قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
Say, ‘I do not find in what has been revealed to me that anyone be forbidden to eat anything except carrion or spilt blood, or the flesh of swine—for that is indeed unclean—or an impiety offered to other than Allah.’ But should someone be compelled, without being rebellious or aggressive, indeed your Lord is all-forgiving, all-merciful.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 6:145
[Pooya/Ali Commentary 6:145] Please refer to the commentary of al Baqarah :173.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:145
بعض حرام جانوروں کا ذکر
بعد ازیں خداوندکریم،محرمات الٰہی کو ان بدعتوں سے الگ کرنے کے لئے جنھیں مشرکوں نے حقیقی قانون میں داخل کردیا تھا اس آیت میں پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ ان لوگوں سے صاف طور سے کہہ دیجئے، مجھ پر جو وحی ہوئی ہے اس میں کسی شخص (وہ عورت ہو یا مرد، چھوٹا ہو یا بڑا) کے لئے مجھے توکوئی غذا حرام قرار دی ہوئی نہیں ملتی (قُلْ لَااٴَجِدُ فِی مَا اٴُوحِیَ إِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلیٰ طَاعِمٍ یَطْعَمُہُ)۔ سوائے چند چیزوں کے، پہلی یہ کہ وہ مُردار ہو (إِلاَّ اٴَنْ یَکُونَ مَیْتَةً) یا وہ خون ہو جو کسی جاندار کے بدن سے نکلے (اٴَوْ دَمًا مَسْفُوحًا)اس سے وہ خون خارج ہے جو حیوان کی رگوں کو کاٹنے کے بعد اور خون کی بڑی مقدار بہہ جانے کے بعدگوشت کے اندر کی باریک رگوں میں رہ جاتا ہے۔ ”یا سُور کا کوشت“ (اٴَوْ لَحْمَ خِنزِیرٍ)۔ کیونکہ ”یہ سب نجاست اور گندگی ہے“ اور انسان کی صحیح وسالم طبیعت کو ناپسند ہے، طرح طرح کی آلائشوں کا سرچشمہ ہے اور مختلف طرح کے نقصانات کا سبب ہے (فَإِنَّہُ رِجْسٌ)۔ ”اِنَّہُ“کی ضمیر اگرچہ مفرد ہے لیکن بہت سے مفسّرین کے خیال کے طمابق یہ تینوں قسم کی نجاستوں (مُردار کو گوشت، خون، سُور کا گوشت) کی طرف پلٹی ہے اور اس جملہ کے معنی اس طرح ہی: ”یہ سب جو بیان کیا گیا گندگی ہے“(۱) اور آیت کے ظاہر س جو معنی مناسبت رکھتے ہیں وہ بھی یہی ہیں کہ ضمیر تینوں کی طرف پلٹے کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مُردار اور خون بھی سُور کے گوشت کی طرح پلید ہیں۔ اس کے بعد نجاست کی چوتھی قسم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: یا وہ حیوان جن پر ذبح کے وقت غیر خدا کا نام لیا گیا ہو: (اٴَوْ فِسْقًا اٴُھِلَّ لِغَیْرِ اللهِ بِہِ)۔(۲) یہ امر قابل توجہ ہے کہ بجائے لفظ ”حیوان“ کے لفظ ”فسق“ استعمال کیا گیا ہے جیسا کہ سابقاً بھی اشارہ ہوا ہے کہ ”فسق“ کے معنی ”راہ ورسم بندگی اور اطاعت فرمان الٰہی سے خارج ہونا“ لہٰذا ہر قسم کے گناہ کوفسق کہتے ہیں، لیکن ”رجس“ جس کا تذکرہ تین قسم کے حراموں کے سلسلہ میں ہوا، اس کے مقابلہ میں ”فسق“ کا ذکر ممکن ہے اس امر کی طرف اشارہ ہو کہ حرام گوشت اصولی حیثیت سے دوقسم کے ہیں: ایک تو اس قسم کے گوشت ہیں جن کی تحریم ان کی پلیدگی، تنفر طبع وجسمانی نقصانات کی وجہ سے عمل میں آئی ہے اور ان پر ”رجس“ کا اطلاق ہوا ہے، دوسرے وہ گوشت جونہ پلید ہیں، نہ حفظان صحت کی رُو سے زیاں بخش ہیں، لیکن اخلاقی ومعنوی حیثیت سے خدا سے یگانگی اور مکتب توحید سے دُوری سے اباعث ہیں اور اسی وجہ سے حرام قرار پائے ہیں۔ بنابریں یہ توقع نہیں رکھنا چاہیے کہ تمام حرام گوشت ہمیشہ زیاں بخش ہی ہوں گے بلکہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ معنوی یا اخلاقی قدر کی وجہ سے بھی چیز حرام ہوتی ہے، یہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبح اسلامی کے شرائط دو طرح کے ہیں: بعض میں مثلاً کہا گیا ہے ک چاروں رگیں کاٹی جائیں اور حیواں کا خون بہایا جائے، ایسے احکام میں حفظانِ صحت کا پہلو مضمر ہے اور بعض احکام مثلاً رُوبہ قبلہ کرنا، بسم الله کہنا اور ذبح کرنے والے کا مسلمان ہونا یہ سب معنوی حیثیت کے حامل ہیں۔ آخر آیت میں بھی ان لوگوں کے لئے حرمت سے استثناء ہوا ہے جو ناچار ومجبور ہوجائیں اور کوئی ایسی غذا ان کو نہ مل سکے جس سے اُن کی جان بچے تو ایسی صورت میں ون ان گوشتوں کو (بقدر ضرورت) اپنے استعمال میں لاسکتے ہیں، ارشاد ہوتا ہے: وہ لوگ جو بالکل مجبور ہوجائیں ان پر کوئی گناہ نہیں ہے لیکن شرط یہ ہے کہ صرف حفظ جان کے لئے ہو، لذّت کے لئے نہ ہو، اسے حلال سمجھتے ہوئے ن ہو اور نہ ضرورت سے زاند کھائیں، ان حالات میں خدائے غفور ورحیم ایسے افراد کو معاف کردے گا (فَمَنْ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَلَاعَادٍ فَإِنَّ رَبَّکَ غَفُورٌ رَحِیمٌ)۔(3) در حقیقت یہ دو شرطیں (حالت اضطرار کا ہونا اور حد سے تجاوز نہ کرنا) اس لئے ہیں کہ بعض افراد اضطرار کو قوانین الٰہی ہے توڑے کی سند نہ سمجھ بیٹھیں اور ضرورت کو بہانہ بناکر حکم خدا کے دائرے سے باہر نکلنے کی کوشش نہ کریں، لیکن اہل بیت طاہرین علیہم السلام سے بہ قول بعض روایات میں کچھ اور مفاہیم بھی ہیں جیسے تفسیر عیاشی میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے: ”الباغی الظالم والعادی الغاصب“ ”باغی سے مراد ظالم اور عادی سے مراد غاصب ہے“ نیز ایک دوسری روایت میں امام علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”الباغی الخارج علی الامام والعادی اللّص“ ”باغی سے وہ شخص مراد ہے جو امام عادل اور حکومت اسلامی کے خلاف خروج کرے اور عادی سے مراد چور ہے“ اسی طرح کی روایات سے اس امر کی طرف اشارہ منظور ہے کہ گوشت حرام کھانے کی مجبوری بالعموم سفر میں درپیش ہوتی ہے لہٰذا اگر کوئی شخص ظلم وستم یا غضب وچوری کے مقصد سے سفر کرے اور حلال غذا کمیاب ہوجائے تو ایسی صورت میں حرام گوشتوں کا کھانا اس لئے جائز نہیں ہوگا، اگرچہ اس کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنی جان بچانے کے لئے ان گوشتوں کو کام میں لائے لیکن اس گناہ کی سزا بھی اسے بھگتنا پڑے گی کیونکہ اس حرام سفر کے مقدمات کو اُس نے خود کو فراہم کیا ہے بہرحال یہ روایات مذکورہ آیت کے عمومی مفہوم سے بالکل ہم آہنگ ہے۔ ۱۔ در حقیقت کلمہ ”اِنَّہُ“ بہ معنی ”انما ذکر “ ہے ۔ ۲۔ ”اہل“ کی اصل ”اہلال“ ہے اور یہ ہلال سے لیا گیا ہے جس کے معنی روٴیت ہلال کے وقت صدا بلند کرنے کے ہیں اس کے بعد ہر صدائے بلند کو ہلال کہا جانے لگا، نیز نومولود کے رونے کی سب سے پہلی آواز کو ہلال کہتے ہیں، کفار جانور کوذبح کرتے چونکہ بہ آواز بلند بتوں کے نام لیتے تھے، اس لئے اسے بھی ”ہلال“ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ 3۔ ”باغ“ لفظ ”باغی“ کا مادہ ب”بغی“ ہے اس کا معنی ”طلب“ ہے اور ”عاد“ یا ”عادی“ کا مادہ ”عدو“ ہے اس کا معنی ”تجاوز“ ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:145
