أَمۡ لِلۡإِنسَٰنِ مَا تَمَنَّىٰ
Shall man have whatever he yearns for?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 53:24
[Pooya/Ali Commentary 53:24] Man's desires are dictated by his whims and fancies, so he worships false gods and ideas and generates evil and disorder. The true source of guidance and light is Allah. He is the ultimate goal to which all persons and things (all existence) return. Sovereignty, from beginnings to end, exclusively belongs to Allah.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:24-26
٢۔"" شفاعت کے بارے میں گفتگو
آخری آ یت ان آیات میں سے ہے ، جوفرشتوں کے ذ ریعہ امکان شفاعت کی وضاحت کے ساتھ خبردیتی ہے ،جہاں وہ اذن ورضائے خدا سے شفاعت کاحق رکھتے ہیں ، انبیاء اوراولیائے معصوم بطریق اولیٰ اس قسم کے حق کے حق دار ہیں ۔ لیکن اس بات کونہیں بھولنا چاہیئے کہ اوپروالی آیت صراحت کے ساتھ یہ کہہ رہی ہے کہ : یہ شفاعت بے قید وشرط کے نہیں ہوگی ، بلکہ یہ اذن ورضائے خداکے ساتھ مشروط ہے ۔ اور چونکہ اس کااذن ورضا حت وکتاب کے بغیر نہیں ہے لہٰذاانسان اوراس کے درمیان رابط ہوناچاہیئے تاکہ وہ اس کے لیے،اپنے مقربان درگاہ کو، شفاعت کی اجازت دے دے ۔اوریہ وہ مقام ہے جہاں امید ِ شفاعت ،انسان کے لیے ایک تربیتی مکتب کی صورت میں اختیاکرلیتی ہے ، اور خدا سے اس کے تمام رشتوں کے ٹوٹنے سے مانع ہوجاتی ہے(۱) ۔ ۱۔""من یشائ"" کی تعبیر جواوپروالی آ یت میں آ ئی ہے ممکن ہے ایسے انسانوں کی طرف اشارہ ہوجن کی شفاعت کی خدا اجازت دیتاہے،یااُن فرشتوں کی طرف اشارہ ہوجنہیں وہ شفاعت کی اجازت دیتاہے ،لیکن پہلااحتمال زیادہ مناسب ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:24-26
١۔آرزوؤں کے دامن کاپھیلاؤ
تمنا اور آرزو کاسرچشمہ انسان کی قدرت کامحدود ہونا اوراس کی ناتوانی ہے ،کیونکہ جب کبھی اسے کسی چیز سے لگاؤ پیدا ہوااور وہ اُسے حاصل نہ کرسکا، تو وہ آرزو اورتمنا کی صورت اختیار کرلیتی ہے ،اوراگرہمیشہ کسی چیز کی خواہش کرتے ہی وہ چیز حاصل ہوگئی ہوتی ،اور جوکچھ وہ چاہتاتھاوہ اسے فوراً مل گیا ہوتاتو پھر آرزو کوئی معنی نہ رکھتی ۔ البتہ بعض اوقات انسان کی تمنا ئیں سچی بھی ہوتی ہیں، اوروہ اس کی بلندروح سے سرچشمہ حاصل کرتی ہیں، اوروہ اس کی دانش اورتقویٰ وشخصیت میں تمام دنیاجہاں کے لوگوںسے بڑھ جائے ۔ لیکن اکثر ایسا بھی ہوتاہے کہ انسان کی یہ آرزو ئیں جھوٹی ہوتی ہیں،اورٹھیک سچی آرزوؤں کے برعکس غفلت ، بے خبری ، اور پس ماندگی کاسبب ہوتی ہیں ،مثلاً عمرجاوداں تک پہنچنے کی آرزو،اور زمین ہمیشہ رہنے کی تمنا ، اور تمام اموال اور ثروتوں پرقبضہ جمانا،اورتمام انسانوں پر حکومت کرنااوراسی طرح کے دوسرے موہومات۔ اسی بناپراسلامی روایات میں اس بات کاشوق دلا یاگیاہے کہ لوگ اچھی آرزو ئیں کریں، ایک حدیث میں پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ : من تمنی شیئاً وھوللہ عزوجل رضی لم یخرج من الدنیا حتی یعطاہ جوشخص کسی ایسی چیز کی تمنا کرے جورضائے خدا کا موجب ہے ،تووہ دنیاسے اس وقت تک نہیں جاتاجب تک وہ پوری نہ ہوجائے (۱) ۔ اور بعض روایات سے معلوم ہوتاہے کہ اگروہ دنیامیں اُسے حاصل نہ ہو تو اُسے اس کااجر وثواب ملے گا( ۲) ۔ ۱۔"" بحارالانوار "" جلد ٧١،صفحہ ٢٦١(باب ثواب تمنی الخیرات) ۲۔گذشتہ مآ خذ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:24-26
