وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَيْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِم مِّن شَيْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ
Do not drive away those who supplicate their Lord morning and evening desiring His face. Neither are you accountable for them in any way, nor are they accountable for you in any way, so that you may drive them away and thus become one of the wrongdoers.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 6:52
[Pooya/Ali Commentary 6:52] Wajh (face) means Allah's grace or pleasure, the highest aim of spiritual aspiration. Some of the rich and influential Quraysh thought it beneath their dignity to listen to the Holy Prophet's teachings in company with the less fortunate companions like Ammar, Bilal, Salman, Abu Dharr, Miqdad and Suhayb known as ashab al sufah (the sincere and devout companions), who were true seekers of Allah's grace, nearness and pleasure. The Holy Prophet took care of and looked after them. Whether wealthy or poor, black or white, every companion was treated alike, and preference over each other was given according to the degree of piety. Bani Israil : 15; Fatir : 18; Zumar : 7; Hujurat : 13; and Zilzal : 7 and 8 say that no bearer of burdens bears the burden of another. Every individual is accountable for what he does in this life. In fact the true sincerity of the abovenoted less fortunate companions entitled them to precedence over worldly men in the kingdom of Allah; whose justice was vindicated in the Holy Prophet's daily life. The rich and influential persons were on trial. More often than not they failed to match the faith of the poor companions who were always grateful to Allah and His Prophet for their guidance.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:52-53
اسلام کا ایک عظیم امتیاز
ہم جانتے ہیں کہ آج کل کی مسیحیت میں مذہبی راہنماؤں کا دائرہ اختیار مضحکہ انگیزحد تک پاچکا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ اپنے لئے گناہ بخش دینے کے حق کے قائل ہیں اور اسی بنا پر اگر وہ چاہیں کسی شخص کو معمولی سی بات پر دھتکار دیں اور کافر قرار سے دیں اور چاہیں تو کسی کو قبول کرلیں ۔ قرآن مجید زیر نظر آیت میں اور دیگر آیات میں راحت کے ساتھ یاددہانی کراتا ہے کہ نہ صرف مذہبی علماء بلکہ پیغمبر کی ذات تک بھی اظہار ایمان کرنے والے کو دھتکار نے اور دور کرنے کا حق نہیں رکھتے تھے، جب کہ انھوں نے کوئی ایسا کام بھی انجام نہیں دیا کہ جو ان کے اسلام سے خارج ہونے کا سبب بنے، گناہوں کی بخشش اور بندوں کا حساب وکتاب صرف خدا کے ہاتھ میں ہے اور اس کے سوا کوئی بھی اس کام میں دخل دینے کا حق نہیں رکھتا ۔ لیکن کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو، آیت میں موضوع بحث ”طردمذہبی“ہے نہ کہ ”طرد حقوقی“ اس معنی میںکہ اگر مثلا ایک مدرسہ خاص قسم کے طالب علموں کے لئے وقف ہو اور کوئی شخص ابتدا سے ان شرائط کا حامل ہو اور بعد ان میں یہ شرائط باقی نہ رہے تو اسے اس مدرسہ سے نکالنا کوئی منع نہیں رکھتا اور اسی طرح اگر مدرسہ کا متولی مدرسہ کی مصلحتوں کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے کچھ اختیارات رکھتا ہو تو اس مدرسے کے نظام اور اس کی حیثیت وموقعیت کی حفاظت کی لئے ان جائز اختیارات سے استفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے( اس بنا پر وہ مطالب جو تفسیر المنار میں اس آیہ کے ذیل میں اس مطالب کے برخلاف نظر آتے ہیں وہ ”طرد مذہبی“کے ”طرد حقوقی“ سے اشتباہ سے پیدا ہوئے ہیں ) ۔ بعد والی آیت میں بے ایمان دولت مند افراد کو تنبیہ کی گئی ہے کہ یہ واقعات ان کے لئے آزمائش ہیں اور اگر وہ ان آزمائشوں کی بھٹی سے صحیح طریقے سے باہر نہ نکل سکے تو وہ دردناک عواقب وانجام کے متحمل ہوں گے فرمایا گیا ہے کہ ہم نے اس طرح سے ان میں سے بعض کو دوسرے بعض کے ذریعے آزمایا (وَکَذَلِکَ فَتَنَّا بَعْضَھُمْ بِبَعْض)یہاں ”فتنتہ“ آزمائش کے معنی میں ہے(1) ۔ اس سے سخت آزمائش اور کیا ہوگی کہ وہ اشراف اور دولت مندکہ جنھوں نے سالہا سال سے یہ عادت بنائی ہوئی ہے کہ اپنے تمام معاملات کو نچلے طبقے کے لوگوں سے بالکل الگ رکھیں ، نہ ان کی خوشی میں شریک ہوں اور نہ ہی ان کے رنج وغم میں ، یہاں تک کہ ان کی قبریں بھی ایک دوسرے سے فاصلے پر ہوں ، وہ یکا یک ان تمام آداب ورسوم توڑ ڈالیں اور ان کی عظیم زنجیروں کو اپنے ہاتھ پاؤں سے نکال پھینکےں اور ایسے دین کو اپنالیں کہ جس کی طرف سبقت کرنے والے لوگ اصطلاح کے مطابق نچلے درجے اور طبقہ فقراء کے آدمی شمار ہوتے ہیں ۔ پھر مزید ارشاد ہوتا ہے کہ ان تونگروں کا معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ سچے مومنین کی طرف حقارت کی نگاہ ڈال کر کہتے ہیں : کیا یہی لوگ ہیں جنھیں خدا نے ہمارے درمیاں سے چن لیا ہے اور انھیں نعمت ایمان واسلام کے ساتھ نوازا ہے، کیا یہ اس قسم کی باتوں کی قابلیت رکھتے ہیں ( لِیَقُولُوا اٴَھَؤُلاَءِ مَنَّ اللَّہُ عَلَیْھِمْ مِنْ بَیْنِنَا )(2) بعد میں ان کا جواب دیا گیا ہے کہ یہ صاحبان ایمان ایسے افراد ہیں کہ انھوں نے عمل وتشخیص کی نعمت کا شکر ادا کیا ہے اور اس کو روبہ عمل لائے ہیں، اسی طرح انھوں نے پیغمبر کی دعوت کی نعمت کا شکرادا کیا ہے اور ان کی دعوت کو قبول کیا ہے، اس سے بڑی نعمت اور کیا ہوگی اور اس سے بڑھ کر شکر اور کیا ہوگا، اسی بنا پر خدانے ایمان کو ان کے دلوں میں راسخ کردیا ہے، کیا خدا شکر گزاروں کو بہتر نہیں پہچانتا(اٴَلَیْسَ اللَّہُ بِاٴَعْلَمَ بِالشَّاکِرِینَ) ۔ ۵۴وَإِذَا جَائَکَ الَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِآیَاتِنَا فَقُلْ سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلَی نَفْسِہِ الرَّحْمَةَ اٴَنَّہُ مَنْ عَمِلَ مِنْکُمْ سُوئًا بِجَھَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِہِ وَاٴَصْلَحَ فَاٴَنَّہُ غَفُورٌ رَحِیمٌ ۔ ۵۵ وَکَذَلِکَ نُفَصِّلُ الْآیَاتِ وَلِتَسْتَبِینَ سَبِیلُ الْمُجْرِمِینَ۔ ترجمہ ۵۴۔ جب وہ لوگ ہماری آیات پر ایمان لائے ہیں تمھارے پاس آئیں تو ان سے کہو، تم پر سلام ہو تمھارے پرور دگار نے اپنے اوپر رحمت فرض کرلی ہے، تم میں سے جو آدمی نادانی سے کوئی برا کام کرلے اس کے بعد توبہ اور اصلاح (وتلافی) کرلے تو وہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ ۵۵۔اور ہم اس طرح سے آیات کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں (اور واضح کرتے ہیں) تاکہ گناہگاروں کا راستہ آشکار ہوجائے ۔ 1۔مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ کہ جلد ۲، سورہٴ بقرہ کی آیہ ۱۹۱ (صفحہ ۲۶ اردو ترجمہ ) اور آیہ ۱۹۳ (صفحہ ۲۹ اردو ترجمہ) کی طرف روجوع کریں ۔ 2۔ سورہٴ آل عمران آیہ ۱۶۴ کے ذیل میں اشارہ ہوچکا ہے کہ ”منة“ اصل میں نعمت بخشنے کے معنی میں ہے مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد ۳(صفحہ ۱۲۲ اردو ترجمہ ) کی طرف رجوع کریں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:52-53
