وَوَاعَدْنَا مُوسَى ثَلَاثِينَ لَيْلَةً وَأَتْمَمْنَاهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقَاتُ رَبِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً وَقَالَ مُوسَى لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ
We made an appointment with Moses for thirty nights, and completed them with ten [more]; thus the tryst of his Lord was completed in forty nights. And Moses said to Aaron, his brother, ‘Be my successor among my people, and set things right and do not follow the way of the agents of corruption.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:142
[Pooya/Ali Commentary 7:142] (see commentary for verse 103)
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 7:142-147
1. God is invisible being unlike the creation. Never shall He be visible here or in the future. 2. God’s Nature is pure of mixture or want, being self-sufficient and self-existent. 3. Prophets are selected by God only and inspired by Him and Divine taught, therefore, infallible. 4. Follow Divine Commands very carefully. 5. Destination of the disobedient, without acceptance of penance, is hell. 6. The nature of the disobedient is to avoid virtue and follow vice intentionally, being overpowered by worldly pleasures. 7. Deeds of the disobedient will be voided in Eternity as they have been amply paid in the world. 8. As you sow, so shall you reap. World here is for sowing virtues in faith and after death, you will reap reward (i.e. Paradise) what you have sown in your lifetime.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:142
حدیث منزلت کے سات مواقع
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ حضرت رسول الله نے اس حدیث کو جیسا کہ عام طور سے خیال کیا جاتا ہے صرف جنگِ تبوک کے موقع پر نہیں فرمایا بلکہ متعدد مقامات پر بھی آپ نے علی(علیه السلام) کے بارے میں یہ جملہ فرمایا ہے، ان مقامات میں سے بعض حسب ذیل ہیں: ۱۔ پہلی مواخات کے دن: یعنی جب مکّہ میں رسول الله نے پہلی مرتبہ اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارہ قرار دیا، اس وقت آنحضرت نے علی(علیه السلام) کو اپنے بھائی کی حیثیت سے منتخب کیا اور فرمایا: ”انت بمنزلة ھارون من موسیٰ الّا اٴنّہ لا نبیَّ بعدی“(1) ۲۔ دوسری مواخات کے دن: یعنی دوسری دفعہ جب آنحضرت نے مدینہ میں مہاجرین وانصار کے درمیان برادری قائم کی، یہاں بھی آپ نے اپنے لئے علی(علیه السلام) کا انتخاب کیا اور ان کے لئے یہ جملہ ارشاد فرمایا: ”وانت بمنزلةھارون من موسیٰ الّا اٴنّہ لا نبیَّ بعدی واٴنت اٴخی ووارثی“(2) ۳۔ امّ سلیم سے فرمایا: ”امّ سلیم“ جو تاریخِ اسلام کی ایک مشہور خاتون اور مبلغہ اسلام ہیں، رسول اسلام کی صحابیت میں آپ کا شمار ہوتا ہے، ان کے باپ اور بھائی رسول الله کی نصرت میں شہید ہوچکے ہیں، چونکہ ان کے شوہر نے اسلام قبول نہ کیا اس لئے اس سے جدا ہوگئی تھیں، ان کا مرتبہ اتنا بلند ہے کہ خود حضرت رسول الله صلی الله علیہ وآلہ ان کے مکان پر ان سے ملنے آیا کرتے تھے (اور ان کو تسلّی دیتے تھے) ایک روز آنحضرت نے ان سے فرمایا: ”یا امّ سلیم! انّ علیّاً لحمہ من لحمی ودمہ من دمی وھی منّی بمنزلة ھارون من موسیٰ“(3) اے امّ سلیم! علی کا گوشت میرے گوشت سے ہے اور اس کا خون میرے خون سے اور اس کی نسبت مجھ سے وہی ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی ۔ ۴۔ اصحاب کی ایک جماعت کے سامنے فرمایا: ابنِ عباس بیان کرتے ہیں کہ ایک روز عمر بن خطاب نے مجھ سے کہا: علی کا نام برائی کے ساتھ نہ لینا کیونکہ مَیں نے ان کے بارے میں تین جملے ایسے سُنے ہیں کہ ان میں سے سورج چمکتا ہے، ایک مرتبہ مَیں ابوبکر، ابوعبیدہ اور اصحاب کی ایک جماعت ہم سب پیغمبر کے پاس تھے اور پیغمبر علی(علیه السلام) پر تکیہ کئے ہوئے تھے، اس وقت رسول الله نے علی(علیه السلام) کے شانہ پر اپنا ہاتھ مارا اور فرمایا: ”یا علی اوّل الوٴمنین ایماناً واوّلھم اسلاماً ثمّ قال اٴنت منّی بمزلة ھارون من موسیٰ“ یعنی اے علی تم وہ پہلے مومن ہو جو ایمان لائے اور پہلے مسلمان ہو جو اسلام لائے اور تمھاری نسبت مجھ سے وہی ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی(4) ۵۔ نسائی کی روایت: نسائی اپنی کتاب ”خصائص“ میں نقل کرتے ہیں کہ علی، جعفر اور زید کے درمیان حضرت حمزہ کے بیٹے کی سرپرستی کے بارے میں گفتگو ہورہی تھی ہر ایک کی خواہش یہ تھی کہ یہ خدمت وہی انجام دے اس موقع پر پیغمبر نے علی(علیه السلام) سے فرمایا: ”انت بمنزلةھارون من موسیٰ الّا اٴنّہ لا نبیَّ بعدی“(5) ۶۔ مسجد نبوی کے دروازوں کی بندش کے موقع: جس روز حضرت رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ جس جس کے دروازے مسجد(یعنی مسجدِ رسول) کے اندر ہیں وہ سب بند کردیئے جائیں صرف علی(علیه السلام) کا دروازہ باقی رہے، جابر بن عبد الله انصاری کہتے ہیں کہ اس وقت رسول الله نے علی(علیه السلام) سے فرمایا: ”انّہ یحل لک من الجسمد ما یحل لی وانّک منی بمنزلة ھارون من موسیٰ الّا اٴنّہ لا نبیّ بعدی“(6) جو میرے لئے مسجد میں حلال ہے (اے علی) وہ تمھارے بھی حلال ہے کیونکہ تم میرے لئے ویسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لئے تھے ۔ مذکورہ بالا چھ مواقع جنگِ تبوک کے علاوہ ہیں اور ان سب کو ہم نے اہل سنّت کی مشہور کتابوں سے نقل کیا ہے ورنہ شیعہ کتب میں اس سے زیادہ مواقعہ کا تذکرہ ہے جہاں حضرت پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے بارہا یہی حدیث حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں فرمائی ہے ۔ یہاں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بعض علمائے اہل سنّت جیسے ”آمدی“ نے اس حدیث کے متعلق جو یہ کہا ہے کہ یہ حدیث ایک خاص حکم پر مشتمل ہے اور اس سے صرف جنگِ تبوک کے موقع پر حضرت علی علیہ السلام کی جانشینی ثابت ہوتی ہے اور اس کا ربط دوسرے مقامات سے نہیں ہے، یہ خیال بالکل بے بنیاد ہے کیونکہ حضرت رسول الله نے مختلف مناسبتوں سے مختلف مواقع پر اس جملہ کی تکرار کی تھی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت علی(علیه السلام) کے بارے میں حضرت رسول الله کا ایک عام حکم تھا ۔ 1۔ کنز العمال، حدیث۹۱۸، ج۵، ص۴۰ ؛ ج۶، ص۳۹۰- 2۔ منتخب کنزل العمال (در حاشیہ مسند احمد ، ج۵، ص۳۱) 3۔ کنز العمال، ج۶، ص۱۰۴- 4۔ کنز العمال، ج۶، ص۳۹۵- 5۔ خصائص نسائی، ص۱۹- 6۔ ینابیع المودہ، باب۱۷ کا آخری حصّہ، ص۸۸، طبع دوم دار الکتب العراقیہ-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:142
چند قابل توجہ نکات
