كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ
Everyone on it is ephemeral,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 55:26
[Pooya/Ali Commentary 55:26]
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 55:26-45
Self-sufficient.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 55:26-30
٢۔ وہ ہر روزایک نئی چیز کی تخلیق کرتاہے ۔
ہم کہہ چکے ہیں کہ ( کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فی شَأْن)والی آ یت اُمید آفریں بھی ہے اورغرورشکن بھی ،نیز یہ استمرار آفرینش ودوامِ خلقت کی نشانی بھی اسی وجہ سے بعض اوقات پیشوا یانِ اسلام افراد کواُمید دلانے کے لیے خصوصیّت کے ساتھ اس آ یت پرانحصار کرتے ہیں جیساکہ حضرت ابوذر کی ربذہ کی طرف وطنی کے واقعہ میں ہمیں ،ملتاہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے بہت ہی گہرے اورپراز معانی جُملوں کے ساتھ حضرت ابوذر کی مشایعت کے موقع پران کی دلداری کی اورانہیں تسلّی دی ، اس کے بعد امام حسین علیہ السلام فرزند ِ رشید المیرالمومنین نے حضرت ابوذر کوچچا کہہ کر کچھ جُملے فرمائے ۔اس کے بعدشہیدوں کے سالار حضرت امام حسین علیہ السلام نے لب کشائی کی اور فرمایا:یا عماہ ان اللہ تعالیٰ قادر ان یغیر ماقد تری اللہ کل یوم ھوفی شأن وقدمنعک القوم دنیاھم ومنعتھم دینک ... فاسئل اللہ الصبروالنصر ۔ چچاجان ! خداوند متعال قادر ہے کہ ان حالات کوبد ل دے اس کی ہر روزایک نئی شان ہے ،انہوںنے آپ کو اپنی دنیا میں مزاحم دیکھا اور آپ کوروک دیا، آپ نے انہیں اپنے دین میں مداخلت کرتے ہوئے دیکھا اوراس سے انہیں روکا ، خداسے نصرت اورصبر و شکیبا ئی کی دُعا کیجئے ( ۱)۔ ہمیں تاریخ میں ملتاہے کہ امام حسین علیہ السلام جس وقت کربلا کی طرف آرہے تھے توجب آپ صفاح نامی منزل پرپہنچنے تو فرزدق نامی شاعر نے آپ علیہ السلام ملاقات کی امام علیہ السلام نے فرمایا: بیّن لی خبرالنّاس من خلفک۔ مجھے بتاؤ کہ لوگوں کوتم نے کس حال میں چھوڑا ہے (عراق کے لوگوں کی طرف اشارہ ہے ) فرزدق نے عرض کیا :(الخبیر سئلت قلوب الناس معک و سیو فھم مع بنی امیہ والقضاء ینزل من المسّماء واللہ واللہ یفعل مایشاء ) آپ علیہ السلام نے ایک آگاہ شخص سے سوال کیا ہے لوگوں کے دل توآپ کے ساتھ ہیں لیکن ان کی تلواریں بنی اُمیّہ کے ساتھ ہیں، البتہ فرمانِ الہٰی آسمان سے نازل ہوتاہے اورخدا ، جو ا س کی مصلحت ہوتی ہے اور اِرادہ کرتاہے ،اسے انجام دیتاہے ۔اس پرامام حسین علیہ السلام نے فرمایا: ( صدقت اللہ الا مریفعل مایشاء وکل یوم ربنا فی شأن ) تُونے سچ کہا۔خُدا جوکچھ چاہتاہے انجام دیتاہے اورہمارے پروردگار کی ہر روز نئی شان ہے اوراس کانیا کام ہے ( ۲)۔ یہ سب باتیں بتاتی ہیں کہ یہ آ یت مومنین کے لیے حوصلہ افزا آیت ،قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ایک امیر نے اپنے وزیر سے اس آ یت کی تفسیر کے سلسلہ میں سوال کیا لیکن اس نے بے خبری کااظہار کیااوردوسرے دن تک مہلت مانگی ، وزیر جس وقت مایوسی کی حالت میں اپنے گھرپہنچا تواُس کے ایک غلام نے جوصاحب ِ معرفت تھا، پوچھا : کیابات ہے ؟ وزیر نے سارا ماجرا بیان کیا ۔اس نے کہاآپ کے پاس جائیں ،اگروہ اجازت دے تو میں اِس کے سامنے پیش کروں گا، بہرحال امیر نے اس غلام کوطلب کیا اوراس سے سوال کیا تواس نے جواب میں کہا: ا ے امیر شأنہ یولج الّیل فی النہار معافاً ویعافی مبتلی فی الّیل ویخرج الحی من ا لمیت من الحی ویشفی سقیما و یسقم سلیماً ویبتلی معافاً ویعا فی مبتلی ویعز ذلیلاً ویذل عزیذاً ویفقر غنیاً ویغنی فقیراً ، خدا کی شان یہ ہے کہ دن اوررات کوایک دوسرے کے بعد لا تا اور لے جاتاہے ،مُردہ سے زندہ کونکا لتاہے اورزندہ سے مُردہ کونکالتاہے ،بیمار کو شفادیتاہے ،صحیح سالم کوبیمار کرتاہے ، تندرست کومبتلا کرتاہے ،مبتلا کو عافیت بخشتاہے ،ذلیل کوعزّت دیتاہے ،عزّت دار کو ذلیل کرتاہے ، دولت مند کو فقیر بناتاہے اورفقیر کودولت مند بناتاہے امیر نے کہا:فرجت عنی فرج اللہ عنک تونے میری مشکل حل کرکی خداتیری مشکل حل کرے گا اس کے بعد اس غلام کوانعام واکرام سے نواز،(۳)۔ ۱۔الغد یر، جلد ٨ ،صفحہ ٣٠١۔ ۲۔ کامل ابنِ اثیر ،جلد ٤،صفحہ ٤٠۔ ۳۔ تفسیر قرطبی ،جلد ٩ ،صفحہ ٦٣٣٧۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 55:26-30
سوره الرحمن/ آیه 26- 30
٢٦۔کُلُّ مَنْ عَلَیْہا فانٍ۔ ٢٧۔وَ یَبْقی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلالِ وَ الِْکْرامِ۔ ٢٨۔فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبانِ۔ ٢٩۔یَسْئَلُہُ مَنْ فِی السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فی شَأْنٍ۔ ٣٠۔ فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبانِ۔ ترجمہ ٢٦۔وُہ تمام لوگ کہ جواس زمین پر ہیں فنا ہوجائیںگے ۔ ٢٧۔ اورصرف تیرے پروردگار کی ذات ذوالجلال والاکرام باقی رہ جائے گی ۔ ٢٨۔ پس تم اپنے پرودگار کی کِس کِس نعمت کوجھٹلا ؤ گے ۔ ٢٩۔ تما وُہ لوگ جو آسمان اورزمین میںہیں اس سے سوال کرتے ہیں اوروہ ہرروز ایک نئی شان میں جلوہ گر ہوتاہے ۔ ٣٠۔ پس تم اپنے پرودگار کی کِس کِس نعمت کوجھٹلا ؤ گے ؟
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 55:26-30
ہم سَب فانی ہیں اوربقاصِرف تیرے لیے ہے:
