إِنَّا بَلَوْنَاهُمْ كَمَا بَلَوْنَا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ
Indeed we have tested them just as We tested the People of the Garden when they vowed they would gather its fruit at dawn,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 68:17
[Pooya/Ali Commentary 68:17] In a township near Yemen, there was a garden owned by a God-fearing man who used to distribute its fruits among the poor and the needy. When he died two of his sons decided not to give to the poor and the needy any portion from the produce they would collect next day. They even did not say: "If Allah wills," at the time of making plans to gather the harvest. The third son, who disagreed with them and wanted to do as their father used to do, was silenced by his two brothers. They kept the whole operation a closely guarded secret lest the needy came for taking what they used to get. As they did not subordinate their will to the will of Allah and decided to have all the produce exclusively for themselves, ignoring the needs of their fellow beings, the garden was destroyed altogether. Then the third son who had warned them before hand reminded them that had they remembered Allah and acted as commanded by Him they would not have lost everything. Then they turned to Allah in repentance. If the repentance is sincere, there is hope. Allah turns evil into good. If repentance is not sincere, it becomes hypocrisy. Ibn Abbas says that their repentance was true and Allah gave them a better garden which yielded abundant produce. The points allegorised in the parable of the people of the garden not only illustrate the conduct of the hypocrites but also demonstrate how Allah gives respite to the wrongdoers so that they may have the opportunity to repent and make amend at any stage before the mercy shown to them is withdrawn after which there is no remedy save eternal punishment in the hereafter.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 68:17-25
سوره قلم/ آیه 17- 25
١٧۔ ِنَّا بَلَوْناہُمْ کَما بَلَوْنا أَصْحابَ الْجَنَّةِ ِذْ أَقْسَمُوا لَیَصْرِمُنَّہا مُصْبِحینَ ۔ ١٨۔وَ لا یَسْتَثْنُونَ ۔ ١٩۔فَطافَ عَلَیْہا طائِف مِنْ رَبِّکَ وَ ہُمْ نائِمُونَ ۔ ٢٠۔فَأَصْبَحَتْ کَالصَّریمِ ۔ ٢١۔فَتَنادَوْا مُصْبِحینَ ۔ ٢٢۔ أَنِ اغْدُوا عَلی حَرْثِکُمْ ِنْ کُنْتُمْ صارِمینَ ۔ ٢٣۔فَانْطَلَقُوا وَ ہُمْ یَتَخافَتُونَ ۔ ٢٤۔أَنْ لا یَدْخُلَنَّہَا الْیَوْمَ عَلَیْکُمْ مِسْکین ۔ ٢٥۔وَ غَدَوْا عَلی حَرْدٍ قادِرینَ ۔ ترجمہ ١٧۔ ہم نے انہیں آزمایا جیساکہ ہم نے باغ والوں کی آزمائش کی تھی جب انہوں نے یہ قسم کھائی کہ باغ کے پھلوں کوصبح کے وقت ( حاجتمندوں کی نگا ہوں سے بچا دکر ) چُنیں گے ۔ ١٨۔ اوراس میں کسِی چیزکا استثناء نہ کریں گے ۔ ١٩۔ لیکن ان کے سارے باغ پر ( راتوں رات ) ایک گھیر لینے والا عذاب نازل ہوگیا ۔ ٢٠۔ اوروہ ہرا بھرا باغ تاریک رات کی مانند ہوگیا ۔ ٢١۔ صبح کے وقت انہوں نے ایک دوسرے کوصدا دی ۔ ٢٢ ۔ اگرتمہارا ارادہ پھلوں کوتوڑنے کاہوتواپنے کھیت اور باغ کی طرف چلو ۔ ٢٣۔ وہ چل پڑے اورایک دُوسرے سے آہستہ آہستہ کہتے جاتے تھے ۔ ٢٤۔ اس بات کاخیال رکھو کہ ایک بھی فقیر تمہارے پاس نہ آ ئے پائے ۔ ٢٥۔ انہوں نے صبح کے وقت یہ مصمّم ارادہ کرلیا کہ وہ پوری قوت کے ساتھ جاحت مندوں کو روکیں گے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 68:17-25
