وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
When Abraham said to Azar, his father, ‘Do you take idols for gods? Indeed I see you and your people in manifest error.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 6:74
[Pooya/Ali Commentary 6:74] It is a historical fact that in the days of Ibrahim the patriarch of the family was addressed as father. The Christians address their priests as father, and in the same sense they refer to God as the father in heaven. Many traditions say that the real father of Ibrahim died before his birth and he was brought up by Azar, his uncle, who was the patriarch of his family. It is also said that Azar, his uncle, married his mother after his father's death, therefore Azar was also his step-father. The Holy Prophet's claim that impurity of ignorance and infidelity never touched any of his ancestors from Adam to Abdullah also confirms the abovenoted fact. The word ab may mean an uncle or an ancestor as Ismail, the uncle of Yaqub, has been addressed as ab in verse 133 of al Baqarah. According to Genesis 11 : 27 the name of Ibrahim's father was Terah. In the Talmud his name is Therach. In verse 41 of Ibrahim, Ibrahim prays for his parents along with the other believers which shows that his father was a believer, otherwise a prophet of Allah could never have associated an infidel with believers and prayed to cover him with Allah's mercy. Azar was his uncle or the brother of his grandfather. Ibrahim lived among the Chaldeans, who had great knowledge of the stars and heavenly bodies. The Babylonian religion was an admixture of animism and nature worship. The two powers most commonly chosen were the sun and the moon. Allah showed him the spiritual glories behind the magnificent powers and laws of the physical universe. When he saw the waning of the stars, the moon and the sun, he saw through the folly of idol-worship and the futility of worshipping distant beautiful things that shine, to which the ignorant ascribe a power which is not in them. They rise and set according to laws whose author is Allah. Its worship is therefore futile. Appearances are deceptive. That is not God. It is a folly to worship created things and beings when the author and the creator is there. All must turn to the true God, renounce all these follies, and proclaim one true Allah. Ibrahim was free from superstitious fears, for he had found the true God, without whose will nothing can happen. He admonished his people to come in the security of faith instead of wandering in the wilderness of fear by worshipping the "setting ones" creatures created by Him. Those who believe and do not intermix belief with iniquity (zulm) are the rightly guided. In view of this Quranic condition the position of those companions, who deserted the Holy Prophet in battlefields, now and then, doubted his integrity and judgement, becomes dubious. The spiritual education of Ibrahim (given to him by Allah) enabled him to preach the truth among his people. Aqa Mahdi Puya says: Zulm means (any) evil or transgression in thought or action. In their supplications, the prophets and the Imams have used the word zalim for themselves in order to describe their humble position before Allah at the time of seeking His mercy (refer to Anbiya : 87) because