قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ
Allah has certainly heard the speech of her who pleads with you about her husband and complains to Allah. Allah hears the conversation between the two of you. Indeed Allah is all-hearing, all-seeing.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 58:1
[Pooya/Ali Commentary 58:1] Khula hint Thalaba, wife of Aws bin Thamit, had complained to the Holy Prophet that her husband had put her away for no good reason by employing an old formula of the pagan Arabs, known as zihar, which consists of the words: "You are to me as the back of my mother." Refer to the commentary of Ahzab: 4. This was held by pagan custom to imply a divorce and freed the husband from any responsibility for conjugal duties but do not leave the wife free to leave her husband's home, or to contract a second marriage. She pleaded that she had little children whom she had no means to support, and, under zihar, her husband was not bound to support. Her prayer to Allah containing her just plea was accepted, and this brutal and unjust custom was abolished through these verses. The penalty prescribed for the husband, who repents his hasty act, is to set a slave free. Then only he can claim his conjugal rights. Such laws served the abolition of slavery in a rational and evolutionary way without creating chaos and disorder in the society. Refer to the commentary of Baqarah: 177. Aga Mahdi Puya says The effectiveness of du-a (invocation) has been asserted in these verses. The laws of Islam are not irrational or arbitrary but sense the needs of the people.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 58:1-13
Of the ten questions and answers thereto, which Ali asked the Prophet in his private conference, by cashing Dinar to ten Dirhams, in advance as payment towards charity as per Divine command, three related to (1) wafa (fulfilment of covenant, i.e. ubiquity of God, (2) litigation which meant infidelity and association, (3) truth by which is meant Islam, Text, and leadership which by succession converges to Ali.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:1-4
شانِ نزول
اکثر مفسّرین نے اس سُورہ کی پہلی آیات کے لیے کئی شانِ نزول نقل کی ہیں جن میں سے ہرایک کانفس ِ مضمون اجمالی طورپر ایک ہی ہے اگرچہ جزئیات میں ایک دوسرے سے اختلاف ہے لیکن یہ اختلاف اس چیزپر جس کے ہم تفسیری بحث میں ضرور ت مند ہیں اثرانداز نہیں ہوگا ۔ واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ گروہ ِ انصار کی ایک عورت جس کانام خولہ تھا(دوسری روایات میں اس عورت کے اور بھی نام بیان ہوئے ہیں)وہ قبیلہ خزوج سے تعلق رکھتی تھی ،اس کے شوہر کانام اوس بن صامت تھاکسی بات پرخولہ کاشوہراس سے ناراض ہوگیاوہ ایک تند خواور شدید الحِس آدمی تھا۔ اس نے اپنی عورت سے علیحدگی کامصمّم ارادہ کر لیا اور کہا انت علی کظھر امّی (تومیریل یے میری ماں کی پُشت کی طرح ہے)زمانۂ جاہلیّت میں یہ طلاق کی ایک قسم تھی ،لیکن یہ طلاق اس طرح کی تھی کہ نہ تو اس میں روجوع ممکن تھانہ عورت مرد سے آزاد ہوتی تھی کہ اپنے لیے کوئی دوسرا شوہر منتخب کرے ،یہ بدترین حالت تھی جس سے کوئی شوہر دار عورت دوچار ایک دوسرے سے قطعاً رجوع نہیں کرسکتے تھے ۔