ایک سوال کا جواب
یہاں پر ایک سوال یہ در پیش ہوتا ہے کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ غذاؤں کے بارے میں تمامحرمات الٰہی چار اقسام میں منحصر ہوگئے ہیں جبکہ ہمیں علم ہے کہ حرام غذائیں انہی چار چیزوں میں منحصر نہیں ہیں، درندوں کا گوشت، دریائی جیوانات (چھلکے دار مچھلی کے علاوہ) کا گوشت اور اسی طرح کے دوسرے جرام جانوروں کا گوشت، یہ سب حرام ہیں لیکن آیہ مذکورہ میں ان میں سے کسی کا نام نہیں لیا گیا اور محرمات کو صرف چار چیزوں میں منحصر کردیا گیا ہے؟ بعض حضرات نے اس سوال کے جواب میں یہ کہا ہے کہ یہ آیت مکّہ میں اثری اور اس وقت تک دوسری چیزیں حرام نہیں ہوئی تھیں۔ یہ جواب صحیح نہیں معلوم ہوتا کیونکہ بعینہ یہی عبارت یا اس جیسی عبارتیں بعض مدنی سورتوں میں بھی ملتی ہیں جیسے بقرہ کی آیت ۱۷۳۔ بظاہر اس کا جواب اس طرح سے دیا جاسکتا ہے کہ اس آیت کی نظر صرف مشرکوں کے خرافاتی احکام پر ہے اور اصطلاحاًیوں کہنا چاہیے کہ یہاں پر ”حصر اضافی“ ہے۔ دوسرے لفظوں میں آیت کا مفہوم یہ ہے کہ محرمات الٰہی یہ چیزیں ہیں نہ کہ وہ جنھیں تم نے اپنی طرف سے گھڑلیا ہے۔ اس بات کی مزید توضیح کے لیے بے جا نہ ہوگا اگر ہم ایک مثال پیش کریں۔ وہ یہ کہ اگر کوئی ہم سے یہ سوال کرے کہ آیا حسن اور حسین دونوں آئے تھے؟ ہم جواب میں یہ کہیں گے: نہیں، صرف حسن آئے تھے، یہاں پر ہماری غرض صرف یہ ہے کہ دوسرے شخص (حسین) کے آنے کی نفی ہوجائے، اس سے کوئی بحث نہیں کہ دوسرے افراد جو سوال کے دائرے سے خارج تھے وہ آئے کہ نہیں۔ وہ چاہے آئے بھی ہوں تب بھی ہمارا مذکورہ جواب صحیح ہوگا ۔ اس طرح اضافی (یا نسبی) کہتے ہیں۔لیکن یہ ملحوظ رہے کہ ہر حصر عام طور سے حقیقی ہوتا ہے، الّا یہ کہ اس کے خلاف کوئی قرینہ موجود ہو جیسے زیر بحث آیت۔ ۱۴۶ وَعَلَی الَّذِینَ ھَادُوا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِی ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْھِمْ شُحُومَھُمَا إِلاَّ مَا حَمَلَتْ ظُھُورُھُمَا اٴَوْ الْحَوَایَا اٴَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذٰلِکَ جَزَیْنَاھُمْ بِبَغْیِھِمْ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ ۔ ۱۴۷ فَإِنْ کَذَّبُوکَ فَقُلْ رَبُّکُمْ ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةٍ وَلَایُرَدُّ بَاٴْسُہُ عَنْ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِینَ ۔ ترجمہ ۱۴۶۔ اور ہم نے یہودیوں پر ہر ناخن دار (حیوان جس کے کُھر بغیر شگاف کے ہوتے ہیں) کو حرام کیا اور گائے بھیڑ میں سے ان کی چکتی اور چربی کو حرام کیا، سوائے اس چربی کے جو اُن میں پیٹھ پر، یا آنتوں کے تہوں میں اور دونوں پہلووٴں میںہو یا وہ چربی جو ہڈیوں میں ملی ہوئی ہو، یہ حکم بطور سزا کے اس ظلم وستم کی وجہ سے تھا جو وہ کیا کرتے تھے اور ہم سچ کہتے ہیں۔ ۱۴۷ ۔ اگر یہ تیری تکذیب کریں (اور ان حقائق کو نہ مانیں) تو ان سے کہہ دو کہ تمھارا پروردگار بڑی رحمت والا ہے لیکن اس کے باوجود مجرموں سے اس کی سزا دُور ہونے والی نہیں (پلٹنے کا راستہ تمھارے لئے کھلا ہوا ہے اور وہ تمھیں فوراً سزا نہیں دیتا لیکن اگر اسی طرح اس کے احکام کی خلاف ورزیاں کرتے رہے تو تمھاری سزا حتمی ہے) تفسیر