قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنتُم بِهِ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ إِنَّ هَذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
Pharaoh said, ‘Do you profess faith in Him before I may permit you? It is indeed a plot you have devised in the city to expel its people from it. Soon you will know [the consequences]!
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:123
[Pooya/Ali Commentary 7:123] (see commentary for verse 103)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:123-126
لغو تحدیدیں
جب فرعون کے ارکان حکومت پرساحروں کے ایمان لانے سے ایک ضرب کاری لگی، تو فرعون بہت پریشان ومضطر ہوا، کیوں کہ اس نے محسوس کرلیا کہ اگر وہ اس وقت شدید ردعمل کا مظاہرہ نہ کرے گا تو دوسرے لوگ بھی متاثر ہوگر ایمان لے آئیں گے جس کے بعد حالات پر قابو پانا ناممکن ہوگا، لہٰذا اس نے دو تدبیروں پر عمل کیا: پہلے اس نے ساحروں پر ایک عوام پسند تہمت لگائی اس کے بعد شدید ترین تہدید کے ساتھ ان کو اپنے عتاب کا نشانہ بنایا لیکن ان دونوں منظروں کے مقابلے میں ساحروں نے ایسے صبر وشجاعت کا مظاہرہ کیا کہ فرعون اور اس کے ساتھی حیرت زدہ ہوگئے اور ان کی تدبیرویں خاک میں مل گئیں، اس طرح تخت فرعونی کی لرزاں بنیاد پر ایک تیسری ضرب لگی، زیر بحث آیات میں اس منظر کو دلچسپ انداز میں بیان کیا گیا ہے: پہلے ہے :فرعون نے ساحرون سے کہا: آیا قبل اس کے کہ میں تم کو اجازت دوں تم اس (موسیٰ) پر ایمان لے آئے ہو(قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنتُمْ بِہِ قَبْلَ اٴَنْ آذَنَ لَکُمْ) ۔ کلمہ ”بہ“ (اس پر)کے ذریعے اسے موسیٰ کی انتہائی تحقیر منظور تھی گویا وہ نام لئے جانے کے لائق بھی نہ تھے اور اس جملہ ”قَبْلَ اٴَنْ آذَنَ لَکُمْ“ کے ذریعے فرعون کہنا چاہتا ہے کہ میں خود ایسا حق پسند ہوں کہ اگر موسیٰ کے دعوے میں کوئی بھی حقیقت ہوتی تو میں تمھیں ایمان لانے کی اجازت دے دیتا لیکن تمھاری اس جلد بازی سے پتہ چلا کہ نہ صرف یہ کہ اس معاملے میں حقیقت کا کوئی پہلو نہیں ہے بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم لوگوں نے اہل مصر کے خلاف ایک عظیم سازش رچ کر رکھی ہے ۔ بہرحال مذکورہ بالا جملے سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ فرعون کا جنون اقتدار پسندی اس حد بڑھا ہواہے کہ وہ چاہتا تھا کہ اہل مصر نہ صرف یہ کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی کام انجام نہ دیں بلکہ انھیں سوچنے اور غور وفکر کرنے اور کوئی مذہب اختیار کرنے کی بھی اجازت نہ تھی اور یہ استعمار واستبداد کی بدترین مثال ہے کہ قومیں کسی فرد کے ہاتھ میں اس طرح اسیر اور غلام ہوجائےں کہ ان سے سوچنے سمجھنے یہاں تک کہ کسی نظریہ کو اپنانے کا حق بھی ان سے چھن جائے، یہ وہی طریقہٴ کار ہے جو ”استعمار جدید“ کے نظام میں بھی بروئے کار لایا جاتا ہے، یعنی استعماری قوتیں صرف سیاسی، اقتصادی اور اجتماعی استعمار پر اکتفا نہیں کرتیں بلکہ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کے ذہنوں پر بھی استعمار کے تالے لگا دئے جائیں اور صرف انہی کے نظریے اور افکار کی جڑیں لوگوں کے ذہنوں میں سرایت کرسکیں ۔ چنانچہ کمیونسٹ ممالک میں جہاں چاروں طرف آہنی دیواریں کھڑی ہیں، سرحدیں بند ہیں، ہرچیز پر خاص کر تعلیم وتربیت پر سنسرشپ قائم ہے”استعماری فکری“کے نشانات اچھی طرح دیکھے جاسکتے ہیں ۔ لیکن مغربی سرمایہ دار ممالک جہاں یہ چیزیں نہیں ہیں اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں ہر شخص کو ہر طرح کی آزادی ہے جب کہ آزادیٴ خیال بھی حاصل ہے ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ جو چاہے سوچے اور جس کا چو چاہے انتخاب کرے، وہاں یہ کام ایک دوسری طرح انجام پذیر ہوتا ہے کیون کہ ان مقامات بڑے بڑے سرمایہ داروں کا نشر اشاعت، ریڈیو اور ٹیلیویژن پر پہرا ہوتا ہے، اور ان چیزوں کے ذریعے آزادی فکروعقیدہ کے لباس اپنے افکار وعقائد کو غریب عوام پر سوار کردیتے ہیں اور مسلسل ”برین واشنگ“ کے ذریعے وہ دنیا کو ادھر ہی لے جاتے ہیں جدھر ان کادل چاہتا ہے اور یہ دور حاضر کے لئے ایک بلائے عظیم ہے ۔ اس کے بعد فرعون نے اس جملہ کا اضافہ کیا: یہ پلان ہے جو تم نے اس شہر میں اس لئے بنایا ہے کہ اس کے رہنے والوں کا یہاں سے باہر نکلا دو(إِنَّ ھٰذَا لَمَکْرٌ مَکَرْتُمُوہُ فِی الْمَدِینَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْھَا اٴَھْلَھَا ) ۔ سورہ طہ کی آیت ۷۱میں ہے : <إِنَّہُ لَکَبِیرُکُمْ الَّذِی عَلَّمَکُمْ السِّحْرَ ”موسیٰ بڑا استاد ہے تمھارا “ جس نے تم کو یہ جادو سکھایا ہے ۔ اگر اس پر نظر کی جائے تو معلوم ہوگا کہ فرعون کا مقصد یہ ہے کہ تم لوگوں نے کافی عرصے مصر کی حکومت پر قبضہ جمانے اور لوگوں کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینے کی اسکیم بنا رکھی ہے یہ ان چند دنوں کی بات نہیں ہے ۔ اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ ”مدینہ“ سے مراد صرف شہر مصر نہیں بلکہ پورا مصرملک ہے، جیسا کہ ”المدینة“ کے الف ولام سے ظاہر ہے جو کہ جنس کے اعتبار سے آیا ہے،کیوں کہ جملہٴ ” لِتُخْرِجُوا مِنْھَا اٴَھْلَھَا“ سے مراد ہے موسیٰ اور بنی اسرائیل کا تمام مصر پر تسلط اور فرعون اور اس کے اطرافیوں کو تمام اہم مقامات سے نکال دینا یا ان میں سے ایک جماعت کو دوردراز کے مقامات کی طرف جلاوطن کردینا، نیز اسی سورت کی آیت ۱۱۰ بھی اسی مدعا پر دلالت کرتی ہے ۔ بہر حال یہ تہمت اس قدر بے بنیاد اور رسوا کن ہے کہ سوائے عوام الناس اور بے خبر افراد کے کوئی بھی اسے قبول نہیں کرسکتا تھا کیوں کہ موسیٰ (علیه السلام) سر مصر میں موجود ہی نہ تھے نہ کسی شخص نے ان کو ساحروں کے ساتھ دیکھا تھا، اگر وہ ان کے مشہور استاد تھے تو وہ یقینی طور سے اس سے قبل ان کے ہمراہ دیکھے جاتے اور بہت سے لوگ ان کو جانتے پہچانتے، اگر حضرت موسیٰ (علیه السلام) نے ان لوگوں کے ساتھ کسی طرح کی سازش کی ہوتی تو یہ کوئی ایسی بات نہ تھی جسے بآسانی چھپایا جاسکے کیوں کہ گنتی کے چند لوگوں کے درمیان تو سازش ہو سکتی ہے مگر ہزاروں جادو گروں کے درمیان جو مختلف دوردراز کے علاقوں سے آئے تھے ایسی سازش کیسے کی جاسکتی ہے؟ اس کے بعد فرعون نے ایک سربستہ اور انتہائی شدید جملے میں انھیں دھمکی دی: لیکن تمھیں جلد ہی معلوم ہوجائے گا(فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ) ۔ اس کے بعد کی آیت میں اس خفیہ دھمکی کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے: میں قسم کھاتا ہوں کہ میں تمھارے ہاتھوں اور پیروں کو ایک دوسرے کے الٹ (ایک طرف کا ہاتھ تو دوسری طرف کا پیر)کاٹ دوں گا اس کے بعد تم سب کو سولی پر لٹکادوں گا(لَاٴُقَطِّعَنَّ اٴَیْدِیَکُمْ وَاٴَرْجُلَکُمْ مِنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاٴُصَلِّبَنَّکُمْ اٴَجْمَعِینَ ) ۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ان لوگوں کو بڑی اذیتیں دے کر قتل کرے اور دیکھنے والوں کے سامنے بڑا ہولناک اور عبرتناک منظر پیش کرے کیوں کہ ان کے ہاتھ پیروں کا قطع کرنا اس کے بعد سولی پر لٹکانا اس بات کا سبب تھا کہ ان کے بدن سے فوارے کی طرح خون جاری ہو اور وہ بلندی پر اپنے ہاتھ پیر ماریں اور تڑپ ٹرپ کر جان دیں (توجہ رہے کہ اس زمانے میں سولی کے لئے گردن میں پھندا نہیں ڈالتے تھے بلکہ زیر بغل رسی ڈال کر لٹکا دیتے تھے ) ۔ شاید الٹی طرف سے ہاتھ پیر کاٹنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ دیر میں اپنی جان دیں اور ان کی اذیت اور تکلیف کی مدت طولانی ہوجائے ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ فرعون نے ان ساحروں مغلوب کرنے کے لئے جو منصوبہ بنایا تھا یہ ایک عام منصبوبہ تھا جو جابر حکمران اہل حق کو زیر کرنے کے لئے ہر دور میں بنایا کرتے ہیں کہ ایک طرف ان پر طرح طرح کی تہمتیں لگا کر رائے عامہ ان کے خلاف کر نے کی کوشش کرتے ہیں، دوسری طرف ان کو زندان، تعذیب اور قتل کی دھمکیاں دیتے ہیں، لیکن جیسا کہ ہم نے حضرت موسیٰ (علیه السلام) کے قصے میں دیکھا ہے فرعون کے ان دونوں حربوں میں سے کوئی کامیاب نہ ہوا ۔اور کامیان نہیں ہونا چاہئے تھا ۔ ان دونوں حربوں کے مقابلے میں جادوگروں نے میدان مقابلہ کو خالی نہ کیا بلکہ یکدل ویک زبان ہوکر یہ جواب دیا: ہم تو اپنے پروردگار کی طرف پلٹیں گے ( قَالُوا إِنَّا إِلیٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ) ۔ یعنی اے فرعون! اگر تیری آخری تہدید صورت عمل میں آجائے اور تو ہم کو قتل بھی کردے تو اس سے نہ صرف ہم کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ اس سے ہماری دلی مراد حاصل ہوگی اور ہم شربت شہادت پی کر جنت میں جائیں گے اور یہ ہمارے لئے سرمایہٴ افتخار ہے ۔ اس کے بعد انھوں نے فرعون کی تہمت باطل کرنے کے لئے اور اس مجمع کے سامنے جو اس منظر کو دیکھنے کے لئے جمع ہوا تھا اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے اس طرح کہا: اصل اعتراض تیرا ہم پر صرف یہ ہے کہ ہم اپنے پروردگار کی ان آیتوں پر ایمان لے آئے ہیں جو ہماری طرف آئی ہیں (وَمَا تَنقِمُ مِنَّا إِلاَّ اٴَنْ آمَنَّا بِآیَاتِ رَبِّنَا لَمَّا جَائَتْنَا) ۔ یعنی ہم لوگ نہ تو ہنگامہ پرور ہیں اور نہ ہم نے تیرے خلاف کوئی سازش کی ہے، نہ ہم اس لئے موسیٰ (علیه السلام) پر ایمان لائے ہیں کہ حکومت ہمیں مل جائے یا اس سرزمین کے لوگوں کو یہاں سے باہر نکال دیں، تو خود جانتا ہے کہ ہم لوگ ایسے نہیں ہیں ، بلکہ ہم نے جب حق کو دیکھا اور اس کی نشانیوں کو بخوبی پہچان لیا تو ہم نے اپنے پروردگار کی آواز پر لبیک کہی اور ایمان لے آئے، ہمارے سارا گناہ تیری نظر میں یہی ہے اور بس! ۔ در حقیقت انھوں نے اپنے پہلے جملے سے فرعون پر یہ ثابت کیا کہ ہم تیری دھمکیوں سے بالکل نہیں ڈرتے اور بڑے ثباتِ قدم کے ساتھ موت کا استقبال کرنے کے لئے آگے بڑھتے ہیں، پھر اس کے بعد دوسرے جملے سے انھوں نے ان تہمتوں کا جواب دیا جو فرعون نے ان پر لگائی تھیں ۔ لفظ” تنقم“مادہ ”نقمت“ (بروزن نعمت)سے ہے، اس کا اصلی معنی ہے زبان سے یا عمل اور سزا کے ذریعے کسی شیٴ کا انکار کرنا، اس بناپر آیہ مذکورہ بالاکے معنی یہ ہوں گے کہ تیرا ایک ہی اعتراض ہم پر یہ ہے کہ ہم لوگ ایمان لے آئے ہیں، یا یہ معنی ہوں گے کہ تو ہمیں صرف اس بنا پر سزا دے رہا ہے کہ ہم نے ایمان قبول کرلیا ہے ۔ اس کے بعد انھوں نے فرعون کی طرف سے اپنا منہ پھر لیا اور خدا کی بارگاہ کی طرف متوجہ ہوکر اس سے صبر واستقامت کی التجا کی، کیوں کہ انھیں معلوم تھا کہ بغیر خدا کی تائید وتوفیق کے ان میں اتنی سخت دھمکیوں اور سزاؤں کا مقابلہ کرن ےکی طاقت نہیں ہے، لہٰذا انھوں نے کہا: خدایا! صبر کا پیمانہ ہمارے اوپر انڈیل دے اور ہمارے اخلاص وایمان کو آخری لمحات زندگی تک باقی رکھ( رَبَّنَا اٴَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِین) ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ چونکہ انھیں پتہ تھا کہ خطرہ اپنے آخری درجہ تک پہنچ گیا ہے لہٰذا انھوں نے اس ” اٴَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا “ کہہ کر خدا سے درخواست کی کہ تو بھی ہمیں صبرواستقامت کا آخری درجہ عطا کردے (کیوں کہ لفظ”افرغ“ مادہ ”افراغ“ سے ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ کسی برتن سے کسی سیال شیٴ کو اس طرح انڈیل دیا جائے کہ برتن میں کچھ بھی باقی نہ رہ جائے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:123-126
آگاہی اور استقامت
