وَمِن دُونِهِمَا جَنَّتَانِ
Beside these two, there will be two [other] gardens.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 55:62
[Pooya/Ali Commentary 55:62] (see commentary for verse 46)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 55:62-69
پھلوں کی قدرو قیمت
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ مندرجہ بالا آ یتوں میں جنّت کی غذاؤں کے سلسلہ میں صرف پھلوں پرانحصار کیاگیاہے اورتمام پھلوں میں سے خرما اوراناکارکانام لیاگیاہے اورتعجب کی بات یہ ہے کہ کھجور کے درخت کونخل کیاگیاہے ،لیکن انار کے بارے میںخُود پھل کانام لیاہے یقیناہرایک میں کوئی نکتہ پوشیدہ ہے ،جنّت کی غذاؤں کے سلسلہ میں خصوصیّت کے ساتھ پھلوں کاذکراس اہمیت کی بناپر ہے کہ جوغذائیت کے سلسلہ میں پھلوںکوحاصل ہے ،یہاں تک کہ انسانوں کوپھل کھانے والی مخلوق کہاجاتاہے ،پھلوں کانقش اوران کا اثرانسان کی خوشی اور شادابی کے سلسلہ میں نہ صِرف علمی نقطہ نظر سے بلکہ عام تجربات کی رُو سے بھی نمایاں ہے ،باقی رہاکھجور کے درخت کاذکر، اس کے پھل کی بجائے ،توممکن ہے یہ اس لحاظ سے ہوکہ کھجور کادرخت اپنے پھل کے علاوہ بھی کئی حیثیتوں سے فائدہ مند ہے ، جب کہ انار کادرخت ایسانہیں ہے ،کھجور کے پتوں کے مختلف قسم کابیان تیارکیا جاتاہے ،مثلاً فرش، ٹوپی ، حمل ونقل کے مختلف ذرائع حتّی کہ اس سے سونے کے لیلے چار پائی بھی بنائی جاتی ہے۔اس کے چھلکوں سے مختلف فائدے اٹھائے جاتے ہیں ،اس کے بعض اجزاء پل کے طورپر استعمال کرتے ہیں۔ اَب رہی یہ بات کہ جنت کے پھلوں میں سے صرف دو کاذکر کیوں ہواتو یہ ان دونوں کے تنوع کی وجہ سے ہے ۔ ان میں سے ایک ، عام طورپر ، گرم علاقوں میں اُگتا ہے ،دُوسرا سرد علاقوں میں، ایک میں قند وشکر کامادّہ ہے دوسرے میں تیزابی ایک مزاج و طبیعت کے اعتبار سے گرم ہے ،دوسرا سرد ایک غذاہے اور دوسرا پیاس کودُور کرتاہے ،کھجور میں موجود موادِ حیاتی اوراس کے کئی وٹامن کہ جو موجودہ زمانے میں معلوم ہوئے ہیں، ان کے بارے میں یہ معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ کھجور میں تیرہ سے زیادہ حیاتیاتی اور مادّہ اورپانچ قِسم کے وٹامنز ہیں، اس کے علاوہ اس کے اوردوسرے خواص ہیں جن کے بارے میں ہم سُورئہ مریم کی آ یت ٢٥ کے ذیل میں ایک قوّت بخش غذا کے عنوان کے تحت گفتگو کرچکے ہیں ( ۱)۔ باقی رہا انار تو وہ بعض اسلامی روایات میں سیّد الفاکھة یعنی بہترین پھل کی حیثیت سے پیش کیاگیاہے ( ۲)۔ وہ ماہرین جوغذا شناسی میں اِمتیازِ خاص رکھتے ہیں ،انہوںنے اس سلسلہ میں بہت باتیں کہی ہیں ،منجملہ دوسری خصوصیات کے انہوںنے کھجور میںخُون صاف کرنے کی صلاحیّت کاانکشاف کیاہے اور بتا یاہے کہ اس میں وٹا من (ث) کی کافی مقدار ہوتی ہے انار کے بارے میں بھی بہت سے فوائد کتابوں میں ملتے ہیں ،یہ معدہ کوتقویت دیتاہے ،پُرانے زخم کواچھا کرتاہے ،پرقان اورصفرا کے بخار کودُور کرتا ،دفع خارش کے لیے مفید ہے ، نظر کو تقویت دیتاہے ،مسوڑھوں کے لیے قوّت بخش ہے اورا سہال کو ختم کرتاہے ۔امام جعفرصادق علیہ السلام کی ایک حدیث ہے : (اطعمواصبیا نکم الرمان فانہ اسرع لشبابھم )۔ اپنے بچّوں کوانار کھلا ؤ یہ ان کوجلد جوان کرتاہے (۳)۔ ایک اورحدیث میں ہے :(فانہ اسرع لالسنتھم) انکارکھانے سے بچّے زیادہ جلدی بولنے لگتے ہیں(۴)۔ ایک اورحدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام اورامام جعفرصادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: ماعلی وجہ الارض ثمرة کانت احب الی رسول اللہ من الرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوانار سیزیادہ رُوئے زمین کاکوئی پھل پسند نہیں تھا (۵)۔ ۱۔ "" تفسیر نمونہ "" جلد ٧ صفحہ ٢٥٢۔ ۲۔یہ تعبیر ایک حدیث میں پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے منقول ہے "" بحارالا نوار "" جلد ٦٦ ،صفحہ ١٦٣۔ ۳۔"" بحارالانوار "" جلد ٦٦ ،صفحہ ١٦٤۔ ۴۔"" بحارالانوار "" جلد ٦٦ ،صفحہ١٦٥۔ ۵۔کافی جلد٦ ،صفحہ ٣٥٢۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 55:62-69
دو اور جنّتیں اپنے حیران کُن اوصاف کے ساتھ
گزشتہ بحث کوجاری رکھتے ہوئے جس میں خوف ِ خدا رکھنے والوں کونصیب ہونے والی عالی قدر بہشتوںکے بارے میں گفتگو کررہاتھا پروردگار ِ عالم اِن آیتوںمیں دو اورجنّتوں کی بات کرتاہے جوپست درجہ میں ہیں اورقدرتاً ایسے افراد کے لیے ہیں کہ جو ایمان اورخوفِ الہٰی کی بہت نچلی سطح پرفائز ہیں ،دوسرے لفظوں میں ایمان اورعمل ِ صالح کے اعتبار سے مختلف مراتب آتے ہیں ۔ پہلے فرماتاہے : اوران سے نیچے دو اور بہشت ہیں (وَ مِنْ دُونِہِما جَنَّتانِ )۔مفسرین نے اس جملے کی دو تفسیریں کی ہیں ایک تووہی جو ہم اُوپر بیان کرچکے ہیں ،دوسری تفسیر یہ ہے کہ من دونھما کے الفاظ یعنی ان دو جنّتوں کے علاوہ دو اور جنّتیں ان مومنین کے لیے ہیں جونئی نئی اشیاء کے اشتیاق میں بہشت کے ان باغات میں سیر کررہے ہیں ،اِنسان کی طبیعت اوراس کامزاج نئی نئی اشیاء میں دلچسپی کاعادی ہے اوراس سے اس کولُطف حاصل ہوتاہے ، لیکن اِن آیتوں کے لب ولہجہ سے اوران روایتوں کی رُوسے جواس تفسیرمیں وارد ہوئی ہیں ،پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے ۔پیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آ یت کی تفہیم کے بارے میں فرمایا: جنتان من فضة واٰنیتھما ومافیھما وجنتان من ذھب اٰنیتھما وما فیھما دو جنتیں جن کی عمارت اورجو اشیاان میں ہیں وہ سب چاندی کی ہیں اوردو جنّتیں ایسی ہیں کہ جن کی عمارت اورجوکچھ ان میں ہے وہ سب سونے کاہے ۔ سونے اور چاند ی کی تعبیر ممکن ہے کہ اِن دونوں نعمتوں کے فرق کی طرف اشارہ ہو (١)۔ ایک اورحدیث جوامام جعفرصادق علیہ السلام سے منقول ہے ،اس میں ہمیں ملتاہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: (لا تقولن الجنة واحدة ،ان اللہ یقول ومن دونھا جنتانولا تقولن درجة واحدة ان اللہ یقول درجات بعضھا فوق بعض انما تفاضل القوم بالا عمال )۔ یہ نہ کہہ کہ ایک جنّت ہے کیونکہ خداکہتاہے : ان دوجنّتوں کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں اور یہ بھی نہ کہہ کہ ایک درجہ ہے کیونکہ خدافرماتاہے : کئی درجات ہیں جن میں سے بعض بعض سے بہتر ہیں اور یہ فرق اعمال کی بُنیاد پرہے (٢)۔ اِسی وجہ سے پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی ایک حدیث میں ہے : جنتان من ذھب للمقربین وجنتان من ورق لاصحاب الیمین ۔ دو سونے کی جنّتیں ہیں کہ جومقر بین بارگاہ کے لیے ہیں اور دو جنّتیں چاندی کی ہیں کہ جو اصحاب الیمین کے لیے ہیں (٣)۔ اس کے بعد پھر فرماتاہے : تم اپنے پروردگارکی کِس کِس نعمت کاانکار کروگے (فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبانِ)۔اس کے بعد ان دونوں جنّتوں کی وہ پانچ خصوصیتیں کہ جن میں سے کچھ اس کے ساتھ مشابہت رکھتی ہیں جوسابقہ دوجنّتوں کے بارے میں بتائی گئیںاورکچھ اُن سے مختلف ہیں اوران کوبیان کرتے ہوئے کہتاہے وہ دُونوں پُرمسرّت وسرسبز ہیں (مُدْہامَّتانِ )۔ مُدْہامَّتانِ کا مادّہ ادھیمامہے اور دھمہ (بروزن تہمہ )کی جڑ سے سیاہی اوررات کی تایکی کے معنوں میں ہے خوش رنگ سبز پربھی اس کااطلاق ہوتاہے اور چونکہ اس قسم کارنگ گھاس اور درختوں کی انتہائی شادابی کی علامت ہوتاہے لہٰذا یہ تعبیران دونوں جنّتوںکی انتہائی سرسبزی وشادابی کوبھی واضح کرتی ہے اِس مقام پر پھراضافہ کرتاہے تم اپنے پروردگار کی کِس کِس نعمت کا انکار کروگے (فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبان)۔ اس کے بعد والی آ یت میں ایک اورصفت ِ پیش کرتے ہوئے کہتاہے : ان دونوں جنّتوں میں دو چشمے ہیں جوجوش ماررہے ہیں (فیہِما عَیْنانِ نَضَّاخَتان)۔ تضاختان کامادّہ نضخ ہے جس کے معنی پانی کے اُبل کرنکلنے کے ہیں ،ایک مرتبہ پھرجن میں اِنس سے استفہام انکاری کی صورت میں پوچھتاہے تم اپنے پر وردگار کی کِس کِس نعمت کو جھٹلاؤ گے (فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبان) ۔ اِنس کے بعد آ یت ان دونوں جنّتوں کے پھلوں کے بارے میں کہتی ہے : اُن میں پھل کثرت سے ہیں اورخرما اورانگور کے درخت ہیں (فیہِما فاکِہَة وَ نَخْل وَ رُمَّان )۔اس میں شک نہیں کہ فاکھة کاایک وسیع مفہوم ہے اوراس سے تمام قسم کے پھل مُراد ہوتے ہیں لیکن کھجور اورانار کی اہمیّت اس کاسبب بنی ہے کہ اِن دو پھلوں کابطور خاص ذکر کیاجائے ،اور یہ جوبعض مفسّرین نے خیال کیاہے کہ مذکورہ دونوں پھل فاکھة کے مفہوم میں شامل نہیں ہیں ،یہ غلط ہے ،کیونکہ علمائے لغت نے اس کوتسلیم نہیں کیا۔ اصولاً عام پر خاص کا عطف ایسے مواقع پرجب کوئی خاص امتیاز نہ رکھتا ہو،معمول میں داخل ہے ، جیساکہ کہ سورئہ بقرہ کی آ یت ٩٨ میں ہے (مَنْ کانَ عَدُوًّا لِلَّہِ وَ مَلائِکَتِہِ وَ رُسُلِہِ وَ جِبْریلَ وَ میکالَ فَِنَّ اللَّہَ عَدُوّ لِلْکافِرین) جوشخص خدا، اس کے ملائکہ اوراس کے بھیجے ہوئے رسولوں اورجبرئیل ومیکائیل کادُشمن ہو( اورکافر ہو) تو خداکافروں کادشمن ہے یہاں جبرئیل ومیکائیل کوجوخُدا کے عظیم فرشتوں میں سے دوفرشتے ہیں ،ملائکہ کے بیان کے بعد، بطورعام مورد توجہ قرار پائے ہیںپھر اس سوال کی تکرار کرتے ہوئے فر ماتاہے:تم دونوں اپنے پروردگار کی کِس کِس نعمت کاانکار کروگے (فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبانِ)۔ ١۔"" مجمع البیان "" زیربحث آ یات کے ذیل میں ۔ ٢۔ "" مجمع البیان "" آیات زیربحث کے ذیل میں ۔ ٣۔"" درالمنثور"" ،جلد ٦ صفحہ ١٤٦ جیساکہ ہم نے کہا کہ سونے اور چاندی کی تعبیر ہوسکتاہے کہ ان دونوں جنتوںکے مرتبہ کے فرق کی طرف اشارہ ہے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 55:62-69
سوره الرحمن/ آیه 62- 69
٦٢۔ وَ مِنْ دُونِہِما جَنَّتانِ۔ ٣٦۔فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبانِ۔ ٦٤۔مُدْہامَّتانِ۔ ٦٥۔ فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبانِ۔ ٦٦۔ فیہِما عَیْنانِ نَضَّاخَتانِ۔ ٦٧۔ فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبانِ۔ ٦٨۔فیہِما فاکِہَة وَ نَخْل وَ رُمَّان۔ ٦٩۔فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبانِ۔ ترجمہ ٢٦۔اوران سے بہت نیچے دو اور بہشت ہیں ۔ ٦٣۔تم اپنے پروردگار کی کِس کِس نعمت کو چھٹلا ؤ گے ؟ ٦٤۔ دونوں مکمّل طورپر پُر مسّرت وسرسبز ہیں۔ ٦٥۔تم اپنے پروردگار کی کِس کِس نعمت کوچھٹلاؤ گے ؟ ٦٦۔ان میں دوچشمے جوش کی حالت میں ہیں۔ ٦٧۔تم اپنے پروردگار کی کِس کِس نعمت کوجھٹلاؤ گے ؟ ٦٨۔ ان میں پھل کثرت سے ہیں اورکھجور اورانار کے درخت ہیں ۔ ٦٩۔تم اپنے پروردگار کی کِس کِس نعمت کوجھٹلاؤ گے ؟