فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا إِنَّا لَضَالُّونَ
But when they saw it, they said, ‘We have indeed lost our way!’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 68:26
[Pooya/Ali Commentary 68:26] (see commentary for verse 17)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 68:26-33
سرسبز باغ کے مالکوں کادرد ناک انجام
یہ آ یات انہیں باغ والوں کی داستان کوجاری رکھے ہُوئے ہیں . جوگزشتہ آ یات میں گزرچکی ہے .وہ باغ والے اس اُمید پر کہ باغ کی فراواںپیدا وار کوچُنیںاور مساکین کی نظر یں بچا کراسے جمع کرلیں اوریہ سب کچھ اپنے لیے خاص کرلیں ، یہاں تک کہ خداکی نعمت کے اس وسیع دستر خوان پر ایک بھی فقیرنہ بیٹھے .یوں صبح سویرے چل پڑے لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ رات کے وقت جب کہ وہ پڑے سورہے تھے ایک مرگبار صاعقہ نے باغ کوایک مٹھی بھر خاکستر میں تبدیل کردیاہے ۔ قرآن کہتاہے : جب انہوں نے اپنے باغ کودیکھا تواس کاحال اس طرح بگڑاہواتھا کہ انہوں نے کہا یہ ہمارابا غ نہیں ہے . ہم توراستہ بھول گئے ہیں (فَلَمَّا رَأَوْہا قالُوا ِنَّا لَضَالُّونَ)۔ ضا لون سے مُراد ممکن ہے باغ کاراستہ بھول جانا ہو جیساکہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے ،یا راہِ حق کو بھول جانا اور گمراہ ہوجانا ہوجیساکہ بعض نے احتمال دیاہے .لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آ تاہے ۔ پھر انہوں نے مزید کہا : بلکہ ہم توحقیقت سے محروم ہیں (بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ)۔ ہم چاہتے تھے کہ مساکین اورضر ورت مندوں کومحروم کریں لیکن ہم تو خودسب سے زیادہ محروم ہوگئے ہیں،مادی منافع سے بھی محروم ہوگئے ہیں اور معنوی برکات سے بھی کہ جو راہِ خدا میںخزّح کرنے اورحاجت مندوں کود ینے سے ہماراہاتھ آیتں ۔ اِس اثنا میں ان میں سے ایک جوسب سے زیادہ عقلمند تھا ،اس نے کہا: کیامیں نے تم سے نہیں کہاتھا کہ تم خدا کی تسبیح کیوں نہیں کرتے (قالَ أَوْسَطُہُمْ أَ لَمْ أَقُلْ لَکُمْ لَوْ لا تُسَبِّحُونَ)۔ کیا میں نے نہیں کہاتھا کہ خدا کوعظمت کے ساتھ یاد کرو اور اس کی مخالفت سے بچو ،اس کی نعمت کاشکر بجالائو اورحاجت مندوں کواپنے اموال سے بہرہ مند کرو !لیکن تم نے میر ی بات کوتوجّہ سے نہ سُنا اور بدبختی کے گڑھے میں جاگرے ۔ اس آ یت سے معلوم ہوتاہے کہ ان میں ایک مرد مومن تھا جوانہیں بخل اورحرص سے منع کیاکرتاتھا .چونکہ وہ اقلیّت میں تھالہٰذاکوئی بھی اس کی بات پر کا ن نہیں دھر تاتھا .لیکن اس در د ناک حادثہ کے بعد اس کی زبان کھل گئی اس کی منطق زیادہ تیز اورزیادہ کاٹ کرنے والی ہوگئی ،اور وہ انہیں مسلسل ملامت اور سرزنش کرتارہا ۔ وہ بھی ایک لمحہ کے لیے بیدا ہوگئے اورانہوں نے اپنے گناہ کااعتراف کرلیا : انہوں نے کہا:ہماراپر وردگار پاک اورمنزّہ ہے . یقیناہم ہی ظالم وستمگر تھے .