قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ قُل لَّا أَتَّبِعُ أَهْوَاءَكُمْ قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ
Say, ‘I have been forbidden to worship those whom you invoke besides Allah.’ Say, ‘I do not follow your desires, for then I will have gone astray, and I will not be among the [rightly] guided.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 6:56
[Pooya/Ali Commentary 6:56] There are a number of arguments put forward by the Holy Prophet, in these verses, against the pagans who refused to believe in Allah's message. (i) I have received light and will follow it. (ii) I prefer my light to your vain desires. (iii) Punishment rests with Allah. If it rested with me, it would be for me to take up your challenge - "if there is a God, why does He not finish the blasphemers at once?" Be sure that He will call you to account; He is the best of deciders; and he knows best those who are unjust. (iv) It is a matter between you and Allah; I am only a warner and a bearer of the good tidings of salvation .
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:56-58
چند اہم نکات
۱۔ قرآنی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے گذشتہ قومیں اپنے انبیاء سے یہی درخواست کرتی رہی کہ اگر تم سچے ہو تو پھر اس عذاب کو ،جس کے ہمارے اوپر نازل ہونے کی توقع رکھتے ہو ہماری طرف کیوں نہیں بھیجتے ۔ قوم نوح (علیه السلام) نے بھی ان سے یہی درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ اے نوح ! تم ہم سے اتنی باتیں کیوں کرتے ہو اور ہم سے کیوں جھگڑتے ہو ،اگر تم سچ کہتے ہو تو وہ عذاب جس سے ہمیں ڈرا رہے ہو اسے جلدی سے لے آؤ ۔ قالوا یا نوح قد جادلتنا فاکثرت جدالنا فاتنا بما تعدنا ان کنت من الصادقین (ھود ۳۲) ایسا ہی تقاضا قوم صالح(علیه السلام) نے بھی ان سے کیا تھا ۔ (اعراف، ۷۷) ۔ قوم عاد نے بھی اپنے پیغمبر ہود (علیه السلام) سے ایسا ہی تقاضا کیا تھا(اعراف ۷۰) ۔ سورہٴ بنی اسرائیل سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ درخواست پیغمبر سے بارہا کی گئی یہاں تک کہ انھوں نے یہ کہا کہ ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے مگر اس وقت جب تم چند کاموں میں سے کوئی ایک انجام نہ دو ان میں سے ایک یہ ہے کہ تم آسمانی پتھر ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہم پر پھینکو (او تسقط السماء کما زعمت علینا کسفا( بنی اسرائیل ۹۲) ۔ یہ نامعقول تقاضے یا تو استہزاء اور تمسخر کے طور پر ہوتے تھے ۔ اور یا سچ مچ طلب اعجاز کے لئے اور دونوں صورتوں میں یہ احمقانہ فعل تھا کیوںکہ دوسری صورت میں ان کی نابودی کا سبب ہوتا لہٰذا معجزہ سے استفادہ کا محل ہی باقی نہ رہتا اور پہلی صوت میں بھی ان واضح دلائل اور نشانیوں کے ہوتے ہوئے کہ جو تمام پیغمبر اپنے ساتھ رکھتے تھے اور جن سے ہر دیکھنے والے کی نگاہ میں کم از کم ان کی صداقت کا احتمال تو پیدا ہوجاتا تھا تو ایسے احتمال کے ہوتے ہوئے کیسے ممکن ہے کہ انسان اپنی نابودی کا تقاضا کرے یا اس سے مذاق کرے، لیکن تعصب اورہٹ دھرمی ایک ایسی عظیم بلا ہے کہ جو ہر قسم کی فکر ومنطق کے راستے میں حائل ہوجا تی ہے ۔ ۲۔ ” إِنْ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلَّہِ“ کا جملہ ایک واضح معنی رکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر قسم کے فرامین واحکام کا وہ عالم آفرینش وتکوین سے متعلق ہوں یا وہ عالم احکام دین وتشریح سے تعلق رکھتے ہوں، سب کے سب خدا کے ہاتھ میں ہیں، اس بنا پر اگرکوئی پیغمبر ان کاموں میں سے کسی کام کو کرکے دیکھتا ہے تو وہ بھی اسی کے فرمان سے کرتا ہے ۔ مثلا اگر حضرت عیسی(علیه السلام) مردہ کو زندہ کرتے ہیں تو بھی اسی کے اذن سے ہے اسی طرح ہر وہ منصب جو کسی کو سپرد ہوا ہے خواہ وہ رہبری الٰہی ہو یا قضاوت وحکمرانی، پروردگار کی طرف سے ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اتنے واضح اور رشن جملہ سے پوری تاریخ میں بارہا غلط استفادہ کیا گیا ہے ۔ کبھی خوارج نے جنگ صفین میں ”حکمین“ کے تعین کے مسئلہ پر اعتراض کرتے ہوئے کہ جو خود ان کے اور ان جیسے لوگوں کے تقاضے پر صورت پذیر ہوا تھا اس جملے کا سہارا لیا اور حضرت علی (علیه السلام) کے ارشاد کے مطابق وہ ایک کلمہٴ حق کو ایک باطل معنی میں استعمال کرتے رہے اور رفتہ رفتہ جملہٴ ”لا حکم الا اللّٰہ “ ان کا شعار ہوگیا ۔ وہ اس قدر نادان واحمق تھے کہ خیال کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص خدا کے فرمان اور دستور اسلام کے مطابق بھی کسی موضوع میں حکم مقرر ہوجائے تو وہ ” إِنْ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلَّہ“کا مخالف ہے حالانکہ وہ قرآن کو زیادہ پڑھتے تھے لیکن اسے بہت کم سمجھتے تھے کیوں کہ قرآن تو اسلامی خاندانی جھگڑوں کے سلسلے میں بھی عورت اور مرد کی طرف سے حکم کے انتخاب کی تصریح کرتا ہے: فابعثوا حکما من اھلہ وحکما من اھلھا(۳۵) ۔ کچھ دوسرے لوگوں نے ۔ جیسا کہ فخرالدین رازی نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے ۔ اس جملے کو مسلک جبر کی ایک دلیل قرار دیا ہے، کیوں کہ جب ہم یہ قبول کرلیں کہ جہاں آفرینش کے تمام فرمان خدا کے ہاتھ میں ہیں تو پھر تو کوئی اختیار کسی کے لئے باقی ہی نہیں رہتا ۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ بندوں کے ارادہ کی آزادی اور ان کا مختار ہونا بھی پروردگار کے فرمان سے ہے، یہ خدا ہی تو ہے کہ جو یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے کاموں میں مختار اور آزاد ہوںتاکہ ان کے مختار اور آزاد ہونے کی حالت میں ان کے کندھوں پر ذمہ داری کا بوجھ ڈالے اور ان کی تربیت ہو ۔ ۳۔ ”یقص“ لغت میں ”قطع کرنے “اور ”کسی چیز کو توڑنے“ کے معنی میں آیا ہے، (2)اور یہ جو زیر نظر آیت میں ”یقص الحق“(خدا حق کو توڑتا ہے ) یعنی مکمل طور پر اسے باطل سے جدا اور الگ کردیتا ہے، تو اس بنا پر بعد والا جملہ ”وھو خیرالفاصلین“ (وہ بہترین طور پر جدا کرنے والا ہے ) اس امر کی تاکید شمار ہوگا اور اس بات پر بھی توجہ رکھنی چاہئے کہ ”یقص“ ”قصہ“ سے نہیں کہ جس کا معنی سرگذشت اور داستان بیان کرنا ہے، جیسا کہ بعض مفسرین نے بیان کیا ہے ۔ ۵۹وَعِنْدَہُ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لاَیَعْلَمُھَا إِلاَّ ھُوَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلاَّ یَعْلَمُھَاَّةٍ فِی ظُلُمَاتِ الْاٴَرْضِ وَلاَرَطْبٍ وَلاَیَابِسٍ إِلاَّ فِی کِتَابٍ مُبِینٍ ۔ ۶۰ وَھُوَ الَّذِی یَتَوَفَّاکُمْ بِاللَّیْلِ وَیَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّھَارِ ثُمَّ یَبْعَثُکُمْ فِیہِ لِیُقْضَی اٴَجَلٌ مُسَمًّی ثُمَّ إِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ۔ ۶۱وَھُوَ الْقَاھِرُ فَوْقَ عِبَادِہِ وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَةً حَتَّی إِذَا جَاءَ اٴَحَدَکُمْ الْمَوْتُ تَوَفَّتْہُ رُسُلُنَا وَھُمْ لاَیُفَرِّطُونَ۔ ۶۲ ثُمَّ رُدُّوا إِلَی اللَّہِ مَوْلاَھُمْ الْحَقِّ اٴَلاَلَہُ الْحُکْمُ وَھُوَ اٴَسْرَعُ الْحَاسِبِینَ۔ ترجمہ ۵۹۔ غیب کی چابیاں صرف اسی کے پاس ہیں اور اس کے علاوہ کوئی اسے نہیں جانتا اور خشکی اور دریا میں جو کچھ ہے وہ اسے جانتا ہے کوئی پتہ (کسی درخت سے ) نہیں گرتا مگر یہ کہ وہ اس سے آگاہ ہے اور زمین کی پوشیدہ وتاریک جگہوں میں کوئی کوئی دانہ ہے اور نہ ہی کوئی خشک وتر چیزوجود رکھتی ہے مگر یہ کہ وہ واضح کتاب ( کتاب علم خدا) میں ثبت ہے ۔ ۶۰ ۔وہی وہ ذات ہے کہ جو تمھاری روح کو رات کے وقت (نیند میں) لے لےتا ہے اور جو کچھ تم نے دن میں کسب کیا (اور انجام دیا) ہے اس سے با خبر ہے پھر وہ دن میں ( نیند سے) تمھیں اٹھاتا ہے( اور یہ کیفیت ہمیشہ جاری رہتی ہے) یہاں تک کہ معین گھڑی آپہنچے، اس کے بعد تمھاری بازگشت اسی کی طرح ہوگی اور جو کچھ عمل تم کرتے ہو وہ اس کی تمھیں خبر دے گا ۔ ۶۱۔وہ اپنے بندوں پر مکمل تسلط رکھتا ہے ، اور تمھارے اوپر نگہبان بھیجتا ہے، یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آپہنچے تو ہمارے بھیجے ہوئے اس کی جان لے لیتے ہیں اوروہ ( بندوں کے اعمال کے حساب کی نگہداری میں ) کوتاہی نہیں کرتے ۔ ۶۲۔ اس کے بعد (تمام بندے) خدا کی طرف جو ان کا مولا ئے حقیقی ہے پلٹ جائیں گے، جان لو کہ حکم کرنا اسے کے ساتھ مخصوص ہے اور وہ سب سے جلدی حساب کرنے والا ہے ۔ ۱۔ لفظ ”الذین “ کا استعمال جو ذوی العقول جمع مذکر کے لئے ہوتا ہے بتوں کے لئے اس بنا پرہوا، کیوں کہ ان کی فکر کے دریچہ سے ان سے گفتگو کی جاری ہے ۔ 2۔قاموس کہتا ہے: قص الشعر والظفر قطع منھما بالمقص ای المقراض “ بالوں اور ناخونوں کو مقارض یعنی قینچی سے کاٹنے کو عرب قص اور مقراض کو مقص (کسر میم وفتح قاف کے ساتھ ) کہتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:56-58