اپنی نعمت کو جاری رکھتے ہوئے ان آ یتوں میں مزید فرماتاہے: تمام وہ لوگ کہ جو زمین پرزندگی بسرکر رہے ہیںفنا ہوجائیں گے (کُلُّ مَنْ عَلَیْہا فان)۔ یہاں یہ سوال پیداہوتاہے کہ مسئلہ فنااللہ کی نعمتوں میں کِس طرح شمار ہوسکتاہے ، ممکن ہے کہ اس اعتبار سے ہو کہ اس فناسے مُراد فنا ئے مطلق نہیں ہے بلکہ یہ عالم بقا کے لیے ایک دریچے کاکام دیتی ہے ۔ یہ ایک دالان اورگز رگاہ ہے کہ جس کوعبُور کرناسرائے ،تک پہنچنے کے لیے ضروری ولابدی ہے ۔دُنیا اپنی تمام نعمتوں کے باوجود مومن کے لیے زندان ہے اوراس دُنیا سے جاناتنگ وتاریک زندان سے نکلنے کے مترادف ہے ۔ یاپھر فنا کا ذکراس نقطۂ نظر سے کیا گیا ہے کہ گزشتہ نعمتوں کابیان، ممکن ہے کہ گروہ کے لیے اکل وشرب کی چیزوں ، لو لؤ ومرجان اور سواریوں میں ستغرق ہونے کاباعث بن جائے لہٰذا یا د دلاتاہے کہ یہ دنیا فانی ہے ۔کہیں ایسانہ ہو کہ ان چیزوں میں دل لگا بیٹھو اوراپنے ربّ کی راہ مین ان سے کوئی فائدہ نہ اُٹھاؤ ۔ یہ یاد دلانا بھی بجائے خودایک بہت بڑ ی نعمت ہے علیھا کی ضمیر زمین کی طرف لوٹتی ہے جس کی طرف گزشتہ آ یتوں میں بھی اشارہ ہوا ہے ،علاوہ ازیں قرائن سے بھی واضح ہے من علیھا سے مُراد (وہ لوگ کہ جوزمین پرہیں) جِنّ وانس ہیں،اگرچہ بعض مفسّرین نے اس احتمال کوتقویت دی ہے کہ یہ حیوانات اوردوسری چلنے والی مخلوق کے لیے بھی استعمال ہواہے لیکن من کے لفظ کے پیش نظر کہ جوہمیشہ ذوی العقول کے لیے اِستعمال ہواہے ۔پہلی تفسیرہی مناسب ہے ،یہ ٹھیک ہے کہ فنا کا مسئلہ جنّ واِنس تک ہی محدودنہیں ہے بلکہ قرآن کی تصریح کے مطابق تمام اہل آسمان وزمین بلکہ تمام موجوداتِ عالم فنا ہوجائیں گے (کل شی ء ھالک الّا وجھہ)(قصص ۔٨٨) لیکن چونکہ گفتگو ساکنانِ زمین سے تھی لہٰذا صِرف انہی کوپیش کردیاگیاہے۔ اس کے بعد والی آ یت میں مزید فرماتاہے : صرف تیرے پروردگار کی ذات ذوالجلال والاکرم باقی رہ جائے گی( وَ یَبْقی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلالِ وَ الِْکْرامِ)لغت کے اعتبار سے وجہ کے معنی چہرے کے لیے استعمال ہوتوپھر مراد اس کی ذات پاک ہی ہوتی ہے ۔مفسرّین نے وجہ ربّک کویہاں پروردگار کی صفات کے معنی میں لیاہے کہ جن کی وجہ سے انسان پر برکتیں اورنعمتیں نازل ہو تی ہیں ،مثلاً : علم ، قدرت ،رحمت اورمغفرت ،یہ احتمال بھی تجویز کیاگیاہے کہ اس سے مُراد وہ اعمال ہیں جو خدا کے لیے انجام دیے جاتے ہیں ۔تواس بناپر سب فنا ہو جا ئیں گے لیکن وہ اکیلی چیز یعنی وہ اعمال باقی رہ جائیں گے کہ جوخلوص نیّت سے اس کی رضا کے لیے انجام دیے گئے ہیں ۔