وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
I did not create the jinn and the humans except that they may worship Me.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 51:56
[Pooya/Ali Commentary 51:56] Refer to Sad: 27. Imam Jafar bin Muhammad As Sadiq said: "Allah created man and gave him faculties of observation and contemplation to acquire knowledge with which he understands the manifestation of His power and then submits to Him." Without knowledge man's adoration of Allah has no real worth. The actual meaning of adoration is not the performance of rituals or a few prescribed formal prayers, recited by the mouth. Adoration involves surrender of ego, self-control and discipline, so that he acts only in consonance with the expressed will of Allah, by abiding with His commands. The whole life-activity of the individual should be nothing but the fulfilment of the will of Allah. "Say: Verily my prayer and my sacrifice, and my life and my death (all) are for the Lord of the worlds." (An-am: 163) Aqa Mahdi Puya says: This is the purpose of creation, as expressed in the holy book-to act according to the will and the command of Allah. The most perfect form of action is the absolute submission to His will, that is, Islam. Therefore of the creatures, whoever is better in manifesting His will and His command throughout life, will be closer to the purpose of creation, and therefore nearer to Him. The more perfect in obedience will be nearer to the creator, and the closer they are to Him, the more perfect they will be in the order of creation.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 51:56-58
٣۔ جنوں کاذکر پہلے کیوں؟
باوجوداس کے کہ قرآنی آیات سے بخوبی معلوم ہوتاہے، کہ انسان گروہ جن سے افضل و برترہیں، لیکن اس کے باوجود اوپروالی آیت میں ان کانام مقدم رکھاہے،ظاہرً یہ اس بناء پر ہے کہ ان کی خلقت انسان کی خلقت سے پہلے ہوئی تھی، جیساکہ سورئہ حجر کی آ یت ٢٧ میں بیان ہواہے ۔: وَ الْجَانَّ خَلَقْناہُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نارِ السَّمُوم اورہم نے جنون کوپہلے (انسان کی خلقت سے پہلے )جلانے والی آگ سے پیدا کیاتھا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 51:56-58
٤۔"" فلسفہ کی نظر سے خلقت کافلسفہ
ہم بیان کرچکے ہیں کہ بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جنہوں نے یہ سوال اپنے آپ سے یاد دوسروں سے نہ کیاہوگا،کہ ہماری خلقت کاھدف اورمقصد کیاہے؟کچھ لوگ پید ا ہوتے ہیں،کچھ اس جہان سے رخصت ہوجاتے ہیں، اورہمیشہ کے لیے خاموش ہوجاتے ہیں، اس آمدورفت کامقصد کیاہے؟ واقعاً اگرہم انسان اس کرئہ خاکی پرزندگی نہ گذار تے ،تواس اس عالم میں کون سی خرابی آ جاتی ؟اورکیامشکل پڑجاتی ؟ کیاہمیں ی معلوم کرناچاہیئے کہ ہم کیوں آ ئے ہیں، اور کیوں چلے جاتے ہیں؟ اور اگرہم اس چیز سے آگاہ ہوناچاہیں تو کیاہم اس کی قدرت رکھتے ہیں، اوراس سوال کے پیچھے بہت سے دوسرے سوالات فکر انسانی کااحاطہ کرلیتے ہیں ۔ یہ سوال اگرمادہ پر ستوں کی طرف سے پیش ہوتو ظاہراً اس کاکوئی جواب نہیں ہے .کیونکہ مادہ اور طبیعت اصلاً کوئی عقل و شعور نہیں رکھتے، کہ ان کاکوئی ھدف ہو، اوراسی بناء پرانہوں نے اپنے آپ کواس لحاظ سے آسودہ کرلیاہے، اورانہوں نے یہ عقیدہ اپنا لیاہے کہ خلقت بے مقصد اورفضول ہے !