ہم نے اپنے اوپر بھی ظلم کیااور دوسروں پر بھی (قالُوا سُبْحانَ رَبِّنا ِنَّا کُنَّا ظالِمینَ)۔ اوسط کی تعبیر جوگزشتہ آ یت میں آ ئی ہے ،اس شخص کے معنی میں ہے جو عقل وخرد اورعلم و دانش کے اعتبارسے سرحدِ اعتدال میں ہو ، بعض نے اسے سن وسال میں حدِّوسط کے معنی میں لیاہے .لیکن یہ معنی بہت بعید نظر آ تاہے . کیونکہ سن وسال اوراس قسم کی پُر معنی گفتگو کے درمیان کوئی ربط نہیں ہے .البتہ عقل وخرد اوراس قسم کی باتوں کے درمیان ارتباط ہے ۔ لولا تسبحون(تم خداکی تسبیح کیوں نہیں کرتے )کی تعبیر اس بناء پر ہے کہ تمام اعمال کاریشہ اور اصل ، ایمان ، معرفتِ خدا اورتسبیح تنز ایہ خداہے ۔ بعض نے تسبیح خداکا معنی شکر نعمت کیاہے ، جس کالازمہ محروموں کوبہرہ مندکرنا اور فائدہ پہنچانا ہے،لیکن یہ دونوں تفاسیر ایک دوسرے کے ساتھ منافات نہیں رکھتیں اور آ یت کے مفہوم میں جمع ہیں ۔ لیکن گناہ کے اعتراف سے پہلے ان کی تسبیح ممکن ہے اس بناء پر ہو کہ وہ یہ چاہتے ہوں کہ یہ بلا ئے عظیم جوان کے باغ پرنازل ہُوئی اور جس نے اسے نابود کردیاہے خدا کو اس میںہرقسم کے ظلم وستم سے منزّہ سمجھیں اوریہ کہیں کہ خدا وند ایہ ہم ہی تھے جنہوں نے خوداپنے اوپر اور دوسروںپر ظلم کیا،اوراس قسم کے دردناک عذاب کے مستحق ہُوئے ہیں ، لیکن تیرا کام عین عدالت وحکمت ہے ۔ قرآن کی بعض دیگر آیات میں بھی اپنے ظلم کااقرار کرنے سے پہلے یہی تسبیح نظر آ تی ہے جیساکہ حضرت یونس علیہ السلام کی داستان میں آ یاہے . جب وہ اس عظیم مچھلی کے پیٹ میں پہنچے توکہا : لاالہٰ الاانت سبحانک انی کنت من الظا لمین تیرے علاوہ اورکوئی معبُود نہیں ہے .تومنزّہ ہے میں ہی ظا لموں اور ستمگر وں میں سے تھا (انبیاء ،آیت ، ٨٧)۔ البتّہ اس عظیم پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے بارے میںظلم ترک اولیٰ کے معنی میں ہے . جیساکہ تفسیر نمُونہ جلد ١٣ میں ہم اس آیت کی تفسیر میں بیان کرچکے ہیں ف۔ لیکن مطلب یہیں پر ختم ہوگیا : انہوں نے ایک دُوسرے کی طرف رُخ کیااورایک دوسرے کوملا مت وسرزنش کرنے لگے (فَأَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلی بَعْضٍ یَتَلاوَمُونَ)۔ احتمال یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنی خطا کے اعتراف کے باوجوداصلی گناہ کودُوسرے کے کند ھے پرڈا لتا اور شدّت کے ساتھ اس کو سرزنش کرتاتھا کہ ہماری بربادی کااصل عامل توہے !ورنہ ہم خدا اور عدالت سے اس قدر بیگانہ نہیں تھے ۔ ہاں !تمام ظالموں کی سر نوشت کہ جو عذاب الہٰی کے چنگل میں گرفتار ہوتے ہیں اسی طرح ہے کہ گناہ کا اعتراف کرنے کے باوجُود ہرایک کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی بدبختی کاعامل دوسرے کوشمار کرے ،شایداس کی وجہ یہ ہو کہ اس قسم کے مواقع پر ایک آدمی تجویز پیش کرتاہے ،دوسرا تائید کرتاہے ،تیسرااس کااجراء اپنے ذمّہ لیتاہے اور چوتھا اپنے سکوت اور خاموشی کے ذ ریعے اپنی رضا مندی کااظہار کرتاہے .لیکن یہ بات واضح ہے کہ یہ سب کے سب شریک ِجُرم اور گناہ میں پورا پورادخل رکھتے ہیں ۔ اس کے بعد مزید کہتاہے کہ جب وہ اپنی بدبختی کی انتہاء سے آگاہ ہوئے توان کی فریاد بلند ہُوئی اورانہوں نے کہا : وائے ہو ہم پر کہ ہم ہی سرکشی اور طغیان کرنے والے تھے (قالُوا یا وَیْلَنا ِنَّا کُنَّا طاغینَ)۔ انہوں نے پہلے مرحلہ میں توظلم وستم کااعتراض کیااور یہاں طغیان وسرکشی کااعتراف ہے حقیقت میں طغیان ظلم سے بالاتر ایک مرحلہ ہے،کیونکہ ظالم ممکن ہے اصل قانون کو قبول کرے لیکن ہوائے نفس کے زیر اثر ہوکہ ظلم وستم کرے.لیکن طغیان کرنے والاتواصلاً قانون کے زیر بارہی نہیں ہوتا اوراسے قانون کی حیثیت سے تسلیم ہی نہیں کرتا۔ یہ احتمال بھی ہے کہ ظلم تواپنے اوپر ظلم کرنے کی طرف اشارہ ہو اور طغیان دوسروں کے حق میں تجاوز کرنے کی طرف اشارہ ہو۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجّہ ہے کہ عرب جب کسِی مصیبت میں گرفتار ہوتے یاکسِی چیز سے نفرت کااظہار کرناچاہتے تھے توکبھی ویس کہتے تھے اور کبھی ویح اور کبھی ویل جن میں سے پہلا مصیبت میں خفیف ، دوسرا زیادہ شدید اورتیسرا سب سے زیادہ شدید ہے اور یہ اس بات کی نشان دہی کرتاہے کہ باغ والے اپنے آپ کوشدید ترین سرذنش کا مستحق سمجھتے تھے ۔ انجام ِکار انہوں نے اس بیداری ، گناہ کے اعتراف اور خدا کی طرف بازگشت کے بعد اس کی بارگاہ کی طرف مراجعہ کیا اور کہا . امید ہے کہ ہمارا پروردگار ہمارے گناہوں کوبخش دے گا اور ہمیںاس سے بہترباغ عطا فرمائے گا (عَسی رَبُّنا أَنْ یُبْدِلَنا خَیْراً مِنْہا)۔ کیونکہ ہم نے اس کی طرف رُخ کرلیاہے اوراس کی پاک ذات کے ساتھ لولگالی ہے .لہٰذااس مشکل کاحل بھی اسی کی بے پایاں قدرت سے طلب کرتے ہیں (انَّا ِلی رَبِّنا راغِبُونَ) (١)۔ کیا یہ گروہ واقعاً اپنے فعل پر پشیمان ہوگیاتھا ،اس نے اپنے طرزِ عمل پرتجدید ِ نظر کرلی تھی اورقطعی اور بختہ ارادہ کرلیاتھا کہ اگر خدانے ہمیں آ ئندہ اپنی نعمتوں سے نوازا توہم اس کے شکر کاحق اداکریں گے ؟یاوہ بھی بہت سے ظالموں کی طرح کہ جب وہ عذاب میں گرفتارہوتے ہیں تووقتی طور پر بیدار ہوجاتے ہیں ، لیکن جب عذاب ختم ہوجاتا ہے تووہ دوبارہ انہیں کاموں کی تکرار کرنے لگتے ہیں ۔ اِس بارے میں مفسّرین کے درمیان اختلاف ہے .بعد والی آ یت کے لب ولہجہ سے احتمالی طورپر جوکچھ معلوم ہوتاہے وہ یہ ہے کہ ان کی توبہ شرائط کے جمع نہ ہونے کی بناء پر قبول نہیں ہوئی .لیکن بعض روایات میںآ یاہے کہ اُنہوں نے خلوصِ نیّت کے ساتھ توبہ کی ، خدانے ان کی توبہ کوقبول کرلیا اورانہیں اس سے بہتر باغ عنایت کِیا جس میں خاص طورپر بڑے بڑے خوشوںوالے انگور کے پُرمیوہ درخت تھے ۔ آخر ی زیر بحث آیت میں کلی طورپر نتیجہ نکالتے ہُوئے سب کے لیے ایک درس کے عنوان اسے فرماتا ہے : خدا کاعذاب اس طرح کا ہوتاہے اور اگر وہ جائیں توآخرت کاعذاب توبہت ہی بڑا ہے :(کَذلِکَ الْعَذابُ وَ لَعَذابُ الْآخِرَةِ أَکْبَرُ لَوْ کانُوا یَعْلَمُونَ)۔ اگر تم بھی مال و ثروت اور مادی وسائل کی بناء پر مست ومغر ورہوگئے ،ذخیرہ طلبی کی رُوح نے تم پر غلبہ کرلیا، ہرچیز کواپنے لیے ہی طلب کرنے لگواور حاجت مندوں کومحروم کر دو تو تمہاری سرنوشت بھی ان سے بہتر نہیں ، ہوگی البتّہ وہ ایک روز تھا کہ صاعقہ (بجلی ) آ ئی اوراس نے باغ کوآگ لگادی .آج ممکن ہے کچھ اور آفتیں ہوں یاگھروںاور آبا دیوں کوجلا دینے والی علا قائی یاعالمی جنگیںان نعمتوں کوتباہ و بر باد کردیں۔ ١۔"" راغبون"" "" رغبت"" کے مادّہ سے ہے .یہ مادّہ جب "" الی "" یا"" فی "" کے ساتھ متعدّی ہوتاہے توکسِی چیز کی طرف تمایل کے معنی دیتا ہے . جب "" عن "" کے ساتھ متعدّی ہوتاہے کسِی چیزسے انصراف اور بے اعتنائی کے معنی میں ہوتاہے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 68:26-33
سوره قلم/ آیه 26- 33
٢٦۔ فَلَمَّا رَأَوْہا قالُوا ِنَّا لَضَالُّونَ۔ ٢٧۔بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ ۔ ٢٨۔قالَ أَوْسَطُہُمْ أَ لَمْ أَقُلْ لَکُمْ لَوْ لا تُسَبِّحُونَ ۔ ٢٩۔ قالُوا سُبْحانَ رَبِّنا ِنَّا کُنَّا ظالِمینَ ۔ ٣٠۔فَأَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلی بَعْضٍ یَتَلاوَمُونَ ۔ ٣١۔ قالُوا یا وَیْلَنا ِنَّا کُنَّا طاغینَ ۔ ٣٢۔عَسی رَبُّنا أَنْ یُبْدِلَنا خَیْراً مِنْہا ِنَّا ِلی رَبِّنا راغِبُونَ ۔ ٣٣۔کَذلِکَ الْعَذابُ وَ لَعَذابُ الْآخِرَةِ أَکْبَرُ لَوْ کانُوا یَعْلَمُونَ ۔ ترجمہ ٢٦۔( جب باغ میں وارد ہوئے اور )اسے دیکھا توکہنے لگے کہ ہم توراستہ بُھول گئے ہیں ۔ ٢٧۔( ہاں ہرچیز مکمل طورپر ہمارے ہاتھ سے نکل گئی ہے )بلکہ ہم محروم ہیں ۔ ٢٨۔ اُن میں سے ایک (جوسب سے زیادہ عقلمند تھا)اس نے کہا: کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہاتھا کہ تم خدا کی تسبیح کیوں نہیں کرتے ؟ ٢٩۔انہوں نے کہا:ہمارا پر وردگار پاک و پاکیزہ اورمنزّہ ، یقینا ہم ہی ظالم تھے ۔ ٣٠۔پھر انہوں نے ایک دُوسرے کی طرف رُخ کیااورایک دوسرے کوملامت کرنے لگے ۔ ٣١۔ ( اوران کی فریاد بلند ہُوئی )اور کہا: وائے ہوہم پر ہم ہی طغیانگر اورسرکش تھے ۔ ٣٢۔ہم اُمید رکھتے ہیں کہ ہمارا پر وردگار ہمیں بخش دے اور اِ س کے بجائے اس سے بہتر ہمیںدے دے،کیونکہ اب ہم نے اس سے دل لگا لیاہے ۔ ٣٣۔خدا کاعذاب (دنیامیں)اسی طرح سے ہوتاہے .اور اگر وہ جانتے توآخرت کا عذاب اس سے بھی بڑا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 68:26-33
١انحصا رطلبی : ثروت مندوں کی بہت بڑی مصیبت
انسان خواہ نخواہ مالِ دُنیا سے لگائو رکھتاہے ،کیونکہ اس کی زندگی کاگزارہ اسی کے ذ ریعہ ہوتاہے .ہاں یہ لگائو اعتدال کی حد میں مذ موم نہیں ہے .اہم بات یہ ہے کہ ضر ورت مندوں کو بھی اپنے اموال میں شریک کرے . نہ صرف الہٰی حقوقِ واجبہ کوادا کرے ، بلکہ مستحب انفاق سے بھی ہاتھ نہ روکے ۔ خصوصاً باغ اور زراعت کے بارے میں اسلامی روایات میں یہ حکم دیاگیاہے کہ حاضر آنے والے ضر ور تمندوں کوایک حصّہ دیں، جو آ یہ ٔ شریفہ ( واٰ توا حقہ یوم حصاد ہ) اس کاحق فصل کاٹنے کے وقت دے دو ،( سورہ انعام ، آ یت ١٤١ )سے اقتباس کرتے ہُوئے حق الحصاد کے عنوان سے مشہور ہُوا ہے .