وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
Were you to see when they are brought to a halt by the Fire, whereupon they will say, ‘If only we were sent back [into the world]! Then we will not deny the signs of our Lord, and we will be among the faithful!’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 6:27
[Pooya/Ali Commentary 6:27] Their falsity was not due to want of knowledge, but on account of perversity and selfishness. In their hearts was a disease (al Baqarah : 10), therefore neither their understanding, nor their ears, nor their eyes do the proper work. They twist what they see, hear, or are taught, and go deeper and deeper into the mire. The deceptions which they used to practise on their people will, on the day of reckoning, become clear to their own eyes. Every soul reveals its inherent nature in whatever form it assumes.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:27-28
وقتی اور بے اثر بیداری
وقتی اور بے اثر بیداری گذشتہ دو آیات میں مشرکین کی ہٹ دھرمی کے کچھ اعمال کی طرف اشارہ ہوا تھا اور وہ ان دو آیات میں ان کے اعمال کے نتائج کا منظر مجسم ہوا ہے تاکہ وہ دیکھ لیں کہ انھیں کیسا برا انجام درپیش ہے اور وہ بیدار ہوجائےں یا کم از ک ان کی کیفیت دوسروں کے لئے باعث عبرت۔ پہلے فرمایا گیاہے: اگر تم ان کی حالت جب وہ قیامت کے دن جہنم کی آگ کے سامنے کھڑے ہوں گے، دیکھو، تو تم تصدیق کرو گے کہ وہ کس دردناک انجام وعاقبت میں گرفتار ہوئے ہیں ( وَلَوْ تَرَی إِذْ وُقِفُوا عَلَی النَّارِ---)(۱) ۔ وہ اس حالت سے اس طرح منقلب ہوں گے کہ دادوفریاد کریں گے کاش اس سرنوشت شوم سے نجات اور برے کاموں کی تلافی کے لئے دوبارہ دنیا میں پلٹ جاتے، اور وہاں آیات خدا کی تکذیب نہ کرتے اور مومنین کی صف میں قرار پاتے( فَقَالُوا یَالَیْتَنَا نُرَدُّ وَلاَنُکَذِّبَ بِآیَاتِ رَبِّنَا وَنَکُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ)(۲) بعد والی آیت میں کہا گیا ہے کہ یہ جھوٹی آرزو ہے بلکہ یہ اس بنا پر ہے کہ اس دنیا میں جو عقائد ،نیتیں اور اعمال انھوں نے چھپا رکھے تھے وہ سب ان کے سامنے آشکار ہوگئے ہیں اور وہ وقتی طور پر بیدار ہوئے ہیں ( بَلْ بَدَا لھُمْ مَا کَانُوا یُخْفُونَ مِنْ قَبْل) ۔ لیکن یہ پائیدار اور محکم اور بیداری نہیں ہے، اور مخصوص حالات میں پیدا ہوئی ہے لہٰذا اگر بغرض محال وہ دوبارہ اس جہاں می پلٹ بھی جائیں تو انھیں کاموں کے پیچھے لپکے گے جن سے انھیں روکا گیا ہے( وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُھُوا عَنْہُ) ۔ اس بنا پر وہ اپنی آرزو اورمدعا میں سچے نہیں ہیں اور وہ جھوٹ بولتے ہیں ( وَإِنَّھُمْ لَکَاذِبُونَ) ۔ ۱۔اس بنا پر ”لو“ بمعنی شرط ہے اور اس کی جزاو وضاحت کی وجہ سے محذوف ہے ۔ ۲۔