الْحَاقَّةُ
The Besieger!
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 69:1
[Pooya/Ali Commentary 69:1] Al Haqqah: the inevitable, which shall surely come to pass; the state in which all falsehood and presence will vanish, and the absolute truth will be laid bare-the day of resurrection.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 69:1-37
If Judgment Day is remembered every day with misfortunes in fornt of the reader, he will confirm his faith in God, avoid disobeying Him and the Prophets (Divine Lights) and will begin to detest the world and its frail, power and pelf which will be of no use to him except which he sends ahead in his lifetime, inthe name of God, purely to win His Will.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 69:1-8
سرکشی کرنے والی قوم کے لیے سرکش عذاب
سرکشی کرنے والی قوم کے لیے سرکش عذاب یہ سورة مسئلہ قیامت سے اور وہ بھی ایک نئے عُنوان کے ساتھ شروع ہوتا ، فرماتاہے : وہ تحقق پانے والا دن (الْحَاقَّةُ) ۔ وہ تحقق پانے والا دن کیاہے ( مَا الْحَاقَّةُ )(١) ۔ اور تجھے کیا معلوم کہ وہ تحقق پانے والا دن کیاہے ؟ (وَ ما أَدْراکَ مَا الْحَاقَّةُ ) ۔ تقریباً تمام مفسّرین نے حاقة کی قیامت کے دن کے معنی میں تفسیر کی ہے .کیونکہ وہ ایک ایسادن ہے جوقطعی اور یقینی طورپر واقع ہوگا ، جیساکہ سورہ واقعہ میں الواقعة کی تعبیر ہے ، یہی تعبیر اسی سورہ کی آ یت ١٦ میں بھی آ ئی مالحاقة کی تعبیر ،اس دن کی عظمت کے بیان کے لیے ہے ، ٹھیک اسی طرح جیساکہ ہم روز مرّہ کی تعبیر وں میں کہتے ہیں : فلاں شخص انسان ہے ،کیاہی انسان ہے : یعنی اس کی انسانیّت کی تعریف وتوصیف کے لیے کوئی حد نہیں ہے (یعنی بہت اچھا انسان ہے ) ۔ مااد رٰک ماالحاقة کی تعبیر دوبارہ اس عظیم دن کے حوادث کوعظمت پرمزید تاکید ہے .یہاں تک کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب ہوتاہے کہ تو نہیں جانتا وہ دن کِس قسم کا ہے ؟ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ قیامت کے حقائق کودرک کرناہم دنیا وی زنداں کے قید یوں کے لیے امکان پذیر نہیں ہے ، جیسا کہ دنیا سے مربُوط مسائل کادرک کرنا شکمِ مادر کے جنین کے لیے کسِی بھی بیان سے میّسر نہیں ہے ( ٢) ۔ ایک اور احتمالی جوان آیات کی تفسیر میں ہے ، اگرچہ بہت کم مفسّرین نے اسے قبول کیاہے ، یہ ہے کہ الحاقة ان عذابوں کی طرف اشارہ ہے جوسرکش ،طاغی ، خودخواہ وخود پسند مجرموں کواچانک اورناگہانی طورپر اس دُنیا میں دامن گیرہوجاتے ہیں جیساکہ بعد والی آ یت میں القارعة بعض مفسّرین کے کلام میں اسی معنی میں استعمال ہُوا ہے .