فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ
So when it reaches the throat [of the dying person],
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 56:83
[Pooya/Ali Commentary 56:83] Aqa Mahdi Puya says: If man thinks that life and death is not controlled by a supreme authority then he, as a conscious being having independent existence, should demonstrate his control over life and death, by bringing back the life after dying but he cannot do so as neither he is independent nor has he authority.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 56:83-87
جس وقت کہ جان گلے تک پہنچ جائے گی
منجملہ دیگرحسّاس لمحات کے جوانسان کوبہت زیادہ گہری فکر میں مستغرق کردیتے ہیں احتضار، یعنی انسانی زندگی کے اختتام کالمحہ ہے ۔ یہ وہ لمحہ ہے کہ جہاں معاملہ انسان کے اختیار سے باہر ہوجاتاہے اورآس پاس کھڑے ہوئے لوگ جان کنی میں مبتلا فرد کو نااُمیدی سے دیکھتے ہیں کہ یہ شمع کی طرح ہے جس کی زندگی ختم ہوچکی ہے اورآہستہ آہستہ بُجھ رہی ہے ۔وہ زندگی سے رُخصت ہوتاہے ۔اس وقت اس کوکوئی نہیں بچا سکے گا۔ جی ہاں انسان کامکمل صنعف ان حسّاس لمحات میں آشکار ہوجائے گا ۔ نہ صرف گزشتہ زمانوں میں ، بلکہ موجودہ زمانے میں بھی ، علاج کی تمام سہولتوں کے باوجود،جان کنی کے عالم کی زبوں حالی بالکل گزشتہ دُور کی طرح واضح وآشکار ہے ، قرآن مجید معاد کے مباحث کی تکمیل اور منکرین ومکذّبین کی جواب دہی میں اس لمحے کی گویا تصویر کشی کرتے ہوئے کہتاہے: پس کیوں جس وقت جان گلے میں آ جائے گی تواس کواپس لوٹانے کی طاقت تم نہیں رکھتے (فَلَوْ لا ِذا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ )(١) ۔ اورتم اس حالت میں نظارہ کروگے اورتم سے کچھ نہیں ہوسکے گا (وَ أَنْتُمْ حینَئِذٍ تَنْظُرُون) ۔ یہاں مخاطب وہ لوگ ہیں جو جان کنی میں مبتلا فرد کے متعلقین ہیں، ایک تووہ اس کی خسة حالت کودیکھیں گے ، دوسرے اپنی بے چار گی وناتوانی کومحسوس کریں گے اور یہ بھی دیکھیں گے کہ موت وحیات خداکے ہاتھ میں ہے ۔اس کسی کا کوئی اختیارنہیں ہے اوروہ اس سے بھی باخبر ہیں کہ ان کا اپناانجام بھی یہی ہو ناہے (٢) ۔ اس کے بعد پروردگار ِ عالم مزید فر ماتاہے: حالانکہ تمہاری نسبت ہم اس کے زیادہ قریب ہیں اورہمارے فرشتے جواس کی رُوح قبض کرنے کے لیے آمادہ ہیں، وہ بھی تمہاری نسبت اس کے زیادہ قریب ہیں لیکن تم نہیں دیکھتے (وَ نَحْنُ أَقْرَبُ ِلَیْہِ مِنْکُمْ وَ لکِنْ لا تُبْصِرُون) ۔ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ جاں کنی میںمبتلا شخص کی جان پرکیاگزررہی ہے اوراس کے وجود کی گہرائی میں کیسا تلاطم برپاہے اوروہ ہم ہی ہیں جس نے اس کی رُوح کے قبض کرنے کامعیّن وقت پر فرمان جاری کیاہے لیکن تم توصرف اس کے ظاہری حالات کودیکھتے ہواوراس گھر سے دوسرے گھرکی طرف انتقال سے اوران طوفانوں سے جواس وقت برپاہیں ،تم بے خبرہو ، اِس بناپر اس آ یت سے مراد خدا کاجان کنی میںمبتلا فرد سے قریب ہوناہے ، بعض مفسّرین نے یہ احتمال پیش کیاہے کہ اس سے مراد رُوح قبض کرنے والے فرشتہ کانزدیک ہوناہے لیکن پہلی تفسیرآ یت کے ظاہر سے زیادہ ہم آہنگ ہے ،بہرحال نہ صرف اس موقع پر بلکہ ہر حالت میں خداہرشخص کی نسبت ہم سے زیادہ نزدیک ہے یہاں تک کہ وہ خود ہم سے بھی ہم سے زیادہ نزدیک ہے ۔اگرچہ ہم بے خبری کی وجہ سے اس سے دُور ہیں ۔ ا س حقیقت کااظہار جاں کنی کے موقع پر دیگرتمام موقعوں کی نسبت زیادہ واضح و آشکار ہے ، اِس کے بعد مزید تاکید کے لیے اور اس حقیقت کونمایاں کرنے کے لیے مزید فرماتاہے : اگرتمہیں تمہارے اعمال کی بالکل جزانہ دی جائے (فَلَوْ لا ِنْ کُنْتُمْ غَیْرَ مَدینینَ ) تو پھر اس کوواپس لوٹا دو اگرتم سچّے ہو (تَرْجِعُونَہا ِنْ کُنْتُمْ صادِقین)یہ تمہاراضعف اس بات کی دلیل ہے کہ موت وحیات کا مالک کوئی اور ہے اورجزا وسزا کسی اور کے ہاتھ میںہے اوروہ وہی ہے کہ جومارتاہے اور زندہ کرتاہے ۔ مدینین جمع ہے مدین کی یہ دین کے مادّہ سے ہے جس کے معنی جزاہیں ، بعض نے اس کے معنی مربوبین بتائے ہیں، یعنی اگراَب تمہارا کوئی اورنہیں ہے اوراپنے امر کے تم خود ہی مالک ہوتواس کوواپس لوٹادو ، یہ خود اس امر کی دلیل ہے کہ تم کسی اورکے محکوم ہو۔ ١۔آ یت محذوف رکھتی ہے جس کاگزشتہ آیات سے استفادہ ہوتاہے اورتقدیر عبارت اور اس طرح ہے ۔( فلولا اذا بلغت الحلقوم لاتر جعونھاولاتملکون شیئاً )یہاں فعل کامؤ نث ہونااس بناپر ہے کہ وہ نفس کی طرف لوٹتاہے ۔ ٢۔یہ جو بعض مفسرین نے احتمال پیش کیاہے کہ یہاں مخاطب جاں کنی میں ،مبتلاہونے والاشخص ہے ،بہت بعید نظر آتاہے کیونکہ بعد والی آیت واضح کرتی ہے کہ مخاطب اس کے متعلقین اور ارد گرد بیٹھنے والے افراد ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 56:83-87
سوره واقعه/ آیه 83- 87
٨٣۔ فَلَوْ لا ِذا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ۔ ٨٤۔ وَ أَنْتُمْ حینَئِذٍ تَنْظُرُونَ۔ ٨٥۔ وَ نَحْنُ أَقْرَبُ ِلَیْہِ مِنْکُمْ وَ لکِنْ لا تُبْصِرُونَ۔ ٨٦۔ فَلَوْ لا ِنْ کُنْتُمْ غَیْرَ مَدینینَ۔ ٨٧۔تَرْجِعُونَہا ِنْ کُنْتُمْ صادِقین۔َ ترجمہ ٨٣۔ پس کیوں جب کہ رُوح گلے تک پہنچ جائے گی (اسے واپس لوٹانے کی تم توانائی نہیں رکھتے )؟ ٨٤۔اورتم اس حالت میں نظارہ کروگے (اورکوئی کام تمہارے ہاتھ سے نہیں ہوسکے گا) ۔ ٨٥۔اورہم اس سے زیادہ نزدیک ہیں تمہاری نسبت لیکن تم دیکھتے نہیں ہو۔ ٨٦۔ اگرتمہارے اعمال کی تمہیں بالکل جزانہ دی جائے ۔ ٨٧۔توپھراس کولوٹا دواگر وسچ کہتے ہو ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 56:83-87