(باغ) والوں کی عبرت انگیز داستان
اِس بحث کی مناسبت سے جو گزشتہ آیات میںمغر ور وخود خواہ دولت مندوں کے بارے میں تھی اوروہ مال اوراولاد کی زیادتی کی وجہ سے ہرچیز کوٹھکرا دیتے تھے ،ان آ یات میںپہلے زمانہ کے کچھ دولتمندوں کے بارے میں جوایک سرسبز وشاداب باغ کے مالک تھے اور آخر کار وہ خود سری کی بناء پر نابُود ہوگئے تھے ، ایک داستان بیان کرتا ہے .ایسا معلوم ہوتاہے کہ یہ داستان اس زمانہ کے لوگوں دفمیں مشہور ومعروف تھی ، اور اسی بناء پر اس کو گواہی کے طورپر پیش کیاگیاہے ۔ پہلے فر ماتاہے : ہم نے انہیں آزما یا،جیساکہ ہم نے باغ والوں کی آ زمائش کی تھی (انَّا بَلَوْناہُمْ کَما بَلَوْنا أَصْحابَ الْجَنَّةِ )۔ یہ باغ کہاں تھا، عظیم شہرصفاء کے قریب سرزمین یمن میں؟ یابنی اسرائیل کی سرزمین شام میں ؟ یا طائف میں؟ اس بارے میں اختلاف ہے .لیکن مشہور یمن ہی ہے ۔ اس کاقصّہ یہ ہے کہ یہ باغ ایک بوڑھے مرد مومن کی ملکیت تھا .وہ اپنی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لیا کرتا اور باقی مستحقین اورحاجت مندوں کودے دیتاتھا .لیکن جب اس نے دُنیا سے آنکھ بند کرلی ( اور مرگیا) تو اس کے بیٹو ں نے کہا ہم اس باغ کی پیدا وار کے زیادہ مسحق ہیں ،چونکہ ہمارے عیال واطفال زیادہ ہیں . لہٰذا ہم اپنے باپ کی طرح عمل نہیں کرسکتے .اِس طرح انہوں نے یہ ارادہ کرلیا کہ ان تمام حاجت مندوں کوجوہرسال اِس سے فائدہ اُٹھا تے تھے محرُوم کردیں ، لہٰذاان کی سر نوشت وُہی ہوئی جواِن آیات میں بیان ہوئی ۔ کہتاہے : ہم نے انہیں آزمایا ،جب انہوں نے یہ قسم کھائی کہ باغ کے پھلوں کوصبح کے وقت حاجت مندوں کی نظر یں بچا کر چنیں گے ( اِذْ أَقْسَمُوا لَیَصْرِمُنَّہا مُصْبِحین)(١)۔ اوراس میں کسِی قسم کااستثناء نہ کرینگے اورحاجت مندوں کے لیے کوئی چیزبھی نہ رہنے دیں (وَ لا یَسْتَثْنُونَ )۔ ان کا یہ ارادہ اس بات کی نشان دہی کرتاہے کہ یہ کام ضرورت کی بناء پر نہیں تھا ،بلکہ یہ ان کے بخل اور ضعف ِ ایمان کی وجہ سے تھا .کیونکہ انسان چاہے کتنا ہی ضرورت مندکیوں نہ ہو ، اگروہ چاہے توکثیر پیدا وار والے باغ میں سے کچھ نہ کچھ حصّہ حاجت مندوں کے لیے مخصوص کرسکتاہے ۔ بعض نے کہاہے کہ عدم استثناء سے مُراد یہ ہے کہ انہوں نے الا ان یشاء اللہ نہیں کہاتھا . یعنی وہ اس قدر مغر ورتھے کہ انہوں نے کہاہم جائیں گے اور یہ کام ضجرور کریں گے .یہاں تک کہ انہوں نے اپنے آپ کوانشاء اللہ کہنے سے بھی بے نیاز سمجھا .لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح ہے ( ٢)۔ اس کے بعد اسی بات کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہتاہے : رات کے وقت جبکہ وہ سوئے ہوئے تھے،تیرے پروردگار کاایک گھیرلینے والا عذاب ان کے سارے باغ پر نازل ہوگیا (فَطافَ عَلَیْہا طائِف مِنْ رَبِّکَ وَ ہُمْ نائِمُونَ)۔ ایک جلانے والی آگ اورمرگ بار بجلی اس طرح سے اس کے اوپر مُسلّط ہُوئی کہ وہ سرسبز وشاداب با غ رات کی مانند سیاہ اورتاریک ہوگیا اورمٹھی بھرراکھ کے سواکچھ بھی باقی نہ بچا (فَأَصْبَحَتْ کَالصَّریمِ)۔ طائف طواف کے مادہ سے اصل میں اس شخص کے معنی میں ہے جوکسی چیزکے گر دگھومے لیکن بعض اوقات اس بلا ومصیبت سے کنایہ ہوتا ہے جو رات کونمُودار ہواوراس جگہ یہی مُراد ہے ۔ صریم صرم کے مادّہ سے قطع کرنے کے معنی میں ہے اوریہاں تاریک رات یا پھل کے بغیر درخت یا سیاہ راکھ کے معنی میں ہے .کیونکہ رات دن کے آ جانے سے منقطع ہوجاتی ہے ،جیساکہ دِن رات کے آ جانے سے منقطع ہوجاتاہے .اسی لیے بعض اوقات رات اور دن کو صریمان کہتے ہیں .بہرحال مُراد یہ ہے کہ یہ آ سمانی بلاجو ظاہراً ایک عظیم ضاعقہ (بجلی ) تھی اس طرح سے اس باغ پر نازل ہوئی کہ جس نے سارے باغ کو ایک ساتھ آگ لگادی اورمٹھی بھر کو ئلوں اور سیاہ راکھ کے سواکچھ بھی باقی نہ بچا ، کیونکہ دصاعقے اور بجلیاں جب بھی کسی چیز پر پڑتی ہیں توان کاحال اِسی طرح کاہوجاتاہے ۔ بہرحال باغ فکے مالکوں نے اس گمان سے کہ یہ لدے پھند ے درکت اب تیار ہیں کہ ان کے پھل توڑ لیے جائیں : صبح ہوتے ہی ایک دُوسرے کوپکارا (فَتَنادَوْا مُصْبِحینَ )(٣)۔ اُنہوں نے کہا: اگرتم اپنے باغ کے پھلوں کوتوڑ ناچاہتے ہوتواپنے کھیت اور باغ کی طرف چلو (أَنِ اغْدُوا عَلی حَرْثِکُمْ ِنْ کُنْتُمْ صارِمینَ )۔ اغدوا غدوة کے مادّہ سے دن کے اوّل حصّہ کے معنی میں ہے.اسی لیے اس غذا کوجوصبح سویرے کھائی جاتی ہے.غداء( ناشتہ)کہتے ہیں ( اگر چہ عربی کے موجودہ روز مرّہ کی تعبیرات میں غذاء دن کے کھانے کوکہا جاتاہے )۔ اِسی طرح سے وہ اپنے باغ کی طرف چل پڑے او وہ آہستہ آ ہستہ ایک دوسرے سے باتیں کررہے تھے (فَانْطَلَقُوا وَ ہُمْ یَتَخافَتُون)۔ کہ اس بات کاخیال رکھو کہ ایک بھی فقیر تمہارے پاس نہ آ نے پائے (أَنْ لا یَدْخُلَنَّہَا الْیَوْمَ عَلَیْکُمْ مِسْکین )۔ اوروہ اس طرح آہستہ آہستہ باتیں کررہے تھے کہ ان کی آواز کسِی دوسرے کے کانوں تک نہ پہنچ جائے کہیں ایسانہ ہوکہ کوئی فقیر خبر دار ہوجائے اوربچے کچھے پھل چننے کے لیے یااپنا پیٹ بھرنے کے لیے تھوڑا ساپھل لینے ان کے پاس آجائے ۔ ایسادکھائی دیتاہے کہ ان کے باپ کے سابقہ نیک اعمال کی بناء پر فقراء کاایک گروہ ایسے دنوں کے اِنتظار میں رہتاتھا کہ باغ کے پھل توڑنے کاوقت شروع ہوتواس میں سے کچھ حصّہ بھی ملے .اسی لیے یہ بخیل اور ناخلف بیٹے اس طرح سے مخفی طورپر چلے کہ کسِی کویہ احتمال نہ ہو کہ اس قسم کادن آپہنچا ہے،اورجب فقراء کواس کی خبر ہو تو معاملہ ختم ہوچکاہو۔ اِس طر ح سے وہ صبح سویرے اپنے باغ اور کھیت میں جانے کے ارادے سے حاجت مندوں اور فقراء کوروکنے کے لیے پوری قوت اورپختہ ارادے کے ساتھ چل پڑے (وَ غَدَوْا عَلی حَرْدٍ قادِرینَ )۔ حرد ( بر وزنسرد) شدت وغضب سے تواَم ممانعت کے معنی میں ہے .ہاں ! وہ فقراء ومساکین کی تمنّا اور انتظار سے سیخ پاتھے اور پختہ ارادہ کیے ہُوئے تھے کہ پُوری قوت کے ساتھ انہیں منع کریں گے .(اسی لیے یہ تعبیر ان سالوں کے لیے جن میں بارش نہ ہو یااس اونٹنی کے لیے جس کادُودھ ختم ہوجائے استعمال ہوتی ہے )۔ اب دیکھتے ہیں کہ ان کاانجام کیاہُوا ۔ ١۔ "" یصرمن "" ""صرم "" ( بر وزن شرم ) کے مادہ سے پھل توڑنے کے معنی میں ہے اور مطلق طورپر قطع کرنے کے معنی میں بھی ہے . اسی طرح کام کومحکم کرنے کے معنی میں بھی آ یاہے ۔ ٢۔ کیونکہ خاص مناسبت کے علاوہ ،جوپہلا معنی اصل قصّہ کے وساتھ رکھتاہے ،اگردوسرا معنی مراد ہوتاتو ولا یستثنون کے بجائے "" ولم تستثنوا "" کہاجاتا ( غور کیجیے )۔ ٣۔ "" تنا دوا"" راغب مفرادت میں کہتاہے کہ "" نداء "" (بروزن عنا) اصل میں "" ندی "" سے لیاگیاہے جو ر طوبت کے معنی میں ہے .کیونکہ مشہور ہے کہ جن لوگوں کے منہ میں کافی رطوبت ہوتی ہے وہ آرام اور سکون سے گفتگو کرسکتے ہیں اور ان کاکلام فصیح اور آ واز صاف ہوتی ہے ۔