أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نُهُوا عَنِ النَّجْوَى ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَيَتَنَاجَوْنَ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ وَيَقُولُونَ فِي أَنفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمَصِيرُ
Have you not regarded those who were forbidden from secret talks but again resumed what they had been forbidden from, and hold secret talks [imbued] with sin and transgression and disobedience to the Apostle? And when they come to you they greet you with words with which Allah never greeted you, and they say to themselves, ‘Why does not Allah punish us for what we say?!’ Let hell suffice them: they shall enter it, and it is an evil destination!
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 58:8
[Pooya/Ali Commentary 58:8] When the believers grew from strength to strength in Madina, destroying the power base of evil, the wicked, particularly the Jews, and the hypocrites resorted to duplicity and intrigues, whose modus operandi has been frequently referred to in the Quran; see Baqarah: 8 to 16 and Nisa: 142 and 145. Instead of the standard "peace be to you" (assalamu alaykam) the enemies of Islam, who had not the courage to fight openly, often twisted the words, and by using a world like sam (death), they thought they were secretly giving vent to their spite. Also refer to Baqarah: 104.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:8-10
١۔ نجویٰ کی اقسام اور سرگوشی کی باتیں:
یہ عمل فقہ اسلامی کے لحاظ سے شرائط کے اختلاف کے مطابق مختلف احکام رکھتاہے اوراصطلاح کے مطابق پانچوں احکام میں تقسیم ہوتاہے ۔ یعنی کبھی حرام ہے اور وہ اس صُورت میں کہ کسی مسلمان کی اذیّت اوراس کے وقار کے برباد کرنے کاموجب ہو(جیساکہ مندرجہ بالا آ یات میں اس کی طرف اشارہ ہواتھا) ۔چونکہ اس کامقصد مومنین کوغمگین کرناہے اس لیے ایسا نجویٰ شیطانی ہے ۔ اس کے برعکس یہ کبھی واجب ہوجاتاہے اوروہ اس صُورت میں کہ جب کوئی ایسا مسئلہ زیربحث ہو جس کاپوشیدہ رکھنا ضروری ہو،اس کاافشاخطرناک ہواور مسلمانوں کے حقوق کوبرباد کرتا ہو ۔ یہی نجویٰ کبھی مستحب ہوجاتاہے وہ اس صورت میں کہ جب انسان اچھے نیک اورتقویٰ کے کاموں میں اسے اختیار کرے ۔ اس طرح اس کے بارے میں کراہت اور اباہت کاحکم ہے ۔ اصولی طورپر بات یہ ہے کہ اگر کوئی اہم ترین مقصد پیش نظر نہ ہو تونجویٰ کرناکوئی پسندیدہ کام نہیں ہے اور آدابِ مجلس کے خلاف ہے کیونکہ یہ ایک ایساعمل ہے جس سے بے اعتمادی اور بے اعتنائی کااظہار ہوتاہے ۔ اسی لیے ہم پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث میں پڑھتے ہیں: اذاکنتم ثلاثة فلایتناج اثنان دون صاحبھمافان ذالک یحزنہ جب تم تین افراد ایک جگہ ہو تو دوافراد تیسرے سے الگ ہوکرسرگوشی نہ کرو کیونکہ یہ چیزتیسرے شخص کوغمگین کردیتی ہے(١) ۔ ایک اورحدیث میں ابوسعید خدری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے احکام کے اجر اکے لیے ایک رات کسی ضروری مقصد کے پیش ِ نظر پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خانہ اقدس کی طرف رواں تھے اور بہت سے افراد جمع ہوگئے تھے اور آہستہ آہستہ باتیں کررہے تھے ۔ اتنے میں پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)باہر تشریف لائے اورفرمایا: ماھٰذہ النجویٰ الم تنھواعن النجویٰ؟ یہ کیا سرگوشی ہے کیاتمہیں نجویٰ سے منع نہیں کیاگیا؟(٢) ۔ دیگر متعدد روایات سے بھی معلوم ہوتاہے کہ شیطان مومنین کوغمگین کرنے کے لیے ہرذریعہ سے فائدہ اُٹھاتا ہے ،نہ صرف نجویٰ سے ،بلکہ خواب کے عالم میں کئی منظراس کی آنکھوں کے سامنے مجسم کردیتاہے تاکہ وہ اس کے غم واندوہ کاموجب ہوں ۔ اسی لیے حکم دیاگیاہے کہ مومنین اس قسم کے مواقع پرخدا کی پاک ذات سے پناہ طلب کرکے اوراسی پرتوکّل کرکے اس قسم کے شیطانی مخمصوکواپنے سے دُور کرسکتے ہیں(٣) ۔ ٢۔ خدا کاسلام کون ساہے ؟ عام طورپر مجالس ومحافل میں ورُود کے موقع پرلوگ ایک دوسرے سے ایسی باتیں کرتے ہیں جواحترام ومحبت کی ترجمانی کرتی ہیں اور وہ اس کا نام تحیترکھتے ہیں ۔ مندرجہ بالاآ یات سے معلوم ہوتاہے کہ سلام کوبھی خدا کی رضا کاحامل ہوناچاہیئے ۔جیساکہ معاشرت کے تمام آداب ورسوم (کوبھی ایساہی ہوناچاہیئے )سلام میں مقابل کے احترام واکرام کے علاوہ خدا کی یاد بھی جھلکتی چاہیئے ،جیساکہ سلام کرتے وقت ہم اپنے مقابل کی سلامتی کی خداسے استد عاکرتے ہیں ۔تفسیر علی بن ابراہیم میں زیربحث آ یات کے ذیل میں آ یاہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے اصحاب (رضی اللہ عنہ )کی ایک جماعت جس وقت پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ ئی تو انعم صباحاً وانعم مسائکہتی ہوئی (تیری صبح راحت سے ہم کنارہو اور تیراوقت عصر راحت سے ہم کنار ہو)یہ زمانہ جاہلیّت کاسلام تھا، قرآن نے اس سے منع کیااوررسول ِ خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ان سے فرمایا کہ خدانے ہمیں اس سے بہتر سلام کاحکم دیاہے ۔وہ اہل بہشت کاسلام ہے: السلام علیکم (٤) جس کے معنی سلام اللہ علیکم ہیں ،اسلامی سلام کاامتیاز یہ ہے کہ ایک طرف تووہ ذِکرخُدا کولیے ہوئے ہے ۔دوسری طرف ہرقسم کی سلامتی کوپیش کرتاہے ۔وہ دین وایمان کی سلامتی ہو یا جسم وجان کی ۔سلام کامقصد محض راحت وآسائش کی خواہش نہیں ہے (٥) ۔ ١۔ تفسیر مجمع البیان درذیل آ یات زیربحث ودر المنثور جلد ٦ ،صفحہ ١٨٤واصول کافی جلد ٢ ،صفحہ ٤٨٣باب المناجات ،حدیث ١، ٢۔ ٢۔ درالمنثور ،جلد ٦ ،صفحہ ١٨٤۔ ٣۔ ان روایات سے آگاہ ہی کے لیے تفسیر نورالثقلین ،جلد ٥ ،صفحہ ٢٦١،٢٦٢حدیث ٣١، ٣٢،ملاحظہ فرمائیں ۔ ٤۔تفسیر نورالثقلین ،حدیث ٣٠۔ ٥۔کتاب"" بلوغ الارب فی معرفة احوال العرب میں زمانہ جاہلیت میں عربوں کے سلام کی تفصیلی بحث اورانعم صباحاً ومساء کے جملہ کی تفسیر مذکور ہے ،جلد ٢ صفحہ ١٩٢
