وَأَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنتَهَى
that the terminus is toward your Lord,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 53:42
[Pooya/Ali Commentary 53:42]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:42-49
سوره النجم/ آیه 42- 49
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ موجودہ تورات میں کتاب حز قیلمیں بھی زیر بحث آیت کاکچھ مضمون آ یاہے ،کیونکہ وہ اس طرح ہے : وہی جان جوگناہ کرے گی وہی مرے گی ،بیٹاباپ کے گناہ کابوجھ نہیں اٹھا ئے گا، ور باپ بیٹے کے گناہ کابار نہیں اٹھائے گا(۱) ۔ یہی مفہوم خصوصیت کے ساتھ قتل کے بارے میں تورات کے سفر تثنیہ میں بھی آیاہے : باپ اولاد کے بدلے میں قتل نہیں کئے جائیں گے ،اوراولاد بھی باپوں کے بدلے میں قتل نہیں کی جائیں گی ،ہرشخص اپنے گناہ کے سبب ہلاک ہوگا( ۲) ۔ البتہ گزشتہ انبیاء میں مکمل طورپر اس وقت ہمارے پاس نہیں ہیں ،ورنہ اس اصل کے بارے میں بہت سی باتیں ہمیں مل جاتیں ۔ ۱۔ کتاب "" حز قیل"" فصل ١٨ صفحہ ٢٠۔ ۲۔"" تورات"" سفر "" تثنیہ "" باب ٢٤ شمارہ ١٦۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:42-49
٣۔ پیغمبر(ص) کی ایک پُرمعنی حدیث۔
ایک حدیث میں آ یاہے کہ پیغمبراکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک گروہ کے قریب سے گزرے جوہنسنے میں مشغول تھا:آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: لو تعلمون مااعلم لبکیتم کثیرً ا ولضحکتم قلیلاً اگرتم اس چیز کوجانتے جسے میں جانتا ہوں توتم روتے زیادہ اور ہنستے کم ۔ جس وقت پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)وہاں سے گذرگئے توجبرئیل ان پرنازل ہوئے اورعرض کیا ۔ ان اللہ ھواضحک وابکی ہنسنا اور رونا دونوں خداہی کی طرف سے ہیں ۔ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے پاس پلٹ آ ئے اورفرمایا کہ میں چالیس قدم نہیں چلاتھا کہ جبرئیل میرے پاس آ ئے اور کہا:تم ان کے پاس لوٹ کرجاؤ اوران سے یہ کہو : ان اللہ اضحک وابکی (۱) ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک صاحب ایمان شخص ہمیشہ روتاہی رہے ، خوف ِخداسے اور گناہوں کے ڈر سے رونا بھی اپنی جگہ ضروری ہے اور نشاط اورخوشی کے وقت ہنسنا بھی ۔کیونکہ یہ سب کچھ خداہی کی طرف سے ہے ۔ بہرحال یہ تعبیر ات انسان کے اصل اختیارمیں اور آزادی ارادہ کے ساتھ کوئی منافات نہیں رکھتیں ،کیونکہ اس بیان کامقصد علت العلل اوران عزائزواحساحسات کے خالق کابیان ہے ۔ اور اگر دوسری جگہ (سورئہ توبہ کی آ یت ٨٢) میںیہ فرمایا ہے کہ :فَلْیَضْحَکُوا قَلیلاً وَ لْیَبْکُوا کَثیراً جَزاء ً بِما کانُوا یَکْسِبُون: انہیں چاہیے کہ اور زیادہ روئیں ان کاموں کی سزا کی بناپر جووہ انجام دیاکرتے تھے تو یہ منافقین کے ساتھ مربوط ہے ،جیساکہ اس کے قبل اور بعد کی آ یات گواہی دے رہی ہیں ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ سورہ کی ابتداء میں توستارہ کی قسم کھارہاہے اس وقت کہ جب وہ غروب کرتاہے ، وَ النَّجْمِ ِاذا ہَوی اور یہاں شعری کے پروردگار کی قسم ہے جس وقت ہم ان دونوں آیات کوایک دوسرے کے ساتھ رکھ کر دیکھتے ہیں توواضح ہوجاتاہے کہ شعری کیوں معبود نہیں ہوسکتا ،کیونکہ وہ بھی افول وغروب رکھتاہے اورقوانین خلقت کے پنجہ میں اسیر ہے ۔ ۱۔"" تفسیر درالمنثور "" جلد ٦ صفحہ ١٣٠۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:42-49
٢۔ستارئہ شعری کے عجائبات
یہ ستارہ جیساکہ ہم نے بیان کیاہے آسمان کے ستاروں میں سب سے زیادہ چمکنے والاستارہ ہے ، اور شعرای یمانی کے نام سے مشہور ہے ،چونکہ یہ جنوب کی سمت ظاہر ہوتاہے ۔اوریمن جزیرئہ عرب کے جنوب میں واقع ہے لہٰذا انہوںنے اس کو یہ نام دیاہے ۔ عربوں کاایک گروہ جیسے قبیلہ خزاعہ اس کو مقدس جانتاتھا اور اس کی پرستش کیاکرتاتھا،اوران کاعقیدہ یہ تھاکہ وہ روئے زمین کے سارے موجودات کامبدء ہے ،اس مسئلہ پر قرآن کی تاکید کہ خدا شعری کاپروردگار ہے اس گروہ اوران جیسے لوگوں کوبیدار کرنے کے لیے ہے ،کہ انہوںنے مخلوق پرخالق ہونے کااشتباہ کیااور مربوط کو رب کی جگہ قرار دے لیاہے ۔ یہ عجیبالخلقت ستارہ جواپنی حد سے زیادہ درخشندگی کی وجہ سے ستاروں کابادشاہ کہلاتا تھا، بہت سی عجائبات کاحامل ہے ،جن میں سے بعض کی طرف ذیل میں اشارہ کیاجاتاہے،اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ اس زمانہ میں ستارئہ شعری کے بارے میں یہ حقائق دریافت نہیں ہوئے تھے ، قرآن کااس موضوع کوسامنے لاناپُرمعنی ہے ۔ الف۔ان تحقیقات کے مطابق ،جودنیا کے مشہور رصد گاہوں میں عمل میں آ ئی ہیں،وہ عظیم حرارت جوشعری کی سطح پر پائی جاتی ہے، ١٢٠ ہزار درجہ سینٹی گراڈتک !معلوم کی گئی ہے ۔ جب کہ ہمارے سورج کے کرّہ کی سطح کی حرارت کوصرف ٦٥٠٠ درجہ سمجھتے ہیں، اور یہ چیز ستارئہ شعری کی ،سورج کی نسبت ،عظیم گرمی کے فرق کاپتہ دیتی ہے ۔ ب۔ اس ستارہ کامخصوص جرم پانی سے تقریباً ٥٠ ہزار گنا زیادہ وزنی ہے یعنی وہاں کے ایک لیٹر پانی کاوزن کرئہ زمین کے ٥٠ ٹن کے برابر ہوگا ۔حالانکہ ہمارے نظام شمسی کے سیاروں میں سے جو سب سے زیادہ وزنی ہے ،اس کامخصوص وزن پانی کے وزن سے ٦ گنا سے زیادہ نہیںہے ۔ اس تعریف کے باوجود دیکھنا چاہیے کہ یہ عجیب وغریب ستارہ کس عنصر سے بناہے جواس قدروزنی ہے ؟ ج۔ ستارئہ شعری جوہمارے زمانہ مین سردیوں میں ظاہر ہوتاہے ،لیکن مصر کے قدیم منجمین کے زمانہ میں اس ستارہ کاظہور گرمیوں کے آغاز کے قریب ہواکرتاتھا ،یہ ایک بہت ہی عظیم کرّہ ہے جس کاحجم کرئہ آفتاب سے ٢٠ گناہے ،اوراس کا ہم سے فاصلہ زمین سے سورج کے فاصلے کی نسبت انتہائی حد تک زیادہ ہے ،اس طرح سے کہ اس فاصلہل کو سورج کے فاصلہ سے دس لاکھ گنا حساب کیاگیا ۔ ہم جانتے ہیں کہ نور اور روشنی کی رفتار ایک سیکنڈ میں ٣٠٠ ہزار کلومیٹر ہے ،اور سورج کی روشنی ٨ منٹ اور ١٣ سیکنڈ میں ہم تک پہنچتی ہے ،جب کہ اس کاچاند سے فاصلہ ١٥ ملین کلیومیٹرہے ،لیکن اگرآپ تعجب نہ کریں تو کرئہ شعری کی پہلی شعاع ہم تک تقریباً دس١٠ سال بعد پہنچتی ہے ،تواب آپ خود حساب کرلیں کہ اس کافاصلہ کتناہے ۔ د ۔ شعرای یمانی کے ساتھ ایک اور ستارہ ہے ،جوآسمان کے مرموز وپر اسرار ستاروں میں سے ہے ،سب سے پہلے بسل نامی ماہر دانش مند نے اسے دریافت کیا، اور یہ ١٨٤٤ عیسوی کی بات ہے ،لیکن ١٨٦٢ میں دوربین کے ذ ریعہ معلوم ہو ا کہ اس ستارہ کی گردش کادوراصلی ستارے کے گرد ٥٠ سال ہے (۱) ۔ یہ سب چیزیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ قرآن کی تعبیر یں کس حد تک پُر معنی ہیں، اوراس کی چھوٹی سی چھوٹی باتوںمیں کیسے کیسے حقائق چھپے ہوئے ہیں، جواگراس کے نزول کے دن پورے طور پر مشخص نہیں تھے تو زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ واضح ہوگئے ہیں ۔ ۱۔ ""دائرة المعارف الاسلامیہ ""مادہ شعری اور"" فرہنگ نامہ""مادہ ستارہ اور "" دائرة المعارف فارسی مصاحب""مادئہ شعری ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:42-49
١۔یہ سب سر وصدااسی کی طرف سے ہے
ان آ یات کے مباحث حقیقت میں اس معنی کی طرف ایک اشارہ ہین کہ اس عالم میں ہرقسم کی تدبیر اسی کی پاک ذات کی طرف کوٹتی ہے ،موت وحیات کے مسئلہ سے لے کر، بے مقدار نطفہ سے انسان کی پیچیدہ خلقت تک اوراسی طرح سے وہ گوناں گوں حادثات جوانسان کی زندگی میں پیش آتے ہیں، جواُسے کسی نہ کسی طرح سے رلاتے ہے یاہنساتے ہیں ،یہ سب کچھ اسی کی طرف سے ہیں ۔ آسمان میں درخشندہ ترین ستارے اسی کے فرمان اوراسی کی ربوبیت کے ماتحت ہیں، اورزمین میں انسانوں کی غنا اور بے نیازی بھی اسی کی پاک ذات کی طرف لوٹتی ہے ،اور طبعاً نشائہ آخرت بھی اسی کے فرمان سے ہے ،کیونکہ وہ بھی اس جہان کی زندگی کوجاری رکھنے کے سلسلہ میں ایک جدید زندگی ہے ۔ یہ بیان ایک طرف توخط ِتوحید کوواضح کرتاہے اور دوسری طرف سے خط ِ معاد وقیامت کو، کیونکہ رحم کے اندر ایک بے مقدار نطفہ سے انسان کوخلق کرنے والا، اس کونئے سرے سے زندگی عطاکر نے پر بھی قادر ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ سب چیزیں کداکی ، توحید افعالی توحید ربوبیت کوبیان کرتی ہیں، ہاں!یہ سب سروصدا اور آواز ے اسی کی طرف سے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:42-49
