وَكَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ قُل لَّسْتُ عَلَيْكُم بِوَكِيلٍ
Your people have denied it, though it is the truth. Say, ‘It is not my business to watch over you.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 6:66
[Pooya/Ali Commentary 6:66] (see commentary for verse 63)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:66-67
چند اہم نکات
۱۔ اس بارے میں کہ ”اوپر“ کی طرف سے ”عذاب“ اور ”نیچے“ کی طرف عذاب سے کیا مراد ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ دونوں لفظ (فوق وتحت) بہت ہی وسیع معنی رکھتے ہیں، ان میں حسی طور پر اوپر اور نیچے کا مفہوم بھی شام ہے یعنی ایسی سزائیں جو اوپر کی طرف سے آتی ہیں ،مثلا بجلیاں، خطرناک بارشیں اور طوفان اور ایسی سزائیں جو نیچے کی طرف سے آتی ہیں مثلا زلزلے اور زمین کو ویران وبرباد کرنے والے شگاف اور دریاؤں اور سمندروں کے طوفان، سب اس میں داخل ہیں ۔ وہ دردناک عذاب بھی اس کے مفہوم میں شامل ہیں کہ جو حکام کے طبقہ اور معاشرے کے اوپر والے حصے کی طرف سے بعض قوموں کے سروں پر آتے ہیں اور وہ پریشانیاں اور سختیاں جو مزدوروں اور نافہم اور فرض ناشناس افراد کی طرف سے لوگوں کودامنگیرہوجاتی ہیں جو بعض اوقات پہلے گروہ کے عذاب سے کم تر نہیں ہوتی، سبھی اس کے معنی میں داخل ہیں ۔ اور اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ ہمارے زمانے کے خوفناک جنگی ہتھیار کہ جو فضا اور زمین سے وحشتناک صورت میں انسانی زندگی کو تباہ کردیتے ہیں اور تھوڑی سی دیر میں آباد ترین شہروں کو ہوائی بمباری اور زمینی حملوں سے، میزائیلوں اور آبدوزوںسے خاکستری ٹیلوں میں بدل جاتے ہیں وہ بھی آیت کے وسیع مفہوم میں داخل ہیں ۔ ۲۔ ”یلبسکم“ ”لبس“ (بروزن حبس) مڈھ بھیڑ کرانے اور ایک دوسرے سے ٹکرانے کے معنی میں ہے نہ کہ مادہ ”لبس“ (بروزن قرض) لباس پہننے کے معنی میں، اس بنا پر جملہ کے معنی یوں ہوگا کہ وہ تمھیں مختلف گروہ اور دستوں کی شکل میں ایک دوسرے سے ٹکرابھی سکتا ہے ۔ (۱) اور یہ تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی کہ اختلاف کلمہ (تفرقہ بازی یاپھوٹ )اور جمعیت کی پراگندگی کا مسئلہ اس قدر خطرناک ہے کہ وہ آسمانی عذاب اور بجلیوں اور زلزلوں کا ہم پلہ اور ہم پایہ قرار پایا ہے، حقیقتا ہے بھی ایسا ہی بلکہ بعض اوقات اختلاف و پراگندگی سے پیدا ہونے والی ویرانیاں ان ویرانیوں سے کئی درجے زیادہ ہوتی ہے جو بجلیوں اور زلزلوں سے آتی ہے، بارہا دیکھا گیا ہے کہ آباد ملک نفاق اور تفرقہ بازی کے منحوس سائے متعلق تباہی کی نظر ہوجاتے ہیں اور یہ جملہ تمام مسلمانان عالم کے لئے ایک تنبیہ اور صدائے ہوشیار باش ہے ۔ یہ احتمال بھی اس جملہ کی تفسیر میں موجود ہے کہ خدا نے آسمانی اورزمینی عذاب کے مقابلہ میں دو دوسرے عذاب بیان کئے ہیں، ایک عقیدہ اور فکرونظر میں اختلاف کا عذاب (جو حقیقت میں اوپر کے عذابوں کی مانند ہے) اور دوسرے عمل اور اجتماعی طور طریقوں میں اختلاف کا عذاب جس کا نتیجہ جنگ اور خونریزی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، جو نیچے کی طرف کے عذاب کے مشابہ ہے، اس بنا پر آیت میں چار قسم کے طبیعی عذابوں اور دو قسم کے اجتماعی عذابوں کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔ ۳۔ اس بات کا اشتباہ نہ ہونے پائے کہ زیر بحث آیت کہتی ہے کہ خدا تمھارے درمیان تفرقہ ڈال دے گا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا بلا وجہ لوگوں کو نفاق واختلاف میں گرفتار کردے گا بلکہ یہ لوگوں کے برے اعمال، خودخواہیوں، خودپرستیوں اور شخصی نفع خوریوں کا نتیجہ ہے کہ جس کا اثر نفاق اور تفرقہ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور خدا کی طرف اس کی نسبت اس سبب سے ہے کہ اس نے اس قسم کا اثر ان برے اعمال میں قرار دے دیا ہے ۔ ۴۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ان آیات میں روئے سخن مشرکین اور بت پرستوں کی طرف ہے، ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ایک مشرک معاشرہ جو توحید اور یکتا پرستی کے راستے سے منحرف ہوچکا ہے، وہ طبقات بالا کے ظلم وستم میں بھی گرفتار ہوتا ہے اور نچلے طبقہ کی فرض نا شناسی کی مصیبت میں بھی گرفتار ہوتا ہے، اختلاف عقیدہ کی خرابیون سے بھی دوچار ہوتا ہے اور اجتماعی خونیں کشمکشوں میںہی گرفتارہوتا ہے، جیسا کہ آج کی مادی دنیا میں معاشرے ، جو صرط صنعت وثروت کے بتوں کے سامنے سجدہ کرتے ہیں ان تمام عظیم بلاؤں میں مبتلا ہیں اور ان کے درمیان ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں ۔ ہمیں اسے مذاہب کا بھی علم ہے کہ جو توحید وخدا پرستی کا دم بھرتے ہیں لیکن عملی طور پر مشرک اور بت پرست ہیں، ایسے مذاہب واقوام بھی انھیں مشرکین کے سے انجام میں گرفتار ہوں گے اور یہ جو ہم بعض احادیث میں پڑھتے ہیں کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ : قل ھذا فی اھل القبلة۔ یہ سب سزائیں مسلمانوں میںہی واقع ہوں گی۔ ممکن ہے کہ یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہو کہ جب مسلمان توحید کے راستے سے منحرف ہوجائیں، خود خواہی اور خود پرستی اخوت اسلامی کی جگہ لے لے، شخصی مفاد عمومی مفاد پر مقدم سمجھا جانے لگے اور ہر شخص اپنی ہی فکر میں لگ جائے اور خدائی احکام بھلا دئے جائیں ، تو وہ بھی ایسے انجام میں گرفتار ہوجائیں گے ۔ ۶۶ وَکَذَّبَ بِہِ قَوْمُکَ وَھُوَ الْحَقُّ قُلْ لَسْتُ عَلَیْکُمْ بِوَکِیلٍ ۔ ۶۷ لِکُلِّ نَبَإٍ مُسْتَقَرٌّ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ۔ ترجمہ ۶۶۔تیری قوم نے اس کی تکذیب اور انکار کیا حالانکہ وہ حق ہیں( ان سے ) کہہ دو کہ میں تمھارے بارے میں(قبول کرنے اور ایمان لانے کا) جوابدہ ہوں ( میرا فریضہ صرف ابلاغ رسالت ہے نہ کہ تمھیں ایمان پر مجبور کرنا) ۔ ۶۷۔ہر خبر (جوخدا نے تمھیں دی ہے آخر کار اس) کی ایک قرار گاہ ہے (اور وہ اپنی وعدہ گاہ میں انجام پائی گی) اور تم جلدی ہی جان لوگے ۔ ۱۔” شیعا“ جمع ہے شیعہ کی جس کا معنی گروہ ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:66-67
جس وقت تم ان لوگوں کو دیکھو کہ
یہ دونوں آیات حقیقت میں اس بحث کی تکمیل ہے جو خدا ، معاد اورحقائق اسلام کی طرف دعوت دینے اور خدائی سزاؤں سے ڈرانے کے سلسلے میں گذشتہ آیات میں گزرچکی ہے ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے کہ: تیری قوم وجمعیت یعنی قریش اور مکہ کے لوگوں نے تیری تعلیمات کی تکذیب کی حالانکہ کہ وہ سب حق ہے اور مختلف عقلی ، فطری اور حسی دلائل ان کی تائید کرتے ہیں(وَکَذَّبَ بِہِ قَوْمُکَ وَھُوَ الْحَقُّ) ۔ (۱) اس بنا پر ان کی تکذیب اور انکار سے ان حقائق کی اہمیت میں کوئی کمی نہیں آتی خواہ مخالفت کرنے والے اور منکرین کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہو ۔ اس کے بعد حکم دیا گیا کہ :ان سے کہہ دو کہ میری ذمہ داری تو صرف ابلاغ رسالت ہے اور میں تمھارے قبول کرنے کا ضامن نہیں ہوں(قُلْ لَسْتُ عَلَیْکُمْ بِوَکِیلٍ ) ان متعدد آیات سے کہ جن میں یہی تعبیر اور اسی کے مانند تعبیر آئی ہے(مثلاانعام۔ ۱۰۷، یونس ۔۱۰۸، زمر۔۴۱ اور شوریٰ ۔۶) سے معلوم ہوتا ہے کہ ان مواقع پر ”وکیل“ سے مراد ایسا شخص ہے کہ جو ہدایت عملی کے لئے جوابدہ اوردوسروں کا ضامن ہو، اس طرح پیغمبر انھیں بتاتے ہیں کہ یہ صرف تم ہو کہ جو حقیقت کو قبول کرنے یا روکنے کے سلسلے میں پورا پورا اختیار رکھتے ہو اورہدایت کو قبول کرتے ہو، میں تو صرف ابلاغ رسالت اور دعوت الٰہی پر مامور ہوں ۔ بعد والی آیت میں ایک مختصر اور پر معنی جملہ کے ساتھ انھیں تنبیہ کررہا ہے اور صحیح راستہ انتخاب کرنے کے بارے میں دقت نظر اور باریک بینی کی دعوت دیتا ہے اور کہتا ہے: ہر خبر جو خدا یا پیغمبر تمھیں دیتے ہیں بلاآخر اس جہاں میں یا دوسرے جہاں میں اس کی کوئی نہ کوئی قرار گاہ ہے اور آخر کار وہ اپنی مقررہ میعاد پر انجام پائے گی اور تمھیں بہت جلد اس کی خبر ہوجائے گی( لِکُلِّ نَبَإٍ مُسْتَقَرٌّ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ) ۔ (۲) ۶۸واِذَا رَاٴَیْتَ الَّذِینَ یَخُوضُونَ فِی آیَاتِنَا فَاٴَعْرِضْ عَنْھُمْ حَتَّی یَخُوضُوا فِی حَدِیثٍ غَیْرِہِ وَإِمَّا یُنسِیَنَّکَ الشَّیْطَانُ فَلاَتَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرَی مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِینَ ۔ ۶۹وَمَا عَلَی الَّذِینَ یَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِھِمْ مِنْ شَیْءٍ وَلَکِنْ ذِکْرَی لَعَلَّھُمْ یَتَّقُونَ ۔ ترجمہ ۶۸۔جس وقت تم ان لوگوں کو دیکھو کہ جو ہماری آیات کا مذاق اڑاتے ہیں تو ان سے منہ پھیر لو، یہاں تک کہ وہ دوسری باتوں میں مشغول ہوجائیں اور اگر شیطان تمھیں بھلا دے تو جو نہی (اس ) ستمگر گروہ کی طرف تمھاری توجہ ہوجائے تو ان کے پاس بیٹھنے سے کنارہ کشی کرلو ۔ ۶۹۔ اور اگر صاحب تقوی افراد (انھیں ہدایت اور پند ونصیحت کرنے کے لئے ان کے پاس بیٹھ جائیں)تو ان کے حساب (وگناہ) میں سے کوئی چیز ان کے اوپر عائد نہیں ہوگی لیکن (یہ کام صرف انھیں ) یاددہانی کرانے کے لئے ہونا چاہئے شاید (وہ سنے اور) پرہیزگاری اختیار کرلیں ۔ شان نزول تفسیر مجمع البیان میں امام باقر علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ جب پہلی آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو کفار اور آیات الٰہی کا مذاق اڑانے والوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے منع کیا گیا، تو مسلمانوں کی ایک جماعت کہنے لگی کہ اگر ہم چاہیں کہ اس حکم پر ہر جگہ عمل کریں تو نہ ہمیں مسجدالحرام میں جانا چاہئے اور نہ ہی خانہ ٴ کعبہ کا طواف کرنا چاہئے( کیوں کہ وہ مسجد کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں اور آیات الٰہی کے بارے میںباطل باتوں میں مشغول ہیں اور ہم مسجد الحرام کے کسی بھی گوشہ میں خواہ کتنا بھی مختصر توقف کریں اس میں ان کی باتیں ہمارے کانوں تک پہنچ سکتی ہیں)، اس موقع پر دوسری آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ ایسے مواقع پر انھیں نصیحت کرے اور جتنا ہوسکے ان کی ہدایت اور رہنمائی کریں ۔ اس آیت کے لئے شان نزول کا ذکر جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں تمام سورة کے اکٹھا نازل ہونے کے منافی نہیںکیوں کہ ممکن ہے مسلمانوں کی زندگی میں ایسے مختلف حوادث پیش آئیں، اس کے بعدا یک سورہ اکٹھی نازل ہو اور اس کی کوئی آیت ان حوادث میں سے کسی حصہ کو مدنظر رکھتے ہوئے آئی ہو ۔ ۱۔ ضمیر ”بہ“ کو بعض نے قرآن کی طرف لوٹایا ہے اور بعض نے اس خاص عذاب کی طرف جو اس سے پہلی آیت میں بیان ہوا تھا لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ ان تمام باتوں کی طرف اور پیغمبر کی تمام تعلیمات کی طرف جن کی دشمنان پیغمبر تکذیب وانکار کیا کرتے تھے ،لوٹتی ہے اور آیت کا آخری جملہ بھی اس معنی پر گواہ ہے ۔ ۲۔ ہوسکتا ہے ”مستقر“ مصدر میمی بمعنیٴ اسقرار ہو ، یا یہ اسم زمان ومکان محل استقرار کے معنی میں ہو، پہلی صورت میں خدائی وعدوں کے اصل تحقق کی خبر دے رہا ہے اور دوسری صور میں ان وعدوں کے زمان ومکان کی خبر ہے ۔