أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّى
Have you considered Lat and ‘Uzza?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 53:19
[Pooya/Ali Commentary 53:19] When the Holy Prophet was reciting verses one of the idolators recited: "There are the lofty idols, verily their intercession is sought." See commentary of Hajj: 52 and 53 on page 743 for full details.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:19-23
تفسیر
توحیدو وحی ومعراج اور آسمانوں میں خدائے یگانہ کی عظمت سے مربوط مباحث کے بیان کے بعد بتوں کے بارے میں مشرکین کے شرک اوربیہودہ عقائد کے بطلان کوپیش کرتاہے ۔ خداکی عظمت اوراس کی عظیم آ یات اورنشانیوں کوجان لینے کے بعد مجھے بتاؤ توسہی کیاپھر بھی لات و عزیٰ بت ہی ... (أَ فَرَأَیْتُمُ اللاَّتَ وَ الْعُزَّی) ۔ اوراسی طرح سے منات جوان کاتیسرابت ہے ،جسے ان کے بعد ذکر کرتے ہو، کیا یہ مورتیاں خداکی بیٹیاں ہین ،اور تمہیں کوئی فائدہ یانقصان پہنچاسکتے ہیں (وَ مَناةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْری)(١) ۔ کیاتمہاراحصہ توبیٹے ہیں اور اس کا حصہ بیٹیاں ؟(أَلَکُمُ الذَّکَرُ وَ لَہُ الْأُنْثی)حالانکہ تمہارے خیال میں بیٹیاں ،بیٹوں سے کم قدر وقیمت ہیں ، یہاں تک کہ جب تم یہ سنتے ہو کہ تمہاری بیوی نے بیٹی جنی ہے توتم غم واندوہ کی شدت اورغصہ سے سیاہ ہوجاتے ہو ۔ اگراسی طرح ہے تو پھر یہ تقسیم ایک غیر عادلانہ تقسیم ہے ۔جوتم نے خوداپنے اورخدا کے درمیان روارکھی ہے(تِلْکَ ِذاً قِسْمَة ضیزی)(٢) ۔ کیونکہ خداکے حصہ کو اپنے سے کمتر سمجھتے ہو ۔ اس طرح قرآن ان کے گریہوئے اور بے ہودہ افکار کامذاق اڑاتاہے کہ تم ایک طرف تو بیٹیوںکوزندہ درگور کرتے ہو، انہیں ننگ وعیب سمجھتے ہواور دوسری طرف فرشتوں کوخداکی بیٹیاں سمجھتے ہو، تم نہ صرف خودان کی پرستش کرتے ہو،بلکہ ان کے بے روح مجسمے بھی بتوں کی صورت میں تمہاری نظر میں اتنے محترم ہیں کہ ان کے سامنے سمجدہ کرتے ہو، مشکلات میں ان سے پناہ مانگتے ہو، اور اپنی حاجتیں ان سے طلب کرتے ہو، حقیقتاً یہ ایک مذاق اور شرم والی بات ہے ۔ اسی سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ کم ازکم پتھر اورلکڑی کے بہت سے بت جن کی عرب پرستش کیاکرتے تھے ،ان کے گمان میں فرشتوں کے مجسمے تھے ،وہ فرشتے جنہیں وہ رب النوع اورعالم ہستی کامدیرومدبر سمجھتے تھے ،اور خداسے ان کی نسبت بیٹی اور باپ کی نسبت خیال کرتے تھے ۔ جس وقت ان خرافات کاایک دوسری بیہودہ گی کے ساتھ ،جووہ بیٹیوں کے بارے میں سمجھتے تھے مقابلہ کیاجاتاہے توان کاعجیب وغریب تضاد،خودان کے مقائد وافکار کے بے بنیاد ہونے کاایک بہترین گواہ بن جاتاہے ،اور کتنی عمدہ بات ہے کہ یہ چند مختصر سے جملوں کے ساتھ قرآن ان سب پرخط بطلان کھینچتے ہوئے ان کے مذاق اورمسخرہ پن کوآشکار کردیتاہے ۔ اوراسی سے یہ بھی معلوم ہوجاتاہے کہ قرآن کاہرگز منشا یہ نہیں ہے کہ زمانہ جاہلیت کے عربوں کے بیٹی اور بیٹے کے درمیان فرق کے بارے میںا عتقاد کوقبول کرلے ،بلکہ وہ اس طریقہ سے مدمقابل کے مسلمات کواس کے خلاف پیش کرناچاہتا ہے جسے منطق کی اصطلاح میں جدلکہتے ہیں، ورنہ اسلام کی منطق میں ، انسانی قدرومنزلت کے لحاظ سے ، نہ تو بیٹے اور بیٹیوں میں کوئی فرق ہے ،اور نہ ہی فرشتے بیٹی یابیٹا ہیں اور نہ اصلاً وہ خدا کی اولاد ہیں ،اور نہ ہی اصولاً خدااولاد رکھتاہے ، یہ بے بنیاد مفرد ہیں جن کی بنیاد دوسرے بے بنیاد ومفرد ضون پرہے ،لیکن یہ ان لغوبت پرستوں کے فکر ومنطق کے ضعف وکمزوری کوثابت کرنے کے لیے بہترین جواب ہے ۔ آخری زیر بحث آ یت میں قرآن قاطعیت کے ساتھ کہتاہے ، یہ توفقط نام ہی نام ہیں جوتم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے ان کے رکھے ہوئے ہیں،(ایسے نام جوبے معنی اور اسمائے بے مسمی ہیں) اور خدا نے ہرگز کوئی دلیل اورحجت اس پر نازل نہیں کی ہے (انْ ہِیَ ِلاَّ أَسْماء سَمَّیْتُمُوہا أَنْتُمْ وَ آباؤُکُمْ ما أَنْزَلَ اللَّہُ بِہا مِنْ سُلْطان)(٣)۔ نہ توا س پرتم کوئی عقلی دلیل رکھتے ہو، اور نہ ہی وحی کے طریق سے کوئی دلیل تمہارے پاس ہے ،اور یہ مٹھی بھراوہام و خرافات اورکھو کھلے الفاظ کے سوااور کچھ نہیںہے ۔ آخر میں مزید کہتاہے :وہ توصرف بے بنیاد گمانوں اور ہوائے نفس کی پیروی کرتے ہیں اور یہ موہوم باتیں سب کی سب خیال اور ہوائے نفس کی پیدا وار ہیں(انْ یَتَّبِعُونَ ِلاَّ الظَّنَّ وَ ما تَہْوَی الْأَنْفُسُ)(٤) ۔ حالانکہ ان کے پروردگارکی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے (وَ لَقَدْ جاء َہُمْ مِنْ رَبِّہِمُ الْہُدی) ۔ لیکن وہ آنکھیں بند کرکے اس سے پیٹھ پھیر لیتے ہیں اوران اوہام کی ظلمتوں میں ڈوب جاتے ہیں ۔ ١۔ ان تینوں بتوں کے بارے میں ہم انشاء اللہ نکات کی بحث میں تفصیل سے گفتگو کریں گے ، جوچیز یہاں قابل توجہ ہے وہ "" ثالثة"""" تیسرا"" اور"" آخری "" (متأخر)کی تعبیر ہے ،جو منات بت کے بارے میں آئی ہے ،علماء نے ان دونوں تعبیروں کے لیے بہت زیادہ تفسیر یں بیان کی ہیں، جن میں سے اکثر بے بنیاد تکلفات ہیں، جوکچھ زیادہ مناسب نظر آتاہے ،وہ یہ ہے کہ مشرکین عرب کے نزدیک ان بتوں کی اہمیت اسی ترتیب کے ساتھ ہے جوآ یت میں بتائی گئی ہے ۔ تواس بناپر ""منات"" تیسرے مرحلہ میں قرار پاتاہے، اور"" اخری"" کے ساتھ اس کی توصیف اس کے رتبہ ومقام کے تاخر کی بناپر ہے ۔ ٢۔"" ضیرٰی"" ناقص ، ظالمانہ اور غیر معتدل کے معنی میں ہے ۔ ٣۔"" سلطان"" تسلط اورغلبہ کے معنی میں ہے اور زندہ ویقینی دلائل کو"" سلطان"" کہاجاتاہے،کیونکہ وہ دشمن پرغلبہ کا سبب ہوتے ہیں ۔ ٤۔""ماتھوی الانفس ""میں با""موصولہ "" ہے یہ احتمال بھی دیاگیاہے کہ مصدر یہ ہو البتہ نتیجہ کے لحاظ سے کچھ فرق نہیں ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:19-23
٣۔ بت پرستی کانفسیاتی اور فکری سرچشمہ
بت پرستی کے سر چشمے تو ہمیں معلوم ہوگئے ہیں،لیکن بت پرستی کے کچھ اور نفسیاتی اورفکری سرچشمے بھی ہیں جن کی طرف اوپروالی آیات میں اشارہ ہواہے ،اور وہ بے بنیاد گمانوں اور ہوائے نفس کی پیروی ہے ۔ وہ ایک ایساخیال اور تصور ہے جونادان افراد میں پیدا ہوجاتاہے،اور مقلدیں آنکھیں اور کان بند کرکے ایک دوسرے سے لے لیتے ہیں، اور پھر وہ نسل درنسل منتقل ہوتا رہتاہے ۔ البتہ بت جیسا معبود،جواپنے بندوں پرکسی قسم کا کوئی کنٹرول نہیں رکھتا،اورنہ ہی کوئی معاد وقیامت اور حساب وکتاب رکھتا ہے ،اور نہ ہی کوئی بہشت ودوزخ ہے ،اوراس نے انہیں مکمل آزادی دے رکھی ہے ، وہ صرف مشکلات میں اس کی طرف رخ کرتے ہیں اوراپنے خیال میں اس سے مدد طلب کرتے ہیں، یہ بات ان کی سرکش ہواوہوس کے ساتھ اچھی طرح سازگار ہے ،اوران کی خواہشات کے لیے میدان کوکھول دیتاہے ۔ اصولی طورپر ہوائے نفس خود ایک عظیم ترین اورخطرناک ترین ، بت ہے ،اور دوسرے بتوں کی پیدائش کاسرچشمہ ہے ، اور بت پرستی کا بازارگرم ہونے کاسبب ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:19-23
٢۔ اسمہای بے مسمّٰی
شرک اور دوخداؤں یاکئی خداؤںکی پرستش کے قدیم ترین سرچشموں میں سے ایک ، موجودات عالم تنوع ہے ،کیونکہ کوتاہ فکرافراد یہ باور نہیں کرسکتے تھے ،کہ یہ گوناں گوں اور متنوع موجودات ،جوآسمان اور زمین میں ہیں، ایک ہی خدا کی مخلوق ہوں (کیونکہ انہوںنے اپنے اوپر قیاس کرلیاتھا،جوہمیشہ ایک آدھ کام یاچند کاموں میں ہی مہارت رکھتے تھے )لہٰذا وہ موجودات کی ہرنوع کے لیے ایک علیحدہ خدا مانتے تھے ۔جسے وہ رب النوع سے تعبیر کرتے تھے مثلاً النوع دریا ،رب النوعِ صحرا رب النوعِ باران ، رب النوعِ آفتاب ، رب النوعِ جنگ اور رب النوعِ صلح۔ یہ خیالی خداجنہیں وہ بعض اوقات فرشتوں سے یاد کرتے تھے ،ان کے عقیدہ کے مطابق اس جہان کے حکمران تھے اور جس حصہ میں بھی کوئی مشکل پیداہوتی تووہ اسی کے رب النوع سے پناہ مانگتے تھے ، اس کے بعد چونکہ یہ سارے کے سارے موجودات کے رب النوع محسوس نہیں ہوتے تھے لہٰذا ان کی مورتیاں بناکر ان کی عبادت کرنے لگے ۔ یہ بیہودہ عقائد یونان سے دوسرے علاقوں کی طرف اورآخرکارحجاز کے علاقے کی طرف منتقل ہوئے ،لیکن چونکہ عرب توحید ابراہیمی کی بناپر ،جوان کے درمیان بطور یادگاررہ گئی تھی ،اللہ کے وجود کے منکرنہیں ہوسکتے تھے ،لہٰذا انہوںنے ان عقائد کو آپس میں ملادیا، اورخدا وند تعالیٰ کے وجود کا عقیدہ برقرار رکھتے ہوئے ،فرشتوں کاعقیدہ بھی اپنالیا جن کاوہ خدا کے سااتھ باپ اور بیٹی کا رابط سمجھتے تھے ،اور پتھر اورلکڑی کے بتوں کوان کے مظہر اوران کی مو رتیاں سمجھتے تھے ۔ قرآن ایک مختصر ،لیکن جامع عبارت کے ساتھ جواوپروالی آ یات میں بیان ہوئی ہے ،کہتاہے ،: یہ سب بے معنی نام اور اسمائے بے مسمّیٰ ہیں ،جنہیں تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے بغیر کسی دلیل ومدرک کے انتخاب کرلیاہے! نہ تو بارش کے خدا سے جس کا تم نے یہ نام رکھاہے کوئی کام ہوسکتا ہے ، اور نہ ہی سورج ،دریا، جنگ اورصلح کے خیالی خداؤں سے کچھ ہوسکتاہے ۔ تمام چیزیں خداہی کی طرف سے ہیں اور سب عالم ہستی اسی کا مطیع ہے۔اوران مختلف موجودات کی ایک دوسرے سے ہم آہنگی ان کے خالق کی وحدت کی بہترین دلیل ہے ،کیونکہ آگرکئی الہ اور بہت سے خدا ہوتے تونہ صرف یہ کہ یہ ہم آہنگی موجودنہ ہوتی،بلکہ اس کاانجام یہ ہوتا کہ سارا عالم تضاد اورقساد کاشکار ہوجاتاہے،:(لو کان فیھما اٰلھة الّا اللہ لفسدتا) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:19-23
1۔ عربوں کے تین مشہوربت
مشرکین عرب کے بہت سے بت تھے ،لیکن بلاشک وشبہ ان میں سے تین بت لات وعزیٰ اورمنات ایک خاص اہمیت اور شہرت رکھتے تھے ۔ ان ناموں کے ساتھ ان تینوں کے نام رکھنے کے بارے میں ، اور اسی طرح سب سے پہلے ان بتوں کے بنانے والے کے متعلق اوران کے مقام اورپرستش کرنے والے قبیلہ کے سلسلہ میں بہت سی باتیں اوراختلافات ہیں، اور ہم یہاں صرف اسی بات پر جوکتاببلوغ الارب فی معرفة احوال العرب میں آ یا ہے ،اکتفاکرتے ہیں ۔ پہلا معروف بت، جسے عربوں نے انتخاب کیا، بت منات تھا، عمروبن لحی کی طرف سے ،بت پرستی کوشام سے حجاز کی طرف منتقل کرنے کے بعد، بنایاگیاتھا ، یہ بت بحرائہ حمر کے پاس مدینہ اور مکہ کے درمیان کے علاقہ میں رکھا گیاتھا، اور تمام عرب اس کااحترام کیاکرتے تھے ۔ اوروہ اس کے پاس قربانی کرتے تھے ،لیکن سب سے زیادہ اسے دوقبیلے ، اوس اور خزرج اہمیت دیتے تھے ، یہاں تک کہ آٹھویں ہجری میں، جوفتح مکہ کا سال تھا ،جس وقت پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)مدینہ سے مکہ کی طرف جارہے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امیر المومنین علی علیہ السلام کوبھیج کراسے تڑوادیا ۔ زمانہ جاہلیت کے عربوں نے بت منات بنانے کے ایک مدت بعد لات کوبنایا ، جوایک چار کونوں والے پتھر کی صورت میں تھا ، اور سرزمین طائف میں رکھاگیاتھا، اس جگہ پر جہاں آج مسجد طائف کی بائیں طرف کا منارہ ہے اس بت کے خادم زیادہ تر قبیلہ ٔ ثقیف میں سے تھے ، جب وہ مسلمان ہوگئے ،توپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغیرہ کوبھیج کراسے تڑوادیا، اور اس نے اُسے آگ میں پھینک کر جلادیا ۔ تیسرا بت جس کازمانہ جاہلیت کے عربوں نے انتخاب کیاتھا، عزّٰی تھا جومکہ سے عراق کے راستے میں ذات عرق، کے قریب رکھاہوا تھا، اور قریش اس کابہت ہی زیادہ احترام کیاکرتے تھے ۔ وہ ان تینوں بتوں کواتنی اہمیت دیاکرتے تھے ،کہ وہ خانۂ خدا کے گروطواف کرتے وقت کہتے تھے ۔: والّات والعزی ومناة الثالثة الاخرٰی ، فانھن الغرانیق العلیٰ ،وان شفاعتھن لترتجی : لات وعزی اورمنات خوبصورت اوربلند مقام پرندے ہیں کہ جن سے شفاعت کی اُمید کی جاتی ہے !!اوروہ انہیں خداکی بیٹیاں سمجھتے تھے (ظاہر یہ ہے کہ و ہ انہیں فرشتوں کی مورتیاں خیال کرتے تھے جنہیں وہ خدا کی بیٹیاں کہہ کرپکارتے تھے (۱) ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ ان کانام رکھنے میں بھی غالباً انہوں نے خدا کے ناموں سے استفادہ کیاہواتھا، زیادہ سے زیادہ تانیث کی علامت کے ساتھ ،تاکہ وہ اوپر والے عقیدہ کوظاہرکرے، اس طرح سے کہ اللّات اصل میں اللاھہ تھا، اس کے بعد حرف ھ ساقط ہوگیا، او ر اللّات ہوگیا(۲)اور العزّٰی اعز کی مؤ نث ہے اورمنات منی اللہ الشیئ کیس چیز کے خدا کی طرف سے مقدر ہونے سے لیاگیاہے ۔ بعض اسے نوئ کے مادہ سے جانتے ہیں جوان ستاروں میں سے تھاجن کے بارے میں عربوں کایہ عقیدہ تھاکہ جب وہ طلوع کرتے ہیں توان کے ساتھ ہی بارش ہوتی ہے ،اور بعض اسے بروزن سعی کے مادہ سے خون بہانے کے معنی میں جانتے ہیں، کیونکہ وہ قربانی کے خون ان کے پاس بہایاکرتے تھے (۳) ۔ بہرحال عرب ان بتوںکااس قدر احترام کیاکرتے تھے ،کہ بعض قبیلوں یاافراد کانام عبدالعزی اور عبدمناف کی طرح کے رکھا کرتے تھے(۴) ۔ ۱۔"" بلوغ الارب فی معرفت احوال العرب"" جلد ٢،صفحہ ٢٠٢،٢٠٣۔ ۲۔اس معنی کے مطابق اللات کواللاة (گول تاء ) کے ساتھ لکھاجاناچاہیے ، لیکن چونکہ وقفی حالت میں (ھائ) کے ساتھ تبدیل ہوجاتی ہے اور ممکن ہے کہ لفظ "" اللہ"" کے ساتھ اشتباء ہوجائے لہٰذا سے "" اللّات"" کی صورت میں لکھتے ہیں ۔ ۳۔پہلااحتمال کشاف میں اور دوسرابلوغ الارب میں آ یاہے ۔ ۴۔بلوغ الارب جلد ٢،صفحہ ٣٠٢اور ٣٠٢۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:19-23
سوره النجم/ آیه 19- 23