وہ اپنی بیوی سے کہنے لگاکہ میراخیال ہے تومجھ پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی ،عورت نے کہاایسا نہ کہہ تورسول ِ خدا (صلی اللہ علی وآلہ وسلم) کی خدمت میں جااوراس مشکل کاحل دریافت کر،مرد نے کہامجھے شرم آتی ہے ۔عورت نے کہامیں جاتی ہوں ۔ اس نے کہا: کوئی حرج نہیں تُوچلی جا۔ وہ عورت رسول ِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اورکہااے خداکے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے شوہر اوس بن صامتنے مجھ سے شادی کی تھی ۔ اس وقت میں صاحب ِ دولت و ثروت تھی اورخوبصُورت تھی میراخاندان بھی اچھاتھا ،وُہ میرامال اپنے مُصرف میں لے آیا ،اَب جب کہ میں جوان نہیں رہی میراخاندان بھی پراگندہ ہوگیاہے تواَب اُس نے ظہار کیاہے ۔لیکن وہ اپنے اس اقدام پرپشیمان ہے ۔توکیا ایسی صُورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے رجوع کرلیں ۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: تو اس پرحرام ہوگئی ہے۔ عرض کیایارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اُس صیغہ طلاق جاری نہیں کیا۔پھر وہ میری اولاد کاباپ بھی ہے ۔ اوران سب چیزوں کے علاوہ مجھے اس سے بہت زیادہ محبت ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تُو اُس پرحرام ہوچکی ہے اوراس سِلسلہ میں میرے پاس سردست ِکوئی دُوسرا حکم نہیں ہے۔ وہ عورت مسلسل اصرار کرتی تھی اورگڑ گڑا کرعرض ِ حال کرتی تھی ۔ آخر کار اس عورت نے بارگاہ ِ خُدا وند ی میں عرض کیا:(اشکوالی اللہ فاقتی وحاجتی وشدة حالی اللھم فانزل علی لسان نبیّک ) پروردگار ! میں اپنی بے چارگی اوراحتیاج کی شِدّت تجھ سے عرض کرتی ہوں ۔خدا وند اکوئی فرمان اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمااوراس مشکل کوحل کردے ۔ ایک روایت میں ہے کہ اس عورت نے عرض کیا: اللھم انک تعلم حالی فارحمنی فان لی صبیة صغاران ضمتھم الیہ ضاعوا وان ضممتھم الی جاعوا خدا وندا! تُومیری حالت کوجانتاہے مجھ پر رحم کر میرے چھوٹے چھوٹے بچّے ہیںجنہیںمیں اگر اپنے شوہر کے حوالے کردوں تو وہ ضائع ہوجائیں گے اوراگراپنے پاس رکھوں توبُھوک کے مرجائیں گے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اپنے شوہر کوبُلا کرلا۔ جب وہ آ یا توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مذ کورہ آیات کی اس کے سامنے تلاوت کی اورفرمایا: کیا تُوایک غلام ظہار کے کفّارے کے طورپر آزاد کرسکتاہے ۔ اُس نے کہا: اگر ایسا کروں گاتو میرے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔ فرمایا: دو مہینے تک مسلسل روزے رکھ سکتاہے؟۔ اُس نے کہا : میرے کھانے میں تین مرتبہ تاخیر ہوجائے تومیری آنکھ بیکار ہوجائے ااورمجھے خوف ہے کہ میں نابینا ہوجاؤں ۔ فر مایا: توکیا ساٹھ مسکینوں کوکھانا کھلاسکتاہے۔ عرض کیا:نہیں مگر اس طرح کہ آپ میری مدد کریں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تیری مدد کروں گااور پندرہ صاع( پندرہ من ایرانی جوساٹھ مسکینوں کی خوارک ہیں ہر شخص کے لیے ایک مُد یعنی من تقریباً چودہ چھٹانک)غذا اس کودی اس نے کفّار اداکیا۔ اس طرح وہ میاں بیوی اپنی سابقہ ازدواجی زندگی کی طرف پلٹ آئے(١) ۔ ١۔ مجمع البیان جلد ٩ صفحہ ٢٦٤(تھوڑی سی تلخیص کے ساتھ ) جیساکہ ہم نے کہاہے اس شان ِ نزول کوبہت سے لوگوں نے تفسیر وتاریخ وحدیث کی کتابوں میں نقل کیاہے ۔ اس سلسلہ میں قرطبی ابو الفتوح رازی اورکنزالعرفان کے نام نمایاں ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:1-4