اور کتنی قابل مذمت اورتکلیف دہ بات ہے یہ کہ انسان اپنی زندگی کے جز ئیات کے لیے چاہے وہ تحصیل علم ہو یاکسب کار کے لیے یابیماری وصحت ہویا ورزش کے لیے ، تو دقیق مقاصد واھداف اورمنظم پروگرام نظر میں رکھتاہے، لیکن مجموعہ زندگی کوفضول ، بے ھدف اور بے مقصد سمجھتاہے ۔ اس کے لیے تعجب کی کوئی بات نہیں ہے کہ ان میں سے ایک گروہ جب ان مسائل میں غور وفکرکرتاہے تواس فضول اوربے مقصد زندگی سے سیر ہوجاتاہے،اور خودکشی پرتیار ہوجاتاہے ۔ لیکن یہی سوال جب ایک خداپرست اپنے آپ سے کرتاہے تووہ کسی قسم کی الجھن اورتنگی سے دوچارنہیں ہوتا،کیونکہ ایک طرف تووہ یہ جانتاہے کہ اس جہان کاخالق حکیم ہے،حتمی و یقینی طورپر اس کی خلقت میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہے ، چاہے ہم اس حکمت سے بے خبرہوں ، اور دوسری طرف اپنے اعضاء کے ایک ایک جز پر نظر ڈالتاہے، تواسے ہرایک میں کوئی نہ کوئی مقصد اور فلسفہ نظر آتاہے، نہ صرف دل ودماغ اور عروق واعصاب جیسے اعضار کے لیے ، بلکہ ناخنوں ،پلکوں،انگلیوں کی لکیروں ،ہتھیلیوں اورپاؤوں کے تلوے کے نشیب میں سے ہرایک کے لیے کوئی نہ کوئی فلسفہ ہے ،جوموجودہ زمانے میں سب کے سب معلوم کرلیے گئے ہیں ۔ کس قدر کوتاہ فہمی کی بات ہے کہ ہم ان سب کے لیے توھدف اورمقصد کے قائل ہوں، لیکن مجموعی زندگی کو بے مقصد سمجھیں؟ یہ کیسی سادہ لوحی کافیصلہ ہے کہ ہم شہر کی ہرہر منزل و مکان کے لیے توفلسفہ کے قائل ہوں، لیکن مجموعہ شہر کے لیے کسی فلسفہ کے قائل نہ ہوں ؟ کیایہ ممکن ہے کہ کوئی انجینئرایک عظیم عمارت تعمیر کرے ،اور کمرے ،صحن ،کھٹرکیاں، دروازے ،حوض ، باغیچے اور آرائشیںتوہرایک حساب وکتاب اورخاص مقصد کے لیے بنائے ،لیکن اس نے اس عظیم عمارت کے مجموعہ کوبغیر کسی مقصد کے بنادیا ہو ۔ یہی باتیں ہیں جوایک خداپرست مومن انسان کواطمینان دلاتی ہیں،کہ اس کی خلقت ایک ہی عظیم مقصد رکھتی ہے،لہٰذا اس کوکوشش کرنی چاہیئے ،اورعقل وعلم کی قوت سے اسے اصل حقیقت معلوم کرناچاہیئے ۔ تعجب کی بات ہے کہ یہ خلقت کو فضول جاننے والے ، اوراس کے بے مقصد ہو نے کے طرفدار ، علوم طبیعی کے جس سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں، تومختلف کوفضول جاننے والے ، اوراس کے بے مقصد ہونے اورھدف کی تلاش میںلگے رہتے ہیں، اور جب تک اس کا ھدف اورمقصد دریافت نہ کرلیں چین سے نہیں بیٹھتے ،یہاں تک کہ اس کے وجود کافلسفہ معلوم کرنے کے لیے سالہا سال مطالعہ اورآ ز مائش کرتے رہیں ۔لیکن جب وہ انسان کی صل آفرینش وخلقت پرپہنچتے ہیں تو صراحت کے ساتھ کہتے ہیں، کہ اس کاکوئی ھدف اورمقصد نہیں ہے ۔ کتنا حیرت انگیزاورتعجب خیز تناقض ہے؟ بہرحال ایک طرف خداکی حکمت پرایمان ، اور دوسری طرف انسان کے وجود کے اعضاء کامعنی خیز ہونا ، اس بات پر ہمارا ایمان بختہ کردیتاہے،کہ انسان کی آفر ینش وخلقت میں ایک عظیم مقصد ہے ۔ اب ہمیں اس ھدف اورمقصد کوتلاش کرناچاہیئے اورحتی المقدور اسے معلوم کرنے کی کوشش کرناچاہیئے ، اوراس راہ میں قدم اٹھانا چاہیئے ۔ چند مقدمات کی طرف توجہ ایسے چراغ اور روشنی ڈالنے والی چیزیں مہیا کرسکتی ہے جواس تاریک راستہ کوہمارے لیے روشن کردے گی ۔ ١۔ ہم اپنے کاموں میں کوئی نہ کوئی ھدف رکھتے ہیں، اوریہ ھدف عام طورپر ہماری کسی کمی یاحاجتوں کودفع کرناہوتاہے یہاں تک کہ اگرہم کسی دوسرے کی خدمت کرتے ہیں، یاکسی مصیبت میں گرفتارشخص کی دست گیری کرتے ہیں، اور اسے مصیبت سے نجات دلاتے ہیں،یہاں تک کہ کوئی ایثار وقربانی بھی کرتے ہیں تو یہ بھی ہماری کسی معنوی کمی کودُور کرتاہے ، اورہمارامقدس حاجات وضروریات کو پورا کرتاہے ۔ اور چونکہ ہم صفات وافعال خداکے بارے میں اکثراپنے پرقیاس کرنے اور مواز نہ کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں،لہٰذا ہوسکتاہے کہ کبھی یہ تصور کرلیا جائے کہ خدامیںوہ کونسی کمی تھی جوہماری خلقت سے دور ہوتی تھی؟