يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُم مِّنَ الْحَقِّ يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّاكُمْ أَن تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ رَبِّكُمْ إِن كُنتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِي سَبِيلِي وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي تُسِرُّونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ وَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا أَخْفَيْتُمْ وَمَا أَعْلَنتُمْ وَمَن يَفْعَلْهُ مِنكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ
O you who have faith! Do not take My enemy and your enemy for friends, [secretly] offering them affection, if you have set out for jihad in My way and to seek My pleasure, for they have certainly denied whatever has come to you of the truth, expelling the Apostle and you, because you have faith in Allah, your Lord. You secretly nourish affection for them, while I know well whatever you hide and whatever you disclose, and whoever among you does that has certainly strayed from the right way.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 60:1
[Pooya/Ali Commentary 60:1] The immediate occasion for the revelation of this passage was a letter, secretly despatched from Madina, through a slave songstress of Makka who came to Madina posing as a destitute but was a spy, by Hatib, a muhajir, addressed to the Makkans, giving them notice of the intended Muslim expedition to Makka, and advising them to arm themselves to fight against the Holy Prophet. Jibrail revealed the affair to the Holy Prophet who immediately sent Ali, Miqdad and Ammar after her. The spy, when intercepted, readily presented herself for a search, denying the charge she was accused of. Having full faith in the knowledge of the Holy Prophet, Ali threatened her with slaughter if she did not produce the letter. Then she brought the letter from the long tresses of her hair. On being questioned, Hatib offered the excuse that it was solely due to his natural desire to save his unprotected family at the hands of the Makkan pagans. The Holy Prophet, in view of his past conduct, graciously asked him to seek pardon from Allah. This was shortly before the conquest of Makka, but the principle is of universal importance. There cannot be any intimacy with the enemies of your faith and people, who are persecuting your faith and seeking to destroy you and your faith. You should not do so even for the sake of your relatives, as it compromises