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:8-10
شانِ نزول
پہلی زیربحث آ یت کے بارے میں دوشان ِ نزول نقل ہوئی ہیں جن میںسے ہرایک آ یت کے ایک حصّہ سے مربوط ہے ۔پہلی یہ کہ یہودیوں اورمنافقوں کی ایک جماعت مومنین سے علیحدہ آپس میں سرگوشی کرتی اورایک دوسرے کے کانوں میں باتیں کرتی اور کبھی یہ کہ مومنین کوآنکھوں سے پریشان کن اشار ے کرتی ۔جب مومنین یہ منظر دیکھتے توکہتے ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے عزیزوں اوررشتہ داروں کے بارے میں جوجہادپرگئے ہوتے ہیں ان تک کوئی پریشان کُن خبرپہنچی ہے ۔یہ اُس کے متعلق باتیں کررہے ہیں ۔ یہ چیزمؤ منین کے غم واندوہ کاباعث بنتی ۔جب انہوں نے یہ حرکت بار بار کی مؤ منین نے رسول ِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی ۔رسول ِ خدا نے حکم دیا کہ کوئی شخص مُسلمانوں کے سامنے ایک دُوسرے سے سرگوشی نہ کرے تو مندرجہ بالا آ یت نازل ہوئی (اورانہیں اس کام پر سختی سے سرزنش کی) (١) ۔ صحیح بخاری ،صحیح مسلم اور بہت سی کتب تفسیر نے تحریر کیاہے کہ یہودیوں کاایک گروہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اورالسلام علیک کے بجائے اسام علیک یاابا القاسم کہا( اس کامفہوم ہے تجھ پرموت یاملامت وخستگی ہو) ۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے جواب میں فرمایا: وعلیکم یہی چیز تم پرہو۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں : کہ میں اس مفہوم کی طرف متوجہ ہوئی اور میں نے کہا: علیکم السام ولعنکم اللہ وغضب علیکم تم پرموت وارد ہو ۔خُدا تم پرغضب کرے تو پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: نرمی سے کام لو اور سختی وبدگوئی سے پرہیز کرو۔ تومیں نے کہا : کہ آپ نہیں سُن رہے تھے کہ وہ کہ رہے ہیں کہ تجھ پرموت ہو فرمایا: کیا تُونے نہیںسُنا کہ میں نے ان کے جواب میں علیکم کہاہے۔ یہ وہ موقع تھا کہ مندرجہ بالاآ یت نازل ہو ئی کہ جس وقت یہ گروہ تمہارے پاس آ تاہے توایسا سلام کرتاہے جیساسلام خدانے تم پر نہیں کیا(٢) ۔ ١۔مجمع البیان ،جلد ٩ ،صفحہ ٢٤٩۔ ٢۔تفسیر مراغی ،جلد ٢٨ ،صفحہ ١٣۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:8-10
سوره مجادله/ آیه 8- 10