لیکن پہلے معنی سب سے زیادہ مناسب ہیں ،باقی رہا ذو الجلال والا کرام کہ جو وجھہ کی صفت ہے ، اس سے خدا کی صفاتِ جلال وجمال کی طرف اشارہ ہے ذو الجلال ایسی صفات کی خبردیتاہے کہ جن سے خدا اجل و برتر ہے (صفاتِ سلبیہ ) اور اکرام صفتوں کی طرف اشارہ کرتاہے کہ جوکسِی چیز کے حُسن اورقدر و قیمت کوواضح کرتی ہیں اوروہ خدا کی صفاتِ ثبوتیہ ہیں ،مثلاً اس کاعلم ،قدرت اورحیات ،تواس بناپر اس مجموعہ کے معنی یہ ہوں گے کہ صرف خداکی وہ ذات پاک، کہ جوصفاتِ ثبوتیہ سے متصف اورصفاتِ سلبیہ سے مبّراومنزّہ ہے،اس عالم میں بر قرار رہے گی ۔ بعض مفسّرین خدا کے صاحب ِ اکرام کوصاحب ِ الطاف ونعمات ہونے کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں کہ جن کے ذریعہ وہ اپنے اولیا ء کااکرام کرتاہے اورانہیں گرامی قدر بناتاہے ،مذکورہ بالاآ یتوں میں ان سب معانی کاجمع ہوناممکن ہے ،ایک حدیث میں منقول ہے کہ ایک شخص بارگاہِ پیغمبر میں نماز میں مصروف تھا ۔اس کے بعداس نے اس طرح دُعا کی : اللّٰھم انی اسئلک بان لک الحمد لاالہٰ الّا انت المنان بدیع السماوات والارض ذوالجلال والا کرام یاحتیّ یاقوم پیغمبر نے اپنے اصحاب وانصار سے کہا: جانتے ہو اس نے خُدا کو کس نام سے پکار ہے ؟انہوںنے کہا: خدااور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہتر جانتے ہیں ،توآپ نے فرمایا: والذی نفسی بید ہ لقد دعا اللہ باسمہ الاعظم الذ ی اذا دعی بہ اجاب واذاسئل بہ اعطی قسم ہے اس کی جس کے قبضئہ قدرت میں میری جان ہے اس نے خدا کواس کے اسمِ اعظم کے حوالے سے پُکاراہے جس وقت کوئی خداکو اس نام سے پُکار ے تووہ اس کی دُعاقبول کرتاہے اورجب اس کے ذ ریعے سے سوال کرے تووہ عطا فرماتاہے ( ١)۔ پروردگار ِ عالم پھرایک مرتبہ اپنی مخلوق کومخاطب کرکے فر ماتاہے : تم اپنے پروردگار کی کِس کِس نعمت کوتکذیب کروگے (فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّباِ)اس سے بعدوالی آ یت کانفسِ مضمون قبل کی آیتوں کا نتیجہ ہے کیونکہ وہ فرماتاہے : وہ تمام کہ جو ایساکیوں نہ ہو حالانکہ وہ سب فناہونے والے ہیں اورخدا باقی ہے ۔ یہ نہیں کہ اس جہاں کے اختتام پرساری کائنات سوائے پروردگار کی پاک ذات کے راہِ فناطے کرے گی ،بلکہ اِس وقت بھی اُس کے مقابلے میں فانی ہیں اوران کی بقا اس کی بقا اورمشیت سے وابستہ ہے اگرایک ایک لمحے کے لیے وہ اپنالُطف وکرم کا ئنات سے اُٹھا لے توسب فناہو جائیں اِن حالات میں اس کے علاوہ کوئی ہے کہ جس سے اہل زمین اوراہل آسمان سوال کریں یسئلہ کی تعبیر فعل مضارع کی شکل میں اِس بات کی دلیل ہے کہ یہ سوال اور تقاضا دائمی ہے ۔سب کے سب زبانِ حال سے اس مبدأ فیاض سے ہمیشہ فیض کے طالب ہیں ،زندگی چاہتے ہیں اوراپنی ضرورتوں کا سوال کرتے ہیں اور یہ ممکن الوجود کی ذات کااقتضاد ہے کہ نہ صرف حدوث میں بلکہ اپنی بقا میں بھی وہ واجب الوجود کے ساتھ وابستہ ہے اس کے بعد مزید کہتاہے : خدا ہر روزایک نئی شان اورنئے کام میں ہے (کل یوم ھوفی شأن)۔ جی ہاں اس کی تخلیق دائم مستمر ہے ۔اور سوال کرنے والوں اورصاحبانِ حاجات کوجواب دینابھی اسی طرح ہے اوروہ ہرروز ایک نئی طرح ڈالتاہے ،ایک دن وہ کچھ قوموں کوطاقت وقدرت عطاکرتاہے ،دوسرے دن انہیں ذوال کاشکاربنا دیتاہے ،ایک روزصحت وسلامتی وجوانی عطافرماتاہے دوسرے دن ضعف وناتوانی ، ایک دن دل سے غم واندوہ دُور کرتاہے،دوسرے دن غم اندوہ کاسبب پیداکر دیتاہے ،خلاصہ یہ ہے کہ وہ ہرروز حکمت ونظام احسن کے مطابق کوئی نئی مخلوق، نیا موجوداور نیاحادثہ وجود میں لاتاہے ،اس حقیقت کی طرف اگرتوجہ کی جائے تووہ ہم پر واضح کردینے کے لیے کافی ہے کہ ایک توہماری حاجتیں دائمی طورپر اس کی ذاتِ پاک سے وابستہ ہیں ، دوسرے اس طرح ہمارے دل مایوسی کاشکار ہونے سے بچ جاتے ہیں، تیسرے یہ کہ یہ توجہ ہماری غفلت اورغر ور کوختم کرتی ہے جی ہاں اس کی ہر روزایک نئی شان ہے اوروہ ایک نئے کام میں مصروف ہے ،اگرچہ مفسّرین میں سے ہرایک نے ان وسیع معانی کے کسِی گوشہ کو آ یت کی تفسیر کے عنوان سے پیش کیاہے ۔ بعض نے صرف گناہوں کی بخشش ، غم واندوہ کودُور کر نے اوراقوام کی بلندی وزوال کوعنوان بنایاہے ۔بعض نے صِرف مسئلہ آفرینش ،روز، زندگی ، موت اورعزّت وذلّت کو، بعض نے صرف انسانوں کی خلقت اورموت کوعنوان کلام بنایا ہے اورکہا ہے کہ خدا کے پاس ہرروز تین لشکر ہیں، لشکر باپوں کے صلبوں سے ماؤں کے رحموں کی طرف کُوچ کرتاہے ، دُوسرا لشکر ماؤں کے رحموں سے دُنیامیں قدم رکھتا ہے ،اورتیسرا لشکردُنیا سے قبر کی طرف جاتاہے ،لیکن جیساکہ ہم نے کہا ہے ،آ یت ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے کہ اس دنیا کی ہرنئی تخلیق پیدائش اورانقلاب اپنے اندرتحول لیے ہوئے ہے ۔امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے ایک روایت منقول ہے کہ آپ نے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا : الحمد اللہ الذی لایموت ولا تنقضی عجائبہ لانہ کل یوم ھوفی شأ ن من احداث بدیع لم یکن حمدوستائش مخصوص ہے اس خداکے لیے کہ جو ہرگز نہیں مرتا ، اس کے عجائبات ،خلقت ختم نہیں ہوتے کیونکہ اس کی ہرروز ایک نئی شان ہوتی ہے اووہ ایک نیا موضوع پیداکرتاہے ،کہ جوپہلے ہرگز نہیں تھا (٢)۔ ایک اورحدیث ہے جورسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے :آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آ یت کی تفسیر میں فرمایا : من شأنہ ان یغفر ذنبا ویغر ج کرباً ویرفع قوماً ویضع اخرین ۔ اس کے کاموں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ گناہ کوبخشتاہے ،رنج و تکلیف کوبرطرف کرتاہے ،ایک گروہ کوبلند کرتاہے اور دُوسرے کو گرادیتاہے ( ٣)۔ یہ نکتہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہاں یوم اس دن کے معنوں میں نہیں ہے کہ جورات کے مقابلہ میں ہے بلکہ طولانی دورپر حاوی ہے اور ساعت ولمحات پربھی ،اور اس کامفہوم یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ کی ہر زمانے میں ایک نئی شان ہے اوروہ ایک نیاکام کرتاہے بعض مفسّرین نے اس آ یت کے لیے ایک شانِ نزول بھی بیان کی ہے کہ یہ آ یت یہودیون کے قول کی تردید کے لیے نازل ہوئی ہے ۔ یہودیوں کانظر یہ یہ ہے کہ خدا ہفتہ کو کوئی کام نہیں کرتا، اس روزوہ تعطیل کرتاہے ،کوئی حکم اورفرمان جاری نہیں کرتا (٤)۔ قرآن کانظر یہ یہ ہے کہ اس کی تخلیق اور تدبیر امور کا پروگرام ایک لمحے کے لیے بھی تعطیل کامتحمل نہیں ہوتا ، پروردگار ِ عالم پھراس نعمت مستقل اورتمام مخلوقات آسمان وزمین کی حاجتوں کی جواب دہی کے بعد فر ماتاہے : تم خدا کی کِس کِس نعمت کی تکذیب کرتے ہو (فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبانِ)۔ ١۔ تفسیرروح المعانی ،جلد ٢٧ ،صفحہ ٩٥۔ ٢۔ اصول کافی مطابق نقل تفسیر نورالثقلین ،جلد ٥ ،صفحہ ١٩٣۔ ٣۔ مجمع البیان درذیل آ یات زیربحث ، یہ حدیث رُوح المعانی میں بھی صحیح بخاری سے نقل ہوئی ہے ۔ ٤۔ مجمع البیان ،جلد ٩ ،صفحہ ٢٠٢۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 55:26-30
٣۔ حرکت ِ جوہری :
حرکت ِ جوہری کے بعض طرفداروں نے قرآن کی چند آ یتوں سے استدلال کیاہے ، یاکم ازکم اُسے اپنے مقصُود کی طرف اشارہ سمجھاہے ،منجملہ دیگرآیتوں کے ایک یہ آ یت بھی ہے (کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فی شَأْنٍ )اس کی وضاحت یہ ہے : قدیم فلسفیوں کانظر یہ یہ تھا کہ حرکت صرف چار عرضی مقولوں میں ممکن ہے (مقولہ این ، کیف اوروضع)زیادہ آسان اور سادہ مفہوم یہ ہوسکتا ہے کہ ایک جسم ،مکان کے لحاظ سے ، تغیّر کرے یااس طرح اس کی نشو ونما ہوکہ اس جسم کی مقدار میں اضافہ ہوجائے یااس کے رنگ میں وبُو اورذائقہ میں تبدیلی پیدا ہوجائے (مثل ایک سیب کے جودرخت پرلگاہوا ہے) یااپنی جگہ پراپنے گردگردش کرے ( زمین کی حرکت ِ وضعی کی طرح ) لیکن ان کانظر یہ یہ تھا کہ جسم کاجوہر اوراس کی ذات میں حرکت کاکوئی امکان نہیں ہے ،کیونکہ حرکت میں ذاتِ متحرک کوثابت وبرقرار ہونا چاہئیے ۔اس کے محض عوارض وگرگوں ہوں ، بصُورت دیگرحرکت کاکوئی مفہوم نہ ہوگا،لیکن فلاسفہ متاخرین نے اس نظر یہ کو ردّ کیاہے اوروہ حرکت ِ جو ہر ی کے معترف ہیں ،انہوںنے کہاہے کہ حرکت کی اساس اور بُنیاد خودجو ہرمیں ہے جس کے آثار عوارض میں ظاہرہوتے ہیں ،پہلا شخص جس نے اس نظر یہ کومعقول شکل میں پیش کیا ملا صدرائے شیرازی تھلاس نے کہا کہ تمام ذرّاتِ کائنات اور دُنیا ء مادئہ ِ حرکت کاایک مجموعہ ہے دُوسرے لفظوں میں اجسام