وَإِن يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ
Indeed the faithless almost devour you with their eyes when they hear this Reminder, and they say, ‘He is indeed crazy.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 68:51
[Pooya/Ali Commentary 68:51] When disbelievers found themselves helpless against the force of the Quran, in the intensity of their hatred, they looked at the Holy Prophet as if they would "eat him up" or trip him up, or disturb him from his position of stability. They used all sorts of terms of abuse in frustration-mad, possessed etcetera-but the true message of Allah prevailed, and it is made an eternal source of guidance to all mankind.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 68:51-52
کیانظر بد کی کوئی حقیقت ہے ؟
بہت سے لوگوں کاعقیدہ ہے کہ بعض آنکھوں میں ایک خاص قسم کااثر ہوتاہے .جب وہ کسی چیز کی طرف توجّہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں توممکن ہے کہ اُسے نابود کردیں یا درہم و برہم کردیں اوراگر کوئی انسان ہے ،تواسے بیمار یادیوانہ کر دیں ۔ یہ مسئلہ عقلی لحاظ سے کوئی امر محال نہیں ہے ، کیونکہ موجودہ زمانہ کے بہُت سے ماہرین کا نظر یہ ہے کہ بعض آنکھوں میں ایک خاص قسم کی مقناطیسی قوّت چھپی ہُوئی ہوتی ہے جوبہت سارے کام کرتی ہے .یہاں تک کہ مشق کے ذ ریعے کی پر ورش ہوسکتی ہے .آنکھوں کی اسی مقنا طیسی قوت کے ذ ریعہ دوسرے آ دمی پر مقناطیسی نیند طاری کی جاتی ہے ۔ جِس دنیامیں لیز رشعاعیں جوغیر مرئی ہیں ،ایساکام کرسکتی ہیں جوکسِی انتہائی خطرناک اور تباہ کُن ہتھیار سے بھی نہیں ہوسکتا، توبعض آنکھوںمیںایسی قوّت کے وجود کو تسلیم کرلینا جومخصوص لہروں کے ذ ریعے طرف مقابل میں اثر انداز ہوسکے ،کوئی عجیب چیزنہیں ہوگی ۔ بہت سے لوگ نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے ایسے افراد دیکھے ہیں جو آنکھ کی اس مرمُوز توانائی کے حامل تھے ،اور انہوں نے کچھ لوگوں ، جانورو ں یاپھر دوسری چیزوں کواپنی آنکھوں کی اس خفیہ طاقت سے بیکاردیاتھا ۔ لہٰذا نہ صرف یہ کہ ان امور کے انکار پر اصرار نہیں کرناچاہیے بلکہ ان ے وجُود کے امکان کو عقل اور علم کے لحاظ سے قبول کرلینا چاہیے ۔ اِسلامی روایات میں بھی ایسی بہت سی مختلف تعبیر یں نظر آ تی ہیں جواس امر کی اجمالاً تائید کرتی ہیں ۔ ایک حدیث میں آ یاہے کہ اسما بنت عمیس نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت میں عرض کیا: بعض اوقات جعفر کے بیٹوں کونظر لگ جاتی ہے ،کیامیں ان کے لیے رقیہ لے لوں ( رقیہ سے مراد وہ لکھی ہُوئی دُعائیں ہیں ،جنہیں کچھ لوگ بُر ی نظر سے بچنے کے لیے اپنے پاس رکھتے ہیں اوراسے تعویز بھی کہتے ہیں )۔ پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم )نے فرمایا: نعم ، فلو کان شی ء یسبق القدر السبقة العین ۔ ہاں ! کوئی حرج نہیں ہے ،اگرکوئی چیز قضاء و قدرپر سبقت لے سکتی ہے تووہ نظر بدکا لگنا ہے ( ١)۔ ٢۔ایک اور حدیث میں آ یاہے کہ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا: پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے لیے ایک تعویذ بنایا اور آپ نے یہ دعا پڑھی : اعیذ کما بکلمات التامة واسماء اللہ الحسنٰی کلھاعامة ،من شرا لسامة والھامة ومن شرکل عین لامة ،ومن شر حاسد اذا حسد ۔ میں تمہیں تمام کلمات اور خدا کے اسمائے حُسنٰی کے ، موت موذی جانوروں کے شراورہر بُری آنکھ اورحسدکرنے والے کے شر سے جبکہ وہ حسد کرے . سپرد کرتاہوں ۔ اس کے بعد پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ہماری طرف دیکھا اور فرمایا :حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسمٰعیل و اسحٰق علیہماالسلام کے لیے اسی طرح سے تعو یذ بنایاتھا ( ٢)۔ نہج البلاغة میں بھی آ یاہے : العین حق والرق حقنظر ِ بد بھی حق ہے اوراس کے دفع کرنے کے لیے دعا و تعویذ سے متوسّل ہونا بھی حق ہے ( ٣)۔ اس نکتہ کاذکرکرنا ضروری ہے .اس میں کوئی امرمانع نہیں ہے کہ یہ دعائیں اور وسیلے حکم خدا سے آنکھوں کی مر موزمقنا طیسی قوّت و توانائی کی تاثیر کوروک دیں ، جیساکہ دعائیں بہت سے دوسرے مخرب عوامل پر اثر انداز ہوتی ہیں اورانہیں خُدا کے حکم سے بے اثر کردیتی ہیں ۔ یہ بات بھی یاد دلا نی ضر وری ہے کہ اجمالی طور سے نظرِ بدکی تاثیر کوقبول کرنے کایہ معنی نہیں ہے کہ اس قسم کے موارد میں بیہودہ کاموں اور عامیانہ اعمال کی پناہ لی جائے جواحکام ِ شر یعت کے برخلاف ہیں اوراصل موضوع میں بے خبر لوگوں کے شک و تر دّد کاباعث بھی ہیں.جیساکہ بہت سے حقائق کے ان خرافات کے ساتھ آ لودہ ہونے سے یہ غیر مطلوب تاثیر ذہنوں میں ،بیٹھ گئی ہے ۔ خدا وندا ! ہمیںشراشرار اور دشمنوں کے مکر وں سے اپنی پناہ میںمحفوظ رکھ ! پر وردگار ا!ہمیں وہ صبر واستقامت مرحمت فرما جس کے سائے میںہم تیری رضا کوحاصل کرسکیں۔ بار الہٰا ! ہمیں اپنی بے پایاں نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی توفیق مرحمت فر ما، اس سے پہلے کو ناشکریاں اسے ہم سے سلب کرلیں ۔ ١۔مجمع البیان ،جلد ١٠ ،صفحہ ٣٤١۔ ٢۔نورالثقلین ،جلد ٥،صفحہ ٤٠٠۔ ٣۔نہج البلاغة کلمات قصار جملہ ٤٠٠( یہ حدیث صحیح بخاری جلد ٧ ،صفحہ ١٧٠ ،باب العین حق میں بھی اس صورت میں نقل ہوئی ہے ( العین حق ) "" المعجم المفھرس لا لفاظ الحدیث المنبوی ""میں یہی معنی مختلف منابع سے نقل ہواہے ( جلد ٤،صفحہ ٤٥١)۔ آ مین یا ربّ العالمین سورہ قلم کا اختتام
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 68:51-52
سوره قلم/ آیه 51- 52
٥١۔وَ ِنْ یَکادُ الَّذینَ کَفَرُوا لَیُزْلِقُونَکَ بِأَبْصارِہِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّکْرَ وَ یَقُولُونَ ِنَّہُ لَمَجْنُون ۔ ٥٢۔ وَ ما ہُوَ ِلاَّ ذِکْر لِلْعالَمینَ ۔ ترجمہ ٥١۔قریب ہے کہ کفّار آیات قرآن کوسُن کرتجھے اپنی آنکھوں سے ہلا ک کردیں اوروہ کہتے ہیں کہ یہ تو دیوانہ ہے ۔ ٥٢۔درآنحالیکہ یہ (قرآن )عاملین کے لیے پیامِ بیدار ی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 68:51-52
وہ تجھے نابود کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کرسکتے
