قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّى تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ إِلَّا قَوْلَ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَمَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن شَيْءٍ رَّبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ
There is certainly a good exemplar for you in Abraham and those who were with him, when they said to their own people, ‘Indeed we repudiate you and whatever you worship besides Allah. We disown you, and enmity and hate have appeared between you and us for ever, unless you come to have faith in Allah alone,’ apart from Abraham’s saying to his father, ‘I will surely plead forgiveness for you, though I cannot avail you anything against Allah.’ ‘Our Lord! In You do we put our trust, and to You do we turn penitently, and toward You is the destination.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 60:4
[Pooya/Ali Commentary 60:4] Refer to the commentary Anam: 75 and Bara-at: 114 and Maryam: 41 to 48 for "there is for you an excellent pattern in Ibrahim." Ibrahim warned Azar, not his father but the patriarch of his family and his people, against idolatry and prayed for Azar, but when they became open enemies of Allah, he dissociated himself from them and left his home, his family and his people. "Those with him" were his wife and nephew Lut and those who believed in Allah who went into exile with him. The enemies of Allah are the enemies of the believers. Therefore the believers must cut themselves off from them, unless they repent and submit themselves to Allah. The believers must put their trust in Allah and seek His protection from becoming so weak as to tempt the disbelievers to try to attack and destroy them. For fitnat see commentary of Baqarah: 102 and Anfal: 25. Imam Jafar bin Muhammad as Sadiq said: "In ancient times every believer was poor and a great number of disbelievers were men of large means, but when Ibrahim prayed to Allah to make believers strong and able to stand up to the disbelievers, riches or poverty became the fruit of one's labour and efforts."
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 60:4-6
سوره ممتحنه/ آیه 4- 6
۴۔قَدْ کانَتْ لَکُمْ اٴُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فی إِبْر اہیمَ وَ الَّذینَ مَعَہُ إِذْ قالُو ا لِقَوْمِہِمْ إِنَّا بُر اؤُا مِنْکُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّہِ کَفَرْنا بِکُمْ وَ بَدا بَیْنَنا وَ بَیْنَکُمُ الْعَداوَةُ وَ الْبَغْضاء ُ اٴَبَداً حَتَّی تُؤْمِنُو ا بِاللَّہِ وَحْدَہُ إِلاَّ قَوْلَ إِبْر اہیمَ لِاٴَبیہِ لَاٴَسْتَغْفِرَنَّ لَکَ وَ ما اٴَمْلِکُ لَکَ مِنَ اللَّہِ مِنْ شَیْء ٍ رَبَّنا عَلَیْکَ تَوَکَّلْنا وَ إِلَیْکَ اٴَنَبْنا وَ إِلَیْکَ الْمَصیرُ ۔ ۵۔ رَبَّنا لا تَجْعَلْنا فِتْنَةً لِلَّذینَ کَفَرُو ا وَ اغْفِرْ لَنا رَبَّنا إِنَّکَ اٴَنْتَ الْعَزیزُ الْحَکیمُ ۔ ۶۔لَقَدْ کانَ لَکُمْ فیہِمْ اٴُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ کانَ یَرْجُو ا اللَّہَ وَ الْیَوْمَ الْآخِرَ وَ مَنْ یَتَوَلَّ فَإِنَّ اللَّہَ ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمیدُ۔ ترجمہ ۴۔ تمہار ے لیے ابر اہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی زندگی ایک اچھا نمُونہ ہے ، جب اُنہوںنے اپنی مُشرک قوم سے کہا : ہم تُم سے اورجِن کی تم پرستش کرتے ہو ، ان سے بھی بیزار ہیں ، ہمار اتم سے کوئی و اسطہ نہیں ہے ، اورہمار ے تمہار ے درمیان ہمیشہ ہمیشہ کی دشمنی ہوچکی ہے اور یہ حالت اُس وقت تک جاری رہے گی حتّٰی کہ تم خدا ئے یگانہ پر ایمان لاؤ سو ائے اس بات کے جِس کا ابر اہیم علیہ السلام نے اپنے باپ (چچا) سے وعدہ کیاتھا کہ میں تیر ے لیے طلبِ بخشش کروں گا ، لیکن اس کے باوجُود میں خُدا کے مُقابلے میں تیرے لیے کسِی چیز کامالک نہیں ہوں ،پروردگار ا! ہم نے تجھ پر ہی توکُّل کیاہے ،تیری ہی طرف لَوٹے ہیں اور سب کی بازگشت تیری ہی طرف ہے ۔ ۵۔ پر وردگار ا ! ہمیں کافروں کے لیے گمر اہی کاسبب قر ار نہ دے اورہمیں بخش دے ، اے ہمار ے پروردگار ! بے شک تُو عزیز وحکیم ہے ۔ ۶۔ ان کی زندگی میں تمہار ے لیے ایک اچّھا نمُونہ تھا، ان کے لیے جوخُدا اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتے ہیں ، اورجو شخص رُو گر دانی کرے گا تووہ خُود اپنے آپ کو ہی ضرر پہنچائے گا ، کیونکہ خُدا تو بے نیاز ہے اور ہرقسم کی تعریف وستائش کے قابل ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 60:4-6
۱ابدی نمُونے
عملی نمُونے ہمیشہ مُوٴ ثر ترین نمونے ہوتے ہیں ،چُونکہ عمل ہی انسان کے قول پر اس کے ایمان کی گہر ائی کاترجمان ہوتاہے ، اور جو بات دل سے نکلتی ہے لازمی طورپر دل پر اثر کرتی ہے ۔ ہمیشہ عظیم نمونے اوردستُور العمل ہی انسانوں کی زندگی میں اُن کی تربیّت کاموٴ ثر ذ ریعہ رہے ہیں اِسی بناء پر پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)اور آئمہ معصومین علیہم السلام کی اہم ترین شاخ کی اپنے عمل سے نشان دہی کیا کرتے تھے ،بناء بریں جب ”سنّت“ کے بارے میں گفتگُو ہو تی ہے تو یہ کہا جاتاہے کہ ” سنّت“معصُوم کے ” قول “ و” فعل “و” تقریر“ کوکہاجاتاہے ،یعنی معصُوم پیشو اؤں کاقول و فعل وسکُوت جب حُجت اور رہنما ہیں، یہی وجہ ہے کہ تمام پیغمبر وں اور آئمہ میںعصمت شرط ہے تاکہ وہ تمام امُور میں نمُونہ بن سکیں ۔ قر آن نے بھی اس ہم مسئلہ پر مُہر تصدیق ثبت کی اورتمام اُمور میں مومنین کے لیے نمونوں اور اسوہ یائے حسنہ کاتعارُف کر ایاہے ، ان میں سے زیربحث آیات میں ابر اہیم علیہ اسلام کے لیے نمُونہ اور اسوہ کے عُنو ان سے تعارُف کرایا ہے ۔ (اس بات پر توجّہ رکھنا چاہیئے کہ ” اُسوہ “ مصدری معنی رکھتاہے جو اتّباع کرنے اورعملی پیروی کے معنی میں ہے .