وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ وَمَن قَالَ سَأُنزِلُ مِثْلَ مَا أَنزَلَ اللَّهُ وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ
Who is a greater wrongdoer than him who fabricates a lie against Allah, or says, ‘It has been revealed to me,’ while nothing was revealed to him, and he who says, ‘I will bring the like of what Allah has sent down?’ Were you to see when the wrongdoers are in the throes of death, and the angels extend their hands [saying]: ‘Give up your souls! Today you shall be requited with a humiliating punishment because of what you used to attribute to Allah untruly, and for your being disdainful towards His signs.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 6:93
[Pooya/Ali Commentary 6:93] This verse was revealed to condemn the half brother of Uthman, Abdullah bin abi Sarah (and men like him). He was a Jew but joined the group of pagans after renouncing his faith. After becoming Muslim he was sometimes asked to write down the revealed verses but he used to change the words of the revealed verses while writing them, and then claimed that whatever he had composed should have also been accepted as revelation. "Surrender your souls" indicates that soul is an entity which is separated from the body at the time of death. To know about the human soul, please refer to the commentary of al Baqarah : 30.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:93
ایسے گنہگاروں کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے
گذشتہ آیات کے بعد کہ جن میں کسی بھی شخص پر کتب آسمانی کے نزول کی نفی کے بارے میں یہود کی گفتگو کی طرف اشارہ کیا گیا تھا، اس آیت میں دوسرے ایسے گنہگاروں کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے جو ان کے نقط مقابل میں ہیں اور اپنے اوپر وحی آسمانی کے نزول کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ وہ بالکل جھوٹ بولتے ہیں۔ حقیقت میں زیر بحث آیت میں اس قسم کے افراد کے تین کرو ہوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ قرآن پہلے کہتا ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا کہ جو خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں کسی آیت کی تحریف کرتے ہیں، اور خدا کے کلاموں میں سے کسی کو بدل دیتے ہیں (وَمَنْ اٴَظْلَمُ مِمَّنْ افْتَرَی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا)۔ دوسرا گروہ ان کا ہے جو نبوت اور وحی کا دعویٰ کرتے ہیں جب کہ نہ وہ پیغمبر ہیں اور نہ ہی اُن پر وحی نازل ہوتی ہے، (اٴَوْ قَالَ اٴُوحِیَ إِلَیَّ وَلَمْ یُوحَ إِلَیْہِ شَیْءٌ )۔ تیسرا گروہ ان کا ہے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بنوت کے انکار کے طور پر یا تمسخر اور استہزا سے کہتے ہیں کہ: ”ہم بھی اس قسم کی آیات نازل کرسکتے ہیں حالانکہ وہ جھوٹ بولتے ہیں اور وہ اس کام کی کوئی قدرت و طاقت نہیں رکھتے (وَمَنْ قَالَ سَاٴُنزِلُ مِثْلَ مَا اٴَنزَلَ اللَّہُ )“۔ ہاں یہ سب کے سب ستم گر ہیں اور ان سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں ہے کیونکہ وہ خدا کے بندوں پر راہ حق کو بند کردیتے ہیں اور انھیں راستے سے ہٹا کر سرگردان کردیتے ہیں، اور سچے رہبروں کی ہدایت کی مخالفت کرتے ہیں۔ وہ خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہی کی طرف کھینچ رہے ہیں۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہوگا کہ ایسے افراد جو رہبری کی کوئی صلاحیت نہیں رکھتے وہ رہبری کا دعویٰ کریں۔ وہ بھی خدائی اور آسمانی رہبری کا۔ اگر چہ آیت مدعیان نبوت ووحی سے ربط رکھتی ہے، لیکن اس کی روح اُن تمام افراد پر محیط ہے جو جھوٹ طریقہ سے کسی ایسے مقام کا دعویٰ کریں کہ جس کے وہ اہل نہیں ہیں۔ اس کے بعد اس قسم کے افراد کی دردناک سزایوں بیان کی گئی ہے: اے پیغمبر!