١٩۔ أَ فَرَأَیْتُمُ اللاَّتَ وَ الْعُزَّی۔ ٢٠۔وَ مَناةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْری۔ ٢١۔أَ لَکُمُ الذَّکَرُ وَ لَہُ الْأُنْثی۔ ٢٢۔تِلْکَ ِذاً قِسْمَة ضیزی۔ ٢٣۔ِنْ ہِیَ ِلاَّ أَسْماء سَمَّیْتُمُوہا أَنْتُمْ وَ آباؤُکُمْ ما أَنْزَلَ اللَّہُ بِہا مِنْ سُلْطانٍ ِنْ یَتَّبِعُونَ ِلاَّ الظَّنَّ وَ ما تَہْوَی الْأَنْفُسُ وَ لَقَدْ جاء َہُمْ مِنْ رَبِّہِمُ الْہُدی۔ ترجمہ ١٩۔مجھے بتاؤ کیالات اور عزیٰ بت... ٢٠۔اور منات جوان میں سے تیسرا ہے (خدا کی بیٹیاں ہیں)؟ ٢١۔ کیاتمہاراحصہ توبیٹیا ہے اوراس کاحصہ بیٹی (درحالیکہ تمہارے خیال میں لڑکیاں لڑکوں کی نسبت کم قدرو قیت رکھتی ہیں) ۔ ٢٢۔ تواس صورت میں یہ تقسیم غیر عاد لانہ ہے ۔ ٢٣۔ یہ توفقط وہ نام ہیں جوتم نے اورتمہارے آباؤ اجداد نے ان کے رکھے ہیں،(ایسے نام جو بے معنی و مطلب اور اسمائے بے مسمیٰ ہیں) اورخدانے ہرگز کوئی دلیل اورحجت اس پرنازل نہیں کی ہے ۔وہ صرف بے بنیادگمانوں اورہوائے نفس کی پیروی کرتے ہیں ، حالانکہ ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے لیے ہدایت آچکی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:19-23
٤۔ پھر بھی"" غرانیق"" کاافسانہ
اس بحث کے دوران ،جوہم نے عربون کے تین بتوں لات وعزیٰ اورمنات کے بارے میں تاریخ لحاظ سے بیان کی تھی ، اس نکتہ کی طرف اشارہ کیاتھا، کہ وہ ان بتوں کوبلند پایہ غرانیق سمجھتے تھے،جن سے وہ شفاعت کی اُمید رکھتے تھے ، (غرانیق جمع غرنوق (بروزن مزدور)سفید یاسیاہ رنگ کے پانی کے ایک قسم کے پرندے کے معنی میں ہے)لہٰذا وہ بعض اوقات ان بتوں کے ناموں کے ذکر کے بعد تلک الغرانیق العلیٰ وان شفا عتھن لترتجی کے جملوں کے ساتھ ان کی تعریف اورقصید خوانی کیاکرتے تھے ۔ بعض کتابوں میںاس جگہ ایک بے ہودہ داستان بیان کی گئی ہے ، کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)جب زیربحث آیت أَ فَرَأَیْتُمُ اللاَّتَ وَ الْعُزَّی پرپہنچے ،تو (معاذاللہ ) آپ نے ان دوجملوں کاخود سے اضافہ کردیا: تلک الغرانیق العلیٰ وان شفا عتھن لتر تجی اوریہ چیز مشرکین کے خوش ہونے کاسبب بن گئی اوراس کی انہوںنے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی طرف سے بت پرستی کے مسئلہ کی طرف ایک قسم کا جھکاؤ سمجھا، اوراس سورہ کے آخر میں جب لوگوں کوسجدہ کی دعوت دی تومشرک بھی مسلمانوں کے ساتھ سجدے میں گرپڑے ،اور یہ خبرمشرکین کے اسلام لانے کے طورپر سب جگہ پھیل گئی ،یہاں تک کہ کہ حبشہ کے مہاجر مسلمانوں کے کانوں تک پہنچ گئی اور ان میں سے بعض اتنے خوش ہوئے اورامن کااحساس کیا کہ اپنی ہجرت گاہ حبشہ سے مکہ کی طرف پلٹ آئے (۱) ۔ لیکن جیساکہ ہم نے سورئہ حج کی آ یت ٥٢ کی تفسیر میں تفصیل کے ساتھ بیان کیاہے ، یہ ایک ایسی ناروانسبت اور رسوا جھوٹ ہے ،جس کے بطلان کوبہت سے دلائل اورقرائن واضح کرتے ہیں، جن لوگوں نے یہ جھوٹ گھڑاانہوںنے یہ بالکل نہیں سوچاکہ قرآن انہیں زیربحث آ یات میں صراحت کے ساتھ بت پرستی کی سرکوبی کررہاہے ،اوراسے خیال خام اور ہوائے نفس کی پیروی شمارکرتاہے،اور بعد والی آ یات میں بھی صراحت اورپوری شدّت کے ساتھ بت پرستوں کے عقائد کی مذمت کررہاہے ،اوراسے ان کی بے ایمانی بے علمی اور عدم آگاہی کی نشانی قرار دیتاہے ، اور صراحت کے ساتھ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کو یہ حکم دیتاہے کہ اپنا معاملہ اُن سے الگ کرلے اوران سے منہ پھیر لے ۔ اس طرح یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ دوجملے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے ہوں، یا مشرکین اس قدر احمق ہوں کہ وہ یہ جملے توسن لیں لیکن بعد والی آیات کو جوصراحت کے ساتھ بت پرستی کی سرکوبی کرتی ہیں نظر انداز کردیں، اورآخر میں خوش ہوجائیں اور سورہ کے خاتمہ کے بعد مسلمانوں کے ساتھ سجدہ میں گرپڑیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اس افسانے کوگھڑ نے والوں نے بہت ہی ناتجربہ کاری ، اور کسی مطالعہ کے بغیر اسے گھڑاہے ۔ یہ ہوسکتا ہے کہ پیغمبر کی طرف سے اس آ یت أَ فَرَأَیْتُمُ اللاَّتَ وَ الْعُزَّی... کی قرائت کے وقت اچانک شیطان نے یاحاضر گروہ مشر کین میں سے کسی شیطان صفت انسان نے ان دوجملوں کااضافہ کردیاہو، (کیونکہ دونوں جملے ان کاشعار بن چکے تھے جن کے ذ ریعہ وہ ان تینوں بتوںکی تعریف کیاکرتے تھے )اوراس طرح سے ایک گروہ وقتی طورپر اشتباہ میں پڑ گیاہو ۔ لیکن اس سورہ کے آخر پر نہ توان کاسجدہ کرناکوئی مفہوم رکھتاہے ،اورنہ ہی پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کابت پرستی کے سلسلے میں جھکاؤ ، جیسا کہ تمام آ یات قرآنی اورآپ کی تاریخ زندگی اس حقیقت اور واقعیت پرگواہ ہیں، کہ آپ نے کبھی بت پرستی کے مسئلہ کے ساتھ مبارزہ کرنے میں ، کسی بھی شکل وصورت میں، معمولی سے معمولی جھکاؤ نہیں دکھایا ، اوراس سلسلہ میں آپ نے کسی بھی پیش نہاد کو قبول نہیں کیا، کیونکہ سارے اسلام کاخلاصہ توحید اور لاالٰہ الّا اللہ ہے ۔ لہٰذا پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کسی طرح بھی اسلام کے اصلی مطلب اور مفہوم پرمعاملہ نہیں کرسکے؟ ہم اس سلسلے میں مزید دلائل اور استد لالات سورئہ حج کی آ یت ٥٢ (جلد ٧،صفحہ ٥٨٤ میں پیش کرچکے ہیں) ۔ ۱۔اس بیہودہ کہانی کو"" طبری "" نے اپنی تاریخ کی دوسری جلد کے صفحہ ٧٥ سے آگے تفصیل کے ساتھ نقل کیاہے ۔