يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
O you who have faith! When the call is made for prayer on Friday, hurry toward the remembrance of Allah, and leave all business. That is better for you, should you know.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 62:9
[Pooya/Ali Commentary 62:9] Yawmil jumu-ah literally means "the day of congregation." As Makka is the most preferred city among all the places of the world, and Ramadan is of higher rank among an the months, similarly Friday is superior to the other six days of the week. The Holy Prophet said: "Friday is the best of all days of the week. Good done on Friday earns many rewards, while invocations made are accepted." Friday is also known as: (i) Yawm al Mawlud-The birthday of the Holy Prophet. Imam Mahdi al Qa-im was also born on Friday. (ii) Yawm al Fazl-The day of grace. (iii) Yawm al barkat-the day of blessings. (iv) Yawm al ijabat-the day of acceptance of invocations and prayers. (v) Yawm al id-The day of rejoicing. (vi) Yawm al ghuzwa-The day of endeavour. (vii) Yawm al Karamat-the day of honour. (viii) Yawm al mazid-the day of abundance. While migrating from Makka to Madina, the Holy Prophet made a halt at Quba, a place 3 miles away from Madina. On Friday he proceeded to Madina. When he entered the valley of Bani Salim bin Awf it was time for Friday prayers. A place was selected there as a temporary masjid, and after delivering a sermon he prayed Friday prayers. The wise ordinances of Islam provide ample opportunities of social contact for the Muslims. Each individual remembers Allah five times every day in the home or place of business or local masjid. On Friday, in every week, there is a local meeting in the central masjid of each local centre; it may be a village, or town or ward of a big city. At the two ids every year there is a local area meeting in one centre, the idgah. Once at least in a lifetime, a Muslim, having sufficient means, joins the vast international assemblage of the world, in the centre of Islam, at Kabah. The primary purpose in all the obligatory and optional forms of worship is the remembrance of glorification of Allah, but they also create spirit of unity, brotherhood and collective understanding and provide opportunities for mutual consultation and action. The idea behind the Muslim weekly "day of assembly" is different from that of the Jewish Sabbath (Saturday) or the Christian Sunday. The Jewish Sabbath is primarily a commemoration of God's ending his work and resting on the seventh day (Genesis 2: 2; Exodus 20: 11). According to the Quran Allah needs no rest, nor does He feel fatigue (Baqarah: 255). The Jewish command forbids work on the day of Sabbath but says nothing about worship or prayer; but the Islamic ordinance lays stress on the remembrance of Allah. The Christian church had changed the Saturday to Sunday but inherited the Jewish spirit. Islam says: "When the time for Jumu-ah prayer comes, discontinue every activity and answer the call to prayer, meet earnestly, pray, consult and learn by social contact; and when the meeting is over, scatter and go about your business." Aqa Mahdi Puya says: Although hastening to the remembrance of Allah has been ordained in this verse, but there is no mention of the form of prayer. It was the Holy Prophet, the divinely authorised authority on the Quran, who showed the people how to pray every type of salat. The details and the conditions of ibadat (worship), mamilat (all social and individual activities) and siyasiyat (collective living) are decided and finalised according to the sayings and doings of the Holy Prophet and his authorised successors, the Imams of the Ahl ul Bayt, which is known as Islamic jurisprudence. The right to call to congregational prayer, according to the Holy Prophet and the Imams of Ahl ul Bayt rests with the just or the divinely appointed head of the Islamic state and his appointed deputies.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 62:9-11
Friday is better than the other week days. It is Sabbath for the Muslims, prayers are accepted and God relaxes sins. Death on Friday or preceding night (provided he is faithful) is of a martyr.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 62:9-11