تمام خطوط اسی تک پہنچتے ہیں
یہ آ یات خدا کی ان صفات کی تجلی گاہ ہیں جومسئلہ توحید کوبھی واضح کرتی ہیں اور مسئلہ معاد کوبھی ۔ ان آ یات میں گزشتہ مباحث کوجاری رکھتے ہوئے جزائے اعمال کے سلسلہ میں فر ماتاہے : کیاانسان کواس بات کی خبرنہیں ہے کہ صحف موسیٰ وبراہیم میں یہ آ یاہے کہ تمام امور تیرے پروردگار پر منتھی ہوتے ہیں (وَ أَنَّ اِلی رَبِّکَ الْمُنْتَہی) ۔ نہ صرف حساب وکتاب، ثواب وعقاب اورجز اوسزاآخرت میں اس کے دست قدرت میں ہے ،بلکہ اس جہان میں بھی اسباب وعلل کاسلسلہ اس کی پاک ذات تک جاکرمنتہی ہوتاہے ،اس جہان کی تمام تدبیر یں اس کی تدبیرسے پیدا ہوتی ہیں اور بالاآخرعالم ہستی کی تکیہ گاہ اور اس کی ابتداء وانتہاخداہی کی پاک ذات ہے ۔ بعض روایات میں اس آ یت کی تفسیر میں امام صادق علیہ السلام سے اس طرح آ یا ہے: اذاانتھی الکلام الی اللہ فامسکوا(١) ۔ یعنی اس کی ذات کے بارے میںگفتگونہ کرو، کیونکہ عقلیں اس میں حیرا ن ہیں، اور کہیں پہنچ نہیں پاتیں،اورایک غیر محدود ذات کے بارے میں سوچ بچار کرنامحدود عقلوں کے لیے ناممکن ہے ۔کیونکہ جوکچھ تمہاری فکر میں آ ئے گاوہ بھی محدود ہی ہوگا، اورخدا کے لیے محال ہے کہ وہ محدود ہوجائے ۔ البتہ یہ تفسیر اس آ یت کے لیے ایک دوسرابیان ہے ،جواس بات سے جوہم نے بیان کی ہے اختلاف نہیں رکھتی ،اور دونوں آ یت کے معنی میں جمع ہوسکتے ہیں ۔ اس کے بعد امر ربوبیت میں اس کی حاکمیت ،اور اس جہان کے تمام امور کے اس کی ذات پاک تک منتہی ہونے کو واضح کرنے کے لیے مزید کہتاہے :وہی ہے کہ جوہنسا تابھی ہے اور رلاتا بھی (وَ أَنَّہُ ہُوَ أَضْحَکَ وَ أَبْکی)(٢) ۔ اوروہی ہے جو مارتابھی ہے اور زندہ بھی کرتاہے (وَ أَنَّہُ ہُوَ أَماتَ وَ أَحْیا) ۔ اور وہی ہے جودودو جوڑے مذکر اورمونث کے پیداکرتاہے (وَ أَنَّہُ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّکَرَ وَ الْأُنْثی) ۔ اس نطفہ سے جوخارج ہوتاہے اورقرار گاہ رحم میں گرتاہے (مِنْ نُطْفَةٍ ِاذا تُمْنی) ۔ یہ چند آیات ،تمام امور کے پروردگارکی ربو بیت اورتدبیر کی طرف منتہی ہونے والے مسئلہ کے لیے ، حقیقتاً ایک جامع بیان اور عمدہ وضاحت ہیں ،کیونکہ کہتاہے ،: تمہاری موت اورزندگی اسی کے ہاتھ میں ہے ،زوجین کی خلقت کے طریقہ سے نسل کا جاری رہنابھی اسی کی تدبیر سے ہے ، اسی طرح وہ تمام حوادث جوانسان کی زندگی میں پیش آتے ہیں ،اس کی طرف سے ہیں ۔وہی رلاتا اورہنساتا ہے ،وہی مارتا اور زندہ کرتاہے ۔اوراس طرح سے سررشتہ زندگی آغاز سے لے کرانجام تک اس کی پاک ذات پرجاکرختم ہوتے ہیں ۔ ایک حدیث میں اس آیت کے ہنسنے اوررونے کے مفہوم کووسعت دی گئی ہے ،اوراس کی تفسیر میں اس طرح بیان ہواہے : ایکی السماء بالمطر، واضحک الارض بالنبات خدا آسمان کوبارش کے ساتھ رلاتاہے اور زمین کونباتات کے ساتھ ہنساتاہے (٣) ۔ بعض شعرانے اس مضمون کواپنے شعر میں بیان کیاہے، ان فصل الربیع فصل جمیل تضحک الارض من بکاء السماء فصل بہار ایک خوبصورت فصل ہے کیونکہ زمین آسمان کے رونے سے ہنسنے لگتی ہے ۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ انسان کے تمام افعال میںسے ہنسنے اوررونے کے مسئلہ پرتکیہ ہوا ہے ،کیونکہ یہ دونوں اوصاف انسان ہی کے ست مخصوص ہیں ، اور دوسرے جانداروں میں اصلاً اس کاوجود نہیں ہے ، یابہت ہی شاذ ونادر ہے ۔ انسانی جسم میں ہنسنے یارونے کے وقت جوفعل وانفعال اور دگر گونی کی کیفیت پیداہوتی ہے اوران کاروحانی تغیّرات کے ساتھ ارتباط بہت ہی پیچیدہ اور تعجب خیزہے ،اورمجموعی طور سے یہ حق تعالیٰ کی مدبر یت کی ایک واضح نشانی ہوسکتی ہے ،یہ بات اس مناسبت کے علاوہ ہے جویہ دونوں افعال (ہنسنااور رونا)موت وحیات کے مسئلہ کے ساتھ رکھتے ہیں ۔ بہرحال خداکی تدبیر اور ربوبیت پرتمام امورکی انتہا،انسان کے اختیاراورآزادی ارادہ کے ساتھ کسی قسم کااختلاف نہیں رکھتی ،کیونکہ اختیار وآزادی بھی اسی کی طرف سے ہے اوراس تک ہی منتہی ہوتی ہے ۔ ان امور کے ذکر کے بعد، جوپروردگار کی ربوبیت اور تدبیر سے مربوط ہیں، امر معاد وقیامت کوپیش کرتے ہوئے کہتاہے، کیاانسان کو یہ خبر نہیںہے کہ گزشتہ کتب میں یہ آیا ہے کہ دوسرے عالم کوایجاد کرناخدا پرلازم ہے (وَ أَنَّ عَلَیْہِ النَّشْأَةَ الْأُخْری) ۔ نشاة آفرینش اورکسی چیزکی تربیت کے معنی میں ہے ، نشاة اخرٰی قیامت کے علاوہ کوئی اور چیزنہیں ہے ، علیہ (خداپرلازم ہے ) کی تعبیر کوآزادی دے دی ، اس عرصہ میں مطیع وغیرمطیع اورظالم ومظلوم افراد وجود میں آ ئے ، اور کوئی بھی اس جہان میں اپنی اصلی پاداش اورسزاکونہیں پہنچا، لہٰذا اس کی حکمت کاتقاضا ہے کہ ایک نشاة ثانیہ ہوتاکہ عدالت کی جاسکے۔ علاوہ ازیں ایک حکیم ذات اس وسیع وعریض جہان کو ، ان تمام ناملائم اور نامناسب امور کے ساتھ ، چند روزہ زندگی کے لیے خلق نہیں کرسکتا، لہٰذاچھی اوریقینی طور سے یہ ایک وسیع زندگی کے لیے ، جواس وسیع پروگرام کی قیمت ہے ایک مقدمہ ہوگی ، یادوسرے لفظوں میں اگردوسری زندگی نہ ہو تو اس جہان کی خلقت اپنے اصلی ہدف اورمقصد تک نہیں پہنچ سکتی ۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ خدانے یہ وعدہ اپنے بندوں کوایک حتمی وعدہ کے عنوان سے دیاہے ،اوراس کے کلام کی صداقت کاتقاضا یہ ہے کہ اس کے وعدے پورے ہوں ۔ اس کے بعد مزید کہتاہے: اوروہی تو ہے جوبند وں کو بے نیاز بھی کرتاہے اورباقی رہنے والے سرمائے ان کے اختیار میں دیتاہے(وَ أَنَّہُ ہُوَ أَغْنی وَ أَقْنی) ۔ خدانے نہ صرف مادی پہلوؤں میں انسان کی ضروریات اورحاجتوں کواپنے لطف وکرم سے برطرف کیاہے ، بلکہ ہمیشہ رہنے والے سرمائے بھی اسے عطاکئے ہیں، کیونکہ معنوی زندگی میں بھی انسانوں کی احتیاجات تعلیم وتربیت اورتکامل وارتقاء کے سلسلہ میں انبیاء ورسل کے بھیجنے اورآسمانی کتب کے نازل کرنے اورمعنوی مواہب ونعمات عطاکرنے کے ذ ریعہ برطرف کی ہیں ۔ اغنٰی غنی کے مادہ سے بے نیاز ی کے معنی میں ہے ، اور اقنٰی قنیہ کے مادہ سے (جزیہ کے وزن پر )ان سر مایوں او ر اموال کے معنی میں ہے جنہیں انسان ذخیرہ کرتاہے (٤) ۔ اس بناپر اغنی تو موجود ہ حاجات وضروریات کوپورا کرتاہے ،اور اقنی ذخیرہ نعمتوں کی عطائیگی ہے ، جو مادی اور میں توباغ واملاک وغیرہ کے مانند ہے اورمعنوی ہے اورمعنوی امور میں خداکی رضاو خوشنودی جیسی باتیں ہیں،جوہمیشہ ہمیشہ رہنے والاعظیم ترین سرمایہ شمارہوتاہے ۔ یہاں ایک اورتفسیر بھی یہ جو اغنی کو اقنی کے مدّ ِ مقابل قرار دیتی ہے ،یعنی غنی وفقیراسی کے دستِ قدرت میں ہیں، اس کی تظیر سورئہ رعد کی آ یت ٢٦ میں آ ئی ہے:اللہ یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر: خداجس کے لیے چاہتا ہے روزی کووسیع کردیتاہے ،اور جس کے لیے چاہتا ہے محدود وتنگ کردیتاہے ۔ لیکن یہ تفسیراس کے ساتھ جو منابع لغت میں آئی ہے سازگار نہیں ہے اور اوپر والی آ یت اس معنی کی شاہد نہیں بن سکتی ۔ آخرمیں آخری زیربحث آیت میں فرماتاہے : کیاانسان یہ نہیں جانتاکہ گزشتہ کتب میں یہ آچکاہے کہ ستارئہ شعری کا پروردگار وہی ہے ؟(وَ أَنَّہُ ہُوَ رَبُّ الشِّعْری) ۔ ستارئہ شعری کاخصوصیت کے ساتھ ذکر اس کے علاوہ ،کہ یہ ستارہ آسمان کے ستاروں میں سب سے زیادہ چمکنے والاہے ،جوعام طورپر سحر کے وقت صورت فلکی جوزا کے پاس آسمان میں ظاہر ہوتاہے ، تو جہ کومکمل طور سے اپنی طرف کھینچتا ہے اس سبب سے ہے کہ مشر کین عرب کاایک گروہ اس کی پرستش کرتاتھا ، قرآن کہتاہے ! تم شعری کی پرستش کیوں کرتے ہو؟اس کے پیداکرنے والے پر وردگار کی پرستش کرو ۔ ضمنی طورپر توجہ رکھنی چاہیئے کہ آسمان میں دوستار ے ہیں جوشعری کے نام سے موسوم ہیں ،جن میں سے ایک تو جنوب کی سمت میں ظاہرہوتاہے ، اور اسی بناپر اس کو شعرای یمانی کہتے ہیں (کیونکہ یمن جزیرہ عربستان کے جنوب میں ہے )اوردوسرا شعرای شامی جوشمال کی طرف نکلتاہے ، لیکن مشہور وہی شعرای یمانی ہے ۔ اس ستارہ کی عمدہ خصوصیات کے بارے میں دوسرے مباحث ہیں جونکات کی بحث میں آ ئیں گے ۔ ١۔تفسیر علی بن ابراہیم مطابق نورالثقلین ،جلد ٥،صفحہ ١٧٠۔ ٢۔یہ افعال اگرچہ ماضی کی صورت میں ہیں لیکن مستقبل کامعنی دیتے ہیں ۔ ٣۔ نورالثقلین جلد ٥،صفحہ ١٧٢۔ ٤۔"مفردات "" راغب""مادہ "" قنی"" ۔