وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَاقَوْمِ لِمَ تُؤْذُونَنِي وَقَد تَّعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ
When Moses said to his people, ‘O my people! Why do you torment me, when you certainly know that I am Allah’s apostle to you?’ So when they swerved [from the right path], Allah made their hearts swerve, and Allah does not guide the transgressing lot.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 61:5
[Pooya/Ali Commentary 61:5] The people of Musa often rebelled, annoyed and insulted him. See commentary of Ahzab: 69. They did it, not through ignorance, but from a selfish perverse and rebellious spirit. Refer to Numbers 12: 13 in the Old Testament. The ummah of Islam also now and again slandered the Holy Prophet. To see an example of their rebellious attitude refer to hadith al qirtas in the commentary of Nisa: 65 and Hashr: 4. In the commentary of many verses (Baqarah: 51; Ta Ha : 9 to 98 and Maryam: 53 are a few among them) it has been shown that there are close similiarities in the experiences of prophet Musa and the Holy Prophet. Refer to Deuteronomy 18: 15 and 18 in the Old Testament.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 61:5-6
٢۔ عہدین کی بشارتیں اور"" فار قلیطا "" کی تعبیر
ِاِس میں شک نہیں کہ موجودہ زمانہ میں یہود و نصاریٰ کے پاس جوکچھ تورات وانجیل کے نام سے موجُود ہے ،وہ خُدا کے عظیم پیغمبروں یعنی موسیٰ علیہ السلام اورعیسیٰ علیہ السلام پر نازل شدہ کتابیں نہیں ہیں ، بلکہ یہ اُن کتابوں کاایک ایسا مجموُعہ ہے جو اُن کے اصحاب یاان کے بعد آ نے والوں کے ذ ریعہ تالیف ہُواہے .ان کتابون کاایک اجمالی مطالعہ اس بات کازندہ گواہ ہے اور خود عیسائیوں اور یُہود یوں کا بھی اِس کے سوا اور کوئی دعویٰ نہیں ہے ۔ لیکن اس کے باوجود اس میں بھی شک نہیں ہے کہ مُوسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات اور کتبِ آسمانی کے مضامین و مطالب کاکچھ حصّہان کے پیر و کاروں کے کلام کے ضمن میں منتقل ہوگیاہے ،اِسی بناء پر جوکچھ عہدو قدیم (تو رات اوراس سے وابستہ کتابوں)اور عہد و جدیدِ( انجیل اوراس سے وابستہ کتابوں)میں آ یاہے،نہ تو اس سارے کے سارے کوقبول ہی کیاجاسکتاہے اور نہ ہی وہ سب کاسب قابلِانکار ہے ،بلکہ یہ دونوں کتابیں ان دو عظیم پیغمبروں کی تعلیمات اوردوسر ے لوگوں کے افکار وتصوّر ات سے وجُودمیں آ ئی ہیں ۔ بہرحال موجودہ کتب میں بہت سی ایسی تعبیریں نظر آ تی ہیں جوایک عظیم ظہُور کی بشارت دیتی ہیں کہ جس کی نشانیاں سوائے اسلام اوراس کے لانے والے کے اور کسِی پر منطبق نہیں ہوتیں ۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ وہ پیشگو ئیاں جوان کتابوں میں نظر آ تی اور پیغمبر اسلام کی ذات پرصادق آ تی ہیں ،ان کے علاوہ انجیل یوحنّاکے تین موا ر د میں لفظ فارقلیط آ یاہے (1)اس کافارسی نسخوں میں تسلّی دینے والا کے ساتھ ترجمہ ہُوا ہے ،اب آپ انجیل یوحنّا کی طرف رجوع کریں : میں باپ سے درخواست کروں گا تووہ تمہیں دوسرا تسلّی دینے والا دے گا جو ابد تک تمہار ے ساتھ رہے گا ( 2) ۔ بعد والے باب میں آیا ہے : اورجب وہ تسلّی دینے والا آئے گا جسے میں باپ کی طرف سے تمہار ی طرف بھیجو ں گا ، یعنی سچائی کی رُوح جوباپ کی طرف سے آ ئے گی ،وہ میر ے بارے میں شہادت دے گی ( 3) ۔ پھر اس کے بعد والے باب میں آ یاہے : لیکن میں تم سے سچ کہتاہوں کہ میراجانا تمہارے لیے مُفید ہے ،کیونکہ اگرمیں نہ جائوں گا تووی تسلّی دینے والا تمہارے پاس نہیں آ ئے گا ،لیکن اگر میں چلا جائوں تواُسے تمہارے پاس بھیج دوں گا ( 4) ۔ اہم بات یہ ہے کہ سریانی اناجیل کے متن میں جواصل یونانی سے لی گئی ہیں تسلّی دینے والے کے بجائے پار قلیطا آ یاہے اور یونا نی متن میں پیر کلتوس آ یا ہے کہ جو یُو نانی لغت کے لحاظ سے لائق تعریف شخصکے معنی میں ہے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)و احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کامعاد ہے ۔ لیکن جب ارباب ِ کلیسا( عیسائی پاور یوں )نے یہ دیکھا کہ اس قسم کے ترجمہ کی نشر واشاعت اُن کے گھڑے ہُوئے نظر یات پر ضربِ شد یدلگائی گی تو پیر کلتوس کی بجائے پار اکلتوس لکھ دیا کہ جوتسلّی دینے والے کے معنی میں ہے .اس واضح تحریف کے ذ ریعے انہوں نے اس زندہ سند کی بدل رکھ دیا ،اگرچہ اس تحریف کے باوجود بھی مستقبل کے عظیم ظہور کی ایک واضح بشارت موجُود ہے ( 5) ۔ ایک مشہور عیسائی پادری جوبعد میں مُسلمان ہوگیاتھا ( فخر الا سلام مُولّف کتاب معروف انیس الا علام )کی ناطق گواہی فا رقلیطا کی تفسیر میں اُس کے عظیم اُستاد کے حوالے سے ہم تفسیر نمونہ کی جلداوّل میں نقل کرچکے ہیں .وہ اِس بات کوواضح کرتی ہے کہ یہ بشارتیں احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نامی شخص کے بارے میں تھیں ( 6) ۔ یہاں ہم آپ کواس لفظ کے اس ترجمہ کی طرف متوجہ کرتے ہیں جواس سلسلہ میں دائرة المعارف کے بزرگ نے فرانسہ میں کیاہے ۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)موسِس دین ِ اسلام ،خدا بھیجا ہوااورخاتم انبیاء ہے لفظ محمد بہت زیادہ تعریف کیے گئے کے معنی میں ہے اورمادّہ حمد سے مشتق ہواہے جوتجلیل کے معنی میں ہے .عجب اتفاق کے زیر اثر ایک اورنام ذکرہوا کہ اس کامادہ بھی حمد ہی ہے . اورلفظ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کا مترادف اورہم معنی ہے ، یعنی احمد یہاں احتمال قوی یہ ہے کہ عرب کے عیسائی اس لفظ کو فار قلیط کے بجائے استعمال کرتے تھے ،احمد یعنی زیادہ تعریف کیاہُوا اورلفظ پیرکلتوس کابہت عمدہ ترجمہ ہے کہ جس کی بجائے غلطی سے لفظ پارہ کلتوس رکھ دیاگیاہے،مسلمان مذہبی مولفین نے یہ بار ہا گوشزد کیاہے کہ اس لفظ سے مراد پیغمبر اسلام کے ظہور کی بشارت ہے اورقُر آن مجید بھی سورة صفّ کی حیرت انگیز آ یت میںاِس موضوع کی طرف واضح طورپر اشارہ کرتاہے ( 7) ۔ 1۔یہ تفسیر عربی انجیل چاپ لندن مطبع ولیم وٹس سال ١٨٥٧ ء میں آ ئی ہے ۔ 2۔انجیل یوحنّاباب ١٥ ،جملہ ٢٦۔ 3۔انجیل یُو حنّا ، باب ١٦ جُملہ ٧۔ 4۔انجیل یوحنّا ،١٦ جملہ ٧ ۔ 5۔"" الفرقان فی تفسیر القرآن "" جلد٢٧ صفحہ ٣٠٦ ،زیربحث آیت کے ذیل میں وہاں اوپروالے جملوں کے متن کے ساتھ واضح طورپر سرمانی متن بھی آ یاہے ۔ 6۔تفسرنمُونہ جلداوّل سورۂ بقرہ آ یت ٤١ کے ذیل میں ۔ 7۔دائرة المعارف بزرگ فرانسہ جلد ٢٣ ،صفحہ ٤١٧٦۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 61:5-6