٨۔ أَ لَمْ تَرَ ِلَی الَّذینَ نُہُوا عَنِ النَّجْوی ثُمَّ یَعُودُونَ لِما نُہُوا عَنْہُ وَ یَتَناجَوْنَ بِالِْثْمِ وَ الْعُدْوانِ وَ مَعْصِیَةِ الرَّسُولِ وَ ِذا جاؤُکَ حَیَّوْکَ بِما لَمْ یُحَیِّکَ بِہِ اللَّہُ وَ یَقُولُونَ فی أَنْفُسِہِمْ لَوْ لا یُعَذِّبُنَا اللَّہُ بِما نَقُولُ حَسْبُہُمْ جَہَنَّمُ یَصْلَوْنَہا فَبِئْسَ الْمَصیرُ۔ ٩۔یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا ِذا تَناجَیْتُمْ فَلا تَتَناجَوْا بِالِْثْمِ وَ الْعُدْوانِ وَ مَعْصِیَةِ الرَّسُولِ وَ تَناجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوی وَ اتَّقُوا اللَّہَ الَّذی ِلَیْہِ تُحْشَرُونَ۔ ١٠۔ِنَّمَا النَّجْوی مِنَ الشَّیْطانِ لِیَحْزُنَ الَّذینَ آمَنُوا وَ لَیْسَ بِضارِّہِمْ شَیْئاً ِلاَّ بِِذْنِ اللَّہِ وَ عَلَی اللَّہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُون۔ ترجمہ ٨۔کیاتُو نے نہیں دیکھا جن کو نجویٰ کی ممانعمت کی گئی اس کے بعداس کام کی طرف جس سے انہیں روکاگیاتھالوٹ گئے اورگناہ وتعدی اورخُدا کے رسول کی نافرمانی کو انجام دینے کے لیے سرگوشی کرتے ہیں اور جس وقت تیرے پاس آتے ہیں تو تجھے وہ سلام کرتے ہیں جو خدانے تجھے نہیں کیا اور دل میں کہتے ہیں کہ خدا کیوں ہمیں ہماری باتوں پر عذاب نہیں کرتا،جہنم ان کے لیے کافی ہے ۔ اس میںوُہ وارد ہوں گے اوروُہ بُری جگہ ہے ۔ ٩۔ اے ایمان لانے والوجس وقت سرگوشی کرتے ہو توگناہ ، تعدی اوررسولِ خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کے لیے نہ کرواوراچھے کام اورتقویٰ کے بارے میں سرگوشی کرو اور اُس خداکی مخالفت سے ، جس کی طرف تمہاری بازگشت ہے اوراس کے ہاں تمہیں جمع ہونا ہے ، پرہیزکرو ۔ ١٠۔نجویٰ صِرف شیطان کی طرف سے ہے وہ چاہتاہے کہ مؤ منین اس سے غمگین ہوں لیکن انہیں کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتاحُکم خدا کے بغیر اِس لیے مؤ منین کوچاہیئے کہ وہ خداپر توکل کریں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:8-10
اِن آیات کی بحث اس طرح نجویٰ کے ان مباحث کاتسلسل ہے جوگزشتہ آیتوں میں تھے ۔ پہلے فرماتاہے ۔
کیا تُونے نہیں دیکھا ان لوگوں کوجنہیںسرگوشی سے منع کیاگیاتھا ۔ اس کے بعدوہ اس کام کی طرف پلٹے جس کی ممانعت کی گئی تھی اوروہ گناہ ،تعدی اور رسول ِ خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی نافرمانی کوانجام دینے کے لیے نجویٰ کرتے ہیں۔ (أَ لَمْ تَرَ ِالَی الَّذینَ نُہُوا عَنِ النَّجْوی ثُمَّ یَعُودُونَ لِما نُہُوا عَنْہُ وَ یَتَناجَوْنَ بِالِْثْمِ وَ الْعُدْوانِ وَ مَعْصِیَةِ الرَّسُولِ ) ۔ اس تعبیر سے اچھی طرح معلوم ہوتاہے کہ پہلے انہیں خبر دار کیاگیاتھا کہ وہ نجویٰ سے پرہیزکریں وہ ایساکام ہے جودوسروں میں بدگمانی اورپریشانی پیداکرتاہے لیکن انہوں نے،نہ صرف یہ کہ ، اس حکم پر کان نہیں دھرابلکہ اپنے نجویٰ کے لیے ایسے امورمنتخب کیے جن میں گناہ کی انجام دہی تھی اور جو خدا اوراس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے حکم کے خلاف تھے ۔ اثم ، میں اس لحاظ سے فرق ہے کہ اثم ان گناہوں کوکہتے ہیں جوانفرادی پہلورکھتے ہیںمثلاً(شراب پینا) اورعدوان ان امور کے لیے آتاہے جودوسروں کے حقوق کے سلسلہ میں تجاوز کاباعث ہوں، باقی رہی معصیت الرسول تووہ ان فرامین سے تعلق رکھتی ہے جنہیں خُود پیغمبر اسلام حکومت ِ اسلامی کے سربراہ کی حیثیت سے اسلامی معاشرہ کی مصلحتوں کے سلسلہ میں صادر فر ماتے تھے ،اس وجہ سے وہ اپنی سرگوشیوں میں ہرقسم کے غلط کاموں کوشامل کرتے تھے ،قطع نظراس سے کہ وہ عمل خُود انہی سے تعلق رکھتے تھے ،یادوسروں سے متعلق تھے ،یاحکومت ِ اسلامی اور ذات ِ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کاتعلق تھا۔ یعودن اور یتناجون کی تعبیر ،جو فعل مضارع کی صُورت میں آ ئی ہے ،بتاتی ہے کہ وہ یہ کام بار بار کرتے تھے اوران کامقصد مؤ منین کے دلوں میں پریشانی اور شک پیداکرنا تھا بہرحال مندرجہ بالا آیت ایک اخبارِ غیبی کے عنوان سے ان کے غلط اعمال کے چہرے سے پردہ اُٹھا تی ہے اوران کی راہ انحراف کاانکشاف کرتی ہے ،اِس گفتگو کوجاری رکھتے ہوئے منافقوں اوریہودیوں کے ایک اورغلط عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید ارشاد ہوتاہے ۔ اورجس وقت وہ تیرے پاس آ تے ہیں توایساسلام کرتے ہیں جیساخدا نے تجھے نہیں کیا ۔(وَ ِاذا جاؤُکَ حَیَّوْکَ بِما لَمْ یُحَیِّکَ بِہِ اللَّہُ) حیوک تحیت کے مادّہ سے اصل میں حیات سے لیاگیاہے اور سلامتی وزندگی تازہ کے لیے دُعا کرنے کے معنی میں ہے ۔ اس آیت میں تحیت ِ الہٰی سے مُراد وہی السلام علیک (یاسلام اللہ علیک) کا جملہ ہے جس سے ملتا جُلتا جملہ قرآنی آیتوں میں پیغمبروں اور بہشتیوں کے لیے بارہا آیاہے ،منجملہ دیگر آیتوں کے ہم سورئہ صافات کی آ یت ١٨١ میں دیکھتے ہیں وسلام علی المرسلین پروردگار کے تمام رسُولوں پر سلام باقی رہاوہ سلام جوخدا نے نہیں بتایا اورجوجائزنہیں تھا وہ السام علیکم کاجملہ تھا (تجھ پر موت یاملامت وخستگی ہو)یہ احتمال بھی ہے کہ زمانہ جاہلیت کے سلام کی طرف اشارہ ہوجیساکہ وہ کہتے تھے انعم صبلحاً (تیری صبح راحت سے ہم کنار ہو) (انعم مساء ً ) تیراوقت عصرراحت سے ہم کنار ہو بغیراس کے کہ خدا کی طرف توجہ کرے اوراس سے اپنے مقابل کے لیے سلامتی طلب کرے ۔ یہ صورت حال اگرچہ زمانہ ٔ جاہلیت میں تھی لیکن اس کاحرام ہوناثابت نہیں ہے لہٰذا مندرجہ بالاآ یت کی تفسیرمیں اسے پیش کرنا صحیح نہیں ہے ۔ اس کے بعد مزید کہتاہے : وہ نہ صرف یہ کہ بڑے بڑے گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں بلکہ اس طرح بادئہ غرور میں مَست ہیں کہ دل میں کہتے ہیں کہ اگرہمارے اعمال بُرے ہیں اورخداجانتاہے توہماری باتوں کی وجہ سے ہم پرعذاب نازل کیوں نہیں کرتا( وَ یَقُولُونَ فی أَنْفُسِہِمْ لَوْ لا یُعَذِّبُنَا اللَّہُ بِما نَقُول )اس طرح پیغمبر کی نبوّت پراپنے ایمان کے نہ ہونے کوثابت کرتے ہیںاورخدا کے علمی احاطہ پر بھی اپنے ایمان کے نہ ہونے کوپایۂ ثبوت تک پہنچاتے ہیں لیکن قرآن ایک مختصر سے جملہ میں انہیں اس طرح جواب دیتاہے جہنم ان کے لیے کافی ہے اور کسی اور عذاب کی ضرورت نہیں ہے ،وہی جہنم جس میں وہ عنقریب داخل ہوں گے اوروہ کیاہی بُری جگہ ہے (ُ حَسْبُہُمْ جَہَنَّمُ یَصْلَوْنَہا فَبِئْسَ الْمَصیرُ) ۔