اوریااگرہم اوپر والی آیات میں یہ پڑھتے ہیں کہ انسان کی خلقت کاھدف عبادت ہے،تو ہم کہتے ہیں،اسے ہماری عبادت کی کیا حاجت اور ضرورت ہے ۔ حالانکہ یہ طرزفکرخالق ومخلوق اورواجب وممکن کی صفات میں قیاس اورموازنہ کی پیدا وارہے ۔ اس بناپرکہ ہمارا وجود محدود ہے ہم اپنی کمیوں اورنقائص کودور کرنے کی کوشش کرتے ہیں اورہمارا سب اعمال اسی سلسلہ میں ہوتے ہیں،لیکن ایک غیر محدود موجود کے بارے میں یہ معنی امکان پذیر نہیں ہے ،لہٰذا اس کے افعال کے ھدف کوہمیں اس کے وجود کے علاوہ دوسرے موجودات میں تلاش کرناچاہیئے ۔ وہ توایک فیض بخش چشمہ ہے اورایک نعمت آفرین مبدء ہے ،جوموجودات کواپنی حمایت کے سائے میں لے لیتاہے اوران کی پر ورش کرکے نقص سے کمال کی طرف لے جاتاہے، اورہماری عبودیت وبندگی کاحقیقی وواقعی ھدف یہی ہے ،اور ہماری عبادات اور بندگیوں کافلسفہ بھی یہی ہے ، جوسب کی سب ہمارے تکامل وارتقاء کے درجات ہیں ۔ اس طرح ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ہماری آفرینش وخلقت کاھدف ومقصد ہماری ہستی کی پیش رفت اورتکامل و ارتقاء ہے ۔ بنیادی طورپر اصل آفرینش وخلقت ہی تکا مل کی طرف ایک عظیم قد م ہے. یعنی کسی چیز کوعدم سے وجود میں لانا اور نیست سے ہست کرنا اور صفر سے عدد کے مرحلے میں لانا ۔ اس عظیم تکاملی قدم کے بعد تکامل وارتقاء کے دوسرے مراحل شروع ہوتے ہیں، اورتمام دینی اورخدائی پروگرام اسی طریقہ سے وقوع میں آ تے ہیں ۔ ٢۔ یہاں ایک سوال سامنے آ تاہے .کہ اگر خلقت کاھدف ومقصد بندوں پرسخاوت وبخشش کرناہے ، اوراس میں پیدا کرنے والے کاکوئی فائدہ نہیں ہے اور یہ سخاوت انسانوں کے ارتقاء کے طریقہ سے ہے ، تو پھراس جو ادو کریم خدا نے ابتداسے ہی بندوں کاکامل پیدا کیوں نہ کیا؟ تاکہ سب ہی اس کے جوار قرب میں جگہ حاصل کرتے ، اوراس کی پاک ذات اختیار ی افعال کے ساتھ اس کی بنیاد ڈالنی چاہیئے ۔ اگرکسی شخص سے ایک ہسپتال بنانے کے لیے بہت زیادہ رقم ،زبردستی ،جبری طورسے ، نوک نیزہ کے زور پر، وصول کرلی جائے ، توکیااس کے لیے اس عمل کا کوئی اثر اخلاقی وروحانی ارتقاء پر مرتب ہوگا؟یقینا نہیں ،لیکن اگروہ اپنے ارادہ اورخوشی سے ایک آنہ یاد س پیسے کے ساتھ بھی اس مقدس ھدف اومقصد کے لیے مدد کرے تواس نے نسبت سے اخلاقی کمال کی راہ طے کرلی ہے ۔ اس گفتگو سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں،کہ خدا کے لیے لازم ہے کہ وہ امر ونواہی اورتربیتی پرو گراموں کے ساتھ جو قوت عقل کے وسیلہ سے اوراس کے پیغمبروں کے ذریعہ پہنچائے جاتے ہیں... اس راہ کوہمارے لیے واضح و روشن کردے ، اور ہم اپنے ارادہ اوراختیار کے ساتھ اس راستے کوطے کریں ۔ ٣۔ پھر یہاں ایک دوسرا سوال سامنے آتاہے ، کہ جس وقت بعض لوگ اوپروالی توضیحات کوسنتے ہیں تووہ یہ کہتے ہیں :بہت خوب، ماناکہ خلقت کاھدف اورمقصد توتکامل انسانی ہے ، یادوسرے لفظوں میں پر وردگار کاقرب ،اورایک ناقص وجود کی ایک لامتناہی کامل وجود کی طرف حرکت ہے ،لیکن اس تکامل وارتقاء کابذات خود ھدف کیاہے ؟ اس سوال کاجواب بھی اس جملہ کے ساتھ واضح ہوجاتاہے ،کہ تکامل وارتقاء ہی اصلی ھدف اورآخری مقصد ہے ،یادوسرے لفظوں میں غایة الغایات ہے ۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ :اگر ہم کسی طالب علم سے یہ سوال کریں کہ تم سبق کیوں پڑھتے ہو؟ تووہ کہے گا، تاکہ میں یونیورسٹی تک پہنچ سکوں ۔ اگرہم پھرسوال کریں کہ تم پونیورسٹی کیوں جانا چاہتے ہو؟تووہ جواب دے گا: اس لیے کہ مثلا ڈاکٹر یاایک لائق انجینئربنوں ۔ ہم اس سے پھر پوچھتے ہیں کہ تم ڈاکٹر اورانجینئرکاعلم کیوں حاصل کرناچاہتے ہو؟ تو وہ جواب دے گا: اس لیے کہ کچھ اچھے کام سرانجام دوں اوراچھی آمدنی پیداکروں ۔ ہم پھرکہتے ہیں :تم اچھی آمدنی کس لیے چاہتے ہو ؟ تو وہ جواب د ے گا : اس لیے کہ آ برومند انہ اورخوشحال زندگی بسر کرسکوں ۔ آخر میں ہم پوچھتے ہیں کہ تم خوشحال اور آبرو مندانہ زندگی کس لیے چاہتے ہو؟ اس مقام پر ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی گفتگو کالب ولہجہ بدل جاتاہے ، اور کہتاہے: بس میں چاہتا ہوں کہ خوشحال اور آبرو مندانہ زندگی بسر کروں ، یعنی پھر اسی پہلے جواب کودہرا دیتاہے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنے آخری جواب ، اوراصطلاح کے مطابق غایة الغایات تک پہنچ گیاہے جس کے بعد کوئی اور جواب نہیں ہے ،اوروہی اس کاآخری ھدف اورمقصد ، یہ بات تومادی زندگی کے مسائل میں سے ہے، معنوی زندگی میں بھی مطلب اسی طرح کاہے جب یہ کہاجاتاہے ،کہ انبیاء کاآنا،آسمانی کتابوں کانازل ہونا، اور اوامرونواہی کی ذمہ داریاں اور سارے تربیتی پروگرام کس لیے ہیں؟توہم کہتے ہیں: انسانی تکامل وارتقا ء اورقرب خداکے لیے ۔ اوراگر یہ سوال کیاجائے کہ تکامل وارتقااورقرب خدا کے لیے ۔ اور اگر یہ سوال کیاجائے کہ تکامل وارتقاء اورقرب پروردگارکس مقصد کے لیے ہے ، توہم دیں گے کہ قرب پروردگار کے لیے ! یعنی یہ اصلی اورآخری مقصد ہے ، اور دوسرے لفظوں میں ہم ہر چیزتوتکامل اورقربِ خدا کے لیے چاہتے ہیں، لیکن قرب خداکو خود اسی کے لیے چاہتے ہیں( یعنی قرب پروردگار کے لیے ) ۔ ٤۔ یہاں پھر ایک سوال پیداہوتاہے جیساکہ ایک حدیث میں آ یاہے ،خداوند فرماتاہے: کنزً مخفیّاً فاحببت ان اعرف وخلقت الخق لکی اعرف میں ایک مخفی خزانہ تھامیں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں،تومیں نے مخلوق کوپیدا کیا، تاکہ میں پہچاناجاؤں۔ تم نے جوکچھ بیان کیاہے اس سے یہ حدیث کیامناسبت رکھتی ہے ۔ ہم جواب میں کہتے ہیں!قطع نظراس سے کہ یہ حدیث ایک خبر واحد ہے،اور اعتقادی مسائل میںخبرواحد کام نہیں دیتی ،حدیث کامفہوم یہ ہے،مخلوق کے لیے خدا کی پہچان ان کے تکامل کاذریعہ ہے ،یعنی میں نے یہ چاہا کہ میری رحمت کافیض ہرجگہ کوگھیرلے ، پس اسی بناء پر میں نے مخلوق کوپیداکیا، اوران کی سیر کمال کے لیے اپنی معرفت کے راہ و رسم اسے سکھائے ،کیونکہ میری معرفت وشناخت ہی ان کے تکامل کی رمز ہے ۔ ہاں !بندوں کوچاہیے کہ وہ خدا وندتعالیٰ کی ذات کو ، جوتمام کمالات کامنبع ہے،پہچانیں ، اپنے آپ کواس کے کمالات کے مطابق ڈ ھالیں اوراس کاسایہ اپنے وجود پرڈالیں(اس کے رنگ میں خود فروازں کورنگ لیں)تاکہ ان صفات کمال وجمال کا نوران کے وجودمیں ہو، کیونکہ تکامل وارتقااورقرب خدا ، اس کے اخلاق کواپنائے بغیر ممکن نہیں ہے ،اور اس کے اخلاق کواپنانا اس کی معرفت وشناخت کی فرع ہے ۔(غور کیجئے ) ٥۔ جوکچھ ہم نے اوپر بیان کیاہے ، اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے ہم آ خری نتیجہ سے قرب ہوتے جارہے ہیں، اورکہتے ہیں کہ خدا کی عبادت اور عبو دیت یعنی اس کی مشیت کی راہ میں قدم اٹھانا ، اورروح اورجان کواس کے سپردکردینا ، اور اس کے عشق کواپنے دل میں جگہ دینا، اوراپنے آپ کواس کے اخلاق سے آراستہ کرنا ۔ اوراگر اوپروالی آ یات میںعبادت کوخلقت کاآخری ھدف اورمقصد بیان کیاگیاہے،تواس کامفہوم یہی ہے کہ اس کو دوسرے لفظوں میں تکامل انسانی کے عنوان سے یاد کیاجائے ۔ ہاں !انسان کامل ہی خدا کاسچابندہ ہے ۔ ٥۔انسان کی خلقت کے فلسفہ کے سلسلہ میں اسلامی روایات پرایک نظر ہم نے اوپر دو طریقوں سے انسان کی خلقت کے ھدف کاتعاقب کیاہے، ایک آیات قرآنی کی تفسیر کے طریقہ سے اوردوسرے فلسفہ کے طریقہ سے اور دونوں نے ہمیں ایک ہی نقطہ تک پہنچایاہے ۔ اب تیسری راہ سے ، یعنی اسلامی روایات کے طریقہ سے ،اس نصیب ساز مسئلہ کوبیان کرنے کی باری ہے ۔ ذیل کی روایات میں غور وفکر جوان روایات کاحصہ ہے ،اس مسئلہ میں ایک زیادہ عمیق اورگہری بصیرت عطاکرتاہے ایک حدیث میں امام موسیٰ بن جعفرعلیہ السلام سے آیاہے کہ آنحضرت سے لوگوں نے سوال کیاکہ پیغمبرکے اس ارشاد کاکیا مطلب ہے: اعملوا فکل میسرلما خلق لہ جہاں تک ہوسکے عمل کروکیونکہ تمام انسان جس مقصد کے لیے خلق کے گئے ہیں اس کے لیے آمادگی رکھتے ہیں؟ امام علیہ السلا م نے فرمایا: ان اللہ عزو جل خلق الجن والانس لیعبدو ہ ، ولم یخلقھم لیعصوہ وذالک قولہ عزو جل وما خلقت الجن والانس الّا لیعبدون فیسرکلا لماخلق لہ، فویل لمن استحب العمی علی الھدی خداوند تعالیٰ نے جنوں اورانسانوں کواس لیے پیدا کیاہے کہ وہ اس کی عبادت اوراطاعت کریں، اس لیے پیدا نہیں کیاکہ وہ اس کی نافرمانی کریں، اور یہ وہی چیز ہے جوفر ماتاہے : وَ ما خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الِْنْسَ ِلاَّ لِیَعْبُدُون اور چونکہ انہیں اطاعت کے لیے پیداکیاہے ، لہٰذا اس مقصد تک پہنچنے کے لیے ان کے لیے راستہ کوآسان اور ہموار کردیا ہے،پس وائے ہے اس شخص کے لیے جوآنکھ بند کرکے اندھے پن کوہدایت پرترجیح دے ( ١) ۔ یہ حدیث اس حقیقت کی طرف ایک پرمعنی اشارہ ہے کہ چونکہ خدانے انسانوں کوتکامل وارتقاء کے مقصد کے لیے پیدا کیاہے ، لہٰذا اس نے تکوین وتشریع کے لحاظ سے اس کے وسائل و ذرائع فراہم کئے ہیں اوراس کے اختیار میں دے دیئے ہیں ۔ ایک دوسری حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ امام حسین علیہ السلام اپنے اصحاب کے سامنے آئے اوراس طرح فر مایا: ان اللہ عزو جل ماخلق العباد الا لیعرفوہ ،فاذ اعرفوہ عبدوہ ، فاذاعبدوہ استغنوابعبادتہ عن عبادة من سواہ َ خدائے عزو جل نے بندوں کونہیں پیداکیامگر اس لیے کہ وہ اس کو پہچانیں ، جب اس کوپہچان لیں تو اس کی عبادت کریں، اور جب وہ اس کی عبادت کریں گے تواس کے غیر کی عبادت و بندگی سے بے نیاز ہوجائیںگے (٢) ١۔توحید صدوق(مطابق نقل المیزان ،جلد١٨ صفحہ ٤٢٣) ۔ ٢۔ "" علل الشرائع"" صدوق (مطابق نقل مدرک اول)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 51:56-58
٢۔ وہ صاحب "" قوت "" اور "" متین "" ہے
متین متن کے مادہ سے اصل میں اسی قوی پٹھے کے معنی میں ہے ، جو پیٹھ کے مہروں کے ستون کے دونوں طرف ہوتاہے، اورانسان کی پشت کومضبوط بناتاہے ، اوراسے بھاری دباؤ کوبرداشت کرنے کے لیے آمادہ کرتاہے، اوراسی مناسبت سے کامل قدرت وقوت کے معنی میں آ یاہے ، اس بناپر ذوالقرہکے لفظ کے بعد اس کابیان تاکید کے عنوان سے ہے ، کیونکہ ذوالقوہ پروردگار کی اصلی قوت کی طرف اشارہ کرتاہے، اور متین اس کے کمال قدرت کی طرف ، اور جس وقت وہ رزاق کے لفظ کے ہمراہ ہوکر وہ بھی ایک مبالغہ کا صیغہ ہے تواس حقیقت کوثابت کرتاہے، کہ خدا بندوں کوروزی دینے کے سلسلے میں انتہائی قدرت وطاقت اورتسلط رکھتاہے،چاہے وہ اس وسیع جہان کے جس کونے میں ہوں، سمندروں کی گہرائیوں میں ہوں، دروں کے درمیان ہوں، پہاڑ وں کی چوٹیوں پرہوں،پتھروں کے اندر ہوں، اور آسمانی کروں کے جس مقام میں ہوں، ان کی ضرورت کے مطابق روزی انہیں پہنچاتاہے اور سب کے سب اسی کے خوان احسان پر جمع ہیں ۔پس اگرانہیں پیداکیاہے توکسی ضرورت وحاجت کی بناپرنہیں ،بلکہ ایک لطف خاص اور فیض پہنچانے کی بناپر۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 51:56-58
قرآن کی نظر میں انسان کی خلقت کامقصد