3۔ کیا پیغمبرِ اسلام کانام احمد(ص) ہے ؟
یہاں ایک اہم سوال سامنے آ تاہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کامشہور نام محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے ،جبکہ زیربحث آ یت میں احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے عنوان سے سے ذکر ہوا ہے . یہ دونوں باتیں ایک دُوسر ے سے کِس طرح ساز گار ہیں ۔ اس سوال کے جواب میں ضروری ہے کہ ذیل کے نکات کی طرف توجّہ کی جائے: الف: تواریخ میں آ یاہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)بچپن سے ہی دونا م رکھتے تھے ،یہاں تک کہ لوگ بھی آپ کودونوں ہی نامون سے خطاب کیاکرتے تھے ،آپ کاایک نام محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اور دوسرا احمد تھا ، پہلا نام آپ کے جدّ امجد، عبدالمطّلب نے اوردوسرانام آپ کی والدہ محترمہ آمنہ نے اِنتخاب کیاتھا ۔ یہ مضمون سیرة حلبیہ میں تفصیل کے ساتھ ذکر ہواہے: ب:جن لوگوں نے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کو با ر ہا اس نام کے ساتھ یاد کیاہے ان میں سے ایک آپ کے چچا ابوطالب تھے آج بھی وہ کتاب جودیوانِ ابوطالب کے نام سے ہمارے ہاتھوں میں موجُود ہے اس میں بہت سے ایسے اشعار نظرآ تے ہیں کہ جن میں گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کواحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے نام سے یاد کیاگیاہے: مثلاً : اراد وا قتل احمد (ص) طالموھم ولیس یقتلھم فیھم زعیم ان کے اوپر ظلم کر نے والے احمد (ص) کے قتل کاارادہ رکھتے تھے ۔ لیکن اس کام کے لیے کوئی رہبر انہیں نہیں مل سکا ۔ وان کان احمد قد جائھم بحق ولم یأ تھم بالکذب احمد (ص) قطعی طورپر ایک دین ِ حق لے کر ان کے پاس آ یاہے اور، وہ ہرگز جھوٹا دین لے کر نہیں آ یا (1) ۔ دیوانِ ابوطالب کے علاوہ بھی جناب ابوطالب کے کچھ اشعار اس سلسلے میں نقل ہُوئے ہیں : لقد اکرم اللہ النبی محمداً فاکرم خلق اللہ فی الناس احمد خُدا نے اپنے پیغمبر محمد (ص) کومکّرم ومحترم قرار دیاہے ، اسی لیے لوگوں کے نزدیک مخلوق خدامیں سب سے زیادہ گرامی احمد (ص) ہے ( 2) ۔ ج:پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمصر مشہور شاعر حسّان بن ثابت کے اشعار میں بھی یہ تعبیر نظر آ تی ہے : مفجعة قد شفھا فقد احمد فظلت لالاء الرسول تعدد وہ مصیبت زدہ جسے احمد (ص) کے فقدان نے کمز ور کردیاتھا ، وہ ہمیشہ رسول خدا کے عطایا ومو اہب کوشمار کیاکرتا تھا ( 3) ۔ ابو طالب یاان کے علاوہ دوسرے افراد کے وہ اشعار جن میں (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بجائے )احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کانام آ یاہے اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کویہاں نقل کرنے کی گنجائش نہیں ہے ،ہم اس بحث کودو اور عمدہ اشعار دکے ساتھ ختم خرتے ہیں جوابوطالب کے فر زند علی علیہ السلام نے کہے ہیں : اتأ مرنی بالصبرفی نصر احمد وواللہ ما قلت الذ ی قلت جاز عاً ساسعی لوجہ اللہ فی نصر احمد نبی الھدی المحمود طفلا و یافعاً کیا تومُجھ سے یہ کہتاہے کہ میں احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی مدد اورنصرت میں صبر سے کام لوں ۔ خداکی قسم ! میں نے جوکچھ کہا ہے وہ جزع و فزع اور بے صبری کی بناء پر نہیں کہا ۔ میں توخدا کے لیے احمد (ص)کی نصرت میں کوشش کرتاہُوں ۔ وہی پیغمبر ہدایت جوبچپن اورجوانی میں ہمیشہ محمُود اورقابلِ تعریف تھا ( 4) ۔ د: جوروایات مسئلہ معراج کے سلسلہ میں وار ہُو ئیں ہیں ان میں یہ کثرت سے آ یاہے کہ خدانے پیغمبر اسلام کوشبِ معراج با ر ہا احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے نام سے خطاب کیا شاہد اسی وجہ سے یہ مشہور ہوگیاہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کانام آسمانوں میں احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اورزمین میں محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے ۔ ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے بھی آ یاہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دس نام تھے ،ان میں سے پانچ نام قرآن میں آ ئے ہیں محمد و احمد و عبداللہ و یٰس و ن ( 5) ۔ ھ: جب پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے ( سورۂ صفّ )کی اوپر والی آ یات کومدینہ اور مکّہ کے لوگوں کے سامنے پڑھا تویقینی طورپر یہ اہل کتاب کے کانوں تک بھی پہنچیں ،مگر مُشرکین اوراہل کتاب میں سے کسِی نے یہ اعتراض نہیں کیا کہ انجیل تواحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے آ نے کی بشارت دیتی ہے ،اور تمہارانام ، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے یہ سکوت خوداس ماحول میں اِس نام کی شہرت کی دلیل ہے ، اگر کوئی اعتراض ہواہوتا تووہ ہمار ے لیے بھی نقل ہوتا، کیونکہ دشمنوں کے اعتراضات تاریخ میں ثبت ہیں یہاں تک کہ ایسے مو ارد میں بھی جوبہت چھبنے والے ہیں ۔ اس تمام بحث سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے مشہور ناموں میں سے تھا (٦) ۔ 1۔دیوان ابواطالب ،صفحہ ٢٥، ٢٩۔ ٢۔تاریخ ابن عساکر جلد ١،صفحہ ٢٧٥۔ ٣۔ دیوان حسّان بن ثابت ،صفحہ ٥٩ تحقیق محمد عزّت نصراللہ ۔ 4۔ "" الغد یر "" ،جلد٧،صفحہ ٣٥٨۔ ٥۔نورالثقلین جلد٥،صفحہ ٣١٣ تفسیردر المنثور جلد ٦،صفحہ ١٤ میں بھی اس سلسلے میں کئی ، روایات آ ئی ہیں جن کے نقل کرنے سے طول ہوجانے گا ۔ ٦۔اِس بحث اور گزشتہ بحث میں کتاب "" احمد موعود ِ انجیل "" اور"" تفسیرفر قان "" سے بھی استفادہ کیاگیاہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 61:5-6
سوره صف/ آیه 5- 6
٥۔وَ ِذْ قالَ مُوسی لِقَوْمِہِ یا قَوْمِ لِمَ تُؤْذُونَنی وَ قَدْ تَعْلَمُونَ أَنِّی رَسُولُ اللَّہِ ِلَیْکُمْ فَلَمَّا زاغُوا أَزاغَ اللَّہُ قُلُوبَہُمْ وَ اللَّہُ لا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفاسِقینَ ۔ ٦۔ وَ ِذْ قالَ عیسَی ابْنُ مَرْیَمَ یا بَنی ِسْرائیلَ ِنِّی رَسُولُ اللَّہِ ِلَیْکُمْ مُصَدِّقاً لِما بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْراةِ وَ مُبَشِّراً بِرَسُولٍ یَأْتی مِنْ بَعْدِی اسْمُہُ أَحْمَدُ فَلَمَّا جاء َہُمْ بِالْبَیِّناتِ قالُوا ہذا سِحْر مُبین ۔ ترجمہ ٥۔اس وقت کویاد کرو جب مُوسٰی نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم تم مجھے تکلیف کیوں دیتے ہو ،حالانکہ تم جانتے ہوکہ میں تمہاری طرف خُدا کابھیجا ہوارسُول ہُوں ۔ جب وہ حق سے مُنحرف ہوگئے تو خُدانے ان کے دلوں کوٹیڑ ھاکردیا ۔اورخدا فاسقوں کو ہدایت نہیں کرتا ۔ ٦۔اوراس وقت کو یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم (ع) نے کہا:اے ابنی اسرائیل ! میں تمہاری طرف خدا کا بھیجا ہوا رسُول ہُوں ،میں اس کتاب کی جومُجھ سے پہلے بھیجی گئی ، یعنی تورات کی تصدیق کرنے والا ہُوں ،اورایک رسُول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آ ئے گااوراس کانام احمد (ص) ہے لیکن جب وہ احمد(ص)معجزات اورواضح دلائل دکے ساتھ اُن کی طرف آیاتو انہوں نے کہاکہ یہ توایک کُھلا جادُو ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 61:5-6
تفسیر
میں احمد(ص) کے ظہور کی بشارت لے کر آ یاہوں : ان دو احکام کے بعد جو گزشتہ آ یات میں گفتار و کردار کی ہم آہنگی اور وحدتِ صفوف کے بارے میں آ ئے تھے ، اِس میں ان معنی کی تکمیل کے لیے دو پیغمبروں مُوسٰی علیہ السلام اور عیسٰی علیہ السلام کی زندگی کے ایک گوشہ کی طرف اشارہ کرتاہے کہ افسوس ہے گفتار وعمل کی جُدائی اور صفوف کے عدم نظم کے کئی واضح نمُونے ،ایسی منحوس سرنوشت کے ساتھ جوان امُور کے بعد ان میں پیدا ہُوئی ، ان دونوں کے پیر و کاروں کی زندگی میں نظر آ تے ہیں ۔ پہلے فر ماتاہے:اس وقت کو یاد جب مُوسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم ! تم مُجھے کیوں تکلیف پہنچا تے ہو ، حا لانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہار ی طرف خدا کا بھیجا ہُوا رسُول ہوں (وَ اِذْ قالَ مُوسی لِقَوْمِہِ یا قَوْمِ لِمَ تُؤْذُونَنی وَ قَدْ تَعْلَمُونَ أَنِّی رَسُولُ اللَّہِ ِلَیْکُمْ) ۔ یہ آزاد واذیّت ممکِن ہے ان تمام مخا لفتوں اور بہانہ جوئیوں کی طرف اشارہ ہو جو بنی اسرائیل نے مُوسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں اِس عظیم پیغمبر کے ساتھ کی تھیں ،یابیت المقدس کی مانند کسِی ماجرے کی طرف اشارہ ہو کہ جس میں انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا :ہم اس شہر میں داخل ہونے کے لیے تیّار نہیں اور نہ ہی ہم عمالقہ کے ساتھ جنگ پر تیّار ہیں جوایک طاقتور اورجبّار گروہ ہے ۔ تم اورتمہارا پر وردگار جا کر اس کوفتح کرو توپھر ہم اس میں داخل ہوں گے ( ما ئدہ ، ٢٤) ۔ اسی سبب سے وہ سالہاسال تک وادی ِ تیہ میں گھومتے رہے اور جہاد کے حکم میں فضُول ، بیہودہ اورکمزور بہانے بنانے کاتلخ مزہ چکھتے رہے ۔ لیکن اس چیز کی طرف توجّہ کرتے ہُوئے جوسُورہ ٔ احزاب کی آ یت ٦٩ میں وارد ہوئی ہے ایسا معلوم ہوتاہے کہ یہ اذیّت و آزار ان نار وا نسبتوں کی طرف اشارہ ہے جوانہوں نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف دیں اورخُدا نے موسیٰ علیہ السلام کوان سے مبّرا قرار دیاتھا ، اس آ یت میں آ یاہے : یاایھا الذین اٰمنوا لا تکونوا کالذ ین اٰذو اموسیٰ فبرأ ہ اللہ مما قالوا وکان عنداللہ وجیھاً ۔ اے ایمان لانے والو ! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائو جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کواذیّت پُہنچائی اورخُدانے انہیں ( بنی اسرائیل کی نا رو ا باتوں سے ) بری قرار دیا ۔ یہ نسبتیں بہُت سی تھیں ، کبھی تووہ انہیں اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کوقتل کرنے کے ساتھ مُتّہم کرتے ، کبھی ( نعوذ باللہ )ایک بد کار عورت کے ساتھ غیر شرعی روابط کی تہمت لگاتے ( وہ سازش جوحیلہ باز قارُون نے تیّار کی تا کہ وہ زکات سے مستٰثنی رہے )کبھی ان پر جا دو اور جُنون کااتّہام لگاتے تھے ،یاانہیں چند ایک جسمانی عیوب کے ساتھ متّہم کرتے تھے کہ جن کی تفصیل سورہ احزاب کی مذکورہ آ یت میں آچکی ہے ( ١) ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص کسِی پیغمبر پر ایمان لانے کادعوے دار ہو اورپھر وہ اس کوایسی نارو انسبتیں دے ؟ کیا یہ گفتار کے کر دار سے جُدا ہونے کاواضح ترین نمونہ نہیں ہے ؟اسی لیے توموسیٰ علیہ السلام کہتے ہیں : باوجود یکہ تم اِس بات کایقین رکھتے ہو کہ میں خداکا رسول ہوں ، پھر یہ ناروا باتیں کیوں کرتے ہو ۔ لیکن یہ عمل سزا کے بغیر نہ رہاجیساکہ زیرِ بحث آ یت کے آخر میں آ یاہے : جب وہ حق سے مُنحرف ہوگئے توخُدا نے بھی اُن کے دلوں کومنحرف کردیااورخدا فاسقوں کوہدایت نہیں کرتا (فَلَمَّا زاغُوا أَزاغَ اللَّہُ قُلُوبَہُمْ وَ اللَّہُ لا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفاسِقین) ۔ اِس سے بڑی مصیبت اورکیاہوگی کہ انسان خدائی ہدایت سے محروم اوراس کادل حق سے منحرف ہوجائے ؟ ( ٢) ۔ اِس تعبیر سے معلوم ہوتاہے کہ ہدایت وضلالت اگرچہ خداکی طرف سے ہے ، لیکن اس کے اسباب اورعوامل خُوداِنسان کی طرف سے ہوتے ہیں ،کیونکہ ایک طرف توفرماتاہے : جس وقت وہ حق سے منحرف ہوگئے توخدانے بھی ان کے دلوں کومنحرف کردیا یعنی پہلا انہوں نے اُٹھا یاہے، دوسر ی طرف یہ کہتاہے : خدا فاسق قوم کوہدایت نہیں کرتا ۔ پہلے فسق وگناہ سرزد ہوتاہے ، کہ جس سے انسان تو فیق وہدایت الہٰی کے سلب ہوجانے کا مستحق ہوتاہے اور اس کے بعد اس عظیم محرُومیّت میں گرفتار ہوجاتاہے .اِس سلسلہ میں تفصیلی بحث سورۂ زمّر کی آ یت ٣٦ کے ذیل میں آچُکی ہے ۔ ( تفسیر نمونہ جلد ١٩ کی طرف رجُوع کریں ) ۔ بعد والی آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رسالت اوراس کے مقابلے میں بنی اسرائیل کی کار شکنی اور تکذیب کے مسئلہ کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے مزید کہتاہے : اس وقت کو یاد کرو جب عیسیٰ ابن مریم علیہماالسلام نے کہا: اے بنی اسرائیل ! میں تمہاری طرف خُدا کابھیجا ہوا رسُول ہوں ، جبکہ میں اس کتاب کی جومُجھ سے پہلے بھیجی گئی ( یعنی تورات )کی تصدیق کرنے والا ہوں (وَ ِذْ قالَ عیسَی ابْنُ مَرْیَمَ یا بَنی ِسْرائیلَ ِنِّی رَسُولُ اللَّہِ ِلَیْکُمْ مُصَدِّقاً لِما بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْراة) ۔ اورمیں اس رسول کی بشارت دینے والا بھی ہُوں جومیرے بعد آ ئے گا ۔ اس کانام احمد (صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم) ہے (مُبَشِّراً بِرَسُولٍ یَأْتی مِنْ بَعْدِی اسْمُہُ أَحْمَدُ ) ۔ اِس بناء پر میں وہ حلقہ ٔ اتّصار ہوں جو اُمّتِ موسٰی علیہ السلام اوران کی کتاب کوآ نے والے پیغمبر ( پیغمبر اسلام )کی اُمت اوراُن کی کتاب سے ملانے والا ہوں ۔ اِس طرح حضر عیسٰی علیہ السلام کارسالت ِخدا وندی کے سوااورکوئی دعویٰ نہیں تھا ،اوروہ بھی ایک خاص زمانہ کے لیے تھا ۔ بعد میں ان کی طرف الو ہیّت یاخدا کا بیٹا ہونے کے بارے میں جو افتراء باندھاگیا وہ سب جُھوٹ اور بُہتان ہے ۔ اگرچہ بنی اسرائیل کاایک گروہ اس موعود نبی پرایمان لے آیا،لیکن ان کی ایک بہت دبڑی جمعیت نہا یت سختی کے ساتھ اس کے مقابلہ میں کھڑ ی ہوگئی . یہاں تک کہ انہوں نے اس کے واضح معجزات کابھی انکار کردیا. اِس لیے آ یت کے آخر میں مزید کہتاہے : جب وہ (احمد ) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ان کے پاس معجزات اورواضح دلائل کے ساتھ آیاتو انہوں نے کہا: یہ توکُھلا ہواجادو ہے (فَلَمَّا جاء َہُمْ بِالْبَیِّناتِ قالُوا ہذا سِحْر مُبین) ۔ تعجّب کی بات یہ ہے کہ گروہِ یہود ،مشرکین عرب پہلے سے اس پیغمبر کوپہچانے ہُوئے تھا،یہاں تک کہ انہوں نے اس کے شوق ِدیدار کے لیے ترکِ وطن کیااوران کے کئی قبائل سرزمین ِ مدینہ میں آکر آ باد ہوگئے ۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجودبُہت سے بت پرستوں نے تو اس پیغمبر موعود کوپہچان لیا اوراس پر ایمان لے آ ئے،لیکن اکثر یہودی ہٹ دھرمی ، عناد اور انکار پر ڈٹے رہے ۔ مفسّرین کے ایک گروہ نے فلما جاء ھمکی ضمیر کو ،جیساکہ ہم نے اوپر نقل کیاہے،پیغمبر اسلام ( احمد) (صلی ا للہ علیہ وآلہ وسلم)کی طرف لوٹایا ہے،لیکن بعض نے یہ نظر یہ پیش کیا ہے کہ یہ ضمیر حضرت عیسٰی کی طرف لوٹتی ہے ،یعنی عیسیٰ علیہ السلام جب بنی اسرائیل کے لیے واضح مُعجزات لے کر آ ئے توانہوں نے اس کا انکار کیااورجادو قرار دیا ۔ لیکن بعد والی آیات بتلاتی ہیں کہ پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے ، کیونکہ ان آیات میں اسلام اورپیغمبر اسلام کا تذ کرہ ہُوا ہے ۔ ۔تفسیر نمونہ ،جلد١٧ ، سُورة احزاب آ یت ٦٩ کے ذیل میں دیکھیں ۔ ٢۔"" ذاغو ا مادہ "" "" زیغ "" سے ،صراط مستقیم سے انحراف کے معنی میں ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 61:5-6
١۔ بشارت اورتکمیل دین کاربط
ظہو راسلام کے بارے میں عیسیٰ علیہ السلام کے خبردینے میں بشارت کی تعبیر گزشتہ اد یان کی نسبت اس دین کی تکمیل کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے ، آ یات ِ قر آنی کا مُطالعہ اوراِسلامی عقائد ، احکام قوانین اور مسائل ِ اخلاقی واجتماعی کے سلسلے میں قرآن کے معارف وتعلیمات کا اس کے ساتھ موازنہ کہ جوکتب عہدین ( توریت وانجیل )میں آیا ہے ،اس برتری کی واضح طورپر نشان دہی کرتاہے ۔ اگرچہ اوپر والی آ یت میں اس کے بارے میں کوئی ذکر نہیں کہ یہ بشارت مسیح علیہ السلام کی آ سمانی کتاب کے متن میں بھی ہے یانہیں ؟لیکن قرآن کی دوسری آ یات ، خود انجیل میں اس کے ذکر کی گواہ ہیں ، سورة اعراف آیة ٥٦ میں آ یا ہے ...وہ لوگ جوخُدا کے بھیجے ہُوئے پیغمبر امّی کی پیر وی کرتے ہیں ، وہی پیغمبر جس کی صفات کووہ اپنے پاس تو رات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ... اوربعض دوسری آ یات ( 1) ۔ 1۔"" المیزان "" جلد ١٩،صفحہ ٢٩٠۔