۱۔ وعدہ کتنی راتوں کا تھا ؟:آیہ مذکورہ بالا کے متعلق پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خدا نے پہلے ہی سے چالیس راتوں کا وعدہ کیوں نہ کیا بلکہ پہلے تیس راتوں کا وعدہ کیا اس کے بعد دس راتوں کا اور اضافہ کردیا، حالانکہ سورہٴ بقرہ کی آیت ۱۵۱میں ایک جگہ چالیس راتوں کا ذکر ہے؟ ! ۔ مفسرین کے درمیان اس تفریق کے بارے میں بحث ہے، لیکن جو بات بیشتر قرین قیاس ہے ، نیز روایات اہلبیت علیہم السلام کے بھی موافق ہے وہ یہ ہے کہ یہ میعاد اگر چہ واقع میں چالیس راتوں کا تھا لیکن خدا نے بنی اسرائیل کی آزمائش کرنے کے لئے پہلے موسیٰ (علیه السلام) کو تیس راتوں کی دعوت دی پھر اس کے بعد اس کی تجدید کردی تاکہ منافقین مومنین سے الگ ہوجائیں ۔ اس سلسلہ میں امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپ (علیه السلام) نے فرمایا: جس وقت حضرت موسیٰ (علیه السلام) وعدہ گاہ الٰہی کی طرف گئے تو انھوں نے بنی اسرائیل سے یہ کہہ رکھاتھا کہ ان کی غیبت تیس روز سے زیادہ طولانی نہ ہوگی لیکن جب خدا نے اس پر دس دنوںکا اضافہ کردی تو بنی اسرائیل نے کہا: موسیٰ(علیه السلام) نے اپنا وعدہ توڑدیا اس کے نتیجہ میں انھوں نے وہ کام کئے جو ہم جانتے ہیں (یعنی گوسالہ پرستی میں مبتلا ہوگئے )(۱) ر ہا سوال کہ یہ چالیس راتیں، اسلامی مہینوں میں سے کونسا زمانہ تھا ؟ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مدت ذیقعدہ کی پہلی تاریخ سے لے کر ذی الحجہ کی دس تاریخ تک تھی ، قرآن میں چالیس راتوں کا ذکر ہے نہ کہ چالیس دنوں کا، تو شاید یہ اس وجہ سے ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اپنے رب سے جو مناجاتیں تھیں وہ زیادہ تر رات ہی ہے کے وقت ہُوا کرتی تھیں ۔ ۲۔ پیغمبر اور جانشینی؟: دوسرا سوال جو یہاں درپیش ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ہارون(علیه السلام) تو خود پیغمبر تھے لہٰذا انھیں موسیٰ(علیه السلام) نے بنی اسرائیل کی رہبری اور امامت کے لئے اپنا جانشین کیونکر مقرر کیا ؟ اس سوال کا جواب ایک نکتہ پر غور کرنے کے بعد واضح ہوجاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ مقام نبوت کچھ اور مقامِ امامت کچھ اور، حضرت ہارون(علیه السلام) اگرچہ خد پیغمبر تھے مگر بنی اسرائیل کی عام رہبری کے منصب دار نہ تھے، یہ منصب وہ تھا جو صرف حضرت موسیٰ(علیه السلام) کو ملا ہُوا تھا لیکن جب آپ نے چاہا کہ ایک مدت کے لئے اپنی قوم سے جدا ہوں تو اپنے بھائی کو مقامِ امامت وپیشوائی کے لئے انتخاب کیا ۔ اور یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ مقامِ امامت بالاتر از مقامِ نبوّت ہے، ہم نے اس مطلب کو وضاحت کے ساتھ حضرت ابراہیم(علیه السلام) کے قصّہ میں سورہٴ بقرہ کی آیت ۱۲۴ کی تفسیر میں بیان کیا ہے (ملاحظہ ہو، جلد اوّل، ص۳۲۲ اردو ترجمہ) ۳۔ حضرت ہارون(علیه السلام) کوتلقین؟: اس کے بعد ایک اور سوال سامنے آتا ہے، وہ یہ کہ حضرت موسیٰ(علیه السلام) نے کس طرح اپنے بھائی ہارون(علیه السلام) سے یہ کہا کہ: قوم کی اصلاح کی کوشش کرنا اور مفسدوں کی پیروی نہ کرنا، جبکہ حضرت ہارون(علیه السلام) ایک نبیٴ برحق اور معصوم تھے وہ بھلا مفسدوں کی پیروی کیوں کرنے لگے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ: در حقیقت اس بات کی تاکید کے لئے تھا کہ حضرت ہارون(علیه السلام) کو اپنی قوم میں اپنے مقام کی اہمیت کا احساس رہے اور شاید اس طرح سے خود بنی اسرائیل کو بھی اس بات کا احساس دلانا چاہتے تھے کہ وہ ان کی غَیبت میں حضرت ہارون(علیه السلام) کی رہنمائی کا اچھی طرح اثر لیں اور ان کا کہنا مانیں اور ان کے امر ونواہی (احکامات) کو اپنے لئے سخت نہ سمجھیں، اس سے اپنی تحقیر خیال نہ کریں اور ان کے سامنے اس طرح مطیع وفرمانبردار رہیں جس طرح وہ خود حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے فرمانبردار تھے ۔ ۴۔ ایک میقات یا کئی میقات؟