مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ
He merged the two seas, meeting each other.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 55:19
[Pooya/Ali Commentary 55:19] Refer to Furqan: 53 and Fatir: 12.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 55:19-25
٣۔ بطورِ آیات میں سے ایک تفسیر
ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے مرج البحرین یلتقیان ... کی تفسیر میں فر مایا: علی وفاطمہ بحران عمیقان ،لا یبغی احد ھما علی صاحبہ یخرج منھما اللؤ لؤ والمرجان ، قال: الحسن والحسین : علی علیہ السلام وفاطمہ سلام اللہ علیھا وعمیق سمندر ہیں کہ جن میں سے کوئی ایک دوسرے پرتجاوز نہیں کرتا اور ان دودریاؤں سے لؤ لؤ ومرجان یعنی حسن علیہ السلام وحسین علیہ السلام بر آمد ہوئے ہیں (۱) تفسیر دُر منثور میں یہی معنی بعض اصحاب پیغمبر کی زبانی بیان ہوئے ہیں (۲)۔ مرحوم طبرسی نے بھی مجمع البیان میں اسی چیز کومختصر سے فرق کے ساتھ نقل کیاہے ۔ہمیں معلوم ہے کہ قرآن مجید کے کئی بطون ہیں اور ہوسکتاہے کہ ایک ہی آ یت متعدد معانی رکھتی ہو ،اور جوکچھ اس حدیث میں آ یاہے ،بطونِ قرآن میں سے ہے کہ جواس کے ظاہری معنی سے متصادم نہیں ہوتا ۔ ۱۔ تفسیر قمی جلد ٢ صفحہ ٢٤٤۔ 2۔دُر المنثور ،جلد ٦ ،صفحہ ١٤٢۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 55:19-25
٢۔ گلف سٹریم ،بڑے بڑے سمندر دریا اور نہریں
آب کویہ سُن کو تعجب ہوگاکہ دُنیا کے سمندر وں میں بہت بڑے بڑے در یاجاری ہیں ، جن میں سب سے زیادہ قوّت دار گلف سٹریم ہے یہ عظیم دریا مرکزی امریکہ کے ساحلوںسے شروع ہوتاہے اور سارے بحرِ اطلس کوعبور کرکے شمال یورپ کے حاسل تک جاپہنچتا ہے ۔وہ پانی کہ جوخطِ استوارکے قریبی علاقوں سے چلتے ہیں وہ گرم ہیں یہاں تک کہ ان کارنگ کبھی کبھی ہمراہ چلنے والے پانیوں ہوتاہے تعجب کی بات یہ ہے کہ اس عظیم سمندری دریا گلف سٹریم کاغرض تقریباً ١٥٠ کلو میٹر اوراس کی گہرائی کئی سو میٹر ہے ،اس کی تیزی و روانی بعض علاقوں میں اتنی ہے کہ وہ ایک دن میں ١٦٠ کلومیٹر کی راہ طے کرتاہے ۔ان پانیوں کے درجہ حرارت کافرق ، گلف اسٹریم سے گرم ہوائیں پیداہوتی ہیں اوروہ اپنی حرارت کی اچھی خاصی مقدار برِّ اعظم یورپ کے شمالی ملکوں تک لے جاتی ہیں اِس طرح یہ گلف اسٹریم ان ملکوں کی ہوا کوبہت ہی خوشگوار بنا دیتاہے اگر پانی کایہ بہاؤنہ ہوتا توان ملکوں میں زندگی بسرکرنابہت ہی دُشواراورقوت شکن ہوتا ۔ہم پھردُہراتے ہیں کہ گلف اسٹریم ان دریاؤں میں سے ایک ہے اور دنیا کے پانچ برّ اعظموں کے پانیوں میں ایسے دریاؤں کی بہت سی مثالیں موجود ہیں ۔ان در یاؤں کاسب سے بڑاعامل اورسبب زمین کے منطقہ استوائی اورمنطقہ قطبی کی حرارت کافرق ہے کہ جوسمند روں کے اس پانی میں تحریک پیداکرتاہے ۔ اس موضوع کا ادراک ایک معمولی تجربہ سے کیا جاسکتاہے ۔اگر ہمارے پاس پانی کاایک بہت بڑابرتن ہو ۔اس کے ایک طرف ہم برف کاایک ٹکڑا رکھ دیں اور دوسری طرف گرم لو ہے کاٹکڑارکھیں اور سطح آب پر تھوڑی سی کٹی ہوئی گھاس ڈال دیں توہم دیکھیں گے کہ اس پانی کی سطح میں ایک تحرک پیدا ہوجائے گااورپانی آہستہ آہستہ گرم جگہ کی طرف سے ٹھنڈ ی جگہ کی طرف چلنا شروع کردے گا ،بعینہ یہی صُورت ِ حال دنیا کے تمام پانیوں میں موجود ہے ،اوروہ ان سمندری دریاؤں کے پیدا ہونے کاسرچشمہ ہے ، تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ عظیم سمندری دریااپنے اطراف کے پانی میں بہت کم آمیزش کرتے ہیں اور ہزاروں کلومیٹر کے راستے کواسی طرح طے کرتے ہیں (مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیانِ،بَیْنَہُما بَرْزَخ لا یَبْغِیان)کے مصداق بنتے ہیں ل۔ اس سے بھی زیادہ تعجب انگیز بات یہ ہے کہ ساتھ ساتھ چلنے والے اِن گرم اور ٹھنڈ ے پانیوں کے بالمقابل ہونے کی جگہ پر ایک ایسی چیز پیدا ہوتی ہے جواِنسان کے لیے بہت ہی مفید ہے ۔کیونکہ ان گرم وسرد پانیوں کے ٹکراؤ کے مقام پرخورد بین سے نظر آنے والے اِن جانوروں کے لیے ایک ایسی بے حِسی اورموت کی کیفیّت پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ پانی میں مُعلّق ہوجاتے ہیں ۔اس طرح بے شمار غذائی ذخیرہ جمع ہو جاتاہے اوریہاں مچھلیوں کے بڑ ے جمگھٹے ہو کر اس کوکھاتے ہیں ۔اسی لیے کُرّہ زمین پر یہ علاقہ مچھلی کے شکار کی بہترین جگہ ہے (١)۔ چنانچہ مذکورہ بالا آ یتوں کی ایک تفسیر یہ ہے بھی ہے اور یہ دُوسری تفسیروں سے متصادم بھی نہیںہے ۔ان سب کاباہم مِل جانا ممکن ہے ۔ ١۔ دائرة المعارف "" فرہنگ نامہ "" جلد ١٢ ،صفحہ ١٢٢٨ ونشر یہ "" بندر ودریا "" شمار ہ ٤ صفحہ ١٠٠ اور دوسرے منابع ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 55:19-25
١۔ سمند رخُدا کی نعمتوں کے مرکز:
جیسا کہ ہم نے دیکھاہے آیتوں کے اس حصّہ میں سمندر اورزندگی میں اس کی اہمیّت پرگفتگو ہے ۔ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ سمندرزمین کے تین چوٹھائی حصّہ کااحاطہ کیے ہوئے اوروہ اسبابِ غذا ،دواؤں اورسامان زینت کے لیے منبع عظیم ہے انسانوں اوران کے مال ومتاع کے لیے حمل ونقل کے سلسلہ میں اہم وسیلہ ۔اور سب سے زیادہ اہم بارش کابرسنا، ہواؤں کااعتدال، یہاں تک کہ ہواؤں کاچلنایہ سب سمندروں کی برکتوں میں سے ہے ۔اگر سمندروں کی سطح جیسی اَب ہے اس سے کچھ کم زیادہ ہوتی یاکُرّہ زمین خشکی کی طرف مائل ہوتایا زیادہ مرطوب ہوتا توزندگی کے باقی رہنے کاسوال ہی پیدا نہ ہوتا ۔اِس لیے قرآن بارہا مختلف تعبیروں کے ذریعے اِنسانوں کی اس طرف توجہ مبذول کراتاہے اورانہیں غوروفکر کی دعوت دیتاہے ۔