اگر تم ان ظالموں کو اس دقت میں دیکھو جب کہ جان کنی کے شدائد میں غرق ہوں گے اور روح قبض کرنے والے فرشتہ ہاتھ پھیلائے ہوئے ان سے کہہ رہے ہوں گے کہ اپنی جان کو باہر نکالو، تو تم دیکھو گے کہ ان کی حالت بہت ہی دردناک اور افسوس ناک ہے( وَلَوْ تَرَی إِذْ الظَّالِمُونَ فِی غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلاَئِکَةُ بَاسِطُوا اٴَیْدِیہِمْ اٴَخْرِجُوا اٴَنفُسَکُمْ )۔(۱) اس حالت میں عذاب کے فرشتے اُن سے کہتے ہیں: آج تم دو کاموں کی وجہ سے ذلیل و خوار کرنے والے عذاب میں گرفتار ہوگے، پہلا یہ کہ تم خدا پر جھوٹ باندھتے تھے اور دوسرا یہ کہ اس کی آیات کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے تھے (الْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُونِ بِمَا کُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَی اللَّہِ غَیْرَ الْحَقِّ وَکُنتُمْ عَنْ آیَاتِہِ تَسْتَکْبِرُونَ)۔ چند قابلِ توجہ نکات ۱۔ نبوت کے جھوٹے دعویداروں اور بناوٹی رہنماؤں اور رہبروں کا جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں آیت میں بدترین ظالم کی حیثیت سے تعارف کرایا گیا ہے اور حقیقت میں اس سے بڑھ کر اور کوئی ظلم نہیں ہے کہ کسی کی فکر کو چرالیا جائے اور اُس کے عقیدے کو خراب کردیا جائے اور راہ سعادت اس پر بند کردی جائے اور اُسے اپنی فکری نو آبادی بنالیا جائے۔ ۲۔ ”باسطوا ایدیہم“ کا جملہ ممکن ہے اس معنی میں ہوکہ قبض روح کرنے والے فرشتے ہاتھ پھیلاتے ہی ان کی روح کو قبض کرنے کے لیے آمادہ ہوجاتے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ انھیں سزا دینے کی ابتدا کرنے کے لیے ہاتھ پھیلانے کے معنی میں ہو۔ ۳۔ ”اخرجوا انفسکم“ (اپنی جان اور روح کو باہر نکالو) حقیقت میں یہ قیض روح کرنے والے فرشتوں کی طرف سے اس قسم کے ظالموں کے لیے ایک قسم کی تحقیر و تذلیل ہے۔ ورنہ روح و جان کا دینا خود ظالموں کا اپنا کام نہیں ہے، بلکہ یہ ان فرشتوں ہی کا کام ہے، جیسا کہ کسی قاتل کو موت کے گھاٹ اُتارتے وقت کہتے ہیں کہ اب موت کا مزہ چکھ۔ بہر حال ان کی یہ تحقیر و تذلیل اُس تحقیر کے مقابلہ میں ہے کہ جو انھوں نے آیات خدا، انبیاء اور بندگان خدا کے بارے میں کی تھی۔ ضمنی طور پر یہ آیت روح کے استقلال اور جسموں سے ایک جدا گانہ شے ہونے پر ایک اور گواہ بھی ہے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس قسم کے گنہگاروں کی سزا جان دینے اور موت کے وقت سے ہی شروع ہوجاتی ہے۔ ۹۴ وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَی کَمَا خَلَقْنَاکُمْ اٴَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَکْتُمْ مَا خَوَّلْنَاکُمْ وَرَاءَ ظُہُورِکُمْ وَمَا نَرَی مَعَکُمْ شُفَعَائَکُمْ الَّذِینَ زَعَمْتُمْ اٴَنَّہُمْ فِیکُمْ شُرَکَاءُ لَقَدْ تَقَطَّعَ بَیْنَکُمْ وَضَلَّ عَنکُمْ مَا کُنتُمْ تَزْعُمُونَ- ترجمہ ۹۴۔ تم سب ہماری بارگاہ میں اکیلے لوٹ کر آئے ہو اسی طرح جیسا کہ پہلے دن ہم نے تمھیں خلق کیا تھا اور جو کچھ ہم نے (دنیا میں) تمھیں عطا کیا تھا اُسے (وہیں دنیا میں ہی) اپنے پسِ پشت ڈال آئے ہو اور وہ شفاعت کرنے والے کہ جنھیں تم اپنی شفاعت میں شریک سمجھتے تھے انھیں ہم تمہاے ساتھ نہیں دیکھتے۔تمہارے پیوند اور رشتے قطع ہوگئے ہیں اور وہ تمام چیزیں کہ جنھیں کہ جنھیں تم اپنا سہارا خیال کرتے تھے وہ تم سے دور اور گم ہوگئی ہیں۔ شانِ نزول تفسیر مجمع البیان، تفسیر طبرسی اور تفسیر آلوسی میں منقول ہے کہ مشرکین میں سے نضر بن حارث نامی ایک شخص نے کہا کہ لات اور عزیٰ (عربوں کے دو مشہوربت) قیامت کے دن میری شفاعت کریں گے، تو اُوپر والی آیت نازل ہوئی اور اُسے اور اُس جیسے لوگوں کو جواب دیا گیا۔ ۱۔ ”غمرات“ :جمع ہے ”غمرہ“ (بروزن ”ضربہ“) کی جو اصل میں کسی چیز کے آثار کو ختم کرنے کے معنی میں ہے، اس کے بعد اس کثیر پانی کو جو کسی چیز کے تمام چہرہ کو چھپادے، نیز ان شداٴید، مشکلات اور مصائب کو بھی غمرہ کہا جانے لگا جو انسان کو اپنے حلق کی طرف کھینچیں۔