بے جا اصرار اور ہٹ دھرمی
ان آیات میں روئے سخن اسی طرح ہٹ دھرم مشرکین اور بت پرستوں کی طرف ہے جیسا کہ اس سورہ کی زیادہ تر آیات اسی بحث کے گرد گھومتی ہے، ان آیات کا لب ولہجہ کچھ اس طرح کا ہے جیسا کہ انھوں نے پیغمبر کو دعوت دی تھی کہ پیغمبر ان کے دین کی طرف جھک جائیں لہٰذا پیغمبر کو حکم ہوتا ہے کہ وہ انھیں صراحت کے ساتھ کہہ دے کہ: مجھے ان کی پرستش سے منع کیا گیا ہے جن کی تم خدا کے علاوہ پرستش کرتے ہو (قُلْ إِنِّی نُھِیتُ اٴَنْ اٴَعْبُدَ الَّذِینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّہ)(۱) ۔ لفظ ”نھیت“ (ممنوع قرار دیا گیا ہوں) جو فعل مجہول کی صورت میں لایا گیا ہے اس طرف اشارہ ہے کہ بتوں کی پرستش کا ممنوع ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ ہمیشہ سے ایسا ہی تھا اور ہمیشہ ایسا ہی رہے گا ۔ اس کے بعد ” کہہ دو اے پیغمبر کہ میںتمھاری ہویٰ وہوس کی پیروی نہیں کرتا“ ( قُلْ لاَاٴَتَّبِعُ اٴَھْوَائَکُمْ)، اس جملے کے ذریعہ ان کا مطالبہ کا واضح جواب دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ بت پرستی کوئی منطقی دلیل نہیں رکھتی اور ہرگز عقل وخرد سے مطابقت نہیں رکھتی کیوں کہ عقل اچھی طرح سے سمجھتی ہے کہ انسان جماد سے اشرف ہے تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ انسان دوسری مخلوق کے سامنے یہاں تک کہ ایک پست تر مخلوق کے سامنے سر تعظیم جھکائے، اس کے علاوہ وہ زیادہ تر بت خود انسان کے گھڑے اور بنے ہوئے ہوتے تھے تویہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ چیز کہ جو خود انسان کی مخلوق ہو اس کی معبود اور اس کی حلال مشکلات ہوجائے، اس بنا پر بت پرستی کا سرچشمہ اندھی تقلید، خرافات اور ہوا پرستی کی پیروی کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ آخر میں میں مزید تاکید کے لئے ارشاد ہوتا ہے: اگر میں ایسا کام کروں تو یقینا گمراہ ہوجاؤں گا اور ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہ ہوں گا ( قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا اٴَنَا مِنْ الْمُھْتَدِینَ) ۔ بعد والی آیت میں انھیں ایک اور جواب دیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ :میں اپنے پرور دگار کی طرف سے ایک واضح اور روشن دلیل رکھتا ہوں، اگرچہ تم نے اسے قبول نہیں کیا اور اس کی تکذیب کی ہے ( قُلْ إِنِّی عَلَی بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّی وَکَذَّبْتُمْ بِہِ ) ۔ ”بینة“ اصل میں ایسی چیز کو کہتے ہیں کہ جو دو چیزوں کے درمیان اس طرح سے جدائی ڈال دے کہ ان میں کسی طرح سے دوبارہ اتصال اور باہمی تعلق نہ ہوسکے، اس کے بعد روشن اور واضح دلیل کو بھی کہا جانے لگا کیوںکے وہ حق وباطل کو ایک دوسرے سے جدا کردیتی ہے ۔ فقہی اصطلاح میں اگرچہ ”بینة“ دوعادل افراد کی گواہی کو کہا جاتا ہے لیکن اس کا لغوی معنی کا مل طور پر وسیع ہیں اور دو عادلوں کی گواہی اس کا ایک مصداق ہے، اور اگر معجزات کو ”بینة“ کہا جاتا ہے تو وہ بھی اسی بنا پر ہے کہ وہ حق کو باطل سے جدا کرتے ہیں، اور اگر آیات واحکام الٰہی کو ”بینة“ کہتے ہیں تو وہ بھی اس وسیع مفہوم کے ایک مصداق کے طور پر ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں بھی پیغمبر کویہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس بات کا سہارا لیں کہ خدا پرستی کی راہ میں اور بتوں سے جنگ میں میرا مدرک کامل طور سے روشن اور آشکار ہے اور تمھارا انکار اور تکذیب اس کی اہمیت میں کوئی کمی پیدا نہیں کرسکتے ۔ اس کے بعد ان کی بہانہ سازیوں میں سے ایک اور بہانہ جوئی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ لوگ کہتے تھے کہ اگر تم حق پر ہو تو وہ عذاب کہ جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو اسے جلدی لے آؤ، پیغمبر ان کے جواب میں کہتے ہیں: وہ چیز کہ جس کے بارے میں تم جلدی کررہے ہو وہ میرے ہاتھ میں نہیں ہے (مَا عِندِی مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِہِ)تمام کام اور تمام احکام سب کے سب خدا کے ہاتھ میں ہیں ( إِنْ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلَّہِ) ۔ اور بعد میں تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے : وہی ہے کہ جو حق کو باطل سے جدا کرتا ہے اور وہ حق کو باطل سے بہتر طور پر جدا کرنے والا ہے (یَقُصُّ الْحَقَّ وَھُوَ خَیْرُ الْفَاصِلِین) ۔ ظاہر ہے کہ حق کو باطل سے وہی اچھی طرح جدا کرسکتا ہے کہ جس کا علم سب سے زیادہ ہو اور اس کے لئے حق وباطل کی شناخت کامل طور سے روشن ہو، علاوہ ازایں وہ اپنے علم ودانش کو روبہ عمل لانے کے لئے کافی قدرت بھی رکھتا ہو اور یہ دونوں صفات (علم وقدرت) نامحدود اور بے پایاں طور پر صرف خدا وند تعالیٰ کی ذات پاک کے ساتھ مخصوص ہے، لہٰذا وہ حق کو باطل سے سب سے بہتر طور پر جدا کرنے والا ہے ۔ بعد والی آیت میں پیغمبر کو حکم دیا گیا ہے کہ اس ہٹ دھرم اور نادان گروہ کی جانب سے عذاب وسزا کے مطالبہ پر انھیں کہہ دو کہ وہ چیز جس کے جلدی ہوجانے کا مطالبہ تم اس سے کرتے ہو اگر وہ میرے قبضہ واختیار میں ہوتی اور میں تمھاری درخواست پر عمل کردیتا تو میرا اور تمھارا کام ختم ہوگیا ہوتا ( قُلْ لَوْ اٴَنَّ عِندِی مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِہِ لَقُضِیَ الْاٴَمْرُ بَیْنِی وَبَیْنَکُمْ) ۔ لیکن اس غرض سے کہ کہیں وہ یہ خیال نہ کریں کہ ان کی سزا کو بھلا دیا گیا ہے آخر میں قرآن کہتا ہے: خدا وند تعالیٰ ستمگاروں اور ظالموں کو سب سے بہتر طور پر پہچانتا ہے اور موقع پر انھیں سزا دے گا( وَاللَّہُ اٴَعْلَمُ بِالظَّالِمِینَ ) ۔ ۱۔ لفظ ”الذین “ کا استعمال جو ذوی العقول جمع مذکر کے لئے ہوتا ہے بتوں کے لئے اس بنا پرہوا، کیوں کہ ان کی فکر کے دریچہ سے ان سے گفتگو کی جاری ہے ۔ 2۔قاموس کہتا ہے: قص الشعر والظفر قطع منھما بالمقص ای المقراض “ بالوں اور ناخونوں کو مقارض یعنی قینچی سے کاٹنے کو عرب قص اور مقراض کو مقص (کسر میم وفتح قاف کے ساتھ ) کہتے ہیں ۔