طبقاتی تقسیم کے خلاف جنگ
اس آیت میں مشرکین کی ایک اور بہانہ جوئی کی طرف اشارہ ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ انھیں توقع تھی کہ پیغمبر فقیر طبقے کے مقابلے میں ثروت مندوں کے لئے امتیاز کے قائل ہوجائیں گے اور ان کا خیال تھا کہ ان اصحاب پیغمبر کے پاس بیٹھنا اور ان کے لئے عیب اور بہت بڑا نقص ہے حالانکہ وہ اس بات سے غافل تھے کہ اسلام آیا ہی اس لئے ہے کہ وہ اس قسم کے لغو اور بے بنیاد امتیازات کو ختم کردے، اسی لئے وہ اس تجویز پر بہت مصر تھے،کہ پیغمبر اس گروہ کو اپنے قرب سے دور کریں لیکن قرآن صراحت کے ساتھ اور وزنی دلائل پیش کرکے ان کی تجویز کی نفی کرتا ہے، پہلے کہتا ہے :ان اشخاص کو کہ جو صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور سوائے اس کی ذات پاک کے ان کی نظر کسی پر نہیں ہے انھیں ہرگز اپنے سے دور نہ کرنا (لاَتَطْرُدْ الَّذِینَ یَدْعُونَ رَبَّھُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِیِّ یُرِیدُونَ وَجْھَہُ ) (۱) ۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ یہاں بجائے اس کے کہ ان اشخاص کا نام یا عنوان ذکر کیا جاتا صرف اس صفت کے ذکر کرنے پر قناعت ہوئی ہے کہ وہ صبح اور شام ۔ اور دوسرے لفظوں میں ہمیشہ۔ خدا کی یاد میں لگے رہتے ہیں اور یہ عبادت وپرستش اور پروردگار کی طرف توجہ نہ تو کسی اورغرض کے لئے ہے اور نہ ریاکاری سے بلکہ (ان کی یہ عبادت) صرف اس کی ذات پاک کے لئے ہے، وہ اسے صرف ، خود اسی کی خاطر چاہتے ہیں اور اس کے پاس ہیں اور کوئی امتیاز اس امتیاز کی برابری نہیں کرسکتا ۔ قرآن کی مختلف آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ثروت مند اور خود پسند مشرکین کی طرف سے یہ پہلی اور آخری بار نہ تھا کہ انھوں نے پیغمبر کو ایسی تجویز پیش ہو بلکہ وہ بار ہا ایسا اعتراض کرچکے تھے کہ پیغمبر نے کچھ بیکس وبینوا افراد کو اپنے گرد کیوں جمع کرلیا ہے اور ان کا یہ اصرا رتھا کہ آپ انھیں اپنے پاس سے چلتا کردیں ۔ حقیقت میں یہ لوگ ایک پرانی غلط روایت کی بنا پر سمجھتے تھے کہ افراد میں امتیاز دولت وثروت کے سبب سے ہوتا ہے اور ان کا عقیدہ یہ تھا کہ معاشرے کے طبقات جو ثروت کی بنیاد پر وجود میں آئے ہیں اہ محفوظ رہنے چاہیئں اور ہر وہ دین اور ہر وہ دعوت جو طبقاتی زندگی کو ختم کرنا چاہے اور ان امتیازات کو نظر انداز کرے اور ان کی نظر میں مطرود اور ناقابل قبول ہے ۔ ہم حضرت نوح علیہ السلام کے حالات میں بھی پڑھتے ہیں کے ان کے زمانے کے ”بڑے آدمی“ ان سے یہ کہتے تھے: وما نراک اتبعک الا الذین ھم ارازلنا بادی الراٴی ہم نہیں دیکھتے کہ کسی نے تمھاری پیروی کی ہو سوائے ان لوگوں کے جو ہم میں سے فرو مایہ اور نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ( ھود آیہ ۲۷) ۔ اور وہ اسے ان کی رسالت کے باطل ہونے کی دلیل سمجھتے تھے ۔ ایک نشانی اسلام اور قرآن کی عظمت کی بلکہ کلی طور پر انبیاء کی عظمت کی یہ ہے کہ ان سے جتنی سختی کے ساتھ ہو سکتا تھا اس قسم کی سوچوں کا مقابلہ کیا اور ایسے معاشروں میں کہ جن میں طبقاتی اختلاف ایک دائمی مسئلہ شمار ہوتا تھا، ایک موہوم امتیاز کو کچلنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تاکہ معلوم ہوجائے کہ سلمان، ابو ذر، صہیب، خباب اور بلال جیسے پاک دل غلام، صاحب ایمان اور عقلمند افراد میں مال ودولت نہ رکھنے کے باوجود معمولی سی بھی کمزوری اور نقص نہیں ہے اور بے مغز ، کور دل، خود خواہ اور متکبر ثروت مند اپنی دولت وثروت کی وجہ سے اجتماعی اور معنوی امتیازات سے بہرہ اندوز نہیں ہوسکتے ۔ بعد والے جملے میں فرمایا گیا ہے: کوئی وجہ نہیں کہ اس قسم کے صاحبان ایمان کو تو اپنے سے دور کرے نہ ان کا حساب تیرے اوپر اور نہ تیرا حساب ان کے اوپر ہے (مَا عَلَیْکَ مِنْ حِسَابِھِمْ مِنْ شَیْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْھِمْ مِنْ شَیْءٍ) اس کے با وجود اگر تم ان کو اپنے سے دور کرو گے تو ستمگروں اور ظالموں میں سے ہوجاؤ گے( فَتَطْرُدَھُمْ فَتَکُونَ مِنْ الظَّالِمِینَ ) ۔ اس کے بارے میں کہ یہاں پر حساب سے کونسا حساب مراد ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے بعض کا احتمال ہے کہ اس سے مراد ان کی روزی کا حساب ہے ۔ یعنی اگر ان کا ہاتھ مال دولت سے خالی ہے تو وہ تمھارے کندھے پر کوئی بوجھ نہیں ڈالتے کیوں کہ ان کی روزی کا حساب تو اللہ پر ہے، جیسا کہ تم بھی اپنی زندگی کا بوجھ ان پر نہیں ڈالتے ، اور تمھاری روزی کا حساب ان پر نہیں ہے ۔ ابھی ہم وضاحت کریں گے یہ احتمال بعید نظر آتا ہے بلکہ ظاہر یہ ہے کہ حساب سے مراد عمل کا حساب ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین نے کہا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ خدا وند تعالیٰ یہ کس طرح فرماتا ہے کہ ان کے اعمال کا حساب تم پر نہیں ہے حالانکہ ان کا کوئی برا عمل نہیں تھا کہ ایسی بات کرنا ضروری ہوتا، یہ اس بنا پر ہے کہ مشرکین اصحاب پیغمبر میں سے فقراء کو مال ثروت نہ ہونے کی وجہ سے خدا سے دور سمجھتے تھے ان کا خیال تھا کہ اگر ان کے اعمال خدا کے ہاں قابل قبول ہوتے تو پھر انھیں زندگی کے لحاظ سے خوش حال کیوں نہیں بنا یا گیا، علاوہ ازایں وہ انھیں اس بات سے متہم کرتے تھے کہ شاید ان کا ایمان لانا زندگی کی اصلاح اور روٹی پانی کے حصول کے لئے تھا ۔ قرآن انھیں جواب دیتا ہے کہ فرض کرو کہ وہ ایسے ہی ہو ں، لیکن ان کا حساب توخدا کے ساتھ ہے، صرف اس بات پر کہ وہ ایمان لے آئیں اور مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہوگئے ہیں، کسی قیمت پر انھیں دھتکارا نہیںجا نا چاہئے اور اس طرح سے امراء قریش کی بہانہ جوئیوں پر گرفت کی گئی ہے ۔ شاید یہ تفسیر وہی کہ کہ جو حضرت نوح (علیه السلام) کی داستان میں بیان ہوئی ہے جو اشراف قریش کی داستان کے مشابہ ہے، جہاں قوم نوح آپ سے کہتی ہے: انوٴ من لک واتبعک الا رذلون کیا ہم تجھ پر ایمان لے آئیں؟ حالانکہ بے وقعت افراد نے تیری پیروی کی ہے ۔ حضرت نوح (علیه السلام) ان کے جواب میں کہتے ہیں: وما علمی مماکانوا یعلمون ان حسابھم الاعلی ربی لو تشعرون وما انا بطاردالمومنین مجھے ان کے اعمال کی کیا خبر ہے، ان کے اعمال کا حساب تو اللہ پر ہے اگر تم جانو اور جنھوں نے ایمان کا اظہار کیا ہے میں انھیں اپنے سے دور نہیں کرسکتا (2) ۔ خلاصہ یہ کہ پیغمبر کی ذمہ داری یہ ہے کہ بغیر فرق وامتیاز کے جو شخص بھی ایمان کا اظہار کرے خواہ وہ کسی بھی قوم ، قبیلہ اور طبقہ سے تعلق کیوں نہ رکھتا ہو اسے قبول کر لے چہ جائیکہ وہ پاک دل اور صاحب ایمان افراد ہوں کہ جو خدا کے سوا کسی کے جویا نہیں ہیں اور ان کا گناہ صرف یہ ہے کہ ان کا ہاتھ مال و ثروت سے خالی ہے اوروہ اشراف کی نکبت بار زندگی میں آلودہ نہیں ہیں ۔ ۱۔ ”وجہ“ کا معنی لغت میں چہرہ ہے اور بعض اوقات ذات کے معنی میں استعمال ہوا ہے، زیر نظر آیت اس سے مراد دوسرا معنی ہی ہے اس موضوع کے بارے میں مزید تفصیل تفسیر نمونہ کہ جلد دوم،صفحہ ۲۰۵(اردو ترجمہ) پر مطالعہ کریں ۔ 2۔ شعرا،۱۱۱تا۱۱۴۔