٥:نماز جمعہ کے وجوب کی شرائط ۔
نمازِ جمعہ (ضر وری شرائط کی موجودگی میں) بالغ اورصحیح وسالم پرواجب ہے جونماز میں شرکت کی طاقت رکھتے ہیں،مسافروں اور بُوڑھے لوگوں پر واجب نہیں ہے ،اگرچہ مُسافر کے لیے نمازِ جمعہ میں حاضر ہوناجائز ہے ،اسی طرح سے عورتیں بھی نمازِ جمعہ میں شرکت کرسکتی ہیں اگرچہ ان پرواجب نہیں ہے ۔ وہ کم سے کم تعداد پانچ مرد ہے جِس نمازجُمعہ منعقد ہوسکتی ہے ،نمازجمعہ دورکعت ہے اوروہ نماز ظہر کی جگہ لے لیتی ہے نیز دوخطبے جونمازِ جمعہ سے پہلے پڑھے جاتے ہیں وہ حقیقت میں دو رکعتوں کی جگہ محسُوس ہوتے ہیں ۔ نماز جمعہ صبح کی نمازکی طرح ہے اور مستحب ہے کہ اس میں حمد وسورہ کوبلند آواز میںپڑھاجائے ،اِس کے علاوہ مستحب ہے کہ پہلی رکعت میں سورۂ جمعہ اوردوسری رکعت میں سورة منافقین کی قرأت کی جائے ۔ نمازِ جمعہ میںدوقنوت مستحب ہیں .ایک رکعت اوّل میں رکُوع سے پہلے اوردُوسرادوسری رکعت میں رکُوع کے بعد ہے ۔ دوخطبوں کاپڑھنا نمازِ جمعہ سے پہلے واجب ہے ،جیساکہ خطیب کاکھڑے ہوکرخطبہ دینابھی واجب ہے جوشخص خطبہ دیتاہے حتمی طور پر نمازِ جمعہ کاامام وہی ہوناچاہیئے ۔ خطیب کواپنی آ واز اتنی بلند کرناچاہیے کہ لوگ اس کی آواز کوسُن لیں، تاکہ خطبہ کامضمون سب کے کانوں تک پہنچ جائے ۔ خطبہ کے دوران میں سا معین کوخاموش رہنا اورخطیب کی باتوں پر کان دھرنا چاہیئے ،نیز خطیب کے رُو بُرو بیٹھنا چاہیے ۔ خطیب کومردِ فصیح وبلیغ ،اوضاع واحوال مسلمین سے آگاہ ،اسلامی معاشرے کے مصالح سے باخبر ،شجاع ،صریح اللہجہ اوراظہار حق میں قاطع ہوناچاہیے .اِس کے اعمال و رفتار اس کے کلام کی تاثیر ونفوذ کاسبب ہونے چاہئیں اوراس کی زندگی لوگوں کوخدا کی یاد دلانے والی ہونی چاہیے ۔ مُناسب ہے کہ وہ پاکیز ہ ترین لباس پہنے ہُوئے ہو ، اپنے بدن کوخوشبو لگائے ،وقار اور سکینہ کے ساتھ قدم اُٹھا ئے اور جب ممبر پرجائے لوگوں کوسلام کرے پھراُن کے سامنے کھڑا ہوجائے ،اورشمشیر یاکمان یاعصا پرٹیک لگائے ،پہلے وہ منبر پربیٹھ جائے ،یہاں تک کہ اذان مکمّل ہوجائے ،اذان ختم ہونے کے بعداُٹھے اور خطبہ شروع کرے ۔ خطبہ کامضمُون پہلے خدا کی حمد اورپیغمبر پردُرود ہے ّ( احتیاط اس میں ہے کہ یہ حصّہ عربی زبان میں ہولیکن باقی حصّہ سُننے والوں کی زبان میںپڑھا جائے) پھر لوگوں کوخوفِ خُدا اور تقوٰی کی وصیّت ونصیحت کرے ، قرآن مجید کی کوئی مختصر سی سُورہ پڑھے اوراس امر کی دونوں خطبوں میں رعایت کرے ،دُو سرے خطبہ میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر درود کے بعد آ ئمہ مسلمین کے لیے دُعا کرے اور مومنین ومومنات کے لیے استغفا ر کرے ۔ مُناسب ہے کہ خُطبہ کے ضمن میں ایسے اہم مسائل پیش کرے جومُسلمانوں کے دین اور دنیا کے ساتھ مربُوط ہیں .اِسلامی ممالک کے اندر اور باہر اوراس علاقے کے داخل وخارج میں جن باتوں کی مسلمانوں کوضر ورت و احتیاج ہے ،ان پربحث کرے ،وہ سیاسی ، اجتماعی ،اقتصادی اور دینی مسائل کوترجیح کالحاظ رکھتے ہُوئے پیش کرے .لوگوں کوآگاہی بخشے اوردشمنوں کی سازشوں سے باخبر کرے. بعدہ اِسلامی معاشرے کی حفاظت اورمخالفین کی سازشوں کوناکام بنانے کے لیے مختصر اور طویل مُدّ ت منصُوبے ان کے سامنے بیان کرے ۔ خُلاصہ یہ کہ خطیب کوبہُت ہی ہوشیار ،بیدار اوراسلامی مسائل کے بارے میں اہل فکر اورصاحبِ مُطالعہ ہوناچاہیے .اسے جُمعہ کے ان عظیم مراسم کو موقعیّت وحیثیت سے اِسلام اورمسلمانوں کے اہداف ومقاصد کی کامیابی کے لیے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرناچاہیے ( ۱) ۔ ایک حدیث میں امام علی بن موسیٰ رضاعلیہ ا لسلام سے آ وارد ہوا ہے : انما جعلت الخطبة یوم الجمعة لان الجمعة مشھد عام ،فاراد ان یکون للا میر سبب الی موعظتھم وتر غیبھم فی الطاعة،و تر ھیبھم من المعصیة و تو قیفھم علی ما اراد من مصلحة دینھم و دنیاھم ویخبرھم بما ورد علیھم من الافاق من الا ھوال التی لھم فیھا المضرة والمنفعة ... وانما جعلت خطبتین لیکون واحدة للثناء علی اللہ والتمجید والتقد یس اللہ عزوجل والاخرٰی للحوائج والا عذار والا نذار والدعاء ولما یرید ان یعلمھم من امرہ ونھیہ مافیہ الصلاح والفساد۔ جُمعہ کے دن خطبہ اِس لیے شُروع کیاگیاہے کہ نمازِ جمعہ ایک عمومی اجتما ع ہے ،خداچاہتاہے کہ مُسلمانوں کے امیر کویہ موقع فراہم کرے کہ وہ لوگوں کوعظ ونصیحت کرے ،اطاعت کی ترغیب دے معصیت الہٰی سے ڈرائے اور انہیں اس چیز سے آگاہ کرے کہ جس میںان کے دین ودنیا کی مصلحت او ربہزی ہے .نیز وہ اخبارو واقعات جومختلف علاقوں سے اس تک پُہنچے ہیں جولوگوں کے لیے ان کے سُود وزیاں میں مُوثّر ہیں، انہیں ان کی اطلاع دے ... او ردوخطبے اِس لیے قرار دیئے گئے ہیں تاکہ ایک میں خُدا کی حمد وثنا اورتمہید وتقدیس کرے اوردُوسرے میںاحتیاجات،ضرورتیں ،تنبیہیںاور دعائیں قرار دے اوران کے سامنے اوامر نواہی ،اورایسےاحکام کااعلان کرے،جواسلامی مُعاشر ے کی اصلاح اور فساد کے ساتھ مربُوط ہیں ( ۲) ۔ ۱۔ نماز جمعہ کے احکام کی خصوصیات و جُز ئیات اوراس کے خطبوں میں فقہاء کے فتاوٰی میں جُز ئی اختلاف ہے ،جوکچھ اوپر بیان ہُوا ہے وہ مختلف فتاوٰی کاخلاصہ ہے ۔ ۲۔وسائل الشیعہ،جلد٥،صفحہ ٣٩ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 62:9-11
