وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَأَخَذْنَاهُم بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ
We have certainly sent [apostles] to nations before you, then We seized them with stress and distress so that they might entreat [Us].
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 6:42
[Pooya/Ali Commentary 6:42] Please refer to the commentary of al Baqarah : 136, 177, 285; Ali Imran : 84; Nisa : 136, 152, 164.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 6:42-70
Self-sufficient.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:42-45
چند اہم نکات
۱۔ بعض اوقات یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان آیات اور گذشتہ آیات کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے کیوں کہ گذشتہ آیات میں یہ بات صراحت کے ساتھ بیان کی گئی تھی کہ مشرکین ہجوم مشکلات کے وقت خدا کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں اور خدا کے سوا ہر کسی کو بھلا دیتے ہیں لیکن ان آیات میں ہے کہ ہجوم مشکلا ت کے وقت بھی وہ بیدار نہیں ہوتے ۔ ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے یہ ظاہری اختلاف ختم ہوجاتا ہے اور وہ نکتہ یہ ہے کہ شدائد کے ظہور کے وقت جلدی گزرجانے والی اور وقتی بیداریاں بیداری شمار نہیں ہوتیں کیوں کہ وہ جلد ہی اپنی پہلی حالت کی طرف پلٹ جاتے ہیں ۔ گذشتہ آیات میں چونکہ توحید فطری کا بیان کرنا مقصود تھا، اس کے ثبوت کے لئے وہی بیداریاں اور وقتی توجہات اور غیر خدا کو فراموش کرنا ہی کافی تھا خواہ ایسا حادثہ کے موقع پرہی ہوا ہو لیکن ان آیات میں موضوع سخن ہدایت یابی اور بے راہ روی سے رای راست کی طرف پلٹنے سے مطلق ہے اور مسلمہ طور پر جلد گزرجانے والی اور وقتی بیداری اس میں کوئی اثر نہیں کرتی۔ بعض اوقات خیال ہوتا ہے کہ ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ گذشتہ آیات پیغمبر کے ہمعصر مشرکین کے ساتھ مربوط ہے لیکن زیر بحث آیات گذشتہ اقوام سے متعلق ہیں لہٰذا ان دونوں میں آپس میں کوئی تضاد نہیں ہے(1) ۔ لیکن یہ بات بہت بعید نظر آتی ہے کہ پیغمبر کے ہمعصر ہٹ دھرم مشرک گذشتہ زمانہ کے گمراہوں سے بہتر ہوں، اس بنا پر صحیح حل وہی ہے ج اوپر بیان ہوچکا ۔ ۲۔ زیر نظر آیات میں ہے کہ جب شدائد کے ظہور سے تربیتی اثر نہ ہوتو خدا وند عالم ایسے گناہگاروں پر نعمتوں کے درازے کھو دیتا ہے، تو کیا یہ کام تنبلیہ کے بعد تشویق کے لئے ہے یا عذاب کے دردناک ہونے کا ایک مقدمہ ہے؟ یعنی اصطلاح کے مطابق اس قسم کی نعمتیں نعمت استدراجی ہیں، جو سرکش بندوں کو بتدریج آہستہ آہستہ نازونعمت، خوشحالی وسروراور ایک قسم کی غفلت میں ڈبو دیتی ہے اور پھر ایک دم ان سے تمام نعمتوں کو چھین لیا جا تا ہے ۔ آیت میں کچھ ایسے قرائن موجود ہیں جن سے دوسرے احتمال کی تقویت ملتی ہے لیکن اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ دونوں ہی احتمال مراد ہوں، یعنی پہلے بیداری کے لئے تشویق ہو اور اگر وہ موثر نہ ہو تو وہ نعمت کے چھیننے اور دردناک عذاب کرنے کے لئے ایک مقدمہ ہو ، ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم سے اس طرح نقل ہوا ہے: اذا راٴیت اللّٰہ یعطی العبد من الدنیا علی معاصیہ ما یحب فانما ھو استدراج ثم تلا رسول اللّٰہ فلما نسو--- ”جب تم یہ دیکھو کہ خدا گناہوں کے مقابلے میں نعمت بخشتا ہے تو تم سمجھ لو کہ یہ سزا کا مقدمہ اور تمہید ہے، پھر