the life and existence of your whole community. For treachery the plea of children and relatives will not be accepted when the day of judgement comes. Children, family and friends will be of no avail. The command to avoid contact with the enemies of the truth is the basis of the doctrine of tabarra. Tabarra is not vulgar vilification or wanton abuse. It is that which has been commanded in this verse.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 60:1-6
Before Abraham’s time the faithful used to be poor. After his prayer, some were enriched to be on the level with the infidels. Ever avoid befriending infidels, as ruining your noble features, for certainly man is akin to beast physically if he neglects his soul being pure, akin to God.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 60:1-3
سوره ممتحنه/ آیه 1- 3
بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ ۱۔ یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُو ا لا تَتَّخِذُو ا عَدُوِّی وَ عَدُوَّکُمْ اٴَوْلِیاء َ تُلْقُونَ إِلَیْہِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ کَفَرُو ا بِما جاء َکُمْ مِنَ الْحَقِّ یُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَ إِیَّاکُمْ اٴَنْ تُؤْمِنُو ا بِاللَّہِ رَبِّکُمْ إِنْ کُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِہاداً فی سَبیلی وَ ابْتِغاء َ مَرْضاتی تُسِرُّونَ إِلَیْہِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ اٴَنَا اٴَعْلَمُ بِما اٴَخْفَیْتُمْ وَ ما اٴَعْلَنْتُمْ وَ مَنْ یَفْعَلْہُ مِنْکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَو اء َ السَّبیلِ ۔ ۲۔إِنْ یَثْقَفُوکُمْ یَکُونُو ا لَکُمْ اٴَعْداء ً وَ یَبْسُطُو ا إِلَیْکُمْ اٴَیْدِیَہُمْ وَ اٴَلْسِنَتَہُمْ بِالسُّوء ِ وَ وَدُّو ا لَوْ تَکْفُرُونَ ۔ ۳۔لَنْ تَنْفَعَکُمْ اٴَرْحامُکُمْ وَ لا اٴَوْلادُکُمْ یَوْمَ الْقِیامَةِ یَفْصِلُ بَیْنَکُمْ وَ اللَّہُ بِما تَعْمَلُونَ بَصیرٌ ۔ ترجمہ رحمن ورحیم خدا کے نام سے ۱۔ اے ایمان لانے و الو! تم میر ے دشمن اور اپنے دشمن کو اپنا دوست نہ بناؤ ،تم ان کے لیے محبت کا اظہار کرتے ہو ،حالانکہ تمہار ے پاس آ تاہے وہ اس سے کافر ہوگئے ہیں ،وہ رسُولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کو اور تمہیں اس وجہ سے تمہار ے شہر سے نکالتے ہیں کہ تم اپنے پروردِگار خدا پر ایمان لائے ہو ، اگرتُم نے میر ی ر اہ میں جہادکرنے اورمیری خوشنُودی حاصِل کرنے کے لیے ہجرت کی ہے توتم اُن سے دوستی کارشتہ قائم نہ کرو ، تم مخفی طورپر ان سے دوستی کار ابط قائم کررہے ہو حالانکہ جوکُچھ تم پنہاں و آشکار کرتے ہو ، میں اس سے اچھی طرح آگاہ ہُوں ، اور تم میں سے جوبھی یہ کام کرے وہ ر اہِ ر است سے گمر اہ ہوگیاہے ۔ ۲۔اگروہ تم پرمُسلّط ہوجائیں تووہ تم سے دشمنی ہی کریں گے اور تمہارے ساتھ اپنے ہاتھ اور زبان سے بد ہی کریں گے اور تمہیں کفرکی طرف پلٹا نے کی کوشش کریں گے ۔ ۳۔ تمہارے عزیز و اقر با اورتمہاری اولاد تمہیں ہرگز کوئی نفع نہیں دیں گے ،وہ قیامت کے دن تمہارے درمیان جُدائی ڈال دے گا اورجوکچھ تم کرتے ہوخُدا اُسے دیکھ رہاہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 60:1-3
خدا سے دوستی کرنے کا انجام
جیساکہ ہم شانِ نزول کے ذریعے جان چکے ہیں ایک مُسلمان سے ایک حرکت صادر ہُوئی جو اگرچہ جاسوسی کے ار ادہ سے نہیں تھی ،لیکن دُشمنانِ اسلام سے اظہار مُحبت شمار ہوتی تھی ،لہٰذا اوپر و الی آ یت نازل ہوئیں اور مُسلمانو ں کویہ تنبیہ کی گئی کہ آئندہ اِس قسم کے کاموں سے پرہیز کریں( 1) ۔ پہلے فر ماتاہے :اے ایمان لانے و الو ! تم میرے اور اپنے دشمن کودوست نہ بناؤ(یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُو ا لا تَتَّخِذُو ا عَدُوِّی وَ عَدُوَّکُمْ اٴَوْلِیاء) ۔ یعنی وہ صرف خُداہی کے دشمن نہیں بلکہ وہ تم سے بھی دشمنی رکھتے ہیں ،لہٰذا ان حالات میں تم ان کوصرف دوستی کاہاتھ کِس طرح بڑ ھاتے ہو؟ اس کے بعد مزید کہتاہے : تم ان کے لیے محبت کا اظہار کرتے ہو، حالانکہ وہ اس حق (اسلام وقر آن )سے جوتمہارے لیے آ یاہے کافرہو گئے ہیں وہ رسُول ِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کو اور تمہیں ، تمہارے شہر و دیار سے اس وجہ سے باہر نکالتے ہیں کہ تم اپنے پروردگار خداپر ایمان لائے ہو (تُلْقُونَ إِلَیْہِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ کَفَرُو ا بِما جاء َکُمْ مِنَ الْحَقِّ یُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَ إِیَّاکُمْ اٴَنْ تُؤْمِنُو ا بِاللَّہِ رَبِّکُمْ)(2) ۔ وہ عقیدہ میں بھی تمہار ے مخالف ہیں اورعملی طورپر جنگ کے لیے کھڑ ے ہیں ، اِس کام کوجوتمہار ے لیے عظیم تریناعزاز افتخار ہے ، یعنی پروردگار پر ایمان ، اسے اُنہوںنے تمہار ے لیے بُہت ہی بڑاگناہ شمارکیاہے اور اسی وجہ سے انہوںنے تمہیں تمہارے شہر ودیار سے نکالا ہے ، ان حالات میں کیا اس بات کی گنجائش ہے کہ تم ان کے لیے محبت کا اظہار کرو اورسپاہ ِ اسلام کے قوی ہاتھوں سے ہونے و الے عذاب ِ الہٰی کے چُنگل سے ان کی نجات کے لیے کوشش کرو ؟ اِس کے بعد مزید وضاحت کے لیے اضافہ کرتاہے : اگر تم نے ر اہِ جہاد میں جہاد کرنے اورمیری خوشنودی کے حصُول کے لیے ہجرت کی ہے توتم ان سے دوستی کارشتہ قائم نہ کرو (یَوْمَ الْقِیامَةِ یَفْصِلُ بَیْنَکُمْ) ۔(3) ۔ اگرو اقعتاتم خدا کی دوستی کادم بھرتے ہو ، اسی کی خاطر تم نے اپنے شہر اور گھروں سے ہجرت کی ہے اورجہاد فی سبیل اللہ سے خدا کی رضا حاصل کرناچاہتے ہو تویہ بات دشمنانِ خداکی دوستی کے ساتھ سازگاری نہیں ہے ۔ اس کے بعد مزید وضاحت کے لیے اضافہ کرتاہے : ” تم مخفی طورپر اُن سے دوستی کار ابط قائم کر رہے ہو ، حالانکہ جوکچھ تم پنہا ں و آشکار ا کرتے ہو میں اس سے اچھی طرح آگاہ ہُوں (تُسِرُّونَ إِلَیْہِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ اٴَنَا اٴَعْلَمُ بِما اٴَخْفَیْتُمْ وَ ما اٴَعْلَنْتُمْ ِ)(4) ۔ اس بناء پرخدا کے غیب وشہود کاعالم ہوتے ہوئے اخفاء کاری کاکیا فائدہ ہے ۔ اس بناء پر آ یت کے آخری قاطع تہدید کے عنو ان سے فرماتاہے ہے : ” تم میں سے جوشخص بھی اس قسم کاکام کرے گا وہ سیدھے ر استے سے منحرف اور گمر اہ ہوجائے گا ( وَ مَنْ یَفْعَلْہُ مِنْکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَو اء َ السَّبیل) ۔ وہ خدا کی معرفت کے ر استہ سے بھی ہٹ گیا ، کیونکہ اُس نے یہ گمان کرلیا کہ کوئی چیز خُدا سے مخفی رہ جاتی ہے ،وہ ایمان اخلاص اور تقویٰ کی ر اہ سے بھی ہٹ گیا جبھی توخُدا کے دشمنوں سے دوستی کی بُنیاد رکھی ہے، اس نے اپنی زندگی کی جڑوں پر بھی کلہاڑ ی ماری ہے کہ اپنے دشمن کو اپنے اسر ار سے باخبر کردیاہے ،یہ وہ بدترین انحر اف ہے جومومن آدمی کوسر چشمہ ٴ ایمان تک پہنچنے کے بعد عارضی ہوسکتاہے ۔ بعد و الی آ یت میں مزید تاکید و توضیح کے لیے فرماتاہے : ” تم ان کے ساتھ دوستی کیوں کرتے ہو ؟حالانکہ اگروہ تم پرمُسلّط ہوجائیں تووہ تم سے دشمنی ہی کریں گے اور تمہار ے ساتھ اپنے ہاتھ اور زبان سے بدی ہی کریں گے “ (إِنْ یَثْقَفُوکُمْ یَکُونُو ا لَکُمْ اٴَعْداء ً وَ یَبْسُطُو ا إِلَیْکُمْ اٴَیْدِیَہُمْ وَ اٴَلْسِنَتَہُمْ بِالسُّوء ِ )(5) ۔ تم ان کے ساتھ ہی ہمدردی کرتے ہو، حالانکہ وہ تمہار ے اتنے پکّے دشمن ہیں کہ اگروہ تم پرمُسلّط ہوجائیں تووہ کسی بھی کام میں کوئی فروگذاشت نہ کریں گے اورتمہیں اپنے ہاتھ اور زبان سے ہر قسم کا آزار اورتکلیف پہنچائیں گے ، کیا ایسے لوگوں کے ساتھ ہمدردی کرنامُناسب ہے ؟ سب سے بُری بات یہ ہے کہ کہ ” وہ چا ہتے ہیں کہ تمہیںاِسلام سے کفر کی طرف پلٹا دیں “اور اپنے سب سے بڑے افتخار ، یعنی گوہر ایمان کو کھو بیٹھو (وَ وَدُّو ا لَوْ تَکْفُرُون) ۔ اور یہ و اقعی ایک درد ناک ترین ضرب ہے جووہ تم پر لگاناچاہتے ہیں ۔ آخر ی زیر ِ بحث آ یت میں ” حاطب بن ابی بلتعہ “جیسے افر اد کوجو اب دیتاہے ،جب پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے اُسے فرمایاتھا کہ تُونے مُسلمانوں کے اسر ار مُشر کین ِ مکّہ کے پاس کیوں پہنچائے ؟تو اُس نے یہ جو اب دیاتھا:میرے عزیز و اقارب مکّہ میں ہیں کہ جو کُفّارکے ہاتھوں میں گرفتارہیں ، مُجھے ڈر ہے کہ وہ انہیں آسیب پہنچائیں گے ، اس لیے میں نے چاہا کہ اِس طریقے سے اُن کی حفاظت کروں ،خدافرماتاہے : تمہارے عزیز و اقرباء اور تمہاری اولاد ہر گزتمہیں کوئی فائدہ نہ پُہنچائے گی (لَنْ تَنْفَعَکُمْ اٴَرْحامُکُمْ وَ لا اٴَوْلادُکُمْ ) ۔ کیونکہ اگر اولاد اورعزیز و اقارب بے ایمان ہوں تووہ نہ اس دُنیا کے لیے عزّت و آبرُو اور سر مایہ ہوں گے ، نہ ہی آخرت میں ذ ریعہٴ نجات ،پس مومن اُن کے لیے ایسے کام کیوں کریں جوخُدا کے غضب اُس کے اولیاء سے منقطع ہون کا مُوجب ہوں ۔ اس کے بعد مزیدکہتاہے : ” خُدا قیامت کے دن تمہارے اور ان کے درمیان جُدائی ڈال دے گا “ (یَوْمَ الْقِیامَةِ یَفْصِلُ بَیْنَکُمْ )( 6) ۔ اہل ایمان جنّت کی طرف اور اہل کُفر دوزخ کی طرف جائیں گے ،یہ حقیقت میں اس بات کے لیے ایک دلیل ہے جوپہلے بیان کی گئی ہے ،یعنی وہاں تم ایک دُوسرے سے جُدا ہوجاؤ گے اور تمام رشتے کُلّی طورپر منقطع ہوجائیں گے توپھر وہ تمہیں کون سانفع پہنچائیں گے ؟ یہ آ یت حقیقت میں اسی بات سے مُشابہ ہے جو سورة عبس کی آ یہ ۳۴ تا ۳۶ میں بیان ہوئی کہ جس میں فر ماتاہے : ” یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْء ُ مِنْ اٴَخیہِ ،وَ اٴُمِّہِ وَ اٴَبیہِ،وَ صاحِبَتِہِ وَ بَنیہِ “ وہ دن دُور نہیں جس میں انسان اپنے بھائی ، ماں ، باپ ،بیوی اور اولاد سے فر ار کرے گا “۔ آ یت کے آخرمیں ایک دفعہ پھر سب کو خبر دار کرتاہے کہ ” جوکچھ تم کرتے ہو خدا اسے دیکھ رہاہے “(وَ اللَّہُ بِما تَعْمَلُونَ بَصیر) ۔ وہ تمہاری نیّتوں سے آگاہ ہے اور ان اعمال سے بھی جوتم پوشیدہ طورپر انجام دیتے ہو ، اگرکچھ مو ارد میں وہ تمہارے اسر ار کو ” حاطب بن ابی بلتعہ “کی طرح فاش نہیں کرتا تو وہ کچھ مصالح کی بِناء پر ہے ، نہ یہ کہ وہ و اقف اور آگاہ نہیں ہے ۔ حقیقت میں حُدا کاغیب و شہُود اور ظاہر وپوشیدہ علم ، انسان کی تربیّت کے لیے ایک مُوٴ ثر ذ ریعہ ہے کہ وہ ہرحالت میںخود کو اس کی بارگاہ کے سامنے سمجھے اور سارے جہان کوخُدا کے حضور میں حاضر جانے ،وہ اپنی گفتار و رفتار حتّٰی کہ اپنی نیّت کابھی خیال رکھے ،یہی چیز ہے جوہم کہتے ہیں کہ خُدا کی مکمل معرفت تقویٰ کے ظہور کاسر چشمہ ہے ۔ 1 ۔” مجمع البیان“ جلد۹،صفحہ ۲۶۹(تھوڑی سی تلخیص کے ساتھ )اس شانِ نزول کوبُخاری نے اپنی صحیح (جلد۶،صفحہ ۱۸۵، ۱۸۶) میں فخر ر ازی نے اپنی تفسیرمیں اور اسی طرح تفسیر” رُوح المعانی “و” روح البیان “و” فی ظلال“و” قرطبی “ و” مر اغی “وغیرہ نے تھوڑ ے تھوڑ ے فرق کے ساتھ نقل کیاہے ۔ 2۔”تُلْقُونَ إِلَیْہِمْ بِالْمَوَدَّةِ “کے جملہ کو” لاتتخذو ا“کی ضمیر سے حال یا جملہ استینا فیہ سمجھتے ہیں (کشاف جلد۴،ص ۵۱۲)اور” بِالْمَوَدَّةِ ‘ کی باء کوزائدہ اور تاکید کے لیے ، جیسے (ولا تلقو ا باید کم الی التھلکة )ہے یا” سببیہ “ہے حذف مفعول کے ساتھ اور تقدیرمیں اس طرح ہے ” تُلْقُونَ إِلَیْہِمْاخبار رسول اللہ بسبب المودة التی بینکم وبینم ) (وہی مدرک ) ۔ 3۔مفسرین کی ایک جماعت یہ نظریہ رکھتی ہے کہ اس جُملہ شرطیہ کی جزاء محذوف ہے کہ جس کاگذشتہ جُملہ سے استفادہ ہوتاہے ،یہ تقدیر میں اس طرح ہے : ” إِنْ کُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِہاداً فی سَبیلی وَ ابْتِغاء َ مَرْضاتیلا تتولو ا اعدائی “۔ 4۔یہ ایک جُملہ استینا فیہ ہے اور” ما اسر رتم “کے بجائے ” ما اخفیتم“کی تعبیر اس لحاظ سے ہے کہ اس سے زیادہ مُبالغہ ظاہر ہوتاہے ، کیونکہ اخفاء پنہاں کاری سے زیادہ عمیق مرحلہ ہے،( تفسیر فخر ر ازی زیربحث آ یت کے ذیل میں)۔ 