وَجَاءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوا إِنَّ لَنَا لَأَجْرًا إِن كُنَّا نَحْنُ الْغَالِبِينَ
And the magicians came to Pharaoh. They said, ‘We shall indeed have a reward if we were to be the victors?’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:113
[Pooya/Ali Commentary 7:113] (see commentary for verse 103)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:113-122
دو اہم نکات
۱۔ ساحروں کے جادو کا ایک عجیب منظر:قرآن نے اپنے ایک جملہ :” وَجَائُوا بِسِحْرٍ عَظِیمٍ“ کے ذریعہ سربستہ طور پر اس واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جادوگروں نے اس موقع پر جو منصوبہ باندھا تھا وہ انتہائی اہم جچا تلا اور ہولناک تھا ، ورنہ آیت میں لفظ ”عظیم“ استعمال نہ ہوتا ۔ تواریخ، تفاسیر اور روایات میں بھی ان آیات کے ذیل میں جو مطالب درج ہوئے ہیں ان سے بھی اس موقع کے منظر کی اہمیت ووسعت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، چنانچہ بعض مفسرین کے قول کے مطابق ان ساحروں کی تعداد کئی ہزار تھی نیز ان کے وسائل سحر بھی ہزاروں کی تعداد میں تھے، چونکہ اس زمانے میں مصر میں سحر وساحری کا کافی زور تھا اس بنا پر اس بات پر کوئی جائے تعجب نہیں ہے ۔ خصوصاً سورہ ”طہ“ کی آیت ۶۷ میں ہے: ”فَاَوجَسَ فِی نَفْسِہِ خِیفَة مُوسیٰ“۔ یعنی وہ منظر اتنا عظیم ووحشتناک تھا کہ حضرت موسیٰ (علیه السلام) نے بھی اس کی وجہ سے اپنے دل میں کچھ خوف محسوس کیا ۔ اگرچہ نہج البلاغہ میں اس کی صراحت موجود ہے کہ حضرت موسیٰ (علیه السلام) کو اس بات کا خوف لاحق ہوگیا تھا کہ ان جادوگروں کو دیکھ کر لوگ اس قدر متاثر نہ ہوجائیں کہ ان کو حق کی طرف متوجہ کرنا دشوار ہوجائے ۔(1) بہر صورت یہ تمام باتیں اس بات کی مظہر ہیں کہ اس ایک عظیم معرکہ در پیش تھا جسے حضرت موسیٰ (علیه السلام) کو بفضل الٰہی سر کرنا تھا ۔ ۲۔ مناسب ہتھیار سے مقابلہ: اس بحث سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ فرعون اپنی وسیع حکومت جو اسے سرزمین پر حاصل تھی ایک سوچی سمجھی شیطانی سیاست پر گامزن تھا، س نے حضرت موسیٰ (علیه السلام) اور حضرت ہارون (علیه السلام) کے مقابلے میں صرف ڈرانے دھمکانے ہی سے کام نہ لیا بلکہ اس نے بزعم خود یہ کوشش کی کہ حضرت موسیٰ (علیه السلام) نے جو معجزہ پیش کیا تھا اس کے مشابہ ایک ہتھیار پیش کرے، بلا شبہ اگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتا تو پھر حضرت موسیٰ (علیه السلام) اور ان کی تعلیمات کا دنیا میں نام ونشان بھی نہ ملتا، اس صورت میں ان کا مارا جانا اس کے لئے بہت آسان ہوجاتا، لوگ بھی اس پر خوش ہوتے مگر اس بے چارے کو کیا خبر کہ حضرت موسیٰ (علیه السلام) نے کسی انسانی قوت پر بھروسہ نہیںکیا ہے بلکہ انھوں نے اس قوت لایزال الٰہی اور قوت پروردگار لامتناہی پر تکیہ کیا ہے جو ہر طاقت کو کچل رکھ دیتی ہے ، بہرحال دشمن کے مقابلے پر مناسب ہتھیار لے کر جانا فتح حاصل کرنے کے لئے ایک بہترین راستہ ہے جس سے بڑے سے بڑے دشمن کو شکست دی جاسکتی ہے ۔ یہ وقت جب کہ تمام لوگ ہیجان میں آئے ہوئے تھے، ہر طرف خوشی ے نعرے لگائے جارہے تھے ، فرعون اور اس کے ساتھیوں کے لبوں پر رضایت وطماینت کا تبسم کھیل رہا تھا، ان کی آنکھیں بھی مسرت سے چمک رہی تھیں کہ ۔ایک مرتبہ حضرت موسیٰ (علیه السلام) کو اللہ کی وحی ہوئی ۔ اے موسیٰ ! تم بھی اپنا عصا پھینک دو، عصا کا پھینکنا تھا کہ یک بیک منظر بالکل بدل گیا، چہروں سے رنگ اڑ گئے، فرعون اور اس کے تمام ساتھی لرزنے لگے جیسا کہ قرآن کہتا ہے: ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ اپنے عصا کو ڈال دو،ناگہاں وہ عصا (ایک اژدھے کی شکل میں ہوگیا اور )نگلنے لگاان کے جھوٹے وسیلوں کو (وَاٴَوْحَیْنَا إِلیٰ مُوسیٰ اٴَنْ اٴَلْقِ عَصَاکَ فَإِذَا ھِیَ تَلْقَفُ مَا یَاٴْفِکُونَ ) ۔ ”تلقف“ مادہ ”لقف“ (بروزن وقف)سے ہے ، جس کے معنی کسی چیز کو قوت کے ساتھ پکڑنے کے ہیں، چاہے دہن سے ہو یا ہاتھ سے لیکن بعض مقامات پر یہ لفظ نگلنے کے معنی میں بھی آیا ہے، زیر بحث آیت میں بھی بظاہر اسی معنی میں آیاہے ۔ ”یافکون“ مادہ ”افک“ (بروزن کتف)سے ہے جس کے اصلی معنی کسی چیز سے پلٹنے کے ہیں، چونکہ جھوٹ انسان کو حق سے پلٹا دیتا ہے اس لئے اس کو ”افک“ کہتے ہیں ۔ بعض مفسرین نے اس آیت کے معنی میں ایک اور احتمال ذکر کیا ہے وہ یہ کہ عصائے موسیٰ نے جس وقت ایک بڑے سانپ کی شکل اختیار کی تو اس نے ساحروں کے وسیلوں کو نگلا نہیں تھا بلکہ انھیں بے کار کردیا تھا اور ان کی پہلی شکل پر پلٹا دیا تھا، ان مفسرین کا خیال ہے کہ اس طرح ہر اشتباہ کا راستہ لوگوں کے لئے بند ہوجاتا ہے،جب کہ ان وسیلوں کا نگل لینا لوگوں اس بات پر آمادہ نہیں کرسکتا کہ حضرت موسیٰ (علیه السلام) کا معجزہ ان کے وسیلوں سے زبردست ہے ۔ لیکن یہ احتمال نہ تو کلمہ ”تلقف“ سے مطابقت رکھتا ہے، نہ آیت کے مطالب سے اسے مناسبت ہے کیوں کہ ”تلقف“ کے معنی جیسا کہ بیان ہوا کسی چیز کو بہ سرعت پکڑنے کے ہیں ناکہ ان کو دیگر گوں کرنے کے ہیں ۔ علاوہ برایں اگر یہ بنا بنا ہوتی کہ اعجاز موسیٰ (علیه السلام) ساحروں کے سحر کو باطل کرنے کے ذریعے آشکار ہوتو اس کی کیا ضرورت تھی کہ عصا ایل بڑے سانپ کی شکل اختیار کرے جیسا کہ قرآن نے اس سرگزشت کے آغاز میں بیان کیا ہے ۔ ان تمام باتوں سے بھی اگر چشم پوشی کرلی جائے تو یہ سوال در پیش ہوتا ہے کہ اگرصرف شک وتردد پیدا ہی کرنا تھا تو ساحرو ں کے وسائل پہلی صورت پے پلٹ جانا بھی شک وتردد کا باعث ہوسکتا تھا کیوں کہ ممکن ہے اس وقت یہ احتمال پیدا ہوتا کہ موسیٰ (علیه السلام) اپنے سحرمیں اس قدر استاد ہیں کہ دوسروں کے جادو کو باطل کر کے پہلی حالت پر پلٹا سکتے ہیں ۔ بلکہ جو چیز اس امر کا باعث ہوئی کہ لوگوں کو یہ پتہ چل گیا کہ حضرت موسیٰ (علیه السلام) کاخارق عادت کا رنامہ بشرکی طاقت خارج ہے اور وہ خدا کی بے انتہا طاقت کی وجہ سے نمایاں ہوا ہے، وہ یہ ہے اس زمانے میں مصر میں آزمودہ کار اور ماہر جادوگروں کی کثرت تھی، اس فن میں جو لوگ طاق تھے اور استاد سمجھے جاتے تھے وہی اس زمانے کے ماحول میں ہر طرف چھائے ہوئے تھے، جب کہ حضرت موسیٰ (علیه السلام) میں ایسی کوئی بات نہیں پاتی جاتی تھی، ایک گمنام انسان بنی اسرائیل کے درمیان سےت اٹھا اور اس نے ایک ایسا کارنامہ پیش کیا جس کے آگے سب عاجز ہوگئے، جس سے معلوم ہوا کہ کوئی غیبی طاقت کارفرما ہے اور موسیٰ (علیه السلام) ایک معمولی انسان نہیں ہیں ۔ ”اس گھڑی حق آشکار ہوگیا تو ان کے اعمال جو سراسر ناحق ونادرست تھے بالکل ہوکر رہ گئے ( فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا کَانُوا یَعْمَلُون) ۔ کیوں کہ حضرت موسیٰ (علیه السلام) کا عمل ایک واقعیت پر مبنی تھا، اور ان ساحروں کے اعمال سوائے دھوکا اور فریب نظر کے کچھ نہ تھے، اور اس میں شک نہیں کہ کوئی باطل حق کے سامنے دیر تک ٹھہر نہیں سکتا ۔ یہ ضرب اول تھی جو حضرت موسیٰ (علیه السلام) نبی اللہ نے فرعون کے جبروت واقتدار کی بنیاد پر وارد کی ۔ اس کے بعد کی آیت میں فرمایااگیا ہے: اس طرح شکست کے آثار ان لوگوں میں نمایاں ہوگئے، اور سب کے سب ذلیل، پست اور ناتواں ہوگئے ( فَغُلِبُوا ھُنَالِکَ وَانقَلَبُوا صَاغِرِینَ) ۔ اگرچہ تاریخوں میں اس موقع پر بہت زیادہ مطالب بیان ہوئے ہیںبلکہ بغیر تاریخ کا سہارا لئے بھی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس موقع پر لوگوں کے احساسات اور جوش کا کیا عالم ہوگا، بہت سے لوگ تو اس قدر ڈرے کہ انھوں نے بھاگنا شروع کیا ، کچھ لوگ اپنے مقام پر کھڑے چیخ رہے تھے، کچھ لوگ دہشت ی وجہ سے بیہوش ہوگئے ، فرعون اور اس کے طرف دار جو بڑی وحشت اور اضطراب کے ساتھ اس منظر کو دیکھ رہے تھے ان کی پیشانی پر شرم وندامت کا پسینہ آگیا ، اور اپنے مبہم وتاریک مستقبل کی طرف دیکھنے لگے کہ لو ہماری حکومت وسلطنت ہاتھ سے گئی کیوں کہ اس وقت جو کچھ ہوا وہ ان کے لئے بالکل ایک غیر متوقع تھا، اب ان کی فکر وتدبیرکی تمام راہیںمسدود ہوگئی تھیں، ان کی سمجھ میں کچھ نہ آتا تھا کہ وہ کیا کریں ۔ اس سے بھی کاری تر ضرب اس وقت لگی جب حضرت موسیٰ (علیه السلام) اور ساحروں کے مقابلے کا نقشہ یک بیک اس طرح بدل گیا کہ ناگہاں”سب جادوگر زمین پر گر گئے اور وہ عظمت الٰہی کے سامنے سربسجود ہوگئے“( وَاٴُلْقِیَ السَّحَرَةُ سَاجِدِینَ ) ۔ ”اور وہ پکارے کہ ہم سارے جہانوں کے پروردگار پر ایمان لائے“( قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِینَ ) ۔ ”اور وہ خدا وہی ہے جو موسیٰ وہارون کا بھی رب ہے“( رَبِّ مُوسیٰ وَھَارُونَ) ۔ انھوں نے اس جملے کے ذریعے اس بات کا کھلے بندوں اعلان کردیا کہ اس خدا کے علاوہ جو بھی ادعائے ربوبیت کرے اس کی خدائی مصنوعی ہے، ہم ہیں جو حقیقی پروردگار پر ایمان لائے ہیں، حتیٰ کہ انھوں نے کلمہٴ ”رب العالمین“ پر بھی اکتفا نہ کی ، کیوں کہ فرعون نے اس بات کا دعویٰ کردیا تھا کہ سارے جہانوں پروردگار وہی ہے، لہٰذا ضرورت ہوئی کہ اس کے بعد وہ یہ اضافہ کریں کہ ہمارا رب وہ ہے جو موسیٰ (علیه السلام) وہارون (علیه السلام) کا بھی رب ہے، تاکہ وہ ہر قسم کی غلط فہمی کا ازالہ ہوجائے ۔ یہ وہ بات تھی جس کا فرعون اور اس کے اطرافیوں کو بالکل گمان بھی نہ تھا، یعنی وہ لوگ جنھیں اس نے حضرت موسیٰ (علیه السلام) کو زیر کرنے کے لئے بلایا تھا وہی مومنین کی صف اول میں دکھائی دینے لگے، یہ لوگ بغیر کسی شرم وتاٴمل کے خدا کے حضور خاک پر گر گئے اور انھوں نے بغیر کسی شرط کے حضرت موسیٰ (علیه السلام) کی اطاعت کو جان ودل سے قبول کرلیا ۔ کبھی انسان میں اس طرح بھی انقلاب یک بیک آجاتا ہے اور اس کی کایا پلٹ جاتی ہے، اس بات پر تعجب نہیں کرنا چاہئے کیوں کہ نور ایمانی کی کرن ہر دل کے اندر موجود ہوتی ہے، جس کو ہوسکتا ہے کہ ماحول ،خاندان اور زمان طویل وقلیل کے پردے اور وقتی طور پر چھپالیں، لیکن جب کبھی کوئی طوفان اٹھتا ہے تو پردہ ہٹ جاتا ہے اس وقت یہ نور شعلہ بن کر اس طرح لپکتا ہے کہ اس سے زمانے کی آنکھوں میں چکاچوند پیدا ہوجاتی ہے ۔ خصوصاً اس وجہ سے بھی وہ جلدی ایمان لائے کہ وہ خود فن ساحری میں منجھے ہوئے استاد تھے، اس فن کے تمام رموز واسرار سے بخوبی آگاہ تھے لہٰذا ان کو ایک ”معجزہ“ اور ”سحر“ کے درمیان جو فرق ہے اس سے آگاہی تھی، یہ وہ چیز تھی جو ہوسکتا ہے کہ دوسروں کے لئے مشکل سے واضح ہوتی مگر ان کے لئے تو یہ روز روشن سے بھی زیادہ واضح تھی، انھوں نے اپنے فن سحر کے ذریعے جو انھوں نے سالہا سال کی زحمت کے بعد حاصل کیا تھا، یہ سمجھا کہ حضرت موسیٰ (علیه السلام) کا یہ کار نامہ ہرگز سحر نہیں ہوسکتا، نہ یہ کسی بشری طاقت کا کام ہے بلکہ مافوق طبیعت اسرار سے اس کا تعلق ہے لہٰذا ان کا اتنی جلدی اور اس صراحت وشدت کے ساتھ ایمان لے آنا کوئی جائے تعجب نہیں ہے ۔ جملہ ”وَاٴُلْقِیَ السَّحَرَة“ جو مجہول کا صیغہ ہے اس سے حضرت موسیٰ (علیه السلام)کے سامنے ساحروں کی فروتنی، کامل سپردگی اور غیر معمولی استقبال وقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے یعنی معجزہٴ حضرت موسیٰ (علیه السلام) میں کچھ ایسی جاذبیت تھی کہ وہ ان کی طرف بے ساختہ کھچ گئے اور زمین پر گر کر ان کی حقانیت کا اعتراف واقرار کرنے لگے ۔ ۱۲۳ قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنتُمْ بِہِ قَبْلَ اٴَنْ آذَنَ لَکُمْ إِنَّ ھٰذَا لَمَکْرٌ مَکَرْتُمُوہُ فِی الْمَدِینَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْھَا اٴَھْلَھَا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ۔ ۱۲۴ لَاٴُقَطِّعَنَّ اٴَیْدِیَکُمْ وَاٴَرْجُلَکُمْ مِنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاٴُصَلِّبَنَّکُمْ اٴَجْمَعِینَ ۔ ۱۲۵ قَالُوا إِنَّا إِلیٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ۔ ۱۲۶وَمَا تَنقِمُ مِنَّا إِلاَّ اٴَنْ آمَنَّا بِآیَاتِ رَبِّنَا لَمَّا جَائَتْنَا رَبَّنَا اٴَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِینَ ۔ ترجمہ ۱۲۳۔