بہرکیف یہ تعبیراس بات کی نفی نہیں کرتی کہ وہ دُنیا وی عذاب سے بچ جائیں گے اور اس حقیقت کوآشکار کرتی ہے کہ اگر کوئی اورعذاب ،جہنم کے عذاب کے علاوہ ،نہ بھی ہوتو یہ جہنم کاعذاب ہی ان کے لیے کافی ہے اور یہ اپنے تمام اعمال کاعذاب اکٹھا جہنم میں دیکھیں گے اور چونکہ مؤ منین کبھی کبھی ضرورت اوراپنی دلی خواہش کے ماتحت سرگوشی کرتے تھے ،لہٰذا بعد والی آ یت میں رُوئے سُخن ان کی طرف کرتے ہوئے ،اس خیال کے پیش نظر کہ وہ اس کام میں منافقوں اوریہودیوں جیسے گناہوں میں آلودہ نہ ہوں ،فرماتاہے ۔ اے ایمان لانے والو!جس وقت تم نجویٰ کروتوگناہ ،تعدی اوررسول ِ خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافر مانی کے لیے نجویٰ نہ کرو تمہارے نجویٰ کامضمون پاکیزہ ہو اورخوف ِ خدالیے ہوئے ہو ۔نیک کاموں اورتقوےٰ کے لیے نجویٰ کرو (یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا ِذا تَناجَیْتُمْ فَلا تَتَناجَوْا بِالِْثْمِ وَ الْعُدْوانِ وَ مَعْصِیَةِ الرَّسُولِ وَ تَناجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوی) ۔اور خُدا کی معصیت سے پر ہیزکرو تم سب کی بازگشت خداہی کی طرف ہے ( وَ اتَّقُوا اللَّہَ الَّذی ِلَیْہِ تُحْشَرُون) ۔ اس تعبیر سے بخوبی معلوم ہوجاتاہے کہ نجویٰ اگرمؤ منین کے درمیان ہوتووُہ سُوئے ظن اوربدگمانی کے جذبات کو نہ اُبھارے ، پریشانی پیدانہ کرے اوراس کا نفسِ مضمون نیکیوںکی وصیّت پرمبنی ہو پھروہ جائز ہولیکن اگر نجویٰ یہودیوں اورمنافقوں کے درمیان واقع ہو ،جس کامقصد ہی پاکیزہ دل مؤ منین کوتکلیف پہنچاناہے ،تب یہ عمل قبیح اورحرام ہے چہ جائیکہ اس کانفسِ مضمون بھی شیطانی ہو،اس لیے بعدوالی آ یت میں جوزیربحث آیتوںمیں سے آخری آ یت ہے مزید فرماتاہے:نجویٰ صرف شیطان کی طرف سے ہے (انَّمَا النَّجْوی مِنَ الشَّیْطان) اس مقصد کے پیش نظر کہ مومنین پریشان وغمگین ہوں(ِ لِیَحْزُنَ الَّذینَ آمَنُوا )لیکن انہیں جان لیناچاہیئے کہ شیطان اذنِ پروردگار کے بغیر مومنین کوکوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا(وَ لَیْسَ بِضارِّہِمْ شَیْئاً ِلاَّ بِاذْنِ اللَّہ)عالم ہستی میں جو مؤ ثر بھی ہے اس کی تاثیر حکم ِ خداہی سے ہے یہاں تک کہ آگ کاجلانا اورتلوار کاکاٹنا بھی اسی کے حکم کے ماتحت ہے ۔ اگر جلیل حکم نہ دے تو خلیل کے حکم سے چھری نہیں کاٹتی ۔ اس لیے مومنین کوصرف خداپر توکّل کرناچاہیئے اوراس کے علاوہ کسی چیز سے نہیں ڈرنا چاہیئے اوراس کے غیر سے محبت نہ کی جائے ،(ِ وَ عَلَی اللَّہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُون)وہ توکّل کی رُوح اورخُدا پرایمان رکھنے کی وجہ سے اچھی طرح مشکلات پرقابو پاسکتے ہیں اورشیطان کے پیرو کاروں کے منصُوبے کونا کام بناسکتے ہیں اوران کی سازشوں کودرہم برہم کرسکتے ہیں ۔