ھفتہ کاعظیم ترین عبادی سیاسی اجتماعی
گزشتہ آ یات میں توحید ،نبّوت ،معاد اور دُنیا پرست یہودیوں کی مذّمت کے بارے میں مختصر مباحث آ ئے تھے ، زیر بحث آ یات ایک اہم ترین اسلامی فریضہ کے بارے میں ہیں جوایمان کی بُنیاد وں کی تقویت کے لیے حَد سے زیادہ تاثیر رکھتاہے ، اورایک لحاظ سے سورة کاہدف اصلی یہی ہے ،یعنی نماجمعہ اور یہ آ یات اس کے احکام کوبیان کرتی ہیں ۔ سب سے پہلے تمام مسلمانوں کومُخاطب کرتے ہُوئے فرماتاہے : اے ایمان لانے والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان کہی جائے تو ذکرِ خدا (خطبہ ونماز)کی طرف جلدی سے آ ئو اور خرید وفروخت چھوڑ دو،یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگرتم جانتے ہو (یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا ِذا نُودِیَ لِلصَّلاةِ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا ِلی ذِکْرِ اللَّہِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ ذلِکُمْ خَیْر لَکُمْ ِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ) ۔ نُودی نِداکے مادہ سے پکارنے کے معنی میں ہے ،اوریہاں اس سے مُراد اذان ہے ،کیونکہ اسلام میں نماز کے لیے اذان کے علاوہ اورکوئی ندانہیں ہے جیساکہ سورۂ مائدہ کی آ یت ٥٨ میں آ یاہے : وَ اِذا نادَیْتُمْ اِلَی الصَّلاةِ اتَّخَذُوہا ہُزُواً وَ لَعِباً ذلِکَ بِأَنَّہُمْ قَوْم لا یَعْقِلُونَ جب تم لوگوں کونماز کے لیی پکارتے ہو (اوراذان کہتے ہو)تووہ اس کا مذاق اڑاتے اوراسے کھیل تماشاسمجھتے ہیں .اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک بے عقل قوم ہیں ۔ اِس طرح سے جس وقت نماجمعہ کی اذان کی آواز بلندہوتی ہے تولوگوں کافرض ہے کہ وہ کارو بار کوچھوڑ کرنماز کی طرف دوڑ کرآ ئیں جواہم ترین ذکرِخداہے ۔ ذلِکُمْ خَیْر لَکُمْ ِ کاجملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس موقع پر کارو بار کوچھوڑ کرنمازجمعہ کوقائم کرنامُسلمانوں کے لیے بہت ہی نفع کی بات ہے ،بشرطیکہ وہ اس بارے میں ٹھیک طورپر غوروفکر کریں ، ورنہ خداتو سب سے بے نیاز اور سب پر مہر بان ہے ۔ یہ جملہ نمازِ جمعہ کے فلفسہ اور فوائد کی طرف ایک اجمالی اشارہ ہے ،اِس کے بارے میں ہم انشاء اللہ نکات کی بحث میں گفتگو کریں گے ۔ البتّہ خرید وفروش کوترک کرناایک وسیع مفہُوم رکھتاہے جوہرمزاحم کام کو شامل ہے ۔ باقی رہی یہ بات کہ جمعہ کے دن کوجمعہ کانام کیوں دیاگیاہے ؟ تواس کی وجہ اس دن لوگوں کانماز جمعہ کے لیے جمع اوراکھٹا ہوناہے ، ا،س مسئلہ کی ایک مختصر سی تاریخ ہے ، جونکات کی بحث میں آ ئے گی ۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ بعض اِسلامی روایات میں روزانہ کی نماز کے بارے میں یہ آیا ہے :اذا اقیمت الصلوٰة فلا تأ توھا وانتم تسعون وأتوھاو انتم تمشون وعلیکم السکینة۔ جب نماز (یومیہ)کھڑی ہوجائے تونمازمیں شرکت کے لیے دوڑو نہیں اور آرام کے ساتھ قدم اٹھائو (۱) ۔ لیکن نمازِ جمعہ کے بارے میں اوپر والی آ یت یہ کہتی ہے : فاسعوا(دوڑکرآئو)یہ نماز جمعہ کی حد سے زیادہ اہمیت کی دلیل ہے ۔ ذکر اللہ سے مُراد پہلے تونماز ہی ہے . لیکن ہم جانتے ہیں کہ نمازِ کے خطبات بھی کہ جن میں خدا ہی کاذکرہوتاہے حقیقت میں نماز جمعہ کاایک حصّہ ہیں،اِس ب بناء پر ان خطبوں میں شرکت کے لیے بھی دوڑ کرآنا چاہیئے ۔ بعد والی آ یت میں مزید کہتاہے : جب نماز ختم ہو جائے توپھر تم آزاد ہو ،زمین میں چلوپھرو اور خدا کافضل تلاش کرو اور خدا کوبہت بہت یاد کرو تاکہ تم نجات پائو (فَِذا قُضِیَتِ الصَّلاةُ فَانْتَشِرُوا فِی الْأَرْضِ وَ ابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّہِ وَ اذْکُرُوا اللَّہَ کَثیراً لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُون) ۔ اگرچہ ابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّہ (اللہ کافضل طلب کرو)کاجُملہ یاقرآن مجید میں اس مشابہ تعبیریں غالباً روزی طلب کرنے اورکسب وتجارت کے معنی میں آ ئی ہیں ،لیکن یہ فبات واضح ہے کہ اس جُملہ کامفہوم وسیع ہے اور کسب و کار اس کے مصادیق میں سے ایک ہے ،اِسی لیے بعض نے عیادت ِ مریض ،زیارت ِ مومن ، یاتحصیل ِ علم ودانش کے معنی میں اس کی تفسیر کی ہے ،اگرچہ یہ ان میں بھی مُنحصر نہیں ہے ۔ یہ بات کہے بغیر واضح ہے کہ زمین میں پھیل جانے اور روزی طلب کرنے کاامر امرِوجُوبی ہے ،بلکہ اصطلاح کے مُطابق یہ امربعد ازحظر ونہی ہے اورجواز کی دلیل ہے ،لیکن بعض نے اس تعبیر سے یہ مطلب لیا ہے کہ نمازِ جُمعہ کے بعد روزی کی تحصیل وطلب ایک مطلوبیّت اور برکت رکھتی ہے . اورایک حدیث میں آ یاہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نمازِ جمعہ کے بعد بازار میں تشریف لے جاتے تھے ۔ وَ اذْکُرُوا اللَّہَ کَثیرا کاجُملہ ان تمام نعمتوں کے لیے جوخُدا نے انسان کودی ہیں ،خدا کویاد کرنے کی طرف اِشارہ ہے اور بعض نے یہاں ذکر کو فکر کے معنی میں سے تعبیر کیا ہے ،جیساکہ حدیث میں آ یاہے تفکر ساعة خیرمن عبادة سنة ایک ساعت غور وفکر کرناایک سال کی عبادت سے بہتر ہے ( ۲) ۔ اوربعض نے اس کو بازاروں میں مُعاملات کے وقت ، خداکی طرف توجّہ اوراصُولِ حق وعدالت سے انحراف نہ کرنے سے بھی تعبیر کیاہے ۔ لیکن واضح ہے کہ آ یت ایک وسیع مفہُوم رکھتی ہے جوان تمام مطالب کواپنے دامن میں سموئے ہُوئے ہے . یہ بھی مُسلّم ہے کہ ذکر کی روح فکر ہے اور وہ ذکر جوفکرکے بغیر ہولقلقہ ٔ زبانی سے زیادہ نہیںاور جو بات فلاح ونجات کاسبب ہے وہ وہی ذکر ہے جوتمام حالات میں غور وفکر کے ساتھ ہو ۔ اصولی طورپر بار بار ذکر کرنے سے خُدا کی یاد انسان کی جان کی گہرائیوں میں راسخ ہوجاتی ہے ،اورغفلت اوربے خبری کی جڑ یں جل جاتی ہیں جوہرقسم کے گناہ کااصلی عامل ہوتی ہیں ، پس یوں انسان فلاح ونجات کے راستے پرچلنے لگتاہے اور لعلکم تفلحون کی حقیقت حاصِل ہوجاتی ہے ۔ زیرِ بحث آخری آیت میں ان لوگوں کوجنہوں نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کونماز جمعہ کے وقت چھوڑ دیااور آ نے والے قافلہ سے مال خرید نے کے لیے بازار کے طرف بھاگ کھڑے ہُوئے تھے ،شدّت کے ساتھ ملامت کرتے ہُوئے کہتاہے : جب وہ کوئی تجارت یاکھیل تماشہ کی بات دیکھتے ہیں تو پراگندہ ہوجاتے ہیں اور آپ کو(نمازِجمعہ کاخطبہ پڑھنے کے دوران)کھڑا ہوا چھوڑ کرچل دیتے ہیں (وَ ِذا رَأَوْا تِجارَةً أَوْ لَہْواً انْفَضُّوا ِلَیْہا وَ تَرَکُوکَ قائِماً) ۔ لیکن ان سے کہہ دیجئے کہ جوکچھ خُدا کے پاس ہے وہ لہوولعب اور تجارت سے بہتر ہے اورخدا بہترین روزی دینے والا ہے ( قُلْ ما عِنْدَ اللَّہِ خَیْر مِنَ اللَّہْوِ وَ مِنَ التِّجارَةِ وَ اللَّہُ خَیْرُ الرَّازِقینَ ) ۔ نماز جمعہ میں حاضر ہونے اور پیغمبر کے مواعظ ونصائح سُننے سے جوخدائی اجرو ثواب اور برکتیں اورمعنوی وروحانی تربیّت تمہیں حاصل ہوتی ہے ،ان سب بر کات کاکسِی دوسری چیز کے ساتھ مقابلہ نہیں ہوسکتا .اگرتم اس بات سے ڈرتے ہوکہ تمہاری روزی منقطع ہوجائے گی توتم غلطی پرہو ، خدابہترین روزی دینے والاہے ۔ لہو کی تعبیر ،طبل اوران تمام دُوسرے آلاتِ لہو کی طرف اشارہ ہے جووہ لوگ مدینہ میںکسی نئے قافلہ کے وارد ہونے کے وقت بجایا کرتے تھے ،یہ ایک طرح سے ان کے آ نے کی خبراور اعلان بھی ہوتاتھا اور مال ومتاع کوبیچنے کے لیے تشہیر بھی ،جیسا کہ وہ منڈ یاں اور بازار ، جو مغربی طرز کے ہیں ، ان میں بھی اِس کے نمونے دکھائی دیتے ہیں ۔ انفصواکی تعبیر ،پراگندہ ہونے ، نمازِ جُمعہ سے منصرف ہونے اورقافلہ کارُخ کے معنی میں ہے ،جیساکہ شانِ نزول میں بیان کیاگیاہے کہ جس وقت وحیہ کاقافلہ مدینہ میں وارد ہو ا( اس نے ابھی تک اسلام قبول نہیں کیاتھا)تواس نے طبل اور دوسرے آلاتِ لہو کے ساتھ لوگوں کوبازار کی طرف بُلا یای، مدینہ کے لوگ ،یہاں تک کہ وہ مُسلمان بھی جو مسجد میں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کاخُطبہ جمعہ سُن رہے تھے ،اس کی طرف بھاگ کھڑے ہُوئے اور مسجد میں صرف تیرہ مرد اور ایک روایت کے مُطابق اس سے بھی کم افراد باقی رہ گئے۔ الیھاکی ضمیر تجارت کی طرف لوٹتی ہے ،یعنی وہ مال تجارت کی طرف دوڑ گئے .اس کی وجہ یہ ہے کہ لہوو لعب ان کااصلی ہدف نہیں تھا بلکہ وہ تو قافلہ کے وارد ہونے کے اعلان کی ایک تمہید تھی ، یامال تجارت کے پرو پیگنڈہ میں روز پیدا کر نے کے لیے تھا ۔ قائما کی تعبیر بتاتی ہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کھڑے ہو کر نمازجمعہ کاخُطبہ دے رہے تھے ،جیساکہ جابر بن سمرہ کی حدیث میں نقل ہُوا کہ وہ کہتاہے : میں نے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کوخطبہ کی حالت میں کھبی بھی بیٹھے ہُوئے نہیں دیکھا اورجوشخص یہ کہے کہ آپ بیٹھ کر خُطبہ پڑھتے تھے تواُسے جُھوٹا سمجھو(۳) یہ روایت بھی آ ئی ہے : لوگوں نے عبداللہ بن مسعُود سے پوچھا: کیاپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کھڑے ہوکہ خطبہ دیا کرتے تھے ؟عبداللہ نے کہا: کیاتم نے نہیں سُنا کہ خدا فرماتاہے : وترکوک قائماً اوروہ تجھے کھڑاہُوا ہی چھوڑ کرچل دیئے ( ۴) ۔ تفسیر درّ المنثور میں آیاہے کہ سب سے پہلاشخص جِس نے نماز جمعہ کاخطبہ بیٹھ کردیا، وہ معاویہ تھا( ۵) ۔ ۱۔ورح المعانی ،جلد٢٨،صفحہ ٩٠۔ ۲۔مجمع البیان ،جلد١٠،صفحہ ٢٨٩۔ ۳۔مجمع البیان جلد١٠،صفحہ ٢٨٦۔ ۴۔مجمع البیان جلد١٠،صفحہ ٢٨٦۔ ۵۔تفسیردرالمنثور جلد٦،صفحہ ٢٢٢.اس روایت کو دُوسرے مفسّرین مثلاً ""آلوسی "" نے "" رُوح المعانی ""میں اور "" قرطبی "" نے بھی اپنی تفسیرمیں نقل کیاہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 62:9-11
1۔ اسلام میں پہلی نماز جمعہ