اتفاق کی بات ہے کہ یہی تفسیر آئندہ والی آ یت کے ساتھ جوقوم عاد ،قوم ثمود ،قومِ فرعون اورقومِ لُوط کی سرکو بی کرنے والے عذابوں کے بارے میں گفتگو کررہی ہیں ،زیادہ مناسب نظر آ تی ہیں ۔ تفسیر علی بن ابراہیم میں بھی آ یاہے الحاقة ،الحذر بنزول العذاب جیساکہ ( سورۂ مؤمن کی آیت ٤٥ میں )آلِ فرعون کے بارے میں فرماتاہے : وحاق باٰل ِ فرعون سوء العذاب بُراعذاب ِ آل فرعون پرنازل ہوا ( اوراس نے انہیں گھیر لیا ) ( ٣) ۔ اِس کے بعد ان قوموں کی سرنوشت کوبیان کرتاہے جنہوں نے قیامت کے دن ( یادنیا میں عذاب ِ الہٰی کے نزول ) کاانکار کیا .لہٰذا مزید کہتاہے : قوم عاد وثمود نے خدا کے سر کوبی کرنے والے عذاب کا انکار کیا (کَذَّبَتْ ثَمُودُ وَ عاد بِالْقارِعَةِ) ۔ پس قوم ثمود توسرکش عزاب کے ذ ریعہ ہلا ک ہُوئی (فَأَمَّا ثَمُودُ فَأُہْلِکُوا بِالطَّاغِیَةِ) ۔ ثمود وہ قوم تھی جوحجاز وشام کے درمیان کوہستانی علاقہ میں آ باد تھی . حضرت صالح علیہ السلام ان کی طرف مبعوث ہوئے لیکن وہ ہرگز ایمان نہ لائے اوران سے مبارزہ کے لیے تیار ہوگئے . یہاں تک کہ انہونے حضرت صالح علیہ السلام سے کہا کہ اگر توسچ کہتاہے تووہ عذاب جس کا تو ہمیں وعدہ دیتاہے اسے نازل کردے . اس وقت ایک تباہ کرنے والی بجلی ان پرمُسلّط ہوگئی جس نے چند لمحوں کی اند ر ان کے مضبوط گھروں اور مستحکم محلوں میں لرزہ پیدا کردیا .ان سب کوتہس نہیں کردیا اور ان کے بے جان جسم زمیں پرپڑ ے رہ گئے ۔ قابل ِ توجّہ بات یہ ہے کہ قرآن اس نافر مان قوم کی نابودی کے عامل کوسرکش عذاب شمار کرتاہے الطاغیة اوریہ سرکش عذاب سورہ اعراف کی آیت ٧٨ میں رجعفہ ( زلزلہ ) کے عنوان سے ذکر ہوا .سورہ حٰم سجدہ کی آیت ١٣ میں صا عقة اور سورہ ہود کی آ یت ٦٧ میں صیحة کے نام سے مذکورہ ہے .یہ سب الفاظ حقیقت میں ایک ہی معنی کی طرف لوٹے ہیں ،کیونکہ صاعقہ (بجلی ) ہمیشہ ایک مہیب آ واز کے ساتھ ہوتی ہے (کڑ کتی ہے ) جس جگہ آکر گرتی ہے اس میں لرزہ پیداکر دیتی ہے اوروہ سرکش عذاب بھی ہے ( ٤) ۔ اس کے بعد قوم عاد کی سرنوشت بیان کرتاہے وہ قوم جوسرزمینِ احقا ف ( جز یرہ نمائے عرب یایمن ) میں آ باد تھے ان کے قدو قامت طویل ،بدن قوی ، شہر آباد ، زمینیں سرسبز وشاداب اور ہر ے بھرے باغات تھے .اِن کے پیغمبر حضرت ہود علیہ السلام تھے .