وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَن تَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الْأَرْضِ أَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاءِ فَتَأْتِيَهُم بِآيَةٍ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَى فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْجَاهِلِينَ
And should their aversion be hard on you, find, if you can, a tunnel into the ground, or a ladder into sky, that you may bring them a sign. Had Allah wished, He would have brought them together on guidance. So do not be one of the ignorant.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 6:35
[Pooya/Ali Commentary 6:35] The Holy Prophet, as the "mercy unto the worlds", sincerely wanted to save all the people from the degradation of polytheism. There were many signs of a divine mission in the Holy Prophet's life and in the message he delivered. If so many signs and evidences had failed to convince the believers, no sign, miracle or wonder would carry conviction to those ignorant dissenters. The followers of the Holy Prophet, to whom the persistent aversion of the polytheists seemed unyielding and vengeful, have been addressed here through the Holy Prophet. Allah's plan is that only those shall find guidance who would seek it.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:35-36
زندہ نما مردے
زندہ نما مردے یہ دونوں آیات ان آیات کا بقیہ ہیں جو پیغمبر کو تسلی کے سلسلے میں گذشتہ آیات میں گزرچکی ہیں، چونکہ فکر وروح پیغمبر مشرکین کی گمراہی اور ہٹ دھرمی سے زیادہ دکھی اور پریشان تھی اور آپ چاہتے تھے کہ جیسے بھی ہو سکے انھیں مومنین کی صف میں کھینچ لائیں، خدا فرماتا ہے: اگر ان کا اعراض گردانی تیرے لئے زیادہ سخت اور گراں ہے تو اگر تم سے ہو سکے تو زمین کو پھاڑ ڈالو اور اس میں نقب لگالو اور جستجو کرو، یا آسمان پر کوئی سیڑھی لگالو اور اطراف آسمان کی بھی جستجو کرو اور ان کے لئے کوئی اور آیت یا کوئی دوسری نشانی تلاش کرکے لاسکو تو لے آؤ لیکن یہ جان لو کہ وہ اس قدر ہٹ دھرم ہیں کہ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے( وَإِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْکَ إِعْرَاضُھُمْ فَإِنْ اسْتَطَعْتَ اٴَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاٴَرْضِ اٴَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَاءِ فَتَاٴْتِیَھُمْ بِآیَةٍ)(۱) ”نفق“ اصل میں نقب اور زمین کے نیچے کے راستوں کے معنی میں اور اگر منافق کو منافق کہاجاتا ہے تو وہ بھی اسی مناسبت کی وجہ ہے و کہ وہ ظاہری راہ وروشن کے علاوہ اپنے لئے ایک مخفی راہ وروش بھی رکھتا ہے اور ”سلم“ سیڑھی کے معنی میں ہے ۔ خدا وند عالم اس جملہ کے ذریعہ اپنے پیغمبر کو سمجھا رہا ہے کہ تمھاری تعلیمات ،دعوت اور سعی وکوشش میں کسی قسم کا نقص نہیں ہے بلکہ نقص وعیب ان کی طرف سے ہے انھوں نے یہ پختہ ارادہ کررکھا ہے کہ وہ حق کو قبول نہیں کریں گے ، لہٰذا کسی قسم کی کوئی کوشش ان پر اثر نہیں کرتی تو تن پریشان نہ ہوجاؤ۔ لیکن اس بنا پر کہ کسی کو یہ تو ہم نہ ہوجائے ہ خدا میں یہ قدرت نہیں ہے کہ وہ ان سے اپنی بات کو تسلیم کراسکے بلا فاصلہ فرما تا ہے : اگر خدا چاہے تو وہ ان سب کو ہدایت پر جمع کرسکتا ہے، یعنی وہ تیری دعوت کے سامنے ان کا سرتسلیم کراکے انھیں حق اور ایمان کا اعتراف کرانے پر آمادہ کر سکتا ہے (وَلَوْ شَاءَ اللّٰہُ لَجَمَعَھُمْ عَلَی الْھُدَی ) ۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس قسم کا جبری ایمان بے فائدہ ہے، انسان کی فطرت میں حصول کمال کے لئے اختیار اورآزادی ٴ ارادہ، ہی بنیاد ہوتے ہیں، یہ آزادی ارادہ ہی ہے کہ جس کی وجہ سے مومن کی کافر سے ،نیک کی بد سے ، امانتدار کی خائن سے، سچ کی جھوٹے سے قیمت پہچانی جاتی ہے، ورنہ جبری ایمان وتقوی سے اچھے اور برے کے درمیان کسی قسم کا فرق باقی نہیں رہے گا اور یہ مفاہیم جبر کی صورت میں اپنی قدروقیمت بالکل کھو بیٹھتے ہیں ۔ اس کے بعدہے : یہ بات ہم نے تجھ سے اس لئے کہی ہے کہ کہیں تو جاہلوں میں سے نہ ہوجائے ، یعنی بیتاب نہ ہو، صبر واستقامت کو ہاتھ سے نہ دے اور ان کے کفر وشرک پر اتنا دکھی نہ ہو ،اور یہ جان لو کہ راستہ تو وہی ہے کہ جس پر تم چل رہے ہو(فَلاَتَکُونَنَّ مِنْ الْجَاھِلِینَ ) ۔ اس میں شک نہیں ہے کہ پیغمبر ان حقائق کو خوب اچھی طرح جانتے تھے لیکن خدا وند تعالیٰ یاددہانی اور تسلی کے طور پر اپنے پیغمبر کے لئے ان الفاظ کو دہرارہا ہے ، اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کہ ہم کسی ایسے شخص کو جس کا بیٹا مرگیا ہو یوں کہتے ہیں کہ: غم نہ کھاؤ، دنیا فنا کی جگہ ہے، سبھی اسی دنیا سے رخصت ہوجائیں گے، اس کے علاوہ تم تو ابھی جوان ہو ، تمھاری اور بھی اولاد ہوجائے گی، لہٰذا زیادہ بیتاب نہ ہو ۔ مسلمہ طور پر دار دنیا کا فانی ہونا ، یا اس کا جوان ہونا کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جو اس پر پوشیدہ ہو، یہ تمام باتیں اس سے صرف یاددہانی کے طور پر کہی جاتی ہے ۔ باوجود اس کے کہ اوپر والی آیت جبر کی نفی کرنے والی دلیلوں میں سے ایک دلیل ہے، بعض مفسرین جیسے فخرالدین رازی نے اسے مسلک جبر کی دلیلوں میں سے ایک دلیل سمجھا ہےاور وہ لفظ (ولو شاء ---) کا سہارا لیتے ہوئے کہتا ہے: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نہیں چاہتا ہے کہ کفار ایمان لائیں ۔ (حالانکہ وہ اس سے ) غافل ہیں کہ مشیت وارادہ اوپر والی آیت میں مشیت وارادہٴ اجباری ہے یعنی خدا یہ نہیں چاہتا کہ لوگ جبر سے اور زبردستی ایمان لائیں بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنی رضا ورغبت اور اپنے ارادہ سے باخوشی ایمان لائیں، اس بنا پر یہ آیت جبریوں کے عقیدہ کی نفی پر واضح گواہ ہے ۔ بعد والی آیت میں اس موضوع کی تکمیل اور پیغمبر کی مزید دلجوئی اور تسلی کے لئے کہتا ہے کہ جوط لوگ سننے والے کان رکھتے ہیںوہ تیری دعوت کو قبل کرتے ہیں او اس پر لبیک کہتے ہیں( إِنَّمَا یَسْتَجِیبُ الَّذِینَ یَسْمَعُونَ) لیکن وہ لوگ جو عملا مردوں کی صف میںشامل ہیں وہ ایمان نہیں لاتے یہاں تک کہ وہ خدا انھیں قیامت کے دن اٹھائے اور وہ اس کی بارگاہ میں لوٹیں ( وَالْمَوْتَی یَبْعَثُھُمْ اللّٰہُ ثُمَّ إِلَیْہِ یُرْجَعُونَ )(2) وہ ایسا دن ہے کہ قیامت کے مناظر دیکھ کر وہ ایمان لے آئیں گے لیکن ان کا اس وقت ایمان لانا انھیں کویہ فائدہ نہ دے گا کیوں کہ یہ عظیم منظر دیکھ کر جو لوگ ایامن لائیں گے ان کا یہ ایمان ایک قسم کا اضطرابی ایمان ہوگا ۔ شاید اس بات کی وضاحت کرنے کی کوئی ضرورت نہ ہو ”موتی“ (مردے) سے مراد اوپو والی آیت میں جسمانی طور پر مردے نہیں ہیں بلکہ اس سے مراد باطنی ومعنوی مردے ہیں کیوں کہ ہم دو قسم کی موت وحیات رکھتے ہیں، ایک حیات وموت مادی اور دوسری موت وحیات معنوی ، اسی طرح شنوائی اور بینائی بھی دو قسم کی ہیں ایک مادی اور دوسری معنوی، اسی دلیل سے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم ایسے اشخاص کے بارے میں کہ جو آنکھیں بھی رکھتے ہیں ،کان بھی رکھتے ہیں یا زندہ وسالم تو ہیں لیکن وہ حقائق کو نہیں سمجھتے، کہتے ہیں کہ وہ اندھے بہرے ہیں یا بالکل مردہ ہیں، کیوںکہ جو ردعمل ایک بینا و شنوا یا ایک زندہ انسان سے ہونا چاہئےے وہ حقائق کے سامنے نہیں دکھاتے، قرآن مجید میں ایسی تعبےرات کثرت سے نظر آتی ہے اور ان میں ایک خاص کشش پائی جاتی ہے بلکہ قرآن حیات مادی اور ظاہری زندگی کو، جس کی نشانی صرف کھانا، سونا اور سانس لینا ہے، کچھ اہمیت نہیں وہ ہمیشہ حیات معنوی وانسانی پر جو ذمہ داری وجوابدہی اور احساس ودرد اور بیداری وآگاہی کے ساتھ ملی ہوئی ہو، انحصار کرتا ہے ۔ اس نکتہ کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ بینائی وشنوائی اور معنوی موت خود ان کی اپنی وجہ سے ہے، وہ خود ہی وہ لوگ ہیں کہ جو بار بار گناہ کرنے اور اس پر اصرار اور ہٹ دھرمی کرنے کے سبب سے اس مرحلہ تک پہنچ جاتے ہیں کیوں کہ بالکل اسی طرح سے ہے جیسا کہ اگر کوئی انسان ایک مدت تک اپنی آنکھ کو بند کئے رکھے تو وہ آہستہ آہستہ اپنی بینائی اور نظر کو گوا بیٹھے گا اور شاید ایک روز بالکل اندھا ہوجائے، جو اشخاص اپنے دل کی آنکھوں کو حقائق کی طرف سے بند کرلے تو وہ تدریجا اپنی معنوی بصارت کی قوت کوزائل کردے گا ۔ ۳۷ وَقَالُوا لَوْلاَنُزِّلَ عَلَیْہِ آیَةٌ مِنْ رَبِّہِ قُلْ إِنَّ اللّٰہَ قَادِرٌ عَلَی اٴَنْ یُنَزِّلَ آیَةً وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَھُمْ لاَیَعْلَمُون۔ ترجمہ ۳۷۔ اور انھوں نے کہا کہ کوئی نشانی( اور معجزہ) اس کے پروردگار کی طرف سے اس پر کیوں نازل نہیں ہوتا، تم کہہ دو کہ خدا وند تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ کوئی نشانی نازل کرے لیکن ان میں سے اکثر کو اس کا علم نہیں ہے ۔ ۱۔