وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يَالَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ
But as for him who is given his book in his left hand, he will say, ‘I wish I had not been given my book,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 69:25
[Pooya/Ali Commentary 69:25] The unjust, whose record will be in their left hand, will be in terrible agony when they would recall their past. Their memory would itself be a grievous punishment. The death is but a transition into a new world. Refer to the commentary of Mulk: 2. They would wish that "that death" should have been the end of all things, but it will not be. The effects of sinning punish the sinner in his own lifetime. He loses his spiritual liberty, and becomes a slave to passion, prejudice, envy, hatred and all types of evil. He runs after his own lusts and worship them, ignoring Allah who is the source and cause of all good. Not only do they not help those in need, but hinder others from doing so. They will neither have friend nor help in the hereafter. They will have only pus of corruption and injustice, they had spread and perpetrated in the earth, to feed themselves. Aqa Mahdi Puya says: It is the tendency of evil-doers that when they suffer the consequences of their evil deeds, they curse the circumstances and canvassers through whom they came to know about evil. The consequences of sin grow and extend and become a long chain that holds the sinner in abject disgrace. Seventy, as seven in Baqarah: 29 (see its commentary), implies an indefinitely large number. Also refer to the commentary of Hijr: 44. Number seven has been referred to in the Quran at many places.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 69:25-29
سوره حاقه/ آیه 25- 29
٢٥۔وَ أَمَّا مَنْ أُوتِیَ کِتابَہُ بِشِمالِہِ فَیَقُولُ یا لَیْتَنی لَمْ أُوتَ کِتابِیَہْ ۔ ٢٦۔ وَ لَمْ أَدْرِ ما حِسابِیَہْ ۔ ٢٧۔یا لَیْتَہا کانَتِ الْقاضِیَةَ ۔ ٢٨۔ما أَغْنی عَنِّی مالِیَہْ ۔ ٢٩۔ ہَلَکَ عَنِّی سُلْطانِیَہْ ۔ ترجمہ ٢٥۔لیکن وہ شخص جس کانامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیاجائے گاوہ کہے گا:اے کاش میرانامۂ اعمال مجھے ہرگز نہ دیاجاتا۔ ٢٦۔اور میں یہ نہ ہی جانتا کہ میراحساب کیاہے ؟ ٢٧۔اے کاش! مجھے توموت ہی آ جاتی ۔ ٢٨۔میرے مال و دولت نے مجھے ہرگز بے نیاز نہیں کیا۔ ٢٩۔میری قدرت بھی ہاتھ سے نکل گئی ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 69:25-29
چند عبرت انگیز داستانیں
یہاں بہت سے واقعات نقل ہُوئے ہیں جوسب کے سب اوپر والی آ یت کے مضمون پر ایک تاکید ، اوران لوگوں کے لیے ایک درسِ عبرت ہیںجنہوں نے مال و مقام اور منصب پر تکیہ کیااور سر تاپاغرور و غفلت اور گناہ میں آلودہ ہیں، منجملہ : ١: سفینة البحار میں کتاب نصائح سے اس طرح سے نقل ہواہے . خراسان میں جب ہارون الرّ شید کی بیماری شدید ہوگئی تواس نے طوس سے کسِی طبیب کوبُلانے کاحکم دیا .پھر اس نے کہاکہ اس کا پیشاب دوسرے چند بیماروں بیماروں اور کچھ صحیح وسالم افراد کے پیشاب کے ساتھ طبیب کے سامنے پیش کیاجائے . طبیب ان شیشیوں کو یکے بعد دیگر ے دیکھتا جارہاتھا یہاں تک کہ وہ ہارون الرشید کے پیشاب والی شیشی تک پہنچ گیا.