وہ ایک ایساحق ہے جو زکوٰةِ معروف کے حق سے الگ ہے اس سے مراد وہ چیز جوپھل توڑنے یا ذ راعت کاٹنے کے موقع پر حاضر آنے والے ضرورتمندوں کو دی جاتی ہے اوراس کی کوئی حد معیّن نہیں ہے (1)۔ لیکن جب مال وثروت سے لگائو افراط اورانحراف کی شکل میں ظاہر ہوتاہے توانحصار طلبی کی صورت اختیار کرلیتا ہے ،یہاں تک کہ بعض اوقات اپنے لیے کسِی چیزکی ضر ورت نہ ہونے کے باوجود وہ یہ چاہتاہے کہ دُوسرے اِس سے محروم رہیں . یہ وہ عظیم مصیبت ہے خصوصیّت کے ساتھ جس کے آج بھی انسان معاشروںمیں بہت سے نمونے موجود ہیں اوراس کوایک قسم کی خطر ناک بیماری شمار کیاجاسکتاہے ۔ باغ ِوالوں کی داستان جو اوپروالی آ یت میں بیان کی گئی ہے ثروت مندوں کے ایک گروہ کے انحصارطلبی کے جذبہ کی واضح طورپر تصویر کشی کرتی ہے .یعنی وہ کِس طرح سے ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دیتے ہیں.ضرورت مندوں کے محروم کرنے کے لیے منصوبہ بناتے ہیں .اوران کی نظر یںبچا کر عظیم منافع اور بڑ ے بڑے فوائدحاصِل کرتے ہیں،لیکن اکثر ایساہوتاہے کہ ان محروموں کی آہ جلانے والی بجلیوںمیںتبدیلی ہو جاتی ہے .اورانحصار طلب ثروت مندوں کے خرمِن زندگی کوآگ لگا دیتی ہے .اکثر دیکھاگیاہے کہ یہ بجلیاں انقلابوں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیںاور جس چیز کووہ باور نہیں کرتے تھے اسے اپنی آنکھ سے دیکھ لیتے ہیں .ان کی آ ہ و فر یاد آسمان تک بلند ہوتی ہے اور وہ گزشتہ خطائو ں اور گنا ہوں سے توبہ اور تلافی کادم بھرتے ہیںلیکن مُعاملہ ہاتھ سے نکل چکا ہوتاہے ۔ 1۔اس موضوع سے مربوط روایات کاوسائل الشیعہ کی جلد ٦، ابواب ذکوٰة الغلات باب ١٣ میں اور سنن بہیقی جلد٤،صفحہ ١٣٣ میں مطالعہ فرمائیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 68:26-33
٢گناہ اورقطع رزق کے درمیان رابط
اوپر والی آیت سے ضمنی طور پر معلوم ہوتاہے کہ گناہ اورقطع رزق کے درمیان قریبی رابط ہے . اسی لیے ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے آ یاہے : ان الرجل لیذ نب الذنب فیدرأعنہ الرزق وتلا ھٰذہ الاٰ یة : اذاقسموالیصر منھا مصبحین ولا یستثنون فطاف علیھا طائف من ربک وھم نا ئمون بعض اوقات انسان گناہ کرتاہے تو اس کی روزی منقطع ہو جاتی ہے .اس کے بعد امام نے اوپر والی آ یت کی تلاوت کی ۔ جب انہوں نے یہ قسم کھائی کہ ہم صبح سویرے پھلوں کوتوڑلیں گے اوراپنے سواکسِی کوبھی اِ س سے فائدہ نہیں اٹھانے دیں گے ، لیکن اس وقت کہ جب وہ سوئے ہُوئے تھے تیرے پروردگار کی طرف سے ایک بلااس باغ پر مُسلّط ہوگئی اوراسے نابود کردیا ( 1)۔ ابن عباس سے بھی یہ نقل ہُوا ہے کہ گناہ اور روزی کے منقطع ہونے کاربط سورج سے بھی زیادہ واضح ہے جیساکہ خدا نے اسے سورۂ ن والقلم کی زیر بحث آیت میں بیان فرمایا ہے (2)۔ 1۔تفسیر نورالثقلین ،جلد ٥،صفحہ ٣٩٥(حدیث ٤٤)۔ 2۔ تفسیر المیزان ،جلد ٢٠ صفحہ ٣٧۔