سوره مجادله/ آیه 1- 4
بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ ١۔قَدْ سَمِعَ اللَّہُ قَوْلَ الَّتی تُجادِلُکَ فی زَوْجِہا وَ تَشْتَکی ِلَی اللَّہِ وَ اللَّہُ یَسْمَعُ تَحاوُرَکُما ِنَّ اللَّہَ سَمیع بَصیر۔ ٢۔ الَّذینَ یُظاہِرُونَ مِنْکُمْ مِنْ نِسائِہِمْ ما ہُنَّ أُمَّہاتِہِمْ ِنْ أُمَّہاتُہُمْ ِلاَّ اللاَّئی وَلَدْنَہُمْ وَ ِنَّہُمْ لَیَقُولُونَ مُنْکَراً مِنَ الْقَوْلِ وَ زُوراً وَ ِنَّ اللَّہَ لَعَفُوّ غَفُور۔ ٣۔وَ الَّذینَ یُظاہِرُونَ مِنْ نِسائِہِمْ ثُمَّ یَعُودُونَ لِما قالُوا فَتَحْریرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَتَمَاسَّا ذلِکُمْ تُوعَظُونَ بِہِ وَ اللَّہُ بِما تَعْمَلُونَ خَبیر ۔ ٤۔فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیامُ شَہْرَیْنِ مُتَتابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَتَمَاسَّا فَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فاطْعامُ سِتِّینَ مِسْکیناً ذلِکَ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّہِ وَ رَسُولِہِ وَ تِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ وَ لِلْکافِرینَ عَذاب أَلیم ۔ ترجمہ شروع اللہ کے نام سے جورحمان ورحیم ہے ١۔خدانے اس عورت کاقول سُنا جس نے اپنے شوہر کے بارے میں تجھ سے رجوع کیاتھا اورخُدا کی بارگاہ میں شکایت کی تھی ، خداتمہاری آپس کی گفتگو (اس عورت کااصرار اس کی مشکل کے حل کے سلسلہ میں)سُن رہاتھا اورخُدا سُننے اوردیکھنے والاہے ۔ ٢۔ تم میں سے جولوگ اپنی بیویوں کے بارے میں ظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں(انت علی کظھرامّی ) (تو میرے لیے میری ماں کی پُشت کی مانند ہے) تو وہ ہرگز ان کی مائیں نہیںہیں ۔ ان کی مائیں توصرف وہی ہیں جنہوں نے ان جو جناہے ۔وہ بڑی قبیح اور باطل بات کرتے ہیں اورخدامعاف کرنے والا اوربخشنے والاہے ۔ ٣۔ جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں پھراپنی ہی کہی ہوئی بات سے پلٹ جاتے ہیں تو اُن کواُن کے ساتھ صُحبت کرنے سے پہلے ایک غلام آزاد کرناچاہیئے ۔ یہ وہ حکم ہے جس کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے اور جوکچھ تم انجام دیتے ہو خدا اس سے باخبر ہے ۔ ٤۔ اورجوشخص غلام آزاد کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تو وہ صحبت کرنے سے پہلے دو ماہ پے درپے روز رے رکھے اورجواس کی بھی طاقت نہیں رکھتا وہ ساٹھ مسکینوں کوکھانا کھلائے ۔یہ اس وجہ سے ہے کہ تم خدا اوراس کے رسول پرایمان لے آؤ یہ خُدا کی حدود ہیں ،جوان کی مخالفت کریں گے ان پر درد ناک عذاب ہوگا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:1-4
ظہار زمانہ ٔ جاہلیّت کاایک قبیح عمل
جوکچھ شانِ نزول کے سلسلہ میں عرض کیاگیاہے اسے اور آ یات زیرِ بحث کے نفسِ مضمون کوپیش ِ نظر رکھتے ہوئے اس سورہ کی ابتدائی آیات کی تفسیر واضح ہوگئی ہے ۔پروردگار ِ عالم فرماتاہے: خدا نے اس عورت کاقول سُنا جس نے اپنے شوہر کے بارے میں تجھ سے رجوع کیاتھا اوربحث وتکرار کرتی تھی ،اس کی التجا کوقبول کیا (قَدْ سَمِعَ اللَّہُ قَوْلَ الَّتی تُجادِلُکَ فی زَوْجِہا ) تجادل کے مادہ سے ہے جس کے اصلی معنی رسی بٹنے کے ہیں ۔چونکہ طرفین اصرار آمیز گفتگو کے موقع پریہ چاہتے ہیں کہ دوسرے کوخاموش کردیں لہٰذا اس پر مجادلہ کااطلاق ہواہے اس کے بعد مزید فرماتاہے وہ عورت ،اس کے علاوہ کہ تجھ سے مجادلہ کرتی تھی ،اس نے خدا کی بارگاہ میں شکایت بھی کی اورحل مشکل کی استدعا بھی کی (وَ تَشْتَکی ِلَی اللَّہِ)یہ اس حالت میں تھاکہ جب خداتمہاری گفتگو اوراس عورت کے اصرار کوسُن رہاتھا( وَ اللَّہُ یَسْمَعُ تَحاوُرَکُما) ۔ اورخداسُننے اور دیکھنے والاہے ( ِانَّ اللَّہَ سَمیع بَصیر) ۔جی ہاں!خداتمام مسموعات ومبصرات سے ، بغیر اس کے کہ بینائی وسماعت کے اعضاء کامحتاج ہو، آگاہ ہے ہے ،وہ ہرجگہ حاضر وناظر ہے اورہر چیز کودیکھتاہیاورہر بات کوسُنتاہے ۔ اس کے بعد ظہار کے حکم کی طرف رجوع ہے اورتمہید کلام کے طورپر اس بے ہودہ نظر یہ کوجڑ سے اُکھاڑ بھینکنے کے لیے مختصر مگر قاطع جُملے ارشاد فر ماتاہے: تم میں سے وہ لوگ جواپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں ان سے کہتے ہیں : (انت علیّ کظھرامّی ) تو میرے لیے میری ماں کی پشت کی طرح ہے وہ ہرگز ان کی مائیں نہیں ہیں ۔ ان کی مائیں توصرف وہی ہیں جنوں نے انہیں جنا ہے (الَّذینَ یُظاہِرُونَ مِنْکُمْ مِنْ نِسائِہِمْ ما ہُنَّ أُمَّہاتِہِمْ ِنْ أُمَّہاتُہُمْ ِلاَّ اللاَّئی وَلَدْنَہُم) ماں اور بیٹا ہوناایسا نہیں ہے جوصِرف الفاظ سے درست ہوجائے وہ تو ایک ظاہر ہونے والی حقیقت ِ واقعی ہے جوکسِی صُورت میں بھی الفاظ کے ساتھ کھیلنے سے حاصل نہیں ہوتی ،اِس بناء پر اگرکوئی انسان سومرتبہ بھی اپنی بیوی سے کہے کہ تُو میری ماں کی طرح ہے تووہ ماں کی حیثیت اختیار نہیں کرسکتی ۔ یہ محض ایک فضول بات ہے ۔ اس کے بعد مزید فرماتاہے، وہ ایک بُری اورقبیح بات کہتے ہیں ۔ اوران کاقول باطل وبے بُنیاد ہے (ْ وَ ِنَّہُمْ لَیَقُولُونَ مُنْکَراً مِنَ الْقَوْلِ وَ زُورا) (١) ۔ ١۔ زور اصل میں سینے کے اُوپروالے حصّہ کاٹیڑھا اورجُھکا ہوہوناہے ۔ یہ منحرف ہونے کے معنی میں بھی آ یا ہے اور چونکہ جھوٹی بات اور باطل گفتگو حق سے انحراف رکھتی ہے لہٰذا اسے زور کہتے ہیں ۔ اسی بناپر یہ لفظ بت کے لیے بھی بولاجاتاہے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس بات کاکہنے والاقصدِ اخبار نہیں رکھتا بلکہ اس کامقصود انشاء ہے وہ چاہتاہے کہ اس جملے کوصیغہ طلاق کادرجہ دے لیکن اس جملہ کانفسِ مضمون ٹھیک منہ بولنے بیٹے جیسی خرافات کی طرح بے بنیاد ہے ،جوزمانہ ٔ جاہلیّت کی ایک رسم تھی کہ کسِی بچّے کواپنا بیٹا کہہ دیتے تھے اور پھر اس پراحکام ِ پسر جاری کرتے تھے ، جس کی قرآن نے مذمّت کی ہے اوراسے باطل و بے بنیاد بات قرار دیاہے:(ذلِکُمْ قَوْلُکُمْ بِأَفْواہِکُمْ) یہ ایسی بات ہے جسے تم صرف اپنے منہ سے کہتے ہو ۔ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے (احزاب، ٤)اس آ یت کے مطابق ظہار ایک منکر اورحرام عمل ہے لیکن چونکہ تکلیف ِ شرعی گزشتہ اعمال سے تعلق نہیں رکھتی اوراس کااطلاق نزول کے وقت سے ہوتاہے لہٰذاآ یت کے آخری میں فرماتاہے : خدامعاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے ( وَ ِانَّ اللَّہَ لَعَفُوّ غَفُور)بناء پر اگرکوئی مسلمان ان آ یات کے نزول سے پہلے اس عمل کامرتکب ہواہے تواسے پریشان نہیں ہونا چاہیئے ،خدااسے بخش دے گا،بعض فقہا اورمفسّرین کانظر یہ یہ ہے کہ اب بھی ظہار ایک گناہ ہے ،گناہانِ صغیرہ کے مانند ہے بخشاہوا ،خُدا نے جس کے بارے میں گناہان ِ کبیرہ کے ترک کی صُورت میںعفو کاوعدہ کیا ہے (٢) ۔ ٢۔ کنزالعرفان جلد ٢ ،صفحہ ٢٩٠ ۔ المیزان میں بھی انہی معانی کی طرف اشارہ ہے ۔ لیکن اس مفہوم پرکوئی دلیل موجودنہیں ہے اوراُوپر والا جُملہ اس امر پر گواہ نہیں بن سکتا ۔بہرحال کفار ے کامسئلہ اپنی پُوری قوّت کے ساتھ باقی ہے ۔