بعض اسلامی روایات میں آ یا ہے کہ مدینہ کے مسلمانوں نے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی ہجرت سے پہلے باہم مل کربات کی اورکہا کہ یہودی ہفتہ مین ایک دن (بروزہفتہ)اجتماع کرتے ہیں اور عیسائی بھی اجتماعی کے لیے (اتو ارکا)ایک دن رکھتے ہیں .لہٰذا ہم بھی ایک دن مُقررّکرلیتے ہیں تاکہ اس میں جمع ہوکرذکر خدا کریں اوراس کا شکر بجا لائیں .انہوں نے ہفتہ سے پہلے کادن کہ جسے اُس زمانہ میں یوم العرربہکہتے تھے ،اِس مقصد کے لیے منتخب کیااور ( بزرگانِ مدینہ میں سے ایک شخص)اسعدبن زرارہ کے پاس گئے .اس نے ان کے ساتھ مل کر جماعت کی صُورت میں نماز اداکی اورانہیں وعظ ونصیحت کی . پس وہی دن روزِ جمعہ کے نام سے موسوم ہوگیا کیونکہ وہ مُسلمانوں کے اجتماع کادن تھا ۔ اسعدکے حکم پر ایک گوسفند ذبح کیاگیا اور سب نے دوپہراور شام کاکھانا اسی گوسفندسے کھایا ،کیونکہ اس وقت مُسلمانوں کوتعداد بہت تھوڑ ی تھی ۔ یہ پہلاجملہ تھا جو اسلام میں پڑھاگیا لیکن وہ پہلا جمعہ جوحضرت رسُول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اپنے اصحاب کے ساتھ دپڑھا وہ اس وقت پڑھاگیا جب آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی . جب آپ مدینہ میں وارد ہوئے تو اس دن پیر کا دن ب ارہ ربیع الاوّل اور ظہر کاوقت تھا ،حضرت چار دن تک قبامیں رہے اور مسجد قباکی بُنیادرکھّی،پھر جُمعہ کے دن مدینہ کی طرف روانہ ہُوئے ( قبا اور مدینہ کے درمیان فاصلہ بُہت ہی کم ہے اور مو جودہ وقت میں قبا مدینہ کاایک داخلی مُحلّہ ہے )اور نمازِ جُمعہ کے وقت آپ محلّہ بنی سالم میں پہنچے ،وہاں نمازِ جمعہ ادا فر مائی اور یہ اسلام میں پہلاجمعہ تھاجو حضرت رسُول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ادا کیا،جمعہ کی اس نمازمیںآپ نے خطبہ بھی پڑھا ،جومدینہ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کاپہلا خطبہ تھا ( ۱) ۔ ایک محدّث نے عبدالرحمن بن کعبسے نقل کیاہے کہ میرا باپ جب جمعہ کی اذان کی آواز سنتا ،تواسعد بن زرارہ کے لیے رحمت کی دُعا کیاکرتاتھا، جب میں نے اس کی وجہ پُوچھی تواُس نے کہا:اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پہلاشخص تھاجس نے ہمارے ساتھ نماجمعہ اداکی ، میں نے کہا :اُس وقت کتنے افراد حاضر تھے ؟اس نے کہا:صرف چالیس نفر(۲) ۔ ۱۔مجمع البیان ،جلد١٠،صفحہ ٢٨٦۔ ۲۔وسائل الشیعہ جلد٥،صفحہ٧ باب وجوب صلوٰة الجمعة حدیث ٢٨۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 62:9-11
٢۔ نماز جُمعہ کی اھمیّت
سب سے پہلے تواس عظیم اسلامی فریضہ کی اہمیّت کی بہترین دلیل اسی سورہ کی آیات ہیں جوتمام مُسلمانوں اوراہل ایمان کویہ حکم دیتی ہیں کہ جمعہ کی اذان سُنتے ہی اس کی طرف ددوڑ پڑیں ،ہرقسم کے کاروباراور رُکاوٹ ڈالنے والے کام چھوڑ دیں . یہاں تک کہ اگرکسِی سال لوگ غذائی اشیاء کی کمی میں گرفتار ہوں اور کوئی ایسا قافلہ آ جائے جوان کی ضرورت کی چیزیں ساتھ لے کر آ یاہوتووہ اس کی طرف نہ جائیں اور نمازِ جُمعہ کے اعمال کوجاری رکھیں۔ اسلامی روایات میں بھی اس سلسلہ میں بہت سی تاکید یں وارد ہُوئی ہیں، ان میں سے ایک خطبہ ہے کہ جسے موافق ومُخالف سب نے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)گرامی سے نقل کیاہے اِس میں آ یاہے : ان اللہ تعالیٰ فرض علیکم الجمعة فمن ترکھا فی حیاتی اوبعد موتی استخفافاًبھا او جحوداً لھافلا جمع اللہ شملہ ، ولابارک لہ فی امرہ الا ولا سلوٰة لہ ، الا ولا زکوٰة لہ ،الاولاحج لہ الاولا صوم لہ،الا ولابرلہ حتی یتوب ۔ خُدا نے نمازِ جمعہ تم پر واجب کی ہے .اگر کوئی شخص اسے میری زندگی میں یامیری وفات کے بعداستخفاف یاانکار کے طورپر ترک کرے توخُدااُسے پریشان حال کردے گااوراس کے کسِی کام میں برکت نہیں دے گا ،جان لوکہ اُس کی نماز قبول نہیں ہے ،اس کی زکوٰة قبول نہیں ہے اورجان لوکہ اُس کے نیک اعمال قبُول نہیں ہے جب تک کہ اپنے اس عمل سے توبہ نہ کرے ( ۱) ۔ ایک اورحدیث میں امام باقر علیہ السلام سے مروی ہے : صلوٰةالجمعة فریضة ،والا جتماع الیھا فریضة مع الامام ، فان ترک رجل من غیر علة ثلاث جمع فقد ترک ثلاث فرائض ، ولا ید ع ثلاث فرائض من غیر علة الامنافق : نمازِجمعہ ایک فریضہ ہے اوراس کااجتماع امام (معصُوم)کے ساتھ واجب ہے .جب کوئی شخص تین جمعے بغیر کسِی عُذر کے ترک کردے تو اس نے تین فریضے ترکت کیے ہیں . اور تین فرائض بغیر کسِی علّت کے ترک نہیں کرتا مگر منافق (۲) ۔ ایک حدیث میں حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے منقول ہے : من اتی الجمعة ایماناً واحتساباًاستأ نف العمل جوشخص ازرُوئے ایمان خُدا کے لیے نماز جمعہ میں شرکت کرے تواس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اوروہ اپنے عمل کاسلسلہ نئے سر ے سے شر وع کرے گا ( ۳) ۔ اس سلسلے میں روایات بُہت زیادہ ہیں، اوران سب کابیان کرناباعثِ طوالت ہوگا ،ہم یہاں ایک اورحدیث نقل کرکے اس بحث کوختم کرتے ہیں ۔ ایک شخص حضرت رسُول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت میں آیا اورعرض کیا:یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! میںکئی مرتبہ حج کے لیے تیّار ہوا ہوں لیکن مجھے توفیق حاصِل نہ ہُوئی .اس پر آ پ نے فر مایا:علیک بالجمعة فانھا حج المساکین ۔ تو نماز جمعہ پڑھا کرکیونکہ مساکین کاحج یہی ہے ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حج کے عظیم اِسلامی اجتماع کے بُہت سے برکات نمازِ جمعہ کے اِجتماع میں موجُود ہوتے ہیں ( ۴) ۔ البتّہ یہ بات مدّ نظر رہے کہ شدیدمذ مّتیں نمازِ جمعہ کے ترک کرنے کے بارے میں آ ئی ہیں ، جن میں جُمعہ کے ترک کرنے والوں کومنافقین کے زمرہ میں شمار کیاگیاہے .یہ اس صُورت میں ہے کہ جب نماز جمعہ واجب عینی ہو ، یعنی امام معصُوم کے حضُور اوران کے مبسُوط الید ہونے کازمانہ ہو ، لیکن چونکہ زمانۂ غیبت میں یہ واجب تیخیری ہے ( نماز جُمعہ اور نماظہر کے درمیان اختیار ہے )اور بطور استخفاف و انکار بھی ترک نہ ہو توپھر وہ ان مذ مّتوں کامشمول نہیں ہوگا .اگرچہ نمازِ جمعہ کی عظمت اوراس کی حد سے زیادہ اہمیّت اس حالت میں بھی محفُوظ ہے (اس مسئلہ کی مزید وضاحت کے لیے فقہ کی کتابوں کامطالعہ کرناچاہیے ) ۔ ۱۔ وسائل الشیعہ جلد٥،صفحہ ٤حدیث ٨۔ ۲۔روح المعانی ،جلد٢٨،صحہ ٨٨۔ ۳۔وسائل شیعہ ،جلد٥،صفحہ ١٠۔ ۴۔وسائل شیعہ ،جلد٥،صفحہ ١٧۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 62:9-11
٣۔نماز عبادی سیاسی جمعہ کافلسفہ
نمازِجمعہ ہرچیزسے پہلے ایک عظیم اجتماعی عبادت ہے اورعبادت کی عمومی تاثیر کہ جورُوح وجان کو لطیف بنایا ، دل کوگناہ کی آ لودگیوں سے پاک کرنا اور دل سے معصیّت کے رنگ کواتارنا ہے وہ ،اس میں موجود ہے .خاک طورپر یہ بات کہ اس میں دوخطبے ہوتے ہیں ،جوانواع واقسام کے مواعظ، پند ونصائح اور تقوٰی وپرہیز گاری کاحکم دینے پر مشتمِل ہوتے ہیں ۔ لیکن اجتماعی اور سیاسی لحاظ سے یہ ایک عظیم ہفتہ وار کانفرنس ہے ، جوحج کی سالانہ کانفرنس کے بعد بزرگ ترین اسلامی کانفرنس ہے ،اسی وجہ سے اس روایت میں جوپہلے ہم پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے پہلے نقل کرچکے ہیں ،یوں آ یاہے کہ جُمعہ ان لوگوں کاحج ہے جومراسم ِحج میں شرکت کی قدرت نہیں رکھتے ۔ حقیقت میں اِسلام تین عظیم اجتماعوں کواہمیّت دیتا ہے : ١:روزانہ کے اجتماعات جونماز جماعت میں حاصلِ ہوتے ہیں ۔ ٢:ہفتہ واراجتماع جونمازجمعہ کے اعمال سے حاصلِ ہوتاہے ۔ ٣:حج کااجتماع جوخانۂ خدا کے پاس ہرسال ایک مرتبہ انجام پاتاہے ۔ ان سب میں سے نماز جُمعہ کااثر بہُت ہی اہم ہے ، خاص طورپر یہ بات کہ نماز جمعہ کے خطبہ میں خطیب کا ایک موضوع اہم سیاسی اجتماعی اوراقتصادی مسائل کے بارے میں ہوتاہے .اس طرح سے اس عظیم اور پُر شکوہ اِجتماعی سے ذیل کے برکات حاصِل ہوسکتے ہیں : ١:لوگوں کومعارفِ اِسلامی اوراہم اجتماعی وسیاسی حالات وواقعات سے آگاہ کرنا ۔ ب:مُسلمانوں کی صفوں میں ایسی ہم آہنگی اور زیادہ سے زیادہ نظم اتّحاد پیدا کرناجو دشمنوں کووحشت میں ڈال دے اورانہیں لرزہ براندام کردے ۔ ج:مسلم عوام میں دینی رُوح اور نشا ط معنوی کی تجدید۔ د:عام مشکلات کے حل کے لیے باہمی تعا وُن حاصل کرنا ۔ اسی وجہ سے دشمنانِ اسلام ہمیشہ ایک ایسی جامع الشرائط نمازِ جُمعہ سے خود فزدہ رہتے تھے ، جس میں خصوصیّت کے ساتھ احکام اِسلامی کی رعایت کی جاتی ہو۔ اسی بناء پر نمازجمعہ حکومتوں کے ہاتھ میں ہمیشہ ایک طاقتور ہتھیار رہی ہے .البتّہ عاد لانہ حکومتیںجیسے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی حکومت ، اِس سے اسلام کے نفع کے لیے بہترین استفادہ کیاکرتے تھے اورحکومتہائے جور ، جیسے بنی اُمیّہ کی حکومت ،اِس سے اپنی طاقت اور قُدرت کی بُنیادوں کومضبوط ومحکم کرنے کے لیے سوئِ استفادہ کیاکرتی تھیں ۔ ہم طول تاریخ میں مُشاہدہ کرتے ہیں کہ جوشخص یہ چاہتا کہ وہ کسِی حکومت کے خلاف قیام کرے توسب سے پہلے وہ اس کی نمازِ جمعہ میں شرکت سے رُک جایا کرتاتھاجیساکہ کہ واقعہ کربلا میں بیان ہُوا ہے کہ شیعوں کاایک گروہ سلیمان بن صرد خزاعی کے گھر میں جمع ہُوا اورانہوں نے کُوفہ سے امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں ایک خط لکھا کہ جس کامضمون یہ تھا : کوفہ میں بنی اُمیّہ کا گور نر نعمان بن بشیر گوشہ نشین ہوگیاہے اورہم اس کی نمازِ جمعہ میں شرکت نہیں کرتے اگرہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ آپ ہمارے طرف آرہے ہیں توہم اُسے کوفہ سے نکال دیں گے (۱) ۔ صحیفۂ سّجاد یہ میں امام علی بن الحسین علیہماالسلام سے واردہُوا ہے : اللھم ان ھذا المقام لخلفا ئک واصفیائک و مواضع امنا ئک فی الدرجة الرفیعة التی اختصصتھم بھاقدابتزوھا۔ خدا وندا !یہ مقام (نمازِ جمعہ اور عید قربان ) تیرے خلفاء برگز یدہ ہستیوںاوربُلند پایہ امینوںکے لیے مخصُوص ہے اور تونے اس کے لیے انہیں کومخصُوص کیاتھا. لیکن (بنی اُمیّہ کے خلفاء جور)نے زبردستی اسے اولیاء حق سے لے لیا اور غصب کر لیا (۲) ۔ بعض اوقات ایسا ہوتاہے کہ دُشمنانِ السلام ہفتہ بھررات دن زہریلے پیروپیگنڈے میں مصروف رہتے ہیں لیکن وہ سب کے سب نمازِ جمعہ کے ایک ہی خطبہ اوراُس کے پُر شکوہ اورحیات بخش اعمال سے بے اثرہو کر رہ جاتے ہیں ، جبکہ مُسلمانوں کے جسموں میں ایک نئی رُوح پھونک دی جاتی ہے اوران کی رگوں میں ایک تازہ خون دوڑ نے لگتاہے ۔ اس نکتہ کی طرف توجّہ کرتے ہُوئے کہ شیعہ فقہ کے مُطابق ہرطرف سے ایک فرسخ کے علاقہ میں ایک سے زیادہ نمازِ جمعہ جائزنہیں ہے تاکہ وہ لوگ جونمازِ جمعہ کے انعقاد کے جگہ سے دوفرسخ (تقریباً گیارہ کیلومیڑ ) کے اندر رہتے ہیں ،وہ اس نمازمیں شرکت کریں،اِس حُکم سے یہ واضح ہوجاتاہے کہ عملی طورپر چھوٹے اور بڑے شہراوراس کے اطراف میںایک سے زیادہ نمازِ جمعہ منعقد نہیں ہوگی ،اِس بناء پر یہی نماز جمعہ اِس علاقے کا ایک عظیم ترین اجتماع ہوگا ۔ لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہناپڑتاہے کہ یہ عبادی سیاسی مراسم جواسلامی معاشروں میں ایک عظیم تحّر ک کاباعث بن سکتے تھے ،ان میں فاسد حکومتوں کے نفوذ کی وجہ سے بعض اسلامی ممالک میں یہ ایسے بے رُوح اور بے جان ہوگئے ہیں کہ عملی طورپر ان سے کوئی مثبت اثر حاصِل نہیں ہوتا اوران اجتماعات نے ایک رسمی سے عمل کی شکل اختیار کرلی ہے ،مگر واقعتا یہ ان عظیم سرمایوں میںسے ہے کہ جن کے ضائع ہونے پر رونا چایئے ۔ سال بھر کی اہم ترین نمازِ جمعہ وہ ہے جوعرفان کی طرف جانے سے پہلے مکّہ میں انجام پاتی ہے ،اِس میں ساری دنیاسے آئے ہُوئے خانۂ خُدا کے تمام حجّاج شرکت کرتے ہیں کوکرّۂ ارض کے مسلمانوں کے تمام طبقات کے واقعی نمائندے ہوتے ہیں ،ایسی اہم اورحساس نماز کاخطبہ تیّار کرنے کے لیے مناسب ہے کہ بہُت سے علماء کئی کئی ہفتوں اورمہینوں تک مطالعہ اور تیّاری کریں ،پھر اس کاماحصل اس حساس دن کے تاریخی خطبے میں تمام مُسلمانوں کے سامنے پیش کریں .یوں وہ یقینی طورپر اس کی برکت سے اِسلامی معاشرے کوزیادہ سے زیادہ آگاہی دیتے ہُوئے اس کی بڑی بڑی مشکلات کوحل کرسکتے ہیں ۔ لیکن ان دونوں یہ ایک انتہائی کی افسوس کی بات دکھائی دیتی ہے کہ حرمِ پاک میں اس جمعہ پر بہُت ہی معمولی اور عالم مسائل ومطالب پیش کیے جاتے ہیں جن سے تقریباً سبھی لوگ واقف ہوتے ہیں .لیکن وہاں اصُولی مسائل کی بالکل کوئی خبر ہی نہیں ہوتی . کیااس قسم کی عظیم فرصت اورعظیم سرمایوں کے ہاتھ سے نکل جانے کے لیے گریہ نہیں کرنا چاہیے ؟ اوراس کوبدلنے کے لیے قیام نہیں کرناچاہیئے ؟ ۱۔بحارالانورا ، جلد٤٤،صفحہ٣٣٣۔ ۲۔صحیفۂ سجادیہ دعا ٤٨۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 62:9-11
۴۔ نمازجمعہ کے آداب اور خطبوں کے مطالب ومضا مین
نمازِ جمعہ (ضر وری شرائط کی موجودگی میں) بالغ اورصحیح وسالم پرواجب ہے جونماز میں شرکت کی طاقت رکھتے ہیں،مسافروں اور بُوڑھے لوگوں پر واجب نہیں ہے ،اگرچہ مُسافر کے لیے نمازِ جمعہ میں حاضر ہوناجائز ہے ،اسی طرح سے عورتیں بھی نمازِ جمعہ میں شرکت کرسکتی ہیں اگرچہ ان پرواجب نہیں ہے ۔ وہ کم سے کم تعداد پانچ مرد ہے جِس نمازجُمعہ منعقد ہوسکتی ہے ،نمازجمعہ دورکعت ہے اوروہ نماز ظہر کی جگہ لے لیتی ہے نیز دوخطبے جونمازِ جمعہ سے پہلے پڑھے جاتے ہیں وہ حقیقت میں دو رکعتوں کی جگہ محسُوس ہوتے ہیں ۔ نماز جمعہ صبح کی نمازکی طرح ہے اور مستحب ہے کہ اس میں حمد وسورہ کوبلند آواز میںپڑھاجائے ،اِس کے علاوہ مستحب ہے کہ پہلی رکعت میں سورۂ جمعہ اوردوسری رکعت میں سورة منافقین کی قرأت کی جائے ۔ نمازِ جمعہ میںدوقنوت مستحب ہیں .ایک رکعت اوّل میں رکُوع سے پہلے اوردُوسرادوسری رکعت میں رکُوع کے بعد ہے ۔ دوخطبوں کاپڑھنا نمازِ جمعہ سے پہلے واجب ہے ،جیساکہ خطیب کاکھڑے ہوکرخطبہ دینابھی واجب ہے جوشخص خطبہ دیتاہے حتمی طور پر نمازِ جمعہ کاامام وہی ہوناچاہیئے ۔ خطیب کواپنی آ واز اتنی بلند کرناچاہیے کہ لوگ اس کی آواز کوسُن لیں، تاکہ خطبہ کامضمون سب کے کانوں تک پہنچ جائے ۔ خطبہ کے دوران میں سا معین کوخاموش رہنا اورخطیب کی باتوں پر کان دھرنا چاہیئے ،نیز خطیب کے رُو بُرو بیٹھنا چاہیے ۔ خطیب کومردِ فصیح وبلیغ ،اوضاع واحوال مسلمین سے آگاہ ،اسلامی معاشرے کے مصالح سے باخبر ،شجاع ،صریح اللہجہ اوراظہار حق میں قاطع ہوناچاہیے .اِس کے اعمال و رفتار اس کے کلام کی تاثیر ونفوذ کاسبب ہونے چاہئیں اوراس کی زندگی لوگوں کوخدا کی یاد دلانے والی ہونی چاہیے ۔ مُناسب ہے کہ وہ پاکیز ہ ترین لباس پہنے ہُوئے ہو ، اپنے بدن کوخوشبو لگائے ،وقار اور سکینہ کے ساتھ قدم اُٹھا ئے اور جب ممبر پرجائے لوگوں کوسلام کرے پھراُن کے سامنے کھڑا ہوجائے ،اورشمشیر یاکمان یاعصا پرٹیک لگائے ،پہلے وہ منبر پربیٹھ جائے ،یہاں تک کہ اذان مکمّل ہوجائے ،اذان ختم ہونے کے بعداُٹھے اور خطبہ شروع کرے ۔ خطبہ کامضمُون پہلے خدا کی حمد اورپیغمبر پردُرود ہے ّ( احتیاط اس میں ہے کہ یہ حصّہ عربی زبان میں ہولیکن باقی حصّہ سُننے والوں کی زبان میںپڑھا جائے) پھر لوگوں کوخوفِ خُدا اور تقوٰی کی وصیّت ونصیحت کرے ، قرآن مجید کی کوئی مختصر سی سُورہ پڑھے اوراس امر کی دونوں خطبوں میں رعایت کرے ،دُو سرے خطبہ میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر درود کے بعد آ ئمہ مسلمین کے لیے دُعا کرے اور مومنین ومومنات کے لیے استغفا ر کرے ۔ مُناسب ہے کہ خُطبہ کے ضمن میں ایسے اہم مسائل پیش کرے جومُسلمانوں کے دین اور دنیا کے ساتھ مربُوط ہیں .اِسلامی ممالک کے اندر اور باہر اوراس علاقے کے داخل وخارج میں جن باتوں کی مسلمانوں کوضر ورت و احتیاج ہے ،ان پربحث کرے ،وہ سیاسی ، اجتماعی ،اقتصادی اور دینی مسائل کوترجیح کالحاظ رکھتے ہُوئے پیش کرے .