اگرچہ فارسی کے روز مرّہ کے استعمال میںاُس شخص کے معنی میں ہے کہ جس کی اتّبا ع اورپیروی کرنی چاہیئے ) ۔ خطروں سے بھری ہُوئی جنگِ احزاب میں جبکہ مُسلمان سخت ترین آزمائش میں مُبتلا تھے ، اور ہمّت توڑ دینے و الے حو ادث نے قوی ترین افراد کوبھی لرزہ بر اندم کردیاتھا ،خُدا ئے تعالیٰ اس طوفان کے درمیا ن استقامت ، پا مردی ، ایمان ، نہیں اخلاص اور اطمینان ِ قلب کے نمُونہ کے طورپر اپنے پیغمبر(صلی اللہ علیہو آلہ وسلم)کا تعارُف کر اتاہے ، البتّہ یہ امرصرف میدانِ احزاب میں ہی منحصر نہیں تھابلکہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)ہرجگہ مُسلمانوں کے لیے ایک عظیم نمُونہ شمار ہوتے تھے ۔ ” کو نو اد عاة الناس باعمالکم ولا تکونو ا دعاة بالسنتکم“ ( ۱) یہ اشعار اورنعرہ جو امام جعفرصادق علیہ اسلام کی حدیث سے لیاگیاہے اس بات کی دلیل ہے کہ تمام سچّے مسلمانوں کوبھی اپنی جگہ پر دوسروں کے لیے نمونہ بنناچاہیئے ، اگریہ کام ہوجاتا تو اسلام عالمگیر ہوجاتا ۔ ۱۔سفینتہ البحار ،جلد۲،صفحہ ۲۷۸ مادہٴ عمل ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 60:4-6
۲خُد اسب سے بے نیاز ہے
قر آن مجید میں بارہا اس نکتے کابیان ہو اہے کہ اگرخدا تمہیں کُچھ ایسے احکام دیتاہے جوبعض اوقات مشکل اور شاق نظر آتے ہیں ،تو اس بات کو نہ بھُولیں کہ ان کے تمام منافعے تمہاری طرف ہی لوٹتے ہیں ، کیونکہ خُدا کی ہستی کے بیکر اں سمندر میں کوئی کمی نہیں ہے کہ وہ تُم سے مدد لے، اِس کے علاوہ تمہار ے پاس کچُھ ہے ہی نہیں کہ تم اُس کو مدد دو ، بلکہ جوکچھ تمہارے پاس ہے وہ اُسی کا ہے ۔ حدیث قُدسی میں آ یاہے : ” میر ے بندو ! تم مجھے ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اورنہ ہی کوئی نفع دے سکتے ہو، اے میرے بندو! اگر اوّلین و آخری اورجن و انس پاکیزہ ترین دل رکھتے ہوں توبھی میرے ملک میں ذرّہ بر ابر اضافہ نہیں کرسکتے ، اگر اوّلین و آخرین اورجنّ و انس ناپاک ترین دل رکھتے ہوں تو میرے ملک میں کوئی کمی نہیں کرسکتے “۔ ” اے میرے بندو! اگر اوّلین و آخرین اور جنّ و انسان کسی میدان میں جمع ہو جائیں ، جوکچھ وہ چاہیں مُجھ سے طلب کریں اور میں وہ سب کچھ اُن کودے دُوں توبھی میرے خزانوں میں کسِی چیزکی کمی نہیں ہوگی ، اور وہ سب کچھ اس رطُوبت کے مانند ہوگا جو ایک رسّی سمندر سے حاصل کرتی ہے “۔ ” اے میرے بندوں! میں تمہارے اعمال کاذخیرہ کرتاہوں اورپھر میں اُنہیں تمہاری طرف لَوٹا دُوں گا ، اب اگر کوئی اچھی چیزحاصِل کرے تووہ خُدا کاشکر کرے اورجو اس کے سو ادیکھے تووہ اپنے سو اکسِی اورکی ملا مت نہ کرے ( 1) ۔ ” جب فی اللہ وبغض فی اللہ“ بنیادی اصل ہے ۔ مذہب کارشتہ وہ اہم ترین رشتہ ہے جو انسانوں کو ایک دُوسرے کے ساتھ مربُوط کرتاہے اور دُوسر ا ہررشتہ اسی کے زیرِ اثرہے ۔ یہ وہ بات ہے جس پر قر آن نے بار ہاتاکید کی ہے ، اگریہ رشتہ ،دوستی ، عزیز و اری اورمنافع شخصی رو ابط کے زیرِ اثر ہوجائے تو ارکانِ مذہب متز لزل ہوجائیں گے ۔ اِس کے علاوہ اصل قدروقیمت ایمان وتقویٰ کی ہے ،لہٰذا یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم ان لوگوں کے ساتھ ر ابط قائم کریں جن میں یہ دونوں چیزیں نہیں ہیں ۔ اِسی جعفرصادق کی ایک حدیث میں آ یاہے : ” من احب اللہ و ابغض اللہ ، و اعطی للہ جل و عز فھر ممن کمل ایمانہ “۔ ” جو شخص خُدا کے لیے دوست رکھتاہے ،خُدا کے لیے دشمن رکھتاہے اور خُدا کے لیے عطاوبخشش کرتاہے تووہ ان لوگوں میں سے ہے جِن کا ایمان کامل ہوگیاہے “۔ ایک اورحدیث میں انہی حضرت سے آیاہے : ” من اوثق عری الا یمان ان تحب فی اللہ ،وتبغض فی اللہ وتعطی فی اللہ ، وتمنع فی اللہ “۔ ” ایمان کومحکم ترین کرنے و الی چیز وں میں سے یہ ہے کہ تُو خداکے لیے دوستی رکھے ، خُدا کے لیے ہی دشمنی رکھے ،خُدا کے لیے ہی دے اور خدا کے لیے ہی روکے ( ۲) ۔ اس سلسلے میں احادیث بُہت زیادہ ہیں ، مزید آگاہی کے لیے اصُول ِ کافی کی جلد دوم باب الحب فی اللہ کی طرف رجُوع کریں مرحمو کلینی نے اس باب میں، اِس سلسلے کی سولہ احادیث نقل کی ہیں ۔ علاوہ ازیں ” حب فی اللہ اور بغض فی اللہ “ کی مزید وضاحت کے لیے تفسیرِ نمُونہ جلد ۲۳ سورہٴ مُجا دلہ کی آ یت۲۲ کے ذیل میں ہمار ے بیان سے رجُوع کریں ۔ 1۔ رُوح ُ البیان ،جلد۹،صفحہ ۴۷۹۔ 2۔ اصُول ِ کافی،جلد۲،باب الحب فی اللہ حدیث ۱، ۲۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 60:4-6
ابر اہیم تم سب کے لیے نمونہ ہیں
چُونکہ قر آن مجید بہت سے مو ارد میںاپنی تعلیمات کی تکمیل کے لیے ایسے اہم نمونے جوجہانِ انسانیت میں موجُود ہیں، گو اہ کے طور پر پیش کرتاہے ، اس لیے زیر بحث آ یات میں بھی دشمنان ِ خُدا سے دوستی کرنے سے سختی کے ساتھ منع کرنے کے بعد ، ابر اہیم علیہ السلام اور ان کے طریقہ کار کے بارے میں ایک ایسے عظیم پیشو ا کے عنو ان سے جو تمام اقو ام کے لیے اورخاص طورپر قومِ عرب کے لیے احتر ام کی نظروں سے دیکھے جاتے تھے ، گفتگو کرتے ہُوئے فرماتاہے : ” تمہارے لیے ابر اہیم اور ان کے ساتھیوں کی زندگی میںاچھا نمونہ ہے “ (قَدْ کانَتْ لَکُمْ اٴُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فی إِبْر اہیمَ وَ الَّذینَ مَعَہ)(۱) ۔ ابر اہیم پیغمبروں کے بزرگ تھے. ان کی زندگی سرتاسر خداکی عبُودیّت ،جہاد فی سبیل اللہ اور اس کی پاک ذات کے عشق کے لیے ایک سبق تھی ،وہ ابر اہیم علیہ السلام کہ اُمّت ِ اِسلامی ان کی بابرکت دُعا کانتیجہ ہے اور ان کے رکھے ہُوئے نام پرفخر کرتی ہے،وہ تمہار ے لیے اس سلسلہ میں ایک اچھا نمونہ بن سکتے ہیں ۔ ” و الذین معہ “ (جولوگ ابر اہیم علیہ السلام کے ساتھ تھے ) کی تعبیر سے مُر اد وہ موٴ منین ہیں جو اس ر اہ میں ان کے پیرو اور ساتھی رہے ، اگر چہ وہ قلیل تعداد میں تھے ، باقی رہایہ احتمال کہ اس سے مُر اد وہ پیغمبر ہیں جو آپ کے ساتھ ہم آ و از تھے یا ان کے زمانے کے پیغمبر ،جیساکہ بعض نے احتمال دیاہے ، تاہم یہ بُہت بعید نظر آتاہے ،خصوصاً جبکہ مُناسب یہ ہے کہ قر آن یہاں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کو ابر اہیم علیہ السلام کے ساتھ اورمُسلمانوں کو ان کے اصحاب و انصار سے تشبیہ دے ،یہ تو اریخ میں بھی آ یاہے کہ بابل میں ایک گروہ ایساتھا جو ابر اہیم علیہ السلام کے مُعجزات دیکھنے کے بعد ان پر ایمان لے آیاتھا ، اور شام کی طرف ہجرت میں وہ آپ کے ساتھ تھا ، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ابر اہیم علیہ السلام کے کچھ وفادار یارو انصار بھی تھے ( ۲) ۔ اس کے بعد اس معنی کی وضاحت کے لیے مزید کہتاہے : ” جب انہوںنے اپنی مُشرک اور بُت پرست قوم سے کہا: ہم تم سے اور جن غیر اللہ کی تم پرستش کرتے ہو ، ان سے بھی بیزار ہیں (إِذْ قالُو ا لِقَوْمِہِمْ إِنَّا بُر اؤُا مِنْکُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّہِ) ۔ ہم نے توتمہیں اور نہ ہی تمہارے دین ومذہب کوقبُول کرتے ہیں ،ہم تم سے اورتمہارے بے قدر و قیمت بُتوں سے بھی نفرت کرتے ہیں ۔ دو بارہ مزید تاکید کے لیے فر مایا : ہم نے تم سے کفر اختیار کرلیا (کَفَرْنا بِکُمْ ) ۔ البتّہ یہ کفر وہی بر اٴت و بیزار ی ہے کہ جس کی طرف بعض رو ایات میں کفر کی پانچ اقسام کے شمار میں اشارہ ہُو ا ہے ( ۳) ۔ پھرتیسر ی مرتبہ مزید تاکید کے لیے اضافہ کرتاہے : ” ہمار ے اورتمہار ے درمیان ہمیشہ ہمیشہ کی دشمنی ہوچکی ہے“(وَ بَدا بَیْنَنا وَ بَیْنَکُمُ الْعَداوَةُ وَ الْبَغْضاء ُ اٴَبَداً ) ۔ اور یہ وضع و کیفیّت اسی طرح جاری رہے گی . یہاں تک کہ تم خُدائے یگانہ پر ایمان لاؤ (حَتَّی تُؤْمِنُو ا بِاللَّہِ وَحْدَہُ) ۔ اِس طرح سے انہوں نے کسِی بھی طرح کی لگی لپٹی کے بغیر دوٹوک طریقے سے دشمنانِ خُدا سے جُدائی اوربیزار ی کا اعلان کردیا اورصر احت کے ساتھ کہاکہ جُدائی کسِی قسم پر بھی ایسی اورتجدید ِ نظر کے قابل نہیں ہے ،یہ ابدتک جار ی رہے گی ، مگریہ کہ وہ اپنی ر اہ بدل لیں اورکُفر کوچھوڑ کر ایمان کی طرف آ جائیں ۔ لیکن چُونکہ یہ کُلّی اورعمومی قانُون ابر اہیم علیہ السلام کی زندگی میں ایک استثناء ،رکھتاتھا جوبعض مُشرکین کی ہدایت کے لیے صُورت پذیر ہُو ا تھا ،لہٰذا اس کے بعد فرماتاہے: اُنہوںنے کافروں سے ہرقسم کار ابط مُنقطع کر لیا اور ان سے کوئی بھی محبت آمیز بات نہیں کی : ” سو ائے اس بات کے جو ابر اہیم علیہ السلام نے اپنے باپ (چچا آذر ) سے کی تھی کہ میںخُدا سے تمہار ے لیے مغفرت طلب کروں گا، لیکن اس کے باوجُود میں خُدا کے مُقابلے میں تیر ے لیے کسِی چیز کا مالک نہیں ہُوں اوربخشش توصرف اُسی کے ہاتھ میں ہے “ (إِلاَّ قَوْلَ إِبْر اہیمَ لِاٴَبیہِ لَاٴَسْتَغْفِرَنَّ لَکَ وَ ما اٴَمْلِکُ لَکَ مِنَ اللَّہِ مِنْ شَیْء)(۴) ۔ حقیقت میں یہ ابر اہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کابُت پرستوں سے ہرقسم کے ارتباط کومنقطع کرنے کے مسئلہ سے ایک ایسا استثناء ہے جو ایک خاص مصلحت اورحالات کی وجہ سے تھا ، کیونکہ قر آئن بتلاتے ہیں کہ ابر اہیم علیہ السلام نے احتمالا اپنے چچا آذر میں ایمان کے لیے آماد گی مشاہدہ کی ہُوئی تھی ،لیکن آذر اس مسئلہ سے پریشان تھاکہ اگر اس نے توحید کی ر اہ اختیار تو اس کی بُت پرستی کے دور کا کیابنے گا ؟ لہٰذا ابر اہیم علیہ السلام نے اُس سے یہ وعدہ کرلیاتھاکہ میں بارگاہِ خدا میں تیرے لیے استغفار کروں گا اور اس وعدہ پر آ پ نے عمل بھی کیا ،لیکن آذر ایمان نہ لایا، جب ابر اہیم علیہ السلام پریہ و اضح ہوگیا کہ وہ دشمن ِ خُدا ہے اورہر گز ایمان نہیں لائے گا تو پھر اُس کے لیے استغفار نہیں کیا اور اس سے قطع تعلق کرلیا ۔ چُونکہ مُسلمان ابر اہیم علیہ السلام اور آذر کے اِس و اقعہ سے اجمالی طورپر با خبر تھے ،لہٰذاممکِن تھاکہ یہی مطلب ” حاطب بن ابی بلتعہ “ جیسے لوگوں کے لےے کُفّارسے ر ازو نیاز قائم رکھنے کابہانہ بن جائے ، اس لیے قر آن کہتاہے کہ یہ استثناء خاص حالات میں صُورت پذیر ہو ا ، اور آذر کے ایمان لے آنے کا ایک ذ ریعہ تھا نہ کہ دُنیوی مقاصد کے لیے تھا ، اسی لیے سورہٴ توبہ کی آ یہ ۱۱۴ میں فر ما تاہے : وَ ما کانَ اسْتِغْفارُ إِبْر اہیمَ لِاٴَبیہِ إِلاَّ عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَہا إِیَّاہُ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہُ اٴَنَّہُ عَدُوٌّ لِلَّہِ تَبَر اٴَ مِنْہُ إِنَّ إِبْر اہیمَ لَاٴَو اہٌ حَلیمٌ :ابر اہیم علیہ السلام کا اپنے باپ (چچا آذر ) کے لیے استغفار صرف اِس وعدہ کی بناء پر تھاجو اُنہوںنے اُس سے کرلیا تھا ، (تاکہ اسے ایمان کی طرف کھینچ لائیں )لیکن جب اُن پر یہ و اضح ہوگیا کہ وہ خُدا کادشمن ہے تو اس سے بیزاری اختیار کرلی، بے شک ابر اہیم علیہ السلام مہربان اور بُر د بار تھے ۔ لیکن مفسّر ین کی ایک جماعت نے اسے ” ابر اہیم “ علیہ اسلام کے اُسوہ سے استثناء سمجھا او ر کہا ہے کہ سو ائے ان کے اپنے چچا آذر کے لیے استغفار کرنے کے لیے ہرچیزمیں اُن کی اقتداء اورپیروی کرناچاہیے ۔ یہ مطلب اگرچہ چند ایک مفسّرین کے کلام میں ہی آ یاہے ،پھر بھی یہ بات بُہت ہی بعید دکھائی دیتی ہے، کیونکہ اوّل تووہ ہر چیز میں یہاں تک کہ اس عمل میں بھی اُسوہ تھے ، کیونکہ اگروہی ” آذر “ و الے حالا ت بعض مُشرکین میں پیدا ہوجاتے تو انہیں ایمان کی طرف کھینچ لانے کے لیے ان سے اظہار محبت کرنا اچھّا کام ہوتاہے ،دُوسرے ابر اہیم علیہ السلام معصُوم پیغمبر اورعظیم مُجاہد انبیاء میں سے تھے ، اور ان کے تمام کے تمام اعمال ہی نمُونہ تھے ، لہٰذا کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم اس مسئلہ کا استثناء کریں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ ابر اہیم علیہ السلام اور ان کے پیرو کا ر پُورے قوّت کے ساتھ بُت پرستو ں کے مُخا لف تھے ،لہٰذا ہمیںاس سبق کو اپنا دستُور العمل بنانا چاہیے ، آذر کے و اقعہ میں کچھ خاص حالات تھے اور اگروہ ہمارے لیے بھی پیدا ہوجائیں تووہ ہمارے لیے بھی پیروی کے لائق ہیں ( ۵) ۔ چُونکہ دُشمنانِ خُدا کے ساتھ ایسی صر احت اورقا طعیّت کے ساتھ مبارزہ خصُوصاً اُس زمانہ میں جبکہ وہ قدرتِ ظاہری رکھتے تھے ،خُدا کی ذات پر توکّل کیے بغیر ممکن نہیں ہے ،لہٰذا آ یت کے آخر میں مزید کہتاہے : پروردگار ا ! ہم تجھ پر توکّل کیاہے ،تیری طرف رُخ کیاہے اور انجام کار سب کا آخر ی اور اصلی رجُوع تیری ہی طرف ہوتاہے (رَبَّنا عَلَیْکَ تَوَکَّلْنا وَ إِلَیْکَ اٴَنَبْنا وَ إِلَیْکَ الْمَصیر) ۔ حقیقت میں اُنہوںنے اس عبارت میں تین مطالب خداوندِ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیے ہیں : اوّل :اُس کی ذات پر توکّل،دُوسر ے اُس کی طرف توبہ و بازگشت اورتیسر ے اس حقیقت کی طرف توجّہ کہ تمام چیزوں کا آخری اور اصلی رجُوع اُسی کی طرف ہوتاہے ، اور یہ ایک دُوسرے کے علّت و منزل ہیں ، معاد اور آخر ی بازگشت پر ایمان لانا توبہ کاسبب بنتاہے ، اور تو بہ رُوح ِ توکّل کو انسان میں زندہ کرتی ہے ( ۶) ۔ بعد و الی آ یت میں ابر اہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی ایک اوردرخو است کی طرف جو اس سلسلے میں حسّاس اور جاذب ہے اشارہ کرتے ہُوئے کہتاہے : ” پر وردگار ا!ہمیں کافروں کی گمر اہی کاسبب نہ بنانا “ (رَبَّنا لا تَجْعَلْنا فِتْنَةً لِلَّذینَ کَفَرُو ا ) ۔ یہ تعبیر ممکِن ہے ایسے اعمال کی طرف اشارہ ہوجو بعض بے خبر لوگوں سے سرزد ہوجاتے ہوں جیساکہ ” حاطبِ بن ابی بلتعہ “کاعمل تھا، یعنی وہ لوگ ایساکام کر بیٹھتے ہیں جوگمر اہوں کی تقویّت کاسبب بن جاتاہے ،حالانکہ ان کا گمان یہ ہوتاہے کہ اُنہوںنے کوئی غلط کام نہیں کیاہے ۔ یا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہمیں ان کے چُنگل میں گرفتار نہ کر انا اور ان کے مُقابلے میںمغلوب نہ کردینا اور کہیں وہ یہ نہ کہنے لگ جائیں کہ اگر یہ حق پر ہوتے تو ہرگز شکست نہ کھاتے ، اور یہی بات اُن کی گمر اہی کاسبب بن جائے گی ۔ یعنی اگروہ اپنی شکست اور کافروں کے تسلّط سے ڈ رتے ہیں توخود اپنی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ دین حق پر کائی اعتر اض نہ ہو اورمُشرکین کی ظاہری کامیابی ان کی حقّا نیّت کی دلیل نہ سمجھی جائے ، گویا ایک مومِن و اقعی کا طریقہ یہی ہے کہ وہ جوکچھ چاہتاہے خُدا کے لیے چاہتاہے ،وہ سب سے کٹ کرخُدا کاہوگیا ہے اور تمام کام اُسی کی رضا کے لیے کرتاہے ۔ سوی تم کر دیم روی ودل بہ تو بستیم ازہمہ باز آمدیم باتو نشستیم !! ہرچہ نہ پیوند یار بود بریدیم ہر چہ نہ پیمان دوست بود گسستیم ہم نے تیری طرف رُخ کیاہے اورتجھ ہی سے دِل لگایاہے ۔ ہم سب کوچھوڑ کرتیر ے ساتھ ہو بیٹھے ہیں ۔ جس کاتعلّق محبُوب سے نہ ہو اُس سے ہم کٹ گئے ہیں ۔ جودوست کاعہد وپیمان نہیں تھا ہم نے اُس کوتوڑ دیاہے ۔ آیت کے آخری میںمزید کہتاہے :” پروردگار ا! اگرہم سے کوئی لغزش سرزد ہوجائے توہمیں بخش دینا “ (وَ اغْفِرْ لَنا رَبَّنا ) ۔ تو عزیز وحکیم ہے : ( إِنَّکَ اٴَنْتَ الْعَزیزُ الْحَکیمُ ) ۔ تیری قدر ت شکست ناپذیر ہے اورتیر ی حکمت ہرچیز میں نافذ ہے ، ہوسکتا ہے یہ جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ اگرہماری زندگی میں تیرے دشمن کی طرف تمائل ، محبت اوردوستی کی نشانی موجُود ہوتوہماری اس لغزش کوبخش دے ، نیز یہ تمام مُسلمانوں کے لیے ایک درس ہے کہ وہ بھی اس کی دستُور العمل بنائیں اور اگر کوئی ” حاطب “ ان میں پیدا ہوجائے تووہ استغفار کریں اورخُدا کی طرف پلٹ آ ئیں ۔ پھر آخری زیربحث آ یت میں دوبارہ اسی مطلب کو بیان کرتاہے جوپہلی آ یت میں بیان کیاگیاتھا فرماتاہے : ان کی زندگی میں تم مُسلمانوں کے لیے ایک اچھانمُونہ تھا، ان لوگوں کے لیے جوخُدا اورقیامت کے دن کی اُمّید رکھتے ہیں (لَقَدْ کانَ لَکُمْ فیہِمْ اٴُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ کانَ یَرْجُو ا اللَّہَ وَ الْیَوْمَ الْآخِرَ )(۷) ۔ نہ صرف بُت پرستوں اورکُفر کے طریقہ سے ان کی بر اٴت اوربیزار ی بلکہ بارگاہِ خدا میں ان کی دُعائیں اورتقاضے بھی جن کے کچھ نمُونے گزشتہ آیات میں گز رچُکے ہیں ، تمام مُسلمانوں کے لیے دستُور العمل ہیں ۔ یہ دستور العمل اورنمُونہ وہی لوگ قبول کرتے ہیں جنہوںنے خدا کے ساتھ دل لگالیا ، مبدء و معاد پر ایمان نے ان کے دل کو روشن کردیا اور وہ طریق ِ حق پر چل پڑے ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ اس تاٴسی اور پیر وی کانفع سب سے پہلے خود مسلمانو ں کو ہی پہنچتا ہے ، اسی لیے آخر مین مزیدکہتاہے : ” جوشخص رُو گردانی کرے گا اور دشمنانِ خُدا سے دوستی کی بُنیاد ڈالے گا ،وہ خود اپنے آپ کوہی نقصان پہنچائے گا اور خدا کو اس کی کوئی حاجت نہیں ہے کیونکہ وہ سب سے بے نیاز اورہرقسم کی حمد وستائش کے لائق ہے “ ( وَ مَنْ یَتَوَلَّ فَإِنَّ اللَّہَ ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمید) ۔ کیونکہ دُشمنانِ خُدا کے ساتھ دوستی کرنا انہیں تقویّت پہنچاتاہے ، اور ان کی قوّت خود تمہاری شکست کاباعث ہے اگروہ تم پرمُسلط ہوگئے تو پھروہ کسِی چھوٹے بڑے پررحم نہیں کریں گے (۸) ۔ ۱۔مفسّرین نے اس جُملہ کی ترکیب میں کئی احتمال دیے ہیں ،لیکن ظاہر یہ ہے کہ ” اسوة حسنة “ ”کان “ کا اسم اور” لکم “ اس کی خبر ہے اور ” فی ابر اہیم “ ” اسوة حسنة “ کامتعلق ہے ضمنی طورپر اس بات کی طرف توجّہ کرناچاہیئے کہ ” اسوة “ تاسی اورپیروی کے معنی میں کبھی تو اچھّے کاموں کے لیے اور کبھی بُرے کاموں کے لیے آتاہے، اسی لیے اوپرو الی آ یات میں ” حسنة “ کے ساتھ مُقیّد ہو اہے ۔ ۲۔ کامل ابنِ اثیر جلد۱،ص ۱۰۰۔ ۳۔ " بر اٴ ء “ ” بری “ کی جمع ہے جیسے : ” ظرفاء “ ” ظریف“۔ ۴۔”اصولِ کافی “ بحو الہ ” نور الثقلین “جلد۵،صفحہ ۳۰۲۔ ۵۔مذکورہ بیان سے و اضح ہوجاتاہے کہ یہاں استثناء متصل ہے اور” مستثنٰی منہ “ایک محذُوف جُملہ ہے کہ جس پر آ یت کامتن دلالت کرتاہے ،تقدیر میں اس طرح ہے :ان ابر اہیم و قومہ و امنھم ولم یکن لھم قول ید ل علی المحبة الا قول ابر اہیم ...لیکن دوسری تفسیر کے مُطابق استثناء منقطع ہو جائے گا اور یہ خوداس پردوسر ا اعتر اض ہے ۔ ۶۔ہم نے جوکچھ بیان کیاہے ، اس سے و اضح ہوگیا کہ یہ جملہ ابر اہیم علیہ السلام ، اور ان کے ساتھیوں کا ہے ، اگرچہ بعض مفسّرین نے یہ احتمال بھی دیاہے کہ یہ ایک مستقل جُملہ ہے جو مُسلمانوں کی تعلیم کے عنو ان سے ان آ یات کے وسط میںنازل ہُو ا ہے لیکن یہ احتمال بعید نظر آ تاہے ۔ ۷۔بعض مفسرّین نے یہ کہا ہے کہ اوپر و الی آ یت میں ” لمن “ ” لکم“کابدل ہے ( تفسیر فخر ر ازی وروح المعانی زیرِ بحث آ یات کے ذیل میں ) ۔ ۸۔اس قول کی بناء پر جُملہ ” من یتول “جملہ شرطیہ ہے اور اس کی جزاء محذُو ف ہے وہ تقدیر میں اس طرح ہے : ” مَنْ یَتَوَلَّ فقد اخطاٴ حظ نفسہ وذھب یعود نفعہ الیہ“جورُو گردانی کرے اُس نے اپنے حصّہ سے خطاء کی اور اُس چیزسے دُور و ہوگیاہے ،جس کانفع اس کی طرف لوٹتاہے ۔( مجمع البیان ،جلد۹،صفحہ ۲۷۲)