فَلَآ أُقۡسِمُ بِمَا تُبۡصِرُونَ
I swear by what you see
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 69:38
[Pooya/Ali Commentary 69:38] Falsehood in the long run is always laid open and exposed, then it disappears, letting truth to reign supreme. Allah's word is the truth. His entire creation visible to man verifies this truth. Those who possess power of rational thinking and contemplate on the order and harmony maintained in the universe by the laws made by Allah never deny or belie the word of Allah conveyed to mankind by the Holy Prophet as poetry, folklore or a soothsayer's prophecy. Only the ignorant think that the Quran is a fabricated book composed by the Holy Prophet. The Quran is the word of Allah sent down to mankind through the honoured prophet. See commentary of Qalam: 2 to 5. Those who are chosen and commissioned by Allah convey only that which they are commanded to convey. An impostor cannot carry out his fraud indefinitely. He is bound to be found out soon but a chosen prophet of Allah, however much he is persecuted, opposed and belied, gain more and more recognition from the men of understanding every day, as did the Holy Prophet whose truth, sincerity and wisdom, by the will of Allah, were recognised as his life progressed. The protection which the Holy Prophet received from Allah in circumstances of danger and difficulty, insurmountable from every material points of view, would not be available to an impostor. The message of Allah is glad tidings for those who believe in Him and His prophet and follow their laws, but in the case of the unjust it is a cause of sorrow, because it denounces sin and punishes the sinners. Allah who knows the seen and the unseen proclaims that the Quran revealed to the Holy Prophet is the truth of assured certainty (haqqul yaqin), which can never be disproved. Truth as understood by man by the application of his power of judgement and appraisement of visible evidence through reasoning or inference is called ilmul yaqin. If he sees something with his own eyes, described as "seeing is believing", it is called Ayn ul yaqin which sometimes terminates in delusion or deception. The absolute truth is the haqqul yaqin mentioned here. As Allah has given us this absolute truth through the Holy Prophet, we must understand it, follow it and be grateful to Him and His messenger, the Holy Prophet. We must celebrate His praises in thought, word and deed.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 69:38-52