شفاعت بھی اسی کے اذن سے ہوگی
یہ آیات اسی طرح سے بت پرستی کی بیہودگی کوبیان کرتے ہوئے اس کی مذمت کررہی ہیں،اور گزشتہ آیات کے مضمون ہی کو جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ پہلے بت پرستوں کی بے بنیاد آرزؤں،اوران توقعات کوجووہ بتوں سے ر کھتے تھے بیان کرتے ہوئے کہتاہے ،: کیا جوکچھ انسان آرزو رکھتاہے وہ اُسے مل جاتاہے ؟(أَمْ لِلِْنْسانِ ما تَمَنَّی) ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ یہ بے روح اور بے قدروقیمت اجسام اس کی شفاعت کے لیے بارگاہ خدامیں کھڑے ہوسکیں گے ؟یااُسے دنیاو آخرت کی مشکلات میں پناہ دے سکیں گے ؟ حالانکہ دنیاو آخرت صرف خداہی کے لیے ہیں :(فَلِلَّہِ الْآخِرَةُ وَ الْأُولی) ۔ عالم اسباب اس کے ارادے کے محورپرگردش کررہاہے ،اور ہرموجود کے پاس جوکچھ بھی ہے وہ اس کے وجود کی برکت سے ہے شفاعت بھی اسی کی طرف سے ہے ، اور مشکلات کاحل بھی اسی کے دست قدرت میں ہے ۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ پہلے آخرت کے بارے میں گفتگو کرتاہے ، اوراس کے بعددنیا کے متعلق ،کیونکہ وہ چیز جوسب سے زیادہ انسانی فکر کو اپنی طرف مشغول رکھے ہوئے ہے وہ آخرت کی نجات ہی ہے ، اور خدا کی حاکمیت دوسرے گھرمیں اس گھر سے زیادہ آشکار ہے ۔ اس طرح سے قرآن مشرکین کوبتوں کی شفاعت ، اوران کے وسیلہ سے مشکلات کے حل سے ،کلی طور پرمایوس ، اور نااُمید کررہاہے ،اوریہ بہانہ ان سے چھین رہاہے کہ ہم تواس بناپر ان کی پرستش کرتے ہیں کہ وہ بارگاہ خدامیںہماری شفاعت کریں:(وَ یَقُولُونَ ہؤُلاء ِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّہِ )(یونس:١٨) ۔ اُوپر والی دو آ یات میں ایک اوراحتمال بھی ہے ، اور وہ انسان کے ،اپنی آرزو ؤں اورخواہشات پردسترس حاصل نہ کرنے کے طریق سے ، پروردگارکے وجود کی طرف توجہ کرتاہے ،کیونکہ پہلی آ یت میں ایک استفہام انکاری کی صورت میں کہتاہے ،: کیا انسان اپنی تمام آرزو ؤں کوپالیتاہےاور چونکہ اس سوال کاجواب قطعاً نفی میں ہے ،یعنی انسان ہرگزاپنی اکثر آ رزو ؤں میں کامیاب نہیں ہوتا ،اوراصطلاح کے مطابق انہیں قبر میں اپنے ساتھ لے جاتاہے ،یہی چیزاس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس عالم کی تدبیر کسی اور کے ہاتھ میںہے ۔اورصرف اس کا ارادہ اس جہان پرحاکم ہے ،اس لیے دوسری آ یت میں کہتا ہے ، جب یہ بات ہے توآخرت اور دنیا خداہی کے لیے ہیں ۔ یہ معنی اسی چیز کے مشابہ ہے جوعلی علیہ السلام کی مشہور گفتگو میں آ ئی ہے : عرفت اللہ سبحانہ بفسخ العزائم وحل العقود ونقض الھمم میں نے خدا کوپختہ ارادوںکے ٹوٹنے وعدوں کے ناتمام رہنے اورہمتوں کے پست ہونے سے پہنچاناہے (١) ۔ اس تفسیر اور سابقہ تفسیر کے درمیان جمع بھی بعید نہیں ہے ۔ آخری زیربحث آ یت میں اس مسئلہ پراور زیادہ تاکید کے لیے مزید ارشاد ہوتاہے : آسمانوں میں کتنے ہی زیادہ فرشتے ایسے ہیں جن کی شفاعت کوئی فائدہ نہیں دے گی ،مگر جس کسی کے لیے خدا چاہے اوراس سے راضی ہوکراس کی شفاعت کی اجازت دے دے (وَ کَمْ مِنْ مَلَکٍ فِی السَّماواتِ لا تُغْنی شَفاعَتُہُمْ شَیْئاً ِلاَّ مِنْ بَعْدِ أَنْ یَأْذَنَ اللَّہُ لِمَنْ یَشاء ُ وَ یَرْضی) ۔ جہاں آ سمان کے فرشتے اپنی ساری عظمت کے باوجود اجتماعی صورت میں بھی شفاعت پرقدرت نہیں رکھتے ، جب تک کہ پروردگار کااذن اوررضانہ ہو، تو پھران بے شعور اور بے قدر وقیمت بتوں سے کیاتوقع کی جاسکتی ہے ؟جہاںتیز پر واز عقابوں کے پروبال گرجاتے ہوں وہاںناتواں مچھروں سے کیاہوسکتاہے ، کیایہ شرم کی بات نہیں ہے ،کہ تم یہ کہتے ہوکہ ہم توان بتوں کی اس لیے پرستش کرتے ہیں تاکہ وہ بارگاہ خدامیںہمارے شفیع ہوں؟ کم (کتنے بہت سے )کی تعبیر یہاںعمومی کے معنی میں ہے ،یعنی کوئی فرشتہ بھی اس کے اذن ورضا کے بغیر شفاعت نہیں کرسکتا ۔کیونکہ یہ تعبیر بعض اوقات لغت عرب میں ایک جمعیت کے معنی میں بھی استعمال ہوتی ہے ۔جیساکہ سورئہ اسراء کی آ یت ٧٠ میں لفظ کثیر عموم کے معنی میں ہے :وَ فَضَّلْناہُمْ عَلی کَثیرٍ مِمَّنْ خَلَقْنا تَفْضیلاً ہم نے بنی آدم کواپنی ساری مخلوقات پرفضیلت اوربرتری بخشی ہے اس کے علاوہ سورئہ شعراکی آ یت ٢٢٣ میں شیاطین کے بارے میں یہ آ یاہے کہ: واکثرھم کاذبونان میں سے اکثر جھوٹے ہیں، جب کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ سب کے سب جھوٹے ہیں( ٢) ۔ باقی رہا اذن اور رضامیں فرق تووہ اس لحاظ سے ہے ،کہ اذن اس مقام پر بولا جاتاہے جہاں کوئی معنی میں بھی ہے ،اور چونکہ بعض اوقات کوئی شخص اذن تودتیاہے جب کہ وہ دل سے راضی نہیں ہوتالہٰذا اوپر والی آیت میں تاکید کے لیے اذن کے بعد رضا کامسئلہ بھی آیاہے، اگرچہ خداوند تعالیٰ کے بارے میں اذن ، رضا سے جدانہیں ہے ،اوراس کے بارے میں تقیہ کوئی معنی نہیں رکھتا ۔ ١۔نہج البلاغہ کلمات قصار کلمہ ٢٥٠۔ ٢۔"" شفاعتھم""میں جمع کی ضمیرباد جوداس کے ""ملک""مفرد ہے ،مفہوم کلام کی رعایت کی بناپر ہے ،جوجمع کامعنی رکھتاہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:24-26
سوره النجم/ آیه 24- 26
٢٤۔أَمْ لِلِْنْسانِ ما تَمَنَّی۔ ٢٥۔فَلِلَّہِ الْآخِرَةُ وَ الْأُولی۔ ٢٦۔ وَ کَمْ مِنْ مَلَکٍ فِی السَّماواتِ لا تُغْنی شَفاعَتُہُمْ شَیْئاً ِلاَّ مِنْ بَعْدِ أَنْ یَأْذَنَ اللَّہُ لِمَنْ یَشاء ُ وَ یَرْضی۔ ترجمہ ٢٤۔کیاجوکچھ انسان آروز رکھتاہے وہ اسے مل جاتا ہے؟ ٢٥۔حالانکہ آخرت بھی اور دنیابھی خداہی کے لیے ہے ۔ ٢٦۔اور کتنے ہی زیادہ فرشتے آسمانوں میں ایسے ہیں جن کی شفاعت کوئی فائدہ نہیں دیتی ،مگراس کے بعد کہ خدا جس کے لیے چاہے اس سے راضی ہوک ہ(شفاعت کرنے کی ) اجازت دے دے ۔٢٤۔أَمْ لِلِْنْسانِ ما تَمَنَّی۔ ٢٥۔فَلِلَّہِ الْآخِرَةُ وَ الْأُولی۔ ٢٦۔ وَ کَمْ مِنْ مَلَکٍ فِی السَّماواتِ لا تُغْنی شَفاعَتُہُمْ شَیْئاً ِلاَّ مِنْ بَعْدِ أَنْ یَأْذَنَ اللَّہُ لِمَنْ یَشاء ُ وَ یَرْضی۔ ترجمہ ٢٤۔کیاجوکچھ انسان آروز رکھتاہے وہ اسے مل جاتا ہے؟ ٢٥۔حالانکہ آخرت بھی اور دنیابھی خداہی کے لیے ہے ۔ ٢٦۔اور کتنے ہی زیادہ فرشتے آسمانوں میں ایسے ہیں جن کی شفاعت کوئی فائدہ نہیں دیتی ،مگراس کے بعد کہ خدا جس کے لیے چاہے اس سے راضی ہوک ہ(شفاعت کرنے کی ) اجازت دے دے ۔