حقیقت میں”ان استطعت “ کا جملہ شرطیہ ہے اور اس کی جزا محذوف ہے اور اس کی تقدیر اس طرح ہے”ان استطعت ---فافعل ولٰکِنَّہم لایومنون“۔ 2۔ ترکیب کی نظر سے ”الموتی“ مبتدا ہے اور ”یبعثھم اللّٰہ“ اس کی خبر ہے اور یہ جو کہتا ہے کہ وہ مردوں کو مبعوث کرے گا اس کا مفہوم یہ ہے کہ کسی قسم کی تبدیلی ان کے حالات میں پیدا نہیں ہوگی سوائے اس کے کہ وہ قیامت میں مبعوث ہوں گے اور حقائق کو دیکھیں گے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:35-36
بہانہ جوئی
اس آیت میں مشرکین کی بہانہ جوئی میں سے ایک بہانہ جوئی بیان کیا گیا ہے، جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے کہ جب سرداران قریش میں سے کچھ قرآن کا مقابلہ کرنے سے عاجز آگئے تو پیغمبر سے کہنے لگے کہ ان باتوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے اگر تم سچ کہتے ہو تو عصا ئے موسیٰ(علیه السلام) اور ناقہ صالح(علیه السلام) جیسے معجزات ہمارے لئے لے آؤ، قرآن اس بارے میں کہتا ہے کہ انھوں نے کہا کہ کوئی نشانی اور معجزہ اس کے پرور دگار کی طرف سے اس پر کیوں نازل نہیں ہوا( وَقَالُوا لَوْلاَنُزِّلَ عَلَیْہِ آیَةٌ مِنْ رَبِّہ) ۔ یہ بات واضح ہے کہ وہ یہ تجویز حقیقت کی تلاش کے لئے پیش نہیں کرتے تھے کیوں کہ پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم ان کے لئے کافی مقدار میں معجزات لاچکے تھے اور اگر قرآن کے علاوہ جو مضامین عالیہ پر مشتمل ہیں، آپ کے پاس کوئی معجزہ نہ بھی ہوتا تو وہی قرآن جو انھیں کئی آیات میں باقاعدہ مقابلے کی دعوت دے چکا تھا اور اصطلاح کے مطابق انھیں چیلینج کرچکا تھا، وہی آپ کی نبوت کے اثبات کے لئے کا فی تھا لیکن یہ ابوالہوس بہانہ جو ایک طرف سے یہ چاہتے تھے کہ کہ قرآن کی تحقیر کریں اور دوسری طرف سے پیغمبر کی دعوت قبول کرنے سے روگردانہ کرے، لہٰذا پے درپے نئے سے نئے معجزہ کی درخواست کرتے تھے اور مسلمہ طور پر اگر پیغمبر ان کی درخواست کو تسلیم بھی کرلیتے تو ”ھذا سحر مبین“ کہہ کر سب ان کا انکار کردیتے، جیسا کہ قرآن کی دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے ۔ لہٰذا قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے: خداوند تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ کوئی ایسی نشانی اور معجزہ (کہ جس کا تم مطالبہ کررہے ہو) اپنے پیغمبر پر نازل کرے(ِ قُلْ إِنَّ اللّٰہَ قَادِرٌ عَلَی اٴَنْ یُنَزِّلَ آیَةً )لیکن اس میں ایک ایسا اشکال ہے جس سے تم بے خبر ہو اور وہ یہ ہے کہ اگر اس قسم کے تقاضوں پر جو تم ہٹ دھرمی کی بنا پر کرتے ہو تمھاری بات مان لی جائے اور تم پھر بھی ایمان نہ لاؤ تو تم سب کے سب خداوند تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوکر نابود ہوجاؤ گے ، کیوں کہ پروردگار عالم کی بارگاہ اقدس میں اور اس کے بھیجے ہوئے رسول اور اس کی آیات ومعجزات کی انتہائی بے حرمتی ہے لہٰذا آیت کے آخر میں فرما تا ہے: لیکن ان میں سے اکثر جانتے نہیں ہیں(وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَھُمْ لاَیَعْلَمُون) ۔