ان لوگوں نے بھی اپنے طغیان وسرکشی کواس حدتک پہنچا دیاتھا کہ خدانے ایسے درد ناک عذاب کے ساتھ جس کی تشریح انہیں آ یات میں آ ئی ہے ، ان کی زندگی کے دفتر کولپیٹ دیا. پہلے فرماتاہے : باقی رہی قوم عاد تووہ ایک تیز سرکش ،زناٹے دار ،اونچی آواز والی سرد اورزہر یلی آ ندھی کے ذریعہ ہلاک ہوگئی (وَ أَمَّا عاد فَأُہْلِکُوا بِریحٍ صَرْصَرٍ عاتِیَةٍ) ۔ صرصر (بروزن دفتر) سرد یازناٹے دار آواز والی یازہر یلی ہوائوں کوکہاجاتاہے .مفسرین نے اس کی تفسیر میں یہ تینوں معانی ذکر کیے ہیں ، اوران کے درمیان جمع بھی ممکن ہے ۔ عاتیة عتو ( بروزن غلو) کے مادہ سے سرکش کے معنی میں ہے . البتّہ فرمان ِ خدا سے سرکش نہیں بلکہ معمولی اور سبک رفتار ہوائوں کے معیار سے سرکش ۔ اِس کے بعد اس تیز سرکوبی کرنے والی آ ندھی کی ایک دوسری توصیف کوبیان کرتے ہوئے مزید کہتاہے : خدا نے اس کو اس قوم پر مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن ان کی بنیادیں اکھاڑ نے کے لیے مسلّط کیے رکھا (سَخَّرَہا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیالٍ وَ ثَمانِیَةَ أَیَّامٍ حُسُوماً) ۔ حسوماً حسم ( بروزن اسم ) کے مادہ سے کسِی چیز کے آثار ختم کرنے کے معنی میں ہے .اگر تلوار کو حسّام (بروزن غلام ) کہاجاتاہے . یہاں مراد یہ ہے کہ سخت آندھی نے سات راتوں اور آٹھ دنوں میں اس عظیم قوم کی وسیع اور بارونق زندگی کویکسر تباہ و برباد کیا، اوران کو جڑ سے اکھاڑ کر پراگندہ کردیا( ٥) ۔ نتیجہ وہ ہو ا کہ قرآن کہتاہے : اگرتووہاں ہوتا تومشاہدہ کرتاکہ وہ ساری کی ساری قوم منہ کے بَل گر ی پڑ ی ہے (فَتَرَی الْقَوْمَ فیہا صَرْعی کَأَنَّہُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ خاوِیَةٍ ) ۔ کتنی عمدہ تشبیہ ہے ، جوان کے طویل قدو قامت کو بھی مشخص کرتی ہے ،ان کے جڑ سے اکھڑ جانے کو بھی ظاہر کرتی ہے اور خُدا کے عذاب کے مقابلہ میں ان کے اندر سے خالی ہونے کوبھی بیان کرتی ہے ، اِس طرح کہ وہ تیز آندھی جدھر چاہتی ہے انہیں آ سانی کے ساتھ لے جاتی ہے ۔ خاویة خواء ( بر وزن ہوا ء ) کے مادہ سے اصل میں خالی ہونے کے معنی میں ہے .یہ تعبیر بھوکے شکموں ، ( زمانہ ٔ جاہلیت کے عربوں کے عقیدے کے مطابق) بارش سے خالی ستاروں اور بے مغز اخروٹ کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے ۔ آخری آ یت میں مزید کہتاہے : کیاتم ان میں سے کسی کوباقی دیکھتے ہو (فَہَلْ تَری لَہُمْ مِنْ باقِیَة)(٦) ۔ ہاں !آج نہ صرف قوم عاد کا کوئی نام ونشان باقی نہیں بلکہ ان کے آباد شہر وں اور پُر شکوہ عمارتوں کے کھنڈرات اوران کے سر سبز کھیتوں میں سے کوئی چیز باقی نہیں ہے ۔ قوم ِ عاد کی سر گزشت کے بارے میں ہم تفسیر نمونہ جلد ٩ ،(سورہ ہود کی آیت ٥٨ تا٦٠ اوراسی طرح جلد ٢٠ میں بھی تفصیل کے ساتھ بحث کرچکے ہیں ) ۔ ١۔ اس جملہ کی تر کیب میں کئی احتمال دیئے گئے ہیں جن میں سب سے زیادہ مناسب یہ ہے کہ یہ کہاجائے "" الحاقة "" مبتداء ہے اور مااستفہامیہ دوسرا مبتداء ہے .اس کے بعد والا "" الحاقة "" خبرہے دوسرے مبتداء کی اوران کامجموعہ خبر ہے پہلے مبتداء کی ۔ ٢۔ بعض مفسرین کاکہنا ہے "" ما ادرٰک "" کاجملہ قرآن مین اس جگہ کہاگیاہے جہاں مطلب معلوم اورمسلّم ہے .لیکن "" وما یدریک "" ان موارد میں آ یا ہے جہاں مطلب نامعلوم ہے ( مجمع البیان جلد ١٠ صفحہ ٣٤٣ ) بعض دوسرے مفسّرین مثلاً قرطبی نے بھی اسی معنی کونقل کیاہے ۔ ٣۔ تفسیر علی بن ابرہیم جلد ٢،صفحہ ٣٨٣۔( توجہ رکھیں کہ "" حاقة "" اور"" حاق "" کامادہ ایک ہی ہے ) ۔ ٤۔ قوم ثمود کی سرگزشت تفسیر نمونہ کی جلد ٦ میں تفصیل کے ساتھ آ ئی ہے ۔ ٥۔ توجّہ رہے کہ حسوماً "" سبع لیا ل وثمانیة ایام "" (سات راتیں اور آٹھ دن ) کی صفت ہے اوربعض نے اسے ریح سے حال یا"" مفعول لہ "" سمجھا ہے ۔ ٦۔ باقیة ایک مقد رموصوف کی صفت ہے اور اصل میں "" نفس باقیہ "" ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 69:1-8
سوره حاقه/ آیه 1- 8
سورةُ الحَاقّة بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ ١۔الْحَاقَّةُ ۔ ٢۔ مَا الْحَاقَّةُ ۔ ٣۔وَ ما أَدْراکَ مَا الْحَاقَّةُ ۔ ٤۔ کَذَّبَتْ ثَمُودُ وَ عاد بِالْقارِعَةِ ۔ ٥۔فَأَمَّا ثَمُودُ فَأُہْلِکُوا بِالطَّاغِیَةِ ۔ ٦۔وَ أَمَّا عاد فَأُہْلِکُوا بِریحٍ صَرْصَرٍ عاتِیَةٍ ۔ ٧۔ سَخَّرَہا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیالٍ وَ ثَمانِیَةَ أَیَّامٍ حُسُوماً فَتَرَی الْقَوْمَ فیہا صَرْعی کَأَنَّہُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ خاوِیَةٍ ۔ ٨۔ فَہَلْ تَری لَہُمْ مِنْ باقِیَةٍ ۔ ترجمہ رحمن ورحیم خدا کے نام سے ١۔ وہ دن جو یقینا واقع ہوگا ۔ ٢۔ اور یہ واقع ہونے والا دن کیاہے ؟ ٣۔ اور تجھے کیامعلوم کہ وہ واقع ہونے والا دن کیاہے ؟ ٤۔ قومِ ثمود و عاد نے خدا کے سرکو بی کرنے والے عذاب کاانکار کیا۔ ٥۔ توقومِ ثمود توسرکش عذاب سے ہلاک ہُوئی ۔ ٦۔ اورقوم عاد طغیانی کرنے والی ٹھنڈ ی اور زور دار اورتیز آندھی سے ہلا ک ہوئی ۔ ٧۔ خدانے بُنیاد وں کواُکھاڑنے والی اس تیز آ ندھی کوساتھ راتیں اور آٹھ دنوں تک پے درپے ان پر مُسلّط رکھا ( اور اگر تووہاں ہوتا ) دیکھتا ہے کہ وہ قوم بوسیدہ تنو ں اور کھجُور کے کھوکھلے درختوں کی مانند اس تیز آندھی کے درمیان زمین پرپڑ ی ہے اور ہلاک ہوئی ہے ۔ ٨۔ کیاان میں سے توکسِی کوباقی دیکھتاہے ۔