اہم نکتہ کہ جس کی طرف توجہ کرنا چاہئے کہ ”مشہور قرائت کے مطابق جو دسترس میں ہے“ ”نرد“ رفع کے ساتھ اور ”لانکذب“ اور ”نکون“ نصب کے ساتھ پڑھا گیا ہے، حالانکہ ظاہرا ایک دوسرے پر معطوف ہیں لہٰذا تمام کو ایک جیسا ہونا چاہےے، اس کی بہترین توجیہ یہ ہے کہ ”نرد“ جزاء تمنی ہے اور ”لانکذب“ حقیقت میں اس کا جواب ہے اور ”واو “ یہاں منزلہٴ ”فاء “ کے ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ تمنی کا جواب جب ”فاء“ کے بعد ہو تو منصب ہوتا ہے، فخرالدین رازی،مرحوم طبرسی، اور ابوالفتوح رازی جیسے مفسرین نے اس کی اور وجوہ بھی ذکر کی ہیں، لیکن جو کچھ یہاں بیان کیا گیا ہے وہ سب سے زیادہ واضح ہے اس بنا پر آیت سورہٴ ”زمر“ کی آیہٴ ۵۸ کے مثابہ ہے جو ااس طرح ہے: لو ان لی کرة فاکون من المحسنین“۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:27-28
چند اہم نکات
۱۔ ”بدالہم“(ان کے لئے آشکار ہوا) سے ظاہرا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ حقائق کے ایک سلسلہ کو نہ صرف لوگوں سے بلکہ خود اپنے آپ سے بھی مخفی رکھتے تھے جو قیامت کے دن ان پر آشکار ہوجائیں گے اور یہ مقام تعجب نہیں ہے کہ انسان کسی حقیقت کو خود اپنے آپ تک سے بھی مخفی رکھے اور اپنے وجدان اور فطرت پر پردہ ڈال دے تاکہ وہ جھوٹا اطمینان حاصل کرے ۔ وجدان کو فریب دینے کا مسئلہ اور حقائق کو اپنے آپ سے چھپانا اہم مسائل میں سے ہے کہ جس پر وجدان کی فعالیت سے مربوط بحثوں میں خصوصی غور وفکر کیا گیا ہے، مثلا ہم بہت سے ہوس پرست افراد کو دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے ہوس آلود اعمال کے شدید نقصان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں لیکن اس سبب سے کہ راحت کے خیال سے اپنے اعمال کو جاری رکھیں یہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح اس آگاہی کو اپنے اندر ہی چھپائیں رکھیں ۔ لیکن بہت سے مفسرین نے لفظ ”لہم“ کی تعبیر کی طرف کےے بغیر آیت کی اس طرح تفسیر کی ہے کہ وہ ایسے اعمال پر منطبق ہو کہ جنھیں وہ لوگوں سے مخفی رکھتے تھے (غور کیجیے) ۔ ۲۔ ممکن ہے کہا جائے کہ آرزو کرنا کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جس میں جھوٹ یا سچ ہو اور وہ اصطلاح میں ”انشاء“ کی ایک قسم اور ”انشاء“ میں جھوٹ یا سچ کا وجود ہی نہیں ہوتا لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے کیوںکہ بہت سے”انشاء “ ایسے ہوتے ہیں جن کے ساتھ کسی خبر کا مفہوم بھی موجود ہوتا ہے، جن میں صدق یا کذب کی گنجائش ہوتی ہے مثلا بعض اوقات پر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میری تمنا یہ ہے کہ خدا مجھے بہت سا مال دے تو میں تمھاری مدد کروں ، یہ ایک آرزو ہے ، لیکن اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر خدا مجھے ایسا مال دیدے تو مجھے میں تمھاری مدد کروں گا اور یہ ایک خبری مفہوم ہے، جو ہوسکتا ہے جھوٹا ہو، لہٰذا مد مقابل جو اس کی بخل اور تنگ نظری سے آگاہ ہے کہتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، اگر خدا تجھے دے بھی دے تو پھر بھی تو ہرگزایسا نہیں کرے گا(ایسی صورت بہت سے انشائی جملوں میں نظر آتی ہے) ۔ ۳۔ یہ جو ہم آیت میں پڑھتے ہیں کہ اگر وہ دنیا کی طرف پلٹ جائیں تو دوبارہ وہی کام کرنے لگے گے، یہ اس بنا پر ہے کہ بہت سے لوگ جس وقت اپنی آنکھ سے اپنے اعمال کے نتائج دیکھتے ہیں ،یعنی مرحلہ شھود کو پہنچ جاتے ہیں تو وہ وقتی طور پر پریشان اور پشیمان ہوکر یہ آرزو کرتے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی طرح اپنے اعمال کی تلافی کرسیکں، لیکن یہ ندامت اور پشیمانیاں جو اسی حال شھود اور اعمال کا نتیجہ دیکھنے سے مربوط ہے، ناپائیدارہوتی ہے جو تما لوگوں میں عینی سزاؤں کا سامنا کرتے وقت پیدا ہوتی رہتی ہے لیکن جب مشاہدات عینی برطرف ہوجاتے ہیں تو یہ خاصیت بھی زائل ہوجاتی ہے اور سابقہ کیفیت پلٹ آتی ہے ۔ انھیں بت پرستوں کی طرح کہ جو سمندر کے سخت طوفانوں میں گرفتارہونے پر اور خود کو موت اور فنا کے منہ میں جاتے ہوئے دیکھ کر خدا کے سوا تمام چیزیں بھوکل جاتے ہیں لیکن جو نہی طوفان رکتا ہے اور وہ امن وامان کے مسائل تک پہنچ جاتے ہیں تو پھر تمام چیزیں اپنی جگہ پلٹ آتی ہیں(1) ۔ ۴۔ اس بات پر بھی توجہ رکھنا چاہئے کہ مذکورہ بالا حالات بت پرستوں کی ایک خاص جماعت کے ساتھ مخصوص ہے کہ جن کی طرف گذشتہ آیات میں اشارہ ہو چکا ہے، یہ نہیں کہ سب بت پرست ایسے تھے، لہٰذا پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم اس بات پر مامور تھے کہ باقی تمام کو پند ونصیحت کریں، انھیں بیدار کریں اور ہدایت کریں ۔ ۲۹ وَقَالُوا إِنْ ھِیَ إِلاَّ حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِینَ۔ ۳۰ وَلَوْ تَرَی إِذْ وُقِفُوا عَلَی رَبِّھِمْ قَالَ اٴَلَیْسَ ھَذَا بِالْحَقِّ قَالُوا بَلَی وَرَبِّنَا قَالَ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنتُمْ تَکْفُرُونَ۔ ۳۱ قَدْ خَسِرَ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِلِقَاءِ اللّٰہِ حَتَّی إِذَا جَائَتْھُمْ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوا یَاحَسْرَتَنَا عَلَی مَا فَرَّطْنَا فِیھَا وَھُمْ یَحْمِلُونَ اٴَوْزَارَھُمْ عَلَی ظُھُورِھِمْ اٴَلاَسَاءَ مَا یَزِرُونَ۔ ۳۲ وَمَا الْحَیَاةُ الدُّنْیَا إِلاَّ لَعِبٌ وَلَھْوٌ وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَیْرٌ لِلَّذِینَ یَتَّقُونَ اٴَفَلاَتَعْقِلُونَ۔ ترجمہ ۲۹۔ انھوں نے کہا : اس دنیاوی زندگی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے اور ہم ہرگز دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے نہیں جائیں گے ۔ ۳۰۔اگر تم انہیں اس وقت دیکھو جب وہ اپنے پروردگار (کی عدالت)کے سامنے کھڑے ہوں گے تو انھیں کہا جائے گا:کیا یہ حق نہیں ہے-؟تو وہ اس کے جواب میں کہیں گے:جی ہاں،ہمارے پروردگار کی قسم(یہ حق ہے)،تو وہ کہے گا:جس بات کا تم انکار کیا کرتے تھے اس کی سزا میں اب عذاب کا مزہ چکھو ۔ ۳۱۔جنھوںنے لقائے پروردگار کا انکار کیامسلمہ طور پر انہوںنے نقصان اٹھایا(اور یہ انکار ہمیشہ رہے گا)یہاں تک کہ قیامت آجائے گی تو وہ کہیں گے ہائے افسوس کہ ہم نے اس کے بارے میںکوتاہی کی،وہ اپنے گناہوںکا(بھاری بوجھ)اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوں گے اور کیسا برُا بوجھ ہے جو انھوںنے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہوگا ۔ ۳۲۔ اور دنیاوی زندگی سوائے کھیل کود کے اور کچھ نہیں ہے اور آخرت کا گھر اُن لوگوں کے لیے بہتر ہے جو پرہیزگار ہیں،کیا تم سوچتے نہیں ہو ۔ 1۔ یونس، ۲۲-