آپ نے اوپر والی آیت کی تلاوت کی“ (مجمع البیان ونورالثقلین ذیل آیہ) حضرت علی علیہ السلام سے ایک حدیث میں اس طرح نقل ہوا ہے کہ آپ (علیه السلام) نے فرمایا: ”یا ابن آدم اذا راٴیت ربک سبحناہ یتابع علیک نعمہ وانت تعصیہ فاحذرہ“ (نہج البلاغہ ،کلمہ ۲۵) ”اے آدم کے بیٹے! تو یہ دیکھے کہ خدا تجھے پے در پے نعمتیں بخش رہا ہے جب کہ تو گنا ہ کرتا جارہا ہے، تو تو اس کی سزا اور عذاب سے ڈر کیوں کہ یہ عذا ب کا مقدمہ ہے“ کتاب تلخیص الاقوال میں امام حسن عسکری علیہ السلام سے اس طرح نقل ہوا ہے : امیر المومنین کے غلام قنبر کو حجاج کے سامنے پیش کیا گیا تو حجاج نے اس سے پوچھا کہ تو علی ابن ابی طالب (علیه السلام) کے لئے کیا کام کیا کرتا تھا، قنبر نے کہا کہ میں آپ(علیه السلام) کے لئے وضو کے اسباب فراہم کرتا تھا، حجاج نے پوچھا کہ علی (علیه السلام) جب وضو سے فارغ ہوتے تھے تو کیا کہا کرتے تھے، قنبر نے کہا کہ وہ یہ آیت پڑھا کرتے تھے: ”فلما ھوا ما ذکروا بہ فتحنا علیھم ابواب کل شی“اور آخر آیت تک تلاوت کی، حجاج نے کہا کہ میرا گمان یہ ہے کہ علی اس آیت کو ہم پر تطبیق کیا کرتے تھے، قنبر نے پوری دلیری کے ساتھ جواب دیا، کہ جی ہاں! (نورالثقلین، جلد ۱،صفحہ ۱۸) ۔ ۳۔ ان آیات میں ہے کہ بہت سے رنج اور حوادث سے مراد توجہ اور بیداری کی حالت کو ایجاد کرنا ہے اور یہ آفات اور بلاؤں کے فلسفوں میں سے ایک فلسفہ ہے، جس کے متعلق ہم توحید (2)کی بحث میں گفتگو کرچکے ہیں ۔ لیکن توجہ کے لائق بات یہ ہے کہ اس امر کو پہلے لفظ ”لعل“ (شاید) کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، اس کے ذکر کا سبب یہ ہے کہ مصائب اور بلائیں بیداری کے لئے تنہا کافی نہیں ہے بلکہ یہ توآمادگی رکھنے والے دلوں کے لئے زمین ہموار کرتی ہے، ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے کہ ”لعل“ کلام خدا میں عام طور سے ایسے مواقع پر استعمال ہوتا ہے جہاں اور دوسری شرائط بھی درمیان میں پائی جاتی ہےں ۔ دوسرا یہ کہ یہاں تضرع کا لفظ استعمال ہوا ہے، جو اصل میں دودھ کے پستان میں آجانے اور دوہنے والے کے سامنے اس کے مطیع ہونے کے معنی میں ہے، پھر اس کے بعد یہ لفظ تواضع اور خضوع کے ساتھ ملی ہوئی اطاعت کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا یعنی ان دردناک حادثات کو ہم اس لئے ایجاد کرتے تھے تاکہ وہ غرور وسرکشی اور خودخواہی کی سواری سے نیچے اترے اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کریں ۔ ۴۔ یہ بات بھی لائق توجہ ہے کہ آیت کے آخر میں خدا وند تعالیٰ ( الحمد رب العالمین) کہتا ہے اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ ظلم فساد کی جڑ کا کاٹنا اور ایسی نسل کا نابود ہوجانا جو اس کام کو جاری رکھ سکے اس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ شکر وسپاس کی جگہ ہے ۔ اس حدیث میں جو فضیل بن عیاض نے امام صادق علیہ السلام سے نقل کی ہے کہ آپ (علیه السلام) نے فرمایا: من احب بقاء الظالمین فقد احب ان یعصی اللّٰہ،ان اللّٰہ تبارک وتعالیٰ حمد بنفسہ بھلاک الظلمة فقال: فقطع دابرالقوم الذین ظلموا والحمد للّٰہ رب العالمین۔ جو ستمگروں اور ظالموں کی بقا چاہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ خدا کی نافرمانی ہوتی رہے اور یہ فرمایا کہ ستمگر قوم کی نسل منقطع کردی گئی اور حمد وسپاس مخصوص ہے اس خدا کے لئے جو عالمین کا پرور دگار ہے ۔ ۴۶قُلْ اٴَرَاٴَیْتُمْ إِنْ اٴَخَذَ اللَّہُ سَمْعَکُمْ وَاٴَبْصَارَکُمْ وَخَتَمَ عَلَی قُلُوبِکُمْ مَنْ إِلَہٌ غَیْرُ اللَّہِ یَاٴْتِیکُمْ بِہِ انظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْآیَاتِ ثُمَّ ھُمْ یَصْدِفُونَ۔ ۴۷ قُلْ اٴَرَاٴَیْتَکُمْ إِنْ اٴَتَاکُمْ عَذَابُ اللَّہِ بَغْتَةً اٴَوْ جَھْرَةً ھَلْ یُھْلَکُ إِلاَّ الْقَوْمُ الظَّالِمُونَ ۔ ۴۸ وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِینَ إِلاَّ مُبَشِّرِینَ وَمُنذِرِینَ فَمَنْ آمَنَ وَاٴَصْلَحَ فَلاَخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَھُمْ یَحْزَنُونَ ۔ ۴۹ وَالَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا یَمَسُّھُمْ الْعَذَابُ بِمَا کَانُوا یَفْسُقُونَ ۔ ترجمہ ۶۴۔کہہ دو کہ کیا تم نے اس بات پر بھی غور کیا ہے کہ اگرخدا تمھارے کان اور آنکھیں تم سے لے لے اور تمھارے دلوں پر مہر لگا دے(کہ تم کوئی بات نہ سمجھ سکو)تو خدا کے سوااور کون ہے کہ جو یہ چیزیں تمھیں دیدے، دیکھو ہم آیات کی کس طرح مختلف طریقوں سے تشریح کرتے ہیں اس کے بعد وہ لوگ منہ پھیر لیتے ہیں ۔ ۴۷۔کہہ دو کہ کیا تم نے یہ بھی غور کیا کہ اگر خدا کا عذاب اچانک (اور پوشیدہ) یا آشکار تمھارے پاس آجائے تو کیا ظالموں کے گروہ کے سوا اور کوئی ہلاک ہوگا ۔ ۴۸۔ اور ہم پیغمبروں کو نہیں بھیجتے سوائے اس کے کہ وہ بشارت دینے والے اور ڈرانے والے ہوتے ہیں ، پس جو لوگ ایمان لے آئےں اور اپنی اصلاح کرلیں تو ان کے لئے نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے ۔ ۴۹۔ وہ لوگ جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ، ان کی نافرمانیوں کے سبب خدا وندتعالیٰ کا عذاب انھیں پہنچے گا ۔ 1۔ فخرالدین رازی نے اپنی تفسیر میں اس فرق کی طرف اشرہ کیا ہے (جلد ۱۲،صفحہ ۲۲۴) ۔ 2۔ کتاب ”آفریدگار جہاں“اور کتاب ”جستجوئے خدا“ کی طرف رجوع فرمائیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:42-45
نصیحت قبول نہ کرنے والوں کا انجام
ان آیا ت میں بھی گمراہوں اور مشرکین کے بارے میں گفتگو جاری ہے اور قرآن ایک دوسرے راستے سے ان کو بیدار کرنے کے لئے اس موضوع کا پیچھا کرتا ہے، یعنی ان کا ہاتھ پکڑ کر انھیں گذشتہ زمانوں اور صدیوں کی طرف لے جاتا ہے اور گمراہ، ستمگر اور مشرک امتوں کی کیفیت ان سے بیان کرتا ہے کہ کس طرح سے تربیت وبیداری کے عوامل ان کے لئے بروئے کا ر لائے گئے لیکن ان میں سے ایک گروہ نے پھر بھی کسی کی طرف توجہ نہ کی اور آخر کار ایسی بدبختی ان کو دامنگیر ہوئی کہ وہ آنے والوں کے لئے عبرت بن گئے ۔ پہلے کہتا ہے کہ ہم نے گذشتہ امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے اور چونکہ انھوں نے کوئی پرواہ نہیں کی لہٰذا ہم نے انھیں بیداری اور تربیت کی خاطر مشکلات اور سخت حوادث مثلا، فقرفاقہ، خشک سالی وبیماری دردورنج اور ”باٴساء“ و”ضراء“ (۱) سے دو چار کردیا،کہ شاید وہ متوجہ ہوجائیں اور خدا کی طرف پلٹ آئیں(وَلَقَدْ اٴَرْسَلْنَا إِلَی اٴُمَمٍ مِنْ قَبْلِکَ فَاٴَخَذْنَاھُمْ بِالْبَاٴْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّھُمْ یَتَضَرَّعُونَ ) ۔ بعد والی آیت میں کہتا ہے کہ انھوں نے ان دردناک اور بیدار کرنے والے عوامل سے نصیحت کیوں لی اور بیدار کیوں نہ ہوئے اور خدا کی طرف کیوں نہ لوٹے ( فَلَوْلاَإِذْ جَائَھُمْ بَاٴْسُنَا تَضَرَّعُوا ) ۔ اصل میں ان کے بیدار نہ ہونے کی دو وجوہات تھیں، ان میں سے پہلی وجہ تو یہ تھی کہ گناہ کی زیادتی اور شرک میں ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان کے دل تاریک اور سخت ہوگئے اور ان کی روح کوئی اثر قبول نہیں کرتی تھی(وَلَکِنْ قَسَتْ قُلُوبُھُم) ۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ شیطان نے (ان کی بت پرستی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے) ان کے اعمال کو ان کی نگاہ میں زینت دے رکھا تھا اور جس برے عمل کو وہ انجام دیتے تھے اسے خوبصورت وزیبااور ہر غلط کام کو درست وصحیح خیال کرتے تھے(ْ وَزَیَّنَ لَھُمْ الشَّیْطَانُ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) ۔ بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے کہ جب سخت گیریاں اور گوشمالیاں ان کے لئے موثر ثابت نہ ہوئیں تو ہم نے ان کے ساتھ محبت اور مہربانی کا راستہ اختیار کیا اورجب انھوں نے پہلے سبق کو بھلا دیا تو ہم نے ان کے لئے دوسر سبق شروع کردیا اور طرح طرح کی نعمتوں کے دروازے ان کے لئے کھول دئےے کہ شاید وہ بیدار ہوجائےں اور اپنے پیدا کرنے والے اور ان نعمتوں کو بخشنے والے کی طرف توجہ کرلیں اور راہ راست کو پالیں ( فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُکِّرُوا بِہِ فَتَحْنَا عَلَیْھِمْ اٴَبْوَابَ کُلِّ شَیْءٍ ) ۔ لیکن یہ سب نعمتیں دوہری خصوصیت رکھتی تھیں، یہ ان کی بیداری کے لئے اظہار محبت تھیں اور اگر بیدار نہ ہوں تو دردناک عذاب کا مقدمہ بھی تھیں کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ جب انسان ناز ونعمت میں ڈوبا ہوا ہو اور اچانک وہ سب نعمتیں اس سے چھین لی جائیں تو اس کے لئے انتہائی دردناک ہوتا ہے ، اس کے برخلاف اگر اس سے تدریجا واپس لی جائیں تو اس صورت میں اس پر کوئی اثر نہ ہوگا ۔ اسی لئے کہتا ہے کہ ہم نے انھیں اس قدر نعمتیں دی کہ جس سے وہ مکمل طور پر خوشحال ہوگئے، لیکن وہ بیدار نہ ہوئے، لہٰذا ہم نے ان سے وہ اچانک چھین لی اور ہم نے انھیں عذاب دیا اور امید کے سب دروازے ان پر بند ہوگئے(حَتَّی إِذَا فَرِحُوا بِمَا اٴُوتُوا اٴَخَذْنَاھُمْ بَغْتَةً فَإِذَا ھُمْ مُبْلِسُونَ )(2) اور اس طرح ستمگروں کی نسل منقطع ہوگئی اور ان کی دوسری نسل آگے نہ چل سکی(فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِینَ ظَلَمُوا ) ۔ ”دابر“اصل میں کسی چیز کے پچھلے اور آخری حصہ کو کہتے ہیں اورچونکہ خدا وند تعالیٰ نے ان کی تربیت کے لئے تمام ذرائع کو بروئے کار لانے میں کسی قسم کی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، لہٰذا آیت کے آخر میں کہتا ہے:حمد مخصوص اس خدا کے لئے ہے کہ جو عالمین کا پروردگار ہے (وَالْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ) ۔ ۱۔”باٴسا“ اصل میں شدت ورنج کے معنی میں ہے اور جنگ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اسی طرح قحط و خشک سالی اور فقروغیرہ کے لئے بھی لیکن ”ضراء“ روحانی تکلیف مثلا غم واندوہ، جہالت،نادانی یا وہ پریشانیاں ہوں بیماری یا مقام ومنصب اور مال ثروت کے ہاتھ سے نکل جانے سے پیدا ہوتی ہے کہ معنی میں ہے، شاید ان دونوں میں فرق اس سبب سے ہے کہ ”باٴسا“ عام طور سے خاجی پہلو رکھتا ہے اور ”ضراء“ روحانی اور معنوی پہلو رکھتا ہے، یعنی روحانی تکالیف کو ”ضراء“ کہتے ہیں، تو اس بناپر ”باٴسا“ ”ضراء“کے عوامل کی ایجاد میں سے ایک عامل ہے(غور کیجئے گا) ۔ 2۔ ”مبلسون“ اصل میں مادہ ”ابلاس“سے اس غم واندوہ کے معنی میں ہے جو انسان کو ناگوار حوادث کی شدت سے عارض ہوا اور ابلیس کا نام بھی یہی سے لیا گیا ہے اور اوپر والی تعبیر شدت غم واندوہ کی نشاندہی کرتی ہے جو گنہگاروں کو گھیر لیتی ہے ۔