اوپر والی دونوںآ یات جو سورہ ٔ قلم کی آخری آ یات ہیں حقیقت میں اسی چیزکوبیان کررہی ہیں جواس سورہ کے آغاز میں دشمنوں کی طرف سے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لے لیے جنون کے نسبت کے سلسلہ میں آ ئی تھی ۔ پہلے فرماتاہے : قریب ہے کہ کفّار آیات ِ قرآن کوسُن کر تجھے اپنی آنکھوں سے ہلاک کردیں اور کہتے ہیں کہ وہ تودیوار نہ ہے (وَ اِنْ یَکادُ الَّذینَ کَفَرُوا لَیُزْلِقُونَکَ بِأَبْصارِہِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّکْرَ وَ یَقُولُونَ ِنَّہُ لَمَجْنُون)۔ لیز لقونک زلق کے مادہ سے پھسلنے اور زمین پرگرنے کے معنی میں ہے اورہلاکت و نابودی سے کنایہ ہے . اس آ یت کی تفسیر میں گونا گوں نظر یات پیش کیے گئے ہیں ۔ ١: بہت سے مفسر ین نے کہاہے ،اس سے مراد یہ ہے کہ جب دشمن قرآن کی باعظمت آ یات کوتجھ سے سنتے ہیں تووہ خشمگین اور پریشاں ہوجاتے ہیں اور دشمنی کے ساتھ تیری طرف دیکھتے ہیں گویا چاہتے ہیں کہ تجھے اپنی آنکھوں سے زمین پرگرائیں اور نابود کردیں ۔ اس معنی کی وضاحت میں ایک گروہ نے یہ اضافہ کیاہے کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ تجھے نظر ِ بد کے ذ ریعہ ، جس کابہُت سے لوگ عقیدہ رکھتے ہیں اوروہ کہتے ہیں کہ بعض آنکھوںمیں ایک مرموز اثر چھپا ہوا ہوتاہے ، وہ ایک مخصوص نگاہ کے ساتھ طرفِ مقابِل کو بیمار یا ہلاک کر سکتے ہیں،ہلاک ونابود کردیں ۔ ٢:بعض نے کہاہے یہ بہت زیادہ غضب آلود نگاہوں سے کنایہ ہے ، جیساکہ ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے اِس طرح بُری نگاہ سے میری طرف دیکھا کہ گویا چاہتاتھا کہ مجھے اپنی نگاہ سے کھاجائے یاما رڈالے ۔ ٣:اس آ یت کی ایک اور تفسیر نظر آ تی ہے جوشاید اوپر والی تفاسیر سے زیادہ نزدیک ہو. وہ یہ ہے کہ قرآن چاہتاہے اِس عجیب تضاد کوجو دشمنانِ اسلام کی باتوںمیں پایا جاتاہے ، اس بیان کے ذ ریعہ ظاہر کر دے اوروہ یہ ہے :وہ جس وقت قرآنی آیات کوسنتے ہیں تو اس قدر مجذوب ہوجاتے ہیںاوراس پر تعجّب کرتے ہیںڈالنے والے ہوتے ہیں ) لیکن اس کے باوجودکہتے ہیں کہ تودیوانہ ہے .یہ واقعاً ف بڑی تعجّب خیز بات ہے .دیوانہ اور پر اگندہ باتیں کہاں اوریہ حیرت انگیز ، جاذب اورپُراثر آیات کہاں ؟ یہ دماغ کے ہلکے نہیں جانتے کہ کیا کہہ رہے ہیں اورکیسی کیسی متضاد و نقیض نسبتیںتیری طرف دے رہے ہیں ۔ بہرحال اس بارے میں کہ اِسلامی نظریہ کے مطابق اور موجودہ زمانہ کے علُوم کے لحاظ سے نظر بد میں کچھ حقیقت ہے یانہیں ؟ انشاء اللہ نکات کی بحث میں گفتگو کریں گے ۔ انجام ِ کار آخری آ یت میں مزید کہتاہے : یہ قرآن عالمین کے لیے بیداری کا ذ ریعہ ہونے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے (وَ ما ہُوَ ِلاَّ ذِکْر لِلْعالَمینَ) ۔ اس کے معارف روشنی بخشنے والے ، اس کے انذار آگاہ کرنے والے ، اس کی مثالیں پُر معنی ،اس کی نشو یقیں اور بشارتیں رُوح پرور ، سوئے ہُوئے لوگوں کے لیے بیداری کاسبب اور غا فلوں کے لیے یاد آوری کامُوجب، ان حالات میں اس کے لانے والے کی طرف جنون کی نسبت کیسے دی جاسکتی ہے ؟ اس تفسیر کے مُطابق یہاں ذکر (بروزن فکر)یاد آ وری کے معنی میں ہے .لیکن بعض مفسّرین نے اس کی تفسیر شرف کے معنی کے ساتھ کی اور کہا ہے کہ یہ قرآن تمام عالمین کے لیے ایک شرافت وبزرگی ہے ، جیساکہ سورة زخرف کی آ یہ ٔ ٤٤ میں فرماتاہے : وانہ لذکرلک و لقو مک :قرآن تیرے اور تیرے قوم کے لیے شرف اور آبرُو کاموجب ہے لیکن جیساکہ ہم نے مذکورہ آیت کے ذیل میں بھی کہاہے کہ ذکر وہاں بھی یاد آوری اور آگاہی بخشنے کے معنی میںہے . نیز اصولی طور پرقرآن مجید کے ناموںمیں سے ایک نام ذکر ہے اس بناء پر پہلی تفسیر زیادہ صحیح نظر آ تی ہے ۔