يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنصَارَ اللَّهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيِّينَ مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ اللَّهِ فَآمَنَت طَّائِفَةٌ مِّن بَنِي إِسْرَائِيلَ وَكَفَرَت طَّائِفَةٌ فَأَيَّدْنَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَى عَدُوِّهِمْ فَأَصْبَحُوا ظَاهِرِينَ
O you who have faith! Be Allah’s helpers, just as Jesus son of Mary said to his disciples, ‘Who will be my helpers for Allah’s sake?’ The Disciples said, ‘We will be Allah’s helpers!’ So a group of the Children of Israel believed, and a group disbelieved. Then We strengthened the faithful against their enemies, and they came to prevail [over them].
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 61:14
[Pooya/Ali Commentary 61:14] See commentary of Ali Imran: 49 to 53. The names of the twelve disciples are found in Matthew 10: 2 to 4. Aqa Mahdi Puya says: A similar event took place at the time of dawat dhil ashira. See commentary of Ali Imran: 52 and 53.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 61:14
سوره صف/ آیه 14
١٤۔یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا کُونُوا أَنْصارَ اللَّہِ کَما قالَ عیسَی ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوارِیِّینَ مَنْ أَنْصاری ِلَی اللَّہِ قالَ الْحَوارِیُّونَ نَحْنُ أَنْصارُ اللَّہِ فَآمَنَتْ طائِفَة مِنْ بَنی ِسْرائیلَ وَ کَفَرَتْ طائِفَة فَأَیَّدْنَا الَّذینَ آمَنُوا عَلی عَدُوِّہِمْ فَأَصْبَحُوا ظاہِرینَ۔ ترجمہ ١٤۔ اے ایمان لانے والو! خدا کے ناصِر ومددگار ہوجائو ، جیساکہ عیسیٰابن مریم نے حواریوں سے کہاتھا ، خدا کی کون میرا یاور و مددگار ہے ؟توحواریوں نے جواب دیاتھاہم خُدا کے یاور و مددگار ہیں اس موقع پر بنی اسرئیل کاایک گروہ توایمان لے آ یا اورایک گروہ کافر ہوگیا، ہم نے ان لوگوں کی جوایمان لائے تھے ، ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کی ، اورانجام کار وہ ان پر غالب ہُوئے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 61:14
حوار یوں کی طرح ہوجائو
سُورة صفّ کی اس آخری آ یت میں امر جہاد پر دوسری مرتبہ تاکید کی گئی کہ جواس سورة کامحور اصلی ہے ،البتّہ اس مسئلے کوا یک دُوسرے طر یقہ سے بیان کیااور بہشت اور بہشت کی نعمتوںسے بھی زیادہ ایک اہم مطلب کوبیان کرتے ہُوئے فرماتاہے : اے ایمان لانے والو! خدا کے ناصرو مددگار بن جائو (یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا کُونُوا أَنْصارَ اللَّہِ) ۔ ہاں !خُدا کے مددگار ، وہ خدا جوتمام قدر توں اور طاقتوں کاسرچشمہ ہے او رسب کی بازگشت اسی کی طرف ہے ، وہ خداجس کی قُدرت بے پایاں اور شکست نا پذ یر ہے ، تعجّب کی بات یہ ہے کہ یہاں اُس نے بندوںکو اپنی مدد کے لیے پکارا ہے ،اور یہ ایک ایساافتخار و اعزاز ہے کہ جس کی کوئی نظیر نہیں ہے ، اگرچہ اس کامعنی و مفہوم وہی پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اوراس کے دین کی مدد ونصرت ہے ،لیکن اس میں ایک عجیب لطف ورحمت موجُود ہے ۔ اس کے بعد ایک تاریخی نمونہ کی طرف اشارہ کرتاہے ،تاکہ وہ یہ جان لین کہ یہ راستہ نہ تو راہ نورد کے بغیر تھا اور نہ ہے ،فر ماتاہے : جیساکہ عیسیٰ بن مریم علیہم السلام نے حواریوں سے کہاتھا : خداکی طرف میری مدد کرنے والا کون ہے (کَما قالَ عیسَی ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوارِیِّینَ مَنْ أَنْصاری ِلَی اللَّہِ ) ۔ اور حوار یین نے بڑے فخر کے ساتھ جواب دیا: ہم خُدا کے انصار ہیں(قالَ الْحَوارِیُّونَ نَحْنُ أَنْصارُ اللَّہ) ۔ اوراسی راہ میں دشمنانِ خُدا کے ساتھ مبارزہ کے لیے اُٹھ کھڑے ہُوئے ،بنی اسرائیل کاایک گروہ توایمان لے آ یا ( اور حوا ریوں کے ساتھ مل گیا)اورایک گروہ کافر ہوگیا(فَآمَنَتْ طائِفَة مِنْ بَنی ِسْرائیلَ وَ کَفَرَتْ طائِفَة) ۔ اِس موقع پر ہماری نصرت اور مددان کی کمک کے لیے آپہنچی ہم نے ان لوگوں کوجوایمان لاچکے تھے دشمنوں کے مقابلے مین تقویّت دی اورانجام کاروہ غالب آگئے (فَأَیَّدْنَا الَّذینَ آمَنُوا عَلی عَدُوِّہِمْ فَأَصْبَحُوا ظاہِرین) ۔ تم بھی محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے حواری ہو اور اس اعزاز کے ساتھ متفخر ہوکہ اللہ کے انصار ہوجائو ، جیساکہ عیسیٰ کے حواری دشمنوں پر غالب آ گئے تھے ، تم بھی کامیاب ہوجائو گے ، تمہیں اس جہان میں اور دُوسرے جہان میں بھی سر بلندی اور افتخار نصیب ہوگا ۔ یہ موضوع رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے انصارو اصحاب میں ہی منحصر نہیں تھا ، بلکہ ہمیشہ جبکہ حق کے طرفدار اہل باطل کے مقابلے میں مسلسل ٹکراتے رہیں تووہ خدا کے یاور وانصار ہیں اورانجامِ کار انہیں بھی کامیابی نصیب ہوگی ۔ رگ رگ است ایں آبِ شیریں وآبِ شور برخلائق می رود تانفخِ صور ! یہ میٹھا اورکڑوا پانی خون کی رگیں ہیں ۔ جولوگوں کے اندر نفخِ صورتک دوڑ تارہے گا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 61:14
حوار یین کون ہیں ؟
ّقرآن مجیدمیں پانچ مرتبہ عیسیٰ علیہ السلام کے حوا ریوں کے بارے میں ذکرآیاہے ، ان میں سے دو مرتبہ تواسی سورہ میں ہے ، یہ تعبیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مخصوص بارہ اصحاب کی طرف اشارہ ہے کہ جن کے نام موجُود ہ اناجیل (انجیل متی ولوقاباب ٦) میںذکر ہُوئے ہیں جیساکہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیاتھا، یہ لفظ مادّہ حور سے دھونے اورسفید کرنے کے معنی میں ہے ،چونکہ وہ پاک دل اور باصفا رُوح رکھتے تھے اوراپنی اوردوسروں کی رُوح وجان کوپاک و صاف کرنے کی کوشش کرتے تھے ،اِس لفظ کاان پر اطلاق ہوا ہے ۔ بعض روایات میں آ یاہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان میں سے ہر ایک کو اپنی نمائندگی کے عنوان سے دُنیا کے مختلف علاقوں کی طرف بھیجاتھا ،وہ مخلص ، ایثار کرنے والے مجاہد اورمبارزہ کرنے والے افراد تھے اورانہیں حضرت عیسیٰ سے بُہت عشق اور محبت تھی۔ لیکن عیسائیوں کی روایات میں آیاہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان میں سے ایک کہ جس کانام یھو وای اسخر یوطی تھا، آخر کار حضرت عیسیٰ سے خیانت کی اوروہ مطر ُو دو مردُو د قرار پایا ۔ اِسے سلسلے میں سورہ آل عمران کے ذیل میں بہت سی وضا حتیں پیش کی جاچکی ہیں (۱) ۔ ایک حدیث میں آ یاہے کہ پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب عقبہ میں اہل مدینہ کی اُس جماعت سے ملے جوبیعت کے لیے آ ئی تھی توآپ نے فرمایا: اپنے میں سے بارہ افراد کومنتخب کرکے ان کامُجھ سے تعارف کرائو تاکہ وہ اپنی قوم کے نمائند ے ہوں جیساکہ حوار یین کی حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہم السلام سے نسبت تھی (۲) ۔ یہ بات ان بزرگواروں کے مقام ومرتبہ کوبھی ظاہر کرتی ہے ۔ خدا وندا! ہمیں توفیق دے کہ ہم اس سود مند تجارت میں شرکت کریں کہ جِسے تونے اپنے اولیاء کے لیے فراہم کیاہے ، تاکہ ہم بھی اس کی عظیم ب رکتوں سے بہرہ مند ہوں ۔ پروردگار ا! اختلاف وپراگندگی نے مُسلمامانِ عالم کی صفوں کودشمنوں کے مقابلے میں متزلزل کردیاہے ، تو انہیں ایسی آگاہی اور بیداری مرحمت فرماکہ ساری دنیاکے مسلمان بنیانِ مرصوص (سیسہ پلائی دیوار ) کی طرح خونخوار دشمن کے مُقابلے میں ڈٹ جائیں ۔ بارِ الہٰا ! تیرادین بے ناصر ومددگار نہیں رہ سکتا، یہ اعزازو افتخار ہمیں نصیب فرماکہ ہم ان یا ورانِ اسلام کے زمرہ میں داخل ہوں ۔ 1۔ تفسیرنمونہ جلد ٢،(سورہ آل عمران آ یت ٥٢ کے ذیل میں ) ۔ ٢۔ الدر المنثور ،جلد٦،صفحہ ٢١٤۔ ّآمین یارب العالمین