیتیں واقعہ گوسالہ پرستی کے بعد حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے لئے خدا کا ایک پیام ہیں؟۔ بعض مفسرین نے پہلا احتمال ذکر کیا ہے دوسروں نے دوسرا احتمال قبول کیا ہے، جن لوگوں نے پہلا احتمال اختیار کیا ہے انھوں نے جملہ: ”...إِنَّ رَبَّکَ مِنْ بَعْدِھَا لَغَفُورٌ رَحِیمٌ“ (تمھارا پروردگار توبہ کے بعد بخشنے والا مہبان ہے) سے استدلال کیا ہے، کیونکہ یہ جملہ پیغمبر اسلام سے ایک خطاب ہے، اور جن لوگوں نے دوسرا احتمال اختیار کیا ہے انھوں نے جملہٴ ”سینا لھم غضب“ (جلد ہی انھیں خدا کا غضب آلے گا)سے استدلال کیا ہے جو فعل مضارع کی صورت میں ہے ۔ لیکن آیت کا ظاہریہ کہتا ہ کہ ماجرائے گوسالہ پرستی کے بعد یہ خدا کے موسیٰ(علیه السلام) سے خطاب کا ایک حصّہ ہے اور فعل مضارع ”سَیَنَالُھُمْ“ اس کا ایک قوی شاہد ہے، جبکہ اس میں کوئی مانع نہیں ہے کہ’ ’إِنَّ رَبَّکَ “کا خطاب حضرت موسیٰ(علیه السلام) سے ہو۔ (۱) ۲۔ مندرجہ بالا آیہ میں توبہ کے بعد ایمان کا کیوں ذکر کیا گیا ہے، حالانکہ اگر ایمان نہ ہو تو توبہ نہیں ہوتی؟ اس سوال کا جواب بھی اس سے ظاہر ہے کہ ایمان کے ستون گناہ کے بعد کمزور ہوجاتے ہیں کیونکہ اسلامی روایات میں ہے: ”شراب خور جب شراب پیتا ہے اس وقت ایمان نہیں رکھتا، اسی طرح زنا کرنے والا بھی زنا کے وقت ایمان سے خالی ہوتا ہے“۔ مقصد یہ ہے کہ اس وقت ایمان اسی تازگی کو کھودیتا ہے یا یوں کہنا چاہیے کہ وہ تاریک ، کم نور اور کم اثر ہوجاتا ہے ۔ لیکن جس وقت بندہ توبہ کرلیتا ہے تو ایمان کی لَو دوبارہ بھڑک اٹھتی ہے اور ایمان دوبارہ تازہ ہوجاتا ہے ۔ ضمنی طور پر اس پر بھی روشنی ڈال چاہیے کہ اس آیت میں صرف ذلتِ دنیوی کا ذکر کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ان لوگوں نے شرک وبت پرستی سے اپنی ندامت وپشیمانی کا اظہار کیا اور اس دنیا کی سزا کو قبول کیا تو بنی اسرائیل کے اس گناہ سے ان کی توبہ قبول ہوگئی اور آخرت کی سزا معاف ہوگئی اگرچہ دوسرے گناہوں کا جو بار تھا وہ ان کے کاندھوں پر باقی رہا ۔ آیاتِ زیرِ بحث کی آخری آیت کہتی ہے: جب موسیٰ کے غضب کی آگ ٹھنڈی ہوئی (اور جس نتیجہ کی انھیں توقع تھی وہ ظاہر ہوگیا) موسیٰ نے زمین پر سے الواحِ توریت اٹھالیں، ایسی الواح جن کے نوشتہ میں سراسر ہدایت ورحمت تھی، لیکن ہدایت ورحمت ان افراد کے لئے جو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہیں اور خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کے حکم کے سامنے سرِتسلیم خم کرتے ہیں (وَلَمَّا سَکَتَ عَنْ مُوسَی الْغَضَبُ اٴَخَذَ الْاٴَلْوَاحَ وَفِی نُسْخَتِھَا ھُدًی وَرَحْمَةٌ لِلَّذِینَ ھُمْ لِرَبِّھِمْ یَرْھَبُونَ) ۔ ۱۵۵ وَاخْتَارَ مُوسیٰ قَوْمَہُ سَبْعِینَ رَجُلًا لِمِیقَاتِنَا فَلَمَّا اٴَخَذَتْھُمْ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اٴَھْلَکْتَھُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِیَّایَ اٴَتُھْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَھَاءُ مِنَّا إِنْ ھِیَ إِلاَّ فِتْنَتُکَ تُضِلُّ بِھَا مَنْ تَشَاءُ وَتَھْدِی مَنْ تَشَاءُ اٴَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاٴَنْتَ خَیْرُ الْغَافِرِینَ. ۱۵۶ وَاکْتُبْ لَنَا فِی ھٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَفِی الْآخِرَةِ إِنَّا ھُدْنَا إِلَیْکَ قَالَ عَذَابِی اٴُصِیبُ بِہِ مَنْ اٴَشَاءُ وَرَحْمَتِی وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ فَسَاٴَکْتُبُھَا لِلَّذِینَ یَتَّقُونَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَالَّذِینَ ھُمْ بِآیَاتِنَا یُؤْمِنُونَ. ترجمہ ۱۵۵۔ اور موسیٰ نے ہماری میعادگاہ کے لئے اپنی قوم میں سے ستّر مَردوں کو چُنا، پھر جب زلزلہ نے انھیں آلیا (اور وہ ہلاک ہوگئے) تو کہا: میرے پروردگار! اگر تو چاہتا تو انھیں اور مجھے اس (واقعہ) سے پہلے بھی ہلاک کردیتا، آیا تو ہمیں اس چیز کی وجہ سے ہلاک کرے گا جو ہم میں سے بعض نادانوں نے کی ہے، یہ صرف تیری ایک آزمائش ہے، جسے تُو جسے چاہے (مستحقِ گمراہی جانے) گمراہ کردے اور جسے تپو چاہے (اور مستحقِ ہدایت جانے اسے) ہدایت عطا کردے تُو ہمارا ولی ہے لہٰذا ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تُو تمام بخشنے والوں سے بہتر ہے ۔ ۱۵۶۔ اور ہمارے لئے اس دار دنیا میں اور دوسری دنیا میں نیکی لکھ دے کیونکہ ہم نے تیری بازگشت کی ہے (الله نے) کہا: میرا عذاب جسے مَیں چاہوں گا پہنچے گا اور میری رحمت نے ہر چیز کو اپنی وسعت میں لیا ہُوا ہے ، پس مَیں اسے لوگوں کے لئے لکھوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکات دیتے ہیں اور جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں ۔ تفسیر ۱۔ اس آیت کی تقدیر اس طرح ہے ”قال الله لموسیٰ ان الذین...“