وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى
Certainly he saw it yet another time,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 53:13
[Pooya/Ali Commentary 53:13] The Holy Prophet saw Jibrail at sidratil muntaha beyond which neither any angel nor any other created being could pass. Then Jibrail told him: "I shall not take another step from here." The Holy Prophet went ahead and that which happened there is mentioned in verses 8, 9 and 10.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:13-18
٤۔معراج اسلامی روایات میں
ان مسائل میں سے ،جوروایات معراج، بلکہ اس ساری ہی مسئلہ کوبعض کی نظر میں قابل اعتراض بناتے ہیں ،ان کے درمیان بعض ضعیف اورمجہول روایات کاوجود ہے ،جب کہ مجمع البیان میں معروف مفسر مرحوم طبرسی کے قول کے مطابق ، معراج کی روایات کوچار گردہوں میں تقسیم کیاجاسکتاہے ۔ الف:وہ روایات جو متواترہونے کی بناپر قطعی ویقینی ہیں( مثلاً معراج کااصل مسئلہ) ۔ ب:وہ روایا ت جو(معتبر منابع سے نقل ہوئی ہیں)اورایسے مسائل پرمشتمل ہیں جن کے قبول کرنے میں کوئی عقل مانع نہیں ہے ،مثلاً وہ روایات جوآسمانوں میںعظمت خداکی بہت سی آ یات کے مشاہدے کے بارے میںبات کرتی ہیں ۔ ج:وہ زوایات جن کاظاہران اصولوں کے ساتھ جوآیاتِ قرآنی اور مسلم اسلامی روایات سے حاصل ہوئے ہیں منافات رکھتی ہیں،لیکن اس باوجود ان کی توجیہ کی جاسکتی ہے،مثلاً وہ روایات جویہ کہتی ہیں کہ پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے جنتیوں کے ایک گروہ کوجنت میںاور دوزخیوںکے ایک گروہ کودوزخ میںدیکھا (تواس کے لیے یہ کہاجا سکتاہے کہ بہشت ودوزخ سے مراد برزخی بہشت ودوزخ ہیں ، ان میں سے ایک میں تومؤ منین اور شہداء کی ارواح رہتی ہیں،اور دوسری میں کفار ومجرمین کی ارواح ٹھہر تی ہیں( ۱) ۔ د:وہ روایات جوایسے باطل وبے بنیاد مطالب پر مشتمل ہیں ، جوکسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہیں، اوران کے مطالب ہی ان کے مجہول ہونے پرگواہ ہیں، مثلاً وہ روایات جوکہتی ہیں کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے خداکو ظاہری آنکھکے ساتھ دیکھا، یااس سے گفتگوکی اور اس کامشاہدہ کیا، اس قسم کی روایات اوران کی مانند قطعاً مجہول ہیں،(مگر یہ کہ شہود باطنی کے ساتھ ان کی تفسیر کی جائے ) ۔ اس تقسیم بندی کی طرف توجہ کرتے ہوئے معراج کی روایات کاایک اجمالی مطالعہ پیش کرتے ہیں ۔ مجموعہ روایات سے معلوم ہوتاہے کہ پیغمبرگرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے یہ آسمانی سفرچند مرحلوں میں کیا ۔ پہلامرحلہ مسجد الحرام اورمسجد اقصیٰ کے درمیانی فاصلہ کامرحلہ تھا، جس کی طرف سورئہ اسراء کی پہلی آ یت میںاشارہ ہوا ہے :سُبْحانَ الَّذی أَسْری بِعَبْدِہِ لَیْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ ِلَی الْمَسْجِدِ الْأَقْصَی منزہ ہے وہ خدا جوایک رات میں اپنے بندہ کومسجد الحرام سے مسجد القصیٰ تک لے گیا۔ بعض معتبر روایات کے مطابق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اثناء راہ میں جبرئیل کی معیت میں سرزمین مدینہ میں نزول فرمایا اور وہاں نماز پڑھی ( ۲) ۔ اور مسجد الاقصیٰ میں بھی ابراہیم علیہ السلام و موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام جیسے عظیم انبیاء کی ارواح کی موجود گی میں نمازپڑھی ، اورامام جماعت پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)تھے ۔اس کے بعد وہاں سے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کاآسمانی سفرشروع ہوا،اور آپ نے ساتوں آسمانوں (۳)کویکے بعد دیگر ے عبورکیا، اور ہر آسمان میںایک نیاہی منظر دیکھا، بعض آسمانوں میں پیغمبروں اور فرشتوں سے ،بعض آسمانوں میں دوزخ اور دوزخیوں سے اور بعض میں جنت اور جنتیوں سے ملاقات کی ،اورپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ان میں سے ہرا یک سے بہت سی تربیتی واصلاحی قیمتی یادیں اپنی روح پاک میں ذخیرہ کیں ، اور بہت سے عجائبات کامشاہدہ کیاجن میں سے ہرایک عالم ہستی کے اسرار میں سے ایک سر اور رمز تھا ،اور واپس آنے کے بعدان کو صراحت کے ساتھ اوربعض اوقات کنایہ اور مثال کی زبان میں اُمت کی آگاہی کے لیے مناسب فرصتوںمیں بیان فرماتے تھے ،اور تعلیم وتربیت کے لیے اس کے لیے اس سے بہت زیادہ فائدہ اٹھاتے تھے ۔ یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ اس آسمانی سفر کاایک اہم مقصد ، ان قیمتی مشاہدات کے تربیتی وعرفانی تنائج سے استفادہ کرناتھا ، اور زیربحث آیات میں قرآن کی یہ پُر معنی تعبیر لَقَدْ رَأی مِنْ آیاتِ رَبِّہِ الْکُبْری ان تمام امور کی طرف ایک اجمالی اور سربستہ اشارہ ہوسکتی ہے ۔ البتہ جیساکہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ وہ بہشت اور دوزخ جس کو پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے سفر معراج میں مشا ہدہ کیا،اور کچھ لوگوں کو وہاں عیش میں اورعذاب میں دیکھا ،وہ قیامت والی جنت اور دوزخ نہیں تھیں ،بلکہ وہ برزخ والی ودوزخ تھیں، کیونکہ ان آیات کے مطا ب جن کی طرف ہم پہلے اشارہ کرچکے ہیں قرآن مجید کہتاہے ،کہ قیامت والی جنت ودوزخ قیام قیامت اور حساب وکتاب سے فراغت کے بعد نیکو کاروں اور بد کاروں کونصیب ہوگی ۔ آخرکار آپ ساتویں آسمان پرپہنچ گئے ،وہاں نُور کے بہت سے حجابوں کومشاہدہ کیا ، وہی جگہ جہاں پر سدرة المنتہیٰ اور جنّ المأ وٰیواقع تھی ،اورپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اس جہانِ سراسر نور وروشنی میں ،شہود باطنی کی اوج ، اورقربِ الی اللہ اورمقام قاب قوسین اوادنیٰپرفائز ہوئے، اورخدانے اس سفر میں آ پ کومخاطب کرتے ہوئے بہت سے اہم احکام دیئے اور بہت سے ارشادات فرمائے جن کاایک مجموعہ اس وقت اسلامی روایات میں احادیث قدسی کی صورت میں ہمارے لیے یادگار رہ گیاہے ۔ اور انشاء اللہ آئندہ فصل میں ہم اس کے ایک حصہ کی طرف اشارہ کریں گے ۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ بہت سی روایات کی تصریح کے مطابق پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اس عظیم سفر کے مختلف حصوں میں اچانک علی علیہ السلام کو اپنے پہلو میں دیکھا ،اوران روایات میں کچھ ایسی تعبیریں نظر آ تی ہے ہیں، جوپیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے بعد علی علیہ السلام کے مقام کی حد سے زیادہ عظمت کی گواہ ہیں ۔ معراج کی ان سب روایات کے باوجود کچھ ایسے پیچیدہ اور اسرار آمیز جملے ہیں جن کے مطالب کوکشف کرناآسان نہیں ہے اور اصطلاح کے مطابق روایات متشابہ کاحصہ ہیں،یعنی ایسی روایات جن کی تشریح کوخود معصومین کے سپرد کردینا چاہیئے ۔ (روایات معراج کے سلسلہ میں مزید اطلاع کے لیے بحارالانوار کی جلد ١٨ از ص ٢٨٢ تا ص ٤١٠ رجوع فرمائیں) ضمنی طورپر ، معراج روایات اہل سنت کی کتابوںمیں بھی تفصیل سے آ ئی ہیں ،اوران کے راویوں میں سے تقریباً ٣٠ افرادنے حدیث معراج کونقل کیاہے (۴) ۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے :یہ اتنا لمباسفر طے کرنااور یہ سب عجیب اورقسم قسم کے حادثات ،اور یہ ساری لمبی چوڑی گفتگو میں اور یہ سب کے سب مشاہدات ایک ہی رات میں یاایک رات سے بھی کم وقت میں کس طرح سے انجام پاگئے ؟ لیکن ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کاجواب واضح ہوجاتاہے ، سفرمعراج ہرگزایک عام سفرنہیں تھا، کہ اسے عام معیاروسے پرکھا جائے ،نہ تواصل سفر معمولی تھااور نہ ہی آپ کی سواری ،معمولی اور عام تھی ،نہ آپ کے مشاہدات عام اور معمولی تھی اورنہ ہی آپ کی گفتگومیں ،اور نہ ہی وہ پیمانے جواس میں استعمال ہوئے ہمارے کرئہ خا کی کے محدود اور چھوٹے پیمانوںکے مانند تھے،اور انہیں وہ تشبیہات جواس میں بیان ہوئی ہیں ان مناظرکی عظمت کوبیان کرسکتی ہیں جوپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے مشاہد ہ ہے کیے، تمام چیزیں خارق العادت صورت میں ،اوراس مکان وزمان سے خارج کے پیمانوں کے ساتھ ایک رات یاایک رات سے بھی کم وقت میں واقع ہوئے ہوں ،(غورکیجئے ) ۔ ٥۔ معراج کی رات خداکی پیغمبر سے باتوں کاایک گوشہ کتب حدیث میں ایک روایت امیر المؤ منین علی کے واسط سے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے اس سلسلہ میں آئی ہے جو بہت ہی شرح کے ساتھ ہے اور طولانی ہے ، ہم اس کے کچھ گوشوں کویہاں پیش کرتے ہیں،ایسے مطالب جواس بات نشاندہی کرتے ہیں ،کہ اس تاریخی رات کی باتیں کس محورپر تھیں ،اورانہوںنے آسمانوں کی بلندی کی طرح کس طرح بلند ی حاصل کی ۔ حدیث کے شروع میں بیان کیا گیاہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے شب معراج پروردگارسبحان سے اس طرح سوال کیا: یارب ای الاعمال افضل ؟ پروردگارا!کونساعمل افضل ہے ؟ خداوند تعالیٰ نے فر مایا: لیس شی ء عندی افضل من التوکل علی ،والرضابما قسمت،یامحمد!وجبت محبتی للمتحابین فی ، ووجبت محبتی للمتعا طغین فی ، ووجبت محبتی للمتواصلین فی، ووجبت محبتی للمتوکلین علی، ولیس لمحبتّی علم ولا غایة ولانھایة کوئی چیزمرے نزدیک مجھ پرتوکل کرنے ، اور جوکچھ میں نے تقسیم کرکے دیاہے ،اس پرراضی ہونے سے ،برتر نہیں ہے، اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)!جولوگ میری خاطرایک دوسرے کودوست رکھتے ہیں ،میری محبت ان کے شامل حال ہوگی ، اور جولوگ میری خاطرایک دوسرے پرمہربان ہیں اور میری خاطر دوستی کے تعلقات رکھتے ہیں ،میں انہیں دوست رکھتاہوں، علاوہ ازیں میری محبت اور ان لوگوںکے لیے جومجھ پرتوکل کرنے میں فرض اورلازم ہے ،اور میری محبت کے لیے کوئی حد اورکنارہ اورانہتانہیں ہے۔ اس طرح سے محبت سے باتیںشرو ہوتی ہیں، ایسی محبت جس کی کوئی انتہانہیں ہے ،جوکشادہ اور وسیع ہے ،اور اصولی طورپر عالم ہستی اسی محورِ محبت پرگردش کررہاہے ۔ ایک اوردوسرے حصہ میں یہ آیاہے ۔ اے احمد!بچوں کی طرح نہ ہونا، جوسبز وزرد اورزرق وبرق کودوست رکھتے ہیں ، اور جب انہیں کوئی عمدہ اور شریں غذادیتے ہیں تو وہ مغرور ہوجاتے ہیںاورہر چیزکوبھول جاتے ہیں( ۵) ۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اس موقع پرعرض کیا: پروردگارا!مجھے کسی ایسے عمل کی ہدایت فرما جوتیری بارگاہ میں قرب کا باعث ہو ۔ فرمایا: رات کودن اور دن کورات قراردے! عرض کیا: کس طرح ؟! فرمایا: اس طرح کہ تیرا سو نانماز ہو، اورہرگز اپنے شکم پورے طورپر سیرنہ کرنا۔ ایک اورحصہ میں آ یاہے : اے احمد!میری محبت فقیروںاورمحروموں کی محبت ہے ،ان کے قریب ہو، اور ان کی مجلس کے قریب بیٹھ ، تاکہ میں تیرے نزدیک ہوں ، اور دنیا پرست ثروت مندوں کو اپنے سے دور رکھ اوران کی مجالس سے بچتارہ۔ ایک اورحصہ فرماتاہے: اے احمد!دنیا کے رزق وبرق اور دنیا پرستوں کومبغوض شمار کر، اور آخرت اوراہل آخرت کومحبوب رکھ ، عرض کرتے ہیں! پروردگارا!اہل دنیا اوراہل آخرت کون ہیں ؟ فرمایا: اہل دنیا تووہ لوگ ہیں، جوزیادہ کھاتے ہیں زیادہ ہنستے ہیں، زیادہ سوتے ہیںاورغصہ کرتے ہیں، اورتھوڑاخوش ہوتے ہیں ، نہ توبرائیوں کے مقابلہ میں کسی سے عذر چاہتے ہیں،اورنہ ہی کسی عذر چاہنے والے سے اس کاعذر قبول کرتے ہیں، اطاعت خدامیں سست ہیں اور گناہ کرنے میں دلیر ہیں ،لمبی چھوڑی آرزو ئیں رکھتے ہیں، حالانکہ ان کی اجل قریب آپہنچی ہے مگروہ ہرگز اپنے اعمال کاحساب نہیں کرتے، اُن سے لوگوں کوبہت کم نفع ہوتاہے ، باتیں زیادہ کرتے ہیں، احساس مسئو لیت نہیں رکھتے ، کھانے پینے سے ہی غرض رکھتے ہیں ۔ اہل دنیا نہ تونعمت میں خداکاشکرادا کرتے ہیں اورنہ ہی مصا ئب میں صبر کرتے ہیں ۔ زیادہ خدمات بھی ان کی نظر میں تھوڑی ہیں(اورخودان کی اپنی خدمات تھوڑی بھی زیادہ ہیں) اپنی اس کام کے انجام پانے پر ، جوانہوںنے انجام نہیں دیاہے ،تعریف کرتے ہیں ،اورایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جوان کاحق نہیںہے ۔ ہمیشہ اپنی آرزو ؤں اورتمناؤں کی بات کرتے ہیں، اور لوگوں کے عیوب تو یاد دلاتے رہتے ہیں لیکن ان کی نیکیوں کوچھپاتے ہیں عرض کیا: پروردگارا!کیادنیا پرست اس کے علاوہ بھی کوئی عیب رکھتے ہیں؟ فرمایا!اے احمد!ان کا عیب یہ ہے کہ جہل اور حماقت ان میں بہت زیادہ ہے ، جس استادسے انہوں نے علم سیکھا ہے وہ اس کی تواضح نہیں کرتے ، اوراپنے آپ کو عاقل سمجھتے ہیں،حالانکہ وہ صاحبان علم کے نزدیک نادان اوراحمق ہیں ۔ اس کے بعد اہل آخرت اور بہشتیوں کے اوصاف کویوں بیان کر تاہے ۔ وہ ایسے لوگ ہیں جوباحیا ہیں ،ان کی جہالت کم ہے ،ان کے منافع زیادہ ہیں ۔لوگ ان سے راحت وآرام میں ہوتے ہیں اور وہ خود اپنے ہاتھوں تکلیف میں ہوتے ہیں ،اوران کی باتیں سنجیدہ ہوتی ہیں ۔ وہ ہمیشہ اپنے اعمال کاحساب کرتے رہتے ہیں ، اوراسی وجہ سے وہ خود کوزحمت میں ڈالے رہتے ہیں،ان کی آنکھیں سوئی ہوتی ہیں لیکن ان کے دل بیدار ہوتے ہیں،ان کی آنکھ گریاںہوتی ہے اوران کادل ہمیشہ یادِ خدا میں مصروف رہتاہے جس وقت لوگ غافلوں کے زمرہ میں لکھے جارہے ہوں وہ اس وقت ذکرکرنے والوں میں لکھے جاتے ہیں ۔ نعمتوں کے آغاز میں حمد خدابجالاتے ہیں اورختم ہونے پراس کاشکرادا کرتے ہیں ،ان کی دعائیں بارگاہ خدامیں قبول ہوتی ہیں، اوران کی حاجتیں پوری کی جاتی ہیں، اور فرشتے ان کے وجودسے مسرور اورخوش ہیں ۔۔۔ (غافل) لوگ ان کے نزدیک مردہ ہیں ،اورخداان کے نزدیک حیّی وقیوم وکریم ہے (ان کی ہمت اتنی بلند ہے کہ وہ اس کے سواکسی اورپر نظر نہیں رکھتے)...لوگ تواپنی عمر میںصرف ایک ہی دفعہ مرتے ہیں ،لیکن وہ جہاد بالنفس ،اور ہو اوہوس کی مخالفت کی وجہ سے ہر روز سترمرتبہ مرتے ہیں ،( اور نئی زندگی پاتے ہیں،!... جس وقت عبادت کے لیے مریے سامنے کھڑے ہوتے ہیں توایک فولادی بند اوربنیادمرصوص کے مانند ہوتے ہیں،اوران کے دل میں مخلوقات کی طرف کوئی توجہ نہیں ہوتی ،مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم ہے کہ میں انہیں ایک پاکیزہ زندگی بخشوں گا ،اورعمر کے اختتام پرمیں خودان کی روح کوقبض کرولوں گا اوران کی روح کی پرواز کیلئے آسمان کے دروازوں کو کھول دوں گا ،تمام حجابوں کوان کے سامنے سے ہٹادوں گا ،اورحکم دوںگا کہ بہشت خودکوان کے لیے آراستہ کرے!... اے احمد!عبادت کے دس حصہ ہیں جن میں سے نوحصہ طلب حلال میں ہیں ،جب تیراکھانا اورپینا حلال ہوگا تو تو میری حفظ وحمایت میں ہوگا...۔ ایک اورحصہ میں آ یاہے : اے احمد! کیاتوجانتاہے کہ کونسی زندگی زیادہ گوارا اورزیادہ دوام رکھتی ہے ؟ عرض کیا :خدا وند !نہیں! فرمایا: گوارا زندگی وہ ہوتی ہے جس کاصاحب ایک لمحہ کے لیے بھی میری یاد سے غافل نہ رہے ،میری نعمت کوفراموش نہ کرے ،میرے حق سے بے خبر نہ رہے ،اوررات دن میری رضا کوطلب کرے ۔ لیکن باقی رہنے والی زندگی وہ ہے جس میں اپنی نجات کے لیے عمل کرے ،دنیااس کی نظر میں حقیر ہو ، اورآخرت بڑی اور بزرگ ہو، میری رضا کواپنی رضا پرمقدم شمارکرے ،اورہمیشہ میری خوشنودی کوطلب کرے ،میرے حق کوبڑاسمجھے ۔اوراپنی نسبت میری آگاہی کی طرف توجہ رکھے ۔ ہرگناہ اورمعصیت پرمجھے یاد کرلیا کرے، اور اپنے دل کواس چیز سے جومجھے پسند نہیں ہے پاک رکھے شیطان اور شیطانی وسوسوں کومبغوض رکھے ،اور ابلیس کواپنے دل پر مسلط نہ کرے اوراُسے راہ نہ دے ۔ جب وہ ایسا کرے گا تو میں ایک خاص قسم کی محبت کواس کے دل میں ڈال دوںگا، اس طرح سے کہ اس کاسارادل میرے اختیار میں ہوگا ، اس کی فرصت اورمشغولیت اس کا ہم وغم اوراس کی بات ان نعمتوں کے بارے میں ہوگی جو میں اہل محبت کوبخشتاہوں ۔ میں اس کی آنکھ اور دل کے کان کھول دیتاہوں تاکہ وہ اپنے دل کے کان سے غیب کے حقائق کو سننے اوراپنے دل سے میرے جلال وعظمت کودیکھے ! اورآخرمیں یہ نورانی حدیث ان بیدار کرنے والے جملوں پرختم ہوجاتی ہے: اے احمد!اگرکوئی بندہ تمام اہل آسمان اورتمام اہل زمین کے برابر نماز اداکرے ، اور تمام اہل آسمان وزمین کے برابر روزہ رکھے، فرشتوں کی طرح کھانا نہ کھائے اور (کوئی فاخرہ) لباس بدن پرنہ پہنچے (اورانتہائی زہد اورپارسائی کی زندگی بسرکرے)لیکن اس کے دل میں ذرہ برابر بھی دنیاپرستی یاریاست طلبی یازینت دنیا کا عشق ہو ،تووہ میرے جاودانی گھر میں میرے جوار میں نہیں ہوگا،اوراپنی محبت کواس کے دل سے نکال دوں گا!میراسلام ورحمت تجھ پر ہو،(والْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعالَمین)(۶) ۔ یہ عرشی باتیں جوانسانی روح کوآسمانوںکی طرف بلند کرتی ہیں، اور معراج الہٰی کی طرف سیرکراتی ہیں ،اور آستانہ عشق وشہود کی طرف کھینچتی ہیں حدیث قدسی کاصرف ایک حصہ ہے ۔ مزید براں ہمیں اطمینان ہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اپنے ارشادات میں جو کچھ بیان فرمایاہے ان کے علاوہ بھی ، اس شب عشق وشوق اورجذبہ ووصال کی شب میں ،ایسی باتیں ،اسرار ورموز اوراشارے آپ کے اور آپ کے محبوب کے درمیان ہوئے ہیں جن کونہ تلوکان سننے کی طاقت رکھنے میں اور نہ ہی عام افکار میں ان کے درک کی طاقت ہے ،اوراسی بناپر وہ ہمیشہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے دل وجان کے اندر ہی مکتوم اور پوشیدہ رہے ،اورآپ کے خواص کے علاوہ کوئی بھی اُن سے آگاہ نہیں ہوا ۔ ۱۔ قرآن کی بعض آ یات میں آ یاہے کہ قیامت کے دن پرہیزگار گروہ گروہ جنت میں داخل ہوں گے،اور کفار گروہ گروہ دوزخ میں داخل ہوں گے ۔(سورہ زمر آیات ٧١،٧٣) دوسری آیات بھی اس معنی پر گواہی دیتی ہیں ( مثلاً آیت٧٠۔زخرف ،٨٥تا٨٦،مریم ٤٧،دخان) ۔ ۲۔ بحارالانوار ،جلد ١٨ صفحہ ٣١٩۔ ۳۔قرآن کی بعض آ یات کے مطابق مثلاً "انَّا زَیَّنَّا السَّماء َ الدُّنْیا بِزینَةٍ الْکَواکِب "" ""ہم نے نچلے آسمان کوستاروںکی زینت سے آراستہ کیاہے""(صافات۔٦)ہم جو کچھ عالم بالا سے دیکھتے ہیں اور تمام ستارے اور کہکشائیں یہ سب پہلے آسمان کا حصہ ہیں، اس بناپر چھ اور آسمان ان کے اوپر کے عوالم ہیں؟ ۴۔"" تفسیر المیزان"" جلد ١٣ ،صفحہ ٢٩ (سورئہ اسراء کی پہلی آ یات کے ذیل میں ،بحث روائی)۔ ۵۔قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس حدیث میں ہرجگہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کانام "" احمد"" کے عنوان سے ذکر ہواہے ،سوائے آغاز حدیث کے کہ وہاں ""محمد"" ہے ہاں!""محمد"" آپ کازمینی نام تھا،اور"" احمد"" آسمانی نام ، ایسا کیوں نہ ہوتا ،"" احمد"" چونکہ"" افعل تفضیل"" کاصیغہ ہے ،لہٰذا یہ زیادہ حمدو تعریف کوبیان کرتاہے ،اور پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کواس تاریخی رات میں ، اورقرب خدا کے اس مرحلے میں ""محمد""سے گزرکر"" احمد"" تک پہنچ جانا چاہیئے خصوصاً جبکہ احمد کااحد سے فاصلہ بہت کم ہے ۔ ۶۔بحارالانوار جلد٧٧ ،صفحہ ٢١تا٣٠(تلخیص کے ساتھ )
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:13-18
٣۔معراج اوربہشت
زیربحث آ یات سے معلوم ہوتاہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)شب معراج جنت کے قریب سے گزرے یااس میں وارد ہوئے ۔ یہ بہشت چاہے بہشت جاوداں اور جنة الخلد ہو جیساکہ مفسرین کی ایک جماعت نے بیان کیاہے ۔ یاوہ جنت برزخ ہو جسے ہم نے اختیار کیاہے ۔بہر صورت آپ نے اس بہشت میں انسانوں کے مستقبل کے بہت سے اہم مسائل مشاہدہ فرمائے ہیں، جن کی تشریح وتفصیل اسلامی روایات میں آ ئی ہے ، اور ہم انشاء اللہ ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کریں گے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:13-18
دوسرادیدار
یہ آ یات ،وحی اورپیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خدا سے ارتباط، اوراس کے شہود باطنی کے مسئلہ کے بارے میں ،اسی طرح سے گزشتہ آیات کی بحث کوجاری رکھے ہوئے ہیں ۔ فرماتاہے: ایک مرتبہ پھر پیغمبر نے اس کامشاہدہ کیا (وَ لَقَدْ رَآہُ نَزْلَةً أُخْری) ۔ اور یہ شہود وسدرہ المنتہیٰ کے پاس حاصل ہوا(عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَہی ) ۔ وہی کہ جنت المادیٰ اور بہشت بریں اس کے پاس ہے (عِنْدَہا جَنَّةُ الْمَأْوی) ۔ اس وقت جب کہ کسی چیزنے سدرة المنتہیٰ کوگھیرا ہواتھا اورڈھانپ رکھاتھا (اذْ یَغْشَی السِّدْرَةَ ما یَغْشی) ۔ یہ وہ واقعات وحقائق تھے جن کا پیغمبرنے مشاہدہ کیاتھا، اوراس کی آنکھ نے ہرگز انحراف نہیں کیاتھا، اور نہ ہی سرکشی کی تھی اور باطل تصوّرات کوحق کے لباس میں نہیں دیکھاتھا (ما زاغَ الْبَصَرُ وَ ما طَغی) ۔ اس نے وہاں اپنے پر وردگار کی عظیم اوربڑی آیات اور نشانیوں کامشاہد ہ کیاتھا (لَقَدْ رَأی مِنْ آیاتِ رَبِّہِ الْکُبْری) ۔ جیساکہ ہم دیکھتے ہیں وہی ابہام ،جس نے شروع شروع میں گزشتہ آیات کوگھیراہواتھا، اسی نے ان آیات پربھی جوانہیں مطالب کادوسراحصہ ہے سایہ ڈ الا ہواہے،لہذا ان آیات کے مفاد کوواضح کرنے کے لیے ہرچیزسے پہلے ہم مفردات کوبیان کریں گے ،اس کے بعد اس کے مجموعہ پر نظر ڈالیں گے ۔ نزلة ایک مرتبہ نازل ہونے کے معنی میںہے اس بناپر نزلة اخرٰییعنی ایک مرتبہ اورنازل ہونے ہیں (١) ۔ اس تعبیر سے معلوم ہوتاہے کہ نزول دومرتبہ ہواہے ،اور یہ ماجرا دوسرے نزول سے مربوط ہے ۔ سدرة (بروزن حرفة) مفسرین اورعلماء لغت کے عمومی قول کے مطابق، ایک درخت ہے جوگھنے پتوں والا اور سا یہ دارہوتاہے ،(بیری)اور سدرة المنتہیٰ کی تعبیر اس سایہ دار اور گھنے پتوں والے درخت کی طرف اشارہ ہے جوآسمان کی بلندی پرفرشتوں، ارواح شہدائ، علوم انبیاء ،اورانسانوں کے اعمال کے بلند ہونے کی انتہاپرواقع ہے ،وہ جگہ جس سے اوپرپروردگار کے فرشتے نہیں جاتے ،اورجبرئیل بھی سفر معراج میں جب اس جگہ پہنچے تورک گئے ۔ سدرة المنتہیٰ کے بارے میں اگرچہ قرآن مجید میں کوئی وضاحت نہیں آ ئی ہے ،لیکن اسلامی روایات واخبار میں اس کے بارے میں گوناں گوں توصیفات بیان کی گئی ہیں،اوروہ سب کی سب اس واقعیت اورحقیقت کوبیان کرتی ہیں کہ اس تعبیر کاانتخاب ایک قسم کی تشبیہ کے عنوان سے ہے اور اس قسم کے بزرگ واقعات کے بیانات ہماری لغات اور زبانوں کی کوتاہی کی بناپرہیں ۔ ایک حدیث میں پیغمبراسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نقل ہواہے ،کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: رأیت علیٰ کل ورقة من اوراقھا ملکا قائماً یسبح اللہ تعالیٰ میں نے اس کے ہر پتہ پرایک فرشتہ کودیکھا کہ وہ کھڑاہواتھا اورخداکی تسبیح کرتاتھا(٢) ۔ ایک دوسری حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: انتھیت الیٰ سدرة المنتھیٰ،واذ االورقة منھا تظل امة من الامم میں سدرة المنتہیٰ تک پہنچا تودیکھا کہ اس کے ہر پتہ کے سایہ میں ایک امت قرار پائی ہے(٣) ۔ یہ تعبیراس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جیسے درخت ہم زمین پر دیکھتے ہیں ان کے مشابہ درخت ہرگز مراد نہیں ہے ،بلکہ یہ ایک عظیم سائبان کی طرف اشارہ ہے ، جورحمت حق کے قرب وجوار میں واقع ہے ،جس کے پتوں پرفرشتے تسبیح کرتے ہیں، اور مختلف امتوں کے نیک اورپاک لوگ اس کے سایے میں قرار رکھتے ہیں ۔ جنة المأ وی اس بہشت کے معنی میں ہے جوجائے سکونت ہے(٤)اوراس بارے میں کہ یہ کونسی بہشت ہے مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ،بعض نے اسے وہی بہشت جاودانی جنة الخلد سمجھاہے ،جوتمام اہل ایمان اورپرہیزگاروں کے انتظار میں ہے ،اور وہ اس کی جگہ آسمان سمجھتے ہیں ،اور سورئہ سجدہ کی آ یت ١٩ کواس پرشاہد سمجھتے ہیں فَلَہُمْ جَنَّاتُ الْمَأْوی نُزُلاً بِما کانُوا یَعْمَلُون صالح عمل والے مؤ منین کے لیے جنت کے باغات ہیں جن میں وہ قیام کریں گے ، اور یہ ان کے ان اعمال کے مقابلہ میں جنہیں وہ انجام دیاکرتے تھے ،پذیرائی کاایک ذریعہ ہے کیونکہ یہ آ یت بعد والی آیت کے قرینہ سے مسلمہ طورپر بہشت جاودانی کی بات کررہی ہے ۔ لیکن چونکہ ایک دوسری جگہ یہ بھی آ یاہے کہ وَ سارِعُوا ِلی مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّکُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُہَا السَّماواتُ وَ الْأَرْض پروردگار کی مغفرت میں اوراس جنت کی طرف ،جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے ،ایک دوسرے پرسبقت لے جاؤ (آل عمران۔ ١٣٣) لہٰذا بعض نے اس معنی کو بعید شمار کیاہے ،کیونکہ زیربحث آیات کاظاہر اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ جنة المأ ویٰ آسمان میں ہے اور یہ اس بہشت جاودانی کے علاوہ ہے جس کی وسعت تمام آسمانوں اور زمین کے برابر ہے ۔ لہٰذا کبھی اس کی بہشت کی ایک مخصوص جگہ کے ساتھ تفسیر کی ہے جو سدرة المنتہیٰ کے پاس ہے اور جوخواص اورمخلصین کی جگہ ہے ۔ اور بعض اوقات یہ کہاہے کہ وہ برزخی جنت کے معنی میں ہے ،جس میں شہداء اورمؤ منین کی ارواح وقتی طورپر جائے گی۔ آخری تفسیر سب سے زیادہ مناسب نظر آتی ہے ،اوروہ امور جووضاحت کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتے ہیں یہ ہے کہ معراج کی بہت سی روایات میں آیاہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اس جنت میںایک گروہ کومتنعم دیکھا ، جب کہ ہمیں معلوم ہے کہ کوئی شخص قیامت کے دن سے پہلے بہشت جاوداں میں وارد نہیں ہوگا ، کیونکہ قرآنی آ یات بخوبی دلالت کرتی ہیں کہ پرہیزگار قیامت میںحساب کتاب کے بعد جنت میں داخل ہوں گے نہ کہ موت کے بعد بلا فاصلہ ، اور ارواح شہداء بھی برزخی جنت میں ہی قرار رکھتے ہیں ، کیونکہ وہ بھی قیام قیامت سے پہلے بہشت جاوداں میں وارد نہیں ہوں گے ۔ ما زاغَ الْبَصَرُ وَ ما طَغی کی آ یہ اس معنی کی طرف اشارہ ہے ،کہ پیغمبر )(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی آنکھ اپنے مشاہدہ میں نہ تو دائیں بائیں ہوئی ، اورنہ ہی حد اورمقصد سے تجاوز کیا، اور جوکچھ دیکھاہے وہ عین واقعیت تھی ،(کیونکہ زاغ زیغ کے مادہ سے دائیںیابائیں انحراف کے معنی میں ہے اور طغیٰ طغیان کے مادہ سے حد سے تجاوز کرنے کے معنی میں ہے ۔ دوسرے لفظوں میںانسان کسی چیزکے مشاہدہ کے موقع پرجب خوداس چیز کی طرف توجہ نہیں کرتا، یادائیں بائیں یااس سے ہٹ کردیکھنے لگتاہے ،تواس وقت وہ غلطی میں پڑ جاتاہے(٥) ۔ ہم آیات کے مفردا ت کی تفسیر سے فارغ ہوچکے تواب آیات کی اجتماعی تفسیر پیش کرتے ہیں ۔ یہاں پھر وہی دونظر یے ، جوسابقہ آیات کی تفسیر میں تھے ، بیان ہوئے ہیں ۔ بہت سے مفسرین نے آ یات کو، دوبارہ جبرئیل سے اس کی اصلی صورت میں ، پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ملاقات کی طرف واضح سمجھاہے اور وہ یہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ رسول خدا نے معراج سے نزول کے وقت اسے سدرة المنتہیٰ کے پاس اس کی اصلی صورت میں دوبارہ دیکھا ، اور آپ کی آنکھ اس کے مشاہدہ سے کسی قسم کے اشتباہ اورغلطی میں گرفتار نہیں ہوئی ،پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہاں حق تعالیٰ کی بعض عظیم آ یات کامشاہدہ کیا،جس سے مراد یاتووہی جبرئیل کی صورت واقعی ہے ،یاآسمانوں کی عظمت کی آ یات اوران کے عجائبات ،یا یہ دونوں ۔ لیکن وہی اشکالات واعتراف جواس تفسیر کے لیے ہم پہلے بیان کرچکے ہیںوہ اسی طرح سے باقی ہیں ،بلکہ کچھ اور اعترافات کاان پرااور اضافہ ہوگیاہے ،منجملہ۔ نزلة اخریٰ(ایک دوسرے نزول میں) کی تعبیر اس تفسیر کے مطابق کوئی واضح مفہوم نہیں رکھتی ،لیکن دوسری تفسیر کے مطابق پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ایک دوسرے شہود باطنی میں آسمانوں کے اوپر معراج کے موقع پر خداکی ذات پاک کامشاہد کیا، اور دوسرے لفظوں میںخدانے ایک مرتبہ پھر ان کے پاک دل پر نزول فرمایا، (نزلة اخریٰ)اور شہود کامل حاصل ہوگیا، ایسے مقام پر جہاں بندوں کی طرف کو نور کے حجابوں نے ڈھانپ رکھاتھا ۔ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے دل کی نگاہ ،اس شہود میں ہرگز غیرحق پرنہیں پڑی ،اوراس کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا ،اوروہیں پرخدا کی عظمت کی نشانیاں آفاق وانفس میں بھی مشاہدہ کیں ۔ شہودباطنی کامسئلہ جیساکہ ہم پہلے بھی اس کی طرف اشارہ کرچکے ہیں ۔ایک قسم کاایسا ادراک اور دیکھنا ہے جو نہ تو ادراکاتِ عقلی سے مشابہت رکھتاہے ،اور نہ ہی ادراکات حسی کے ساتھ، کہ جنہیں انسان حواس ظاہر کے ذ ریعہ درک کرتاہے اور اسے کئی جہات سے انسان کے اپنے وجود اوراپنے افکار وتصورات کے علم کے مشابہ سمجھا جاسکتاہے ۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ : ہم اپنے وجود کایقین رکھتے ہیں، اپنے افکار کاادراک کرتے ہیں، اور اپنے ارادہ خواہشات اوررجحانات سے باخبر ہیں،لیکن یہ آ گاہی نہ توطریق استدلال سے ہمیں حاصل ہوئی ہے ،اورنہ ہی مشاہدہ ظاہری کے طریق سے ، بلکہ یہ ہمارے لیے ایک قسم کاشہود باطنی ہے ، کہ ہم اس طریقہ سے اپنے وجود اوراپنی نفسیات سے واقف ہیں ۔ اسی علمی دلیل کی بناپر جوشہود باطنی کی طرف سے حاصل ہوتی ہے اس میں کسی قسم کی کوئی خطا واقع نہیں ہوتی ، کیونکہ وہ نہ تواستد لال کے طریقے سے ہے ، کہ جس کے مقدمات میں کوئی غلطی واقع ہوئی ہو، اورنہ ہی وہ حسی طریقہ سے ہے کہ حواس کے طریقہ سے اس میں کوئی خطا رونماہو ۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہم اس شہود کی حقیقت کو، جوپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے معراج کی اس تاریخی رات میں خداکی نسبت پیداکی ،نہیں پاسکتے ،لیکن ہم نے ایک مناسب راہ سے نزدیک ہونے کے لیے ایک مثال دی ہے ، اور اسلامی روایات بھی ہمارے راستہ کی راہ کشائی کررہی ہیں ۔ ١۔بعض ارباب لغت اور مفسرین نے "" نزلة"" کو""مرة " کے معنی میں تفسیر کیا ہے ،اس بناپر اس میں نزول کامعنی نہیں ہے ،اور"" نزلة اخرٰی"" صرف دوسری مرتبہ کے معنی میں ہے ، لیکن معلوم نہیں ہے کہ انہوںنے "" نزلة "" کے اصل مادہ کوکیوں چھوڑ دیاہے ،جب کہ دوسروں نے اسے محفوط رکھاہے ،اورہمارے بیان کے مطابق تفسیر کی ہے(غورکیجئے ) ۔ ٢۔""مجمع البیان "" زیربحث آیات کے ذیل میں ۔ ٣۔ نورالثقلین ،جلد ٥،صفحہ ١٥٥۔ 4۔" مادیٰ" اصل میں محل انفمام (ملنے)کے معنی میں ہے ،اور چونکہ مکان میں لوگوں کی سکونت ان کے ایک دوسرے سے انضمام اورملنے کاسبب ہے اس لیے یہ لفظ محل سکونت پربولا گیاہے۔ ٥۔تفسیر "" المیزان""میں پہلا لفظ"" کسی چیز کے مشاہدہ کی کیفیت میں خطا کرنے "" کے معنی سے تفسیر ہواہے ،اور دوسرا لفظ"" اصل دیکھنے میں خطا کرنے"" کے معنی میں ، لیکن اس فرق کے لیے کوئی واضح دلیل بیان نہیں کی گئی ، بلکہ لغت میں جوکچھ آ یاہے ،وہ وہی تفسیر ہے جوہم نے اوپر بیان کی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:13-18
سوره النجم/ آیه 13- 18
١٣۔وَ لَقَدْ رَآہُ نَزْلَةً أُخْری۔ ١٤۔عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَہی۔ ١٥۔ عِنْدَہا جَنَّةُ الْمَأْوی۔ ١٦۔ ِذْ یَغْشَی السِّدْرَةَ ما یَغْشی۔ ١٧۔ما زاغَ الْبَصَرُ وَ ما طَغی۔ ١٨۔ لَقَدْ رَأی مِنْ آیاتِ رَبِّہِ الْکُبْری۔ ترجمہ ١٣۔اوردوبارہ اس کامشاہدہ کیا ۔ ١٤۔سدرة المنتہیٰ کے نزدیک ۔ ١٥۔ کہ جہاں جنت المأ ویٰ ہے ۔ ١٦۔اس وقت جب کہ ایک چیز (خیرہ کرنے والے نور) نے سدرة المنتہیٰ کوڈ ھانپ رکھاتھا ۔ ١٧۔نہ تواس کی آنکھ نے انحراف کیا، اور نہ ہی سرکشی کی ۔ ١٨۔اس نے اپنے پروردگار کی چند عظیم آیات اورنشانیوں کامشاہدہ کیا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:13-18
٢۔ معراج کامقصد
پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کاشہود باطنی تک پہنچنا ایک طرف سے ، اور آسمان کی وسعتوں میں اسی ظاہری آنکھ سے خداکی عظمت کودیکھنا دوسری طرف سے تھا، جس دکی طرف یہاں بھی آخری زیربحث آ یت میں(لَقَدْ رَأی مِنْ آیاتِ رَبِّہِ الْکُبْری)اور سورئہ اسراء کی آ یہ ایک میں بھی ( لنر یہ من اٰیاتنا)اس کی طرف اشارہ ہواہے ،اس کے علاوہ اور بہت سے دوسرے اہم مسائل فرشتوں ، اہل جنّت ،دوزخیوں اور ارواح انبیاء سے متعلق آگاہی حاصل کری، جو آپ کی عمر مبارک کے سارے عرصہ میں خلق خداکی تعلیم وتربیت میں آپ کے لیے الہام بخش تھی۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:13-18
١۔معراج ایک مسلّمہ حقیقت ہے
علماء اسلام کے درمیان اصل مسئلہ معراج میں کوئی اختلاف نہیں ہے ،کیونکہ قرآنی آیات بھی یہاں اورسورئہ اسراء کے آغاز میں اس پرگواہ ہیں، اور متواترروایات بھی ،زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ بعض لوگ پہلے سے کئے ہوئے فیصلوں کی بناپر اس بات کوقبول نہیں کرسکے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم)کی اس جسمانی پرواز میں نہ توکوئی عقلی اشکال ہے ، اور نہ ہی موجودہ زمانہ کے علوم کی طرف سے اس پرکوئی اعتراض وارد ہوتاہے ،جس کی تفصیل ہم سورئہ اسراء کی تفسیر میں مبسوط طریقہ پربیان کرچکے ہیں(١) ۔ اس بناپراستبعادات کی خاطر ، ظاہر آ یات اور صریح روایات کوترک کرنے کے لیے کوئی دلیل اورجہ نہیںہے ۔ اس سے قطع نظر اوپروالی آیات کی تعبیریں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ایک گروہ اس مسئلہ کے خلاف لڑنے جھگڑنے کے لیے اٹھ کھڑا ہواتھا، تاریخ بھی یہی کہتی ہے کہ :مسئلہ معراج نے مخالفین کے درمیان ایک شوروغو غا کھڑا کردیاتھا ۔ اگرپیغمبرمعراج روحانی اورخواب سے مشابہ کسی چیز کے مدعی ہوتے ، تواس کے استبعاد پر یہ شور وغوغا برپانہ ہوتا ۔ ١۔تفسیر نمونہ جلد ١٢ ۔صفحہ ١٤٠ اوراس سے بعد۔