فرعون نے کہا(ہائیں) تم اس (موسیٰ ) پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمھیں اس کی اجازت دو، یقینا یہ ایک (زبردست) سازش ہے جو تم لوگوں نے اس شہر میں تیار کی ہے تاکہ اس سے اس کے ساکنوں کو نکال باہر کرو(اچھا) تم کو کچھ دیر کے بعد پتہ چلے گا ۔ ۱۲۴۔میں قسم کھاتا ہوں کہ میں تمھارے ہاتھ پیروں کو ایک دوسرے کے الٹ (یعنی ایک طرف کا ہاتھ دوسری طرف کا پیر ) کاٹ ڈالوں گا اس کے بعد تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا ۔ ۱۲۵۔(ساحروں نے) کہا( یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے) ہم اپنے پروردگار کی طرف پلٹ جائیں گے ۔ ۱۲۶۔تیرا جو کچھ بھی غصہ ہمارے اوپر ہے وہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ہم نے اپنے پروردگار کی نشانیوں پر جب کہ وہ ہمارے پاس آئیں، ایمان لے آئے، خدایا! ہمارے اوپر صبر (واستقامت ) کو اچھی طرح انڈیل دے، اور ہمیں دنیا سے اس حالت میں اٹھا کہ ہم مسلمان ہوں ( اور زندگی کے آخری لمحوں تک ہمارے ایمان واخلاص کو باقی رکھ) ۔ 1۔ خطبہ :۴-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:113-122
آخر کار حق نے کیسے فتح پائی
ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیه السلام) اور ساحروں کے مقابلے اور آخر میں اس کے نتیجے کے متعلق گفتگو کی گئی ہے، پہلی آیت میں قرآن فرماتا ہے : جادوگر فرعون کے بلانے پر اس کے پاس آئے اور انھوں نے جو سب سے پہلی بات پیش کی وہ یہ تھی کہ اگر ہم کو موسیٰ پر غلبہ حاصل ہوا تو ہم کو معقول صلہ ملے گا (وجَاءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوا إِنَّ لَنَا لَاٴَجْرًا إِنْ کُنَّا نَحْنُ الْغَالِبِینَ ) ۔ اگرچہ لفظ ”اجر“ کے معنی ہر قسم کی پاداشت اور معاوضے کے ہیں وہ کم ہو یا زیادہ لیکن چونکہ یہاں پر ”اجر“” نکرہ “کے ساتھ آیاہے اس لئے اس کے معنی زیادتی اور اہمیت کے ہیں، خصوصاً یہ کہ ان کو اجر ملنا تو یقینی تھا لہٰذا جس چیز کا ان کو فرعون سے پہلے سے وعدہ لینا مقصود تھا وہ اہم اجر اور زیادہ معاوضہ لینے کامسئلہ تھا فرعون نے بھی بغیر کسی توقف کے ان کی بات مان لی اور کہا: تم کو نہ صرف یہ کہ اہم اجر اور خاطر خواہ معاوضہ ملے گا بلکہ تم میرے دربارکے مقرب لوگوں میں سے ہوجاؤ گے ( قَالَ نَعَمْ وَإِنَّکُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِینَ ) ۔ اس طرح فرعون نے ان کو ”مال وزر“ کا بھی وعدہ دیا، اور ”بڑے منصب “ کی بھی بات کی، آیت کی اس تعبیر سے پتہ چلتا ہے کہ فرعون کے دربار میں تقرب حاصل کرنا مال و ثروت سے بھی اہم بات تھی اور یہ ایک معنوی درجہ شمار ہوتا تھا گویا جو بھی اس پر فائز ہوگیا دولت اس کے پاؤں چومنے لگتی تھی ۔ آخر کار حضرت موسیٰ (علیه السلام) اور جادوگروں کے کے مقابلہ کے لئے ایک دن طے پایا، جیسا کہ سورہ ”طہ“ اور شعراء دونوں میں آیا ہے، اس مقابلے کو دیکھنے کے لئے تمام لوگوں کو دعوت عام دی گئی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کو اپنی کامیابی کا پورا یقین تھا ۔ روز معین آیا، تمام جادوگر اپنے سازوسامان سے لیس ہوکر پہنچ گئے، وہ اپنے ہمراہ بہت سی رسیاں اور لاٹھیاں بھی لائے جن کے اندر کیمیاوی مادے بھر ہوئے تھے ، جن پر اگرآفتاب کی حرارت پڑے تو ان میں حرکت پیدا ہوتی ہے ۔ یہ ایک عجیب منظر تھا کیوں کہ اتنے بڑے انبوہ کے مقابلے میں صرف حضرت موسیٰ (علیه السلام) اپنے بھائی ہارون (علیه السلام) کے ساتھ حاضر تھے اور ان کے ساتھ سوائے خدا کے کوئی بھی نہ تھا ۔ ساحروںنے ایک خاص غرور کے ساتھ موسیٰ (علیه السلام) سے کہا: یا تو تم پہل کرو اور اپنا عصا پھینکو یا ہم آغاز کرتے ہیں، اور اپنے وسائل پھینکتے ہیں ( قَالُوا یَامُوسیٰ إِمَّا اٴَنْ تُلْقِیَ وَإِمَّا اٴَنْ نَکُونَ نَحْنُ الْمُلْقِینَ ) ۔ حضرت موسیٰ (علیه السلام) نے بڑے سکون کے ساتھ جواب دیا: تم شروع کرو اور اپنے وسائل پھینکو(قَالَ اٴَلْقُوا) ۔ ”جس وقت ان جادوگروں نے اپنی اپنی رسیوں کو میدان میں پھینکا، تو انھوں نے لوگوں کی نظر بندی کردی اور اپنے اعمال اور مبالغہ آمیز اقوال سے لوگوں کے دلوں میں خوف و وحشت پیدا کردی اور ایک بڑے جادو کا تماشہ ان کو دکھایا“ (فَلَمَّا اٴَلْقَوْا سَحَرُوا اٴَعْیُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْھَبُوھُمْ وَجَائُوا بِسِحْرٍ عَظِیمٍ ) ۔ جیسا کہ ہم تفسیر نمونہ کی جلد اول آیت ۱۰۲ کے ذیل میں بیان کرآئے ہیں”سحر“ کے معنی اصل میں دھوکا، نیرنگ، شعبدہ اور ہاتھ کی صفائی کے ہیں اور کبھی یہ لفظ ہر اس چیز کے لئے آتا ہے جس کا سبب نامرئی ومرموزہو ۔ بنابریں اس لفظ کے ذیل میں وہ تمام افراد آجائیں گے جو ہاتھ کی صفائی، ہاتھ کی تیز حرکات اور مہارت کے ذریعے چیزوں کو اس طرح ادھر ادھر کردیتے ہیں کہ ایک خارق عادت کام معلوم ہوتا ہے، نیز وہ لوگ بھی اس میں داخل ہوجائیں گے جو کیمیکل کے ذریعے یا فزکس کے قوانین کے ذریعہ لوگوں کو عجیب طرح کے کھیل تماشے دکھلائیں، ان سب کو ”ساحر“ کہا جائے گا ۔ اس کے علاوہ جادوگروںکا ایک شیوہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی وہ اپنی زبان سے بھی کچھ ایسے کلمات کہتے جاتے ہیں جن کا اثر لوگوں کے ذہنوں پر نفسیاتی حیثیت سے پڑتا ہے وہ کلمات ایسے وحشتناک اور ہولناک ہوتے ہیں جو حاضرین کے دلوں پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں جادوگر جس خارق عادت امر کا تماشہ دکھانا چاہتا ہے اس کے لئے ایک طرح سے ذہن ہموار ہوجاتی ہے، اس سورة میں نیز دیگر سورتوں میں جو آیات وارد ہوئی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان جادوگروں نے اس روزان تمام وسائل سحر سے کام لیا تھا، یہ جملہ ”سحروآاعین الناس“(لوگوں کی نظر بندی کردی)، یا یہ جملہ ”استرھبوھم“(لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا کردیا )یا دوسری تعبیرات جو سورہٴ طہ اور شعراء ،میں آئی ہیں اس امر کی شاہد ہیں ۔(۱) ۱۔ حقیقت سحر کی مزید توضیح کے لئے تفسیر نمونہ کی جلد اول(صفحہ ۲۸۵تا صفحہ ۲۸۹ اردوترجمہ )ملاحظہ ہو ۔