قُلْ مَن يُنَجِّيكُم مِّن ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُونَهُ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً لَّئِنْ أَنجَانَا مِنْ هَذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ
Say, ‘Who delivers you from the darkness of land and sea, [when] You invoke Him suppliantly and secretly: ‘‘If He delivers us from this, we will surely be among the grateful’’?’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 6:63
[Pooya/Ali Commentary 6:63] Calling upon Allah in times of danger shows that in the depths of their hearts people feel His need. Allah's providence saves them, and yet they ungratefully run after false gods. In addition to the physical calamities that they have to fear, there are their mutual discords and craving for vengeance which are much more destructive, and only faith in Allah can save them from all types of calamities. The pagans of Makka had, as a body, not only rejected Allah's message but were persecuting His messenger. The Holy Prophet's duty was to deliver His message, which he did. He was not responsible for their conduct. All warnings from Allah had their time-limit. The leaders of the resistance came to an evil end, and their whole system of fraud and selfishness was destroyed in order to make room for the religion of Allah. Apart from the particular warning in these verses there is a general warning for the present and for all time.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:63-64
تفسیر وہ نور جو تاریکی میں چمکتا ہے
دوبارہ قرآن مشرکین کا ہاتھ پکڑ کر ان کی فطرت کے اندر لے جاتا ہے، اور اس اسرار آمیز نہاں خانہ میں انھیں توحید کے نور اور یکتا پرستی کی نشاندہی کراتا ہے اور پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ وہ انھیں اس طرح کہیں:کون ہے وہ کہ جو تمھیں بر وبحر کی تارکیوں سے نجات دیتا ہے (قُلْ مَنْ یُنَجِّیکُمْ مِنْ ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ) ۔ اس بات کی یاددہانی کرادینا بھی ضروری ہے کہ ظلمت وتاریکی کبھی تو جنبہٴ حسی رکھتی ہے اور کبھی جنبہٴ معنوی، ظلمت حسی یہ ہے کہ نور کلی طور پر منقطع ہوجائے یا اس قدر کمزور ہوجائے کہ انسان کسی جگہ کو نہ دیکھ سکے یا مشکل سے دیکھ سکے اور ظلمت معنوی مشکلات ،مصیبتیں اور پریشانیاں ہیں کہ جن کا انجام تاریک ونامعلوم ہے، جہالت تاریکی ہے، اجتماعی واقتصادی ہرج مرج اور فکری بے سروسایبانیاں، انحراف اور اخلاقی آلودگیاں کہ جن کے برے انجام پیش بینی کے قابل نہیں ہیں یا وہ چیز کہ جو بدبختی اور پریشانی کے سواکچھ نہ ہو، یہ سب کی سب ظلمت ہیں ۔ ظلمت وتاریکی اپنی ذات سے ہولناک اور توہم انگیز ہیں کیوں کہ بہت سے خطرناک جانوروں ، چوروں اورمجرموں کا حملہ رات کی تاریکی میں ہی ہوتا ہے اور ہر شخص کو اس سلسلے میں کوئی نہ کوئی خطرہ درپیش رہتا ہے، لہٰذا تاریکی میں پھنس جانے کی صور ت میں اوہام وخیالات انسان کی جان لے لیتے ہیں، خیالات کے مختلف زاویوں سے مختلف صورتیں اور وحشتناک شکلیں نکل نکل کر بھاگنے لگتی ہیں اور عام افراد کو خوف و ہراس میں پھنسادیتی ہیں ۔ ظلمت وتاریکی عدم کا شعبہ ہے اور انسان ذاتی طور پر عدم سے بھاگتا ہے اور وحشت رکھتا ہے، اسی سبب سے وہ عام طور سے تاریکی سے ڈرتا ہے ۔ اگر یہ تاریکی واقعی وحشتناک حوادث سے مل جائے،مثلا انسان ایک ایس سمندری سفر میں پھنس جائے جس میں اندھیری رات، موجوں کا خوف ہو اور طوفان آیا ہوا ہو، تو اس کی وحشت وپریشانی ان مشکلات سے کئی درجے زیادہ ہوگی جو دن کے وقت ظاہرہوں، کیوں کہ عام طور سے ایسے حالات میں انسان کے لئے چھٹکارے کی راہیں مسدود ہوجاتی ہیں ۔ اسی طرح اگر اندھیری رات میں کسی جنگل بیابان میں انسان راستہ بھول جائے اور درندوں کی وحشتناک آوازیں، جو رات کے وقت اپنے شکار کی تلاش میں ہوتے ہیں دور اور نزدیک سے سنائی دے رہی ہوں، یہی وہ وقت ہوتا ہے کہ جس میں انسان سب کچھ بھول جاتا ہے اور خود اپنے اور اس تابناک نور کے سوا جو اس کی روح کی گہرائی میں چمکتا ہے اور اسے ایک مبدا کی طرف بلاتا ہے کہ صرف وہی ہے کہ جو اس قسم کی مشکلات کو حل کرسکتا ہے، باقی اسے کچھ یاد نہیں رہتا اس قسم کے حالات جہان توحید وخدا شناسائی کا دریچہ ہے، اسی لئے بعد کے جملے میں ارشاد ہوتا ہے: اس قسم کی حالت میں تم اس کے لامتناہی لطف وکرم سے مدد طلب کرتے ہو، بعض اوقات آشکار خضوع وخشوع کے ساتھ اور کبھی پوشیدہ طریقے سے دل ہی دل کے اندر اسے پکارتے ہو(تَدْعُونَہُ تَضَرُّعًا وَخُفْیَةً ) ۔ اور ایسی حالت میں تم فورا اس عظیم مبداٴ کے ساتھ عہد وپیمان باندھتے ہو کہ اگر ہم اس خطرے سے نجات دے دے تو ہم یقینا اس کی نعمتوں کا شکر اداکریں گے اور اس کے سوا کسی اور سے دل نہیں لگائیں گے(لَئِنْ اٴَنجَانَا مِنْ ھَذِہِ لَنَکُونَنَّ مِنْ الشَّاکِرِین) لیکن اے پیغمبر! تم ان سے کہہ دو کہ خدا تمھیں ان تاریکیوں سے اور ہر قسم کے دوسرے غم واندوہ سے نجات دےتا ہے(اور بارہا تمھیں نجات دی ہے) لیکن تم رہائی پانے کے بعد اسی شرک وکفر کے راستے پر چل پڑتے ہو ( قُلْ اللَّہُ یُنَجِّیکُمْ مِنْھَا وَمِنْ کُلِّ کَرْبٍ ثُمَّ اٴَنْتُمْ تُشْرِکُونَ)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:63-64
چند اہم نکات
۱۔ ”تضرع“ کا ذکر جو دعائے آشکار کے معنی میں ہے اور ”خفیة“ کا تذکرہ جو کہ پنہانی دعا ہے شاید اس سبب سے ہو کہ مشکلات ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں، بعض اوقات شدت کے مرحلہ تک نہ پہنچنے کی وجہ سے انسان کو پنہانی دعا کی دعوت دیتی ہے اور بعض اوقات وہ شدید مرحلہ تک پہنچ جاتی ہے تو علی الاعلان دست دعا بلند کرتا ہے اور بعض اوقات نالہ وفریاد کی نوبت آجاتی ہے، مقصد یہ ہے کہ خدا تمھاری شدید مشکلات کو بھی حل کرتا ہے اور ضعیف مشکلات کو بھی۔ ۲۔ بعض کا عقیدہ یہ ہے کہ انسان کی چار نفسیاتی حالتوں کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ جن میں سے ہر ایک مشکلات کے ظہور کے وقت ایک قسم کا عکس العمل ہے حالت دعا ونیاز ،حالت تضرع وخضوع، حالت اخلاص اور مشکلات سے نجات حاصل ہوتے وقت شکر گزاری کے التزام کی حالت۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان افراد میں سے بہت سوں کے لئے قیمتی حالات بجلی کی طرح جلدی سے گزرجانے والے اور شدائد ومشکلات کے مقابلے میں تقریبا اضطراری شکل میں پیدا ہوتے ہیں، لیکن چوںکہ ان میں علم و آگاہی نہیں ہوتی لہٰذا شدائد ومشکلات کے برطرف ہوتے ہی خاموشی سے ہمکنار ہوجاتے ہیں ۔ اس بنا پر یہ حالات اگر چہ زود گزرہی ہوں پھر بھی دور افتادہ افراد کے لئے خدا شناسی کے سلسلے میں دلیل بن سکتے ہیں ۔ ۳۔ ”کرب“ (بروزن حرب) در اصل زمین کو نیچے اوپر کرنے اور کھودنے کے معنی میں ہے، نیز وہ محکم گرہ جو کنویں کے ڈول کی طناب میں لگائی جاتی ہے، کے معنی میں بھی آتا ہے، اس کے بعد وہ غم واندو ہ جو انسان کے دل کو زیر وزبرکرتے ہیں اور جو گرہ کی طرح انسان کے دل پر بیٹھ جاتے ہیں کے لئے بھی بولا جانے لگا ۔ اس بنا پر اوپر والی آیت میں لفظ”کرب“ جو ایک وسیع معنی رکھتا ہے اور ہر قسم کی بڑی سے بڑی مشکلات پر محیط ہے یہ ”بر وبحر کی تاریکیوں“ کا ذکر کرنے کے بعد کہ جو شدائد کے ایک خاص حصہ کا کہا جاتا ہے، ایک خاص مفہوم بیان کرنے کے بعد ایک عام مفہوم کے طور پر آیا ہے(غور کیجئے گا) ۔ یہاں پر وہ حدیث بیان کرنا کہ جو اس آیت کے ذیل میں بعض اسلامی تفاسیر میں نقل ہوئی ہے نامناسب نہ ہوگا، پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله وسلم سے نقل ہواہے کہ آپ نے فرمایا: خیر الدعاء الخفی وخیر الرزق ما یکفی بہترین دعا وہ ہے کہ جو پنہانی (اور انتہائی خلوص کے ساتھ) صورت پذیر ہو اور بہترین روزی وہ ہے کہ جو بقدر کفایت ہو (نہ کہ اسی ثروت اندوزی کہ جو دوسروں کی محرومیت کا سبب بنے اور انسان کے کندھے پر ایک سنگین بوجھ ہو) ۔ اور اسی حدیث کے ذیل میں ہے : مر بقوم رفعوا اصواتھم بالدعا فقال انکم لاتدعون الاصم ولا غائبا وانما تدعون سمیعا قریبا ۔ (۱) پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم ایک گروہ کے قریب سے گزرے وہ لوگ بلند آواز سے دعا کررہے تھے تو آپ نے فرمایا: تم کسی بہرے کو تو نہیں پکار ہے اور نہ ہی کسی ایسے شخص کو پکاررہے ہو کہ جو تم سے پوشیدہ اور دور ہو بلکہ تم تو ایک ایسی ہستی کو پکاررہے ہو کہ جو سننے والا بھی ہے اور قریب بھی ہے ۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر دعا آہستہ آہستہ اور توجہ اور اخلاص کے ساتھ کی جائے تو بہتر ہے ۔ ۶۵قُلْ ھُوَ الْقَادِرُ عَلَی اٴَنْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِکُمْ اٴَوْ مِنْ تَحْتِ اٴَرْجُلِکُمْ اٴَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَیُذِیقَ بَعْضَکُمْ بَاٴْسَ بَعْضٍ انظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْآیَاتِ لَعَلَّھُمْ یَفْقَھُونَ ۔ ترجمہ ۶۵۔ تم کہہ دو کہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ کوئی عذاب یا تو اوپر کی طرف سے تم پر نازل کردے یا تمھارے پاؤں کے نیچے کی طرف سے بھیج دے،یا تمھیں مختلف گروہوں کی صورت میں ایک دوسرے کے سامنے بھڑا دے او رجنگ (وناراحتی) کا ذائقہ تم میں سے ہر ایک کو دوسرے کے ذریعے چکھا دے، دیکھو ہم طرح طرح کی آیات کو کس طرح ان کے لئے واضح کرتے ہیں شاید وہ سمجھ لیں( اور پلٹ آئیں) ۔ ۱۔ تفسیر مجمع البیان ونورالثقلین مندر جہ بالا آیت کے ذیل میں ۔