کبھی کہتاہے : خدانے سمندر کو تمہارے لیے مسخر کیا (سخر لکم البحر)(جاثیہ ۔ ١٢) کبھی کہتاہے :کشتیوں کو تمہارے لیے مسخر کیاہے ( سَخَّرَ لَکُمُ الْفُلْک)(ابراہیم ۔ ٣٢)کبھی کہتا ہے: جوکچھ زمین میں ہے اسے تمہارے لیے مسخر کیا ہے ( سخر لکم مافی لارض) (حج ۔٦٥) ان سب سے قطع نظر سمند رعجائباتِ عالم میںسے ہیں ۔چھوٹی سے چھوٹی خوردبین،سے نظرآنے الی گھاس اور دُنیا کے بہت بڑے بڑے درخت سمندروں میں اُگتے ہیں ۔ اسی طرح چھوٹے سے چھوٹا جانور اورعظیم ترین، دیوقامت حیوانات سمندروں میں زندگی بسر کرتے ہیں سمندروں کی گہرائی میں زندگی گزارنا ،جہاں نہ روشنی ہے ،نہ غذا،اس قدر تعجب خیز وحیرت انگیز ہے کہ انسان اس کے مطالعہ سے سیر نہیں ہوتا ۔ اِس سے بھی زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہاں جانور خوداپنے اندر سے روشنی نکالتے ہیں اورجوچیز یں ان کوغذاکے لیے درکار ہوتی ہیں وہ پانی کی سطح پرتیار ہوتی ہیں اور تہہ نشیں ہوجاتی ہیں۔اِن کے جسم اس قدر مضبوط ومستحکم ہوتے ہیں اوراندرونی دباؤ کوبرداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ پانی کے اس عظیم دباؤ کے مقابلے اگر انسان کو عالم حالات میں وہاں رکھاجائے تواس کی ہڈ یاں آ ٹے میں تبدیل ہوجائیں ،وہ زندگی گزارتے ہیں
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 55:19-25
سمندر اپنے گراں بہا ذخائر کے ساتھ
پروردگارِ عالم اپنی نعمتوں کے تذکرے کی تشریح کوجاری رکھتے ہوئے سمندروں کی بات کرتاہے لیکن سب سمندروں کی نہیں بلکہ چند سمندروں کی ایک کیفیّت ِ خاص کی بات کہ جوایک عجیب سی چیز ہے اورخُدا کی لامحدُود قدرت کی نشانی بھی ہے اوربعض مفید اِنسانیّت چیزوں کے ظاہر ہونے کاوسیلہ بھی فرماتاہے : دودمختلف سمندروں کوایک دوسرے کے پاس قرار دیا کہ جو ایک دوسرے سے مِل رہے ہیں (مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیانِ )۔ لیکن ان دونوں کے درمیان ایک دیوارہے کہ جوایک دُوسرے پرغلبہ کی راہ میں رکاوٹ ہے(بَیْنَہُما بَرْزَخ لا یَبْغِیانِ)۔ مرج (بروزن فلج)کامادّہ خلط سلط کرنے یابھیجنے اور چھوڑ نے کے معنی میں ہے اوریہاں بَیْنَہُما بَرْزَخ لا یَبْغِیانِ کے جُملے کے قرینے سے بھیجنے اورایک دوسرے کے ساتھ قرار دینے کے معنی میں ہے ۔ان دوسمندرں سے مُراد ،سُورئہ فرقان کی آیت ٥٣ کی گواہی کے مطابق ،میٹھے اور کھاری پانی والے دوسمندر ہیں ،جہاں پروردگار فرماتاہے : وَ ہُوَ الَّذی مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ ہذا عَذْب فُرات وَ ہذا مِلْح أُجاج وَ جَعَلَ بَیْنَہُما بَرْزَخاً وَ حِجْراً مَحْجُورا وہ وہی ہے کہ جس نے دوسمندر ایک دوسرے کے پاس قرار دیئے جن میں سے ایک کاپانی میٹھا ہے اوردوسر ے کاکھاری ،اُس نے اِن دونوں کے درمیان ایک برزخ جوان دونوں کے