حقیقت میں یہ تعبیر اس کے مشابہ ہے جوسُورہ احزاب کی آ یت ٥ میں آ یاہے جہاں منہ بو لے بیٹے کے مسئلہ کی نفی کرنے کے بعد مزید فرماتاہے:(وَ لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُناح فیما أَخْطَأْتُمْ بِہِ وَ لکِنْ ما تَعَمَّدَتْ قُلُوبُکُمْ وَ کانَ اللَّہُ غَفُوراً رَحیماً )اس غلطی کاتم پر کوئی گناہ نہیں ہے جواس موضوع پر تم سے سرزد ہوئی ہے لیکن جو کچھ تم عمداً کہو تو خدااس پر مواخذہ کرتاہے اورخدا غفو روحیم ہے (گزشتہ بے راہ روی کے بارے میں ) عفور گناہ کی پردہ پوشی کی طرف ، کیونکہ ہوسکتاہے کہ کوئی کسی کے گناہ کوتو بخش دے لیکن اس کوچھپائے ہرگز نہیں ،لیکن خدا بخشتا بھی ہے اور چھپاتابھی ہے ۔بعض مفسرین نے غفران کے معنی یہ لیے ہیں کہ کسِی شخص کوعذاب سے چُھپالیا جائے جس کامفہوم عفوسے مختلف ہے اگرچہ نتیجہ ایک ہی ہے ۔چونکہ یہ قبیح اورتکلیف وہ گفتگو کوئی ایسی چیز نہیں تھی کہ اسلامی نقطۂ نظر سے اس کی کوئی پرواہ نہ کی جائے لہٰذا اس کا کفّار ہ نسبتا سنگین قرار دیاگیاہے تاکہ اس کی تکرار کاسِدّ باب کیاجائے ۔فرماتاہے: وہ لوگ جواپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں اورپھروہ اپنی کہی ہوئی بات سے پلٹتے ہیں توانہیں چاہیئے کہ مباشرت سے پہلے ایک غلام آزاد کردیں(وَ الَّذینَ یُظاہِرُونَ مِنْ نِسائِہِمْ ثُمَّ یَعُودُونَ لِما قالُوا فَتَحْریرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَتَمَاسَّا )پھر اپنے کہے سے( ثُمَّ یَعُودُونَ لِما قالُوا)پلٹتے ہیں کہ جملے کے بارے میں کئی احتمال پیش کیے گئے ہیں فاضل مقدار نے کنزالعرفان میںاس کی چھ تفسیر یں نقل کی ہیں ،لیکن اس کاظاہر (خصوصاً مِنْ قَبْلِ أَنْ یَتَمَاسَّا پرتوجہ کرتے ہوئے ) یہ ہے کہ وہ اپنے کلام پر نادم ہوتے ہیں اور گھر یلوزندگی اورجنسی آمیزش کی طرف پلٹنے کاارادہ رکھتے ہیں ۔ روایات آئمہ اہل بیت علیہم السلام میں بھی اس معنی کی طرف اشارہ ہے ( ٣) ۔ ٣۔ مجمع البیان در ذیل آ یات ِ محل ِبحث ۔ اس جملہ کی اورتفسیر یں بھی کی گئی ہیں لیکن وہ آ یت کے معانی کے ساتھ چنداں مناسبت نہیں رکھتیں ۔مثلا یہ کہ عود سے مراد ظہار کی تکرار ہے ۔ یا یہ کہ عود سے مراد ایسے مواقع پرزمانہ ٔ جاہلیت کے طریقوںپر عمل کرناہے ، یایہ کہ عود اس عمل کے تدارک اورتلافی کے معنوں میں ہے اوراسی قسم کے دیگر احتمالات ( ٤) رقبہ اصل میں گردن کے معنوں میں ہے لیکن یہاں انسان کاکنایہ اس بناپر ہے کہ گردن دیگر اعضائے بدن کے مقابلہ میں زیادہ حسّاس سمجھی جاتی ہے کبھی لفظ راس بھی کہا جاتاہے اوراس سے مُراد انسان ہوتاہے مثلاً پانچ افراد کی جگہ پانچ راس کہاجاتاہے ۔ اس کے بعد مزید فرماتاہے : یہ ایک دستور ہے جس کا تمہیں وعظ کیاگیاہے (ذلِکُمْ تُوعَظُونَ بِہِ)یہ گمان نہ کرنا کہ ظہار کے سلسلہ میں اس قسم کاکفّار ہ غیر معتدل ہے ۔کیونکہ یہ پندر نصیحت ،بیداری اورتمہارے نفوس کی تربیّت کاسبب ہے تاکہ اس قسم کے حرام کاموں کے سلسلہ میں تم اپنے نفوس کوقابو میں رکھ سکو ۔ اصولی طورپر تمام کفّارے تربیّتی پہلو رکھتے ہیں ۔ اکثر اوقات وہ کفّارے جومالی حیثیت رکھتے ہیں ان کی تاثیر تعزیرات کے مقابلہ میں جوبدنی حیثیت رکھتی ہیں ، کہیں زیادہ ہوتی ہے ۔ اور چونکہ اس بات کاامکان تھا کہ بعض افراد مختلف بہانوں سے کفّار ے سے جان چھڑا ئیں گے اور ظہار کے بعد بغیر کفّارہ اداکیے اپنی بیوی سے جنسی آمیزش رکھیں گے آیت کے آخر میں فر ماتاہے : خدااس سے جو تم انجام دیتے ہوآگا ہ ہے ( وَ اللَّہُ بِما تَعْمَلُونَ خَبیر) ۔ظہار سے بھی آگاہ ہے اور کفّار ہ نہ دینے سے بھی اورتمہاری نیّتوںسے بھی ۔ اورچونکہ ایک غلام کاآزاد کرناتمام افراد کے لیے ممکن نہیں جیساکہ ہم نے آ یت کی شان ِ نزول میں دیکھاہے ، اوس بن صامت جس کے بارے میں آ یت نازل ہوئی ہیں اس نے پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خد مت میں عرض کیاکہ میں کفّارہ اداکرنے سے قاصر ہوں اور اگرایساکروں گا توتمام پونجی کوگنوادوں گا ،یہ بھی ممکن ہے کہ انسان مالی اعتبارسے توغلام کے آزاد کرنے کی قدرت رکھتا ہولیکن اسے کوئی غلام دستیاب نہ ہو جیساکہ ہمارے زمانہ میں ہے ۔ اس لیے اسلام کے دین ِ جاودانی ہونے کاتقاضا یہ ہے کہ بعد کے مرحلہ میں غلاموں کے آزاد کرنے کاکوئی نعم البدل مذکورہ ،ہواس لیے بعدوالی آ یت میں فر ماتاہے : جوشخص غلام آزاد کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہوتو جنسی آمیزش سے پہلے دوماہ مسلسل روزے رکھے (فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیامُ شَہْرَیْنِ مُتَتابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَتَمَاسَّا) ۔ اس قبیح عمل کوروکنے کے لیے یہ کفّارہ بھی ایک گہرااثر رکھتاہے ۔علاوہ ازیں چونکہ روزہ رُوح کی صفحائی اور تہذیبِ نفس کاباعث ہے لہٰذا اس قسم کے اعمال کے اعادہ کاسدِّ باب کرسکتاہے ۔ البتہ ظاہر آ یت تو یہ ہے کہ روزے ساٹھ دن تک مسلسل رکھے جائیں ۔ بہت سے فقہائے اہل سُنت نے بھی اسی کے مطابق فتویٰ دیاہے لیکن آئمہ اہل بیت علیہم السلام کی روایتوں میں آ یاہے کہ اگر دوسرے مہینے میں سے کچھ دن حتّی کہ ایک دن بھی پہلے مہینے کے تسلسل کے ساتھ روزہ رکھ لے توشہرین متتابعین یعنی مسلسل دوماہ کاتقاضا پورا ہوجائے گا اور یہ تصریح ظہورِ آ یت پر حاکم ہے ( ٥) ٤۔ کنز العرفان جلد ٦ ،صفحہ ٢٩٠ ومجمع البیان ،جلد ٩ ،صفحہ ٢٤٧ کی طرف رجوع کیاجائے ۔ ٥۔ وسائل اشیعہ جلد ٧ صفحہ ٢٧١ سے رجوع فرمائیں (باب ٣ ازابواب بقیة الصوم الواجب) ۔ یہ چیز بتاتی ہے کہ مذکورہ بالا آ یت میں اور سورئہ نساء کی آ یت ٩٢ میں (کفار ہ قتل خطا) تتابع سے مُراد فی الجُملہ پے درپے ہوناہے ۔ البتہ اس قسم کی تفسیر صرف امام معصوم سے سننے میں آ ئی ہے جوعلوم ِ پیغمبر، کاوارث ہے اوراس قسم کے روزے رکھنا مکلفین کے لیے آسانی کا باعث ہیں( اس موضوع کے بارے میں مزید تفصیل کتاب الصوم اورابواب ظہار وکفارہ قتل خطامیں ملاحظہ کی جاسکتی ہے (فمن لم یجد)کے جملے سے مراد یہ ہے کہ وہ ضروریات ِزندگی سے زائد کوئی چیز نہ رکھتا ہوجس سے غلام خرید کرآزاد کرسکے ، اور چونکہ بعض لوگ دوسرے کفّار ے یعنی مسلسل دوماہ روز ے رکھنے پر بھی قادر نہیں ہیں لہٰذا ایک اور متبادل کاذکرکرتے ہوئے فر ماتاہے: جب کوئی دوماہ تک مسلسل روزے نہ رکھ سکتاہو تو ساٹھ مسکینوں کوکھانا کھلائے( فَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَِطْعامُ سِتِّینَ مِسْکیناً ) ۔ اطعام کے معنی یہ ہیں کہ ایک مرتبہ اتنی غذا دے کہ کھانے والا سیرہوجائے لیکن اسلامی روایات میں ایک مدطعام (ایرانی من کا چوتھا حصّہ یاتقریبا٧٥٠گرام معین ہواہے)جب کہ بعض فقہانے اسے دو مد(ڈیڑ ھ کلو) قرار دیاہے(٦) ۔ ٦۔ہمارے فقہا کے درمیان ،جیساکہ ہم نے کہا ہے ،مشہور وہی ایک مد ہے اوراس کی دلیل بہت سی روایات ہیں جو شاید حدِ تواتر میں ہوں جن میں سے بعض قتل خطا کے کفارے کے بارے میں اور بعض قسم کے کفارے کے بارے میں وارد ہوئی ہیں اور بعض ماہِ مبارک رمضان کے کفّارے کے بارے میں ، اِس ضمیمہ کے ساتھ کہ فقہا میں سے کسی نے کفاروں کی اقسام میں فرق نہیں رکھا لیکن مرحوم شی طوسی سے خلاف ، مبسوط ، نھایة اور تبّیان میں منقول ہے کہ اس کی مقدار دومد ہے اوراس سلسلہ میں ابوبصیر کی روایت سے استد لال کیاہے جوکفّارِۂ ظہار کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہے اوراس کی مقدار دو مد معین کرتی ہے لیکن یہ روایت یاتو کفّارِ ظہار سے مخصوص ہونی چاہیئے یااگر ہم قبول کرلیں کہ فقہا کفاروں کے درمیان فرق کے قائل نہیں ہوئے جیساکہ واقعی ایساہے توپھر اسے استحباب پر محمول کرناچاہیئے ۔ اس کے بعد آ یت کے آخرمیں ایک مرتبہ پھر اس قسم کے کفاروں کے اصل مقصد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فر ماتاہے: یہ اس لیے ہے کہ تم خدااوراس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پریمان لے آؤ (ذلِکَ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّہِ وَ رَسُولِہِ ) ۔ جی ہاں !کفّاروں کے ذ ریعہ گناہوں کی تلافی ایمان کے ستونوں اور اس کی بنیاد وں کو مضبوط کرتی ہے اورانسان کو مقدرات ِ الہٰی کا علماء پابند کرتی ہے آ یت کے آخر میں اس کے پیش ِ نظر کہ تمام مسلمان اس مسئلہ کوایک پُختہ امر کے طورپر قبول کریں ، فر ماتاہے: یہ احکام ِ خداکی حدود ہیں جوخدا کی مخالفت کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں اور کافر ہوجائیں ان کے لیے درد ناک عذاب ہے (وَ تِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ وَ لِلْکافِرینَ عَذاب أَلیم) ۔ یہ بات پیش نظررکھنی چاہیئے کہ لفظ کفر کے مختلف معانی ہیں جن میں سے ایک کفر عملی ہے یعنی معصیت وگناہ ہے اور زیربحث آ یت میں یہی معنی مُراد ہیں جیساکہ سورہ آل ِ عمران کی آ یت ٩٧ میں ان لوگوں کے بارے میں جوفریضۂ حج بجالاتے ہیں فرماتاہے:(وَ لِلَّہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطاعَ ِلَیْہِ سَبیلاً وَ مَنْ کَفَرَ فَانَّ اللَّہَ غَنِیّ عَنِ الْعالَمین)لوگوں پر لازم ہیکہ جواستطاعت رکھتے ہیں وہ خدا کے لیے اس کے گھر کاارادہ کریں اور جوشخص کفر کرے (اورحج کوچھوڑدے)اس نے اپنے اُوپر ظلم کیاہے اوراللہ عالمین سے بے نیاز ہے حد اس چیز کے معنوں میں ہے جو دوچیزوں کے درمیان مانع ہے ۔ اسی لیے مختلف ملکوں کی سرحدوں کوحدُود کہاجاتاہے، احکام ِ الہٰی کواس لیے حدود کہتے ہیں کہ ان کوعبور کرناجائز نہیں ہے ۔ اس سلسلہ میں مزید تشریح پہلی جلد سُورہ بقرہ آ یت ١٨٧ کے ذیل میں ہم پیش کرچکے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:1-4
بعض احکام ِ ظہار
١۔ظہار کی رسم جس طرف قرآن مجید کی دوآیتوں میں (زیربحث آ یت اور سورئہ احزاب آ یت ٤) اشارہ ہواہے ،زمانہ ٔ جاہلیّت کے قبیح کاموں میں سے تھی ۔ جب کوئی مرد اپنی بیوی سے اکتاجاتاتو اس غرض سے کہ عورت کوتنگ کرے یہ کہہ دیتاکہ (انت علیّ کظہرا مّی)تُو میرے لیے میری مان کی طرح ہے (٧) ۔ ٧۔ ظھر مندرجہ بالا عبارت میں جیساکہ بعض مفسّرین نے لکھاہے پُشت کے معنی میں نہیں ہے بلکہ کنایہ ہے اس رابط کاجو زوجیت کی وجہ سے حاصل ہوتاہے ۔ اس وجہ سے اس جملہ کے معنی یہ ہوں گے (تجھ سے زوجیت والا رابط اپنی ماں سے رابطے کی طرح ہے ) لسان العرب مادہ ظہر اورتفسیر خوارزمی کی طرف رجوع فرمائیں ۔ اس کے بعد وہ یہ سمجھتا تھاکہ عورت اس پرہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی یہاں تک کہ وہ دوسرا شوہر بھی نہیں کرسکتی تھی ۔ اس طرح وہ عضومعطل ہوکررہ جاتی ۔ اسلام نے اس اقدام کو،جیساکہ ہم نے دیکھا ہے ،غلط قراردیا اوراس کے بارے میں کفّارہ کاحکم صادر کیا۔لہٰذا اگرکوئی مرد اپنی بیوی سے ظہار کرے تو اس کی بیوی حاکم ِ شرعی سے رجوع کرکے اس مرد سے یاتو طلاق حاصل کرسکتی ہے یااسے ازدواجی زندگی کی طرف پلٹ جانے کا پابند بناسکتی ہے ۔لیکن ازدواجی زندگی کوبحال کرنے سے پہلے وہ کفّارہ جومندرجہ بالاآ یات میں ہم نے پڑھاہے اس مرد کواداکرنا ہوگا۔