لوگوں کوآگاہی بخشے اوردشمنوں کی سازشوں سے باخبر کرے. بعدہ اِسلامی معاشرے کی حفاظت اورمخالفین کی سازشوں کوناکام بنانے کے لیے مختصر اور طویل مُدّ ت منصُوبے ان کے سامنے بیان کرے ۔ خُلاصہ یہ کہ خطیب کوبہُت ہی ہوشیار ،بیدار اوراسلامی مسائل کے بارے میں اہل فکر اورصاحبِ مُطالعہ ہوناچاہیے .اسے جُمعہ کے ان عظیم مراسم کو موقعیّت وحیثیت سے اِسلام اورمسلمانوں کے اہداف ومقاصد کی کامیابی کے لیے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرناچاہیے ( ۱) ۔ ایک حدیث میں امام علی بن موسیٰ رضاعلیہ ا لسلام سے آ وارد ہوا ہے : انما جعلت الخطبة یوم الجمعة لان الجمعة مشھد عام ،فاراد ان یکون للا میر سبب الی موعظتھم وتر غیبھم فی الطاعة،و تر ھیبھم من المعصیة و تو قیفھم علی ما اراد من مصلحة دینھم و دنیاھم ویخبرھم بما ورد علیھم من الافاق من الا ھوال التی لھم فیھا المضرة والمنفعة ... وانما جعلت خطبتین لیکون واحدة للثناء علی اللہ والتمجید والتقد یس اللہ عزوجل والاخرٰی للحوائج والا عذار والا نذار والدعاء ولما یرید ان یعلمھم من امرہ ونھیہ مافیہ الصلاح والفساد۔ جُمعہ کے دن خطبہ اِس لیے شُروع کیاگیاہے کہ نمازِ جمعہ ایک عمومی اجتما ع ہے ،خداچاہتاہے کہ مُسلمانوں کے امیر کویہ موقع فراہم کرے کہ وہ لوگوں کوعظ ونصیحت کرے ،اطاعت کی ترغیب دے معصیت الہٰی سے ڈرائے اور انہیں اس چیز سے آگاہ کرے کہ جس میںان کے دین ودنیا کی مصلحت او ربہزی ہے .نیز وہ اخبارو واقعات جومختلف علاقوں سے اس تک پُہنچے ہیں جولوگوں کے لیے ان کے سُود وزیاں میں مُوثّر ہیں، انہیں ان کی اطلاع دے ... او ردوخطبے اِس لیے قرار دیئے گئے ہیں تاکہ ایک میں خُدا کی حمد وثنا اورتمہید وتقدیس کرے اوردُوسرے میںاحتیاجات،ضرورتیں ،تنبیہیںاور دعائیں قرار دے اوران کے سامنے اوامر نواہی ،اورایسےاحکام کااعلان کرے،جواسلامی مُعاشر ے کی اصلاح اور فساد کے ساتھ مربُوط ہیں ( ۲) ۔ ۱۔ نماز جمعہ کے احکام کی خصوصیات و جُز ئیات اوراس کے خطبوں میں فقہاء کے فتاوٰی میں جُز ئی اختلاف ہے ،جوکچھ اوپر بیان ہُوا ہے وہ مختلف فتاوٰی کاخلاصہ ہے ۔ ۲۔وسائل الشیعہ،جلد٥،صفحہ ٣٩ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 62:9-11
سوره جمعه/ آیه 9- 11
٩۔یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا ِذا نُودِیَ لِلصَّلاةِ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا ِلی ذِکْرِ اللَّہِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ ذلِکُمْ خَیْر لَکُمْ ِانْ کُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ۔ ١٠۔فَِذا قُضِیَتِ الصَّلاةُ فَانْتَشِرُوا فِی الْأَرْضِ وَ ابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّہِ وَ اذْکُرُوا اللَّہَ کَثیراً لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ ۔ ١١۔ وَ ِذا رَأَوْا تِجارَةً أَوْ لَہْواً انْفَضُّوا ِلَیْہا وَ تَرَکُوکَ قائِماً قُلْ ما عِنْدَ اللَّہِ خَیْر مِنَ اللَّہْوِ وَ مِنَ التِّجارَةِ وَ اللَّہُ خَیْرُ الرَّازِقینَ ۔ ترجمہ ٩۔اے ایمان لانے والو! جب جُمعہ کے دن کی نماز کے لیے اذان کہی جائے توذکرِ خدا کی طرف دوڑ کرآئو اورخرید وفروخت کوچھوڑ دو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگرتم جانتے ہو ۔ ١٠۔ اور جب نماز ختم ہوجائے توتم آ زاد ہو ۔زمین میں پھیل جائو اور خداکافضل طلب کرو اورخدا کوبہت بہت یاد کرو تاکہ تم فلاح پائو۔ ١١۔اور جب وہ کوئی تجارت یاکھیل تماشا کی چیز کودیکھتے ہیں تواُدھر کوچل کھڑے ہوتے ہیں اورتجھے اپنی حالت میںکھڑا ہواچھوڑ جاتے ہیں ،آپ کہہ دیجئے جوکچھ خدا کے پاس ہے ،وہ کھیل تماشے اورتجارت سے بہتر ہے اور خدا بہتر ین روزی دینے والا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 62:9-11
شانِ نزول
ان آیات کے شان نزول میں خصوصاً وَ اِذا رَأَوْا تِجارَةکے بارے میں مختلف روایات نقل ہوئی ہیں جوسب کی سب ایک ہی مطلب کی خبر دیتی ہیں کہ : ایک سال مدینہ کے لوگ خشک سالی ، قحط اور جناس کے نرخ کی زیادتی میں گرفتار تھے تودحیہ ایک قافلہ کے ساتھ شام سے یہاں آن پہنچا ،وہ اپنے ساتھ غذائی اشیاء لے کر آ یاتھا ۔اُس روز جمعہ کادن تھا اور پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نماز جمعہ کے خطبہ میں مشغول تھے کہ انہوں نے معمول کے مُطابق قافلہ کے ورُود کے اعلان کے لیے طبل بجایااور دُوسرے آ لاتِ موسیقی بھی بجائے تولوگ تیزی کے ساتھ بازار میں پہنچ گئے ، اِس موقع پر جومسلمان مسجد میں نماز کے لیے جمع ہوئے ہُوئے تھے ،انہوں نے خطبہ سُنناچھوڑ دیااوراپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے بازار کی طرف چل پڑے ،صرف بارہ مرد اورایک عورت مسجد میں باقی رہ گئے ،(تو اوپروالی آیت نازل ہُوئی اورجانے والوں کی سخت مذمّت کی )پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فر مایا:اگریہ چھوتا سا گروہ بھی چلاجاتا توان سب پر آسمان سے پتھر وں کی بارش ہوتی (١) ۔ ١۔مجمع البیان ،جلد٩،صفحہ ٢٨٧ اور دیگر تفاسیر