Truth can hardly be expected to adopt herself to the crooked policy and wily sinuosities of worldly affairs, for truth, like light, travels straight. Truth lies in character. Much of the glory and sublimity of truth is connected with its mystery. To understand everything we must be as God, Who is inaccessible. He, therefore, created Divine Lights, taught them and made them His trustee. To make us alike Him, enjoined upon us their love and following. Feligious Truth touch what points of it you will, has always to do with Being and Government of God and is, of course, illimitable in its reach. If a thousand old beliefs were ruined in our march of Trugh, we must still march on. It is the special p rivilege of truth always to go on candid minds. (See previous reference p. 255, Set Three).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 69:38-43
یہ قرآن یقینا خدا کاکلام ہے
ان مباحث کے بعد جوگذشتہ آیات میں قیامت اورمومنین وکُفّار کی سر نوشت کے بارے میں بیان ہُوئے تھے ،ان آیات میں قرآن مجید اور نبوّت کے بارے میں ایک فصیح وبلیغ بحث کرتاہے ، تاکہ نبوّة اور معاد کی بحث ایک دوسرے کی تکمیل کریں ۔ پہلے فرماتاہے : قسم کھاتاہوں میں اس کی جسے تم دیکھتے ہو (فَلا أُقْسِمُ بِما تُبْصِرُونَ) ۔ اور اس کی جسے تم نہیں دیکھتے (وَ ما لا تُبْصِرُونَ) ۔ مشہور یہ ہے کہ لفظ لااس قسم کے موار د میں زائدہ اور تاکید کے لیے ہوتاہے .لیکن بعض نے کہا ہے کہ لا یہاں بھی نفی کے معنی میں دیتاہے.یعنی میں ان کی قسم نہیں کھاتا، کیونکہ اولاً اس قسم کی ضر ورت نہیں اور ثانیاً ،قسم خداکے نام کی ہونا چاہیے . لیکن یہ قول ضعیف ہے اورمُناسب وہی پہلا معنی ہے،کیونکہ قرآن مجید میں خُدا کے نام اورغیر خداکے نام کی قسمیں بہت زیادہ ہیں۔ ما تُبْصِرُون وَ ما لا تُبْصِرُون کا جملہ ایک وسیع مفہوم رکھتاہے جوان تمام چیزوں کوجنہیں انسان دیکھتے ہیں اور نہیں دیکھتے ،گھیرلیتا ہے،دُوسرے لفظوں میں یہ سارے عالمِ شہود اور غیبکوشامل ہے۔ ان دوآ یات کی تفسیر میں دیگر احتمال بھی دیئے گئے ہیں.منجملہ ان کے یہ ہے : ما تُبْصِرُون سے مراد عالمِ خلقت ہے اور وَ ما لا تُبْصِرُون سے مُراد خالق ہے ، یا یہ کہ اس سے مُراد ظاہر ی اور باطنی نعمتیں : یاانسان اور فرشتے ،یااجسام و ارواح : یادُنیا وآخرت ہے ۔ لیکن جیساکہ ہم نے اشارہ ان دو نوں تعبیروں کے مفہوم کی وسعت اس کے معنی کومحد ود کرنے سے مانع ہے .اس بناء پر افقِ نگاہ میں جوکچھ آتا وہ سب اس سو گندوقسم میں داخل ہے لیکن اس کاشمول خدا کی نسبت بعید نظر آتاہے ،کیونکہ خالق کومخلوق کے ساتھ قر ار دینا مناسب نہیں ہے ، خصوصاً ما کی تعبیر کے ساتھ جوعام طورپر غیر ذوی العقول کے لیے آتی ہے ۔ ضمنی طورپر اس تعبیر سے اچھی طرح معلوم ہوجاتاہے کہ جوکچھ انسان آنکھ سے نہیں دیکھتا وہ بہت کچھ ہے . موجودہ علم و دانش نے اس حقیقت کوثابت کردیاہے کہ محسوسات ،موجودات کے ایک محدو د دائر ے کوہی شامل ہوتے ہیں اور جوکچھ افقِ حس میں نہیں آ تا، چاہے وہ رنگ ہوں یا آواز یں ذائقے ہوں یاامواج وغیرہ ،وہ کئی درجے زیادہ ہیں ۔ وہ ستارے ج کرّ ۂ ارض کے دونوں آدھے حصّوں کے مجموعہ میں آنکھ سے دکھائی دیتے ہیں ، ماہرین کے حساب کے مطابق تقریباً پانچ ہزار ستارے ہیں جبکہ وہ ستارے جوآنکھ سے دیکھے نہیں جاتے وہ اربوں کھربوں سے بھی زیادہ ہیں ۔ و ہ صوتی امواج (آوازکی لہریں)جن کا ادراک کرنے پرانسان کے کان قُدرت رکھتے ہیں بہت ہی محدُودلہریں ہیں جبکہ ہزار ہا دوسری ایسی صوتی لہر یں موجُود ہیں کہ جن کے سننے کی انسانی کان قدرت نہیں رکھتے ۔ وہ رنگ جنہیں ہم دیکھ سکتے ہیں سات مشہور رنگ ہیںلیکن آج یہ ثابت ہوچکاہے کہ بنفسی اور قرمزی رنگوں کے علاوہ بے شمار دُوسرے ایسے رنگ ہیں کہ جن کے مشاہدے کی ہمارے آنکھ میںبالکل ہی قدرت نہیں ہے ۔ ان چھوٹے چھوٹے جانداروں کی تعداد جوآنکھ سے دیکھے نہیں جاسکتے اس قدر زیادہ ہے کہ اس نے تمام دُنیا کوپُر کر رکھا ہے ،بعض اوقات وہ پانی کے ایک قطرے میں لاکھوں کی تعداد میں موجود ہو تے ہیں . اِس حال میں یہ بات کِتنی دردناک ہے کہ ہم اپنے آپ کو محسوسات کے زندان میں قید کرلیں اورمحسوسات کی دنیا کے باہر سے بے خبر ہوجائیں یااس کاانکار کردیں؟ عالمِ ارواح ایک ایساعلم ہے جو د لائلِ عقلی بلکہ تجرباتی دلائل سے بھی ثابت ہوچکاہے .وہ عالم ہمارے عالم ِ جسم سے کہیں زیادہ وسعت رکھتاہے .ایسی حالت میں محسوسات کی چار دیواری میں کس طرح قید رہا جاسکتاہے ؟ اِ س کے بعدوالی آ یہ میں اس عظیم و بے نظیر سوگند وقسم کے نتیجہ اورجواب کوذکر کرتے ہُوئے فرماتاہے : یہ قرآن ایک بزرگوار رسُول کی گفت گُو ہے (انَّہُ لَقَوْلُ رَسُولٍ کَریمٍ ) ۔ رسُول سے مُراد یہاں بلاشک وشبہ اسلام کے پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ہیں نہ کہ جبریل ،کیونکہ بعد والی آ یات وضاحت کے ساتھ اس معنی کی گواہی دیتی ہیں ۔ اورع یہ جو کہتاہے کہ یہ ایک بزرگوار رسُول کی گفتگو ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن اللہ کاکلام ہے .اس کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اس کی تبلیغ کرنے والے ہیں، خصوصاً جبکہ ان کی رسالت کے وصف کاذکر ہواہے جیساکہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ رسُول جوکچھ لاتاہے وہ بھیجنے والے کی بات ہوتی ہے ،اگرچہ وہ رسُول کی زبان سے جاری اوراس کے لب ہائے مُبارک سے سُنا جاتاہے ۔ اِس کے بعد مز ید کہتاہے : یہ کسِی شاعر کاقول نہیں ہے .لیکن تم بہت کم ایمان لاتے ہو (وَ ما ہُوَ بِقَوْلِ شاعِرٍ قَلیلاً ما تُؤْمِنُون)(١) ۔ اور یہ کسی کاہن کاقول بھی ہے ، اگرچہ تم بہُت ہی کم متند کر ہوتے (وَ لا بِقَوْلِ کاہِنٍ قَلیلاً ما تَذَکَّرُون) ۔ حقیقت میںیہ دونوں آ یات ان نا روانسبتوں کی نفی ہیں ، جو مشرکین اورمخالفین ذاتِ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی طرف دیتے تھے .کبھی کہتے تھے کہ وہ شاعر ہے اور یہ آیات اس کے اشعار ہیں، کبھی کہتے کہ وہ کاہن ہے اور یہ آیات اس کی کہانت ہیں کیونکہ کاہن ایسے لوگ ہوتے تھے جوبعض اوقات جنّ یاشیا طین سے ارتباط کی بناء پر غیب کے بعض اسرار بیان کیا کرتے . اورخصوصیت کے ساتھ اپنے الفاظ کی مسجّع اور موزوں جملہ بندی کے ساتھ پیش کرتے تھے ،چونکہ قرآن میں غیب کے اخبار بھی ہیں اورمخصوص نظم وترتیب بھی ہے ،لہٰذا وہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ تہمت لگاتے تھے ، حالانکہ کہانت اور قرآن کے درمیان زمین وآ سمان کافرق ہے ۔ بعض نے ان آیات کے شان ِنزُول میں نقل کیاہے کہ جس شخص نے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی طرف شعرو شاعر ی کی نسبت دی وہ ابوجہل تھااور کہانت کی نسبت دینے والا عقبہ یا عتبہ تھااور دُوسرے لوگ ان کی پیروی کرتے ہُوئے ان تہمتوں کی تکرارکرتے تھے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ قرآن کے الفاظ میں ہم آہنگی اورایسی خوبصورت موزونیّت ہے ،جو کانوں کوبھلی لگتی ہے اوررُوح کوسکون بخشتی ہے .لیکن یہ چیز نہ توشاعروں کے شعر سے کوئی ربط رکھتی ہے اور نہ ہی کاہنوں کے سجع وقوانی سے اس کاواسط ہے ۔ شعر عام طورپر تخیلاکی پیدا وار اور بر افرو ختہ احساسات و عاطفی ہیجانات کو بیان کرنے والے ہوتے ہیں .اسی وجہ سے ان میں نشیب و فراز اوراُٹھنے اور گرنے کاعمل زیادہ ہوتاہے ،جبکہ قرآن زیبائی اورجاذبیّت کے باوجُود،کامل طورپر استد لال ،منطقی اورعضلاتی مضامین کاحامل ہے .اگربعض اوقات یہ آ ئندہ کی پیش گو ئیاں کرتاہے تو یہ پیش گوئیاں قرآن کی اصلیّت نہیں ہیں ، نیز یہ کاہنوں کی خبروں کے برخلاف سب کی سب سچّی ہو تی ہیں ۔ ما تُؤْمِنُون اور قَلیلاً ما تَذَکَّرُونَ کے جملے ایسے افراد کی توبیخ وسرزنش کے لیے ہیں جواس آسمانی وحی کوواضح نشانیوں کے ساتھ دیکھتے ہیں،لیکن کبھی اسے شعرقرار دیتے ہیں اور کبھی کہانت اور بہت کم ایمان لاتے ہیں ۔ آخری زیربحث آیت میں تاکید کے عنوان سے صراحت کے ساتھ کہتاہے : یہ قرآن عالمین کے پروردگار کی طرف سے نازل ہُواہے (تَنْزیل مِنْ رَبِّ الْعالَمینَ )(٢) ۔ اِس بناء پر قرآن نہ شعر ہے نہ کہانت ، نہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے ذہن کی پیدا وار اور نہ ہی جبریل کاکلام ہے ، بلکہ وہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کا کلام ہے جوبیشک وحی کے ذ ریعہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے پاک دل پر نازل ہُو اہے ،یہی تعبیر تھوڑ ے سے فرق کے ساتھ قرآن مجید میں گیارہ مقامات پر آ ئی ہے ۔ ١۔ قلیلاً اس آ یت اوراس کے بعد والی آ یت میں ایک محذوف "" مفعول مطلق "" کی صفت ہے اور"" ما"" زائد ہے تقدیر میں اس طرح ہے : ( تؤ منون ایماناً قلیلاً ) ۔ ٢۔تنز یل مصدر ہے ،اسم مفعول کے معنی میں اورایک محذوف مبتداء کی خبرہے ،تقدیر میں اس طرح ہے "" ھو منزل من رب العالمین ""۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 69:38-43
سوره حاقه/ آیه 38- 43
٣٨۔فَلا أُقْسِمُ بِما تُبْصِرُونَ ۔ ٣٩۔وَ ما لا تُبْصِرُونَ ۔ ٤٠۔ِنَّہُ لَقَوْلُ رَسُولٍ کَریمٍ ۔ ٤١۔وَ ما ہُوَ بِقَوْلِ شاعِرٍ قَلیلاً ما تُؤْمِنُونَ ۔ ٤٢۔وَ لا بِقَوْلِ کاہِنٍ قَلیلاً ما تَذَکَّرُونَ ۔ ٤٣۔تَنْزیل مِنْ رَبِّ الْعالَمینَ ۔ ترجمہ ٣٨۔ قسم کھاتاہوں میں اس کی جسے تم دیکھ رہے ہو ۔ ٣٩۔ اور اس کی جسے تم نہیں دیکھتے ۔ ٤٠۔ کہ یہ قرآن ،ایک بزرگوار رسُول کی زبان سے نکلا ہو اکلام ہے ۔ ٤١۔ اوریہ کسی شاعر کاقول نہیں ہے ،لیکن تم بہت کم ایمان لاتے ہو ۔ ٤٢۔ اور نہ ہی یہ کسِی کاہن کاقول ہے .لیکن تم بہت ہی کم متذ کرہوتے ہو ۔ ٤٣۔ (بلکہ یہ وہ کلام ہے جو ) عالمین کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے ۔