5۔’یَثْقَفُوکُمْ “” ْ ثقَفُ اورثْقافة “کے مادہ سے ، کسِی چیزکی تشخیص اور اس کے انجام دینے میں مہارت کے معنی میں ہے اِس لیے فرہنگ و تمدّن یاکسِی چیز پرماہر نہ تسلّط کے معنی میں استعمال ہوتاہے ۔ 6۔بہت سے مفسرین نے ” یوم القیامة “کوبفصل کامتعلق سمجھاہے ،لیکن بعض اسے ” لن تنفعکم“کے متعلّق سمجھتے ہیں ، تاہم دونوں کانتیجہ قریب قریب ایک ہی ہے ، اگرچہ پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتاہے یہ نکتہ بھی قابلِ توجّہ ہے کہ بعض ” یفصل “ کی تفسیر جُدائی ڈالنے کے معنی میں نہیں کرتے بلکہ فصل کوقضاوت اور فیصلہ کرنے کے معنی میں جانتے ہیں ،لیکن یہاں پہلا معنی زیادہ صحیح نظر آ تاہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 60:1-3
شان نزول
اکثر مفسّر ین نے تصریح کی ہے کہ یہ آ یات ( یاپہلی آیت) ” حاطب بن ابی بلعتہ “ کے بارے میں نازل ہُوئی ہیں( البتہ مختصر سے فرق کے ساتھ ) مرحوم طبرسی نے جوکچھ مجمع البیان میں ذکرکیاہے ہم اُسے ذیل میں بیان کرتے ہیں: و اقعہ یہ ہُو ا کہ ایک عورت جس کانام ” سارہ “تھا اوروہ مکّہ کے کسِی قبیلہ سے تعلّق رکھتی تھی،مکّہ سے مدینہ میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی خدمت میںحاضر ہُوئی پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اُس سے فرمایا : کیاتومُسلمان ہوکر آئی ہے ؟ اُس نے عرض کیا : نہیں آپ نے فرمایا: کیا تومُہاجر کے عنو ان سے آئی ہے ؟ اُس نے کہا: نہیں!۔ آپ نے فرمایا: پھر تو کیوں آ ئی ہے ؟ اُس نے عرض کیا: آپ ہماری اصل اورعشیرہ وقبیلہ تھے ، میرے سارے کے سارے سرپرست چل دیے ہیں اور میں سخت محتاج ہوگئی ہُوں ہیں اِس لیے آپ کے آئی ہوں تاکہ آپ مجھے کچھ عطاکریں اور لباس سو اری سے نو ازیں ۔ آ پ نے فرمایا: مکّہ کے جو ان کہاں چلے گئے ؟ ّ یہ اس با ت کی طرف اشارہ کہ وہ عورت گانے و الی تھی اور جو انوں کے لیے گانے گایاکرتی تھی) ۔ اُس نے کہا: جنگِ بدر کے بعد کسِی نے مُجھ سے گانے کی خو اہش نہیں کی (اس سے پتہ چلتاہے کہ جنگِ بدر کی ضرب مُشرکین مکّہ پرکتنی سخت تھی)۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اولاد عبدالمطلب کوحکم دیاتو اُنہوںنے اُسے لباس ،سو اری اور زادِ ر اہ دیا ،یہ اس موقع کی بات ہے جب آپ فتح مکّہ کے لیے تیّاری کررہے تھے ۔ اس موقعہ پر” حاطب بن ابی بلتعہ “ ( ایک مشہورمُسلمان جُوجنگ ِ بدر و بیعت رضو ان میں شریک تھا ) ” سادہ “ کے پاس آیا اُس نے ایک خط لکھ کر اسے دیا اورکہا: یہ اہل مکّہ کودے دینا، اُس نے دس دینا ر اور بقولے دس درہم اُسے دیے اور ایک یمنی کپڑا بھی اُسے دیا ۔ ” حاطب “ نے اہل مکّہ کوخط میں یہ لکّھاتھا کہ رسول ِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تمہاری طرف آنے کی تیّاری کررہے ہیں ،لہٰذاتم اپنے دفاع کے لیے تیّارر ہو“ سارہ نے خط لیا اور مدینہ سے مکّہ کی طرف چل پڑی ۔ جبرئیل نے اس وقعہ کی اِطلاع پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو پہنچائی رسُول ِ خُدانے علی وعمار وزبیر وطلحہ ومقداد و ابومرثد کوحکم دیاکہ وہ سو ار ہوکرمکّہ کی طرف جائیں ، ان سے یہ بھی فرمایا کہ تمہیں ر استہ کے درمیان ایک منزل پر ایک عورت ” سارہ “ نامی ملے گی ،جو مُشرکین مکّہ کے لیے ” حاطب“ کا ایک خط لے کر جارہی ہے تم اُس سے وہ خط لے لو ۔ و ہ وہاں سے چل پڑے اور اسی جگہ اس تک جاپہنچے جہاںرسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) نے فر مایاتھا، اس نے قسم کھائی کہ اُس کے پاس کوئی خط نہیں ہے ، انہوں نے اُس کے سامانِ سفر کی تلاشی لی ،لیکن انہیں کو ئی چیز نہیں ملی ، اورسب نے و اپسی کا ار ادہ کرلیا ، لیکن علیہ السلام نے فر مایا: نہ تو ہمارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) نے جُھوٹ کہاہے ، اورنہ ہم جُھوٹ بول رہے ہیں ، آپ نے تلو ار سونت لی اور فر مایا: خط نکالو ورنہ خداکی قسم ! میں تمہاری گردن اُڑا دوں گا ” سارہ “نے جب مسئلہ کی حقیقت کوسمجھ لیاتوخط جو اس نے اپنے گیسوؤں میں چھپایا ہُو اتھا باہرنکالا اوروہ لوگ اس خط کولے کرپیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہُوئے ۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) نے کسِی کوبھیج کر ” حاطب “ کوبُلو ا یا اور فرمایا: یہ خط پہچانتے ہو ؟ اس نے عرض کیا : جی ہاں آپ نے فر مایا: تم نے یہ کام کس لیے کیاہے ؟ اُس نے عرض کیا : یارسُول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ! خداکی قسم جس دن میں نے اسلام قبول کیاہے،ایک لمحہ کے لیے کافر نہیں ہُو ا اور کبھی بھی آپ سے خیانت نہیں کی ہے،جب سے مُشرکین سے جُدا ہُو ا ہُوں کبھی ان کی دعوت قبُول نہیں کی،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سبھی مہاجرین کے کچھ کچھ لوگ مکّہ میں ہیں جو مُشرکین کے مقابلے میں ان کے گھرو الوں کی حمایت کرتے ہیں ، مگر میں اُن کے درمیان اجنبی ہوں اور میرے گھرو الے ان کے چُنگل میں گرفتار ہیں، میں نے چاہا کہ اس طرح سے اپنا ایک حق اُن کی گردن پررکھ دُوں تاکہ وہ میرے گھر و الوں کوکوئی تکلیف نہ پُہنچائیں، حالانکہ میں جانتا ہُوں کہ آخرِ کار خُدا انہیں شک دے گا اورمیر ا خط انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا ئے گا ۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: یہ بد ر کے غازیوں میں سے ہے اورخُدا ان پر ایک خاص نظرِ کرم رکھتاہے ،( اس موقعہ پر اوپر و الی آ یت نازل ہُوئیں اور ان میں مُسلمانوں کومشرکین اوردشمنان خداسے ہرقسم کی دوستی ترک کرنے کے سلسلے میں اہم درس دیے گئے ) (۱) ۔ ۱۔” مجمع البیان“ جلد۹،صفحہ ۲۶۹(تھوڑی سی تلخیص کے ساتھ )اس شانِ نزول کوبُخاری نے اپنی صحیح (جلد۶،صفحہ ۱۸۵، ۱۸۶) میں فخر ر ازی نے اپنی تفسیرمیں اور اسی طرح تفسیر” رُوح المعانی “و” روح البیان “و” فی ظلال“و” قرطبی “ و” مر اغی “وغیرہ نے تھوڑ ے تھوڑ ے فرق کے ساتھ نقل کیاہے ۔