چنانچہ یہ جانے بغیر کہ یہ شیشی کِس کی ہے اُس نے کہا:اس شیشی والے سے کہہ دیں دکہ وہ اپنی و صیّت کردے ،کیونکہ اس کی طاقت وقوّت مضمحل ہوچکی ہیں اوراس کی بُنیادیں کھو کھلی ہوچُکی ہیں .ہارون الرشید طبیب کی اس بات کوسُن کراپنی زندگی سے مایوس ہوگیا، اور یہ اشعار پڑھنا شروع کردیئے ۔ ان الطبیب بطبہ و دوانہ لا یستطیع دفاع نحب قدأ تی ماللطبیب یموت بالداء الذی قد کان یبرء مثلہ فیما مضی طبیب اپنی طبابت اور دوائوں کے ذریعے اس موت کا دفاع کرنے کی قدرت نہیں رکھتاجوآپہنچی ہے ۔ اگروہ یہ قدرت رکھتا ہوتا تو پھر وہ خوداُسی بیماری سے کیوں مرتا کہ جس کاوہ پہلے عِلاج کیاکرتاتھا ۔ اسی اثناء میں اُسے خبرملی کہ لوگوں نے اس کی موت کی خبر پھیلا دی ہے .اس شہر ت کوختم کرنے کے لیے اس نے ایک سواری لانے کاحکم دیااورکہا کہ مجھے اِس پرسوار کردو ،لیکن اچانک اس جانورکا زانو کمزور ہوگیا . تب اس نے کہا : مجھے سواری سے اُتاردو کیونکہ اس خبر کواُڑانے والے سچ کہتے ہیں اس کے بعد اس نے وصیّت کی کہ اس کے لیے کئی کفن لائے جائیں ،ان میں سے اس نے ایک کوپسند کرکے رکھ لیا اور کہا میرے بستر کے قریب ہی میری قبرتیّار کرو .پھراس نے قبر کی طرف دیکھااوران آیات کی تلاوت کی : مااغنٰی عنی مالیہ ھلک عنی سلطا نیہاور اسی دن دنیا سے رخصت ہوگیا ( ۱) ۔ ۱۔سفینة البحار ، جلد اول ،صفحہ ٥٢٣ مادہ رشد ۔ ٢: اسی کتاب میں عالمِ بزر گوار شیخ بہائی سے بھی اسی طرح نقل ہُوا ہے : ایک شخص جس کانام توبہ تھااور غالباً وہ اپنے نفس کامحاسبہ کرتارہتاتھا ،ایک دن اس نے اپنی گزری ہوئی عمر کاحساب لگایا تووہ ٢١٥٠٠ دن تھے .تب اس نے کہا:وائے ہومجھ پر ! اگر مین نے ہردن کے مقابلہ میں صرف ایک ہی گناہ کیاہو تووہ بھیاکیس ہزار سے زیادہ بنتے ہیں .توکیا میں خداسے اکیس ہزار گناہوں کے ساتھ ملا قات کروں گا،اسی وقت اس نے ایک چیخ مری ،زمین پرگِر پڑا اورجان جان ِ آفریں کے سپرد کردی ( ۱) ۔ ۱۔ سفینة البحار ،جلد اول ،صفحہ ٤٨٨ ،مادہ ذنب ( اقتباس کے ساتھ ) ۔ ٣: ثعالبی کی کتاب یتیمہ میں اِس طرح آ یاہے : جب عضد ا لدو لہ کی موت کاوقت آن پہنچا تواس کی زبان سے سوائے اس آ یت کی تلاوت کے کچھ نہ نکلتاتھا : مااغنٰی عنی مالیہ ھلک عنی سلطا نیہ میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا اورمیر ی سلطنت بھی بر باد ہوگئی ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 69:25-29
اے کاش مجھے موت اٰجاتی
گذشتہ آ یات میں گفتگو اصحاب الیمین اوران مومنین کے بارے میں تھی کہ جن کانامۂ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیاجائے گا .وہ فخر یہ اہل محشر کو پکاریں گے اورانہیں اپنے اعمال کوپڑھنے کی دعوت دیں گے ،اس کے بعدبہشت جاو داں میںپہنچ جائیں گے لیکن زیربحث آ یات ٹھیک ان کے نقطۂ مقابل یعنی اصحابِ شمال کوپیش کرتی ہیں اورایک موازنہ میں ان دونوں کی کیفیّت کو کامل طورپر واضح کردیتی ہیں .پہلے فرماتاہے : لیکن جِس کانامۂ اعمال اس کے بانیں ہاتھ میں دیاجائے گا ،وہ کہے گا : اے کاش میر انامۂ اعمال کبھی بھی مجھے نہ دیاجاتا (وَ أَمَّا مَنْ أُوتِیَ کِتابَہُ بِشِمالِہِ فَیَقُولُ یا لَیْتَنی لَمْ أُوتَ کِتابِیَہْ)(١)۔ اور اے کاش ! میں اپنے حساب کتاب سے ہرگز خبردار نہ ہواہوتا (وَ لَمْ أَدْرِ ما حِسابِیَہْ ) ۔ اور اے کاش مجھے موت آجاتی جومیری اس حسرت ناک زندگی کوختم کردیتی (یا لَیْتَہا کانَتِ الْقاضِیَةَ )(٢) ۔ ہاں !اس عظیم عدالت میں ، اس یوم البروز اور یوم الظہور میں جب اپنے تمام قبیح اعمال کوبرملا دیکھے گا تواس کی فریاد بلند ہوگی .