: چوتھا سوال جو درپیش ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا حضرت موسیٰ(علیه السلام) صرف اسی چالیس دن روزہ میقات پر ایک ہی دفعہ گئے تھے اور انہی چالیس دنوں میں توریت اور تمام شریعت واحکامات نازل ہوگئے، نیز کیا انہی چالیس دنوں کی بات ہے کہ اپنی قومکے کچھ منتخب شدہ افراد کو بطور نمائندہ اپنے ہمراہ لے گئے تھے کہ وہ نزولِ توریت کے گواہ نہیں اور انھیں حضرت موسیٰ(علیه السلام) یہ بتلادیں کہ وہ ذات خداوندی کو نہیں دیکھ سکتے اور نہ کوئی دوسرا اسے دیکھ سکتا ہے؟! یا یہ کہ متعدد چلّے گذرے؟ ایک چلّہ صرف صرف احکام الٰہی لینے کے لئے پھر دوسرا چلّہ بزرگان بنی اسرائیل کو لے جانے کے لئے، پھر شاید تیسرا چلّہ دیگر مقاصد کے لئے (جیسا کہ موجودہ توریت کے سفر خروج باب ۱۹ تا ۲۴ میں مذکور ہے) ۔ ایک مرتبہ پھر مفسّرین کے درمیان اس بارے میں بحث ہوئی ہے، لیکن آیات قبل وبعد پر اگر نظر کی جائے تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ان سب کا تعلق ایک ہی واقعہ سے ہے کیونکہ کیونکہ ایک تو یہ جملہ: ”ولمّا جاء موسیٰ لمیقاتنا“ (جب موسیٰ ہماری وعدہ گاہ میں آئے) اچھی طرح سے ان دونوں واقعات کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے، علاوہ بریں اسی سورہ کی آیت ۱۴۵ ہمیں پورے سے بتلاتی ہے کہ ”الواحِ توریت“ اور ”نزول احکامِ شریعتِ موسیٰ“ یہ دونوںواقعات اسی سفر میں ہوئے تھے ۔ اس سورہ میں صرف ایک آیت (نمبر۱۵۵) ایسی ہے جس سے تعدد ّمیقات کا احتمال ہوتا ہے <وَاخْتَارَ مُوسیٰ قَوْمَہُ سَبْعِینَ رَجُلًا لِمِیقَاتِنَا انشاء الله ہم جب اس کی تفسیر کریں بیان کریں گے تو وہاں تحریر کریں گے کہ یہ آیت بھی مذکورہ مطلب کے خلاف نہیں ہے ۔ ۵۔ حدیث منزلت: بہت سے سُنّی اور شیعہ مفسّرین نے اس مقام پر حدیث منزلت (یا علی انت منّی بمنزلة ھارون من موسیٰ) کی طرف اشارہ کیا ہے، بس فرق اتنا ہے کہ شیعہ مفسرین نے اسے حضرت علی علیہ السلام کی خلافتِ بلافصل پر ایک زندہ دلیل مانا ہے جبکہ بعض مفسّرین اہلسنّت نے اسے ردّ کرتے ہوئے شیعوں پر بے رحمی اور تعصّب کے ساتھ اعتراضات کئے ہیں ۔ اس بحث کی مزدید وضاحت کے لئے بہتر معلوم ہوتا ہے کہ پہلے ہم اس حدیث کی اسناد اور متن کو مختصر طور پر پیش کردیں، اس کے بعد ان اعتراضات کے متعلق بحث کریں گے جو فریق مخالفت نے اس جگہ پیش کئے ہیں ۔ ۱۔ تفسیر برہان،جلد ۲ ،ص ۳۳، نورالثقلین،جلد ۲، ص ۶۱-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:142
حدیثِ منزلت کے متعلق کچھ سوال اور ان کے جواب
بعض متعصّبین نے حدیث مذکور پر کچھ ایسے واہی اعتراض کئے ہیں جو واقعاً اس لائق نہیں کہ انھیں کتابوں میں لکھا جائے، بس اس طرح کے اعتراضوں کو سُن کر صرف یہ افسوس کرنا چاہیے کہ بعض لوگ کتنی جلدی یکطرفہ رائے قائم کرلیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی قوتِ فیصلہ ختم ہوجاتی ہے اور وہ روشن حقائق کو نہیں دیکھ لیکن وہ اعتراضات جو تحریر کئے جانے اور گفتگو کئے جانے کے لائق ہیں ان میں سے بعض کو ہم اس جگہ حوالہٴ قلم کرتے ہیں ۔ پہلا اعتراض:یہ حدیث صرف ایک محدود اور خاص حکم بیان کرتی ہے کیونکہ یہ غزوہٴ تبوک کے موقع پر وارد ہوئی ہے، وہ بھی اس وقت جبکہ حضرت علی علیہ السلام عورتوں اور بچوں کے درمیان مدینہ میں راقی رہنے پر کبیدہٴ خاطر تھے اس موقع پر حضرت رسول الله نے حضرت علی(علیه السلام) کا دل رکھنے کے لئے یہ جملہ فرمایا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ تمھاری حکومت وسرداری صرف ان عورتوں اور بچوں تک محدود ہے!! اس اشکال کا جواب گذشتہ بحثوں سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کیونکہ اس معترض کا یہ خیال بالکل غلط ہے کہ یہ حدیث صرف جنگِ تبوک کے موقع پر صادر ہوئی ہے، بلکہ یہ ثابت ہے کہ رسول الله نے حضرت علی(علیه السلام) کے متعلق یہ جملہ متعدد مواقع پر بطور ایک قانون کلی کے ارشاد فرمایا تھا جس میں سے سات مواقع کو کتب علمائے اہل سنت سے ہم اپنی گذشتہ بحثوں میں نقل کرآئے ہیں ۔ اس کے علاوہ حضرت علی(علیه السلام) کا مدینہ میں رہنا صرف بچوںاور عورتوں کی حفاظت کے لئے نہ تھا، کیونکہ اگر یہی مقصد ہوتا اسے تو دوسرے بہت سے افراد پورا کرسکتے تھے، اس لئے حضرت علی(علیه السلام) جیسے شجاع اور بہادر کی کیا ضرورت تھی وہ بھی ایسے موقع پر جبکہ رسول الله کو ایک زبردست معرکہ درپیش تھا (شاہِ روم شرقی سے جنگ کا معرکہ) ظاہر ہے کہ علی(علیه السلام) کو اپنی جگہ پر مقرر کرنے سے غرض یہ تھی کہ وہ دشمن جو مدینہ کے اطراف میں تھے اور وہ منافقین جو خود مدینہ کے اندر موجود تھے آنحضرت کو طولانی غَیبت سے فائدہ اٹھاکر مدینہ پر قابض نہ ہوجائیںجو شخص اس اہم مرکز کی حفاظت کرسکتا تھا وہ صرف حضرت علی علیہ السلام کی ذات والا صفات تھی ۔ دوسرا اعتراض: یہ بات سب کو معلوم ہے اور تاریخ کی مشہور کتابوں میں بھی لکھی ہے کہ حضرت ہارون(علیه السلام) حضرت موسیٰ(علیه السلام) کی زندگی میں وفات پاگئے تھے لہٰذا علی(علیه السلام) کی ہارون سے تشبیہ اس بات کو ثابت نہیں کرتی کہ علی(علیه السلام) پیغمبر کے بعد ان کے جانشین اور خلیفہ تھے ۔ شاید یہ اعتراض ان تمام اعتراضوں میں زیادہ اہم ہے جو اس حدیث پر کئے جاتے ہیں لیکن اس حدیث کا آخری ٹکڑا ”الّا اٴنہ لا نبی بعدی“ (میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا) اس اعتراض کا روشن جواب ہے کیونکہ پیغمبر کے اس فرمان ”انت منّی بمنزلة ھارون من موسیٰ“ کا تعلق اگر صرف آنحضرت کی حیات سے ہوتا اور آپ کے بعد اس کی کوئی نظر نہ ہوتو ”الّا اٴنہ لا نبی بعدی“ کہنے کی کوئی ضرورت نہ تھی کیونکہ اگر بات صرف رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی حیات کی ہو تو آپ کے بعد کی کوئی بات کہنا بالکل نامناسب ہے (اصطلاحاً اسے یوں کہنا چاہیے کہ اس طرح کا استثناء منقطع ہوجائے گا جو خلاف ظاہر ہے) بنابریں اس طرح کے استثناء کا اس حدیث میں ہونا اس بات کی دلیل کھلی دلیل ہے کہ پیغمبر کے فرمان کا تعلق آپ کی وفات کے بعد کے زمانہ سے بھی ہے،الّا یہ کہ کسی کو شبہ نہ ہو اور کچھ لوگ علی(علیه السلام) کو بعد از نبی، نبی نہ ماننے لگیں اس لئے حضرت نے فرمادیا کہ تم ان تمام مرتبوں کے مالک ہو سوائے اس کے کہ تم میرے بعد نبی نہ ہوگے، بنابریں کلامِ پیغمبر یہ مفہوم ہوگا کہ یا علی! تم ہارون کے تمام مدارج ومناصب کے مالک ہو، نہ صرف میری زندگی میں بلکہ میری وفات کے بعد بھی تمھارے یہ درجے اورمنصب باقی رہیں گے (سوائے مقامِ نبوت) اس طرح یہ واضح ہوگیا کہ حضرت علی(علیه السلام) کی حضرت ہارون(علیه السلام) سے تشبیہ بہ لحاظ مقامات ہے نہ بہ لحاظ مدتِ مقامات، اس کی دلیل یہ ہے حضرت ہارون(علیه السلام) بھی اگر بعد حضرت موسیٰ زندہ رہتے رہ جاتے تو مسلمہ طور سے حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے جانشین بھی ہوتے اور نبوت پر باقی رہتے ۔ لہٰذا اگر قرآن کے ان نصوص کو دیکھا جائے جن میں حضرت ہارون(علیه السلام) کے لئے حضرت موسیٰ(علیه السلام) کی وزارت ومعاونت کے درجہ کو ثابت کیا ہے، ان کو حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے کار رہبری میں شریک بھی قرار دیا ہے، اس کے علاوہ وہ ایک پیغمبر بھی تھے، تو معلوم ہوگا کہ یہ تمام مناصب سوائے پیغمبری کے حضرت علی علیہ السلام کے لئے ثابت ہیں حتّیٰ کہ وفات پیغمبر کے بعد بھی جس کی تائید ”الّا اٴنہ لا نبی بعدی“ کے جملے سے ہوتی ہے ۔ تیسرا اعتراض: ایک اور اشکال اس حدیث پر وارد کیا جاتا ہے کہ اس حدیث کے ذریعہ استدلال کا لازمہ یہ ہے کہ حضرت علی(علیه السلام) کے لئے منصبِ ولایت ورہبری امت رسول الله کی حیات کے زمانہ میں بھی مانا جائے جبکہ دو امام اور دو ہبر ایک زمانے میں ممکن نہیں ہیں! لیکن اگر ایک نکتہ پر توجہ کی جائے تو اس اعتراض کا جواب بھی مل جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت ہارون(علیه السلام) بھی حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے زمانہ میں بنی اسرائیل کی رہبری کے منصب کے مالک تھے، لیکن ایک مستقل اور علیحدہ رہبر نہ تھے بلکہ آپ ایک ایسے رہبر تھے جو حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے زیر نظر اپنے فرائض انجام دیتے تھے، اسی طرح حضرت علی(علیه السلام) بھی پیغمبر کی زندگی میں امتِ مسلمہ کی رہبری میں ان کے معاون تھے، لہٰذا آپ کی حیثیت ایک مستقل رہبر کی ہوجائے گی ۔ بہرحال ”حدیثِ منزلت“ جو از روئے سند اسلام کی مضبوط ترین دلالت کے لحاظ سے بھی اہلِ انصاف کی نظر میں حضرت علی علیہ السلام کی تمام امت پر فضیلت، اسی طرح آپ کی خلافت بلافصل ثابت کرنے کے لئے کافی ووافی ہے ۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ بعض لوگوں نے نہ صرف حدیث کی دلالت کو خلافت پر قبول نہیں کیا ہے بلکہ یہ کہا ہے کہ اس حدیث سے حضرت علیہ(علیه السلام) کی کمترین فضیلت بھی ظاہر نہیں ہوتی ہے یہ بات واقعاً حیرت ناک ہے ۔ ۱۴۳ وَلَمَّا جَاءَ مُوسیٰ لِمِیقَاتِنَا وَکَلَّمَہُ رَبُّہُ قَالَ رَبِّ اٴَرِنِی اٴَنظُرْ إِلَیْکَ قَالَ لَنْ تَرَانِی وَلَکِنْ انظُرْ إِلَی الْجَبَلِ فَإِنْ اسْتَقَرَّ مَکَانَہُ فَسَوْفَ تَرَانِی فَلَمَّا تَجَلَّی رَبُّہُ لِلْجَبَلِ جَعَلَہُ دَکًّا وَخَرَّ مُوسیٰ صَعِقًا فَلَمَّا اٴَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَکَ تُبْتُ إِلَیْکَ وَاٴَنَا اٴَوَّلُ الْمُؤْمِنِینَ- ترجمہ اور جس وقت موسیٰ ہماری میعادگاہ میں آئے اور ان کے پروردگار نے ان سے بات کی، انھوں نے عرض کی کہ اے پرودگار! تو اپنے کو مجھے دکھلادے تاکہ مَیں تجھے دیکھو لوں (پروردگار نے) کہا تم مجھے ہرگز نہ دیکھ پاؤ گے لیکن (ذرا) پہاڑ کی طرف دیکھو اگر وہ اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو مجھے دیکھ سکوگے لیکن جب پروردگار نے پہاڑ پر (اپنا) جلوہ کیا تو اسے (گراکر) زمین کے برابر کردیا اور موسیٰ بیہوش ہوکر گرگئے، جب وہ ہوش میں آئے تو انھو ںنے عرض کی: خدایا! تو اس بات سے منزّہ ہے (کہ تجھے کوئی دیکھ سکے) مَیں تیری جانب واپس آتا ہوں مَیں مومنوں میں سے پہلا ہوں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:142
حدیث منزلت کے مفہوم کی وسعت
بغیر کسی تعصّب کے حدیث مذکورہ بالا کے معنی میں غور کریں اور ہر قسم کے تعصّب کی عینک اتاردیں تو ہمیں یہ حدیث بتلائے گی کہ نبوّت کو چھوڑکر جتنے مناصب حضرت ہارون کو حضرت موسیٰ کی نسبت سے حاصل تھے وہ سب حضرت علی علیہ السلام کو بھی رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے حاصل تھے کیونکہ حدیث کے الفاظ عام ہیں اور ”الّا اٴنّہ لا نبیَّ بعدی“کےاستثناء نے اس عموم کی مزید تاکید کردی ہے، اس کے علاوہ حدیث میں اور کسی قسم کی قید اور شرط نہیں ہے جس کی وجہ سے تخصیص کا قائل ہُوا جائے، بنابریں اس حدیث سے امور ذیل کا استفادہ کیا جاسکتا ہے: ۱۔ حضرت علی علیہ السلام بعدِ پیغمبر امتِ محمدی میں سب سے افضل واعلیٰ ہیں بالکل اسی طرح جس طرح حضرت ہارون(علیه السلام) حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے بعد امتِ موسوی میں سب سے افضل واعلیٰ تھے ۔ ۲۔ حضرت علی علیہ السلام وزیرِ پیغمبر اور ان کے خاص معاون ، ان کے مددگار اور رسول اللهکی رہبری کے کام میں ان کے شریک تھے کیونکہ قرآن کی رُو سے یہ سب منصب حضرت ہارون(علیه السلام) کے لئے ثابت ہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ کی زبانی ارشاد ہوتا ہے: <قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَیَسِّرْ لِی اٴَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِی یَفْقَھُوا قَوْلِی وَاجْعَلْ لِی وَزِیرًا مِنْ اٴَھْلِی ھَارُونَ اٴَخِی اشْدُدْ بِہِ اٴَزْرِی وَاٴَشْرِکْہُ فِی اٴَمْرِی (سورہٴ طٰہٰ/۲۹تا۳۲) ”میرے خاندان سے میرا ایک وزیر قرار دے، میرے بھائی ہارون کو، میری قوت کو اس کے ذریعہ بڑھادے، اور اسے میرے کام میںشریک کردے“ ۳۔ حضرت علی علیہ السلام عمومی اسلامی اخوّت کے علاوہ پیغمبر کی خصوصی ومعنوی اخوت کے بھی حامل تھے ۔ ۴۔ علی علیہ السلام خلیفہ اور جانشین پیغمبر تھے، ان کے ہوتے کسی دوسرے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ رسول صلی الله علیہ وآلہ وسلم کا خلیفہ بنے، جس طرح حضرت ہارون(علیه السلام) کے ہوتے کوئی دوسرا خلیفہ نہ تھا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:142
حدیث منزلت کے اسناد
۱۔ اصحاب نبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ایک بڑی تعداد نے جنگِ تبوک کے واقعہ کو اس طرح نقل کیا ہے: ”انّ رسول اللهخرج الیٰ تبوک واستخلف علیّاً فقال: اٴ تخلفنی فی الصبیان والنساء، قال: اٴلا ترضیٰ اٴن تکون منّی بمنزلة ھارون من موسیٰ الّا اٴنّہ لا نبیّ بعدی“ ”پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم تبوک کی جانب روانہ ہوئے تو آپ نے اپنی جگہ علی کو مقرر کیا، علی نے کہا کہ یا رسول الله! مجھے عورتوں اور بچوں کے درمیان چھوڑے جاتے ہیں (اور اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ مَیں آپ کے ہمراہ جنگ کے لئے آؤں) پیغمبر نے فرمایا: یا علی! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تمھاری حیثیت مجھ سے وہی ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی مگر فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا ۔ مذکورہ عبارت سے معتبر ترین کتب حدیث اہل سنّت میںوارد ہوئی ہے یعنی یہ روایت صحیح بخاری میں سعد ابن ابی وقاص سے نقل ہوئی ہے (1) نیز صحیح مسلم میں جو اہل سنّت کی درجہٴ اوّل کی کتب میں شمار ہوتی ہے، باب ”فضائل الصحابہ“ میں یہ حدیث سعد سے منقول ہوئی ہے کہ پیغمبر ن علی(علیه السلام) سے فرمایا: ”اٴنت منّی بمنزلة ھارون من موسیٰ الّا اٴنّہ لا نبیّ بعدی“ تمھاری مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی ہوگا(2) صحیح مسلم کی اس حدیث میں مطلب کو کلّی طور پر بیان کیا گیا ہے اس میں جنگِ تبوک کی طرف کوئی اشارہ نظر نہیں آتا ۔ نیز صحیح مسلم ہی میں اس حدیث کو بطورِکلّی بیان کرنے کے بعد پیغمبر کی جنگِ تبوک والی حدیث کو بھی مثل صحیح بخاری کے جداگانہ بھی نقل کیا گیا ہے ۔ سننِ ابن ماجہ میں بھی بعینہِ یہی مطب آیا ہے (3) سننِ ترمذی میں اس مطلب کا اضافہ ملتا ہے کہ روز معاویہ نے سعد سے کہا کہ تم ”ابوتراب“ (یعنی حضرت علی(علیه السلام) کو بُرا کیوں نہیں کہتے؟ سعد نے جواب دیا: مجھ یاد ہے کہ حضرت رسول الله نے علیٰ کے بارے میں تین باتیں فرمائیں تھیں، جب مجھے یہ تینوں باتیں یاد آتی ہیں تو مَیں علی(علیه السلام) کو بُرا نہیں کہہ سکتا، اس کے بعد سعد نے ان تین باتوں میں سے ایک وہی جنگِ تبوک میں حضرت علی(علیه السلام) کے متعلق مذکورہ کا ذکر کیا ہے (4) کتاب مسند احمد بن حنبل میں تقریباً دس مقامات پر اس حدیث کا ذکر کیا گیا ہے، کبھی تو جنگِ تبوک کے بیان میں اس کاذکر آیا ہے اور کہیں اس کے علاوہ بھی(5) ان مقامات میں سے ایک مقام پر درج ہے کہ: ایک دفعہ ابنِ عباس بیٹھے ہوئے تھے کہ کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ یا تو آپ ہمارے ساتھ باہر آجائیے یا ان لوگوں کو تھوڑی دیر کے لئے باہر بھیج دیجئے کیونکہ ہم آپ سے اکیلے میں کچھ کہنا چاہتے ہیں، ابنِ عباس نے کہا: میں تمھارے ساتھ باہر چلتا ہوں یہاں تک کہ ابنِ عباس نے ان سے جنگِ تبوک کا واقعہ اور رسول الله کا علی(علیه السلام) کے بارے میں مذکورہ قول نقل کیا، اس کے بعد اتنا اور اضافہ کیا کہ آنحضرت نے فرمایا: ”انّہ لاینبغی اٴن اٴذھب الّا واٴنت خلیفتی“ مناسب نہیں ہے کہ مَیں سفر کروں سوائے اس صورت کے تم میرے جانشین بنو(6) کتاب خصائص نسائی میں بھی یہ حدیث وارد ہوئی ہے (7) اسی طرح کتاب مستدرک حاکم(8) تاریخ الخلفاء، سیوطی(9)، صواعق محرقہ ابنِ حجر(10)، سیرةِ ابن ہشام(11)، سیرة حلبی(12) اور دیگر بہت سی کتابوں میں یہ حدیث وارد ہوئی ہے ۔ یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ یہ کتابیں اہلِ سنّت کی مشہور ومعروف اور درجہٴ اوّل کی کتابوں میں سے ہیں ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس حدیث کو صرف سعد بن ابی وقاص نے نہیں نقل کیا ہے بلکہ ان کے علاوہ دیگر صحابہ میں سے بعض یہ ہیں: جابر بن عبد الله انصاری، ابو سعید خدری، اسماء بنت عمیس، ابنِ عباس، امّ سلمہ، عبد الله بن مسعود، انس بن مالک، زید بن ارقم اور ابو ایوب انصاری- اس سے بھی زیادہ جالب بات یہ ہے کہ معاویہ اور عمر بن خطاب نے بھی اس حدیث کو رسول الله صلی علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے ۔ محبّ الدین طبری اپنی کتاب ”ذخائر عقبیٰ“ میں نقل کرتے ہیں کہ: ایک شخص معاویہ کے پاس آیا اور اس نے معاویہ سے کوئی سوال کیا، معاویہ نے جواب دیا کہ یہ مسئلہ علی(علیه السلام) سے پوچھو کیونکہ وہ بہتر جانتے ہیں، اس شخص نے کہا: اے امیرالمومنین (اس کا اشارہ معاویہ کی طرف تھا) آپ ہی جواب دیں کیونکہ آپ کا جواب مجھے علی(علیه السلام) کے جواب سے زیادہ پسند ہے، معاویہ نے کہا: تُونے بہت بڑی بات کہی، اس کے بعد معاویہ نے کہا: پیغمبر نے علی(علیه السلام) کے بارے میں یہ جملہ فرمایا ہے ”انت بمنزلةھارون من موسیٰ الّا اٴنّہ لا نبیَّ بعدی“ اس کے بعد معاویہ نے کہا: جب کبھی عمر کو کوئی مشکل درپیش ہوتی تھی تو وہ علی(علیه السلام) کی طرف روجوع کرتے تھے (13) ابوبکر بغدادی اپنی کتاب ”تاریخ بغداد میں تحریر کرتے ہیں: عمر نے ایک دفعہ ایک شخص کو دیکھا کہ وہ علی(علیه السلام) کو بُرا کہہ رہا ہے، عمر نے کہا: میرا خیال ہے کہ تُو ایک منافق انسان ہے کیونکہ میں نے پیغمبر کو یہ فرماتے سنا ہے: ”انّما علیّ منّی بمنزلة ھارون من موسیٰ الّا اٴنّہ لا نبیَّ بعدی“(14) 1۔ صحیح بخاری، ج۶، ص۳، طبع دار احیاء التراث العربی- 2۔ صحیح مسلم، ج۴، ص۱۸۷، طبع دار احیاء التراث العربی، طبع دوّم، سال۱۹۷۲ء 3۔ جلد اوّل، ص۴۲، طبع احیاء دار الکتب العربیہ- 4۔ ج۱، ص۶۳۸، مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ، مالک مکتبہ حاج ریاض شیخ- 5۔ مسند احمد بن حنبل، ج۱، ص۱۷۳، ۱۷۵، ۱۷۹، ۱۸۲، ۱۸۵، ۲۳۱، نیز ج۶، ص۳۶۹ اور ۴۳۸- 6۔ مسند احمد بن حنبل، ج۱، ص۲۳۱- 7۔ خصائص نسائی، ص۴ و۱۴- 8۔ ج۳، ص۱۰۸ و۱۰۹- 9۔ ج۱، ص۶۵- 10۔ ص۱۷۷- 11۔ سیرتِ ابن ہشام، ج۳، ص۱۶۳، طبع مصر- 12۔ سیرتِ حلبی، ج۳، ص۱۵۱، طبع مصر- 13۔ ذخائر عقبیٰ، ص۷۹، طبع مکتبہٴ قدس؛ صواعق محرقہ، ص۱۷۷ طبع مکتبہ قاہرہ- 14۔ تاریخ بغداد ، ج۷، ص۴۵۲، طبع مکتبہٴ سعادت-