ممکن ہے کسی شخص کو اس بات پر تعجب ہو کہ ان جادوگروں کی اتنی جلدی کایا پلٹ کیسے گئی، کہاں تو وہ موسیٰ (علیه السلام) کے مقابلے کی ٹھان کر آئے تھے اور کہاں یہ کہ وہ فوراً مومنین کی صف میں آگئے، پھرمومن بھی ایسے کہ انھیں ہر قسم کی قربانی اور فداکاری سے بھی کوئی باک نہ تھا، کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ اتنے کم عرصے میں کسی انسان کے ذہن میں اتنا زبردست انقلاب آجائے کہ وہ صف مخالف سے بالکل کٹ کر صف موالف میں مل جائے اور اتنی سختی سے اپنے نئے عقیدہ پر ڈت جائے کہ اپنے مقام اور زندگی سب کو نظر انداز کردے اور مردانہ وار بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ شربت شہادت کے آخری گھونٹ کوبھی پی جائے ۔ لیکن اگر ہم اس نکتے کو سمجھ لیں کہ وہ جادوگر جو علم سحر میں ید طویل رکھتے تھے وہ اپنے علم کی وجہ سے حضرت مو سیٰ (علیه السلام) کی عظمت سے اچھی طرح آگاہ ہوگئے اور انھوں نے پوری آگاہی کے ساتھ اس میدان میں اپنا قدم رکھا، ان کی یہ واقفیت وآگاہی ان کے اس عشق سوزاں کا سرچشمہ بن گئی جس نے ان کے سارے وجود کا احاطہ کرلیا ایک ایسا عشق جس کی کوئی حد ونہایت نہیں ہے اور جو انسان کی تمام خواہشوں سے مافوق ہے ۔ انھیں اچھی طرح پتہ تھا کہ انھوں نے کس راستے پر اپنا قدم رکھا ہے، وہ کس واسطے جنگ کررہے ہیں، کس سے جنگ کررہے ہیں اور اس جنگ کے نتیجہ میں کیسا روشن مستقبل ان کے انتظار میںہے؟!۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے دیکھا کہ انھوں نے بڑی صراحت وشجاعت کے ساتھ (جیسا کہ سورہ ”طہ“ کی آیت ۷۲ میں آیا ہے) یہ کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا ہم تجھے ان روشن دلائل پر ہرگز ترجیح نہیں دیں گے جو ہمارے رب کی طرف ہمارے پاس آئے ہیں، تیرا جو دل چاہے کرلے لیکن یہ جان لے کہ تیری قدرت کا دائرہ صرف اسی دنیا تک محدود ہے ۔ آخر کار، جیسا کہ تواریخ اور روایات میں، ان لوگوں نے اس راہ میں اس قدر پامردی واستقامت کا مظاہرہ کیا کہ فرعون نے اپنی دھمکی کو پورا کردکھایا اور ان کے مثلہ شدہ بدنوں کو دریائے نیل کے کنارے کجھور کے درختوں کی شاخوں آویزاں کردیا، جس کی وجہ سے ان کا پر افتخار نام ہمیشہ کے لئے دنیا کے حیرت پسندوں کی فہرست میں ثبت ہوگیا اور بقول مفسر بزرگوار علامہ طبرسی: ”کانوا اول النھار کفاراً سحرة واٰخر النھار شھداء بررة“ وہ صبح کے وقت کافر وجادوگر تھے اور عصر کے وقت شہیدو نیکوکار ہوگئے ۔ لیکن توجہ رہے کہ اس طرح کا انقلاب واستقامت بجز الٰہی تائید کے ممکن نہیں ہے، یہ بات مسلم ہے کہ جو لوگ سچے دل سے خدا کی راہ میں قدم اٹھاتے ہیں خدا کی مدد بھی ان کی تلاش میں آتی ہے ۔ ۱۲۷ وَقَالَ الْمَلَاٴُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اٴَتَذَرُ مُوسیٰ وَقَوْمَہُ لِیُفْسِدُوا فِی الْاٴَرْضِ وَیَذَرَکَ وَآلِھَتَکَ قَالَ سَنُقَتِّلُ اٴَبْنَائَھُمْ وَنَسْتَحْیِ نِسَائَھُمْ وَإِنَّا فَوْقَھُمْ قَاھِرُونَ۔ ۱۲۸ قَالَ مُوسیٰ لِقَوْمِہِ اسْتَعِینُوا بِاللهِ وَاصْبِرُوا إِنَّ الْاٴَرْضَ لِلّٰہِ یُورِثُھَا مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِہِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِین۔ ۱۲۹ قَالُوا اٴُوذِینَا مِنْ قَبْلِ اٴَنْ تَاٴْتِیَنَا وَمِنْ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا قَالَ عَسیٰ رَبُّکُمْ اٴَنْ یُھْلِکَ عَدُوَّکُمْ وَیَسْتَخْلِفَکُمْ فِی الْاٴَرْضِ فَیَنظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُونَ ۔ ترجمہ ۱۲۷۔قومِ فرعون کے سرداروںنے اس سے کہا: آیا موسیٰ اور ان کی قوم کو آزاد چھوڑ دے گا کہ وہ زمین میں فساد کرتے پھریں اور تجھے اور تیرے خداؤں کو ترک کردیں ،(فرعون نے ) کہاعنقریب میں ان کے لڑکوں کو قتل کردوں گا اور عورتوں کو زندہ چھوڑ دوں گا ( تاکہ وہ ہماری خدامت کریں) اور ہم پورے طور سے ان پر مسلط ہیں ۔ ۱۲۸۔موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا سے مدد چاہو اور صبر اختیار کرو کہ زمین خدا ہی کی ہے ، اپنے بندوں میں وہ جسے چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے اور نیک انجام پرہیزگاروں کے لئے ہے ۔ ۱۲۹۔انھوں نے کہا کہ (اے موسیٰ )تمھارے آنے سے قبل بھی ہم نے بہت اذیتیں دیکھیں اور اب تمھارے آنے کے بعد بھی ہم دکھ جھیل رہے ہیں (آخر ان مصائب کا کب خاتمہ ہوگا ؟ )موسیٰ نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ تمھارا پروردگار تمھارے دشمن کو ہلاک کردے گا اور تمھیں زمین اس کا جانشین بنادے گا تاکہ وہ دیکھے کہ تم کس طرح کا عمل کرتے ہو ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:123-126
فرعون اور اس کے اطرافیوں
ان آیات میں فرعون اور اس کے اطرافیوں کی ایک اور گفتگو حضرت موسیٰ (علیه السلام) کے بارے میں نقل کی گئی ہے اور جیسا ان آیات سے پتہ چلتا ہے یہ گفتگو موسیٰ (علیه السلام) اور جادوگروں کے مقابلے بعد ہوئی تھی ۔ پہلی آیت میں ہے کہ : قوم فرعون کے سرداروں نے بطور اعتراض اس سے کہا: آیا موسیٰ اور بنی اسرائیل کو ان کی حالت پر آزاد چھوڑ دے گا تاکہ وہ زمین میں فساد کریں، اور تجھے اورتیرے خداؤں کو ترک کر دیں (وَقَالَ الْمَلَاٴُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اٴَتَذَرُ مُوسیٰ وَقَوْمَہُ لِیُفْسِدُوا فِی الْاٴَرْضِ وَیَذَرَکَ وَآلِھَتَکَ) ۔ اس سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیه السلام) سے شکست کھانے بعد فرعون نے ایک مدت تک انھیں اور بنی اسرائیل کو کھلا چھوڑ دیا تھا(اگر چہ یہ آزادی بہت محدود تھی ) لیکن موسیٰ (علیه السلام) اور ان کے ماننے والے بھی خالی نہ بیٹھے اور حضرت موسیٰ (علیه السلام)کے آئین کی تبلیغ میں مصروف رہے یہاں تک کہ قوم فرعون کو ان کی ان سرگرمیوں کا پتہ چلا اور انھیں اندیشہ لاحق ہوا چنانچہ وہ لوگ فرعون کے پاس آئے اور اسے اس بات کی طرف آمادہ کرنا چاہا کہ وہ موسیٰ (علیه السلام) اور ان کی قوم پر سختی کرے ۔ آیا یہ محدود آزادی اس معجزہ کی وجہ سے تھی جو فرعون نے حضرت موسیٰ (علیه السلام) کے ذریعے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور اس کی وجہ سے اس کے دل میں خوف پیدا ہوگیا تھا ؟ یا اس اختلاف کی وجہ تھی جو اہل مصر کے درمیان حتی کہ خود قبطیوں کے درمیان حضرت موسیٰ (علیه السلام) اور ان کے آئین کے بارے میں پیدا ہوگیا تھا، جس کی وجہ سے کچھ لوگ ان کی جانب مائل ہوگئے تھے ، اور فرعون یہ دیکھ رہا تھا کہ ان حالات میں وہ ان کے خلاف کوئی سخت اقدام نہیں کرسکتا تھا ؟ دونوں احتمالوں کا امکان ہے بلکہ ہوسکتا ہے کہ دونوں نے یکجا فرعون کے ذہن پر اپنا اثر کیا ہو ۔ بہرحال فرعون پر ان باتوں کا خاطر خواہ اثر ہوا اور اس نے ان لوگوں کے جواب میں کہا: میں جلد ہی ان کے لڑکوں کو قتل کردوں گا اور عورتوں کو زندہ چھوڑ دوں گا(تاکہ ان سے خدمت لی جائے) اور ہم ان پر اچھی طرح قابو رکھتے ہیں ( قَالَ سَنُقَتِّلُ اٴَبْنَائَھُمْ وَنَسْتَحْیِ نِسَائَھُمْ وَإِنَّا فَوْقَھُمْ قَاھِرُونَ) ۔ لفط ”الھتک“ (تیرے خداؤں )سے کیا مراد ہے؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیاں بحث ہے، جو بات اس آیت کے ظاہر سے زیادہ قریب ہے وہ یہ ہے کہ فرعون نے بھی اپنے لئے کچھ بت اور خدا بنا رکھے تھے، اگرچہ سورہٴ نازعات کی آیت ۲۴ ”انا ربکم الاعلی“ او ر سورہٴ قصص کی آیت ۳۸ ”ما عملت لکم من الٰہ غیرہ“سے پتہ چلتا ہے کہ اہل مصر سب سے بڑا خدا فرعون کو سمجھتے تھے یا کم از کم وہ خود اپنے کو ایسا سمجھتا تھا اور اپنی سطح کا کوئی دوسرا خدا اس کی نظر میں نہ تھا لیکن اس کے باوجوداس نے اپنے لئے معبود بنا رکھے تھے جن کی وہ پرستش کرتا تھا ۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ فرعون نے اس مقام پر ایک گہری سیاست شروع کی اور ایک ایسا منصوبہ تیار کیا جس کی وجہ سے بنی اسرائیل کی قوت وقدرت ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے، وہ تدبیر یہ تھی کہ بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کر کے ہمیشہ کے لئے مردوں کا خاتمہ کردے تاکہ وہ کبھی اس سے مقابلہ نہ کرسکیں اور عورتوں اور لڑکیوں کو کنیزی اور خدمت کے لئے باقی رکھے، یہ ہرقدیم وجدید استعمار کا ایک زبردست طریقہ ہے جس کی وجہ سے مثبت وفعال افراد قوم کی آغوش سے چھین لئے جاتے ہیں اور ان کو نابود کردیا جاتا ہے، یا پھر ان سے مردانگی اور شجاعت کے جوہر کو طرح طرح کے حیلوں اور وسیلوں سے سلب کرلیا جاتا ہے اور افراد غیر فعال کو زندہ رہنے دیا جاتا ہے ۔ مزید یہ احتمال موجود ہے کہ فرعون چاہتا تھا کہ بنی اسرائیل کی ہمت دوطرح سے ٹوٹ جائے ایک تو لڑکوں کا قتل، دوسرے ناموس کا خطرہ، مقصد یہ تھا کہ بنی اسرائیل ان دو حربوں سے گھبرا کر دشمن کے چنگل میں خوب اچھی طرح سے جکڑ جائیں ۔ بہرحال جملہ ”انا فوقھم قاہرون“ اس بات کا کی حکایت کرتا ہے کہ فرعون یہ کہہ کر یہ چاہتا تھا کہ ہر قسم کی فکر مندی اپنے تابعین کے دل دور کرے اور انھیں یہ اطلاع دے کہ حالات پورے طور اس کے قابو میں ہیں ۔