وہ دل سے پے درپے آہِ سوزاں کھینچے گا . ایسی آہ جوحسرت بار ہوگی اورایسا نالہ جو شرر بار ہوگا .وہ یہ آ رزو کرے گا کہ اس کا اپنے ماضی سے کلّی طورپر رابط ختم ہوجائے ،وہ خدا سے موت و نابودی اوراس عظیم رُسوائی سے نجات کی آرزو کرے گا ، جیساکہ سورة نباء کی آ یت ٤٠ میں بھی آ یاہے : (وَ یَقُولُ الْکافِرُ یا لَیْتَنی کُنْتُ تُرابا) کافر اس دن یہ کہے گا ،اے کاش ! میں مٹی ہوتا اور ہرگز انسان نہ بنتا ۔ یا لَیْتَہا کانَتِ الْقاضِیَةَ کے جملہ کی اورتفاسیر بھی بیان کی گئی ہیں . منجملہ ان کے یہ ہے کہ قاضیة سے مراد پہلی موت ہے ،یعنی اے کاش ! جب ہم دنیامیں مرہی گئے تھے توپھروہ دوبارہ زندہ نہ ہوتے .یہ اس حالت میں ہے کہ دنیامیں کوئی چیز اس کی نظر میں موت سے زیادہ ناخوش آئند نہیں تھی ،لیکن قیامت میں آ رزوو کرے گا ،اے کاش وہ موت ہی بر قرار رہتی ۔ بعض نے اسے صُور کے پہلے نفخہ کے بارے میں سمجھاہے ،جسے قارعة سے بھی تعبیر کیاگیا ہے .یعنی اے کاش! دوسرا نفخہ واقع ہی نہ ہوتا ۔ لیکن وہ تفسیر جوہم نے ابتداء میں بیان کی ہے سب سے زیادہ مناسب ہے ۔ اس کے بعد مزید کہتاہے : یہ گنہگار مجرم اورعتراف کرتے ہُوئے کہے گا:میرے مال و دولت نے مجھے ہرگز بے نیاز نہیں کیا ، اور آج کی مصیبت میںجو میر ی بیچار گی کادن ہے ، میر ے کچھ کام نہ آیا (ما أَغْنی عَنِّی مالِیَہْ) ۔ نہ صرف میرے مال ودولت نے مجھے بے نیاز نہیں کیا اور میری کسِی مُشکل کو حل نہیں کیا ، بلکہ میر ی قدرت و سلطنت بھی نابود ہوگئی اورہاتھ سے چلی گئی (ہَلَکَ عَنِّی سُلْطانِیَہْ ) ۔ خلاصہ یہ ہے کہ نہ تومال ہی کام آ یااور نہ ہی مقام ومنصب ،آج خالی ہاتھ ،انتہائی ذلّت و شر مساری کے ساتھ داد گاہِ عدلِ الہٰی میں حاضر ہوں ،نجات کے تمام اسباب منقطع ہوگئے ہیں، میری طاقت و قدرت برباد ہوگئی ہے اورمیری اُمید ہرجگہ سے ختم ہوچکی ہے ۔ بعض نے یہاں سلطان کودلیل وبُرہان کے معنی میں سمجھاہے جوانسان کی کامیابی کاسبب ہوتاہے .یعنی آج میر ے پاس کوئی ایسی دلیل اور حجّت نہیں ہے جس کے ذ ریعے میں بارگاہِ خدامیں اپنے اعمال کی تو جیہہ کرسکوں۔ بعض مفسّرین نے یہ بھی کہا ہے یہاں سلطان سے مُراد سلط وحکومت نہیں ہے ،کیونکہ وہ سب لوگ جودوزخ میں وارد ہوں گے کسِی مُلک کے بادشاہ یاکچھ شہروں کے امیر تونہیں تھے بلکہ اس سے مُراد انسان کااپنے نفس اوراپنی زندگی پر تسلّط ہے . لیکن اس بات کی طرف توجّہ کرتے ہُوئے کہ بہت سے دوزخی اس جہان میں تسلّط و نفوذ رکھتے تھے یاوہ سردار اور امیر کبیر لوگ تھے،لہٰذا یہ صحیح نظر آ تاہے ۔ ١۔کتابیہ اوراسی طرح حسابیہ و ما لیہ وسلطا نیہ میں ھا جوبعد میں آ یات میں آئے گا ھاء سکت،استراحت ہے . نیز جیساکہ ہم بیان کرچکے ہیں آس طرح کاکوئی خاص معنی نہیں ہے بلکہ یہ اس قسم کے کلمات میں ایک خوبصورت وقف شمار ہوتاہے .یہ ان اشخا ص کے حالات اور نفس کی کیفیّت کے ساتھ ایک قسم کی مناسبت رکھتاہے ،جویہ بات کریں گے ۔ ٢۔ کانَتِ الْقاضِیَة کے جملہ میں ایک محذوف ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے ( کانت ھذہ الحالة القاضیہ)۔ ١۔کتابیہ اوراسی طرح حسابیہ و ما لیہ وسلطا نیہ میں "" ھا"" جوبعد میں آ یات میں آئے گا ھاء سکت،استراحت ہے . نیز جیساکہ ہم بیان کرچکے ہیں آس طرح کاکوئی خاص معنی نہیں ہے بلکہ یہ اس قسم کے کلمات میں ایک خوبصورت وقف شمار ہوتاہے .یہ ان اشخا ص کے حالات اور نفس کی کیفیّت کے ساتھ ایک قسم کی مناسبت رکھتاہے ،جویہ بات کریں گے ۔ ٢۔ "" کانَتِ الْقاضِیَة"" کے جملہ میں ایک محذوف ہے اور "" تقدیر "" میں اس طرح ہے ( کانت ھذہ الحالة القاضیہ)۔