٢۔ کیاجانکنی تدریجی امر ہے ؟
جان کے گلے تک پہنچنے کی تعبیر جوگزشتہ آیات میں آ ئی ہے (فلولااذ ابلغت الحلقوم)وہ زندگی کے آخری لمحات کاکنایہ ہے ۔شاید اس کامنشایہ ہے کہ زیادہ تراعضائے بدن ہاتھ پیروغیرہ موت کے وقت باقی اعضاسے پہلے بیکار ہوجاتے ہیں اور گلا وہ عضو ہے جوسب سے آخر میں بیکار ہوتاہے ۔سورہ قیامة کی آ یت ٢٦ میں ہم پڑھتے ہیں (کلّا اذابلغت التراقی ) کفّار کبھی ایمان نہیں لائیں گے ،یہاں تک کہ رُوح ان کی (ترقوہ ) ہنسلی کی ہڈی تک پہنچ جائے۔ترقوہ وہ ہڈ یاں ہیں جوحلق کے اطراف کوگھیرے ہوئے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 56:83-87
١۔ جبّارین کی ناتوانی کا لمحہ
حقیقت میں ان آ یات کامقصودِ کلام یہ ہے کہ موت وحیات کے مسئلہ پرخدا کے اختیار کوبیان کیاجائے تاکہ اس سے مسئلہ معاد تک ایک پُل بنایا جاسکے ، اس موقع پر موت اورجاں کنی کا انتخاب انسان کی مکمّل ناتوانی اوراس کے ضعف کے ظہور کی وجہ سے ہے ، باوجود اس تمام اختیار کے جس کو وہ اپنے لیے خیال کرتاہے ، یہ امر معیوب نہیں کہ بعض ایسے جبّار لوگوں کی طرف ہم توجہ کریں جن کے اوج ِقدرت واختیار میں ان کی موت کالمحہ آ یا ہے تاکہ ان آیتوں کی گہرائی زیادہ آشکار ہو، مسعود ی نے مروج الذہب میں مامومن اوراس کی فوج کی روم سے جنگ کے بارے میں ایک داستان بیان کی ہے جس کاخلاصہ کچھ اس طرح ہے ،مامون جس وقت میدان ِ جنگ سے لوٹ رہاتھاتووہ بدیدوںنامی چشمے پرپہنچا جوقشیرہ کے علاقہ میں مشہور ہے ۔آرام کرنے کی غرض سے اس نے وہاں پڑاؤ کیا، اس چشمے کے پانی کی صفائی ، ٹھنڈک اور چمک نے اسے بہت مسُرور کیااوراس طرح وہ اس علاقہ کی شادابی ، تازگی اوربشاشت سے سے بہت خوش ہوا۔ اس نے حکم دیاکہ درختوں کو کاٹ کرچشمہ پرایک پُل بنادیں اوراس پرلکڑیوں اورپتوںسے ایک چھت بنادیں ،وہ وہاں ارام کرنے لگا اس حالت میں کہ پانی اس کے پاؤں کے نیچے سے گُزررہاتھا ،پانی اس قدر صاف وشفاف تھا کہ اس نے ایک درہم پانی کے اندرپھینکا جوپانی کہ تہہ میں پہنچ گیالیکن اس پر جوتحریر کندہ تھی وہ صاف پڑھی جارہی تھی ۔ پانی اس قدر ٹھنڈاتھاکہ کوئی اس میں ہاتھ نہیں ڈال سکتاتھا۔اسی اثنا میں ایک مچھلی جوخاصی بڑی تھی ، تقریباً ایک ہاتھ کے برابر ہوگی ،وہ ظاہر ہوئی مچھلی بالکل ایک چاندی کے ٹکڑے کی طرح تھی ،مامون نے کہاجوشخص اس کوپکڑکرلائے گامیں اس کوتلوار انعام میںدوں گا ۔ایک خدمت گار نے پیش قدمی کی اوراس کوپکڑلیا ،جس وقت اس مچھلی کووہ مامون کی خدمت میں لایاتومچھلی نے ہلنا شروع کردیا اوروہ خدمت گار کے ہاتھ سے نکل کرباہر گرپڑی اورایک پتھر کے ٹکڑے کی طرح پانی میں گِرگئی ۔اس کے گرنے سے تھوڑاساپانی مامون کے گلے سینے اور شانوں پرپڑا اوراس کالباس خاص بھیگ گیا، خدمت گار دوبارہ پانی میں اُترگیا اوراس نے مچھلی کوپکڑلیا اوراس کوایک رومال میں لپیٹ کرمامون کے سامنے رکھ دیا اس حالت میں کہ وہ مچھلی حرکت کررہی تھی ۔ مامون نے کہاابھی ابھی اسے بھون کرسُرخ کرو، اسی اثنا میں مامو ن اچانک سردی کی وجہ سے کانپنے لگا اورحالت یہ ہوئی کہ وہ دوقدم چل نہیں سکتاتھا ،اُسے کئی لحاف اوڑھائے گئے مگروہ پھر بھی کپکپا تا رہا، وہ چلّا رہاتھا سردی سردی ۔اس کے لیے آگ جلائی گئی پھر بھی اسے افاقہ نہ ہوا۔اسی اثنامیں مچھلی سُرخ کرکے اس کے لیے لیے آئے لیکن وہ اس کوچکھ بھی نہ سکا جب اس کی حالت زیادہ خراب ہوگئی تو بختیشوو اورابن ماسویہ جودونوں شاہی طبیب تھے ،طلب کیے گئے اس وقت مامون نزع کے عالم میں تھا، بختیشوع نے اس کا ایک ہاتھ اورابن ِ ماسوریہ نے دُوسراہاتھ پکڑکر اسکی نبض دیکھی جومکمّل طورپر غیر معتدی تھی اور اس کی موت کی خبردے رہی تھی۔اس حالت میں اُسے ایک خاص قسم کاپسینہ آرہاتھا جوتیل کی طرح چپکنے والاتھا، یہ دونوں طبیب اسکی تشخیص میں منہمک تھے ،ان دونوں نے اقرار کیا کہ انہوں نے ایسی کسِی مرض کی تعلیم حاصل نہیں کی ، بہرحال جوصورت ِ حال ہے وہ اس کی موت کی خبردیتی ہے مامون کی حالت اورزیادہ خراب ہوگئی توکہنے لگامجھے کسی اُونچی جگہ لے چلوجہاں سے میں اپنے لشکر کودیکھ سکوں ، اس وقت شام ہوچکی تھی ۔اے اُونچی جگہ پر لے جایا گیاہے ۔ وہاں سے جب اس نے اپنے لشکریوں کے خیموں اوراس بہت سی آگ کودیکھا جو لشکرنے اپنے پڑاؤ میں روشن کررکھی تھی تاس نے کہا:یامن لایزول ملکہ ارحم من قدزال ملکہ ۔اے وہ خداجس کی حکومت کوکبھی زوال نہیں ہے اس پررحم کرجس کی حکومت روبہ زوال ہے ۔اس کے بعداُسے اُٹھا کرلائے اور بستر پرلٹا دیاگیااورایک شخص کواس کے پاس بٹھایا جواسے شہادتین کی تلقین کرے ،چونکہ مامون کہ سماعت کمزور ہوچی تھی ، اس شخص نے اپنی آواز بلند کی توابن ما سویہ نے کہا فریاد نہ کراور اُونچی آواز نہ نکال ،خداکی قسم وہ اس وقت خدااور مانی کے درمیان فرق نہیں کرسکتا۔ اس وقت مامون نے آنکھیں کھول دیں ۔اس کی آنکھوں کے ڈھیلے اتنے سُرخ ہوچکے تھے کہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے ۔ وہ چاہتاتھا کہ اپنے ہاتھ سے ابن ماسویہ کی خبرلے لیکن اس پر اُسے قدرت نہ تھی ،بس اسی لمحہ اس کی جان نکل گئی ( 1) ۔ ہوسکتا ہے کہ اس کی بیماری پہلے سے ہویابعض مؤرخین کے بقول جوشخص اُس چشمے کاپانی پیتاتھا بیمار ہوجاتاتھا، وہ مچھلی زہریلے اثرات رکھتی تھی ،جوکچھ بھی تھا اس کی حکومت وقدرت چند لمحوںمیں ختم ہوگئی اور بڑے بڑے جنگ کے میدانوں کاقیر مان وسپہ سالا ر موت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پرمجبور ہوگیا۔اس لمحے کس میں قدرت نہ تھی کہ وہ اس کے لیے کوئی قد م اُٹھائے یاکم از کم اسے اس کی اصل منزل یعنی اس کے گھرتک لے جائے ، تاریخ کے دامن میں اس قسم کی بہت سی عبرت انگیز داستانیں ہیں ۔ 1۔مروج الذھب ،مطابق نقل سفینة ،البحار جلد ١ صفحہ ٤٤۔