یعنی استطاعت کی صُورت میں غلام آزاد کرے اور اگرایسانہ کرسکے تومسلسل دومہینے تک روزے رکھے اوراگر اس کی بھی مقدرت نہ ہو تو پھر ساٹھ مسکینوں کوکھانا کھلائے اس طرح یہ کفّارہ اصلاح وتربیّت کاکام کرتاہے ۔ ٢۔ظہار گناہان ِکبیرہ میں سے ہے اور مندرجہ بالا آ یات کالب ولہجہ اس پر گواہ ہے ۔ یہ جوبعض فقہانے اسے صفائرمیں شمارکیاہے اوروہ اسے قابل ِ معافی سمجھتے ہیں یہ درست نہیں ہے ۔ ٣۔ اگرکوئی شخص کسی قسم کابھی کفّارہ اداکرنے کی قدرت نہیں رکھتا توکیاصرف توبہ واستغفارپراکتفاکرسکتاہے اور ازدواجی زندگی کی طرف پلٹ سکتاہے ؟ فقہا کے درمیان اس میں اختلاف ہے ۔ ایک جماعت اس حدیث پرانحصار کرتے ہوئے جوامام جعفرصادق علیہ السلام سے منقول ہے (٨) ۔ ٨۔ وسائل الشیعہ جلد ١٥ ،صفحہ ٥٥٤( حدیث ١ باب ٢) ۔ اس نظر یہ کی حامل ہے کہ دُوسرے کفاروں کے سلسلہ میں توعدم استطاعت کی صُورت میں تو بہ کفایت کرسکتی ہے لیکن کفارۂ ظہار میں کفایت نہیں کرتی ،لہٰذا اطلاق کے ذریعہ انہیں ایک دوسرے سے الگ کیاجائے ، ایک دوسری جماعت کانظر یہ یہ ہے کہ یہاں توبہ واستغفار کفّارہ کا بدل ثابت ہوں گے اوروہ اس کی دلیل ایک اورروایت سے پیش کرتے ہیں جوامام جعفرصادق علیہ السلام سے منقول ہے(٩) ۔ ٩۔ وسائل الشیعہ صفحہ ٥٥٥(حدیث ٤) ۔ بعض کایہ بھی نظر یہ ہے کہ بصُورتِ استطاعت اٹھا رہ دن کے روزے کافی ہیں(١٠) ۔ ١٠۔کنزالعرفان جلد ٢،صفحہ ٢٩٢۔ مذکورہ روایتوں کوایک جگہ جمع کرنابھی ممکن ہے ،اس طرح سے کہ ہرطرح کے عدمِ استطاعت کی صورت میں ازدواجی زندگی کی طرف پلٹا جاسکتاہے ۔ اگر چہ مستحب ہے کہ ایسی صورت میں طلاق دے کربیوی سے الگ ہوجائے (کیونکہ اس قسم کی جمع دونوں احادیث کے معتبر ہونے کی صُورت میں ایک واضح جمع ہے اور فقہ میں اس کی بہت سی نظائر ہیں) ۔ ٤۔بہت سے فقہاکانظر یہ ہے کہ اگرکئی مرتبہ ظہار کرے (یعنی مذکورہ جملے کی شدّتِ قصد کے ساتھ تکرار کرے توپھراسے اتنے ہی کّفارے دینے ہوں گے ،خواہ ایک ہی دفعہ تکرار صُورت پذیر ہومگر یہ کہ تکرار سے اس کا مقصد صرف تاکید ہونہ کہ نیاظہار۔ ٥۔ جب کفّارے ادا کرنے سے پہلے اپنی بیوی سے جنسی اختلاط کرے ،تووہ کفّارے دینے ہوں گے ،ایک کفارہ ظہار کا اور دوسراکفّارہ ظہار کاکفارہ اداکرنے سے پہلے جنسی اختلاط کا، اس حکم پرفقہا کے درمیان اتفاق رائے ہے البتہ مذکورہ آیات اس کے بارے میں خامو ش ہیں لیکن روایات ِ اہلبیت میں اس کی طرف اشارہ ہواہے (١١) ۔ ١١۔ وسائل الشیعہ جلد ١٥ ،صفحہ ٥٢٦(حدیظ١،٣،٤،٥،٦) ۔ ٦۔ ظہار کے بارے میں اِسلام کاواضح اورقطعی طرزِ عمل اس حقیقت کوپیش کرتاہے کہ اسلام اس امر کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ خود غرض مرد ظالمانہ رسم ورواج سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے عورت کے حقوق کوپامال کریں، بلکہ وہ ہراِس غلط اور بے ہودہ رسم ورواج کوجولوگوں میں رائج ہو،خواہ وہ کتنا ہی مضبُوط مستحکم کیوں نہ ہو ،ختم کرتاہے ۔ ٧۔ ایک غلام کوآزاد کرناجوظہار کاپہلا کفّارہ ہے علاوہ اس کے کہ وہ خُود غرض مردوں کے چنگل میںپھنسی ہوئی عورت کی غلامی اور کنیزی کے ساتھ ایک ایک پُرکشش مناسبت رکھتا ہے بلکہ یہ بھی بتاتاہے کہ اسلام چاہتاہے کہ تمام ممکنہ طریقوں سے غلامی کی رسم کوختم کرے لہٰذا نہ صِرف کفّارۂ ظہار میں بلکہ قتل خطا کے کفّارے میں،اسی طرح ماہ ِ رمضان کے روزے کے کفّارے میں ، (جس نے عمداً روزہ رکھاہو)،اسی طرح قسم کی مخالفت کے کفّارے میںیانذر توڑ نے کے بارے میں یہی آمر وارد ہواہے جو غلاموں کی اصلی آزادی کوعملی حیثیت سے حقیقی بنانے کاخود ایک مؤثر ذریعہ ہے ۔