وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِّن رَّبِّهِ قُلْ إِنَّ اللَّهَ قَادِرٌ عَلَى أَن يُنَزِّلَ آيَةً وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
They say, ‘Why has not a sign been sent down to him from his Lord?’ Say, ‘Allah is indeed able to send down a sign,’ but most of them do not know.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 6:37
[Pooya/Ali Commentary 6:37] Refer to the commentary of verse 35 of this surah. Signs were all around them, but they did not understand. They picked holes in anything that descended to their level of intelligence. Also refer to the commentary of the preceding verse. By "most of them do not know" majority has been censured.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:37
ایک اشکال اور اس کا جواب
جیسا کہ تفسیر مجمع البیان سے معلوم ہوتا ہے کہ صدیوں پہلے بعض مخالفین اسلام نے اس آیت کو دستاویز قرار دیتے ہوئے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ پیغمبر اسلام کے پاس کائی معجزہ نہیں تھا کیوں کہ جس وقت کفار ان سے معجزہ دکھانے کا تقاضا کیا کرت تھے تو ان سے اتنا کہنے پر ہی قناعت کیا کرتے تھے کہ خدا ہی ایسی چیزوں پر قدرت رکھتا ہے لیکن تمھاری اکثریت نہیں جانتی، اتفاق کی بات یہ ہے کہ متاخرین میں سے بعض لکھنے والوں نے بھی یہی پرانا افسانہ دہرایا ہے اور اپنی تحریروں میں اسی پرانے اعتراض کو دوبارہ زندہ کیا ہے ۔ جوابا عرض ہے کہ: پہلی بات تو یہ کہ جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے قبل وبعد کی آیات کا ٹھیک طور پر مطالعہ نہیں کیا ہے، اور یہ غور نہیں کیا کہ یہاں پر ان ہٹ دھرم لوگوں کے متعلق گفتگو ہورہی ہے جو کسی طرح بھی حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے لئے تیار نہیں تھے، اب اگر پیغمبر نے ان کے تقاضا کو پورا نہیں کیا تو اس کی وجہ بھی یہی تھی، ورنہ قرآن میں یہ کہاں ہے کہ حق کی جستجو اور حق کو طلب کرنے والے افراد نے پیغمبر سے معجزہ کا تقاضاکیا ہو اور آپ نے ان کی خواہش کو رد کردیا ہو، اسی سورہٴ انعام کی آیہ ۱۱۱ میں اسی قسم کی ”ہٹ دھرم “افراد کے سلسلے میں ہے: ” وَلَوْ اٴَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَیھِمْ الْمَلاَئِکَةَ وَکَلَّمَھُمْ الْمَوْتَی وَحَشَرْنَا عَلَیْھِمْ کُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَا کَانُوا لِیُؤْمِنُوا إِلاَّ اٴَنْ یَشَاءَ اللهُ وَلَکِناٴَکْثَرَھُمْ یَجْھَلُون“(۱) دوسری بات یہ ہے کہ جیسا کہ اسلامی روایات سے معلوم ہوتا ہے یہ مطالبہ سرداران قریش کی ایک جماعت کی طرف سے تھا اور انھوں نے قرآن کریم کی تحقیر اور اس سے بے پرواہی برتتے ہوئے اس قسم کا مطالبہ کیا تھا اور یہ بات مسلم ہے کہ پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم ایسے تقاضوں کے سامنے جن کا سرچشمہ ایسے اسباب ہوں سر نہیں جھکا سکتے ۔ تیسری بات یہ ہے کہ جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں انھوں نے گویا قرآن کریم کی باقی تمام آیات کو اپنی نگاہ سے دور رکھا ہے کہ کس طرح قرآن نے خود ایک جاودانہ معجزہ کے طور پر اپنا تعارف کروایا ہے اور بارہا مخالفین کو مقابلے کی دعوت دیتا رہا ہے اور ان کے ضعف وناتوانی کو آشکار کرچکا ہے ۔ معترضین نے سورہٴ اسراء کی پہلی آیت کو بھی بھلا دیا ہے جو صریحا کہتی ہے کہ خداوند تعالیٰ اپنے پیغمبر کو ایک ہی رات میں مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا ۔ چوتھی بات یہ ہے کہ یہ بات باور نہیں کی جاسکتی کہ قرآن انبیاء ومرسلین کے معجزات خارق عادات سے پر ہو اور پیغمبر اسلام کہیں کہ میں تمام انبیاء کا خاتم ہوں ، سب سے افضل وبر تو ہوں اور میرا دین بالاترین دین ہے لیکن حق کے متلاشیوں کے لئے کمترین معجزہ بھی اپنی طرف سے نہ دکھا سکے، کیا اس صورت میں غیر جانبدار حقیقت طلب افراد کے لئے اس کی دعوت میں نقطہ ابہام پیدا نہیں ہوگا ۔ اگر ان کے پاس کوئی معجزہ نہ ہوتا تو ان کے لئے ضروری تھا کہ وہ دوسرے انبیاء کے معجزات کا بالکل ہی نام تک نہ لیتے تاکہ وہ اپنے پروگرام کی توجیہ کرسکیں اور اپنے اوپر کئے جانے والے اعتراضات کے راستوں کو بند کردیں، اور یہ باے کہ وہ برملا کھلے دل کے ساتھ پے در پے دوسروں کے معجزات بیان کررہے ہیں اور موسیٰ (علیه السلام) بن عمران (علیه السلام)، عیسیٰ (علیه السلام) بن مریم (علیه السلام) ، ابراہیم (علیه السلام) ،صالح (علیه السلام) او نوح (علیه السلام) کے خارق عادت کام اور معجزات کو ایک ایک کرکے بیان کرتے چلے جارہے ہیں یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ اپنے معجزات کی طرف سے کامل مطمئن تھے، یہی وجہ ہے کہ تاریخ اسلام، معتبر روایات اور نہج البلاغہ میں پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم سے مختلف قسم کے معجزات نقل ہوئے ہیں کہ جن کا مجموعہ حد تواتر کو پہنچا ہوا ہے ۔ ۳۸ وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِی الْاٴَرْضِ وَلاَطَائِرٍ یَطِیرُ بِجَنَاحَیْہِ إِلاَّ اٴُمَمٌ اٴَمْثَالُکُمْ مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتَابِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ إِلَی رَبِّھِمْ یُحْشَرُونَ ۔ ترجمہ ۳۸۔ کوئی زمین میں چلنے والا جانور اور کوئی دو پروں سے اڑنے والا پرندہ نہیں ہے مگر یہ کہ وہ تمھاری طرح کی امت ہے، ہم نے کسی چیز کو اس کتاب میں فروگذاشت نہیں کیا ہے پھر وہ سب کے سب اپنے پروردگار کی طرف محشور ہوں گے ۔ ۱۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ: اگر ہم ان کے پاس فرشتے نھی نازل کرتے اور مردے بھی ان سے باتیں کرنے لگتے اور تمام چیزوں کو گروہ در گروہ ان کے پاس لا کھڑا کرتے تو یہ ایمان لانے والے نہ تھے ۔مترجم۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:37
کیوں کہ یہ آیت وسیع مباحث اپنے پیچھے رکھتی ہے
کیوں کہ یہ آیت وسیع مباحث اپنے پیچھے رکھتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ پہلے آیت کے الفاظ معنی اور پھر اس کے اجمالی تفسیر ذکر کرکے، پھر باقی مباحث کو بیان کرے ۔ ”دابة“”دیبب “کے مادہ سے آہستہ چلنے اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے کے معنی میں ہے عام طور پر زمین پر چلنے والے سب جانوروں کو ”دابة“کہا جاتا ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ سخن چین اور چغل خور کو ”دیبوب“ کہاجاتا ہے اور حدیث وارد ہوا ہے ۔ ”لا یدخل الجنة دیبوب“۔ کبھی چغل خور جنت میں نہیں جائے گا ۔ یہ بھی اسی لحاظ سے ہے کہ وہ آہستہ آہستہ دوافراد کے درمیان آمدورفت کرتا ہے تاکہ انھیں ایک دوسرے سے بد بین اور بدظن کردے ۔ ”طائر“ ہر قسم کے پرندے کو کہا جاتا ہے، البتہ چونکہ بعض موقع پر ایسے امور معنوی وروحانی پر بھی جو پیشرفت اور پرواز رکھتے ہیں ، یہ لفظ بولا جاتا ہے ، لہٰذا زیر بحث اس آیت میں اس لحاظ سے کہ نگاہ صرف پرندوں پر مرکوز رہے (یطیر بجناحیہ) یعنی اپنے دوپروں کے ساتھ اڑتا ہے، کے جملہ کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ ”امم“ جمع ہے ”امت“ کی اور امت کا معنی ہے ”وہ جماعت جو ایک قدر مشترک رکھتی ہو“ مثلا ان کا دین ایک ہو یا زبان ایک ہو یا صفات اور افعال ایک جیسے ہوں ۔ ”یحشرون “”حشر“ کے مادہ سے جمع کرنے کے معنی میں ہے لیکن قرآن میں عام طور پر روزقیامت کے اجتماع پر یہ لفظ بولا جاتا ہے خصوصا جب اس کے ساتھ ”الی ربھم“ کا ضمیمہ ہو ۔ گذشتہ آیات مشرکین کے بارے میں بحث کر رہی تھی اور انھیں اس انجام کی طرف جو انھیں قیامت میں پیش آئے گا متوجہ کررہی تھی، اب یہ آیت تمام زندہ موجودات اور تمام قسم کے حیوانات کے عام حشر ونشر اور قیامت میں اٹھنے کا بیان کر رہی ہے ، پہلے فرمایا گیا ہے: کوئی زمین پر چلنے والا جانور نہیں اور کوئی دوپروں سے اڑنے والاپرندہ نہیں مگر یہ کہ وہ بھی تمھاری طرح کی امت ہے( وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِی الْاٴَرْضِ وَلاَطَائِرٍ یَطِیرُ بِجَنَاحَیْہِ إِلاَّ اٴُمَمٌ اٴَمْثَالُکُمْ) ۔ اور اس طرح سے تمام قسم کے جانور اور ہر قسم کے پرندے انسانوں کی طرح اپنے لئے ایک امت ہے لیکن یہ کہ یہ ایک جیسا ہونا اور یہ شباہت کس جہت سے ہے، اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ۔ بعض ان کی انسانوں نے شباہت خلقت کے تعجب خیز اسرار کی جہت سے سمجھتے ہیں کیوں کہ دونوں ہی خالق آفریدگار کی عظمت کی نشانیاں اپنے ساتھ لئے ہوئے ہیں ۔بعض سمجھتے ہیں کہ یہ شباہت زندگی کی مختلف ضروریات کہ جہت سے ہے یا ان وسائل کے لحاظ سے کہ جن کے ذریعے وہ اپنی طرح طرح کی حاجتوں کو پورا کرتے ہیں ۔ جب کہ کچھ دوسرے لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ ان کی انسان کے کے ساتھ شباہت سے مراد ادراک اور فہم وشعور میں شباہت ے، یعنی وہ بھی اپنے عالم میں علم ،شعور اور ادراک رکھتے ہیں وہ خدا کی معرفت رکھتے ہیں اور اپنی توانائی کے مطابق اس کی تسبیح وتقدیس کرتے ہیں اگر چہ ان کی فکر، انسانی فکر وفہم سے بہت نچلی سطح پر ہے اور جیسا کہ آگے چل کر بیان ہوگا، آیت کا ذیل آخری نظریہ کو تقویت دیتا ہے ۔ پھر بعد کے جملے میں ہے: ہم نے کتاب میں کسی چیز کو فروگذاشت نہیں کیا ہے( مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتَابِ مِنْ شَیْءٍ) ۔ ممکن ہے کہ ”کتاب “ سے مرادقرآن مجید ہو کہ تم تمام چیزیں(یعنی وہ تمام امور کہ جو انسان کی تربیت و ہدایت اور تکامل وارتقاء سے مربوط ہیں) اس میں موجود ہیں، البتہ بعض اوقات کلی صورت میں بیان ہوئے ہیں جیسے ہر قسم کے علم ودانش کی طرف دعوت اور بعض اوقات جزئےات کو بھی بیان کیا گیا ہے، جیسے بہت سے احکام اسلامی اور مسائل اخلاقی۔ دوسرا احتما ل یہ ہے کہ ” کتاب“ سے مراد ”عالم ہستی“ ہو کیوں کہ عالم آفرینش ایک عظیم کتاب کی مانند ہے کہ جس میں تمام چیزیں آگئی ہیں اور کوئی چیز اس میں فروگذار نہیں ہوئی ۔ اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ آیت میں دونوں تفاسیر ہی مراد ہوں کیوں کہ نہ تو قرآن میں مسائل تربیتی فروگذار ہوئے ہیں اور نہ ہی عالم آفرینش وخلقت میں کوئی نقص ،کمی اور کسر رہ گئی ہے ہے ۔ اور اس آیت کے آخر میں ہے: وہ تام خدا کی طرف قیامت میں جمع ہوں گے( ثُمَّ إِلَی رَبِّھِمْ یُحْشَرُون) ۔ ظاہر یہ ہے کہ ” ھم “کی ضمیر اس جملے میں تمام چلنے والے جانوروں اور پرندوں کی تمام اصناف اور انواع واقسام کی طرف لوٹتی ہے اور اس طرح سے قرآن ان کے لئے بھی قیامت میں محشور ہونے کا قائل ہوا ہے اور زیادہ تر مفسرین نے اسی مطلب کو قبول کیا ہے کہ تما م قسم کے جاندار اور حشر ونشر اور جزا وسزارکھتے ہیں، صرف بعض اس کے منکر ہوئے ہیں اور انھوں نے اس ٓیت کی اور دوسری آیت کی ایک اور طرح توجیہ کی ہے، مثلا انھوں نے کہا ہے کہ ”حشرالی اللّٰہ“ سے مراد زندگی کا ختم ہونا اورماوت ہے(۱) ۔ لیکن جیسا کہ ہم اشارہ کرچکے ہیں قرآن مجید میں اس تعبیر کا ظاہر وہی قیامت میں حشر ونشر کا ہونا اور دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جانا ہے، اس بنا پر آیت مشرکین کو آگاہ کررہی ہے کہ وہ خدا کہ جس نے تمام قسم کے جانوروں کو پیدا کیا ہے ، ان کی ضروریات کو مہیا کیا اور ان کے تمام افعال کا نگران ہے اور ان سب کے لئے اس نے حشر ونشر قرار دیا ہے کیسے ممکن ہے کہ وہ تمھارے لئے حشرونشر قرار نہ دے اور بعض مشرکین کے قول کے مطابق دنیاوی زندگی اور اس کی حیات و موت کے سوا اور کچھ بھی نہ ہو ۔ ۱۔ یہ احتمال المنار کے مولف نے ابن عباس سے نقل کیا ہے ۔