این ترین سوالات میں سے و ہ سوال جوہرشخص اپنے آپ سے کرتاہے یہ ہے کہ : ہم کس لیے پیدا کیے گئے ہیں اورانسان کی خلقت اوراس جہان میں ا نے کامقصد کیاہے ؟ اوپروالی آ یات ، اس اہم اورہمیشہ کے سوال کامختصر اورپرمعنی تعبیروں کے ساتھ جواب دے رہی ہیں،اوراس بحث کی ، جو گزشتہ آ یات میں سے آخری آیت میں مومنین کی یاد آوری کے سلسلہ میں بیان ہوئی تھی، تکمیل کررہی ہیں، کیونکہ یہ ایک اہم ترین اصول ہے کہ جس کی پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کوپیروی کرنی چاہیئے ،ضمنی طورپر خدا کی طرف فرار کامطلب بھی جوگذشتہ آ یات میں بیان ہواتھا واضح ہوجاتاہے ۔ فرماتاہے: میں نے جن وانس کوپیدا نہیں کیا مگراس لیے کہ وہ میری عبادت کریں (وَ ما خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الِْنْسَ ِلاَّ لِیَعْبُدُون) ۔ میری ان سے کوئی حاجت نہیں ہے : اورمیں ہرگز ان سے یہ نہیں چاہتا کہ وہ مجھے کھاناکھلائیں (ما أُریدُ مِنْہُمْ مِنْ رِزْقٍ وَ ما أُریدُ أَنْ یُطْعِمُون) ۔ خداہی ہے جو جل بندوں کوروزی دیتاہے اوروہ صاحب قدرت وقوت ہے (انَّ اللَّہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتینُ) ۔ یہ چند آ یات جوانتہائی مختصر اورجامع ہیں،اس حقیقت سے پردہ اٹھارہی ہیں،کہ جس سے آگاہ ہی کے تمام خواہاں ہیں، اورہمیں ایک عظیم سے روشناس کرارہی ہیں ۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ :بلاشک وشبہ ہر دانش مند اور عاقل جوکام بھی انجام دیتاہے،کوئی نہ کوئی مقصداس کے پیش نظر ہوتاہے،اورچونکہ خداسب سے زیادہ عالم اورحکیم ہے ،بلکہ کسی شخص کے ساتھ اس کاقیاس کیاہی نہیں جاسکتا، یہ سوال سامنے آ تاہے کہ اس نے انسان کوکیوں پیداکیاہے؟ کیا کوئی کمی تھی جوانسان کی خلقت سے پوری ہوجاتی ؟ یااسے کوئی حاجت اورضرورت تھی جسے پورا کرنے کے لیے اس نے ہمیں پیداکیاہے ۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ اس کاوجود ہرجہت سے کامل اورانتہائی لامتناہی ہے اوروہ غنی بالذات ہے ۔ پس پہلے مقدمہ کے مطابق توہمیںیہ قبول کرناپڑے گاکہ اس کاکوئی نہ کوئی مقصد تھا،اوردوسرے مقدمہ کے مطابق ہمیں یہ قبول کرناپڑے گا کہ انسان کی پیدائش سے اس کاکوئی ایسامقصد نہیں تھا جواس کی پاک ذات کے لیے ہو ۔ نتیجتاً اس مقصد کواسکی ذات سے باہر تلاش کرناپڑ ے گا، ایسا مقصد جوخودمخلوقات کی طرف لوٹتاہے اورانہیں کے کمال کاسبب ہے ۔ اور دوسری طرف قرآن کی آ یات میں انسان کی پیدائش کے مقصد کے بارے میں مختلف تعبیریں بیان کی گئی ہیں ۔ ایک جگہ بیان ہواہےالَّذی خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیاةَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً وہی ہے کہ جس نے موت اورزندگی کوخلق کیاتاکہ وہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرتاہے (ملک۔٢) یہاں انسانوں کی آزمائش اور امتحان کامسئلہ حسن عملکے لحاظ سے ایک ہدف اورمقصد کے عنوان سے بیان کیاگیاہے ۔ ایک دوسری آ یت میں آیاہے :اللَّہُ الَّذی خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَ مِنَ الْأَرْضِ مِثْلَہُنَّ یَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَیْنَہُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ قَدیر وَ أَنَّ اللَّہَ قَدْ أَحاطَ بِکُلِّ شَیْء ٍ عِلْماً خداوہ ہے جس نے سات آسمان اوراتنی ہی زمینیںخلق فرمائی ہیں اس کافر مان ان کے درمیان نازل ہوتاہے، تاکہ تم جان لوکہ خدا ہرچیز پرقدرت رکھنے والاہے ، اوراس کاعلم تمام موجودات پراحاطہ رکھتاہے(طلاق۔١٢) ۔ یہاںخداکی قدرت اورعلم سے علم آگاہی آسمانوں اورزمین (اورجوکچھ ان کے درمیان ہے ) کی خلقت کے لیے ایک حدف اورمقصد کے عنوان سے بیان ہوئے ہیں ۔ ایک دوسری آ یت میں بیان ہواہے: وَ لَوْ شاء َ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً واحِدَةً وَ لا یَزالُونَ مُخْتَلِفینَ،ِلاَّ مَنْ رَحِمَ رَبُّکَ وَ لِذلِکَ خَلَقَہُمْ اگر تیرا پروردگار چاہتا تو تمام لوگوں کو(بغیر کسی اختلاف کے )امت واحدہ قرار دے دتیا، لیکن وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے، سوائے ان کے جن پرتیرا پروردگاررحم کرے ، اوراسی رحمت کے لیے انہیں پیدا کیاہے ( ھود۔ ١١٨،١١٩) ۔ اس آ یت کے مطابق رحمت الہٰی انسان کی خلقت کااصلی ہدف ہے ، لیکن زیربحث آ یات صرف عبودیت اوربندگی کے مسئلہ پرتکیہ کرتی ہیں، اورپوری صراحت کے ساتھ اس کوجن وانس کی خلقت کے اصلی ھدف اورمقصد کے عنوان سے تعارف کراتی ہیں ۔ ان آ یات اوران سے مشابہ آ یات میں تھوڑا ساتامل اورغور وفکر یہ نشاندہی کردیتاہے کہ ان کے درمیان کسی قسم کاتضاد اوراختلاف نہیں ہے،فی الحقیقت ان میں سے بعض ھدف اورمقصد تو مقدمہ کے طورپر بیان ہوئے ہیں بعض وسطی اور بعض آخری ، اوربعض ان کا نتیجہ ہیں ۔ اصلی ھدف وہی عبودیت ہے ،جس کی طرف زیربحث آ یات میں اشارہ ہوا ہے ، اور مسئلہ علم ودانش اور امتحان وآزمائش ایسے اھداف و مقاصد ہیں جوعبودیت کی منزلیں طے کرتے ہوئے راستہ میں ا تے ہیں.اوررحمت ِ خدا وند اس عبو دیت کانتیجہ ہے ۔ اس طرح سے واضح ہوجاتاہے، کہ ہم سب پروردگارکی عبادت کے لیے پیداکئے گئے ہیں،لیکن اہم بات یہ ہے کہ ہم یہ معلوم کریں کہ عبادت کی حقیقت کیاہے؟ کیاصرف رکوع وسجود ،قیام وقعوداورنماز وروزہ جیسے مراسم کاانجام دینامراد ہے ،یاان کے علاوہ کوئی اورحقیقت ہے؟اگرچہ رسمی عبادات بھی سب کی سب اہمیت کی حامل ہیں ۔ اس سوال کاجواب معلوم کرنے کے لیے عبد وعبودیت کے الفاظ پرغور کرناہوگا ، اوران کی تحلیل وتجزیہ کرنا پڑے گا ۔ عبد لغت کے لحاظ سے اس انسان کوکہتے ہیں جوسرتاپا اپنے مولا اور آقا ومالک سے تعلق رکھتاہے،اس کاارادہ اس کے ارادہ کے تابع ، اوراس کی خواہش اس کی خواہش اورمرضی کے تابع ہے یہ اس کے مقابلہ میں کسی چیزکامالک نہیں ہے، اوراس کی اطاعت میں کسی قسم کی کوتاہی اور سستی نہیں کرتا ۔ دوسرے لفظوں میں عبودیت جیساکہ متون لغت میں آیاہے ،معبود کے سامنے آ خری درجہ کے خضوع کااظہارہے اوراسی بناء پر صرف وہی ذات معبود ہوسکتی ہے جس نے انتہائی انعام واکرام کیاہو، اوروہ خدا کے علاوہ اورکوئی نہیں ہے ۔ اس بناء پر عبودیت ایک انسان کے ارتقاء وتکامل کی انتہائی معراج اورخداسے اس کاقرب ہے ۔ عبودیت اس کی ذات پاک کے آگے انتہائی تسلیم ہے ، عبودیت، بلا قید وشرط اطاعت اورتمام مراحل میں فرمانبرداری کرناہے ۔ اورآخر میں عبودیت کامل یہ ہے کہ انسان سوائے معبود حقیقی یعنی کمال مطلق کے کسی کابھی تصور اورخیال نہ کرے، اس کی راہ کے علاوہ اور کسی راہ پر قدم نہ اٹھائے،اس کے سواہر چیز کوبھول جائے ، یہاں تک کہ خود اپنے آپ کوبھی ۔ اورخلقتِ بشر کاھدف اصلی یہی ہے،جس تک پہنچنے کے لیے خدانے آ ز مائش کامیدان فراہم کیاہے، اورانسان کوعلم وآگاہی عطا فرمائی ہے، اوراس کااصلی اور واقعی و حقیقی نتیجہ بھی اس کی رحمت کے سمندر میںخود کوسموناہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 51:56-58
سوره ذاریات/ آیه 56- 58
٥٦۔وَ ما خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الِْنْسَ ِلاَّ لِیَعْبُدُونِ۔ ٥٧۔ ما أُریدُ مِنْہُمْ مِنْ رِزْقٍ وَ ما أُریدُ أَنْ یُطْعِمُونِ۔ ٥٨۔ ِنَّ اللَّہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتینُ۔ ترجمہ ٥٦۔میں نے جنوں اورانسانوں کوپیدانہیں کیامگراس لیے کہ وہ میری عبادت کریں (اوراس طرح سے تکامل وارتقاء حاصل کریں اورمجھ سے نزدیک ہوں) ۔ ٥٧۔میں ہرگز ان سے یہ نہیں چاہتا کہ وہ مجھے روزی دیں، اورنہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں ۔ ٥٨۔خداہی روزی دینے والا اورصاحبِ قوت وقدرت ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 51:56-58
٦۔ ایک سوال کاجواب