کامادہ ایک سیال وجود ہے جس کی ذات ہمیشہ متعیّر ہوتی رہتی ہے اوراس کاہرلمحے ایک نیا وجود ہے جوقبل کے لمحے سے مختلف ہے لیکن چونکہ یہ تبد یلیاں ایک دوسرے سے متصل ہوتی ہیں اس لیے ایک ہی شے شمار کی جاتی ہیں ،اس نظر یہ کی بناپر ہم ہر روز ایک نیا وجود ہیں لیکن یہ وجود متصل ومستمر ہیں اورایک ہی صُورت رکھتے ہیں ، دُوسرے لفظوں میں مادہ چار جہتیں رکھتاہے ،طول عرض ،عمق اوربُعد یہ بُعد وہ ہے جسے زمان کانام دیتے ہیں اور یہ زمان جو ہری حرکت کے علاوہ دوسری اورکوئی چیزنہیں ہے ۔غور کیجئے ۔ یہ غلط فہمی نہ ہو کہ حرکت ِجوہری ایٹموس کی اند رونی حرکت کے مسئلہ سے ارتباط نہیں رکھتی ،کیونکہ وہ حرکت مکان میں ہے اور عرضی حرکت ہے ،حرکت ِ جوہری ایک زیادہ عمیق اور گہرا مفہوم رکھتی ہے کہ جو جسم کی ذات اوراس کی انفرادیت پرحاوی ہے تعجب کی بات یہ ہے کہ یہاں متحرک عینِ حرکت ہوجاتاہے ،اور چیزیں خوداپنے داخل ہونے کی جگہ بن جاتی ہیں ۔ غورکیجئے ان کے پاس اس مقصد کے اثبات کے لیے مختلف دلائل ہیں جن کی تشریح کی یہاں گنجائش نہیں لیکن ، یہ امر معیوب نہیں ہے کہ ہم یہاں اس فلسفیانہ عقیدہ کے نتیجے کی طرف اشارہ کریں ، اس کانتیجہ یہ ہے کہ ہم خدا شناسی کے مسئلہ کا ہر گزشتہ لمحے سے زیادہ واضح طورپر ادراک کریں کیونکہ خلقت اورآفرینش صرف دنیاکے آغاز ہی میں نہیں تھی بلکہ ہرساعت اورہر لمحے اس کاآغاز ہے اورخداہمیشہ نئی خلقت اور آفرینش میں مصروف ہے اورہم وقت اس سے وابستہ اوراس کے فیض ِ سے مستفیض ہیں ،انہوںنے : (کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فی شَأْنٍ )کی تفسیر انہی معانی میں کی ہے ،البتہ اس میں کوئی امرمانع نہیں ہے کہ یہ تفسیر بھی آ یت کے وسیع مفہوم کاایک جز ہو ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 55:26-30
١۔ فناکی کیا حقیقت ہے ؟
ہم نے مندرجہ بالا آ یتوں میں پڑھا ہے کہ خدا کے علاوہ سب کچھ فناہو جائے گا ۔ یہ فنا ئے مطلق کے معانی میں نہیں ہے یہ نہیں ہے کہ رُوح انسانی بھی نابُود ہوجائے گی یاانسان کے جسم سے حاصل ہونے والی مٹی بھی ختم ہوجائے گی ۔ کیونکہ قرآن کی آیتیں قیامت کے دن تک کے لیے عالمِ برزخ کی تصریح کرتی ہیں ( ۱)۔ دوسری جانب وہ بارہا کہتاہے : مُرد ے قیامت میں قبروں سے اُٹھیں گے ( ۳)۔ بوسیدہ ہڈ یاں خدا کے حکم سے اپنے جسم پرلباسِ حیات پہنیں گی ( ۳)۔ یہ سب چیزیں اس امر کی گواہی دیتی ہیں کہ اس آ یت میں اوراس سے مشابہت رکھنے والی آیتوں میں فنا نظام جسم وجاں کے درہم برہم ہونے ، رِشتوں کے قطع ہونے اورعالم خلقت کے نظم وترتیب کے درہم بر ہم ہو کر ایک نئے عالم کی جگہ لینے کے معنوں میں ہے ۔ ۱۔ (مومنون ۔ ١٠٠)۔ ۲۔ (یٰسین ۔ ٥١)۔ ۳۔(یٰسین ۔ ٧٩)۔