درمیان قراردیاہے تاکہ وہ ایک دوسرے سے مِل نہ جائیں ،باقی ربایہ کہ یہ دوسمندرمیٹھے اورکھاری کہاں ہیں جوایک دوسرے پرغلبہ نہیں کرتے اوریہ برزخ جوان دونوں کے درمیان قرار پایاہے وہ کیا ہے اس کے بارے میں مفسرین کے درمیان بہت کچھ اختلاف ہیں،بعض افراد ایسے مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس سے پتہ چلتاہے کہ وہ اس زمانہ میں سمندر وں کی کیفیّت سے اچھی طرح واقف نہیں تھے ،منجملہ اِس کے ان مفسرّین نے کہاہے کہ اِن دوسمندروں سے مُراد بحرفارس وبحرِ روم ہیں، حالانکہ اَب اِس زمانے میں ہم خُوب جانتے ہیں کہ اِن دونوں سمندراور زمین کاسمندرہے جس میں سے پہلاشیریں اوردُوسرا تلخ ہے ۔ہمیں معلوم ہے کہ آسمان میں کوئی سمندر نہیں ہے ۔سوائے ان بادلوں اور بُخارات کے جوزمین کے سمندروں سے اُٹھتے ہیں ۔ یاپھر انہوں نے کہاہے کہ شیریں سمندر سے مُراد وُہ پانی ہے جوزیرزمین ہے اور وہ سمندر کے پانی سے مِل جاتاہے اوران دونوں کے درمیان جوخزانوں کی دیواریں ہیں وہ ان کابرزخ ہے ۔ حالانکہ اَب ہرکوئی جانتاہے ،کہ زیرزمین سمندرکی شکل میں کوئی چیزبہت ہی کم پائی جاتی ہے البتہ پانی کے قطرات ،مرطوب مٹی اور ریت کے ذرّوں کے درمیان ضرور پوشیدہ ہوتے ہیں ،جس وقت کسی جگہ کُنواں کھودتے ہیں تویہ رطوبتیں رفتہ رفتہ جمع ہوجاتی ہیں اوراس طرح پانی نکل آتاہے ۔ علاوہ ازیں لولؤ ومرجان کہ جن کی طرف بعد کی آ یات میں اشارہ ہواہے ،زیرزمین پانی سے حاصل نہیں ہوتے لہٰذاسوال پیدا ہوتاہے کہ ان دودریاؤں سے کیامراد ہے ؟ پہلے ہم سُورہ فرقان میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرچکے ہیں کہ آبِ شریں کے بڑے دریااورنہریں جس وقت سمندروں میں گرتے ہیں تو عام طورپر ساحل کے قریب آبِ شیریں کاسمندر تشکیل پاتاہے اوروہ آب تلخ کو پرے دھکیل دیتاہے ،تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ دوجہاںمیٹھے اورکھاری سمندر پتلے گاڑھے ہونے کی بناپر ایک دوسرے سے نہیں ملتے ہوائی جہاز کے سفر کے دوران ایسے علاقوں میں کہ جہاں یہ دریا سمندر میں گرتے ہیں ایسے میٹھے اورکھاری سمندر وں کامنظر ، جوایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہیں اوراس کے باوجود ایک دُوسرے سے جُدا ہیں، بلندی سے صاف طورپر نظر آتاہے ۔جس وقت اِن پانیوں کے کنارے ایک دوسرے سے مخلوط ہوتے ہیں تو تازہ میٹھا پانی ان کی جگہ لے لیتاہے اوراس طرح اِن دوالگ رہنے والے سمندر وں کوہمیشہ دیکھنے کوجی چاہتاہے ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ سمندرمیں مدّد جزر کے موقع پر جب کہ سمندر کانیچے کاپانی اُوپر آجاتاہے تومِیٹھا پانی دھکیل دیاجاتاہے بغیر اس کے کہ کھاری پانی اس میں مخلوط ہو (مگر خشک سالی اورپانی کی کمی کے موقع پر)اوروہ خشکی کے کافی حصّہ کوڈھانپ لیتاہے ، اس لیے ساحل کے قریب رہنے والے لوگ اِن علاقوں میں میٹھے پانی کوکنڑول میں رکھ کرساحلی علاقو ں میں بہت سی نہریں بنالیتے ہیں جن کے ذ ریعے بہت سی زمینوں کو سیراب کرتے ہیں ۔ یہ نہریں کہ جوساحلی مدد جزر کی برکت اوران نہروں کے پانی پراثر انداز ہوتے ہونے کی وجہ سے وجود میں آتی ہیں،چوبیس گھنٹے میں دومرتبہ میٹھے پانی سے خالی ہو کرلبریز ہوتی ہیں اوران علاقوں کی سیرابی کابہت ہی مؤ ثر ذریعہ ہیں۔ اِن دوسمندروں کے بارے میں بعض علماء کی طرف سے ایک بہت ہی پرکشش تفسیر بیان کی گئی ہے ۔ان کے نزدیک اس بات کااحتمال ہے کہ اس سے مراد گلف سٹریم کابہاؤ ہو۔ہم اس کی تفصیل اِنشاء اللہ انہی آیتوں کے ذیل میں بیان ہونے والے نکات کی بحث میں پیش کریں گے ۔ پروردگار ِ عالم ایک مرتبہ پھر اپنے بندوں کو مخاطب کرکے اِن نعمتوں کے حوالے سے ان سے سوال کرتاہے اور فر ماتاہے : تم اپنے پروردگار عالم کی کِس کِس نعمت کوجھٹلا ؤ گے (فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبانِ)۔ پھر اسی گفتگو کوجاری رکھتے ہوئے مزید فرماتاہے : ان دونوں سمندروں سے لولؤ ومرجان نکلتے ہیں (یَخْرُجُ مِنْہُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجانُ) تم اپنے پروردگار کی کِس کِس نعمت کوجھٹلاؤ گے (فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبان)۔لولؤ ومرجان پُر کشش زینت کے دووسیلے ہیں ازرُوئے طبّ ان دونوں سے بیماریوں کے علاج کے سلسلہ میں بھی اِستفادہ کیاجا سکتاہے ۔ضمنی طورپر یہ بھی ایک بات ہے کہ وہ اچھے اسبابِ زندگی اورمالِ تجارت ہیں جن سے بہت سامنافع حاصل ہوتاہے،انہی اسباب کی بناپر گزشتہ آیتوں میں دونعمتوںکی حیثیت سے ان کی طرف اشارہ ہواہے رہالؤ لؤ کہ جسے فارسی میں مروارید کہتے ہیں ،وہ صاف وشفاف قیمتی موتی ہوتاہے کہ جودریا کہ تہہ اورسمندر وں کی گہرائی میں بطنِ صدف میں پرورش پاتاہے ۔وہ جتنا موٹا ہواتناہی زیادہ قیمتی ہوتاہے طبّ میں اسے مختلف طریقوں سے استعمال کیاجاتاہے ۔قدیم اطباس سے اعصاب کی تقویت ، خفقات ، خوف ووحشت ،گجرکی قوّت ،منہ کی بدبُو گُروہ مثانہ کی پتھری اوریرقان کے لیے دوائیں تیار کرتے تھے حتٰی کہ آنکھ کی بیماریوں میں بھی اس سے فائدہ اُٹھاتے تھے (١)۔ مرجان کی تفسیر بعض مفسّرین نے یہ کی ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے لولؤ ہوتے ہیں لیکن حقیقت کچھ اور ہے مرجان درخت کی چھوٹی چھوٹی ٹہنیوں کی مانند ایک زندہ وجود ہوتاہے جوسمندروں کی گہرائی میں درخت کی طرح اُگتاہے ،ماہرین ایک عرصہ تک اسے ایک قسم کی گھاس سمجھتے رہے لیکن بعد میں واضح ہو اکہ وہ ایک قسم کاجانور ہے ،اگرچہ وہ سمندروں کے جھاگ کے پتھروں سے چِپک جاتاہے اوربعض اوقات وسیع جگہ کو گھیرلتاہے ،بتدریج بڑھتا رہتاہے اورجزیروں کی تشکیل کاباعث بنتاہے جوجزائر مرجان کہلاتے ہیں ۔ مرجان عام طورپر ٹھہر ے ہوئے پانی میں نشو ونما پاتاہے،جواس کے شکاری ہیں وہ اسے دریائے احمر کے ساحلوں اورمیڈی ٹرینین اور بعض دوسرے علاقوں میں اس کاشکار کرتے ہیں ،وہ مرجان جوزیب وزینت کے کام آتاہے ،سُرخ رنگ کاہوتاہے وُہ جتنا زیادہ سُرخ ہو اتناہی زیادہ قیمتی ہوتاہے ،شاعر جواس کوتشبیہ کے طورپر اِستعمال کرتے ہیں وہ اس کی سُرخی ہی کی بناپر ہے ۔اس کی سب سے خراب قسم مرجانِ سفید ہے یہ بہت زیادہ مقدار میں پایا جاتاہے ،اِن دونوں کے علاوہ ایک مرجان سیاہ بھی ہوتاہے مرجان زیب وزینت کے علاوہ دواکے لیے بھی استعمال ہوتاہے ،طبیبوں نے اس کے بہت سے خواص بیان کیے ہیں منجملہ ان کے اس سے دوائیں تیار کی جاتی ہیں جودل کوتقویت دینے ، سانپ کے زہر کی تاثیر کودُور کرنے ،اعصاب کوقوّت بخشنے ، اسہال کوٹھیک کرنے اوررحم سے بہنے والے خُون کوبند کرنے میں مفید ثابت ہوتی ہیں یہ بھی کہاگیاہے کہ یہ مرگی کی بیماری کے لیے بھی مفید ہوتاہے (٢)۔ اِس نکتہ کابیان کرنابھی ضروری ہے کہ بعض مفسّرین کے قول کے مطابق ،یہ لولؤ ومرجان صِرف کھاری پانی میں پرورش پاتے ہیں لہٰذا وہ آ یہ (یَخْرُجُ مِنْہُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجانُ ) کی تفسیر میں، کہ ان دونوں میں سے لولؤ ومرجان نکلتے ہیں ،اُلجھ گئے ہیں ،انہوںنے یہ کہاکہ اِن دومیں سے مُراد صرف ایک ہے (سورہ زخرف کی آ یت ٣١ ) لیکن ہمارے پاس اِن معانی کے ثبوت کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے ،بعض مفسّرین نے تو یہ کہا ہے کہ لولؤ ومرجان میٹھے اورکھاری دونوں پانی میں پائے جاتے ہیں ۔ نعمتوں کی بحث کے اس حصّہ کوجاری رکھتے ہوئے کشتیوں کی طرف ، کہ جوگزشتہ زمانے میں بھی اور زمانہ ٔ حال میں بھی انسانوں کے لیے حمل ونقل کے وسائل میں سب سے اہم ذریعہ ہیں، اشارہ کرتے ہوئے فرماتاہے: اور خداہی کے لیلے ہیں وہ کشتیاں جوسمندر ہیں چلتی ہیں اورپہاڑ معلوم ہوتی ہیں (وَ لَہُ الْجَوارِ الْمُنْشَآتُ فِی الْبَحْرِ کَالْأَعْلامِ)جوار ہے جاریہ کی ، وہ صفت ہے سفق کی جس کے معنی ہیں: کشتیاں ،اختصار کی وجہ سے اس لفظ کوحذف کردیاگیاہے کیونکہ جوچیز زیادہ قابل ِتوجہ ہے وہ کشتیاں نہیں بلکہ ان کاپانی میں چلنا ہے ۔اس وجہ سے صرف اس صفت پر انحصار کیاگیاہے (غورفرمایئے)۔کنیز کو جاریہ کہتے ہیں وہ بھی اس کے وجود میں نشاطِ جوانی کے تحرک کی بناپر ہے منشات جمع ہے منشا کی جواسم مفعول ہے اِس کے معنی ایجاد کے ہیں ،قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ عین اس وت کہ جب منشات کی تعبیر کے سلسلہ میں انسان کے ہاتھ سے کشتی بنائے جانے کی بات کررہاہے توفرماتاہے :(ولہ) خدا کے لیے ہے یہ اس طرف اشارہ ہے کہ کشتی کے ایجاد کرنے والے اوربنانے والے خداکی عطا کی ہوئی ان مختلف خصوصیتوں سے فائدہ اُٹھا تے ہیں جو کشتی سے استفادہ کے لیے ضروری ہیں۔ اس طرح وہ دریاؤں اورسمندروں کے سیّال ہونے کے خاصیّت سے اور ہواؤں کے چلنے کی قوّت سے فائدہ حاصل کرتے ہیں،وہ خدا ہی ہے جس نے اِن چیزوں میں سمندر میں اور ہوامیں یہ خواص وآثار ودیعت کیے ہیں، اسی لیے ایک دوسرے مقام پر قرآن میںلفظ تسخیر آیاہے :(وسخرلکم الفلک لتجری فی البحر بامرہ) خدا نے کشتی کوتمہارا فرماں بردار بنا یا کہ جواس کے حکم سے دریا میں چلتی ہے (ابراہیم ۔٣٢) بعض مفسّرین نے منشائ کو انشاء کے مادّہ سے بلند کرنے کے معنی میں تفسیر کی ہے اوروُہ اس سے بادبانی کشتیوں کے چلانے کاکام لیتے تھے ۔ اعلام جمع علم(بروزن علم)کے معنی پہاڑ میں ہیں،اگرچہ اصل میں اس کے معنی علامت کے ہیں جو کسی چیز کی نشان دہی کرتی ہے ۔چونکہ پہاڑ دُور سے نمایاں ہوتے ہیں ،لہٰذا انہیں علم عَلَم سے تعبیر کیاگیاہے ،جس طرح جھنڈے کو بھی علم کہتے ہیں اس طرح قرآن نے بڑی بڑی کشتیوں پرکہ جو سمندروں وغیرہ میں چلتی ہیں ،انحصار کیاہے ،بعض لوگ ایساخیال کرتے ہیں لیکن بڑی کشتیاں اوراسٹیمر وغیرہ زمانۂ حال کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ہیں ،یونانیوں کی جنگ کی داستانوں میں ہمیں ملتاہے کہ وہ نہایت عظیم اور بڑی کشتیوں سے کام لیتے تھے ،دوبارہ اسی پُر معنی سوال کی تکرار کرتے ہوئے فرماتاہے: تم اپنے پروردگار کی کِس کِس نعمت کوجھٹلا ؤ گے (فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبان)۔ ١۔"" تحفہ حکیم مومن"" اور دائرة المعارف وہ خدا ودیگر منابع۔ ٢۔دائرة المعارف فرید وجدی اوردوسری کتب۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 55:19-25
سوره الرحمن/ آیه 19- 25
١٩۔مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیانِ۔ ٢٠۔بَیْنَہُما بَرْزَخ لا یَبْغِیانِ۔ ٢١۔ فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبانِ۔ یَخْرُجُ مِنْہُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجانُ۔ فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبانِ۔ وَ لَہُ الْجَوارِ الْمُنْشَآتُ فِی الْبَحْرِ کَالْأَعْلامِ۔ فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبانِ۔ ترجمہ ١٩۔دو مختلف دریاؤں کوایک دُوسرے کے قریب قرار دیادرآنحالیکہ وہ ایک دُوسرے سے مِل رہے ہیں ۔ ٢٠۔لیکن دونوں کے درمیان ایک برزخ ہے کہ وُہ ایک دُوسرے پرغلبہ نہیں کرتے ۔ ٢١۔پس تم اپنے پر وردگار کی کِس کِس نعمت کا انکار کروگے ؟ ٢٢۔اِن دونوں میں سے لولو اور مرجان نِکلتے ہیں۔ ٢٣۔ پس تم اپنے پر وردگار کی کِس کِس نعمت کا انکار کروگے ؟ ٢٤۔ اور اس کے لیے بنی ہوئی کشتیاں ہیں کہ جو پہاڑ کی طرح سمندرمیں چلتی ہیں۔ ٢٥۔پس تم اپنے پر وردگار کی کِس کِس نعمت کا انکار کروگے ؟