all created beings, be they prophets or Imams, need His mercy at all times in their lives here and hereafter. They have used it to avoid vanity or pride so that through utmost humility they could become thoroughly devoted to the service of Allah. Such a confession is a part of the tasbih (glorification of Allah) they used to recite again and again, sitting, standing, walking or reclining. The Holy Prophet said: "We do not know Thee, O Lord, as Thou should be known, nor do we worship Thee as Thou should be worshipped."
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:74
کیا آزر حضرت ابرہیم (علیه السلام) کا باپ تھا
لفظ ”اب“ عربی زبان میں عام طور پر باپ کے لئے بولا جاتا ہے، اور جیسا کہ ہم دیکھے گے کہ بعض اوقات چچا ، نانا،مربی ومعلم اور اسی طرح وہ افراد کہ جو انسان کی تربیت میں کچھ نہ کچھ زحمت ومشقت اٹھاتے ہیں ان پر بھی بولا جاتا ہے ، لیکن اس میں شک نہیں کہ جب یہ لفظ بولا جائے اور کوئی قرینہ موجود نہ ہو تو پھر معنی کے لئے پہلے باپ ہی ذہن میں آجاتا ہے ۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سچ مچ اوپر والی آیت یہ کہتی ہے کہ وہ بت پرست شخص(آزر) حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ تھا تو کیا ایک بت پرست اور بت ساز شخص ایک اولوالعزم کا پیغمبر کا باپ ہوسکتا ہے، اس صورت میں کیا انسان کی نفسیات و صفات کی وراثت اس کے بیٹے میں غیر مطلوب اثرات پیدا نہیں کردے گی۔ اہل سنت مفسرین کی ایک جماعت نے پہلے سوال کا مثبت جواب دیا ہے اور آزر کا حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا حقیقی باپ سمجھا ہے، جب کہ تمام مفسرین وعلماء شیعہ کا عقیدہ یہ ہے کہ آزر حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ نہیں تھا، بعض اسے آپ کا نانا اور بہت سے حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا چچا سمجھتے ہیں ۔ وہ قرائن جو شیعہ علماء کے نقطہ نظر کی تائید کرتے ہیں حسب ذیل ہے: ۱۔ کسی تاریخی منبع ومصدر اور کتاب میں حضرت ابراہیم (علیه السلام) کے والد کا نام آزر شمار نہیں کیا گیا بلکہ سب نے ”تارخ“ لکھا کتب عھدین میں بھی یہی نام آیا ہے، قابل توجہ بات یہ ہے کہ جو لوگ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ آزر تھا، یہاں انھوں نے ایسی توجیہات کی ہے جو کسی طرح قابل قبول نہیں ہیں، منجملہ ان کے یہ ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) کے باپ کا نام تارخ اور اس کا لقب آزر تھا، حالانکہ یہ لقب بھی منابع تاریخ میں ذکر نہیں ہوا، یا یہ کہ آزر ایک بت تھا کہ جس کی حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ پوجا کرتا تھا حالانکہ یہ احتمال اوپر والی آیت کے ظاہر کے ساتھ جویہ کہتی ہے کہ آزر ان کا باپ تھا کسی طرح بھی مطابقت نہیں رکھتی، مگر یہ کہ کوئی جملہ یا لفظ مقدر مانیں جو کہ خلاف ظاہر ہو ۔ ۲۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ مسلمان یہ حق نہیںرکھتے کہ مشرکین کے لئے استغفار کریں اگرچہ وہ ان کے عزیز وقریب ہی ہوں، اس کے بعد اس غرض سے کہ کوئی آزر کے بارے میں ابراہیم (علیه السلام) کے استغفار کو دستاویز قرار نہ دے اس طرح کہتا ہے: وماکان استغفار ابراھیم لابیہ الا عن موعدة وعدھافلما تبین لہ انہ عدو للّٰہ تبرا منہ (سورہ توبہ: ۱۱۴) ۔ ابراہیم (علیه السلام) کی اپنے باپ آزر کے لئے استغفار صرف اس وعدہ کی بنا پر تھے جو انھوں نے اس سے کیا تھا، چونکہ آپ نے یہ کہا تھا کہ : ساٴستغفرلک ربی(مریم :۴۷) ۔ یعنی میں عنقریب تیرے لئے استغفار کروں گا ۔ یہ اس امید پر تھا کہ شایدوہ اس وعدہ کی وجہ سے خوش ہوجائے اور بت پرستی سے بعض آجائے لیکن جب اسی بت پرستی کی راہ میں پختہ اور ہٹ دھرم پایا تو اس کے لئے استغفار سے دستبردار ہوگئے ۔ اس آیت سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) نے آزر سے مایوس ہوجانے کے بعد پھر کبھی اس کے لئے طلب مغفرت نہیں کی، اور ایسا کرنا مناسب بھی نہیں تھا، تمام قرائن اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ واقعہ حضرت ابراہیم(علیه السلام) کی جوانی کے زمانے کا ہے جب کہ آپ شہر بابل میں رہائش پذیر تھے اور بت پرستوں کے ساتھ مبارزہ اور مقابلہ کررہے تھے ۔ لیکن قرآن کی دوسری آیات نشاندہی کرتی ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) نے اپنی آخری عمر میں خانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد اپنے باپ کے لئے طلب مغفرت کی ہے (البتہ ان آیات میں جیسا کہ آئندہ بیان ہوگا، نشان باپ سے ”اب“ کو تعبیر نہیں کیا بلکہ ”والد“ سے تعبیر کیا ہے جو صراحت کے ساتھ باپ کے مفہوم کو ادا کرتا ہے ) ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے: <اٴَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی وَھَبَ لِی عَلَی الْکِبَرِ إِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ إِنَّ رَبِّی لَسَمِیعُ الدُّعَاءِ--- رَبَّنَا اغْفِرْ لِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِینَ یَوْمَ یَقُومُ الْحِسَابُ- ”حمد ثنا اس خدا کے لئے ہے کہ جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق عطا کئے، میرا پروردگار دعاؤں کا قبول کرنے والا ہے، اے پروردگار مجھے، میرے ماں باپ اور مومنین کو قیامت کے دن بخش دے“۔(۱) اس آیت کو سورہٴ توبہ کی آیت کے ساتھ ملانے سے جو مسلمانوں کو مشرکین کے لئے استغفار کرنے سے منع کرتی ہے اور ابراہیم - کو بھی ایسے کام سے، سوائے ایک مدت محدود کے وہ بھی صرف ایک مقدس مقصد وہدف کے لئے، روکتی ہے، اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ زیر بحث آیت میں ”اب“ سے مراد باپ نہیں ہے بلکہ چچا یا نانا یا کوئی اور اسی قسم کا رشتہ ہے۔دوسرے لفظوں میں” والد“ باپ کے معنی میں صریح ہے جب کہ”اب“ میں صراحت نہیں پائی جاتی ۔ قرآن کی آیات میں لفظ ”اٴب“ ایک مقام پر چچا کی لئے بھی استعمال ہوا ہے مثلا سورہٴ بقرہ آیہ ۱۳۳: <قَالُوا نَعْبُدُ إِلَھَکَ وَإِلَہَ آبَائِکَ إِبْرَاھِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ إِلَھًا ”یعقوب کے بیٹوں نے اس سے کہا ہم تیرے خدا اور تیرے آباء ابراہیم واسماعیل واسحاق کے خدائے یکتا کی پرستش کرتے ہیں“۔ ہم یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اسماعیل - ،یعقوب- کے چچا تھے باپ نہیں تھے۔ ۳۔مختلف اسلامی روایات سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے ، پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی ایک مشہور حدیث میں آنحضرت سے منقول ہے: ”لم یزل ینقلنی اللّٰہ من اصلاب الطاھرین الی ارحام المطھرات حتی اخرجنی فی عالمکم ھذا لم یدنسنی بدنس الجاھلیہ“۔ ”خدا وند تعالی مجھے ہمیشہ پاک آباء واجداد کے صلب سے پاک ماؤں کے رحم میں منتقل کرتا رہا اور اس نے مجھے کبھی زمانہ ٴ جاہلیت کی آلودگیوں اور گندگیوں میں آلودہ نہیں کیا“۔(۲) اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ زمانہ جاہلیت کی واضح ترین آلودگی شرک وبت پرستی ہے اور جنھوں نے اسے آلودگیٴ زنا میں منحصر سمجھا ہے ان کے پاس اپنے قول پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ خصوصاً جبکہ قرآن کہتا ہے کہ : ”نَّمَا الْمُشْرِکُونَ نَجَسٌ“ ”مشرکین گندگی میں آلودہ اور ناپاک ہیں“۔(3) طبری جو علمائے اہلِ سنت میں سے ہے اپنی تفسیر ”جامع البیان“ میں مشہور مفسر مجاہد سے نقل کرتا ہے کہ وہ صراحت کے ساتھ یہ کہتا ہے کہ آزر ابراہیم کا باپ نہیں تھا۔(4) اہلِ سنت کا ایک دوسرا مفسر آلوسی اپنی تفسیر روح المعانی میں اسی آیت کے ذیل میں کہتا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ عقیدہ کہ آزر ابرہیم کا باپ نہیں تھا شیعوں سے مخصوص ہے ان کی کم اطلاعی کی وجہ سے ہے کیونکہ بہت سے علماء (اہلِ سنت) بھی اسی بات کا قیدہ رکھتے ہیں کہ آزر ابرہیم - کا چچا تھا۔