یہاں ایک اور سوال جوسامنے آ تاہے یہ ہے کہ اگر خدا نے بندوں کو عبادت کے لیے پیداکیاہے، تو پھر ایک گروہ کفر کی راہ کیوں اختیار کرلیتاہے؟ کیایہ ممکن ہے کہ خدا کاارادہ اس کے ھدف کے خلاف ہو؟ جولوگ یہ اعتراض کرتے ہیں، انہوں نے ارادئہ تکوینی اور ارادئہ تشریعی میں اشتباہ کیاہے ، اور انہیں ایک دوسرے میںخلط ملط کردیاہے کیونکہ ھدف عبادت جبری نہیںتھا، بلکہ یہ عبادت و بندگی ارادہ واختیار کے ساتھ تھی، اورایسے حالات میں ھدف حالات کوآمادہ کرنے کی صورت میں ظاہر ہوتاہے، مثلاً جب یہ کہاجاتاہے، کہ میں نے یہ مسجد نماز پڑھنے کے لیے بنائی ہے ،تواس کامفہوم یہ ہے کہ میں نے اسے اس کام کے لیے آمادہ کیاہے ، نہ یہ کہ میں لوگوں کوجبراً نماڑ پڑھواؤںگا، اسی طرح دوسرے موقعوں میں جیسے تحصیل علم کے لیے مدرسہ بنایا،اور علاج کے لیے ہسپتال بنانا، اورمطالعہ کے لیے کتاب خانہ بنانا ۔ اس طرح سے خدانے انسان کواطاعت وبندگی کے لیے آ مادہ کیاہے ، اور ہرقسم کے وسائل وذرائع جیسے عقل اوردوسرے عواطف اورقوی اندرونی طور سے ، اور پیغمبر،آسمانی کتابیں ور تشریعی پرو گرام باہر سے اس کے لیے فراہم کئے ہیں ۔ مسلمہ طورسے یہ بات مومن وکافر دونوں کے لیے یکساں ہے ، اگر چہ مومن نے اپنے وسائل و ذ رائع سے فائدہ اٹھایاہے ، اور کافرنے یہ فائدہ نہیں اٹھایا ۔ اسی لیے ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے ،کہ جس وقت آپ سے (وَ ما خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الِْنْسَ ِلاَّ لِیَعْبُدُون)والی آیت کی تفسیر کے متعلق سوال ہوا تو آپ علیہ السلام نے فر مایا: خلقھم للعبادة :انہیں عبادت کے لیے پیدا کیاہے ۔ روای کہتاہے میں نے سوال کیا: کاصة ام عامة ؟ کیااس سے کوئی خاص گروہ مراد ہے یاسب لوگ؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: عامة : سب لوگ (۱) ۔ ایک دوسری حدیث میں اسی امام علیہ السلام سے منقول ہواہے ،کہ جب آپ علیہ السلام سے اس آ یت کے بارے میں سوال ہوا، توآپ علیہ السلام نے فرمایا: خلقھم لیا مرھم بالعبادة انہیں اس لیے خلق کیاہے تاکہ انہیں عبادت کاحکم دے (۲) ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مقصد بندگی اور عبادت پرمجبور کرنانہیں تھا، بلکہ اس کے لیے حالات کو ساز گار بنانا تھا اور یہ بات سب لوگوں کے حق میں صادق آتی ہے ( ۳) ۔ ۱۔بحارالا نوار ،جلد ٥ ،صفحہ ٣١٤ حدیث ٧۔ ۲۔وہی مدرک حدیث ٥۔ ۳۔ جوکچھ اوپر بیان کیاگیاہے اس سے یہ واضح ہوجاتاہے، کہ الانس اورالجن میں الف ولام استغراق کے لیے ہے،اوراس میں تمام افراد شامل ہیں نہ کہ جنس کے لیے اس طورپر کہ صرف ایک ہی گروہ شامل ہو، جیساکہ بعض تفاسیر میں ایاہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 51:56-58
١۔خدا غنی مطلق ہے ۔
ما أُریدُ مِنْہُمْ مِنْ رِزْقٍ وَ ما أُریدُ أَنْ یُطْعِمُون کاجملہ حقیقت میں پروردگار کی ہرشخص اورہر چیز سے بے نیاز ی کی طرف اشارہ ہے . اور اگر اس نے اپنے بندوں کواپنی عبودیت کی دعوت دی ہے ،تویہ اس لیے نہیں ہے کہ وہ اس سے کوئی فائدہ حاصل کرے، بلکہ وہ توانسانوں کے درمیان مسئلہ عبودیت کے برعکس، یہ چاہتاہے کہ ان پر سخاوت اور بخشش کرے ،کیونکہ لوگ غلاموں کواس لیے انتخاب کرتے تھے تاکہ وہ ان کے لیے آمدنی کے حصول اوررزق و روزی کے لیے کام کریں، یاگھرکا کام کاج کریں، اورکھلا ناکھلانے اور پذیرائی کرنے میں مشغول رہیں، اوردونوں حالتوں میں اس کا فائدہ مالکوں کوہی ہوتاہے،اور یہ چیز انسان کی نیاز اور احتیاج سے پیدا ہوتی ہے ۔لیکن یہ سب چیزیں خدا کے بارے میں بے معنی ہیں، کیونکہ نہ صرف یہ کہ وہ سب سے بے نیاز ہے ،بلکہ سب کی نیاز اورحاجت کواپنے لطف وکرم سے پورا کرتاہے، اور سب کارزاق وہی ہے ۔