(5) ”سیوطی“ مشہور سنی عالم کتاب ”مسالک الحنفاء“ میں فخر الدین رازی کی کتاب ”اسرار التنزیل“ سے نقل کرتا ہے کہ پیغمبر اسلام - کے ماں باپ اور اجداد کبھی بھی مشرک نہیں تھے اور اس حدیث سے جو ہم اُوپر پیغمبر اکرم سے نقل کرچکے ہیں استدلال کیا ہے۔ اس کے بعد سیوطی خود اضافہ کرتے ہوئے کہتا ہے: ہم اس حقیقت کو دو طرح کی اسلامی روایات سے ثابت کرسکتے ہیں۔ پہلی قسم کی روایات تو وہ ہیں کہ جو یہ کہتی ہیں کہ پیغمبر کے آباؤ اجداد حضرت آدم- تک ہر ایک اپنے زمانے کا بہترین فرد تھا (ان احادیث کو ”صحیح بخاری“اور ”دلائل النبوة“سے بیہقی وغیرہ نے نقل کیا ہے)۔ اور دوسروں قسم کی روایات وہ ہیں جو یہ کہتی ہیں کہ ہر زمانے میں موحد و خدا پرست افراد موجود رہے ہیں، ان دونوں قسم کی روایات کو باہم ملانے سے ثابت ہوجاتا ہے کہ اجداد پیغمبر کہ جن میں سے ایک ابرہیم کے باپ بھی ہیں یقینا موحد تھے۔(6) جو کچھ کہا جا چکا ہے اس طرف توجہ کرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ زیر بحث آیت کی مذکورہ بالا تفسیر ایک ایسی تفسیر ہے جو خود قرآن اور مختلف اسلامی روایات کے واضح قرائن کی بنیاد پر بیان ہوئی ہے نہ کہ تفسیر بالرائے ہے جیسا کہ بعض متعصب اہلِ سنت مثلاً موٴلفِ المنار نے کہا ہے۔ ۷۵وَکَذٰلِکَ نُرِی إِبْرَاہِیمَ مَلَکُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَلِیَکُونَ مِنْ الْمُوقِنِینَ- ۷۶ فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْہِ اللَّیْلُ رَاٴَی کَوْکَبًا قَالَ ہٰذَا رَبِّی فَلَمَّا اٴَفَلَ قَالَ لاَاٴُحِبُّ الْآفِلِینَ- ۷۷ فَلَمَّا رَاٴَی الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ ہٰذَا رَبِّی فَلَمَّا اٴَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَمْ یَہْدِنِی رَبِّی لَاٴَکُونَنَّ مِنْ الْقَوْمِ الضَّالِّینَ- ۷۸ فَلَمَّا رَاٴَی الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ ہٰذَا رَبِّی ہٰذَا اٴَکْبَرُ فَلَمَّا اٴَفَلَتْ قَالَ یَاقَوْمِ إِنِّی بَرِیءٌ مِمَّا تُشْرِکُونَ- ۷۹ إِنِّی وَجَّہْتُ وَجْہِی لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ حَنِیفًا وَمَا اٴَنَا مِنْ الْمُشْرِکِینَ- ترجمہ ۷۵۔اس طرح ہم نے آسمانوں اور زمین کے ملکوت ابراہیم کو دکھائے تاکہ وہ اہلِ یقین میں سے ہوجائے۔ ۷۶۔جب رات (کی تاریکی) نے اُسے ڈھانپ لیا تو اُس نے ایک ستارے کو دیکھا تو کہا۔ کیا یہ میرا خدا ہے؟ لیکن جب وہ غروب ہوگیا تو کہا کہ میں غروب ہوجانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ۷۷۔اور جب اُس نے چاند کو دیکھا کہ وہ (سینہ افق کو چیر کر) نکلا ہے تو اُس نے کہا کیا یہ میرا خدا ہے؟ لیکن جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہا کہ اگر میرا پروردگار میری رہنمائی نہ کرے تو میں یقینی طور پر گمراہ جماعت میں سے ہوجاؤں گا۔ ۷۸۔اور جب اُس نے سورج کو دیکھا کہ وہ (سینہٴ افق کو چیر کر) نکل رہا ہے تو کہا کہ کیا یہ میرا خدا ہے؟ یہ تو (سب سے) بڑا ہے لیکن جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہا اے قوم میں اُن شریکوں سے جنھیں تم (خدا کے لیے) قرار دیتے ہو بیزار ہوں۔ ۷۹۔میں نے تو اپنا رُخ اس ہستی کی طرف کرلیا ہے کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے۔ میں اپنے ایمان میں مخلص ہوں اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔ ۱۔ سورہٴ ابراہیم ، آیہ۳۹،۴۱۔ ۲۔ اس روایت کو بہت سے شیعہ وسنی مفسرین مثلا طبرسی نے مجمع البیان میں، نیشاپوری نے تفسیر غرائب القرآن میں، فخر رازی نے تفسیر کبیر میں اور آلوسی نے تفسیر روح المعانی میں نقل کیا ہے۔ 3۔ سورئہ توبہ آیہ ۲۸- 4۔ جامع البیان جلد ۷ صفحہ ۱۵۸- 5۔ تفسیر روح المعانی جلد ۷ صفحہ ۱۶۹- 6۔ مسالک الحنقاء صفحہ ۷ امطابقِ نقل حاشیہ بحار الانوار طبع جدید جلد ۱۵ صفحہ ۱۱۸ اور بعد